• السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
  • [IMG]
  • السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ

روحانی خزائن جلد 6 ۔شہادت القرآن ۔ یونی کوڈ

MindRoasterMir

لا غالب الاللہ
رکن انتظامیہ
منتظم اعلیٰ
معاون
مستقل رکن
روحانی خزائن جلد 6۔ شہادت القرآن۔ یونی کوڈ

Ruhani Khazain Volume 6. Page: 295
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 295
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 296
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 296
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
اشتہار کتب
اس وقت جو
اس عاجز کی تالیفات میں سے
کتابیں موجود ہیں ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔
حصہ چہارم براہین احمدیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3
سرمہ چشم آریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 33
فتح اسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3
توضیح مرام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3
ازالہ اوہام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3
آئینہ کمالات اسلام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3
تفسیر سورۃ* الفاتحہ معہ قصائد بزبان عربی۔۔۔۔۔۔ 3
تحفہ بغداد بزبان عربی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3
برکات الدعاء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 3
محصول ڈاک علاوہ
المشتھر
خاکسار
غلام احمد قادیانی
* اس تفسیر کے ساتھ ایک ہزار روپیہ کا انعام ان علماء کے لئے جو اس کی نظیر بنا سکیں۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 297
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 297
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
بسمؔ اللہ الرحمٰن الرحِیم
الحمد للہ والسَّلام عَلٰی عبَادِہِ الَّذِیْنَ اصطفٰی
مسیح موعود
ایک صاحب عطا محمد نام اپنے خط مطبوعہ اگست ۱۸۹۳ ؁ء میں مجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ آ پ مسیح موعود ہیں یا کسی مسیح کا ہم کو انتظار کرنا واجب و لازم ہے۔
اِس جگہ سب سے پہلے یہ بات یاد رکھنے کے لائق ہے کہ صاحب معترض کا یہ مذہب ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام درحقیقت فوت ہو گئے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں بتصریح موجود ہے لیکن وہ اِس بات سے منکر ہیں کہ عیسیٰ کے نام پر کوئی اِس امّت میں آنے والا ہے وہ مانتے ہیں کہ احادیث میں یہ پیشگوئی موجود ہے مگر احادیث کے بیان کو وہ پایۂ اعتبار سے ساقط سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ احادیث زمانہ دراز کے بعد جمع کی گئی ہیں اوراکثر مجموعہ احاد ہے مفید یقین نہیں ہیں اِس لئے وہ مسیح موعود کی خبر کو جو احادیث کے رُو سے ثابت ہے حقیقت مثبتہ خیال نہیں کرتے اورایسے اخبار کو جو محض حدیث کی رُو سے بیان کئے جائیں ہیچ اور لغو خیال کرتے ہیں جن کا ان کی نظر میں کوئی بھی قابل قدر ثبوت نہیں اِ س لئے اِس مقام میں اُن کے مذاق پر جواب دینا ضروری ہے۔ سو واضح ہو کہ اس مسئلہ میں دراصل تنقیح طلب تین۳ امرہیں۔
اوّل یہ کہ مسیح موعود کے آنے کی خبر جو حدیثوں میں پائی جاتی ہے کیا یہ اس وجہ سے ناقابل اعتبار ہے کہ حدیثوں کا بیان مرتبہ یقین سے دور و مہجور ہے۔
دوسرے یہ کہ کیا قرآن کریم میں اِس پیشگوئی کے بارے میں کچھ ذکر ہے یا نہیں۔
تیسرے یہ کہ اگر یہ پیشگوئی ایک ثابت شدہ حقیقت ہے تو اِس بات کا کیا ثبوت کہ اُس کا مصداق یہی عاجز ہے۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 298
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 298
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
سو ؔ اوّل ہم ان ہر سہ تنقیحوں میں سے پہلی تنقیح کو بیان کرتے ہیں سو واضح ہو کہ اِس امر سے دُنیا میں کسی کو بھی انکار نہیں کہ احادیث میں مسیح موعود کی کھلی کھلی پیشگوئی موجود ہے بلکہ قریبًا تمام مسلمانوں کا اِس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث کی رو سے ضرور ایک شخص آنے والا ہے جس کا نام عیسیٰ بن مریم ہو گا اور یہ پیشگوئی بخاری اور مسلم اورترمذی وغیرہ کتب حدیث میں اس کثرت سے پائی جاتی ہے جو ایک منصف مزاج کی تسلّی کے لئے کافی ہے اور بالضرورت اس قدر مشترک پر ایمان لانا پڑتا ہے کہ ایک مسیح موعود آنے والا ہے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ اکثر ہر یک حدیث اپنی ذات میں مرتبہ احاد سے زیادہ نہیں مگر اس میں کچھ بھی کلام نہیں کہ جس قدر طرق متفرقہ کی رُو سے احادیث نبویہ اس بارے میں مُدوّن ہوچکی ہیں اُن سب کو یک جائی نظر کے ساتھ دیکھنے سے بلاشبہ اِس قدر قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ضرور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے اور پھر جب ہم ان احادیث کے ساتھ جواہل سنت وجماعت کے ہاتھ میں ہیں ان احادیث کو بھی ملاتے ہیں جو دوسرے فرقے اسلام کے مثلًا شیعہ وغیرہ ان پر بھروسہ رکھتے ہیں تو اور بھی اس تواتر کی قوت اور طاقت ثابت ہو تی ہے اورپھر اسکے ساتھ جب صدہا کتابیں متصوفین کی دیکھی جاتی ہیں تو وہ بھی اسی کی شہادت دے رہی ہیں۔ پھر بعد اسکے جب ہم بیرونی طورپر اہل کتاب یعنی نصاریٰ کی کتابیں دیکھتے ہیں تو یہ خبر اُن سے بھی ملتی ہے اورساتھ ہی حضرت مسیح ؑ کے اِس فیصلہ سے جو ایلیا کے آسمان سے نازل ہونیکے بارہ میں ہے یہ بھی انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی خبریں کبھی حقیقت پر محمول نہیں ہوتیں لیکن یہ خبرمسیح موعود کے آنے کی اس قدر زور کے ساتھ ہر ایک زمانہ میں پھیلی ہوئی معلوم ہوتی ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جہالت نہیں ہو گی کہ اِس کے تواتر سے انکار کیا جائے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر اسلام کی وہ کتابیں جن کی رو سے یہ خبر سلسلہ وار شائع ہوتی چلی آئی ہے صدی وار مرتب کر کے اکٹھی کی جائیں تو ایسی کتابیں ہزار ہا سے کچھ کم نہیں ہونگی۔ ہاں یہ بات اُس شخص کو سمجھانا مشکل ہے کہ جو اسلامی کتابوں سے بالکل بیخبر ہے اور درحقیقت ایسے اعتراض کرنے والے اپنی بد قسمتی کی وجہ سے کچھ ایسے بے خبر ہوتے ہیں کہ اُنھیں یہ ؔ بصیرت حاصل ہی نہیں ہوتی کہ فلاں واقعہ کس قدر قوّت اور مضبوطی کے ساتھ اپنا ثبوت رکھتا ہے پس ایسا ہی صاحب مُعترض نے کسی سے سن لیا ہے کہ احادیث اکثر احاد کے مرتبہ پر ہیں اور اس سے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 299
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 299
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
بلا توقف یہ نتیجہ پَیدا کیا کہ بجُز قرآن کریم کے اور جسقدر مسلمات اسلام ہیں وہ سب کے سب بے بنیادشکوک ہیں جن کو یقین اور قطعیت میں سے کچھ حصّہ نہیں ۔ لیکن درحقیقت یہ ایک بڑا بھاری دھوکہ ہے جس کا پہلا اثر دین اور ایمان کا تباہ ہونا ہے کیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ اہل اسلام کے پاس بجُز قرآن کریم کے جس قدر اور منقولات ہیں وہ تمام ذخیرہ کذب اورجُھوٹ اورافترا اور ظنون اور اوہام کا ہے تو پھر شائد اسلام میں سے کچھ تھوڑا ہی حصّہ باقی رہ جائے گا وجہ یہ کہ ہمیں اپنے دین کی تمام تفصیلات احادیث نبویہ کے ذریعہ سے ملی ہیں۔مثلًا یہ نماز جو پنج وقت ہم پڑھتے ہیں گو قرآن مجید سے اس کی فرضیت ثابت ہوتی ہے مگر یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ صبح کی دو رکعت فرض اور دو رکعت سُنت ہیں اورپھر ظہر کی چار رکعت فرض اور چاراور دو سُنّت اور مغرب کی تین رکعت فرض اور پھر عشاء کی چار۔ ایسا ہی زکوٰۃ کی تفاصیل معلوم کرنے کے لئے ہم بالکل احادیث کے محتاج ہیں۔ اسی طرح ہزار ہا جزئیات ہیں جو عبادات اور معاملات اور عقود وغیرہ کے متعلق ہیں اور ایسی مشہور ہیں کہ ان کا لکھنا صرف وقت ضائع کرنا اور بات کو طول دیناہے۔ علاوہ اس کے اسلامی تاریخ کا مبدء اورمنبع یہی احادیث ہی ہیں اگر احادیث کے بیان پر بھروسہ نہ کیا جائے تو پھر ہمیں اس بات کو بھی یقینی طور پرنہیں ماننا چاہیئے کہ درحقیقت حضرت ابو بکر اور حضرت عمر اورحضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تھے جن کو بعد وفات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسی ترتیب سے خلافت ملی اور اسی ترتیب سے ان کی موت بھی ہوئی کیونکہ اگر احادیث کے بیان پر اعتبار نہ کیاجائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ان بزرگوں کے وجود کو یقینی کہہ سکیں اور اس صورت میں ممکن ہو گا کہ تمام نام فرضی ہی ہوں اور دراصل نہ کوئی ابو بکر گذرا ہونہ عمر نہ عثمان نہ علی کیونکہ بقول میاں عطا محمد معترض یہ سب احادیث احاد ہیں اور قرآن میں ان ناموں کا کہیں ذکر نہیں پھر بموجب اس اصول کے کیونکر تسلیم کی جائیں۔ ایسا ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ؔ والد کا نام عبد اللہ اور والدہ کا نام آمنہ اور دادا کا نام عبد المطلب ہونا اور پھر آنحضرت صلعم کی بیویوں میں سے ایک کا خدیجہ اور ایک کا نام عائشہ اور ایک کا نام حفصہ رضی اللہ عنہن ہونا اور دایہ کا نام حلیمہ ہونا ۔ اور غارحرا میں جا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عبادت کرنا اور بعض صحابہ کاحبشہ کی طرف ہجرت کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بعد بعثت دس۱۰ سال تک مکہ میں رہنا اور پھر وہ تمام
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 300
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 300
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
لڑائیاں ہونا جن کا قرآن کریم میں نام و نشان نہیں اور صرف احادیث سے یہ تمام امور ثابت ہوتے ہیں تو کیااِن تمام واقعات سے اِ س بنا ء پر انکار کر دیا جاوے کہ احادیث کچھ چیز نہیں اگر یہ سچ ہے تو پھر مسلمانوں کے لئے ممکن نہ ہو گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک سوانح میں سے کچھ بھی بیان کر سکیں ۔ دیکھنا چاہیئے کہ ہمارے مولیٰ و آقا کی سوانح کا وہ سلسلہ کہ کیونکر قبل از بعثت مکہ میں زندگی بسر کی اور پھر کس سال دعوتِ نبوّت کی اور کس ترتیب سے لوگ داخل اسلام ہوئے اورکفار نے مکّہ کے دس سال میں کس کس قسم کی تکلیفیں پہنچائیں اورپھر کیونکر اور کس وجہ سے لڑائیاں شروع ہوئیں اور کس قدر لڑائیوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہ نفس نفیس حاضر ہوئے اور آنجناب کے زمانہ زندگی تک کن کن ممالک تک حکومت اسلام پھیل چکی تھی اور شاہانِ وقت کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت اسلام کے خط لکھے تھے یا نہیں اور اگر لکھے تھے تو ان کا کیا نتیجہ ہوا تھا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کے وقت کیا کیا فتوحات اسلام ہوئیں اور کیا کیا مشکلات یپش آئیں اور حضرت فاروق کے زمانہ میں کن کن ممالک تک فتوحاتِ اسلام ہوئیں۔ یہ تمام امور صرف احادیث اور اقوال صحابہ کے ذریعہ سے معلوم ہوتے ہیں پھر اگر احادیث کچھ بھی چیز نہیں تو پھر اُس زمانہ کے حالات دریافت کرنا نہ صرف ایک امر مشکل بلکہ محالات میں سے ہوگا اور اس صورت میں واقعات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی نسبت مخالفین کو ہر یک افترا کی گنجائش ہوگی اور ہم دشمنوں کو بے جا حملہ کرنے کا بہت سا موقعہ دیں گے اور ہمیں ماننا پڑے گا کہ جو کچھ ان احادیث کے ذریعہ سے واقعات اور سوانح دریافت ہوتے ہیں وہ سب ہیچ اور کالعدم ہیں یہاں تک ؔ کہ صحابہ کے نام بھی یقینی طورپر ثابت نہیں۔ غرض ایسا خیال کرنا کہ احادیث کے ذریعہ سے کوئی یقینی اور قطعی صداقت ہمیں مل ہی نہیں سکتی گویا اسلام کا بہت سا حصّہ اپنے ہاتھ سے نابود کرنا ہے بلکہ اصل اور صحیح امر یہ ہے کہ جوکچھ احادیث کے ذریعہ سے بیان ہوا ہے جب تک صحیح اور صا ف لفظوں میں قرآن اُس کا معارض نہ ہو تب تک اس کو قبول کرنا لازم ہے کیونکہ یہ بات مسلّم ہے کہ طبعی امر انسان کیلئے راست گوئی ہے اور انسان جُھوٹ کو محض کسی مجبوری کی وجہ سے اختیار کرتا ہے کیونکہ وہ اُس کے لئے ایک غیر طبعی ہے۔ پھر ایسی احادیث جو تعامل اعتقادی یا عملی میں آکر اسلام کے مختلف گروہوں کا ایک شعار
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 301
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 301
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
ٹھہر گئی تھیں انکی قطعیت اور تواتر کی نسبت کلام کرنا تو درحقیقت جنون اور دیوانگی کا ایک شعبہ ہے مثلًا آج اگر کوئی شخص یہ بحث کرے کہ یہ پنج نمازیں جو مسلمان پنج وقت ادا کرتے ہیں ان کی رکعات کی تعداد ایک شکّی امر ہے کیونکہ مثلًا قرآن کریم کی کسی آیت میں یہ مذکور نہیں کہ تم صبح کی دو رکعت پڑھا کرو اور پھر جمعہ کی دو اور عیدین کی بھی دو دو ۔ رہی احادیث تو وہ اکثر احاد ہیں جو مفید یقین نہیں تو کیا ایسی بحث کرنے والا حق پر ہوگا۔ اگر احادیث کی نسبت ایسی ہی رائیں قبول کی جائیں تو سب سے پہلے نماز ہی ہاتھ سے جاتی ہے کیونکہ قرآن نے تو نماز پڑھنے کا کوئی نقشہ کھینچ کر نہیں دکھلایا صرف یہ نمازیں احادیث کی صحت کے بھروسہ پر پڑھی جاتی ہیں اب اگر مخالف یہی اعتراض کرے کہ قرآن نے نماز کا طریق نہیں سکھلایا اور جس طریق کو مسلمانوں نے اختیار کر رکھا ہے وہ مردُود ہے کیونکہ احادیث قابل اعتبار نہیں توہم ایسے اصول پر آپ ہی پابند ہونے سے کہ بے شک احادیث کچھ بھی چیز نہیں اِس اعتراض کا کیاجواب دے سکتے ہیں بجُز اسکے کہ اعتراض کو قبول کر لیں بلکہ اِس صورت میں اسلام کی نماز جنازہ بھی بالکل بیہودہ ہوگی کیونکہ قرآن میں اِس بات کا کہیں ذکر نہیں کہ کوئی ایسی نماز بھی ہے کہ جس میں سجدہ اور کوع نہیں۔ اَب سوچ کر دیکھ لو کہ احادیث کے چھوڑنے سے اسلام کا کیا باقی رہ جاتاہے۔
اورخود یہ بات قلّت تدبّر کا نتیجہ ہے کہ ایسا خیال کر لیا جائے کہ احادیث کا ماحصل صرف اسقدر ہے کہ ؔ محض ایک یا دو آدمی کے بیان کومعتبر سمجھ کے اُس کی روایت کو قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیال کر لیا جائے بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ احادیث کا سلسلہ تعامل کے سلسلہ کی ایک فرع اور اطراد بعد الوقوع کے طورپر ہے مثلًا محدّثین نے دیکھا کہ کروڑہا آدمی مغرب کے فرض کی تین رکعت پڑھتے ہیں اورفجرکی دو اور مع ذالک ہر ایک رکعت میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے ہیں اور آمین بھی کہتے ہیں گوبالجہر یا بالسّر اور قعدہ اخیرہ میں التحیات پڑھتے ہیں اور ساتھ اسکے درود اور کئی دعائیں ملاتے ہیں اور دونوں طرف سلام دے کر نماز سے باہر ہوتے ہیں۔ سو اِس طرز عبادت کو دیکھ کرمحدثین کو یہ ذوق اور شوق پیدا ہوا کہ تحقیق کے طور پر اس وضع نماز کا سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاویں اور احادیث صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے اس کو ثابت کریں۔ اب اگرچہ یہ بات سچ ہے کہ انھوں نے ایسے سلسلہ کی بہم رسانی کے لئے یہ کوشش نہیں کی کہ ایک ایک
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 302
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 302
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
حدیث کے مضمون کے لئے ہزار ہزار یا دو دو ہزار طرق اسناد بہم پہنچادیں مگر کیا یہ بھی سچ ہے کہ اِس نماز کی بنیاد ڈالنے والے وہی محدّث تھے اورپہلے اُس سے دنیا میں نماز نہیں ہوتی تھی اور دنیا نماز سے بالکل بے خبر تھی اورکئی صدیوں کے بعدصرف ایک دو حدیثوں پر اعتبار کرنے سے نماز شروع کی گئی۔ پس مَیں زور سے کہتا ہوں کہ یہ ایک بڑا دھوکا ہوگا اگر یہ خیال کرلیا جائے گا کہ صرف مدار ثبوت ان رکعات اورکیفیت نماز خوانی کا اُن چند حدیثوں پر تھا جو بنظر ظاہر احاد سے زیادہ معلوم نہیں ہوتیں اگر یہی سچ ہے تو سب سے پہلے فرائض اسلام کیلئے ایک سخت اور لا علاج ماتم درپیش ہے جس کی فکر ایک مسلمان کہلانیوالے ذی غیرت کو سب سے مقدم ہے مگر یاد رہے کہ ایسا خیال فقط ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کبھی بیدار ہو کر سوانح اور واقعات اور رسوم اور عباداتِ اسلام کی طرف نظر نہیں کی کہ کیونکر اور کس طریق سے یقینی امور کا ان کو مرتبہ حاصل ہوا۔
سو واضح ہو کہ اس یقین کے بہم پہنچانے کیلئے تعامل قومی کا سلسلہ نہات تسلّی بخش نمونہ ہے مثلًا وہ احادیث جن سے ثابت ہوتا ہے۔ کہ نماز فجر کی اس قدر رکعت اورنماز مغرب کی اِس قدر رکعات ہیں اگرچہ فرض کرو کہ ایسی حدیثیں دو یا تین ہیں اور بہر حال احاد سے زیادہ نہیں مگر کیااِس تحقیق اور تفتیش سے پہلے لوگ نماز نہیں پڑھتے ؔ تھے اورحدیثوں کی تحقیق اور راویوں کا پتہ ملنے کے بعد پھر نمازیں شروع کرائی گئیں تھیں بلکہ کروڑہا انسان اسی طرح نماز پڑھتے تھے اور اگر فرض کے طور پر حدیثوں کے اسنادی سلسلہ کا وجود بھی نہ ہوتا۔ تاہم اس سلسلہ تعامل سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت تھا کہ نماز کے بارے میں اسلام کی مسلسل تعلیم وقتًا بعد وقتٍ اورقرنًا بعد قرنٍ یہی چلی آئی ہے۔ ہاں احادیث کی اسناد مرفوعہ متصلہ نے اس سلسلہ کو نورٌعلٰی نورکر دیا ۔ پس اگر اس قاعدہ سے احادیث کو دیکھا جائے تو اُن کے اکثر حصہ کو جس کا معین اورمددگار سلسلہ تعامل ہے احاد کے نام سے یاد کرنا بڑی غلطی ہوگی اور درحقیقت یہی ایک بھاری غلطی ہے جس نے اِس زمانہ کے نیچریوں کو صداقت اسلام سے بہت ہی دُور ڈالدیا۔ وہ خیال کرتے ہیں کہ گویا اسلام کی وُہ تمام سنن اور رسوم اور عبادات اور سوانح اورتواریخ جن پر حدیثوں کا حوالہ دیا جاتا ہے وہ صرف چند حدیثوں کی بنا پر ہی قائم ہیں حالانکہ یہ اُن کی فاش غلطی ہے بلکہ جس تعامل کے سلسلہ کو ہمارے نبی صلعم نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا تھا وہ ایسا کروڑہا انسانوں میں پھیل گیاتھا کہ اگر محدثین کا دُنیا میں نام ونشان بھی
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 303
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 303
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
نہ ہوتا تب بھی اس کو کچھ نقصان نہ تھا۔ یہ بات ہر ایک کوماننی پڑتی ہے کہ اس مقد س معلم اور مقدس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کی باتوں کو ایسا محدود نہیں رکھا تھا کہ صرف دو چار آدمیوں کو سکھلائی جائیں اور باقی سب اس سے بے خبر ہوں اگر ایسا ہوتا تو پھر اسلام ایسابگڑتاکہ کسی مُحدّث وغیرہ کے ہاتھ سے ہرگز درست نہیں ہوسکتا تھا۔ اگرچہ آئمہ حدیث نے دینی تعلیم کی نسبت ہزار ہا حدیثیں لکھیں مگر سوال تو یہ ہے کہ وہ کونسی حدیث ہے کہ جو ان کے لکھنے سے پہلے اُس پر عمل نہ تھا اور دُنیا اس مضمون سے غافل تھی اگر کوئی ایسی تعلیم یاایسا واقعہ یا ایسا عقیدہ ہے جو اس کی بنیادی اینٹ صرف ائمہ حدیث نے ہی کسی روایت کی بنا ء پر رکھی ہے اورتعامل کے سلسلہ میں جس کے کروڑہا افراد انسانی قائل ہوں اس کا کوئی اثرونشان دکھائی نہیں دیتا اورنہ قرآن کریم میں اس کا کچھ ذکرپایا جاتاہے تو بلا شبہ ایسی خبر واحدجس کا پتہ بھی سو ڈیڑھ سو برس کے بعد لگا یقین کے درجہ سے بہت ہی نیچے گری ہوئی ہو گی اور جو کچھ اُس کی ناقابل تسلّی ہونے کی نسبت کہو وہ بجا ہے لیکن ایسی حدیثیں درحقیقت دین اور سوانح اسلام سے کچھؔ بڑا تعلق نہیں رکھتیں بلکہ اگرسوچ کر دیکھو تو اَئمہ حدیث نے ایسی حدیثوں کا بہت ہی کم ذکر کیا ہے جن کا تعامل کے سلسلہ میں نام و نشان تک نہیں پایا جاتا۔ پس جیسا کہ بعض جاہل خیال کرتے ہیںیہ بات ہرگز صحیح نہیں ہے کہ دُنیا نے دین کے صدہا ضروری مسائل یہاں تک کہ صوم و صلوٰۃ بھی صرف امام بخاری اورمُسلم وغیرہ کی احادیث سے سیکھے ہیں۔ کیا سو ڈیڑھ سو برس تک لوگ بے دین ہی چلے آتے تھے کیا وہ لوگ نماز نہیں پڑھتے تھے زکوٰۃ نہیں دیتے تھے۔ حج نہیں کرتے تھے اور ان تمام اسلامی عقائد کے امور سے جو حدیثوں میں لکھے ہیں بے خبر تھے حاشا وکلّا ہرگز نہیں اور جو کوئی ایسا خیال کرے اس کا حمق ایک تعجب انگیز نادانی ہے۔ پھر جبکہ بخاری اورمسلم وغیرہ اَئمہ حدیث کے زمانہ سے پہلے بھی اسلام ایسا ہی سرسبز تھا جیساکہ ان اماموں کی تالیفات کے بعد توپھر یہ خیال کس قدر بے تمیزی اورناسمجھی ہے کہ سراسر تحکم کی راہ سے یہ اعتقاد کرلیا جائے کہ صرف دوسری صدی کی روایتوں کے سہارے سے اسلام کا وہ حصہ پُھولا پَھلا ہے جس کو حال کے زمانہ میں احادیث کہتے ہیں اور افسوس تو یہ کہ مخالف تو مخالف ہمارے مذہب کے بے خبر لوگوں کو بھی یہی دھوکا لگ گیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گویا ایک مدّت کے بعد صرف حدیثی روایات کے مطابق بہت سے مسائل اسلام کے ایسے لوگوں کو تسلیم کرائے گئے ہیں کہ جو اُن حدیثوں کے قلمبند ہونے سے پہلے اُن مسائل سے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 304
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 304
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
بکلّی غافل تھے بلکہ حق بات جو ایک بدیہی امر کی طرح ہے یہی ہے کہ آئمہ حدیث کا اگر لوگوں پر کچھ احسان ہے تو صرف اس قدر کہ وہ امورجو ابتدا سے تعامل کے سلسلہ میں ایک دُنیا اُن کو مانتی تھی اُن کی اسناد کے بارے میں اُن لوگوں نے تحقیق اور تفتیش کی اور یہ دکھلا دیاکہ اُس زمانہ کی موجودہ حالت میں جو کچھ اہل اسلام تسلیم کر رہے ہیں یا عمل میں لارہے ہیں یہ ایسے امور نہیں جو بطور بدعات اسلام میں اب مخلوط ہوگئے ہیں بلکہ یہ وہی گفتار و کردار ہے جو آنحضرتصلعمنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو تعلیم فرمائی تھی۔
افسوس کہ اس صحیح اور واقعی امر کے سمجھنے میں غلط فہمی کر کے کوتہ اندیش لوگوں نے کس قدر بڑی غلطی کھائی جس کی و جہ سے آج تک وہ حدیثوں کو سخت نفرت کی نگا ہ سے دیکھ رہے ہیں اگر چہ یہ تو سچ ہے کہؔ حدیثوں کا وہ حصہ جو تعامل قولی وفعلی کے سلسلہ سے باہر ہے اور قرآن سے تصدیق یافتہ نہیں یقین کامل کے مرتبہ پرمسلم نہیں ہو سکتا لیکن و ہ دوسر احصہ جو تعامل کے سلسلہ میں آگیا اورکروڑہا مخلوقات ابتدا سے اُس پر اپنے عملی طریق سے محافظ اور قائم چلی آئی ہے اس کو ظنّی اور شکّی کیونکر کہا جائے۔ ایک دُنیا کا مسلسل تعامل جو بیٹوں سے باپوں تک اور باپوں سے دادوں تک اوردادوں سے پڑدادوں تک بدیہی طورپر مشہور ہو گیا اور اپنے اصل مبدء تک اس کے آثار اور انوار نظر آگئے اس میں تو ایک ذرّہ شک کی گنجائش نہیں رہ سکتی اور بغیر اس کے انسان کو کچھ بن نہیں پڑتا کہ ایسے مسلسل عمل در آمد کو اول درجہ کے 3میں سے یقین کرے پھر جبکہ اَئمہ حدیث نے اس سلسلہ تعامل کے ساتھ ایک اور سلسلہ قائم کیا اورامور تعاملی کا اسناد راست گو اورمتدین راویوں کے ذریعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیا تو پھر بھی اس پر جرح کرنا درحقیقت ان لوگوں کا کام ہے جن کو بصیرت ایمانی اورعقل انسانی کا کچھ بھی حصہ نہیں ملا۔
اب اِس تمہید کے بعد یہ بھی واضح ہو کہ مسیح موعود کے بارے میں جو احادیث میں پیشگوئی ہے وہ ایسی نہیں ہے کہ جس کو صرف اَئمہ حدیث نے چند روایتوں کی بناء پر لکھا ہو وبس بلکہ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ یہ یپشگوئی عقیدہ کے طورپر ابتداء سے مسلمانوں کے رگ وریشہ میں داخل چلی آتی ہے گویا جس قدر اس وقت روئے زمین پر مسلمان تھے اُسی قدر اس پیشگوئی کی صحت پر شہادتیں موجود تھیں کیونکہ عقیدہ کے طور پر وہ اس کو ابتدا سے یاد کرتے چلے آتے تھے اور اَئمہ حدیث امام بخاری وغیرہ نے اس پیشگوئی کی نسبت
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 305
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 305
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
اگر کوئی امر اپنی کوشِش سے نکالا ہے تو صرف یہی کہ جب اُس کو کروڑہا مسلمانوں میں مشہور اور زبان زد پایا تو اپنے قاعدہ کے موافق مسلمانوں کے اس قولی تعامل کے لئے روایتی سند کو تلاش کر کے پَیدا کیا اور روایات صحیحہ مرفوعہ متصلہ سے جن کا ایک ذخیرہ ان کی کتابوں میں پایاجاتاہے اسناد کو دکھایا۔علاوہ اس کے کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ اگر نعوذ باللہ یہ افتراء ہے تو اس افترا کی مسلمانوں کو کیا ضرورت تھی اور کیوں اُنہوں نے اس پر اتفاق کر لیا اورکس مجبوری نے ان کو اس افتراء پر آمادہ کیاتھا۔پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ دُوسری طرف ایسی حدیثیں بھی بکثرت پائی جاتی ہیں جن میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہؔ آخری زمانہ میں علماء اِس امت کے یہودی صفت ہوجائیں گے اور دیانت اور خداترسی اور اندرونی پاکیزگی اُن سے دُور ہوجائے گی اور اُس زمانہ میں صلیبی مذہب کا بہت غلبہ ہوگا اور صلیبی مذہب کی حکومت اورسلطنت تقریبًا تمام دنیا میں پھیل جائے گی تو اور بھی ان احادیث کی صحت پر دلائل قاطعہ پیدا ہوتے ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ اس زمانہ میں یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ اورہمارے اِس زمانہ کے علماء درحقیقت یہودیوں سے مشابہ ہو گئے اور نصاریٰ کی سلطنت اور حکومت ایسی دُنیا میں پھیل گئی کہ پہلے زمانوں میں اس کی نظیر نہیں پائی جاتی۔ پھرجس حالت میں ایک جُز اُس پیشگوئی کا صریح اور صاف اوربدیہی طورپر پُورا ہو گیا تو پھر دُوسری خبر کی صداقت میں کیاکلا م رہا۔ یہ بات تو ہر یک عاقل کے نزدیک مسلّم ہے کہ اگر مثلًا ایک حدیث احاد میں سے ہو اور سلسلہ تعامل میں بھی داخل نہ ہو مگر ایک پیشگوئی پر مشتمل ہو کہ وہ اپنے وقت پر پُوری ہو جائے یا اُس کا ایک جُز پُورا ہو جائے تواس حدیث کی صحت میں کوئی شک باقی نہیں رہے گا۔ مثلًا نار حجاز کی حدیث جو صحیحین میں درج ہے کچھ شک نہیں کہ احاد میں سے ہے لیکن وہ پیشگوئی قریبًا چھ 3 برس گذرنے کے بعد بعینہٖ پُوری ہوگئی جس کے پُورے ہونے کے بارے میں انگریزوں کو بھی اقرار ہے اوراُس زمانہ میں پُوری ہوئی کہ جب صدہا سال ان کتابوں کی تالیف اور شائع ہونے پر بھی گذر چکے تھے تو کیاان حدیثوں کی نسبت اب یہ رائے ظاہر کر سکتے ہیں کہ وہ احاد ہیں اس لیے یقینی طورپر قبول کے لائق نہیں۔ کیونکہ جب اُن کی صداقت کُھل گئی تو پھر ایسا خیال دل میں لانا نہایت بُری اورمکروہ نادانی ہے۔ پس ایسا ہی مسیح موعود کی پیشگوئی میں سوچ لو کہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 306
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 306
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
اس میں بھی یہ الفاظ کہیں صراحتًا اور کہیں اشارۃً موجود تھے کہ وہ مسیح موعود ایسے وقت میں آئے گا کہ جب حکومت اور قُوّت نصاریٰ کی تمام رُوئے زمین پر پھیلی ہوئی ہو گی اور ریل جاری ہو گی اور اکثر زمین کے حصّے زیر کاشت آجائیں گے اور کاشتکاری کی طرف لوگ بہت متوجہ ہوں گے یہاں تک کہ بیل مہنگے ہوجائیں گے اورزمین پر نہروں کی کثرت ہوجائے گی اور دنیوی حالت کی رُو سے امن کا زمانہ ہوگا ۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پیشگوئی ہمارے زمانہ میں پُوری ہو گئی کیونکہ عیسائی سلطنت کا ستارہ اس زمانہ میں ایسے عروج پر پہنچ گیا ہے کہ گویا اس کے سامنے تمام حکومتیں اورؔ ریاستیں کالعدم ہیں اور ریل کی سواری اورنہریں اورکثرت کاشتکاری بھی ہم نے آنکھ سے دیکھ لی۔ اب سوچو کہ کیا اِس پیشگوئی میں وہ غیب کی باتیں نہیں جو انسا ن کی طاقت سے بالاتر ہیں۔ کیا اسلام کی یہ حالتِ تنزّل اُس زمانہ میں جبکہ اسلام کی شمشیر بجلی کی طرح کفّار پر پڑ رہی تھی کسی کو معلوم تھی؟ کیا کوئی نوع انسا ن میں سے ایسے غیب پر قادر ہوسکتا ہے کہ ایسی نئی سواری کی خبر دے جس کا پہلے وجود ثابت نہیں ہوتا۔ نظر اُٹھاؤ اور دیکھو اور خوب سوچو کہ کیا یہ پیشگوئی ان عظیم الشان پیشگوئیوں میں سے نہیں ہے جو ان کی حقیقت اوران کے ظہور پر صرف خداتعالیٰ کا علم ہی محیط ہوتا ہے اورانسان کی کارستانیاں اورمخلوق کے ضعیف منصوبے اس پر مشتبہ نہیں ہوسکتے واضح رہے کہ ان پیشگوئیوں کا ایک عجیب سلسلہ ہے اور ایک نہایت درجہ کی ترتیب ابلغ اورترکیب محکم سے معارف لطیفہ اور نکا ت دقیقہ اور امورغیبیہ کے ساتھ مرصع کر کے ذکر فرمایا گیا ہے جس کی بلند شان تک ہرگز انسان کی رسائی نہیں مثلًا اوّل وہ پیشگوئیاں بیان فرمائیں جو اسلام کی ترقی کا زمانہ تھا اور انہیں پیشگوئیوں کے ضمن میں فرمایا کہ کسریٰ ہلاک ہوگا اورپھر بعد اس کے کسریٰ نہیں ہوگا۔ اورقیصر ہلاک ہوگا اور پھر بعد اس کے قیصر نہیں ہوگا اور اسلام ترقی کرے گا اور پھیلے گا اور ہر یک قوم میں داخل ہوگا۔ اور پھر فرمایا کہ اِس اُمّت پر ایک آخری زمانہ آئے گا کہ اکثر علماء اِس اُمت کے یہود کے مشابہ ہوجائیں گے اور دیانت اورتقویٰ ان میں سے جاتی رہے گی جُھوٹے فتوے اور مکاریاں اورمنصوبے اُن کا دین ہوگا اور دنیوی لالچوں میں گرفتار ہوجائیں گے اور یہود کے ساتھ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 307
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 307
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
شدّت سے مشابہت پَیدا کرلیں گے یہاں تک کہ اگر کسی یہودی نے اپنی ماں سے زنا کیا ہے تو وہ بھی کریں گے۔ اورایساہی اس زمانہ میں قوم نصاریٰ دُنیا میں پھیل جائے گی اور دُوسری قوموں کو مغلوب کر لے گی اوردین کی محبّت دلوں سے ٹھنڈی ہو جائے گی اور زہرناک ہواؤں کے چلنے کی وجہ سے دین اسلام ایک مسلسل اورغیر منقطع خطرات میں پڑجائے گا۔ تب مصیبتیں پڑیں گی اور آفتیں زیادہ ہوں گی اورمسلمانوں کے دِلوں سے تقویٰ جاتی رہے گی اوربہتر ہو گا کہ ایک شخص اکیلا بسر کرے اوربکریوں کے دُودھ پر قناعت رکھے اورمسلمانوں کی جماعت کا نام نہ لیوے۔ اور فرمایا کہ جب تُو ایسا حال دیکھے تو ان سب فرقوں کو چھوڑ ؔ دے اور کسی درخت کی جڑھوں کو دانت مار یہاں تک کہ تیری جان نکل جائے اورپھر اِسی ضمن میں مسیح موعود کے آنے کی خبر دی اورفرمایا کہ اس کے ہاتھ سے عیسائی دین کا خاتمہ ہوگا اورفرمایا کہ وہ اُن کی صلیب کو توڑ ے گا۔ اوریہ نہ فرمایا کہ وہ اُن کی حکومت کو پامال کرے گا۔ یہ اِس بات کی طرف اشارہ تھا کہ مسیح موعود کی سلطنت روحانی ہو گی اور اس دُنیا کی حکومتوں سے اس کو کچھ بھی سرو کار نہ ہوگا بلکہ وہ اپنی برکات کے زور سے لڑ ے گااوراپنے خوارق کے ہتھیاروں سے میدان میں آئے گا یہاں تک کہ صلیب کی رونق اور عظمت کو توڑ دے گا اورعیسائیت کے بے برکت اور منحوس عقیدوں کا پردہ کھول دے گا کیونکہ اس کا نُور ایک تلوار کی طرح چمکے گا اورجس طرح بجلی گرتی ہے اُسی طرح کُفر کی ظلمت پر گرے گا یہاں تک کہ حق کے طالب سمجھ جائیں گے کہ وہ زندہ خدا اسلام کے ساتھ ہے۔ یہ تمام پیشگوئیاں احادیث میں ایک دریا کی طرح بہ رہی ہیں اور ایک دوسرے سے اُن کا ایسا تعلق ہے کہ ایک کی تکذیب سے دُوسری کی تکذیب لازم آتی ہے اور ایک کے ماننے سے دوسری بھی ماننی پڑتی ہے پھر ایسی مسلسل اورمرتب اورمحکم اوربانظام پیشگوئیوں میں کون شک کر سکتاہے بجُز اس کے کہ پاگلوں سے زیادہ مخبط الحواس ہو کیا کوئی دانا ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ تجویز کر سکتا ہے کہ یہ ہزار ہا پیشگوئیاں جو خارق عادت امورپرمشتمل ہیں صرف انسا ن کا افتراہے۔ سچ بات یہ ہے کہ مرتب اور بانظام اورعظیم الشان باتوں کا انکار ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ اُنکے انکار سے ایک انقلاب عظیم لازم آتا ہے اور ایک دُنیا کو بدلانا پڑتاہے۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 308
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 308
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ
ماسوا اس کے ان پیشگوئیوں میں ان کی صداقت کیلئے ایک عظیم الشان نشان یہ ہے کہ دنیوی انقلابات کے متعلق جو کچھ ان میں درج تھا اوربظاہر وہ سب ناشدنی باتیں تھیں وہ تمام باتیں پُوری ہوگئی ہیں کیونکہ تیرھویں صدی کی ابتدا سے ہی ہر یک اندرونی اوربیرونی آفت میں ترقی ہونے لگی یہاں تک کہ تیرھویں صدی کے خاتمہ تک گویادین اور اسلامی شوکت اورحکومت کا خاتمہ ہو گیا اور وہ بلائیں مسلمانوں کے دین اور دُنیا پر نازل ہوئیں کہ گویا اُن کاجہان ہی بدل گیا۔ جب ہم ان بلاؤں کو اپنی نظر کے سامنے رکھ کر پھر ان پیشگوئیوں پرنظر ڈالتے ہیں جو امام بخاری اور مسلم وغیرہ نے اس وقت سے قریبًا گیارہ سو برس پہلے لکھی تھیں اورؔ اس زمانہ میں لکھی تھیں کہ جب اسلام کا آفتاب نصف النہار پر تھا اور اس کی اندرونی حالت گویا حُسن میں رشکِ یوسف تھی اور اس کی بیرونی حالت اپنی شوکت سے اسکندر رومی کو شرمندہ کر تی تھی تو اپنے نبی کریم کی کامل اور پا ک وحی اور عظمت اور جلال اور قوت قدسیہ کو یاد کر کے ہماری رِقّت ایمانی جوش میں آتی ہے اور بلا اختیار رونا آتاہے۔ سُبحان اللّٰہ وہ کیانور تھا جس پر آج سے تیرہ سو برس پہلے قبل از وقت ظاہر کیا گیا کہ اس کی اُمت ابتدا میں کیونکرنشوونما کرے گی اور کیونکر خارق عادت طورپر اپنی ترقی دکھلائے گی اور کیونکر آخر ی زمانہ میں یک دفعہ نیچے گرے گی اور پھر کیونکر چندصدیوں میں قوم نصاریٰ کا تمام روئے زمین پر غلبہ ہوجائے گا اور یادرہے کہ اسی زمانہ کی نسبت مسیح موعود کے ضمن بیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی جو صحیح مسلم میں درج ہے اور فرمایا لیترکن القلاص فلا یسعٰی علیھایعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اُونٹنی کی سواری موقوف ہوجائے گی پس کوئی ان پر سوار ہو کر ان کو نہیں دوڑائے گا اور اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا کہ اس کے نکلنے سے اُونٹوں کے دوڑانے کی حاجت نہیں رہے گی اور اونٹ کو اس لئے ذکر کیا کہ عرب کی سواریوں میں سے بڑی سواری اونٹ ہی ہے جس پر وہ اپنے مختصر گھر کا تمام اسباب رکھ کر پھر سوار بھی ہو سکتے ہیں اور بڑ ے کے ذکر میں چھوٹا خود ضمنًا آجاتا ہے۔ پس حاصل مطلب یہ تھا کہ اس زمانہ میں ایسی سواری نکلے گی کہ اونٹ پر بھی غالب آجائے گی جیساکہ دیکھتے ہو کہ ریل کے نکلنے سے قریبًا وہ تمام کام جو اُونٹ کرتے تھے اب ریلیں کر رہی ہیں۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 309
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 309
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/309/mode/1up
پس اس سے زیاد ہ تر صاف اور منکشف اور کیاپیشگوئی ہوگی چنانچہ اس زمانہ کی قرآن شریف نے بھی خبر دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے ۱؂ یعنی آخری زمانہ وہ ہے کہ جب اونٹنی بے کار ہوجائے گی یہ بھی صریح ریل کی طرف اشارہ ہے اور وہ حدیث اور یہ آیت ایک ہی خبر دے رہی ہیں اور چونکہ حدیث میں صریح مسیح موعود کے بارے میں یہ بیان ہے اس سے یقینًا یہ استدلال کرنا چاہیئے کہ یہ آیت بھی مسیح موعود کے زمانہ کاحال بتلا رہی ہے اوراجمالًا مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے پھر لوگ باوجود ان آیات بیّنات کے جو آفتاب کی طرح چمک رہی ہیں ان پیشگوئیوں کی نسبت شک کرتے ہیں اب منصفین سوچ لیں کہ ایسی پیشگوئیوں کی نسبت جن کی غیبی باتیں پوری ہوتی آنکھ سے دیکھی گئیں شک کرنا اگر حماقت نہیں تو اورؔ کیاہے۔
اِس قدر جو مَیں نے احادیث کی رو سے مسیح موعود کی پیشگوئی کے بارے میں لکھا ہے مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ ایسے شخص کے تسلی یاب ہونے کے لئے کافی ہے جو صداقت کو پا کر پھر ناحق کی مخالفت کرنا نہیں چاہتا۔ اور مَیں نے اِس جگہ اصل الفاظ احادیث کو نقل نہیں کیا اور نہ تمام احادیث کے خلاصہ کو لکھا ہے کیونکہ یہ حدیثیں ایسی مشہور اور زبان زد خلائق ہیں کہ دیہات کے چھوٹے چھوٹے طالب العلم بھی اِن کو جانتے ہیں اور اگر مَیں تمام احادیث کو جو اِس باب میں آئی ہیں اِ س مختصر رسالہ میں لکھتا تو شائد میں جزو تک بھی لکھ کر فارغ نہ ہو سکتا لیکن مَیں ناظرین کو توجہ دلاتا ہوں کہ ضرور وہ صحاح ستہ کی اصل کتابیں یا ان کے تراجم کو غور سے دیکھیں تا انہیں معلوم ہو کہ کس کثرت سے اور کس قوت بیان کے ساتھ اِس قسم کی احادیث موجود ہیں۔
دُوسرا امر تنقیح طلب یہ تھا کہ قرآن کریم میں مسیح موعود کی نسبت کچھ ذکر ہے یا نہیں اس کا فیصلہ دلائل قطعیہ نے اِس طرح پر دیا ہے کہ ضرور یہ ذکر قرآن میں موجود ہے اور کچھ شک نہیں کہ جو شخص قرآن کریم کی ان آئندہ پیشگوئیوں پر غور کرے گا جو اس امت کے آخری زمانہ کی نسبت اس مقدس کتاب میں ہیں تو اگر وہ فہیم اور زندہ د ل اپنے سینہ میں رکھتا ہے تو اس کو اِس بات کے ماننے سے چارہ نہیں ہو گا کہ قرآن کریم میں یقینی اور قطعی طور پر ایک ایسے مصلح کی خبر موجود ہے جس کا دُوسرے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 310
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 310
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/310/mode/1up
لفظوں میں مسیح موعود ہی نام ہونا چاہیئے نہ اور کچھ ۔ اس خبر کو سمجھنے کے لئے پہلے مندرجہ ذیل آیات کو یکجائی نظر سے دیکھ لینا چاہیئے مثلًا یہ آیات ۔ ۲؂ ۔یعنی خدا تعالیٰ نے اس عورت کو ہدایت دی جس نے اپنی شرمگاہ کو نامحرم سے بچایا۔ پس خدانے اس میں اپنی روحؔ کو پھونک دیااور اس کو اور اُس کے بیٹے کو دنیا کے لئے ایک نشان ٹھہرایا اورخدا نے کہا کہ یہ اُمت تمہاری ایک ہی اُمّت ہے اورمَیں تمہار ا پروردگار ہوں سو تم میری ہی بندگی کرو۔ مگر وہ فرقہ فرقہ ہو گئے اور اپنی بات کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا او رباہم اختلاف ڈال دیا اور آخر ہر یک ہماری ہی طرف رجوع کرے گا۔ اور تمام فرقے ایسی ہی حالت پر رہیں گے یہاں تک کہ یاجوج اورماجوج کھولے جائیں گے اور ہر یک بلندی سے دوڑتے ہوں گے اور جب تم دیکھو کہ یاجوج ماجوج زمین پر غالب ہو گئے تو سمجھو کہ وعدہ سچا مذہب حق کے پھیلنے کا نزدیک آگیا اور وہ وعدہ یہ ہے ۱؂ اورپھر فرمایا کہ اس وعدہ کے ظہور کے وقت کفار کی آنکھیں چڑھی ہوں گی اور کہیں گے کہ اے وائے ہم کو۔ ہم اِس سے غفلت میں تھے بلکہ ہم ظالم تھے یعنی ظہور حق بڑ ے زور سے ہو گا اور کفا ر سمجھ لیں گے کہ ہم خطا پر ہیں اِن تمام آیات کا ماحصل یہ ہے کہ آخری زمانہ میں دُنیا میں بہت سے مذہب پھیل جائیں گے اور بہت سے فرقے ہو جائیں گے پھردو قومیں خروج کریں گی جن کا عیسائی مذہب ہو گا اور ہریک طور کی بلندی وہ حاصل کریں گے اور جب تم دیکھو کہ عیسائی مذہب اور عیسائی حکومتیں دُنیا میں
* نوٹ۔حزقیل ۳۸ باب اور ۳۹ باب آیت ۵،۶ روضۃ الصفا بیان اقلیم چہارم پنجم و ششم و تفسیر معالم۔ منہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 311
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 311
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/311/mode/1up
پھیل گئیں تو جانو کہ وعدہ کا وقت نزدیک ہے۔ پھر دوسرے مقام میں فرمایا ہے۔ ۱؂ الجزونمبر۱۶یعنی جب وعدہ خدا تعالیٰ کا نزدیک آ جائے گا تو خدا تعالیٰ اس دیوار کوریزہ ریزہ کردے گا جو یاجوج ماجوج کی روک ہے اور خداتعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور ہم اس دن یعنی یاجوج ماجوج کی سلطنت کے زمانہ میں متفرق فرقوں کو مہلت دیں گے کہ تا ایک دوسرے میں موجزنی کریں یعنی ہریک فرقہ اپنے مذہب اور دین کو دوسرے پر غالب کرنا چاہے گا اور جس طرح ایک موج اس چیز کو اپنے نیچے دبانا چاہتی ہے جس کے اوپر پڑتی ہے اسی طرح موج کی مانند بعض بعض پر پڑیں گی تا ان کو دبا لیں اور کسی کی طرف سے کمی نہیں ہوگی ہریک فرقہ اپنے مذہب کو عروج دینے کے لئے کوشش کرے گا اور وہ انہیں لڑائیوں میں ہوں گے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے صور پھونکا جائے گا۔ تب ہم تمام فرقوں کو ایک ہی مذہب پر جمع کرؔ دیں گے* صور پھونکنے سے اس جگہ یہ اشارہ ہے کہ اس وقت عادت اللہ کے موافق خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمانی تائیدوں کے ساتھ کوئی مصلح پیدا ہوگا اور اس کے دل میں زندگی کی
ان آیات میں کسی کم تجربہ آدمی کو یہ خیال نہ گذرے کہ ان دونوں مقامات کے بعد میں جہنم کا ذکر ہے اور بظاہر سیاق کلام چاہتا ہے کہ یہ قصہ آخرت سے متعلق ہو مگر یاد رہے کہ عام محاورہ قرآن کریم کا ہے اور صدہا نظیریں اس کی پاک کلام میں موجود ہیں کہ ایک دنیا کے قصہ کے ساتھ آخرت کا قصہ پیوند کیا جاتا ہے۔ اور ہریک حصہ کلام کا اپنے قرائن سے دوسرے حصہ سے تمیز رکھتا ہے۔ اس طرز سے سارا قران شریف بھرا پڑا ہے۔ مثلاً قرآن کریم میں شق القمر کے معجزہ کو ہی دیکھو کہ وہ ایک نشان تھا لیکن ساتھ اس کے قیامت کا قصہ چھیڑ دیا گیا۔ جس کی وجہ سے بعض نادان قرینوں کو نظر انداز کرکے کہتے ہیں کہ شق القمر وقوع میں نہیں آیا بلکہ قیامت کو ہوگا۔ منہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 312
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 312
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/312/mode/1up
روح پھونکی جائے گی اور وہ زندگی دوسروں میں سرایت کرے گی۔ یاد رہے کہ صور کا لفظ ہمیشہ عظیم الشان تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے گویا جب خدا تعالیٰ اپنی مخلوقات کو ایک صورت سے منتقل کرکے دوسری صورت میں لاتا ہے تو اس تغیر صور کے وقت کو نفخ صور سے تعبیر کرتے ہیں اور اہل کشف پر مکاشفات کی رو سے اس صور کا ایک وجود جسمانی بھی محسوس ہوتا ہے اور یہ عجائبات اس عالم میں سے ہیں جن کے سر اس دنیا میں بجز منقطعین کے اور کسی پر کھل نہیں سکتے۔ بہرحال آیات موصوفہ بالا سے ثابت ہے کہ آخری زمانہ میں عیسائی مذہب اور حکومت کا زمین پر غلبہ ہوگا اور مختلف قوموں میں بہت سے تنازعات مذہبی پیدا ہوں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو دبانا چاہے گی اور ایسے زمانہ میں صور پھونک کر تمام قوموں کو دین اسلام پر جمع کیا جاوے گا یعنی سنت اللہ کے موافق آسمانی نظام قائم ہوگا ور ایک آسمانی مصلح آئے گا درحقیقت اسی مصلح کا نام مسیح موعود ہے کیونکہ جبکہ فتنہ کی بنیاد نصاریٰ کی طرف سے ہوگی اور خدا تعالیٰ کا بڑا مطلب یہ ہو گا کہؔ ان کی صلیب کی شان کو توڑے۔ اس لئے جو شخص نصاریٰ کی دعوت کے لئے بھیجا گیا بوجہ رعایت حالت اس قوم کے جو مخاطب ہے اس کا نام مسیح اور عیسیٰ رکھا گیا اور دوسری حکمت اس میں یہ ہے کہ جب نصاریٰ نے حضرت عیسیٰ کو خدا بنایا اور اپنی مفتریات کو ان کی طرف منسوب کیا اور ہزارہا مکاریوں کو زمین پر پھیلایا اور حضرت مسیح کی قدر کو حد سے زیادہ بڑھا دیا تو اس زندہ اور وحیدبے مثل کی غیرت نے چاہا کہ اسی امت سے عیسیٰ ابن مریم کے نام پر ایک اپنے بندہ کو بھیجے اور کرشمہ قدرت کا دکھلاوے تا ثابت ہوکہ بندوں کو خدا بنانا حماقت ہے وہ جس کو چاہتا ہے چن لیتا ہے اور مشت خاک کو افلاک تک پہنچا سکتا ہے اور اس جگہ یہ بات بھی یاد رہے کہ زمانہ کے فساد کے وقت جب کہ کوئی مصلح آتا ہے اس کے ظہور کے وقت پر آسمان سے ایک انتشار نورانیت ہوتا ہے۔ یعنی اس کے اترنے کے ساتھ زمین پر ایک نور بھی اترتا ہے اور مستعد دلوں پر نازل ہوتا ہے تب دنیا خود بخود بشرط استعداد نیکی اور سعادت کے طریقوں کی طرف رغبت کرتی ہے اور ہریک دل تحقیق اور تدقیق کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور نامعلوم اسباب سے طلب حق کے لئے ہریک طبیعت مستعدہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 313
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 313
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/313/mode/1up
میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے غرض ایک ایسی ہوا چلتی ہے جو مستعد دلوں کو آخرت کی طرف ہلا دیتی ہے اور سوئی ہوئی قوتوں کو جگا دیتی ہے اور زمانہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک انقلاب عظیم کی طرف حرکت کر رہا ہے سو یہ علامتیں اس بات پر شاہد ہوتی ہیں کہ وہ مصلح دنیا میں پیدا ہوگیا پھر جس قدر آنے والا مصلح عظیم الشان ہو یہ غیبی تحریکات قوت سے مستعد دلوں میں اپنا کام کرتی ہیں۔ ہریک سعید الفطرت جاگ اٹھتا ہے اور نہیں جانتا ہے کہ اس کو کس نے جگایا۔ ہریک صحیح الجبلت اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہے اور نہیں معلوم کرسکتا کہ یہ تبدیلی کیونکر پیدا ہوئی۔ غرض ایک جنبش سی دلوں میں شروع ہوجاتی ہے اور نادان خیال کرتے ہیں کہ یہ جنبش خود بخود پیدا ہوگئی لیکن درپردہ ایک رسول یامجدّد کے ساتھ یہ انوار نازل ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم اور احادیث کی رو سے یہ امر نہایت انکشاف کے ساتھ ثابت ہے جیسا کہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے
۱؂ یعنی ہم نے اس کتاب اور اس نبی کو لیلۃ القدر میں اتار ہے اور تو جانتا ہے کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے لیلۃ القدر ہزار مہینہ سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے اذن سے اترتے ہیں۔ اور وہ ہریک امر میں سلامتی کا وقت ہوتا ہے یہاں تک کہ فجر ہو۔ اب اگرچہ مسلمانوں کے ظاہری عقیدہ کے موافق لیلۃ القدر ایک متبرک رات کا نام ہے مگر جس حقیقت پر خدا تعالیٰ نے مجھ کو مطلع کیا ہے وہ یہ ہے کہ علاوہ ان معنوں کے جو مسلم قوم ہیں لیلۃ القدر وہ زمانہ بھی ہے جب دنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے تب وہ تاریکی بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ آسمان سے کوئی نور نازل ہو۔ سو خداتعالیٰ ا س وقت اپنے نورانی ملائکہ اورروح القدس کو زمین پر نازل کرتاہے۔اسی طور کے نزول کے ساتھ جو فرشتوں کی شان کے ساتھ مناسب حال ہے تب روح القدس تو اس مجدّد اور مصلح سے تعلّق پکڑتا ہے جو اجتبا اور اصطفا کی خلعت سے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 314
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 314
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/314/mode/1up
مشرف ہو کر دعوت حق کے لئے مامور ہوتا ہے اور فرشتے ان تمام لوگوں سے تعلق پکڑتے ہیں جو سعید اور رشید اور مستعد ہیں اور ان کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں اور نیک توفیقیں ان کے سامنے رکھتے ہیں تب دنیا میں سلامتی اور سعادت کی راہیں پھیلتی ہیں اور ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب تک دین اپنے اس کمال کو پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔
اب دیکھنا چاہیئے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورہ مبارکہ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا کہ جب کوئی مصلح خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے تو ضرور دلوں کو حرکت دینے والے ملائکہ زمین پر نازل ہوتے ہیں تب ان کے نزول سے ایک حرکت اور تموّج دلوں میں نیکی اور راہ حق کی طرف پیدا ہوجاتا ہے۔ پس ایسا خیال کرنا کہ یہ حرکت اور یہ تموّج بغیر ظہور مصلح کے خود بخود پیدا ہوجاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی پاک کلام اور اس کے قدیم قانون قدرت کے مخالف ہے اور ایسے اقوال صرف ان لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں جو الٰہی اسرار سے بے خبر محض اور صرف اپنے بے بنیاد اوہام کے تابع ہیں بلکہ یہ تو آسمانی مصلح کے پیدا ہونے کی علامات خاصہ ہیں اورؔ اس آفتاب کے گرد ذرات کی مانند ہیں۔ ہاں اس حقیقت کو دریافت کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔ ایک دنیا دار کی دود آمیز نظر اس نور کو دریافت نہیں کرسکتی دینی صداقتیں اس کی نظر میں ایک ہنسی کی بات ہے اور معارف الٰہی اس کے خیال میں بیوقوفیاں ہیں۔
اور دوسری آیات جن میں اس آخری زمانہ کی نشانیاں بتلائی گئی ہیں یعنی وہ آیات جن میں اول ارضی تاریکی زور کے ساتھ پھیلنے کی خبر دی گئی ہے اور پھر آسمانی روشنی کے نازل ہونے کی علامتیں بتلائی گئی ہیں وہ یہ ہیں۔ ۱؂ یعنی آخری زمانہ اس وقت آئے گا کہ جس وقت زمین ایک ہولناک جنبش کے ساتھ جو اس کی مقدار کے مناسب حال ہے ہلائی جائے گی یعنی اہل الارض میں ایک تغیر عظیم آئے گا اور نفس اور دنیا پرستی کی طرف لوگ جھک جائیں گے اور پھر فرمایا کہ زمین اپنے تمام بوجھ نکال ڈالے گی
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 315
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 315
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/315/mode/1up
یعنی زمینی علوم اور زمینی مکر اور زمینی چالاکیاں اور زمینی کمالات جو کچھ انسان کی فطرت میں مودع ہیں سب کی سب ظہور میں آجائیں گی اور نیز زمین جس پر انسان رہتے ہیں اپنے تمام خواص ظاہر کردے گی اور علم طبعی اور فلاحت کے ذریعہ سے بہت سی خاصیتیں اس کی معلوم ہو جائیں گی اور کانیں نمودار ہوں گی او رکاشتکاری کی کثرت ہوجائے گی۔ غرض زمین زرخیز ہوجائے گی اور انواع اقسام کی کلیں ایجاد ہوں گی یہاں تک کہ انسان کہے گا کہ یہ کیا ماجرا ہے اور یہ نئے نئے علوم اور نئے نئے فنون اور نئی نئی صنعتیں کیونکر ظہور میں آتی جاتی ہیں تب زمین یعنی انسانوں کے دل زبان حال سے اپنے قصے سنائیں گے کہ یہ نئی باتیں جو ظہور میں آرہی ہیں یہ ہماری طرف سے نہیں یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قسم کی وحی ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ انسان اپنی کوششوں سے اس قدر علوم عجیبہ پیدا کرسکے۔
اور یاد رہے کہ ان آیات کے ساتھ جو قرآن کریم میں بعض دوسری آیات جو آخرت کے متعلق ہیں شامل کی گئی ہیں وہ درحقیقت اُسی سنت اللہ کےؔ موافق شامل فرمائی گئی ہیں جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ور نہ اس میں کچھ شک نہیں کہ حقیقی اور مقدم معنے ان آیات کے یہی ہیں جو ہم نے بیان کئے او راُس پر قرینہ جو نہایت قوی اور فیصلہ کرنے والا ہے یہ ہے کہ اگر ان آیات کے حسب ظاہر معنے کئے جائیں تو ایک فساد عظیم لازم آتا ہے۔ یعنی اگر ہم اس طور سے معنے کریں کہ کسی وقت باوجود قائم رہنے اس آبادی کے جو دنیا میں موجود ہے۔ ایسے سخت زلزلے زمین پر آئیں گے جو تمام زمین کے اُوپر کا طبقہ نیچے اور نیچے کا اُوپر ہو جائے گا ۔ تو یہ بالکل غیر ممکن اور ممتنعات میں سے ہے۔ آیت موصوفہ میں صاف لکھا ہے کہ انسان کہیں گے کہ زمین کو کیا ہو گیا ۔ پھر اگر حقیقتًا یہی بات سچ ہے کہ زمین نہایت شدید زلزلوں کے ساتھ زیر وزبر ہو جائے گی تو انسان کہاں ہو گا جو زمین سے سوال کرے گا وہ تو پہلے ہی زلزلہ کے ساتھ زاویہ عدم میں مخفی ہو جائے گا۔ علوم حسّیہ کا تو کسی طرح سے انکار نہیں ہو سکتا پس ایسے معنے کرنا جو ببداہت باطل اور قرائن موجودہ کے مخالف ہوں گویااسلام سے ہنسی کرانا
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 316
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 316
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/316/mode/1up
اور مخالفین کو اعتراض کے لئے موقعہ دینا ہے پس واقعی اور حقیقی معنے یہی ہیں جو ابھی ہم نے بیان کئے۔ اب ظاہر ہے کہ یہ تغیرات اور فتن اور زلازل ہمارے زمانہ میں قوم نصاریٰ سے ہی ظہور میں آئے ہیں جن کی نظیر دُنیا میں کبھی نہیں پائی گئی۔ پس یہ ایک دُوسری دلیل اِس بات پر ہے کہ یہی قوم وہ آخری قوم ہے جس کے ہاتھ سے طرح طرح کے فتنوں کا پھیلنا مقدر تھا جس نے دُنیا میں طرح طرح کے ساحرانہ کام دکھلائے اور جیسا کہ لکھا ہے کہ دجّال نبوت کا دعویٰ کرے گا اور نیز خدائی کا دعویٰ بھی اس سے ظہور میں آئے گا وہ دونوں باتیں اس قوم سے ظہور میں آگئیں۔ نبوت کا دعویٰ اِس طرح پر کہ اِس قوم کے پادریوں نے نبیوں کی کتابوں میں بڑی گستاخی سے دخل بے جا کیا اور ایسی بے باکانہ مداخلت کی کہ گویاوہ آپ ہی نبی ہیں جس طرف چاہا اُن کی عبارات کو پھیر لیا اور اپنے مدعا کے موافق شرحیں لکھیں اور بیباکی سے ہر یک جگہ مفتریانہ دخل دیا۔ موجود کو چھپایا اور معدوم کو ظاہر کیا اور دعویٰ کے ساتھ ایسے محرف طور پر معنے کئے کہ گویا اُن پر وحی نازل ہوئی اوروہ نبی ہیں۔ چنانچہ ہمیشہ دیکھاجاتاہے کہ وہ مناظرات اور مباحثات کے وقت ایسے بیہودہ اور دور از صدق جواب عمدًا ؔ دیتے ہیں کہ گویا وہ ایک نئی انجیل بنا رہے ہیں۔ ایسا ہی اُن کی تالیفات بھی کسی نئے عیسیٰ اور نئی انجیل کی طرف رہبری کر رہی ہیں اور وہ جھوٹ بولنے کے وقت ذرہ ڈرتے نہیں اور چالاکی کی راہ سے کروڑہا کتابیں اپنے اس کاذبانہ دعو یٰ کے متعلق بنا ڈالیں گویا وہ دیکھ آئے ہیں کہ حضرت عیسیٰ خدائی کی کرسی پر بیٹھے ہیں اور خُدائی کا اِس طرح پر دعویٰ کیا کہ خدائی کاموں میں حد سے زیادہ دخل دے دیا اور چاہا کہ زمین و آسمان میں کوئی بھی ایسا بھید مخفی نہ رہے جو وہ اُس کی تہ تک نہ پہنچ جائیں اور ارادہ کیا کہ خدا تعالیٰ کے سارے کاموں کو اپنی مُٹھی میں لے لیں اور ایسے طور سے خدائی کی کَل اُن کے ہاتھ میں آجائے کہ اگرممکن ہو تو سورج کاغروب او ر طلوع بھی انہیں کے اختیار میں ہی ہو اور بارش کا ہونا نہ ہونا بھی ان کے اپنے ہاتھ کی کارستانی پر موقوف ہو اور کوئی بات ان کے آگے انہونی نہ رہے اور دعویٰ خدائی اور کیا ہوتا ہے یہی تو ہے کہ خدائی کاموں
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 317
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 317
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/317/mode/1up
میں اور خدا تعالیٰ کی خاص قدرتوں میں ہی دست اندازی کریں اور یہ شوق پیدا ہو کہ کسی طرح اسکی جگہ بھی ہم ہی لے لیں ۔ وہ لوگ جو احادیث مسیح موعود اور احادیث متعلّقہ دجال پر حرف زنی کرتے ہیں اُن کو اِس مقام میں بھی غور کرنی چاہیئے کہ اگریہ پیشگوئیاں خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتیں اور صرف انسان کا کاروبار ہوتا تو ممکن نہ تھاکہ ایسی صفائی اورعمدگی سے پُوری ہوتیں کیا یہ بھی کبھی کسی کے گمان میں تھا کہ یہ قوم نصاریٰ کسی زمانہ میں انسان کے خدابنانے میں اس قدر کوششیں اور جعلسازیاں کریں گے اور فلسفی تحقیقاتوں میں خدا کے لئے کوئی مرتبہ خصوصیّت نہیں چھوڑیں گے۔ دیکھو خر دجال جس کے ما بین اُذنین کا ستر۷۰ باع کافاصلہ لکھا ہے ریلوں کی گاڑیوں سے بطور اغلب اکثر بالکل مطابق آتا ہے اور جیسا کہ قرآن اورحدیث میں آیا ہے کہ اس زمانہ میں اونٹ کی سواریاں موقوف ہو جائیں گی ایسا ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ریل کی سواری نے اِن تمام سواریوں کو مات کر دیا اور اب انکی بہت ہی کم ضرورت باقی رہی ہے اور شائد تھوڑے ہی عرصہ میں اِس قدر ضرورت بھی باقی نہ رہے ایساہی ہم نے بچشم دیکھا کہ درحقیقت اس قوم کے علماء و حکماء نے دین کے متعلق وہ فتنے ظاہر کئے کہ جن کی نظیر حضرت آدم سے لے کر تا ایں دم پائیؔ نہیں جاتی۔ پس بلاشبہ نبوت میں بھی انہوں نے مداخلت کی اور خدائی میں بھی۔ اب اس سے زیادہ ان احادیث کی صحت کاکیا ثبوت ہو کہ ان کی پیشگوئی پوری ہو گئی اور قرآن کریم کی ان آیات میں یعنی ۱؂میں حقیقت میں اسی دجّالی زمانہ کی طرف اشارہ ہے جس کو ذرہ بھی عقل ہو تو وہ سمجھ سکتا ہے اور یہ آیت صاف بتلا رہی ہے کہ وہ قوم ارضی علوم میں کہاں تک ترقی کرے گی۔
پھر اسی زمانہ کی علامات میں جبکہ ارضی علوم وفنون زمین سے نکالے جائیں گے بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے۔ ۲؂ جبکہ زمین کھینچی جاوے گی یعنی زمین صاف کی جائے گی اور آبادی بڑھ جاوے گی اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو زمیں باہر ڈال دے گی اور خالی ہو جائے گی یعنی تمام ارضی
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 318
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 318
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/318/mode/1up
استعدادیں ظہور و بروز میں آجائیں گی جیساکہ پہلے اس سے ابھی اس کی تفصیل ہو چکی ہے۔ ۱؂ یعنی اُس وقت اُونٹنی بیکا رہو جائے گی اور اُس کا کچھ قدرومنزلت نہیں رہے گا۔ عشارؔ حملدار اُونٹنی کو کہتے ہیں جو عربوں کی نگاہ میں بہت عزیز ہے اور ظاہر ہے کہ قیامت سے اس آیت کو کچھ بھی تعلق نہیں کیونکہ قیامت ایسی جگہ نہیں جس میں اُونٹ اُونٹنی کو ملے اورحمل ٹھہرے بلکہ یہ ریل کے نکلنے کی طرف اشارہ ہے اورحملدار ہونے کی اِس لئے قیدلگادی کہ تا یہ قید دُنیا کے واقعہ پر قرینہ قویہّ ہو اور آخرت کی طر ف ذرہ بھی وہم نہ جائے ۲؂ اور جس وقت کتابیں منتشر کی جائیں گی اور پھیلائی جائیں گی یعنی اشاعت کتب کے وسائل پَیدا ہو جائیں گے۔ یہ چھاپے خانوں اورڈاک خانوں کی طر ف اشارہ ہے کہ آخری زمانہ میں ان کی کثرت ہو جائے گی۔3۳؂ اور جس وقت جانیں باہم ملائی جائیں گی۔یہ تعلقات اقوام اور بلاد کی طرف اشارہ ہے مطلب یہ ہے کہ آخری زمانہ میں بباعث راستوں کے کھلنے اور انتظام ڈاک اور تار برقی کے تعلقات بنی آدم کے بڑھ جائیں گے اور ایک قوم دوسری قوم کو ملے گی اور دور دور کے رشتے اورتجارتی اتحاد ہونگے اور بلاد بعیدہ کے دوستانہ تعلقات بڑھ جائیں گے۔ ۴؂ اورجس وقت وحشی آدمیوں کے ساتھ اکٹھے کئے جائیں گے مطلب یہ ہے کہ وحشی قومیں تہذیبؔ کی طرف رجوع کریں گی اور اُن میں انسانیت اورتمیز آئے گی اور اراذل دنیوی مراتب اورعزّت سے ممتاز ہو جائیں گے اور بباعث دنیوی علوم و فنون پھیلنے کے شریفوں اوررذیلوں میں کچھ فرق نہیں رہے گا بلکہ رذیل غالب آجائیں گے یہاں تک کہ کلید دولت اور عنانِ حکومت ان کے ہاتھ میں ہو گی اورمضمون اس آیت کا ایک حدیث کے مضمون سے بھی ملتا ہے۔ ۵؂ اور جس وقت دریا چیرے جاویں گے یعنی زمین پر نہریں پھیل جائیں گی۔ اور کاشتکاری کثرت سے ہو گی۔۶؂ اور جس وقت پہاڑ اڑائے جائیں گے اور ان میں سڑکیں پیادوں اور سواروں کے چلنے کی یاریل کے چلنے کیلئے بنائی جائیں گی۔ پھر علاوہ اس کے عام ظلمت کی نشانیاں بیان فرمائیں اورفرمایا۔۷؂ جس وقت سُورج لپیٹا
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 319
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 319
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/319/mode/1up
جاویگا یعنی سخت ظلمت جہالت اور معصیت کی دنیا پر طاری ہو جائے گی ۱ ؂ اور جس وقت تارے گدلے ہو جاویں گے یعنی علماء کا نُورِ اخلاص جاتا رہے گا ۲؂ اور جس وقت تارے جھڑ جاویں گے یعنی ربّانی علماء فوت ہو جائیں گے کیونکہ یہ تو ممکن ہی نہیں کہ زمین پر تارے گریں اور پھر زمین پر لوگ آباد رہ سکیں۔ یاد رہے کہ مسیح موعود کے آنے کیلئے اسی قسم کی پیشگوئی انجیل میں بھی ہے کہ وہ اس وقت آئے گا کہ جب زمین پر تارے گر جائیں گے اور سُورج اور چاند کا نور جاتا رہے گا۔ اور اِن پیشگوئیوں کو ظاہر پر حمل کرنا اس قدر خلافِ قیاس ہے کہ کوئی دانا ہرگز یہ تجویز نہیں کرے گا کہ درحقیقت سُورج کی روشنی جاتی رہے اور ستارے تمام زمین پر گر پڑیں اور پھر زمین بدستور آدمیوں سے آباد ہو اور اُس حالت میں مسیح موعود آوے۔ اور پھر فرمایا 3 ۳؂ جس وقت آسمان پھٹ جاوے۔ ایسا ہی فرمایا۔3 ۴؂ اور انجیل میں بھی اسی کے مطابق مسیح موعود کے آنے کی خبر دی ہے مگر اِن آیتوں سے یہ مراد نہیں ہے کہ درحقیقت اُس وقت آسمان پھٹ جائے گایا اُس کی قوتیں سُست ہوجائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہو جاتی ہے ایسا ہی آسمان بھی بیکار سا ہو جائے گا ۔ آسمان سے فیوض نازل نہیں ہونگے اوردُنیا ظلمت اورتاریکی سے بھر جائے گی۔ اورپھر ایک جگہ فرمایا ۵؂ اورجب رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے یہ اشارہ درحقیقت مسیح موعود کے آنے کی طر ف ہے اور اِس بات کا بیان مقصود ہے کہ وہ عین وقت پر آئے گا اور یاد رہے کہ کلام اللہ میں رُسل کا لفظ واحدپر بھی اطلاق پاتا ہے اور غیر رسول پر بھی اطلاق پاتا ہے اور یہ مَیں کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں کہ اکثر قرآن کریم کی آیات کئی وجوہ کی جامع ہیں جیسا کہ یہ احادیث سے ثابت ہے کہ قرآن کے لئے ظہر بھی ہے اور بطن بھی۔ پس اگر رسول قیامت کے میدان میں بھی شہادت کیلئے جمع ہوں تو اٰمنّا وصدّقنا لیکن اس مقام میں جو آخری زمانہ کی ابتر علامات بیان فرما کر پھر اخیر پر یہ بھی فرمادیا کہ اس وقت رسول وقت مقرر پر لائے جائیں گے۔ تو قرآئن بیّنہ صاف طور پر شہادت دے رہے ہیں کہ اُس ظلمت کے کمال کے بعد خدا تعالیٰ کسی اپنے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 320
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 320
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/320/mode/1up
مرسل کو بھیجے گا۔ تا مختلف قوموں کا فیصلہ ہو اور چونکہ قرآ ن شریف سے ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ظلمت عیسائیوں کی طرف سے ہوگی اور ایسا مامور من اللہ بلا شبہ اُنھیں کی دعوت کے لئے اور اُنھیں کے فیصلہ کے لئے آئے گا۔ پس اسی مناسبت سے اس کا نام عیسیٰ رکھا گیاہے۔ کیونکہ وہ عیسائیوں کے لئے ایسا ہی بھیجا گیا جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اُن کے لئے بھیجے گئے تھے اور آیت ۱؂ میں الف لام عہد خارجی پر دلالت کرتا ہے یعنی وہ مجدّد جس کا بھیجنا بزبان رسول کریم معہود ہو چکا ہے وہ اُس عیسائی تاریکی کے وقت میں بھیجا جائے گا۔
جس قدر اب تک ہم آیات قرآن کریم لِکھ چکے ہیں اُن سے بخوبی ظاہر ہے کہ ضرور قرآن کریم میں یہ پیشگوئی موجود ہے کہ آخری زمانہ میں دین عیسوی دُنیا میں بکثرت پھیل جائے گا۔ اوروہ لوگ ارادہ کریں گے کہ تادینِ اسلام کو رُوئے زمین پر سے مٹا دیں اور جہاں تک اُن کے لئے ممکن ہوگا اپنے دین کی بھلائی میں کوئی دقیقہ چھوڑ نہیں رکھیں گے۔ تب خد اتعالیٰ دینِ اسلام کی نصرت کی طرف متوجہ ہو گا اور اُس فتنہ کے وقت میں دِکھلائے گا کہ وہ کیونکر اپنے دین اور اپنے پاک کلام کا محافظ ہے۔ تب اُس کی عادت اور سنت کے موافق ایک آسمانی روشنی نازل ہو گی اور ہر ایک سعید اُس روشنی کی طرف کھینچا جائے گا یہاں تک کہ تمام سعادت کے جگر پارے ایک ہی دین کے جھنڈے کے نیچے آجائیں گے۔ خدا تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمادیا ہے کہ لڑائیوں اورؔ مباحثات کے شور اُٹھنے کے وقت میں نفخ صور ہو گا تب سعید لوگ ایک ہی مذہب پر جمع کئے جائیں گے اور پھر یہ بھی فرمادیاکہ تاریکی کے وقت میں رسولوں کو بھیجا جائے گا۔ اب اس سے اور کیا تصریح ہو گی کہ اللہ جلّ شانہ‘نے اوّل آخری زمانہ کی علامت یاجوج ماجوج کا غلبہ یعنی روس اور انگریزوں کا تسلّط بیان فرمایا۔ پھر دُوسری علامت بہت سے فرقے پَیدا ہوجانا قرار دیا۔ پھر تیسری علامت ان فرقوں کا آپس میں مباحثات کرنا اورموج کی طرح ایک دوسرے پر پڑنا بیان فرمایا۔ پھر چوتھی علامت ریل کا جاری ہونا ۔ پھر پانچویں علامت کتابوں اوراخبار کے شائع ہونے کے ذریعے جیسے چھاپہ خانہ اور تار برقی۔ پھر
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 321
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 321
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/321/mode/1up
چھٹیعلامت نہروں کا نکلنا اورپھر ساتویں علامت زمین کی آبادی اورکاشتکاری زیادہ ہو جانا اور پھر آٹھویں علامت پہاڑوں کا اُڑایا جانا اور پھر نویں علامت تمام علوم وفنون جدیدہ کی ترقی ہونا۔ پھردسویں علامت گناہ اور تاریکی کا پھیلنا اوردُنیا سے تقویٰ اور طہارت اور ایمانی نور اُٹھ جانا پھر گیارھویں علامت دابۃ الارض کا ظہور میں آنا یعنی ایسے واعظوں کابکثرت ہو جانا جن میں آسمانی نُور ایک ذرہ بھی نہیں اور صرف وہ زمین کے کیڑے ہیں اعمال اُن کے دجّال کے ساتھ ہیں اور زبانیں انکی اسلام کے ساتھ یعنی عملی طور پر وہ دجّال کے خادم اورممسوخ الصورت اور حیوانی شکل ظاہر کر رہے ہیں مگر زبانیں اُن کی انسان کی سی ہیں۔ پھر بارھویں علامت مسیح موعود کا پیدا ہونا ہے جس کو کلام الٰہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیاگیا ہے۔ اور نفخ حقیقت میں دو قسم پر ہے ایک نفخ اضلال اور ایک نفخ ہدایت جیسا کہ اس آیت میں اس کی طر ف اشارہ ہے ۔ ۱؂ یہ آیتیں ذو الوجوہ ہیں قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اوراس عالم سے بھی۔ جیسا کہ آیت ۲؂ اور جیسا کہ آیت ۳؂ اوراس عالم کے لحاظ سے اِن آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ آخری دنوں میں دوزمانے آئیں گے۔ ایکؔ ضلالت کا زمانہ اور اس زمانہ میں ہر ایک زمینی اور آسمانی یعنی شقی اور سعید پر غفلت سی طاری ہوگی مگر جس کو خدا محفوظ رکھے اور پھر دُوسرا زمانہ ہدایت کا آئے گا۔ پس ناگاہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور دیکھتے ہوں گے۔ یعنی غفلت دُور ہو جائے گی اور دلوں میں معرفت داخل ہو جائے گی اور شقی اپنی شقاوت پر متنبہ ہو جائیں گے گو ایمان نہ لاویں۔
اور علاوہ ان آیات کے قرآن مجید میں اور بھی بہت سی آیات ہیں جو اِس آخری زمانہ اور مسیح موعود کے آنے پر دلالت کرتی ہیں لیکن اِن معانی مبارکہ کے ماخذ دقیق ہیں۔ اِس لئے ہریک سطحی خیال کا آدمی اِس طرف توجہ نہیں کرسکتا اورموٹی سمجھ ان دقائق کو پا نہیں سکتی چنانچہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 322
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 322
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/322/mode/1up
منجملہ اُن کے یہ آیت ہے ۱؂ اب ظاہر ہے کہ کَمَا کے لفظ سے یہ اشارہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں۔ چنانچہ توریت باب استثنا میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ لکھا ہے اور ظاہر ہے کہ مماثلت سے مُراد مماثلت تامہ ہے نہ کہ مماثلت ناقصہ۔ کیونکہ اگر مماثلتِ ناقصہ مراد ہو تو پھر اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خصوصیت باقی نہیں رہتی وجہ یہ کہ ایسی مماثلت والے بہت سے نبی ثابت ہونگے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم سے تلوار بھی اُٹھائی اور حضرت موسیٰ کی طرح جنگ بھی کئے۔ اورعجیب طور پرفتحیں بھی حاصل کیں مگر کیاوہ اِس پیشگوئی کے مصداق ٹھہرسکتے ہیں ہرگز نہیں۔ غرض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیت اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ جب مماثلت سے مماثلت تامہ مراد ہو۔ اور مماثلت تامہ کی عظیم الشان جزوں میں سے ایک یہ بھی جزو ہے کہ اللہ جلّ شانہ‘نے حضرت موسٰی ؑ کو اپنی رسالت سے مشرف کر کے پھر بطور اکرام و انعام خلافت ظاہری اور باطنی کا ایک لمبا سلسلہ ان کی شریعت میں رکھ دیا جو قریبًا چودہ سو برس تک ممتد ہو کر آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اُس کا خاتمہ ہوا اِس عرصہ میں صدہا بادشاہ اور صاحبِ وحی اور الہام شریعت موسوی میں پیدا ہوئے اور ہمیشہ خدا تعالیٰ شریعت موسوی کے حامیوں کی ایسےؔ عجیب طور پر مدد کرتا رہا جو ایک حیرت انگیزیاد گار کے طور پر وہ باتیں صفحات تاریخ پر محفوظ رہیں جیسا کہ اللہ جلّ شانہ‘ فرماتا ہے۔یعنی ہم نے موسیٰ کوکتاب دی اوربہت سے رُسل اس کے پیچھے آئے پھر سب کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور اُس کو انجیل دی اور اُس کے تابعین کے دلوں میں رحمت اور شفقت رکھ دی یعنی وہ تلوار سے نہیں بلکہ اپنی تواضع اور فروتنی اور اخلاق سے دعوتِ دین کرتے تھے اِس آیت میں اشارہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 323
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 323
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/323/mode/1up
یہ ہے کہ موسوی شریعت اگرچہ جلالی تھی اورلاکھوں خون اس شریعت کے حکموں سے ہوئے یہاں تک کہ چار لاکھ کے قریب بچہ شیر خوار بھی مار ا گیا لیکن خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اُس سلسلہ کا خاتمہ رحمت پر کرے اور انہیں میں سے ایسی قوم پَیدا کرے کہ وہ تلوار سے نہیں بلکہ علم اور خلق سے اور محض اپنی قوّتِ قدسیہ کے زور سے بنی آدم کو راہ راست پر لاویں۔
اَب چونکہ مماثلت فی الانعامات ہونا از بس ضروری ہے اور مماثلت تامہ تبھی متحقق ہوسکتی تھی کہ جب مماثلت فی الانعامات متحقق ہو۔ پس اِسی لئے یہ ظہور میں آیا کہ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو قریبًا چودہ سو برس تک ایسے خدام شریعت عطاکئے گئے کہ وہ رسول اور ملہم من اللہ تھے اور اختتام اس سلسلہ کا ایک ایسے رسول پر ہوا جس نے تلوار سے نہیں بلکہ فقط رحمت اور خُلق سے حق کی طرف دعوت کی۔ اسی طرح ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی وہ خدام شریعت عطا کئے گئے جو بر طبق حدیث علمآء امتی کانبیآء بنی اسرآئیل ملہم اورمحدّث تھے اورجس طرح موسیٰ کی شریعت کے آخری زمانہ میں حضرت مسیح علیہ السلام بھیجے گئے جنہوں نے نہ تلوار سے بلکہ صرف خلق اور رحمت سے دعوتِ حق کی ۔ اسی طرح خدا تعالیٰ نے اس شریعت کے لئے مسیح موعود کو بھیجا تا وہ بھی صرف خُلق اور رحمت اور انوار آسمانی سے راہ راست کی دعوت کرے اور جس طرح حضرت مسیح حضرت موسٰی علیہ السلام سے قریبًا چودہ سو برس بعد آئے تھے اس مسیح موعود نے بھی چودھو۱۴یں صدی کے ؔ سر پر ظہور کیا اور محمدی سلسلہ موسوی سلسلہ سے انطباق کلّی پا گیا۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ موسوی سلسلہ میں تو حمایت دین کیلئے نبی آتے رہے اور حضرت مسیح بھی نبی تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ مرسل ہونے میں نبی اور محدّث ایک ہی منصب رکھتے ہیں اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے نبیوں کا نام مرسل رکھا ایسا ہی محدثین کا نام بھی مرسل رکھا۔ اسی اشارہ کی غرض سے قرآن شریف میں3 ۱؂ آیا ہے اور یہ نہیںآیا کہ قفّینا من بعدہٖ بالانبیاء۔ پس یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسل سے مراد مرسل ہیں خواہ وہ رسول ہوں یا نبی ہوں یا محدّث ہوں چونکہ ہمارے سیّد و رسول صلی اللہ علیہ وسلم
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 324
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 324
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/324/mode/1up
خاتم الانبیاء ہیں اور بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوئی نبی نہیں آسکتا اس لئے اس شریعت میں نبی کے قائم مقام محدّث رکھے گئے اور اسی کی طرف اِس آیت میں اشارہ ہے کہ ۱؂ چونکہ ثُلّۃ کا لفظ دونوں فقروں میں برابر آیا ہے۔ اِس لئے قطعی طور پر یہاں سے ثابت ہوا کہ اس امّت کے محدث اپنی تعداد میں اور اپنے طولانی سلسلہ میں موسوی اُمّت کے مرسلوں کے برابر ہیں اور درحقیقت اسی کی طرف اس دُوسر ی آیت میں بھی اشارہ ہے اور وہ یہ ہے۔ ۲ ؂ یعنیخدانے اُن لوگوں سے جو تم میں سے ایمان لائے اور اچھے کام کئے یہ وعدہ کیاہے کہ البتہ اُنہیں زمین میں اسی طرح خلیفہ کرے گا جیسا کہ اُن لوگوں کو کیا جواُن سے پہلے گذر گئے اور اُن کے دین کو جو اُن کے لئے پسند کیا ہے ثابت کر دے گا اوراُن کے لئے خوف کے بعد امن کو بدل دے گا میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ (الجزو نمبر۱۸ سُورۃنور) اب غور سے دیکھو کہ اِس آیت میں بھی مماثلت کی طرف صریح اشارہ ہے اور اگر اس مماثلت سے مماثلت تامہ مُراد نہیں تو کلام عبث ہوا جاتا ہے کیونکہ شریعت موسوی میں چودہ سو برس تک خلافت کا سلسلہ ممتد رہا نہ صرف تیس ؔ برس تک اور صدہا خلیفے رُوحانی اور ظاہری طور پر ہوئے نہ صرف چار اور پھر ہمیشہ کے لئے خاتمہ۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ منکم کالفظ دلالت کرتا ہے کہ وہ خلیفے صرف صحابہ میں سے ہوں کیونکہ منکم کے لفظ میں مخاطب صرف صحابہ ہیں تو یہ خیال ایک بدیہی غلطی ہے اور ایسی بات صر ف اُس شخص کے مُنہ سے نکلے گی جس نے کبھی قرآن کریم کو غور سے نہیں پڑھا اور نہ اُس کی اسالیب کلام کو پہچاناکیونکہ اگر یہی بات سچ ہے کہ مخاطبت کے وقت وہی لوگ مُراد ہوتے ہیں جو موجودہ زمانہ میں بحیثیت ایمانداری زندہ موجود ہوں تو ایسا تجویز کرنے سے سارا قرآن
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 325
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 325
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/325/mode/1up
زیرو زبر ہو جائے گا۔ مثلًا اسی آیت موصوفہ بالا کے مشابہ قرآن کریم میں ایک اور آیت بھی ہے جس میں اسی طرح بظاہر الفاظ وہ لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ پر ایمان لائے تھے اوراس وقت زندہ موجود تھے بلکہ ان آیات میں تو اس بات پر نہایت قوی قرائن موجود ہیں کہ درحقیقت وہی مخاطب کئے گئے ہیں اوروہ آیات یہ ہیں33333333۔33333 ۱؂ الجزو نمبر۹ سورۃ الاعراف۔ یعنی فرعون نے کہا کہ ہم بنی اسرائیل کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور اوراُن کی بیٹیوں کو زندہ رکھیں گے اور تحقیقًا ہم ان پر غالب ہیں۔ تب موسیٰ نے اپنی قوم کو کہا کہ اللہ سے مدد چاہو اورصبر کرو زمین خدا کی ہے جس کو اپنے بندوں سے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اور انجام بخیر پرہیز گاروں کا ہی ہوتا ہے۔ تب موسیٰ کی قوم نے اس کو جواب دیا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے جاتے تھے اور تیرے آنے کے بعد بھی ستا ئے گئے تو موسیٰ نے اُن کے جواب میں کہا کہ قریب ہے کہ خُداتمہارے دشمن کو ہلاک کرے اور زمین پر تمہیں خلیفے مقرر کر دے اور پھر دیکھے کہ تم کس طور کے کام کرتے ہو ۔
اَب اِ ن آیات میں صریح اور صا ف طور پروہی لوگ مخاطب ہیں جو حضرت موسیٰ کی قوم میں سے اُنؔ کے سامنے زندہ موجود تھے اور انہوں نے فرعون کے ظلموں کا شِکوہ بھی کیا تھا اورکہا تھا کہ ہم تیرے پہلے بھی ستائے گئے اور تیرے آنے کے بعد بھی اور انہیں کو خطاب کر کے کہا تھا کہ تم ان تکلیفات پر صبر کرو خدا تمہاری طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گا اور تمہارے دشمن کو ہلا ک کر دے گا اور تم کو زمین پر خلیفے بنا دے گا لیکن تاریخ دانوں پر ظاہر ہے اور یہودیوں اورنصاریٰ کی کتابوں کو دیکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ گو اس قوم کا دشمن یعنی فرعون اُن کے سامنے ہلاک ہوا مگر وہ خود تو زمین پر نہ ظاہری خلافت پر پہنچے نہ باطنی خلافت پر۔ بلکہ اکثر ان کی نافرمانیوں سے ہلاک
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 326
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 326
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/326/mode/1up
کئے گئے اور چالیس برس تک بیابان لق و دق میں آوارہ رہ کر جان بحق تسلیم ہوئے پھر بعد ان کی ہلاکت کے ان کی اولادمیں ایسا سلسلہ خلافت کا شروع ہوا کہ بہت سے بادشاہ اس قوم میں ہوئے اور داؤد اور سلیمان جیسے خلیفۃ اللہ اسی قوم میں سے پَیدا ہوئے یہاں تک کہ آخریہ سلسہ خلافت کا چودھویں صدی میں حضرت مسیح پر ختم ہوا پس اس سے ظاہر ہے کہ کسی قوم موجودہ کو مخاطب کرنے سے ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ وہ خطاب قوم موجودہ تک ہی محدود رہے بلکہ قرآن کریم کاتو یہ بھی محاورہ پایا جاتا ہے کہ بسا اوقات ایک قوم کو مخاطب کرتا ہے مگر اصل مخاطب کوئی اور لوگ ہوتے ہیں جو گذر گئے یا آئندہ آنے والے ہیں مثلًا اللہ جلّ شانہ‘ سورۃ البقرہ میں یہود موجودہ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے333۱؂ یعنی اے بنی اسرائیل اُس نعمت کو یاد کرو جو ہم نے تم پر انعام کی اور میرے عہد کو پُورا کرو تامَیں بھی تمہارے عہد کو پُورا کروں اور مجھ سے پس ڈرو۔ اب ظاہرہے کہ یہودموجودہ زمانہ آنحضرت تو ضربت علیھم الذلۃکا مصداق تھے ان پر تو کوئی انعام بھی نہیں ہوا تھا اور نہ ان سے یہ عہد ہوا تھا کہ تم نے خاتم الانبیاء پر ایمان لانا۔ پھر بعد اس کے فرمایا 3333333۔33۲؂ یعنی وہ وقت یاد کروجب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی وہ تم کو طرح طرح کے دُکھ دیتے تھے تمہاؔ رے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے تمہارا بڑا امتحان تھا اور وہ وقت یاد کروجبکہ ہم نے تمہارے پہنچنے کے ساتھ ہی دریا کو پھاڑ دیا۔ پھر ہم نے تم کو نجات دے دی اور فرعون کے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور تم دیکھتے تھے۔
اب سوچنا چاہیئے کہ ان واقعات میں سے کوئی واقعہ بھی ان یہودیوں کو پیش نہیں آیا تھا جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے نہ وہ فرعون کے ہاتھ سے دُکھ دیئے گئے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 327
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 327
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/327/mode/1up
نہ اُن کے بیٹوں کوکسی نے قتل کیا نہ وہ کسی دریا سے پار کئے گئے۔ پھر آگے فرماتا ہے33333۔33۔333 ۱؂ یعنی وہ وقت یاد کرو جب تم نے موسیٰ کو کہا کہ ہم تیرے کہے پر تو ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کو بچشم خود نہ دیکھ لیں تب تم پر صاعقہ پڑی اور پھر تم کو زندہ کیا گیا تاکہ تم شکرکرو اور ہم نے بادلوں کو تم پر سائبان کیا اور ہم نے تم پر من و سلویٰ اُتارا۔ اب ظاہر ہے کہ حضرت موسیٰ تو ان یہودیوں سے جو قرآن میں مخاطب کئے گئے دو ہزار برس پہلے فوت ہو چکے تھے اور ان کا حضرت موسیٰ کے زمانہ میں نام ونشان بھی نہ تھا پھر وہ حضرت موسیٰ سے ایسا سوال کیونکرکر سکتے تھے کہاں اُن پر بجلی گری کہاں انہوں نے من وسلویٰ کھایا۔ کیا وہ پہلے حضرت موسیٰ کے زمانہ میں اور اورقالبوں میں موجودتھے اور پھر آنحضرتؐ کے زمانہ میں بھی بطور تناسخ آموجود ہوئے اور اگر یہ نہیں تو بجز اس تاویل کے اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ مخاطبت کے وقت ضروری نہیں کہ وہی لوگ حقیقی طور پر واقعات منسوبہ کے مصدا ق ہوں جو مخاطب ہوں۔ کلام الٰہی اوراحادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ ایک قاعدہ ٹھہر گیا ہے کہ بسا اوقات کوئی واقعہ ایک شخص یا ایک قوم کی طرف منسوب کیاجاتا ہے اور دراصل وہ واقعہ کسی دوسری قوم یادُوسرے شخص سے تعلق رکھتا ہے اور اسی باب میں سے عیسیٰ بن مریم کے آنے کی خبر ہے کیونکہ بعض احادیث میں آخری زمانہ میں آنے کاایک واقعہ حضرت عیسیٰ کی طرف منسوب کیا گیا حالانکہ وہ فوت ہو چکے تھے پس یہ واقعہ بھی حضرت مسیحؔ کی طرف ایسا ہی منسوب ہے جیسا کہ واقعہ فرعون کے ہاتھ سے نجات پانے کا اور منّ و سلوٰی کھانے کا اور صاعقہ گرنے کا اور دریا سے پار ہونے کا اورقصّہ 33 ۲؂ کا اُن یہودیوں کی طرف منسوب کیاگیا جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے ۔ حالانکہ وہ واقعات اُن کی پہلی قوم کے تھے جو اُن سے صد ہا برس پہلے مر چکے تھے ۔ پس اگر کسی کو آیات کے معنے کرنے میں
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 328
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 328
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/328/mode/1up
معقولی شق کی طرف خیال نہ ہو اور ظاہر الفاظ پر اڑ جانا واجب سمجھے تو کم سے کم ان آیات سے یہ ثابت ہو گاکہ مسئلہ تناسخ حق ہے ورنہ کیونکر ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ ایک فاعل کے فعل کو کسی ایسے شخص کی طرف منسوب کرے جس کو اِس فعل کے ارتکاب سے کچھ بھی تعلق نہیں حالانکہ وُہ آپ ہی فرماتاہے33 ۱؂ پھر اگر موسیٰ کی قوم نے موسیٰ کی نافرمانی کی تھی اور اُن پر بجلی گری تھی یا انہوں نے گوسالہ پرستی کی تھی اور ان پر عذاب نازل ہواتھا تو اس دُوسری قوم کو ان واقعات سے کیا تعلق تھا جودو ہزار برس بعد پیدا ہوئے۔ یُوں تو حضرت آدم سے تا ایں دم متقدمین متاخرین کے لئے بطور آباء و اجدا د ہیں لیکن کسی کا گنہ کسی پر عائد نہیں ہو سکتا ۔ پھر خدا تعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ فرمانا کہ تم نے موسیٰ کی نافرمانی کی اور تم نے کہا کہ ہم خدا کو نہیں مانیں گے جب تک اس کو دیکھ نہ لیں اور اس گنہ کے سبب سے تم پر بجلی گری کیونکر ان تمام الفاظ کے بنظر ظاہر کوئی اور معنے ہو سکتے ہیں بجُز اس کے کہ کہا جائے کہ دراصل وہ تمام یہودی جوہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں موجود تھے حضرت موسیٰ کے وقت میں بھی موجود تھے اور انہیں پر من و سلوٰی نازل ہوا تھا اور انہیں پر بجلی پڑی تھی اور انہیں کی خاطر فرعون کو ہلاک کیا گیا تھا اور پھر وہی یہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بطور تناسخ پیدا ہو گئے اور اِ س طرح پر خطاب صحیح ٹھہر گیا مگر سوال یہ ہے کہ کیوں ایسے سیدھے سیدھے معنے نہیں کئے جاتے ۔ کیا یہ خدا تعالیٰ کی قدرت سے دُور ہیں اور کیوں ایسے معنے قبول کئے جاتے ہیں جو تاویلات بعیدہ کے حکم میں ہیں کیا خداتعالیٰ قادر نہیں کہ جس طرح بقول ہمارے مخالفوں کے وہ حضرت عیسیٰ کو بعینہٖ بجسدہ العنصری کسی وقت صدہا برسوں کے بعد پھر زمین پر لے آئے گا۔ اسی طرح اُس نے حضرت موسیٰ کے زمانہ کے یہودیوں کو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں زندہ کر دیا ہو یا اُن کی رُوحوں کو بطور ؔ تناسخ پھر دُنیا میں لے آیا ہو جس حالت میں صرف بے بنیاد اقوال کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ کی روح کا پھر دنیا میں آناتسلیم کیا گیا ہے تو کیوں اور کیا وجہ کہ ان تمام یہودیوں کی روحوں کا دوبارہ بطور تناسخ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں آجاناقبول نہ کیاجائے جن کے موجود ہوجانے پرنصوص صریحیہ بیّنہ قرآن کریم
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 329
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 329
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/329/mode/1up
شاہد ہیں۔ دیکھو خدا تعالیٰ صاف فرماتاہے 33333 ۱ ؂ یعنی تم وہ وقت یاد کرو جبکہ تم نے نہ کسی اور نے یہ کہا کہ ہم تیرے کہنے پرتو ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم آپ ظاہر ظاہر خدا کو نہ دیکھ لیں اور پھر تم کو بجلی نے پکڑا او ر تم دیکھتے تھے۔ اور اس آیت میں ایک اور لطیفہ یہ ہے کہ چونکہ خدا تعالیٰ نے اِ س آیت کے مضمون میں موجودہ یہودیوں کو گذشتہ لوگوں کے قائم مقام نہیں ٹھہرایا بلکہ اُن کو فی الحقیقت گذشتہ لوگ ہی ٹھہرا دیا تو اس صورت میں قرآن کریم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کے یہودیوں کے وہی نام رکھ دئے جو اُن گذشتہ بنی اسرائیل کے نام تھے کیونکہ جبکہ یہ لوگ حقیقتًا وہی لوگ قرار دیئے گئے تو یہ لازمی ہوا کہ نام بھی وہی ہوں وجہ یہ کہ نام حقائق کے لئے مثل عوارض غیر منفک کے ہیں اور عوارض لازمیہ اپنے حقائق سے الگ نہیں ہو سکتے۔ اب خوب متوجہ ہو کر سوچو کہ جبکہ خدا تعالیٰ نے صریح اور صاف لفظوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے یہودیوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم نے ہی ایسے ایسے برے کام حضرت موسیٰ کے عہد میں کیے تھے تو پھر ایسی صریح اور کُھلی کُھلی نص کی تاویل کرنا اور احادیث کی بنیاد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جوقرآن کریم کی رُو سے وفات یافتہ ہے پھر زمین پر اُتارنا کیسی بے اعتدالی اور ناانصافی ہے ۔ عزیزو! اگر خدا تعالیٰ کی یہی عادت اور سنت ہے کہ گزشتہ لوگوں کو پھر دُنیا میں لے آتا ہے تو نص قرآنی جو بہ تکراردر تکرارگزشتہ لوگوں کو مخاطب کر کے اُن کے زندہ ہونے کی شہادت دے رہی ہے اس سے در گذرکرنا ہرگز جائز نہیں اوراگر وہاں یہ دھڑکہ دل کو پکڑتا ہے کہ ایسے معنے گو خدا تعالیٰ کی قدرت سے تو بعید نہیں لیکن معقولؔ کے برخلاف ہیں۔ اِسلئے تاویل کی طرف رُخ کیاجاتاہے اور وہ معنے کئے جاتے ہیں جو عند العقل کچھ بعید نہیں ہیں تو پھر ایسا ہی حضرت عیسیٰ کے آنے کی پیشگوئی کے معنے کرنے چاہئیں کیونکہ اگر گذشتہ یہودیوں کا ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں زندہ ہوجانا یا اگر بطریق
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 330
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 330
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/330/mode/1up
تناسخ کے اُن کی رُوحیں پھر آجانا طریق معقول کے برخلاف ہے تو حضرت مسیح کی نسبت کیونکر دوبارہ دنیا میں آنا تجویز کیاجاتاہے جن کی وفات پر آیت3333 ۱؂ بلند آواز سے شہادت دے رہی ہے کیا یہودیوں کی رُوحوں کا دوبار ہ دُنیا میں آنا خدا تعالیٰ کی قدرت سے بعید اور نیز طریق معقول کے برخلاف لیکن حضرت عیسیٰ کا بجسدہ العنصری پھر زمین پر آجانا بہت معقول ہے ۔پھر اگر نصوص بیّنہ صریحہ قرآنیہ کو بباعث استبعاد ظاہری معنوں کے مؤوّل کر کے طریق صرف عن الظاہر اختیار کیاجاتا ہے تو پھر کیا وجہ کہ نصوص احادیثیہ کا صرف عن الظاہر جائز نہیں کیا احادیث کی قرآن کریم سے کوئی اعلیٰ شان ہے کہ تا ہمیشہ احادیث کے بیان کو گو کیسا ہی بعید از عقل ہو ظاہر الفاظ پر قبول کیا جائے اور قرآ ن میں تاویلات بھی کی جائیں۔ پھر ہم اصل کلام کی طرف رجوع کرکے لکھتے ہیں کہ بعض صاحب آیت 3333 ۲ ؂ کی عمومیت سے انکارکر کے کہتے ہیں کہمنکم سے صحابہ ہی مرادہیں اور خلافتِ راشدہ حقہ انہیں کے زمانہ تک ختم ہو گئی اور پھر قیامت تک اسلام میں اس خلافت کا نام و نشان نہیں ہو گا ۔ گویا ایک خوا ب وخیال کی طرح اس خلافت کاصرف تیس۳۰ برس ہی دَورتھا اورپھر ہمیشہ کیلئے اسلام ایک لازوال نحوست میں پڑگیا مگرمَیں پُوچھتا ہوں کہ کیا کسی نیک دل انسان کی ایسی رائے ہوسکتی ہے کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت تو یہ اعتقاد رکھے کہ بلاشبہ ان کی شریعت کی برکت اور خلافت راشدہ کا زمانہ برابر چود ہ سو برس تک رہا لیکن وہ نبی جو افضل الرسل اور خیر الانبیاء کہلاتا ہے اور جس کی شریعت کا دامن قیامت تک ممتدہے اس کی برکات گویا اس کے زمانہ تک ہی محدود رہیں اور خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ کچھ بہت مدت تک اس کی برکات کے نمونے اس کے رُوحانی خلیفوں کے ذریعہ سے ظاہر ہوں ایسی باتوں کو سُن کر تو ہمارا بدنؔ کانپ جاتا ہے مگر افسو س کہ وہ لوگ بھی مسلمان ہی کہلاتے ہیں کہ جو سراسر چالاکی اور بیباکی کی راہ سے ایسے بے ادبانہ الفاظ منہ پر لے آتے ہیں کہ گویا اسلام کی برکات آگے نہیں بلکہ مُدّت ہوئی کہ اُن کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 331
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 331
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/331/mode/1up
ماسوا س کے منکم کے لفظ سے یہ استدلال پَیداکرنا کہ چونکہ خطاب صحابہ سے ہے اس لئے یہ خلافت صحابہ تک ہی محدود ہے عجیب عقلمندی ہے اگر اسی طرح قرآن کی تفسیر ہو تو پھر یہودیوں سے بھی آگے بڑھ کر قدم رکھنا ہے۔ اب واضح ہو کہ منکم کالفظ قرآن کریم میں قریبًا بیا۸۲سی جگہ آیا ہے اور بجُز دویاتین جگہ کے جہاں کوئی خاص قرینہ قائم کیا گیا ہے باقی تمام مواضع میں منکم کے خطاب سے وہ تمام مسلمان مُراد ہیں جو قیامت تک پَیدا ہوتے رہیں گے۔
اب نمونہ کے طور پر چند وہ آیتیں ہم لکھتے ہیں جن میں منکمکا لفظ پایاجاتاہے۔
(۱) 333 ۱؂ یعنی جو تم میں سے مریض یا سفر پر ہو تو اتنے ہی روزے اور رکھ لے ۔ اب سوچو کہ کیا یہ حکم صحابہ سے ہی خاص تھا یا اس میں اور بھی مسلمان جو قیامت تک پَیداہوتے رہیں گے شامل ہیں ایسا ہی نیچے کی آیتوں پر بھی غور کرو۔
(۲) 333۲؂ یعنی یہ اُس کو وعظ کیا جاتا ہے جو تم میں سے اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے۔
(۳)33 ۳؂ یعنی تم میں سے جو جو روئیں چھوڑ کر فوت ہو جائیں
(۴) 333۴؂ یعنی تم میں سے ایسے لوگ ہونے چاہئیں جونیکی کی دعوت کریں اور امر معروف اورنہی منکر اپنا طریق رکھیں۔
(۵)33 ۵؂ مَیں تم میں سے کسی عامل کا عمل ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مرد ہوخواہ عورت ہو۔
(۶) 333۶؂ ناجائز طور پر ایک ؔ دوسرے کے مال مت کھاؤ مگر باہم رضامندی کی تجارت سے۔
(۷)33333۷؂ یعنی اگر تم مریض ہو یا سفر پر یا پاخانہ سے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 332
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 332
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/332/mode/1up
آؤ یا عورتوں سے مباشرت کرو اور پانی نہ ملے تو ان سب صورتوں میں پاک مٹی سے تیمّم کرلو۔
(۸) 33 ۱؂ یعنی اللہ اور رسول اور اپنے بادشاہوں کی تابعداری کرو۔
(۹) 333 ۲؂
یعنی جو شخص تم میں سے بوجہ اپنی جہالت کے کوئی بدی کرے او رپھر توبہ کرے اور نیک کاموں میں مشغول ہو جائے پس اللہ غفور رحیم ہے۔
(۱۰)333333 ۳؂ یعنی جو شخص تم میں سے ایسا کام کرے دُنیا کی زندگی میں اُس کو رسوائی ہو گی اورقیامت کو اُس کے لئے سخت عذاب ہے۔
(۱۱)3 ۴؂ یعنی تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو دوزخ میں وارد نہ ہو۔
( ۱۲)33 ۵؂ یعنی ہم اُن لوگوں کو جانتے ہیں جو تم میں سے آگے بڑھنے والے ہیں اور جو پیچھے رہنے والے ہیں۔
اب ان تمام مقامات کو دیکھو کہ منکم کا لفظ تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے خواہ اس وقت موجود تھے خواہ بعد میں قیامت تک آتے جائیں ایسا ہی تمام دوسرے مقامات میں بجُز دو تین موضعوں کے عام طور پر استعمال ہوا ہے اور تمام احکام میں بظاہر صورت مخاطب صحابہ ہی ہیں لیکن تخصیص صحابہ بجز قیام قرینہ کے جائز نہیں۔ ورنہ ہر یک فاسق عذر کر سکتا ہے کہ صوم اور صلٰوۃ اور حج اور تقویٰ اورطہارت اورؔ اجتناب عن المعاصی کے متعلق جس قدر احکام ہیں ان احکام کے مخاطب صرف صحابہ ہی تھے اِس لئے ہمیں نماز روزہ وغیرہ کی پابندی لازم نہیں اور ظاہر ہے کہ ایسے کلمات بجز ایک زندیق کے اور کوئی خدا ترس آدمی زبان پر نہیں لا سکتا۔
اگر کسی کے دِل میں یہ خیال گذرے کہ اگر آیت وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فائدہ عموم کا
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 333
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 333
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/333/mode/1up
دیتی ہے یعنی مقصود اصلی تعمیم تھی نہ تخصیص ۔ تو پھر منکم کا لفظ اس جگہ کیوں زیادہ کیا گیا۔ اور اس کی زیادت کی ضرورت ہی کیا تھی صرف اس قدر فرمایا ہوتا کہ3333 ۱؂ تو اس کا جوا ب یہ ہے کہ یہ وعدہ ان ایمانداروں اور نیکو کاروں کے مقابل پر تھا جو اس اُمت سے پہلے گذر چکے ہیں پس گویا تفصیل اِس آیت کی یُوں ہے کہ خدا تعالیٰ نے تم سے پہلے ان لوگوں کو رُوئے زمین پر خلیفے مقرر کیا تھا جو ایماندار اور صالح تھے اور اپنے ایمان کے ساتھ اعمال صالح جمع رکھتے تھے اور خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے کہ تم میں سے بھی اے مسلمانو ایسے لوگوں کو جو انہیں صفات حسنہ سے موصوف ہوں اور ایمان کے ساتھ اعمال صالح جمع رکھتے ہوں خلیفے کرے گا پس منکم کا لفظ زائد نہیں بلکہ اس سے غرض یہ ہے کہ تا اسلام کے ایمانداروں اور نیکوکاروں کی طرف اشارہ کرے کیونکہ جبکہ نیکو کار اور ایماندار کا لفظ اِس آیت میں پہلی امتوں اوراِس اُمت کے ایمانداروں اور نیکوکاروں پر برابر حاوی تھا پھر اگر کوئی تخصیص کا لفظ نہ ہوتا تو عبارت رکیک اور مبہم اور دُور از فصاحت ہوتی اور منکم کے لفظ سے یہ جتانا بھی منظور ہے کہ پہلے بھی وُہی لوگ خلیفے مقرر کئے گئے تھے کہ جو ایماندار اور نیکو کار تھے اور تم میں سے بھی ایماندار اور نیکو کار ہی مقرر کئے جائیں گے۔اَب اگر آنکھیں دیکھنے کی ہوں تو عام معنی کی رُو سے منکم کے لفظ کا زائد ہونا کہاں لازم آتا ہے اور تکرارکلام کیونکر ہے جبکہ ایمان اور عمل صالح اِسی اُمت سے شروع نہیں ہؤا پہلے بھی مومن اور نیکو کار گذرے ہیں تو اِس صورت میں تمیز کامل بجُز منکم کے لفظ کے کیونکر ہو سکتی تھی۔ اگر صرف اِس قدر ہوتا کہ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ تو کچھ معلوم نہ ہو سکتا تھا کہ یہ کن ایمانداروں کا ذکر ہے آیا اس اُمت کے ایماندار یا ؔ گذشتہ امتوں کے اور اگر صرف منکم ہوتا او راَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْاوَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ نہ ہوتا تو یہ سمجھاجاتا کہ فاسق اور بدکار لوگ بھی خدا تعالیٰ کے خلیفے ہو سکتے ہیں حالانکہ فاسقوں کی بادشاہت اور حکومت بطور ابتلا کے ہے نہ بطور اصطفا کے اور خدا تعالیٰ کے حقانی خلیفے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 334
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 334
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/334/mode/1up
خواہ وہ رُوحانی خلیفے ہوں یا ظاہری وہی لوگ ہیں جو متقی اور ایماندار اور نیکو کار ہیں۔
اور یہ وہم کہ عام معنوں کی رُو سے ان آیات کی اخیر کی آیت یعنی333 ۱؂ بالکل بے معنی ٹھہر جاتی ہے ایسا بیہودہ خیال ہے جو اس پر ہنسی آتی ہے کیونکہ آیت کے صاف اور سیدھے یہ معنی ہیں کہ اللہ جلّ شانہ‘ خلیفوں کے پَیدا ہونے کی خوشخبری دے کر پھر باغیوں اور نافرمانوں کو دھمکی دیتا ہے کہ بعد خلیفوں کے پَیدا ہونے کے جب وہ وقتًا فوقتًا پَیدا ہوں اگر کوئی بغاوت اختیار کرے اور ان کی اطاعت اور بیعت سے مُنہ پھیرے تو وُہ فاسق ہے۔ اب نادرستی معنوں کی کہاں ہے اور واضح ہو کہ اس آیت کریمہ سے وہ حدیث مطابق ہے جو پیغمبر خد ا صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ من لم یعرف امام زمانہٖ فقد مات میتۃ الجاھلیۃ۔ جس شخص نے اپنے زمانہ کے امام کو شناخت نہ کیا وہ جاہلیّت کی موت پرمر گیا یعنی جیسے جیسے ہر یک زمانہ میں امام پَیدا ہوں گے اور جو لوگ اُن کو شناخت نہیں کریں گے تو ان کی موت کفارکی موت کے مشابہ ہو گی اور معترض صاحب کا اس آیت کو پیش کرناکہ33333۲؂ اور اِس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ منکم کا لفظ اِس جگہ خصوصیت کے ساتھ حاضرین کے حق میں آیا ہے ایک بے فائدہ بات ہے کیونکہ ہم لکھ چکے ہیں کہ قرآن کریم کا عام محاورہ جس سے تمام قرآن بھر اپڑا ہے یہی ہے کہ خطاب عام ہوتا ہے اور احکام خطابیہ تمام امت کے لئے ہوتے ہیں نہ صرف صحابہ کے لئے۔ ہاں جس جگہ کوئی صریح اور صاف قرینہ تحدید خطاب کا ہو وہ جگہ مستثنیٰ ہے چنانچہ آیت موصوفہ بالا میں خاص حواریوں کے ایک طائفہ نے نزول مائدہ کی درخواست کی اُسی طائفہ کومخاطب کر کے جواب ملا۔ سو یہ قرینہ کافی ہے کہ سوالؔ بھی اسی طائفہ کا تھا اور جواب بھی اسی کو ملا اور یہ کہنا کہ اس کی مثالیں کثرت سے قرآن میں ہیں بالکل جُھوٹ اور دھوکا دینا ہے ۔ قرآن میں بیاسی کے قریب لفظ منکم ہے اور چھ سو کے قریب اور اور صورتوں میں خطاب ہے لیکن تمام خطابات احکامیہ وغیرہ میں تعمیم ہے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 335
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 335
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/335/mode/1up
اگر قرآن کے خطابات صحابہ تک ہی محدود ہوتے تو صحابہ کے فوت ہو جانے کے ساتھ قرآن باطل ہو جاتا اور آیت متنازعہ فیہا جو خلافت کے متعلق ہے درحقیقت اس آیت سے مشابہ ہے 3 ۱؂ کیا یہ بشریٰ صحابہ سے ہی خاص تھا یا کسی اور کو بھی اس سے حصہ ہے ۔اور معترض کا یہ کہنا کہ جو شخص اصلی معنوں سے جو خصوصیت مخاطبین ہے عدول کرکے اس کے معنے عموم لیوے اس کا ذمہ ہے کہ وہ دلیل یقینی سے اپنے عدول کو ثابت کرے اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ نہ صرف معترض کو قرآن کریم سے بلکہ تمام الٰہی کتابوں کے اسلوب کلام سے کچھ بھی خبر نہیں مشکل یہ ہے کہ اکثر شتاب کار لوگ قبل اس کے جو پورے طور پر خوض کریں اعتراض کرنے کو طیار ہوجاتے ہیں۔ اگر معترض صاحب کو صحیح نیت سے تحقیق کا شوق تھا تو وہ تمام ایسے موقعہ جہاں بظاہر نظر صحابہ مخاطب ہیں جمع کرکے دیکھتے کہ اکثر اغلب اور بلا قیام قرینہ قرآن شریف میں کیا محاورہ ہے کیونکہ یہ صاف ظاہر ہے کہ جو اکثر اغلب محاورہ ثابت ہوگا اسی کے موافق اصلی معنی ٹھہریں گے اور ان سے عدول کرنا بغیر قیام قرینہ جائز نہیں ہوگا۔ اب ظاہر ہو کہ اصل محاورہ قرآن کریم کا خطاب حاضرین میں عموم ہے اور قرآن کا چھ۶۰۰ سو حکم اسی بناء پر عام سمجھا جاتا ہے نہ یہ کہ صحابہ تک محدود سمجھا جائے پھر جو شخص عام محاورہ سے عدول کرکے کسی حکم کو صحابہ تک ہی محدود رکھے اس کے ذمہ یہ بار ثبوت ہوگا کہ قرائن قویہ سے یہ ثابت کرے کہ یہ خطاب صحابہ سے ہی خاص ہے اور دوسرے لوگ اس سے باہر ہیں مثلاً اللہ جلّ شانہٗ قرآن کریم میں بظاہر صحابہ کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تم صرف خدا کی۱ بندگی کرو اور صبر۲ اور صلٰوۃ کے ساتھ مدد چاہو اور پاک۳ چیزوں میں سے کھاؤ اور کسی قسم کا فساد۴ مت کرو۔ اور تم زکٰو۵ۃ اور نما۶ز کو قائم کرو اور مقام ابرا۷ہیم سے جائے نماز ٹھہراؤ۔ اور خیرا۸ت میں ایک دوسرے سے سبقت کرو اور مجھ کو یاد کرومیں۹ تم کو یاد کروں گا۔ اور میرا شکرؔ ۱۰ کرو۔ اور مجھ ۱۱ سے دعا مانگو اور جو لوگ۲۱ خدا کی راہ میں شہید ہوں ان کو مردے مت کہو اور جو تم کو سلام۱۳ علیکم کرے اس کا نام کافر اور بے ایمان نہ رکھو۔ پاک ۱۴ چیزیں زمین کی پیداوار میں سے کھاؤ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 336
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 336
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/336/mode/1up
اور شیطان ۵ ۱ کی پیروی نہ کرو ۔تم پر روزے۱۶ فرض کئے گئے ہیں مگر جو تم میں سے بیمار یا سفر پر ہو وہ اتنے روزے ۷ ۱ پھر رکھے- تم ایک دوسرے کے مال ۱۸ کو ناحق کے طور پر مت کھاؤ اور تم تقو۱۹یٰ اختیار کرو تا فلاح پاؤ اور تم خدا کی راہ ۰ ۲ میں ان سے جو تم سے لڑیں لڑو لیکن حدسے مت ۱ ۲ بڑھاؤ اور کوئی زیادتی مت۲ ۲ کرو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور تم خدا ۳ ۲ کی راہ میں خرچ کرو اور دانستہ۴ ۲ اپنے تئیں ہلاکت میں مت ڈالو۔ اور لوگوں سے احسان۵ ۲ کروکہ خدا محسنین کو دوست رکھتا ہے اور حج ۶۲ اور عمرہ کو اللہ کے واسطے پورا کرو اور اپنے پاس توشہ ۲۷ رکھو کہ توشہ میں یہ فائدہ ہے کہ تم کسی دوسرے سے سوال نہیں کرو گے یعنی سوال ایک ذلت ہے اس سے بچنے کے لئے تدبیر کرنی چاہئے اور تم صلح ۸ ۲ اور اسلام میں داخل ہو۔ اور مشرکات ۹ ۲ سے نکاح مت کرو جب تک ایمان نہ لاویں اور مشرکین ۰ ۳سے اے عورتو تم نکاح مت کرو جب تک ایمان نہ لاویں اور اپنے۳۱ نفسوں کے لئے کچھ آگے بھیجو اور خدا ۳۲ تعالیٰ کو اپنی قسموں کا عرضہ مت بناؤ اور عورتوں ۳۳ کو دکھ دینے کی غرض سے بند مت رکھو اور ۴ ۳ جو لوگ تم میں سے فوت ہو جائیں اور جوروئیں رہ جائیں تو وہ چار مہینے اور دس دن نکاح کرنے سے رکی رہیں۔ اگر تم طلاق ۳۵ دو تو عورتوں کو احسان کے ساتھ رخصت کرو۔ اگر تمہیں خوف ۶ ۳ ہو تو نماز پیرو ں سے چلتے چلتے یا سوار ہونے کی حالت میں پڑھ لو۔ اگر اپنے صدقات ۷ ۳ لوگوں کو دکھلا کے دو تو یہ عموماً اچھی بات ہے کہ تا لوگ تمہارے نیک کاموں کی پیروی کریں اور اگر چھپا کر محتاجوں کو دو تو یہ تمہارے نفسوں کے لئے بہتر ہے جب ۸ ۳ تم کسی کو قرضہ دو تو ایک نوشت لکھا لو اور قرض ۹ ۳ ادا کرنے میں خدا سے ڈرو اور کچھ باقی مت رکھو اور جب۰ ۴ تم کوئی خرید و فروخت کرو تو اس پر گواہ رکھ لو۔ اور اگر تم سفر ۱ ۴ میں ہو اور کوئی کاتب نہ ملے تو کوئی جائیداد قبضہ میں کرلو۔ تم سب ۲ ۴ مل کر خدا کی رسی سے پنجہ مارو اور باہم پھوٹ مت ڈالو۔ تم میں سے ایسے ۳ ۴ بھی ہونے چاہئیں کہ جو امر معروف اور نہی منکر کریں۔ تم خدا ۴ ۴ کی مغفرت کی طرف دوڑو اورؔ اگر تم میں سے کسی کی بیوی ۵ ۴ فوت ہو جائے تو وہ اس کی جائداد میں سے نصف کا مالک ہے بشرطیکہ اس کی کچھ اولاد نہ ہو اور اگر اولاد۶ ۴ ہو تو پھر اس کو چہارم حصہ جائداد بعد عمل بر وصیت پہنچے گا۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 337
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 337
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/337/mode/1up
یہ چند احکام بطور نمونہ ہم نے لکھے ہیں اس میں ایک تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی سوچ سکتا ہے کہ بظاہر یہ تمام خطاب صحابہ کی طرف ہے لیکن درحقیقت تمام مسلمان ان احکام پر عمل کرنے کیلئے مامور ہیں نہ یہ کہ صرف صحابہ مامور ہیں وبس۔ غرض قرآن کا اصلی اور حقیقی اسلوب جس سے سارا قرآن بھرا پڑا ہے یہ ہے کہ اس کے خطاب کے مورد حقیقی اور واقعی طورپر تمام وہ مسلمان ہیں جو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے گو بظاہر صورت خطاب صحابہ کی طرف راجع معلوم ہوتا ہے پس جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ یہ وعدہ یا وعید صحابہ تک ہی محدود ہے وہ قرآن کے عام محاورہ سے عدول کرتا ہے اور جب تک پورا ثبوت اس دعویٰ کا پیش نہ کرے تب تک وہ ایسے طریق کے اختیار کرنے میں ایک ملحد ہے کیا قرآن صرف صحابہ کے واسطے ہی نازل ہوا تھا۔ اگر قرآن کے وعد اور وعید اور تمام احکام صحابہ تک ہی محدود ہیں تو گویا جو بعد میں پیدا ہوئے وہ قرآن سے بکلی بے تعلق ہیں۔ نعوذ باللّٰہ من ھذہ الخرافات۔
اور یہ کہنا کہ حدیث میں آیا ہے کہ خلافت تیس سال تک ہوگی عجیب فہم ہے جس حالت میں قرآن کریم بیان فرماتا ہے کہ 3۔3 ۱؂ تو پھر اس کے مقابل پر کوئی حدیث پیش کرنا اور اس کے معنی مخالف قرآن قرار دینا معلوم نہیں کہ کس قسم کی سمجھ ہے اگر حدیث کے بیان پر اعتبار ہے تو پہلے ان حدیثوں پر عمل کرنا چاہیئے جو صحت اور وثوق میں اس حدیث پر کئی درجہ بڑھی ہوئی ہیں مثلاً صحیح بخاری کی وہ حدیثیں جن میں آخری زمانہ میں بعض خلیفوں کی نسبت خبر دی گئی ہے خاص کر وہ خلیفہ جس کی نسبت بخاری میں لکھا ہے کہ آسمان سے اس کے لیے آواز آئے گی ھذا خلیفۃ اللّٰہ المھدی اب سوچو کہ یہ حدیث کس پایہ اور مرتبہ کی ہے جو ایسی کتاب میں درج ہے جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے لیکن وہ حدیث جو معترض صاحب نے پیش کی علماء کو اس میں کئی طرح کا جرح ہے اور اس کی صحت میں کلام ہے کیا معترض نے غور نہیں کی کہ جو آخری زمانہ کی نسبت بعضؔ خلیفوں کے ظہور کی خبریں دی گئی ہیں کہ حارث آئے گا۔ مہدی آئے گا۔ آسمانی خلیفہ آئے گا۔ یہ خبریں حدیثوں میں ہیں یا کسی اور کتاب میں۔ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ زمانے تین ہیں۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 338
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 338
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/338/mode/1up
اول خلافت راشدہ کا زمانہ پھر فیج اعوج جس میں ملک عضوض ہوں گے اور بعد اس کے آخری زمانہ جو زمانہ نبوت کے نہج پر ہوگا۔ یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا اول زمانہ اور پھر آخری زمانہ باہم بہت ہی متشابہ ہیں اور یہ دونوں زمانے اس بارش کی طرح ہیں جو ایسی خیر و برکت سے بھری ہوئی ہو کہ کچھ معلوم نہیں کہ برکت اس کے پہلے حصہ میں زیادہ ہے یا پچھلے میں۔
اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ اللہ جلّ شانہٗ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ33 ۱؂ یعنی ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے۔ اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی تعلیم کو تازہ رکھنے والے اور اس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کے وجود کا فائدہ کیا ہے جس فائدہ کے وجود پر اس کی حقیقی حفاظت موقوف ہے تو اس دوسری آیت سے ظاہر ہے۔ 3333۲ ؂ اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔
ایک حکمت فرقان یعنی معارف و دقائق قرآن دوسری تاثیر قرآن جو موجب تزکیہ نفوس ہے اور قرآن کی حفاظت صرف اسی قدر نہیں جو اس کے صحف مکتوبہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاریٰ نے بھی کئے یہاں تک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری حفاظت فوائد و تاثیرات قرآنی مراد ہے اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہوسکتی ہے کہ جب وقتاً فوقتاً نائب رسول آویں جن میں ظلی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جن کو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دی جاتی ہوں جیسا کہ ان آیات میں اسی امر عظیم کی طرف اشارہ ہے اورؔ وہ یہ ہے 33333
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 339
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 339
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/339/mode/1up
پس یہ آیت درحقیقت اس دوسری آیت33۲؂ کے لئے بطور تفسیر کے واقعہ ہے اور اس سوال کا جواب دے رہی ہے کہ حفاظت قرآن کیونکر اور کس طور سے ہوگی سو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس نبی کریم کے خلیفے وقتاً فوقتاً بھیجتا رہوں گا اور خلیفہ کے لفظ کو اس اشارہ کے لئے اختیار کیا گیا کہ وہ نبی کے جانشین ہوں گے اور اس کی برکتوں میں سے حصہ پائیں گے جیسا کہ پہلے زمانوں میں ہوتا رہا۔ اور ان کے ہاتھ سے برجائی دین کی ہوگی اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا یعنی ایسے وقتوں میں آئیں گے کہ جب اسلام تفرقہ میں پڑا ہوگا پھر ان کے آنے کے بعد جو اُن سے سرکش رہے گا وہی لوگ بدکار اور فاسق ہیں۔ یہ اس بات کا جواب ہے کہ بعض جاہل کہا کرتے ہیں کہ کیا ہم پر اولیاء کا ماننا فرض ہے سو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بیشک فرض ہے اور ان سے مخالفت کرنے والے فاسق ہیں اگر مخالفت پر ہی مریں-
اس جگہ معترض صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ خداتعالیٰ فرماتا ہے کہ333۳؂ اور پھر اعتراض کیاہے کہ جب کہ دین کمال کو پہنچ چکا ہے اور نعمت پوری ہوچکی تو پھر نہ کسی مجدد کی ضرورت ہے نہ کسی نبی کی مگر افسوس کہ معترض نے ایسا خیال کرکے خود قرآن کریم پر اعتراض کیا ہے کیونکہ قرآن کریم نے اس امت میں خلیفوں کے پیدا ہونے کا وعدہ کیا ہے جیسا کہ ابھی گذر چکا ہے اور فرمایا ہے کہ ان کے وقتوں میں دین استحکام پکڑے گا اور تزلزل اور تذبذب دور ہوگا۔ اور خوف کے بعد امن پیدا ہوگا پھر اگر تکمیل دین کے بعد کوئی بھی کارروائی درست نہیں تو بقول معترض کے جو تیس سال کی خلافت ہے وہ بھی باطل ٹھہرتی ہے کیونکہ جب دین کامل ہوچکا تو پھر کسی دوسرے کی ضرورت نہیںؔ ۔ لیکن افسوس کہ معترض بے خبر نے ناحق آیت اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیَْنَکُمْ کو پیش کردیا۔ ہم کب کہتے ہیں کہ مجدد اور محدث دنیا میں آکر دین میں سے کچھ کم کرتے ہیں یا زیادہ کرتے ہیں بلکہ ہمارا تو یہ قول ہے کہ ایک زمانہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 340
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 340
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/340/mode/1up
گذرنے کے بعد جب پاک تعلیم پرخیالات فاسدہ کا ایک غبار پڑ جاتا ہے اور حق خالص کا چہرہ چھپ جاتا ہے۔ تب اس خوبصورت چہرہ کو دکھلانے کے لئے مجدد اور محدث اور روحانی خلیفے آتے ہیں نہ معلوم کہ بے چارہ معترض نے کہاں سے اور کس سے سن لیا کہ مجدد اور روحانی خلیفے دنیا میں آکر دین کی کچھ ترمیم و تنسیخ کرتے ہیں۔ نہیں وہ دین کو منسوخ کرنے نہیں آتے بلکہ دین کی چمک اور روشنی دکھانے کو آتے ہیں اور معترض کا یہ خیال کہ ان کی ضرورت ہی کیا ہے صرف اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ معترض کو اپنے دین کی پرواہ نہیں اور کبھی اس نے غور نہیں کی کہ اسلام کیا چیز ہے اور اسلام کی ترقی کس کو کہتے ہیں اور حقیقی ترقی کیونکر اور کن راہوں سے ہوسکتی ہے اور کس حالت میں کسی کو کہا جاتا ہے کہ وہ حقیقی طور پر مسلمان ہے یہی وجہ ہے کہ معترض صاحب اس بات کو کافی سمجھتے ہیں کہ قرآن موجود ہے اور علماء موجود ہیں اور خود بخود اکثر لوگوں کے دلوں کو اسلام کی طرف حرکت ہے پھر کسی مجدد کی کیا ضرورت ہے لیکن افسوس کہ معترض کو یہ سمجھ نہیں کہ مجددوں اور روحانی خلیفوں کی اس امت میں ایسے ہی طور سے ضرورت ہے جیسا کہ قدیم سے انبیاء کی ضرورت پیش آتی رہی ہے اس سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نبی مرسل تھے اور ان کی توریت بنی اسرائیل کی تعلیم کے لئے کامل تھی اور جس طرح قرآن کریم میں آیت 3ہے اسی طرح توریت میں بھی آیات ہیں جن کا مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو ایک کامل اور جلالی کتاب دی گئی ہے جس کا نام توریت ہے چنانچہ قرآن کریم میں بھی توریت کی یہی تعریف ہے لیکن باوجود اس کے بعد توریت کے صدہا ایسے نبی بنی اسرائیل میں سے آئے کہ کوئی نئی کتاب ان کے ساتھ نہیں تھی بلکہ ان انبیاء کے ظہور کے مطالب یہ ہوتے تھے کہ تا ان کے موجودہ زمانہ میں جو لوگ تعلیم توریت سے دور پڑ گئے ہوں پھر ان کو توریت کے اصلی منشاء کی طرف کھینچیں اور جن کے دلوں میں کچھ شکوک اور دہریت اور بے ایمانی ہو گئی ہو ان کو پھر زندہ ایمان بخشیں چنانچہ اللہؔ جلّ شانہٗ خود قرآن کریم میں فرماتا ہے 33 ۱؂ یعنی موسیٰ کو ہم نے توریت دی اور پھر اس کتاب کے بعد ہم نے کئی پیغمبر بھیجے تا توریت کی تعلیم کی تائید اور تصدیق کریں اسی طرح دوسری جگہ فرماتا ہے 3
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 341
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 341
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/341/mode/1up
3 ۱؂ یعنی پھر پیچھے سے ہم نے اپنے رسول پے در پے بھیجے۔ پس ان تمام آیات سے ظاہر ہے کہ عادت اللہ یہی ہے کہ وہ اپنی کتاب بھیج کر پھر اس کی تائید اور تصدیق کے لئے ضرور انبیاء بھیجا کرتا ہے چنانچہ توریت کی تائید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی آیا جن کے آنے پر اب تک بائبل شہادت دے رہی ہے۔
اس کثرت ارسال رسل میں اصل بھید یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عہد موکد ہوچکا ہے کہ جو اس کی سچی کتاب کا انکار کرے تو اس کی سزا دائمی جہنم ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے 33 ۲؂ یعنی جو لوگ کافر ہوئے اور ہماری آیتوں کی تکذیب کی وہ جہنمی ہیں اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
اب جب کہ سزائے انکار کتاب الٰہی میں ایسی سخت تھی اور دوسری طرف یہ مسئلہ نبوت اور وحی الٰہی کا نہایت دقیق تھا بلکہ خود خدا تعالیٰ کا وجود بھی ایسا دقیق در دقیق تھا کہ جب تک انسان کی آنکھ خدا داد نور سے منور نہ ہو ہرگز ممکن نہ تھا کہ سچی اور پاک معرفت اس کی حاصل ہوسکے چہ جائیکہ اس کے رسولوں کی معرفت اور اسکی کتاب کی معرفت حاصل ہو۔ اس لئے رحمانیت الٰہی نے تقاضا کیا کہ اندھی اور نابینا مخلوق کی بہت ہی مدد کی جائے اور صرف اس پر اکتفا نہ کیا جائے کہ ایک مرتبہ رسول اور کتاب بھیج کر پھر باوجود امتدادازمنہ طویلہ کے ان عقائد کے انکار کی وجہ سے جن کو بعد میں آنے والے زیادہ اس سے سمجھ نہیں سکتے کہ وہ ایک پاک اور عمدہ منقولات ہیں ہمیشہ کی جہنم میں منکروں کو ڈال دیا جائے اور درحقیقت سوچنے والے کے لئے یہ بات نہایت صاف اور روشن ہے کہ وہ خدا جس کا نام رحمن اور رحیم ہے اتنی بڑی سزا دینے کے لئے کیونکر یہ قانون اختیار کرسکتا ہے کہ بغیر پورے طور پر اتمام حجت کے مختلف بلاد کے ایسے لوگوںؔ کو جنہوں نے صدہا برسوں کے بعد قرآن اور رسول کا نام سنا اور پھر وہ عربی سمجھ نہیں سکتے۔ قرآن کی خوبیوں کو دیکھ نہیں سکتے دائمی جہنم میں ڈال دے اور کس انسان کی کانشنس اس بات کو قبول کر سکتی ہے کہ بغیر اس کے کہ قرآن کریم کا منجاب اللہ ہونا اس پر ثابت کیا جائے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 342
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 342
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/342/mode/1up
یوں ہی اس پر چھری پھیر دی جائے پس یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے دائمی خلیفوں کا وعدہ دیا تا وہ ظلی طور پر انوار نبوت پاکر دنیا کو ملزم کریں اور قرآن کریم کی خوبیاں اور اس کی پاک برکات لوگوں کو دکھلاویں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ہریک زمانہ کے لئے اتمام حجت بھی مختلف رنگوں سے ہوا کرتا ہے اور مجدد وقت ان قوتوں اور ملکوں اور کمالات کے ساتھ آتا ہے جو موجودہ مفاسد کا اصلاح پانا ان کمالات پر موقوف ہوتا ہے سو ہمیشہ خدا تعالیٰ اسی طرح کرتا رہے گا جب تک کہ اس کو منظور ہے کہ آثار رشد اور اصلاح کے دنیا میں باقی رہیں اور یہ باتیں بے ثبوت نہیں بلکہ نظائر متواترہ اس کے شاہد ہیں اور مختلف بلاد کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو چھوڑ کر اگر صرف بنی اسرائیل کے نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں پر ہی نظر ڈالی جائے تو ان کی کتابوں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چودہ۱۴۰۰ سو برس کے عرصہ میں یعنی حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح تک ہزارہا نبی اور محدث ان میں پیدا ہوئے کہ جو خادموں کی طرح کمر بستہ ہوکر توریت کی خدمت میں مصروف رہے۔ چنانچہ ان تمام بیانات پر قرآن شاہد ہے اور بائیبل شہادت دے رہی ہے اور وہ نبی کوئی نئی کتاب نہیں لاتے تھے کوئی نیا دین نہیں سکھاتے تھے صرف توریت کے خادم تھے اور جب بنی اسرائیل میں دہریت اور بے ایمانی اور بدچلنی اور سنگدلی پھیل جاتی تھی تو ایسے وقتوں میں وہ ظہور کرتے تھے۔ اب کوئی سوچنے والا سوچے کہ جس حالت میں موسیٰؑ کی ایک محدود شریعت کے لئے جو زمین کی تمام قوموں کیلئے نہیں تھی اور نہ قیامت تک اس کا دامن پھیلا ہوا تھا خدا تعالیٰ نے یہ احتیاطیں کیں کہ ہزارہا نبی اس شریعت کی تجدید کیلئے بھیجے اور بارہا آنے والے نبیوں نے ایسے نشان دکھلائے کہ گویا بنی اسرائیل نے نئے سرے خدا کو دیکھ لیا تو پھر یہ امت جو خیرالا مم کہلاتی ہے اور خیر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن سے لٹک رہی ہے کیونکر ایسی بدقسمت سمجھی جائے کہ خدا تعالیٰ نے صرف ؔ تیس برس اس کی طرف نظر رحمت کر کے اور آسمانی انوار دکھلا کر پھر اس سے منہ پھیر لیا اور پھر اس امت پر اپنے نبی کریم کی مفارقت میں صدہا برس گذرے اور ہزارہا طور کے فتنے پڑے اور بڑے بڑے زلزلے آئے اور انواع و اقسام کی دجالیت پھیلی اور ایک جہان نے دین متین پر
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 343
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 343
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/343/mode/1up
حملے کئے اور تمام برکات اور معجزات سے انکار کیا گیا اور مقبول کونا مقبول ٹھہرایا گیا لیکن خداتعالیٰ نے پھر کبھی نظر اٹھا کر اس امت کی طرف نہ دیکھا اور اس کو کبھی اس امت پر رحم نہ آیا اور کبھی اس کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ لوگ بھی تو بنی اسرائیل کی طرح انسان ضعیف البنیان ہیں اور یہودیوں کی طرح ان کے پودے بھی آسمانی آبپاشی کے ہمیشہ محتاج ہیں کیا اس کریم خدا سے ایسا ہوسکتا ہے جس نے اس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہمیشہ کے مفاسد کے دور کرنے کے لئے بھیجا تھا کیا ہم یہ گمان کر سکتے ہیں کہ پہلی امتوں پر تو خدا تعالیٰ کا رحم تھا اس لئے اس نے توریت کو بھیج کر پھر ہزارہا رسول اور محدث توریت کی تائید کے لئے اور دلوں کو بار بار زندہ کرنے کے لئے بھیجے لیکن یہ امت مورد غضب تھی اس لئے اس نے قرآن کریم کو نازل کرکے ان سب باتوں کو بھلا دیا اور ہمیشہ کے لئے علماء کو ان کی عقل اور اجتہاد پر چھوڑ دیا اور حضرت موسیٰ کی نسبت تو صاف فرمایا333 3 3 ۱؂ یعنی خدا موسیٰ سے ہمکلام ہوا اور اس کی تائید اور تصدیق کے لئے رسول بھیجے جو مبشر اور منذر تھے تاکہ لوگوں کی کوئی حجت باقی نہ رہے اور نبیوں کا مسلسل گروہ دیکھ کر توریت پر دلی صدق سے ایمان لاویں۔ اور فرمایا333 ۲؂ یعنی ہم نے بہت سے رسول بھیجے اور بعض کا تو ہم نے ذکر کیا اور بعض کا ذکر بھی نہیں کیا لیکن دین اسلام کے طالبوں کے لئے وہ انتظام نہ کیا گویا جو رحمت اور عنایت باری حضرت موسیٰ کی قوم پر تھی وہ اس امت پر نہیں ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ ہمیشہ امتداد زمانہ کے بعد پہلے معجزات اور کرامات قصہ کے رنگ میں ہوجاتے ہیں اور پھر آنے والی نسلیں اپنے گروہ کو ہریک امر خارق عادت سے بے بہرہ دیکھ کر آخر گذشتہ معجزات کی نسبت شک پیدا کرتی ہیں پھر جس حالت میں بنی اسرائیل کے ہزارؔ ہا انبیاء کا نمونہ آنکھوں کے سامنے ہے تو اس سے اور بھی بیدلی اس امت کو پیدا ہوگی اور اپنے تئیں بدقسمت پاکر بنی اسرائیل کو رشک کی نگہہ سے دیکھیں گے یا بدخیالات میں گرفتار ہوکر ان کے قصوں کو بھی صرف افسانجات
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 344
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 344
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/344/mode/1up
خیال کریں گے اور یہ قول کہ پہلے اس سے ہزارہا انبیاء ہوچکے اور معجزات بھی بکثرت ہوئے اس لئے اس امت کوخوارق اور کرامات اور برکات کی کچھ ضرورت نہیں تھی لہٰذا خدا تعالیٰ نے ان کو سب باتوں سے محروم رکھا۔ یہ صرف کہنے کی باتیں ہیں جنہیں وہ لوگ منہ پر لاتے ہیں جن کو ایمان کی کچھ بھی پرواہ نہیں ورنہ انسان نہایت ضعیف اور ہمیشہ تقویت ایمان کا محتاج ہے اور اس راہ میں اپنے خود ساختہ دلائل کبھی کام نہیں آسکتے جب تک تازہ طور پر معلوم نہ ہو کہ خدا موجود ہے ہاں جھوٹا ایمان جو بدکاریوں کو روک نہیں سکتا نقلی اور عقلی طور پر قائم رہ سکتا ہے اور اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ دین کی تکمیل اس بات کو مستلزم نہیں جو اس کی مناسب حفاظت سے بکلی دستبردار ہو جائے مثلاً اگر کوئی گھر بنادے اور اس کے تمام کمرے سلیقہ سے طیار کرے اور اس کی تمام ضرورتیں جو عمارت کے متعلق ہیں باحسن وجہ پوری کردیوے اور پھر مدت کے بعد اندھیریاں چلیں اور بارشیں ہوں اور اس گھر کے نقش و نگار پر گردوغبار بیٹھ جاوے اور اس کی خوبصورتی چُھپ جاوے اورپھر اس کا کوئی وارث اس گھر کو صاف اور سفید کرنا چاہے مگر اس کو منع کر دیا جاوے کہ گھر تو مکمل ہو چکا ہے تو ظاہر ہے کہ یہ منع کرنا سراسر حماقت ہے افسوس کہ ایسے اعتراضات کرنے والے نہیں سوچتے کہ تکمیل شے دیگر ہے اور وقتاً فوقتاً ایک مکمل عمارت کی صفائی کرنا یہ اور بات ہے۔ یہ یادر رہے کہ مجدد لوگ دین میں کچھ کمی بیشی نہیں کرتے ہاں گمشدہ دین کو پھر دلوں میں قائم کرتے ہیں اور یہ کہنا کہ مجددوں پر ایمان لانا کچھ فرض نہیں خدا تعالیٰ کے حکم سے انحراف ہے کیونکہ وہ فرماتا ہے 333 ۱؂ یعنی بعد اس کے جو خلیفے بھیجے جائیں پھر جو شخص ان کا منکر رہے وہ فاسقوں میں سے ہے۔
اب خلاصہ اس تمام تقریر کا کسی قدر اختصار کے ساتھ ہم ذیل میں لکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دلائل مندرجہ ذیل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ بات نہایت ضروری ہے کہ بعد وفات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس ؔ امت میں فساد اور فتنوں کے وقتوں میں ایسے مصلح آتے رہیں جن کو انبیاء کے کئی کاموں میں سے یہ ایک کام سپرد ہو کہ وہ دین حق کی طرف دعوت کریں اور ہریک بدعت جو دین سے مل گئی ہو
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 345
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 345
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/345/mode/1up
اس کو دور کریں اور آسمانی روشنی پاکر دین کی صداقت ہریک پہلو سے لوگوں کو دکھلاویں اور اپنے پاک نمونہ سے لوگوں کو سچائی اور محبت اور پاکیزگی کی طرف کھینچیں اور وہ دلائل یہ ہیں۔
اول یہ کہ اس بات کو عقل ضروری تجویز کرتی ہے کہ چونکہ الٰہیات اور امور معاد کے مسائل نہایت باریک اور نظری ہیں گویا تمام امور غیر مرئی اور فوق العقل پر ایمان لانا پڑتا ہے نہ خدا تعالیٰ کبھی کسی کو نظر آیا نہ کبھی کسی نے بہشت دیکھی اور نہ دوزخ کا ملاحظہ کیا اور نہ ملائک سے ملاقات ہوئی اور علاوہ اس کے احکام الٰہی مخالف جذبات نفس ہیں اور نفس امارہ جن باتوں میں لذت پاتا ہے احکام الٰہی ان سے منع کرتے ہیں لہٰذا عندالعقل یہ بات نہ صرف احسن بلکہ واجب ہے کہ خدا تعالیٰ کے پاک نبی جو شریعت اور کتاب لے کر آتے ہیں اور اپنے نفس میں تاثیر اور قوت قدسیہ رکھتے ہیں یا تو وہ ایک لمبی عمر لے کر آویں اور ہمیشہ اور ہر صدی میں ہریک اپنی نئی امت کو اپنی ملاقات اور صحبت سے شرف بخشیں اور اپنے زیر سایہ رکھ کر اور اپنے ُ پر فیض پروں کے نیچے انکو لے کر وہ برکت اور نور اور روحانی معرفت پہنچاویں جو انہوں نے ابتداء زمانہ میں پہنچائی تھی اور اگر ایسا نہیں تو پھر ان کے وارث جو انہیں کے کمالات اپنے اندر رکھتے ہوں اور کتاب الٰہی کے دقائق اور معارف کو وحی اور الہام سے بیان کرسکتے ہوں اور منقولات کو مشہودات کے پیرایہ میں دکھلا سکتے ہوں اور طالب حق کو یقین تک پہنچا سکتے ہوں ہمیشہ فتنہ اور فساد کے وقتوں میں ضرور پیدا ہونی چاہیئے تا انسان جو مغلوب شبہات و نسیان ہے ان کے فیض حقیقی سے محروم نہ رہے۔ کیونکہ یہ بات نہایت صاف اور بدیہی ہے کہ جب زمانہ ایک نبی کا اپنے خاتمہ کو پہنچتا ہے اور اس کی برکات کے دیکھنے والے فوت ہوجاتے ہیں تو وہ تمام مشہودات منقولات کے رنگ میں آجاتے ہیں۔ پھر دوسری صدی کے لوگوں کی نظر میں اس نبی کے اخلاق اور اس نبی کے عبادات اور اس نبی کا صبر اور استقامت اور صدق اور صفا اور وفا اور تمام تائیدات الٰہیہ اور خوارق اور معجزات جن سے اس کی صحت نبوت اور صداقت دعویٰ پر استدلال ہوتے تھے نئی صدی کے لوگوں کو کچھؔ قصے سے معلوم ہوتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ انشراح ایمانی اور جوش اطاعت جو نبی کے دیکھنے والوں میں ہوتا ہے دوسروں میں وہ بات پائی نہیں جاتی اور صاف ظاہر ہے کہ جو کچھ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 346
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 346
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/346/mode/1up
صحابہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمانی صدق دکھلایا اور اپنے مالوں اور اپنی جانوں اوراپنی آبرؤں کو اسلام کی راہوں میں نہایت اخلاص سے قربان کیا اس کا نمونہ اور صدیوں میں تو کجا خود دوسری صدی کے لوگوں یعنی تابعین میں بھی نہیں پایا گیا اس کی کیا وجہ تھی؟ یہی تو تھی کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس مرد صادق کا منہ دیکھا تھا جس کے عاشق اللہ ہونے کی گواہی کفار قریش کے منہ سے بھی بے ساختہ نکل گئی اور روز کی مناجاتوں اور پیار کے سجدوں کو دیکھ کر اور فنافی الاطاعت کی حالت اور کمال محبت اور دلدادگی کے منہ پر روشن نشانیاں اور اس پاک منہ پر نور الٰہی برستا مشاہدہ کرکے کہتے تھے عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبّہٖ کہ محمد ؐ اپنے رب پر عاشق ہوگیا ہے اور پھر صحابہ نے صرف وہ صدق اور محبت اور اخلاص ہی نہیں دیکھا بلکہ اس پیار کے مقابل پر جو ہمارے سید محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے ایک دریا کی طرح جوش مارتا تھا خدا تعالیٰ کے پیار کو بھی تائیدات خارق عادت کے رنگ میں مشاہدہ کیا تب ان کو پتہ لگ گیا کہ خدا ہے اور ان کے دل بول اٹھے کہ وہ خدا اس مرد کے ساتھ ہے انہوں نے اس قدر عجائبات الٰہیہ دیکھے اور اس قدر نشان آسمانی مشاہدہ کئے کہ ان کو کچھ بھی اس بات میں شک نہ رہا کہ فی الحقیقت ایک اعلیٰ ذات موجود ہے جس کا نام خدا ہے اور جس کے قبضہ قدرت میں ہریک امر ہے اور جس کے آگے کوئی بات بھی انہونی نہیں اسی وجہ سے انہوں نے وہ کام صدق و صفا کے دکھلائے اور وہ جانفشانیاں کیں کہ انسان کبھی کر نہیں سکتا۔ جب تک اس کے تمام شک و شبہ دور نہ ہوجائیں اور انہوں نے بچشم خود دیکھ لیا کہ وہ ذات پاک اسی میں راضی ہے کہ انسان اسلام میں داخل ہو اور اس کے رسول کریم کی بدل و جان متابعت اختیار کرے تب اس حق الیقین کے بعد جو کچھ انہوں نے متابعت دکھلائی اور جو کچھ انہوں نے متابعت کے جوش سے کام کئے اور جس طرح پر اپنی جانوں کو اپنے برگزیدہ ہادی کے آگے پھینک دیا یہ وہ باتیں ہیں کہ کبھی ممکن ہی نہیں کہ انسان کو حاصل ہو سکیں جب تک کہ وہی بہار اس کی نظرؔ کے سامنے نہ ہو جو صحابہ پر آئی تھی اور جب کہ ان کمالات کو پیدا کرنا بغیر وجود ان وسائل کے محالات میں سے ہے اور نجات کا یقینی طور پر حاصل ہونا بھی بغیر ذریعہ ان کمالات کے از قبیل محال
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 347
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 347
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/347/mode/1up
تو ضروری ہوا کہ وہ خدا وند کریم جس نے ہر ایک کو نجات کے لئے بلایا ہے ایسا ہی انتظام ہریک صدی کے لئے رکھے تا اس کے بندے کسی زمانہ میں حق الیقین کے مراتب سے محروم نہ رہیں۔
اور یہ کہنا کہ ہمارے لئے قرآن اور احادیث کافی ہیں اور صحبت صادقین کی ضرورت نہیں یہ خود مخالفت تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 33 ۱؂
اور صادق وہ ہیں جنہوں نے صدق کو علیٰ وجہ البصیرت شناخت کیا اور پھر اس پر دل و جان سے قائم ہو گئے اور یہ اعلیٰ درجہ بصیرت کا بجز اس کے ممکن نہیں کہ سماوی تائید شامل حال ہوکر اعلیٰ مرتبہ حق الیقین تک پہنچا دیوے پس ان معنوں کرکے صادق حقیقی انبیاء اور رسل اور محدث اور اولیاء کاملین مکملین ہیں جن پر آسمانی روشنی پڑی اور جنہوں نے خدا تعالیٰ کو اسی جہان میں یقین کی آنکھوں سے دیکھ لیا اور آیت موصوفہ بالا بطور اشارت ظاہر کررہی ہے کہ دنیا صادقوں کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی کیونکہ دوام حکم 33دوام وجود صادقین کو مستلزم ہے۔
علاوہ اس کے مشاہدہ صاف بتلا رہا ہے کہ جو لوگ صادقوں کی صحبت سے لاپروا ہوکر عمر گذارتے ہیں ان کے علوم و فنون جسمانی جذبات سے ان کو ہرگز صاف نہیں کرسکتے اور کم سے کم اتنا ہی مرتبہ اسلام کاکہ دلی یقین اس بات پر ہوکہ خدا ہے ان کو ہرگز حاصل نہیں ہوسکتا اور جس طرح وہ اپنی اس دولت پر یقین رکھتے ہیں جو ان کے صندوقوں میں بند ہو یا اپنے ان مکانات پر جو ان کے قبضہ میں ہوں ہرگز ان کو ایسا یقین خدا تعالیٰ پر نہیں ہوتا وہ سم الفار کھانے سے ڈرتے ہیں کیونکہ وہ یقیناً جانتے ہیں کہ وہ ایک زہر مہلک ہے لیکن گناہوں کی زہر سے نہیں ڈرتے حالانکہ ہر روز قرآن میں پڑھتے ہیں 333 ۲؂ پس سچ تو یہ ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ کو نہیں پہچانتا وہ قرآن کو بھی نہیں پہچان سکتا۔ ہاں یہ بات بھی درست ؔ ہے کہ قرآن ہدایت کیلئے نازل ہوا ہے مگر قرآن کی ہدایتیں اس شخص کے وجود کے ساتھ وابستہ ہیں جس پر قرآن نازل ہوا یا وہ شخص جو منجانب اللہ اس کا قائم مقام ٹھہرایا گیا اگر قرآن
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 348
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 348
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/348/mode/1up
اکیلا ہی کافی ہوتا تو خدا تعالیٰ قادر تھا کہ قدرتی طور پر درختوں کے پتوں پر قرآن لکھا جاتا یا لکھا لکھایا آسمان سے نازل ہو جاتا مگر خدا تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا بلکہ قرآن کو دنیا میں نہیں بھیجا جب تک معلم القرآن دنیا میں نہیں بھیجا گیا۔ قرآن کریم کو کھول کر دیکھو کتنے مقام میں اس مضمون کی آیتیں ہیں کہ33 ۱؂ یعنی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن اور قرآنی حکمت لوگوں سکھلاتا ہے اورپھر ایک جگہ اور فرماتا ہے3 ۲؂ یعنی قرآن کے حقائق و دقائق ان ہی پر کھلتے ہیں جو پاک کئے گئے ہیں۔ پس ان آیات سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کے سمجھنے کے لئے ایک ایسے معلم کی ضرورت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پاک کیا ہو اگر قرآن کے سیکھنے کے لئے معلم کی حاجت نہ ہوتی تو ابتدائے زمانہ میں بھی نہ ہوتی اور یہ کہنا کہ ابتداء میں تو حل مشکلات قرآن کے لئے ایک معلم کی ضرورت تھی لیکن جب حل ہو گئیں تو اب کیا ضرورت ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حل شدہ بھی ایک مدت کے بعد پھر قابل حل ہوجاتی ہیں ماسوا اس کے امت کو ہر ایک زمانہ میں نئی مشکلات بھی تو پیش آتی ہیں اور قرآن جامع جمیع علوم تو ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اس کے تمام علوم ظاہر ہو جائیں بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہریک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کرنے والے روحانی معلم بھیجے جاتے ہیں جو وارث رسل ہوتے ہیں اور ظلی طور پر رسولوں کے کمالات کوپاتے ہیں۔ اور جس مجدد کی کارروائیاں کسی ایک رسول کی منصبی کارروائیوں سے شدید مشابہت رکھتی ہیں وہ عند اللہ اسی رسول کے نام سے پکارا جاتا ہے۔
اور نئے معلموں کی اس و جہ سے بھی ضرورت پڑتی ہے کہ بعض حصے تعلیم قرآن شریف کے ازقبیل حال ہیں نہ از قبیل قال۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہلے معلم اور اصل وارث اس تخت کے ہیں حالی طور پر ان دقائق کو اپنے صحابہؓ کو سمجھایا ہے مثلاً خدا تعالیٰ کا یہ کہنا کہ میں عالم الغیب ہوں اور ؔ میں مجیب الدعوات ہوں اور میں قادر ہوں اور میں دعاؤں کو قبول کرتا ہوں اور طالبوں کو حقیقی روشنی تک پہنچاتا ہوں اور میں اپنے صادق بندوں کو الہام دیتا ہوں اور جس پر چاہتا ہوں
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 349
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 349
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/349/mode/1up
اپنے بندوں میں سے اپنی روح ڈالتا ہوں یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جب تک معلم خود ان کا نمونہ بن کر نہ دکھلاوے تب تک یہ کسی طرح سمجھ ہی نہیں آسکتیں پس ظاہر ہے کہ صرف ظاہری علماء جوخود اندھے ہیں ان تعلیمات کو سمجھا نہیں سکتے بلکہ وہ تو اپنے شاگردوں کو ہر وقت اسلام کی عظمت سے بدظن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ باتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں اور ان کے ایسے بیانات سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ گویا اسلام اب زندہ مذہب نہیں اور اس کی حقیقی تعلیم پانے کے لئے اب کوئی بھی راہ نہیں لیکن ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے لئے یہ ارادہ ہے کہ وہ ہمیشہ قرآن کریم کے چشمہ سے ان کو پانی پلاوے تو بے شک وہ اپنے ان قوانین قدیمہ کی رعایت کرے گا جو قدیم سے کرتا آیا ہے۔ اور اگر قرآن کی تعلیم صرف اسی حد تک محدود ہے جس حد تک ایک تجربہ کار اور لطیف الفکر فلاسفر کی تعلیم محدود ہوسکتی ہے اور آسمانی تعلیم جو محض حال کے نمونہ سے سمجھائی جاتی ہے اس میں نہیں تو پھر نعوذ باللہ قرآن کا آنا لاحاصل ہے۔ مگر میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی ایک دم کے واسطے بھی اس مسئلہ میں فکر کرے کہ انبیاء کی تعلیم اور حکیموں کی تعلیم میں بصورت فرض کرنے صحت ہردو تعلیم کے مابہ الامتیاز کیا ہے تو بجز اس کے اور کوئی مابہ الامتیاز قرار نہیں دے سکتا کہ انبیاء کی تعلیم کا بہت سا حصہ فوق العقل ہے جو بجز حالی تفہیم اور تعلیم کے اور کسی راہ سے سمجھ ہی نہیں آسکتا اور اس حصہ کو وہی لوگ دلنشین کرا سکتے ہیں جو صاحب حال ہوں مثلاً ایسے ایسے مسائل کہ اس طرح پر فرشتے جان نکالتے ہیں اور پھر یوں آسمان پر لے جاتے ہیں اور پھر قبر میں حساب اس طور سے ہوتا ہے اور بہشت ایسا ہے اور دوزخ ایسا اور پل صراط ایسا اور عرش اللہ کو چار فرشتے اٹھا رہے ہیں اور پھر قیامت کو آٹھ اٹھائیں گے اور اس طرح پر خدا اپنے بندوں پر وحی نازل کرتا ہے یا مکاشفات کا دروازہ ان پر کھولتا ہے یہ تمام حالی تعلیم ہے اور مجردقیل وقال سے سمجھ نہیں آسکتی اور جب کہ یہ حال ہے تو پھر میں دوبارہ کہتا ہوں کہ اگر اللہ جلّ شانہٗ نے اپنے بندوں کے لئے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس کی کتاب کا یہ حصہ تعلیمؔ ابتدائی زمانہ تک محدود نہ رہے تو بے شک اس نے یہ بھی انتظام کیا ہوگا کہ اس حصہ تعلیم کے معلم بھی ہمیشہ آتے رہیں کیونکہ حصہ حالی تعلیم کا بغیر توسّط
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 350
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 350
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/350/mode/1up
ان معلموں کے جو مرتبہ حال پر پہنچ گئے ہوں ہرگز سمجھ نہیں آسکتا اور دنیا ذرہ ذرہ بات پر ٹھوکریں کھاتی ہے پس اگر اسلام میں بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایسے معلم نہیں آئے جن میں ظلی طور پر نور نبوت تھا تو گویا خدا تعالیٰ نے عمدً ا قرآن کو ضائع کیا کہ اس کے حقیقی اور واقعی طور پر سمجھنے والے بہت جلد دنیا سے اٹھا لئے مگر یہ بات اس کے وعدہ کے بر خلاف ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے3 ۱؂ یعنی ہم نے ہی قرآن کو اتارا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔ اب میں نہیں سمجھ سکتاکہ اگر قرآن کے سمجھنے والے ہی باقی نہ رہے اور اس پر یقینی اورحالی طورپر ایمان لانے والے زاویہ عدم میں مختفی ہوگئے تو پھر قرآن کی حفاظت کیا ہوئی۔ کیا حفاظت سے یہ حفاظت مراد ہے کہ قرآن بہت سے خوشخط نسخوں میں تحریر ہوکر قیامت تک صندوقوں میں بند رہے گا جیسے بعض مدفون خزانے گو کسی کے کام نہیں آتے مگر زمین کے نیچے محفوظ پڑے رہتے ہیں۔ کیا کوئی سمجھ سکتاہے کہ اس آیت سے خدا تعالیٰ کا یہی منشاء ہے۔ اگر یہی منشاء ہے تو ایسی حفاظت کوئی کمال کی بات نہیں بلکہ یہ تو ہنسی کی بات ہے اور ایسی حفاظت کا منہ پر لانا دشمنوں سے ٹھٹھا کرانا ہے کیونکہ جبکہ علت غائی مفقود ہو تو ظاہری حفاظت سے کیا فائدہ ممکن ہے کہ کسی گڑھے میں کوئی نسخہ انجیل یا توریت کا بھی ایسا ہی محفوظ پڑا ہو اور دنیا میں تو ہزارہا کتابیں اسی قسم کی پائی جاتی ہیں کہ جو یقینی طورپر بغیر کسی کمی بیشی کے کسی مؤلف کی تالیف سمجھی گئی ہیں تو اس میں کمال کیا ہوا اور امت کو خصوصیت کے ساتھ فائدہ کیا پہنچا گو اس سے انکار نہیں کہ قرآن کی حفاظت ظاہری بھی دنیا کی تمام کتابوں سے بڑھ کر ہے اور خارق عادت بھی لیکن خداتعالیٰ جس کی روحانی امور پر نظر ہے ہرگز اس کی ذات کی نسبت یہ گمان نہیں کرسکتے کہ اتنی حفاظت سے مراد صرف الفاظ اور حروف کا محفوظ رکھنا ہی مراد لیا ہے حالانکہ ذکر کا لفظ بھی صریح گواہی دے رہا ہے کہ قرآن بحیثیت ذکر ہونے کے قیامت تک محفوظ رہے گا اور اس کے حقیقی ذاکر ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے اور اس پر ایک اور آیت بھی بین قرینہ ہے اورؔ وہ یہ ہے3 ۲؂ یعنی قرآن آیات بینات ہیں جو اہل علم کے سینوں میں ہیں۔ پس ظاہر ہے کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 351
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 351
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/351/mode/1up
مومنوں کو قرآن کریم کا علم اور نیز اس پر عمل عطا کیا گیا ہے اور جب کہ قرآن کی جگہ مومنوں کے سینے ٹھہرے تو پھر یہ آیت کہ 33۱؂ بجز اس کے اور کیا معنی رکھتی ہے کہ قرآن سینوں سے محو نہیں کیا جائے گا جس طرح کہ توریت اور انجیل یہود اور نصاریٰ کے سینوں سے محو کی گئی اور گو توریت اور انجیل ان کے ہاتھوں اور ان کے صندوقوں میں تھی لیکن ان کے دلوں سے محو ہو گئی یعنی ان کے دل اس پر قائم نہ رہے اور انہوں نے توریت اور انجیل کو اپنے دلوں میں قائم اور بحال نہ کیا۔ غرض یہ آیت بلند آواز سے پکار رہی ہے کہ کوئی حصہ تعلیم قرآن کا برباد اور ضائع نہیں ہوگا اور جس طرح روز اوّل سے اس کا پودا دلوں میں جمایا گیا۔ یہی سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
دوم جس طرح پر کہ عقل اس بات کو واجب اور متحتم ٹھہراتی ہے کہ کتب الٰہی کی دائمی تعلیم اور تفہیم کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ انبیاء کی طرح وقتاً فوقتاً ملہم اور مکلم اور صاحب علم لدنی پیدا ہوتے رہیں اسی طرح جب ہم قرآن پر نظر ڈالتے ہیں اور غور کی نِگہ سے اس کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی بآواز بلند یہی فرما رہا ہے کہ روحانی معلموں کا ہمیشہ کے لئے ہونا اس کے ارادہ قدیمہ میں مقرر ہوچکا ہے دیکھو اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے333۲؂ الجزو نمبر۱۳ یعنی جو چیز انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچانے والے گروہ انبیاء ہیں کہ جو خوارق سے معجزات سے پیشگویوں سے حقائق سے معارف سے اپنی راستبازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کرکے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو۔ پس انبیاء کی طرفؔ نسبت دیکر معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ انبیاء من حیث الظل باقی رکھے جاتے ہیں اور خداتعالیٰ ظلی طور پر ہریک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 352
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 352
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/352/mode/1up
پیدا کردیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہوکر ان کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے اور اسی ظلی وجود کے قائم رکھنے کے لئے خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو یہ دعا سکھائی ہے333۱؂ یعنی اے خدا ہمارے ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو تیرے ان بندوں کی راہ ہے جن پر تیرا انعام ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کا انعام جو انبیاء پر ہوا تھا جس کے مانگنے کے لئے اس دعا میں حکم ہے وہ درم اور دینار کی قسم میں سے نہیں بلکہ وہ انوار اور برکات اور محبت اور یقین اور خوارق اور تائید سماوی اور قبولیت اور معرفت تامہ کاملہ ا ور وحی اور کشف کا انعام ہے اور خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس انعام کے مانگنے کے لئے تبھی حکم فرمایا کہ اول اس انعام کے عطا کرنے کا ارادہ بھی کرلیا۔ پس اس آیت سے بھی کھلے کھلے طور پر یہی ثابت ہوا کہ خدا تعالیٰ اس امت کو ظلی طور پر تمام انبیاء کا وارث ٹھہراتا ہے تا انبیاء کا وجود ظلی طور پر ہمیشہ باقی رہے اور دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہ ہو اور نہ صرف دعا کے لئے حکم کیا بلکہ ایک آیت میں وعدہ بھی فرمایا ہے اور وہ یہ ہے33 ۲؂ یعنی جو لوگ ہماری راہ میں جو صراط مستقیم ہے مجاہدہ کریں گے تو ہم ان کو اپنی راہیں بتلا دیں گے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہیں وہی ہیں جو انبیاء کو دکھلائی گئیں تھیں۔
پھر بعض اور آیات ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ضرور خداوند کریم نے یہی ارادہ فرمایا ہے کہ روحانی معلم جو انبیاء کے وارث ہیں ہمیشہ ہوتے رہیں اور وہ یہ ہیں۔3 3333۳؂ 3 3
333۴؂الجزونمبر۱۳33۵؂ یعنی خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے اے مومنان امت محمدیہ وعدہ کیا ہے کہ تمہیں بھی وہ زمین میں خلیفہ کرے گا جیسا کہ تم سے پہلوں کو کیا ۔اور ہمیشہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 353
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 353
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/353/mode/1up
کفار پر کسی قسم کی کوفتیں جسمانی ہوں یا روحانی پڑتی رہیں گی یا ان کے گھر سے نزدیک آجائیں گی۔ یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کا وعدہ آپہنچے گا۔ اور خدا تعالیٰ اپنے وعدوں میں تخلف نہیں کرتا۔ اور ہم کسی قوم پر عذاب نازل نہیں کرتے جب تک ایک رسول بھیج نہ لیں۔
ان آیات کو اگر کوئی شخص تامل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالیٰ اس امت کے لئے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہہ دینا کیا معنی رکھتا تھا اور اگر خلافت راشدہ صرف تیس برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کے لئے اس کا دور ختم ہوگیا تھا تواس سے لازم آتا ہے کہ خداتعالیٰ کا ہرگز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ کے لئے ابواب سعادت مفتوح رکھے کیونکہ روحانی سلسلہ کی موت سے دین کی موت لازم آتی ہے اور ایسا مذہب ہرگز زندہ نہیں کہلا سکتا جس کے قبول کرنے والے خود اپنی زبان سے ہی یہ اقرار کریں کہ تیرہ ۱۳۰۰سو برس سے یہ مذہب مرا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس مذہب کے لئے ہرگز یہ ارادہ نہیں کیا کہ حقیقی زندگی کا وہ نور جو نبی کریم کے سینہ میں تھا وہ توارث کے طور پر دوسروں میں چلا آوے۔
افسوس کہ ایسے خیال پر جمنے والے خلیفہ کے لفظ کو بھی جو استخلاف سے مفہوم ہوتا ہے تدبّر سے نہیں سوچتے کیونکہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہوسکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہوکیونکہ خلیفہ درحقیقت رسول کاظلّ ہوتا ہے اور چونکہ کسیؔ انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہٰذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف و اولیٰ ہیں ظلی طور پر ہمیشہ کیلئے تاقیامت قائم رکھے سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تادنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے پس جو شخص خلافت کو صرف تیس برس تک مانتا ہے وہ اپنی نادانی سے خلافت کی علت غائی کو نظر انداز کرتا ہے اورنہیں جانتا کہ خدا تعالیٰ کا یہ ارادہ تو ہرگز نہیں تھا کہ رسول کریم
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 354
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 354
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/354/mode/1up
کی وفات کے بعد صرف تیس برس تک رسالت کی برکتوں کو خلیفوں کے لباس میں قائم رکھنا ضروری ہے پھر بعد اس کے دنیا تباہ ہو جائے تو ہوجائے کچھ پرواہ نہیں بلکہ پہلے دنوں میں تو خلیفوں کا ہونا بجز شوکت اسلام پھیلانے کے کچھ اور زیادہ ضرورت نہیں رکھتا تھا کیونکہ انواررسالت اور کمالات نبوت تازہ بتازہ پھیل رہے تھے اور ہزارہا معجزات بارش کی طرح ابھی نازل ہوچکے تھے اور اگر خدا تعالیٰ چاہتا تو اس کی سنت اور قانون سے یہ بھی بعید نہ تھا کہ بجائے ان چار خلیفوں کے اس تیس برس کے عرصہ تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر کوہی بڑھا دیتا اس حساب سے تیس برس کے ختم ہونے تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل ۹۳ برس کی عمر تک پہنچتے اور یہ اندازہ اس زمانہ کی مقررہ عمروں سے نہ کچھ زیادہ اور نہ اس قانون قدرت سے کچھ بڑھ کر ہے جو انسانی عمروں کے بارے میں ہماری نظر کے سامنے ہے۔
پس یہ حقیر خیال خدا تعالیٰ کی نسبت تجویز کرنا کہ اس کو صرف اس امت کے تیس۳۰ برس کا ہی فکر تھا اور پھر ان کو ہمیشہ کے لئے ضلالت میں چھوڑ دیا اور وہ نور جو قدیم سے انبیاء سابقین کی امت میں خلافت کے آئینہ میں وہ دکھلاتا رہااس امت کے لیے دکھلانا اس کو منظور نہ ہوا۔ کیا عقل سلیم خدائے رحیم و کریم کی نسبت ان باتوں کو تجویز کرے گی ہرگز نہیں اور پھر یہ آیت خلافت اَئمہ پر گواہ ناطق ہے۔ 333 ۱؂ کیونکہ یہ آیت صاف صافؔ پکار رہی ہے کہ اسلامی خلافت دائمی ہے اس لئے کہ یرثھا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے وجہ یہ کہ اگر آخری نوبت فاسقوں کی ہوتو زمین کے وارث وہی قرار پائیں گے نہ کہ صالح اور سب کا وارث وہی ہوتا ہے جو سب کے بعد ہو۔
پھر اس پر بھی غور کرنا چاہیئے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک مثال کے طور پر سمجھا دیا تھا کہ میں اسی طور پر اس امت میں خلیفے پیدا کرتا رہوں گا جیسے موسیٰ کے بعد خلیفے پیدا کئے تو دیکھنا چاہیئے تھا کہ موسیٰ کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا۔ کیا اس نے صرف تیس۳۰ برس تک خلیفے بھیجے یا چودہ سو برس تک اس سلسلہ کو لمبا کیا۔ پھر جس حالت میں خدا تعالیٰ کا فضل ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 355
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 355
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/355/mode/1up
حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہیں زیادہ تھا چنانچہ اس نے خود فرمایا33 ۱؂ اور ایسا ہی اس امت کی نسبت فرمایا 3 ۲؂ تو پھر کیونکر ہوسکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ۱۴۰۰ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تیس برس تک خلافت کا خاتمہ ہوجاوے اور نیز جب کہ یہ امّت خلافت کے انوار روحانی سے ہمیشہ کے لئے خالی ہے تو پھر آیت اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کے کیا معنی ہیں کوئی بیان تو کرے۔مثل مشہور ہے کہ اوخویشتن گم است کرا رہبری کند۔ جب کہ اس امت کو ہمیشہ کے لئے اندھا رکھنا ہی منظور ہے اور اس مذہب کو مردہ رکھنا ہی مدنظر ہے تو پھر یہ کہنا کہ تم سب سے بہتر ہو اور لوگوں کی بھلائی اور رہنمائی کے لئے پیدا کئے گئے ہو کیا معنی رکھتا ہے۔ کیا اندھا اندھے کو راہ دکھا سکتا ہے سواے لوگو جو مسلمان کہلاتے ہو برائے خدا سوچو کہ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ ہمیشہ قیامت تک تم میں روحانی زندگی اور باطنی بینائی رہے گی اور غیر مذہب والے تم سے روشنی حاصل کریں گے اور یہ روحانی زندگی اور باطنی بینائی جو غیر مذہب والوں کو حق کی دعوت کرنے کے لئے اپنے اندر لیاقت رکھتی ہے یہی وہ چیز ہے جس کو دوسرے لفظوں میں خلافت کہتے ہیں پھر کیونکر کہتے ہو کہ خلافت صرف تیس برس تک ہوکر پھر زاویہ عدم میں مخفی ہوگئی۔ اتقواللّٰہ۔ اتقوااللّٰہ۔ اتقوااللّٰہ۔
ابؔ یاد رہے کہ اگرچہ قرآن کریم میں اس قسم کی بہت سی آیتیں ایسی ہیں کہ جو اس امت میں خلافت دائمی کی بشارت دیتی ہیں اور احادیث بھی اس بارے میں بہت سی بھری پڑی ہیں لیکن بالفعل اس قدر لکھنا ان لوگوں کے لئے کافی ہے جو حقائق ثابت شدہ کو دولت عظمیٰ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور اسلام کی نسبت اس سے بڑھ کر اور کوئی بداندیشی نہیں کہ اس کو مردہ مذہب خیال کیا جائے اور اس کی برکات کو صرف قرن اول تک محدود رکھا جاوے۔ کیا وہ کتاب جو ہمیشہ کی سعادتوں کا دروازہ کھولتی ہے وہ ایسی پست ہمتی کا سبق دیتی ہے کہ کوئی برکت اورخلافت آگے نہیں بلکہ سب کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔ نبی تو اس امت میں آنے کو رہے اب اگر خلفاء نبی بھی نہ آویں اور وقتاً فوقتاً روحانی زندگی کے کرشمے نہ دکھلاویں تو پھر اسلام کی روحانیت کا خاتمہ ہے اور پھر ایسے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 356
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 356
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/356/mode/1up
مذہب کو موسوی مذہب کی روحانی شوکت اور جلال سے نسبت ہی کیا ہے جس میں ہزارہا روحانی خلیفے چودہ۱۴۰۰ سو برس تک پیدا ہوتے رہے اور افسوس ہے کہ ہمارے معترض ذرہ نہیں سوچتے کہ اس صورت میں اسلام اپنی روحانیت کے لحاظ سے بہت ہی ادنٰے ٹھہرتا ہے اور نبی متبوع صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ کچھ بہت بڑا نبی ثابت نہیں ہوتا اور قران بھی کوئی ایسی کتاب ثابت نہیں ہوتی جو اپنی نورانیت میں قوی الاثر ہو پھر یہ کہنا کہ یہ امت خیر الامم ہے اور دوسری امتوں کے لئے ہمیشہ روحانی فائدہ پہنچانے والی ہے اور یہ قرآن سب الٰہی کتابوں کی نسبت اپنے کمالات اور تاثیر وغیرہ میں اکمل واتم ہے اور یہ رسول تمام رسولوں سے اپنی قوت قدسیہ اور تکمیل خلق میں اکمل واتم ہے کیسا بے ہودہ اور بے معنی اور بے ثبوت دعویٰ ٹھہرے گا اور پھر یہ ایک بڑا فساد لازم آئے گا کہ قرآن کی تعلیمات کا وہ حصہ جو انسان کو روحانی انوار اور کمالات میں مشابہ انبیاء بنانا چاہتا ہے ہمیشہ کے لئے منسوخ خیال کیا جائے گا کیونکہ جب کہ امت میں یہ استعداد ہی نہیں پائی جاتی کہ خلافت کے کمالات باطنی اپنے اندر پیدا کر لیں تو ایسی تعلیم جواس مرتبہ کے حاصل کرنے کے لئے تاکید کررہی ہے محض لا حاصل ہوگی۔ درحقیقت فقط ایسے سوال سے ہی کہ کیا اسلام اب ہمیشہ کے لئے ایک مذہب مردہ ہے جسؔ میں ایسے لوگ پیدا نہیں ہوتے جن کی کرامات معجزات کے قائم مقام اور جن کے الہامات وحی کے قائم مقام ہوں بدن کانپ اٹھتا ہے چہ جائیکہ کسی مسلمان کا نعوذ باللہ ایسا عقیدہ بھی ہو خدا تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت کرے جو ان ملحدانہ خیالات میں اسیر ہیں۔
اب جب کہ قرآن شریف کی رو سے یہی ثابت ہوا کہ اس امت مرحومہ میں سلسلہ خلافت دائمی کا اسی طور پر اور اسی کی مانند قائم کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰ کی شریعت میں قائم کیا گیا تھا اور صرف اس قدر لفظی فرق رہا کہ اُس وقت تائید دین عیسوی کے لئے نبی آتے تھے اور اب محدث آتے ہیں تو اس ثبوت کو اس بات کا مان لینا مستلزم ہے کہ جیسے حضرت موسیٰ کی شریعت کے آخری زمانہ میں ایک نبی جس کا نام عیسیٰ تھا ایسے وقت میں آیا کہ جب یہودیوں کی اخلاقی حالت بکلی بگڑ گئی تھی
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 357
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 357
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/357/mode/1up
اور حقیقی تقویٰ اور دیانت اور قوی ہمدردی اور اتفاق اور سچی خدا ترسی سے وہ بکلی دور جاپڑے تھے اور ان کے علم اور فکر کا مبلغ صرف ظاہری لفاظی اور الفاظ پرستی تک محدود ہوگیا تھا اور نیز اپنی دنیوی حالت میں کمزور اور ذلیل ہوگئے تھے ایسا ہی اُس نبی کے ہمرنگ اور اس زمانہ کے مشابہ ایکُ محدّث اس امت میں بھی ایسے وقت میں پیدا ہونا ضروری ہے کہ جب یہ امت بھی اسی طور پر بگڑ جائے کہ جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودی بگڑے ہوئے تھے اور جب غور سے دیکھا جاتا اور بنظر تحقیق سوچا جاتا ہے تو صاف اور صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ وہ زمانہ جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کا اس امت میں بھی کوئی مثیل بوجہ مماثلت تامہ کاملہ سلسلہ خلفاء موسوی و خلفاء محمدی میں پیدا ہونا چاہیئے یہی زمانہ ہے جس میں ہم ہیں کیونکہ حضرت موسیٰ سے حضرت مسیح کا قریباً چودہ سو برس کا فاصلہ تھا اور اب بھی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت تک چودھویں صدی ہے اور حضرت موسیٰ کی امت چودھویں صدی پر آکر ایسی بگڑ گئی تھی کہ تقویٰ اور دیانت بالکل جاتی رہی تھی اور علماء یہود ناحق کے اختلافات اور نفسانی جھگڑوں میں مصروف تھے اور ان میں بہت کچھ فسق و فجور پھیل گیا تھا اور ان کی دنیوی حالت میں بھی بہت ابتری پیدا ہوگئی تھی ایسا ہی اس زمانہ میں اس امت کا حال ہے اور جو واقعات آنکھوںؔ کے سامنے ہیں وہ صاف شہادت دے رہے ہیں کہ درحقیقت اس امت اوراس امت کے علماء نے اس زمانہ کے یہودیوں کے قدموں پر قدم مارا ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں موجود تھے اور نہ صرف اسی بات میں وہ اس وقت کے یہودیوں کے مشابہ ہوگئے ہیں کہ دیانت اور تقویٰ اور روحانیت اور حقیقت شناسی اُن میں باقی نہیں رہے بلکہ دنیوی ادبار بھی ویسا ہی شامل حال ہوگیا ہے کہ جیسا اس زمانہ میں تھا اور جیسا کہ اس وقت یہودیہ ریاستوں کو رومی ملوک نے تباہ کردیا تھا اور 3 ۱؂ کا مصداق ہوگئے تھے اور یہودی اپنے تئیں ضعیف اور بے کس دیکھ کر ایک ایسے مسیح کے منتظر تھے جو بادشاہ ہوکر آوے اور رومیوں پر تلوار چلاوے کیونکہ توریت کے آخر میں یہی وعدہ دیا گیا تھا
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 358
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 358
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/358/mode/1up
ویسا ہی یہ قوم مسلمان بھی اکثر اور اغلب طور پر ادبار کی حالت میں گری ہوئی نظر آتی ہے اگر کوئی ریاست ہے تو اس کو اندرونی نفاقوں اور وزراء اور عملہ کی خیانتوں اور بادشاہوں کے کسل اور سستیوں اور جہالتوں اور بے خبریوں اور عیش پسندیوں اور آرام طلبیوں نے ایسا کمزور کردیا ہے کہ اب ان کا کوئی آخری دم ہی نظر آتا ہے اور یہ لوگ بھی یہودیوں کی طرح منتظر تھے کہ مسیح موعود بادشاہوں کی طرح بڑے جلال کے ساتھ ان کی حمایت کے لئے نازل ہوگا-
اب وہ آنکھیں جو دیکھ سکتی ہیں اور وہ دل جو انصاف کرسکتے ہیں اور وہ عقل جو سوچ سکتی ہے اس جگہ دیکھ لیں اور تول لیں اور سوچ لیں کہ کیا یہ ماجرا اور وہ ماجرا دونوں برابر ہیں یا نہیں۔ بھلا پیشگوئیوں کو تھوڑی دیر کے لئے نظر انداز کر دو صرف ایک محقق بن کر عقلی طور پر ہی دیکھو کہ کیا اس زمانہ کے مسلمانوں اور حضرت مسیح کے زمانہ کے یہودیوں کا معاملہ طابق النعل بالنعل کا مصداق ہے یا نہیں۔ انجیلوں کو غور کر کے دیکھو اور پڑھو کہ جو کچھ حضرت مسیح علیہ السلام نے یہود کے مولویوں اور فقیہوں کی نسبت حالات لکھے ہیں اور ان کی خیانتیں ظاہر کی ہیں کیا حال کے مسلمان مولویوں میں وہ پائی جاتی ہیں یا نہیں۔ کیا یہ سچ ہے یا نہیں کہ ہمارے علماء بھی یہودیوں کے فقیہوں کی طرح دن رات عبث جھگڑوںؔ میں پڑے ہوئے ہیں اور روحانیت سے بکلی خالی ہوگئے ہیں اور دوسروں کو کافر ٹھہرانے میں کوشش کرتے اور آپ نہیں جانتے کہ اسلام کیا شے ہے اور وہ ایسے وعظ کرتے ہیں جن پر آپ عمل نہیں کرتے اور روٹی کمانے کے لئے وعظ کا منصب اختیار کرکے دور دراز نکل جاتے ہیں اور بے سند تُک بندیوں سے لوگوں کو خوش کرکے مال حرام کھاتے ہیں اور مکر اور فریب اور دغا بازیوں میں یہودیوں سے کچھ کم نہیں رہے۔ ایسا ہی دنیا داروں کی حالت ہے کہ اکثر ان کے دنیا کمانے کے لئے ہریک خیانت اور دروغگوئی کو شیر مادر کی طرح حلال سمجھتے ہیں جو رئیس کہلاتے ہیں اور ٹوٹی پھوٹی ریاستیں ان کے ہاتھ میں ہیں ان کو عیاشیوں نے ہلاک کر دیا ہے۔ بہتیرے ان میں سے شراب کو پانی کی طرح پیتے ہیں زنا سے ذرہ بھی کراہت نہیں کرتے خدا تعالیٰ کا خوف دن رات کے کسی حصہ میں بھی ان کے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 359
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 359
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/359/mode/1up
نزدیک نہیں آتا۔ اب یہود کی تواریخ ہاتھ میں لیکر دیکھو کہ کس قدر ان مسلمانوں کو دین اور دنیاکی تباہی میں ان یہود سے اشد مشابہت ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھے۔ توریت میں یہود کی نسبت یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ جب تک سیلا نہ آوے ان کی بادشاہی نہیں جائے گی۔ سیلا سے مراد حضرت مسیح تھے اور فی الواقع ایسا ہی ہوا تھاکہ حضرت مسیح کی پیدائش سے بھی کچھ عرصہ پہلے یہود کی متفرق ریاستوں پرسلطنت رومیہ ٹوٹ پڑی ہوئی تھی اور چونکہ یہود اس زمانہ کے مسلمانوں کی طرح باہمی نفاقوں اور روز کے جھگڑوں اور کسل اور جہالت کے غلبہ سے ضعیف ہوچکے تھے اور ان کی اندرونی حالت خود ان کے لئے ایک بدفالی کی خبردے رہی تھی اس لئے یہود نے حضرت مسیح کے زمانہ سے کچھ تھوڑا ہی پیشتر خود اپنے تئیں سلطنت رومیہ کے سپرد کردیا تھا اور مشابہت کے لحاظ سے اس امت میں بھی ایک سیلا کا آناضروری تھا جو عین دینی دنیوی تباہی کے وقت میں آوے۔
اور درحقیقت ایسی ہی پیشگوئی مسلمانوں کے اس زمانہ کے لئے جو حضرت مسیح کے زمانہ سے بلحاظ مدت وغیرہ لوازم مشابہ تھا قرآن کریم نے بھی کی ہے جیساکہ وہ فرماتا ہے3 ۱ ؂ ا ی من کل حدب ینسلون الی الاسلام ویفسدون فی ارضہ ویتملکون بلادہ ویجعلون اعزّۃ اھلھا اذلۃ۔ اس آیت کے یہی معنی ہیں کہ قوم نصاریٰ جو فرقہ یاجوج اور ماجوج ہوگا ہریک بلندی سےؔ ممالک اسلام کی طرف دوڑیں گے اور ان کو غلبہ ہوگا اور بلاد اسلام کو وہ دباتے جائیں گے یہاں تک کہ سلطنت اسلام صرف بنام رہ جائے گی جیساکہ آج کل ہے۔ واقعات کے تطابق کو دیکھو کہ کیونکر اسلام کے مصائب اور مسلمانوں کی دینی دنیوی تباہی کا زمانہ یہودیوں کے اس زمانہ سے مل گیا ہے جو حضرت مسیح کے وقت میں تھا اور پھر دیکھو کہ قرآن کی پیشگوئی اسلامی سلطنت کے ضعف کے بارے میں اور مخالفوں کے غالب ہونے کی نسبت کیسی اس پیشگوئی سے انطباق پاگئی ہے جو اسرائیلی سلطنت کے زوال کے بارہ میں توریت میں کی گئی تھی۔ ہاں مجدد دین کی بشارت میں توریت کی پیشگوئی اور قرآن کی پیشگوئی میں صرف پیرایہ بیان کا فرق ہے یعنی توریت میں تو اسرائیلی قوت کے ٹوٹنے اور عصا کے جاتے رہنے کے وقت میں جس سے مراد زوال سلطنت تھا سیلا کے آنے کی بشارت
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 360
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 360
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/360/mode/1up
دی گئی ہے مگر قرآن میں اسلامی طاقت کے کم ہونے اور امواج فتن کے اٹھنے کے وقت جو عیسائی واعظوں کی دجالیت سے مرادہے نفخ صور کی خوشخبری دی گئی ہے اور نفخ صور سے مراد قیامت نہیں ہے کیونکہ عیسائیوں کے امواج فتن کے پیدا ہونے پر تو سو برس سے زیادہ گذر گیا ہے مگر کوئی قیامت برپا نہیں ہوئی بلکہ مراد اس سے یہ ہے کہ کسی مہدی اور مجدد کو بھیج کر ہدایت کی صور پھونکی جائے اور ضلالت کے مردوں میں پھر زندگی کی روح پھونک دی جاوے کیونکہ نفخ صور صرف جسمانی احیاء اوراماتت تک محدود نہیں ہے بلکہ روحانی احیاء اور اماتت بھی ہمیشہ نفخ صور کے ذریعہ سے ہی ہوتا ہے اور جیسا قرآن میں نفخ صور سے کسی مجدد کا بھیجنا مراد ہے تاعیسائی مذہب کے غلبہ کو توڑے ایسا ہی امواج فتن سے وہ دجالیت مراد ہے جو حدیثوں میں دجال معہود کے نام پر بیان کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے دجال معہود اور مسیح موعود کے لفظ کو جیسا کہ حدیثوں میں آیا ہے کہیں قرآن میں ذکر نہیں فرمایا بلکہ بجائے دجال کے نصاریٰ کی پر فتن کارروائیوں کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ3 ۱ ؂ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ ایسا ہی قرآن کریم میں آنے والے مجددؔ کا بلفظ مسیح موعود کہیں ذکر نہیں بلکہ لفظ نفخ صور سے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تامعلوم ہوکہ مسیح موعود ارضی اور زمینی ہتھیاروں کے ساتھ ظاہر نہیں ہوگا بلکہ آسمانی نفخ پر اس کے اقبال اور عروج کا مدار ہوگا اور پُر حکمت کلمات کی قوت سے اور آسمانی نشانوں سے لوگوں کو حق اور سچائی کی طرف کھینچے گا کیونکہ وہ معقولی فتنوں کے وقت آئے گا نہ سیفی فتنوں کے وقت اورا صل حقیقت یہ ہے کہ خدا تعالیٰ ہریک فتنہ کی طرز کے موافق نبی اور مجدد کو بھیجتا ہے۔ پس جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں کی تمام قوتیں مسلوب ہو چکی تھیں اور ان کے ہاتھ میں بجز مکر اور فریب اور زبانی باتوں کے اور کچھ نہ تھا اور سلطنت رومیہ جس کے تحت میں وہ اپنی بدچلنیو ں اور بدانتظامیوں کی جہت سے خود آگئے تھے رومیوں کا بلحاظ ملک گیری کچھ قصور نہ تھا یہی حال قرآن کریم میں مسیح موعود کے زمانہ میں لکھا گیا ہے مثلاً ہندوستان کے مسلمانوں کی نالائق حالت ایسی ہے کہ وہ کسی مصلح کے پیدا ہونے پر تلوار سے اس کی نافرمانی نہیں کرسکتے کیونکہ خود تلواریں ان کے پاس نہیں اور دہلی کا تخت انگریزوں نے ایسا ہی لے لیا
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 361
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 361
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/361/mode/1up
جیسا کہ یہودیوں کا تخت سلطنت رومیہ نے یعنی محض بادشاہوں کی بدچلنی اور نالیاقتی کی وجہ سے۔ انگریزوں کا اس ملک گیری میں کچھ قصور نہیں تا ان پر تلوار اٹھائی جاوے بلکہ ازماست کہ برماست کی مثال اس جگہ صادق آتی ہے اسی وجہ سے اس صدی کا مجدد حضرت مسیح کے رنگ میں آیا اور بوجہ قوی مشابہت کے مسیح موعود کہلایا اور یہ نام کچھ بناوٹی نہیں بلکہ حالات موجودہ کی مطابقت کی وجہ سے اسی نام کی ضرورت پڑی۔
اور یاد رہے کہ قرآن کریم میں ایک جگہ رسل کے لفظ کے ساتھ بھی مسیح موعود کی طرف اشارہ ہے لیکن یہ سوال کہ ان ہی الفاظ کے ساتھ جو احادیث میں آئے ہیں کیوں قرآن میں ذکر نہیں کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ تا پڑھنے والوں کو دھوکا نہ لگ جاوے کہ مسیح موعود سے مراد درحقیقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی ہیں جن پر انجیل نازل ہوئی تھی اور ایسا ہی دجال سے کوئی خاص مفسد مراد ہے سو خدا تعالیٰ نے فرقان حمید میں ان تمام شبہات کو دور کردیا۔ اس طرح پر کہ اول نہایت تصریح اور توضیح سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ؔ کی خبر دی جیسا کہ آیت 3333 ۱؂ سے ظاہر ہے اور پھر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم الانبیاء ہونا بھی ظاہر کر دیا جیسا کہ فرمایا 3 ۲؂ اور پھر یہودیوں کی بہت سی نافرمانیاں جابجا ذکر کر کے متواتر طور پر اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ آخری حالت عام مسلمانوں اور مسلمانوں کے علماء کی یہی ہو جائے گی اور پھر ذکر کیا کہ آخری زمانہ میں غلبہ نصاریٰ کا ہوگا اور ان کے ہاتھ سے طرح طرح کے فساد پھیلیں گے اور ہرطرف سے امواج فتن اٹھیں گی اور وہ ہریک بلندی سے دوڑیں گی یعنی ہریک طور سے وہ اپنی قوت اور اپنا عروج اور اپنی بلندی دکھلائیں گی۔ ظاہری طاقت اور سلطنت میں بھی ان کی بلندی ہوگی کہ اور حکومتیں اور ریاستیں ان کے مقابل پر کمزور ہو جائیں گی اور علوم و فنون میں بھی ان کو بلندی حاصل ہو گی کہ طرح طرح کے علوم و فنون ایجاد کریں گے اور نادر اور عجیب صنعتیں نکالیں گے اور مکاید اور تدابیر اور حسن انتظام میں بھی بلندی ہوگی اور دنیوی مہمات میں اور ان کے حصول کیلئے ان کی ہمتیں بھی بلند ہوگی اور اشاعت مذہب کی جدوجہد اور کوشش میں بھی وہ سب سے فائق اور بلند ہوں گے اور ایسا ہی تدابیر
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 362
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 362
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/362/mode/1up
معاشرت اور تجارت اور ترقی کاشتکاری غرض ہریک بات میں ہریک قوم پر فائق اور بلند ہو جائیں گی یہی معنے ہیں 33 ۱؂ کے کیونکہ حَدَب بالتحریک زمین بلند کو کہتے ہیں اور نسل کے معنے ہیں سبقت لے جانا اور دوڑنا۔ یعنی ہر ایک قوم سے ہر ایک بات میں جو شرف اور بلندی کی طرف منسوب ہوسکتی ہے سبقت لے جائیں گے اور یہی بھاری علامت اس آخری قوم کی ہے جس کا نام یاجوج ماجوج ہے اور یہی علامت پادریوں کے اس گروہ ُ پرفتن کی ہے جس کا نام دجال معہود ہے اور چونکہ حدب زمین بلند کو کہتے ہیں اس سے یہ اشارہ ہے کہ تمام زمینی بلندیاں ان کو نصیب ہوں گی مگر آسمانی بلندی سے بے نصیب ہوں گے اور اس مقام سے ثابت ہوتا ہے کہ یہی قوم یا جوج و ماجوج باعتبار اپنے ملکی عروج کے یاجوج ماجوج سے موسوم ہے اور اسی قوم میں سے وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے ضلالت کے پھیلانے میں اپنی کوششیں انتہا ؔ کو پہنچائی ہیں اور دجال اکبر سے موسوم ہوگئے اور خدا تعالیٰ نے ضلالت کے عروج کے ذکر کے وقت فرمایا کہ اس وقت نفخ صور ہوگا اور تمام فرقے ایک ہی جگہ پر اکٹھے کئے جائیں گے اور بعد ان آیات کے جو جہنم کا ذکر ہے وہ قرآن کریم کے محاورہ کے بموجب الگ بیان ہے کیونکہ قرآن کریم کا یہ عام محاورہ ہے کہ بعض اوقات دنیا کے کسی واقعہ کا ذکر کرتے کرتے کسی مناسبت کی وجہ سے آخرت کا ذکر ساتھ ہی کیاجاتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کو غور سے دیکھنے والے اس متواتر محاورہ سے بے خبر نہیں ہیں۔
تیسرا شق ہماری ان مباحث کا یہ تھا کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ وہ مسیح موعود جس کا قرآن اور احادیث میں مختلف پیرایوں میں ذکر ہے وہ یہی عاجز ہے۔ سو میرے خیال میں اس شق کے دلائل لکھنے میں زیادہ طول دینے کی حاجت نہیں اس بات کو ہم نے اس رسالہ میں ثابت کر دیا ہے کہ ایک شخص کا اس امت میں سے مسیح علیہ السلام کے نام پر آنا ضروری ہے۔ کیوں ضروری ہے تین وجہ سے۔
اوّل یہ کہ مماثلت تامہ کاملہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے جو آیت33۲؂ سے مفہوم ہوتی ہے اس بات کو چاہتی ہے۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 363
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 363
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/363/mode/1up
وجہ یہ کہ آیت3333۱؂ صاف بتلا رہی ہے کہ جیسے حضرت موسیٰ اپنی امت کی نیکی بدی پر شاہد تھے ایسا ہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی شاہد ہیں مگر یہ شہادت دوامی طور پر بجز صورت استخلاف کے حضرت موسیٰ کے لئے ممکن نہیں ہوئی یعنی خدا تعالیٰ نے اسی اتمام حجت کی غرض سے حضرت موسیٰ کے لئے چودہ سو برس تک خلیفوں کا سلسلہ مقرر کیا جو درحقیقت توریت کے خادم اور حضرت موسیٰ کی شریعت کی تائید کے لیے آتے تھے تا خدا تعالیٰ بذریعہ ان خلیفوں کے حضرت موسیٰ کی شہادت کے سلسلہ کو کامل کر دیوے اور وہ اس لائق ٹھہریں کہ قیامت کو تمام بنی اسرائیل کی نسبت خدا تعالیٰ کے سامنے شہادت دے سکیں۔ ایسا ہی اللہ جلّ ؔ شانہٗ نے اسلامی امت کے کل لوگوں کے لئے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شاہد ٹھہرایا ہے اور فرمایا 33۲؂ اورفرمایا وَ3۳؂ مگر ظاہر ہے کہ ظاہری طور پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف تئیس برس تک اپنی امت میں رہے پھر یہ سوال کہ دائمی طور پر وہ اپنی امت کے لئے کیونکر شاہد ٹھہر سکتے ہیں یہی واقعی جواب رکھتا ہے کہ بطور استخلاف کے یعنی موسیٰ علیہ السلام کی مانند خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی قیامت تک خلیفے مقرر کر دیئے اور خلیفوں کی شہادت بعینہٖ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت متصور ہوئی اور اس طرح پر مضمون آیت33۴؂ ہریک پہلو سے درست ہوگیا۔ غرض شہادت دائمی کا عقیدہ جو نص قرآنی سے بتواتر ثابت اور تمام مسلمانوں کے نزدیک مسلّم ہے تبھی معقولی اور تحقیقی طور پر ثابت ہوتا ہے جب خلافت دائمی کو قبول کیا جائے۔ اور یہ امر ہمارے مدعا کو ثابت کرنے والا ہے فتدبّر۔
دوسری مماثلت تامہ کاملہ استخلاف محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کی استخلاف موسوی سے مسیح موعود کا آنا ضروری ٹھہراتی ہے جیسا کہ آیت مندرجہ ذیل سے مفہوم ہوتا ہے یعنی آیت3333۵؂ صاف بتلا رہی ہے کہ ایک مجدّد حضرت مسیح کے نام پر چودھویں صدی میں آنا ضروری ہے کیوں کہ امر
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 364
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 364
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/364/mode/1up
استخلاف محمدی امر استخلاف موسوی سے اسی حالت میں اکمل اور اتم مشابہت پیدا کرسکتا ہے کہ جب کہ اول زمانہ اور آخری زمانہ باہم نہایت درجہ کی مشابہت رکھتے ہوں اور آخری زمانہ کی مشابہت دو باتوں میں تھی ایک امت کا حال ابتر ہونا اور دنیا کے اقبال میں ضعف آجانا اور دینی دیانت اور ایمانداری اور تقویٰ میں فرق آجانا دوسرے ایسے زمانہ میں ایک مجدد کا پیدا ہونا جو مسیح موعود کے نام پر آوے اور ایمانی حالت کو پھر بحال کرے سو پہلی علامت کو ہمارے بھائی مسلمان صرف قبول ہی نہیں کرتے بلکہ ؔ مسلمانوں کا ادبار اور ایک ایسی غیر قوم کا اقبال اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں جو ان کے مذہب کو ایسا ہی حقیر اور ذلیل سمجھتی ہے جیسا کہ مجوسی یہودیوں پر غالب آکر حضرت مسیح کے زمانہ میں یہود کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے اور یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ اندرونی حالت اسلام کے علماء اور اسلام کے دنیا داروں کی یہودیوں کے حالات سے کچھ کم نہیں ہے بلکہ خیر سے دہ چند معلوم ہوتی ہے جب ہم قرآن کی پہلی جزو میں ہی یہ آیتیں پڑھتے ہیں جو یہودیوں کے مولویوں کے حق میں ہیں کہ تم لوگوں کو تو نیکی اور بھلائی کے لئے وعظ کرتے ہو اور اپنے تئیں بھول جاتے ہو اور اپنے بھائیوں کے ستانے میں تم قصور نہیں کرتے اور طرح طرح کے لالچوں اور حرام کاریوں اور بدکاریوں اور بدمنصوبوں اور دنیا طلبی کے فریبوں میں مشغول ہو تو بے اختیار دل بول اٹھتا ہے کہ یہ تمام آیتیں ہمارے اکثر مولویوں کے حق میں صادق آرہی ہیں۔
پھر جب کہ ان متلازم علامتوں میں سے ایک علامت کا اس زمانہ میں پایا جانا ہمارے بھائیوں نے خود قبول کر لیا تو دوسری علامت کے قبول کرنے سے منہ پھیرنا بعینہٖ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے کوئی کہے کہ آفتاب بے شک نکلا ہوا ہے مگر ابھی دن نہیں چڑھا۔ بہرحال ایک منصف دانا کو اس بات کے ماننے سے چارہ نہیں ہوگا کہ آیات قرآنی پر غور کے ساتھ نظر کرنے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ محمدی استخلاف کا سلسلہ موسوی استخلاف کے سلسلہ سے بکلی مطابق ہونا چاہئے جیسا کہ کما کے لفظ سے مفہوم ہوتا ہے اور جبکہ بکلی مطابق ہوا تو اس امت میں بھی اس کے آخری زمانہ میں جو قرب قیامت کا
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 365
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 365
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/365/mode/1up
زمانہ ہے حضرت عیسیٰ کی مانند کوئی خلیفہ آنا چاہیے کہ جو تلوار سے نہیں بلکہ روحانی تعلیم اور برکات سے اتمام حجت کرے اور اس لحاظ سے کہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ سے چودہ سو برس بعد آئے یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کا اس زمانہ میں ظہور کرنا ضروری ہو اور خدا تعالیٰ کے وعدوں میں تخلف نہیں تو اب دیکھنا چاہیئے کہ ایسے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اس زمانہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ۔ اگر فرض بھی کیا جائے کہ مثلًا مُسلمانوں میں ؔ سے اِ س زمانہ میں د۱۰س آدمیوں نے دعویٰ کیا ہے تو اُن دس میں سے ایک ضرور صادق او رمسیح موعود ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے مقررکردہ نشان صادق کے وجود کو چاہتے ہیں لیکن جس حالت میں بیس کروڑ مسلمانوں میں سے جو شام اور عرب اور عراق اور مصر اور ہند و غیرہ بلاد میں رہتے ہیں اِس علامات کے زمانہ میں جو کتاب اللہ اور حدیث کی رُو سے مسیح موعود کے ظہور کا زمانہ ہے صِرف ایک شخص نے مسلمانوں میں سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو ایسے مدعی کی تکذیب سے جو اپنے وقت پر ظاہر ہوا پیشگوئی کی تکذیب لازم آتی ہے۔ چودھویں صدی کے سر پر مسیح موعود کا آنا جس قدر حدیثوں سے قرآن سے اولیاء کے مکاشفات سے بپایہ ثبوت پہنچتا ہے حاجت بیان نہیں۔ پھر جو دعویٰ اپنے محل اور موقعہ پر ہے اُس کے ردّ کرنے سے تو ایک مُتّقی آدمی کا بدن کانپ جاتا ہے غرض پہلی دلیل اِس عاجز کی صداقت کی ایسے وقت میں دعویٰ کرنا ہے جسوقت کو سیّد الرسل صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم اور اولیاء کے مکاشفات نے مسیح موعود کے ظہور کے لئے خاص کیا ہے جبکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزمان ٹھہرے اور پھر اُس نبی آخر الزمان سے بھی تیرہ سو برس اور گذر گیا تو پھر اِس حدیث کو سوچو جس میں منبر کے سات درجہ کو جو رؤیا میں دیکھا گیا دُنیا کا سات ہزار برس قرار دیا ہے اور خوب غور کرو کہ کیا یہ زمانہ اُس حدیث کی رُو سے مسیح موعود کے لئے ضروری ہے یا نہیں۔ پھر حدیث الآیات بعد المأتین پر بھی خیال کرو جس سے علماء نے یہ نکالا ہے کہ تیرھویں صدی سے آیات کُبریٰ قیامت کی شروع ہوں گی کیونکہ اگر آیات سے آیات صُغریٰ مُراد ہیں تو اِس صُورت میں بعد المأتین کی شر ط لا حاصل ٹھہرتی ہے خود ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود قیامت
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 366
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 366
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/366/mode/1up
کی علامتوں میں سے ایک علامت ہے۔ پھر اگر حدیث کے یہ معنی کئے جائیں گے کہ دوسو برس کے بعد علامات کُبریٰ شروع ہوں گی تو یہ صریح خلاف ہے کیونکہ دو سو برس کے بعد تو کوئی علامت شروع نہ ہوئی اِ س لئے علماءؔ نے اِس حدیث میں مِأتین سے مرادوہ دو۲۰۰ سو لیا ہے جو ہزار کے بعد آوے یعنی بارہ سو برس۔ اور اِس تاویل میں علماء حق پر ہیں کیونکہ کچھ شک نہیں کہ بڑے بڑے فتنے تیرھویں صدی میں ہی ظہور میں آئے اوردجّالیّت کا طوفان اِسی صدی میں پھیلا اور 3 ۱؂ کا تماشابھی اِسی صدی میں دیکھا گیا۔ صدہا اسلامی ریاستیں خاک میں مل گئیں اور نصاریٰ نے خوب بلندی حاصل کی۔
اور یہ تیسر اشق بحث طلب کہ اگر درحقیقت کوئی مسیح موعود اِس اُمت میں سے آنے والا ہے تو اِس پر کیا دلیل ہے کہ وہ مسیح یہی عاجز ہے اِس کے بعض قرائنی دلائل تو ابھی ہم تحریر کر چکے ہیں حاجت اعادہ نہیں لیکن خاص طور کے دلائل اگر طلب ہوں تو سائل کو ذرہ صبر کرنا چاہیئے تا خود خداتعالیٰ اپنے بندے کی تائید میں دلائل نازل کرے اصل بات یہ ہے کہ ایسے دعاوی صرف معقولی یا منقولی دلائل سے کامل طور پر بپایۂ ثبوت نہیں پہنچ سکتے جب تک شخص مدعی کی برکات آسمانی تائیدات سے ثابت نہ ہوں اوریہی سنّت خدا تعالیٰ کی قدیم سے انبیاء علیہم السلام کے ساتھ جاری چلی آئی ہے مثلًا ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں اگرچہ پہلی کتابوں میں پیش از وقت خبریں دی گئیں تھیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود ایسے زمانہ میں تشریف لائے کہ وُہ زمانہ ایک عظیم الشان رسول کے مبعوث ہونے کا محتاج ہو رہا تھا لیکن باوجود اِن سب باتوں کے خدا تعالےٰ نے اپنے سچّے نبی کی سچّائی ثابت کرنے کے لیے پہلی پیشگوئیوں پر اکتفا نہ کی اور نہ دُوسرے قرائن کو مکتفیسمجھا بلکہ بہت سے آسمانی نشان اُس پا ک نبی کی تصدیق کے لئے نازل کئے۔ یہاں تک کہ اس نبی کریم کا سچا ہونا کُھل گیا اور آفتا ب کی طرح نُورِ صداقت چمک اُٹھا۔
سو اِسی طرح سمجھنا چاہیئے کہ اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اپنے اقوال میں صادق ہے تو
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 367
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 367
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/367/mode/1up
خد اتعالیٰ اپنی خاص مددوں سے اِس عاجز کی سچّائی کو ظاہر کر دے گا او اپنے خاص نشانوں سے دُنیا پر روشن کردؔ ے گا کہ یہ عاجز اُس کی طرف سے ہے نہ اپنے منصوبوں سے۔ پھر جس حالت میں آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے اپنے دعوے میں صادق ہونا ثابت ہوجائے تو پھر بعد اس کے کوئی وجہ انکار باقی نہیں رہ سکتی کیونکہ آسمانی نشان وہ چیز ہے جس سے بڑی بڑی نبوتیں ثابت ہو گئی ہیں رسالتیں ثابت ہو گئیں ہیں کتابوں کا خُداتعالیٰ کاکلام ہونا ثابت ہوگیاہے۔ پھر ان کے ذریعہ سے مثیل مسیح ہونا کیوں کر ثابت نہ ہو سکے غرض خدا تعالیٰ جس طور سے اپنے صادق بندوں کی صداقت ثابت کرتا آیا ہے اُسی طور سے اِس عاجز کی صداقت بھی ثابت کرے گا۔ دیکھنا چاہیئے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی نبوّت کے ماننے کے بارے میں کس قدر مشکلات یہودیوں کو پیش آگئی تھیں پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ عیسےٰ بادشاہ ہو کر آئے گا مگر مسیح ایک غریب مسکین کی صورت میں پیدا ہواپہلی کتابوں میں درج تھا کہ اُسکے آنے سے یہودیوں کے ایّام اقبال پھر عود کریں گے۔ اور یہودی اِس خیال میں لگے ہوئے تھے کہ وہ سلطنت رومیہ کے ساتھ لڑے گا اور اسرائیل کی بادشاہت کو پھر قائم کرے گا مگر معاملہ برعکس ہوا اور یہودی اور بھی مصیبت اور ذلّت میں پڑے۔ ایسا ہی پہلی کتابوں میں لکھا تھا کہ وُہ نہیں آئے گا جب تک ایلیا نبی دوبارہ دُنیا میں نہ آلیوے اِس لئے یہودی منتظر تھے کہ ایلیا کب آسمان سے نازل ہوتا ہے لیکن ایلیا نازل نہ ہؤا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دعویٰ کر دیا کہ مسیح موعود میں ہی ہوں اور یہ بھی کہا کہ یحییٰ نبی ہی ایلیا ہے مگر یہ تاویل یہودیوں کی نظر میں پسندیدہ نہ تھی بلکہ وُہ اِسی طرح حضرت ایلیا کے نزول کے منتظر تھے جیسا کہ آجکل حضرت عیسیٰ کے نزول کے مسلمان منتظر ہیں لیکن باوجود اِن سب روکوں کے جو درحقیقت سخت روکیں تھیں خدا تعالیٰ نے اپنے سچّے نبی کو ضائع نہ کیا اور بہت سے نشانوں سے ثابت کر دیا کہ وُہ صاد ق ہے جس سے بالضرورت نتیجہ نکالنا پڑا کہ مسیح موعود ہی ہے جو آخر سچا مانا گیا۔
سو عزیزو یقینًا سمجھو کہ صادق کی صداقت ظاہر کرنے کیلئے خدا تعالیٰ کے قدیم قانون میں ایک ہی
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 368
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 368
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/368/mode/1up
راہ ؔ ہے اور وہ یہ کہ آسمانی نشانوں سے ایسا ثابت کر دیوے کہ خد اتعالیٰ اس کے ساتھ ہے اور وہ خداتعالیٰ کا مقبول ہے۔ اَب سوچو کہ اِس عاجز کی طرف سے مسیح موعود ہونے کادعویٰ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کے دعوے سے کچھ بڑا نہیں ہے پھر ذر اغور کر لو کہ یہ تمام بزرگوار نبی کیونکر دُنیا میں تسلیم کئے گئے کیا بذریعہ آسمانی برکات اور تائیدات کے یا کوئی اور طریق تھا سو سمجھو کہ خدا تعالیٰ کی قدیم سنّت میں تغییرو تبدیل نہیں اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہے اور صرف افترا اور جعلسازی ہے تو انجام بہتر نہیں ہو گا اور خدا تعالیٰ ذلّت کے ساتھ ہلاک کرے گا اور پھر ابدالدہر تک لعن طعن کا نشانہ بنائے رکھے گا کیونکہ اِس سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں کہ ایک شخص کہے کہ مَیں منجانب اللہ بھیجا گیا ہوں اور دراصل نہیں بھیجا گیا اورکہے کہ مَیں خدا تعالیٰ کے مکالمہ سے مشرف ہوں اور اس کا کلام میرے دِل پر اُترتا ہے اور میری زبان پر جاری ہوتا ہے حالانکہ نہ کبھی اس سے خدا تعالیٰ کا مکالمہ واقع ہوا اورنہ کبھی خد اتعالیٰ کا کلام اُس کے دِ ل پر اُترا اور نہ کبھی اُس کی زبان پر جاری ہوا۔ الا لعنۃ اللّٰہ علی الکاذبین الذین یفترون علی اللّٰہ وھم فی الدنیا والاٰخرۃ من المخذولین۔
لیکن اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اُس نے مجھ کو بھیجا ہے اور اُسی کی طرف سے وہ کلا م ہے جس کا مجھ کو الہام ہوتا ہے تو مَیں ہرگز ضائع نہ کیا جاؤں گا اور مَیں ہلاک نہیں ہوں گا بلکہ خدا تعالیٰ اُسے ہلاک کرے گا جو میرے مقابل پر اُٹھے گا اور میر ا سدّ راہ ہو گا۔ مَیں متعجب ہوں کہ لوگ مسیح موعود کے لفظ کو کیوں عجیب سمجھتے ہیں اور اِس کا ثبوت کیوں مجھ سے مانگتے ہیں حالانکہ عند العقل یہ بات ممتنعات میں سے نہیں ہے کہ مسیح کی طرز پر اس اُمت میں بھی جو مثیل اُمت موسیٰ ہے کوئی پیدا ہو یہ بات فلاسفروں کے نزدیک بھی مسلم ہے کہ وجود بنی آدم دَوری ہے اور یہی سنّت اللہ اور قانون قدرت سے ثابت ہوا ہے کہ اِس دُنیا میں بعض بعض کے شبیہ پیدا ہو جاتے ہیں نیکوں کے شبیہ بھی پَیدا ہوتے رہتے ہیں اور ؔ بدوں کے بھی۔ ہاں منجانب اللہ ہونے کا ثبوت مانگنا چاہیئے، اُس ثبوت کے ذیل میں تمام ثبوت
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 369
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 369
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/369/mode/1up
آجاتے ہیں۔د یکھو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں پر ظاہر کیا کہ مَیں مثیل موسیٰ ہوں اور خد اتعالیٰ کا رسول ہوں تو جن پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ثابت ہو گئی ۔ اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مثیل موسیٰ ہونے میں بھی شک نہ رہا اور جیسا وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لائے ایسا مثیل ہونے پر لائے سومنجانب اللہ اور سچّے ملہم ہونے کا ثبوت تمام ثبوتوں کی جڑ ہے مثلًا نبی پر جو کتاب نازل ہوتی ہے اُس کے فقرہ فقرہ کا ثبوت کوئی نہیں مانگتا بلکہ رسالت کے ثابت ہونے سے خود وہ تمام واقعات ثابت ہو جاتے ہیں۔ عزیزو! یہ بات تو نہیں کہ خد اتعالیٰ میرے لئے کوئی نرالا قانون بنانا چاہتا ہے۔ خدا تعالیٰ کے قدیم قانون کو دیکھو اور اُس کے مطابق سوال کرو۔
پھر ماسوا اِس کے آج کی تاریخ تک جو گیارہ ربیع الاوّل ۱۳۱۱ ؁ھ مطابق بائیس ستمبر ۱۸۹۳ ؁ء اور نیز مطابق ہشتم اسوج سمت ۱۹۵۰ ۔ اور روز جمعہ ہے اِس عاجز سے تین ہزار سے کچھ زیادہ ایسے نشان ظاہر ہو چکے ہیں جن کے صدہا آدمی گواہ بلکہ بعض پیشگوئیوں کے پُورا ہونے کے تو ہزار ہا ہندو اور عیسائی اور دوسرے مخالف مذہب گواہ ہیں اور اگر تحقیق کی رُو سے دیکھو تو بعض نشان ایسے بھی ہیں کہ جنھیں لاکھ ہا دشمن دین اسلام اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر چکے ہیں اور اب تک وہ لوگ زندہ موجود ہیں جنہوں نے بکثرت ایسے نشان ملاحظہ کئے جو اِنسانی طاقتوں سے بالا تر ہیں اور ایسے بھی صدہا موجود ہیں جنہوں نے دُعاؤں کے قبول ہونے کی پیش از وقت خبر سُنی اور پھر اِس امر کو جیساکہ بیان کیا گیا تھا ظاہر ہوتے بھی دیکھ لیا اور ایسے بھی سولہ ہزار کے قریب لوگ ہندوستان اور انگلستان اور جرمن اور فرانس اور روس اور روم میں پنڈتوں اور یہودیوں کے فقیہوں اور مجوسیوں کے پیشروؤں اور عیسائیوں کے پادریوں اور قسیسوں اور بشپوں میں سے موجود ہیں جن کو رجسٹری کر ا کر اِس مضمون کے خط بھیجے گئے کہ درحقیقت دُنیا میں دین اسلام ہی سچا ہے اور دُوسرے تمام دین ا صلیّت اور حقانیت سے دور جا پڑے ہیں کسی کو مخالفوں میںؔ سے اگر شک ہو تو ہمارے مقابل پر آوے اور ایک سال تک رہ کر دین اسلام کے نشان ہم سے ملاحظہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 370
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 370
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/370/mode/1up
کرے۔ او راگرہم خطاپر نکلیں تو ہم سے بحساب دو سو روپیہ ماہواری ہرجانہ اپنے ایک برس کا لے لے ورنہ ہم اُس سے کچھ نہیں مانگتے صرف دینِ اسلام قبول کرے اور اگر چاہے تو اپنی تسلّی کے لئے وُہ روپیہ کسی بینک میں جمع کر الے لیکن کسی نے اِس طرف رُخ نہ کیا۔ اَب ایک دانا سوچ سکتا ہے کہ اگر یہ عاجز خدا تعالیٰ کی نصرت پر ایسا کامل یقین نہ رکھتا کہ جو متواتر مشاہدات اور ذاتی تجار ب کے بعد ہوتاہے تو کیونکر ممکن ہوتاکہ اسلام کے تمام مخالفوں کے مقابل پر یعنی اُن لوگوں کے مقابل پر جو رُوئے زمین پرنامی مخالف مذہب اور اپنی قوموں کے مقتدیٰ تھے اکیلا کھڑا ہو جا تا ظاہر ہے کہ ضعیف البنیان انسان اپنے نفس میں ہرگزایسی طاقت نہیں رکھتا کہ سارے جہان کا مقابلہ کر سکے پھر بجُز اپنے کامل یقین اور ذاتی تجارب کے اور کیاچیزتھی جس نے اِس پیش قدمی کے لئے اِس عاجز کو جُرأت بخشی اور نہ صرف زبانی بلکہ 3 دو ہزار روپیہ کے قریب ان اشتہارات کے طبع میں جو انگریزی اور اُردو میں چھاپے گئے تھے اور ایسا ہی اُن کی روانگی میں جو ہندوستان اور یورپ کے مُلکوں کی طر ف رجسٹری کر اکر خط بھیجے جاتے تھے خرچ ہوا مگر کسی کو جُرأت نہ ہوئی کہ مقابل پر آوے اور دشمنوں کے دلوں پر ہیبت پڑنا یہ بھی ایک نشان تھا۔ اِمتحان کے طور پر اِس زمانہ کے کسی پادری صاحب وغیرہ کو پوچھ کر دیکھو کہ کیا دعوت اسلام کیلئے رجسٹری شدہ خط اُن کے پاس نہیں پہنچا۔ پھر سوچ لو کہ جو شخص کئی ہزار روپیہ صرف اشتہارات کے طبع اور اُنکے مصارف روانگی میں خرچ کرے اور دشمن کے لئے ایک رقم کثیر بطور انعام بصورت فتح دشمن مقرر کرے کیا عند العقل ایسے شخص کا صرف جُھوٹ اورکذب اورافتراء پر مدار ہو سکتا ہے کیا آج تک دُنیا میں کوئی ایسا مفتری کتابوں میں پڑھاگیا یا سناگیا یا دیکھا گیا بھلا کوئی نظیر تو دو۔ عزیزو! یقینًا سمجھوکہ جب تک خُدا کسی کے ساتھ نہ ہو یہ استقامت اور یہ شجاعت اور یہ بذل مال ہرگز وقوع میں آہی نہیں سکتے کبھی کسی نے اِس زمانہ کے کسی مولوی کو دیکھا یا سنا کہ اُس نے دعوتِ اسلام کے لئے کسی اسسٹنٹ کمشنر انگریز کی طرف ہی کوئی خطؔ بھیجا لیکن اس جگہ نہ صرف اس قدر بلکہ پارلیمنٹ لنڈن اور شاہزادہ ولی عہد ملکہ معظمہ اور شہزادہ بسمارک کی خدمت میں بھی
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 371
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 371
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/371/mode/1up
دعوتِ اسلام کے اشتہار اور خطوط بھیجے گئے جن کی رسیدیں ابتک موجودہیں۔ اِ ن اشتہارات میں جن کے شائع کرنے پر قریبًا عرصہ دس۱۰ برس کا گذر چکا ہے یہ بھی لکھا گیا تھا کہ یہ عاجز حضرت مسیح ابن مریم سے ان کے کمالات میں مشابہ ہے او ر سوچنے والے کے لئے یہ ایک اور دلیل اس عاجز کی سچائی پر ہے کیونکہ اگر مثیل مسیح ہونے کادعویٰ صرف انسان کامنصوبہ ہوتا اور خداتعالیٰ کی طرف سے الہام نہ ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ مسیح موعود کے دعویٰ کرنے سے دس۱۰ برس بلکہ بارہ برس پہلے اُس دعویٰ کے مؤید متواتر الہامات اپنی طرف سے شائع کئے جاتے کیونکہ ہریک شخص سمجھ سکتا ہے کہ عادتًا انسان میں اتنی پیش بندیوں کی طاقت نہیں کہ جو کام یا دعویٰ ابھی بارہ برس کے بعد ظہور میں آنا ہے پہلے ہی سے اُس کی بنیاد قائم کی جائے اور پھر تعجب پر تعجب یہ کہ خداتعالیٰ ایسے ظالم مفتری کو اتنی لمبی مہلت بھی دیدے جسے آج تک بارہ برس گذر چکے ہوں اور مُفتری ایسا اپنے افتراء میں بیباک ہو جس نے پہلے ہی سے ارادہ کیا ہو جو بارہ برس کے بعد ایسا دعویٰ کرونگا اور اس دعویٰ کی بنیاد بارہ برس پہلے ہی یہ رکھی ہو کہ مَیں ضرور مثیل مسیح ہوں اور نہ صرف یُونہی بلکہ الہام کے حوالہ سے اپنے تئیں مثیل مسیح قرار دیا ہو اور کمالات میں اُس کے مشابہ اپنے تئیں ٹھہرایا ہو اور اُس کے جوہر ذاتی کا ایک ٹکڑا اپنے تئیں سمجھا ہو اورپھر اسی پر بس نہیں کی بلکہ علانیہ اور واشگاف طور پر بارہ برس پہلے اپنے دعویٰ مسیح ہونے سے اپنی کتاب میں (یعنی براہین احمدیہ میں ) یہ شائع کیا ہو کہ خد اتعالیٰ نے میرانام عیسیٰ رکھ دیا ہے اور مجھ کو وعدہ دیا ہے کہ مَیں تجھے تیری طبعی موت سے ماروں گا اور پھر اپنی طرف تجھے اُٹھا لوں گا اور منکروں کے تمام الزاموں سے تجھے بَری کروں گا اور تیرے تابعین کو قیامت تک تیرے دشمنوں پر غالب رکھوں گا اور خُداتعالیٰ اُس کو نہ صرف مُہلت بلکہ الہامی نشانوں سے اُس کی مدد بھی کرے اور اُس کے لئے ایک جماعت طیار کر دے حالانکہ وہ خودقرآن کریم میں فرماتا ہے کہ میں مفتری کو مدد نہیں دیتا اور وہ جلد ہلاک کیاجاتا ہے اور اُس کی جماعت متفرق کی جاتی ہے بلکہ سید الرسل کو اُس نے کہا کہ اگر تو ایکؔ ذرہ افترا کرتا تو تیری شاہ رگ کاٹ دی جاتی۔ پس اگر یہ بات سچ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 372
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 372
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/372/mode/1up
نہیں ہے کہ خداتعالیٰ مفتری کو جو جھوٹا مرسل بن کر خلق اللہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے بہت جلد پکڑ لیتا ہے تو اِس صُورت میں نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت بھی یہ استدلال صحیح نہیں ہوسکتا کہ اگر آنحضرؐت نعوذ باللہ مُفتری ہوتے تو خدا تعالیٰ ان کو پکڑتا پھر باوجوداِس لمبی مہلت اور خد اتعالیٰ کی صدہا تائیدوں اور صدہا نشانوں کے مخالفوں نے بھی اِس عاجز پر نزول عذاب کے لئے ہزار ہا دُعائیں کیں اور اپنے مباہلہ میں بھی رو رو کر اِس عاجز پرعذاب نازل ہوناچاہا مگر بجُز رسوائی اور ذلّت کے اُن کو کچھ بھی نصیب نہ ہؤا اور اللہ جلّ شانہ‘جانتا ہے کہ ہم نے کسی مباہلہ میں کسی دشمن پر عذاب نازل ہونا نہیں چاہا اور نہ عبد الحق غزنوی کے لئے جس نے بمقام امرتسر مباہلہ کیا تھا اُس کی موت کے لئے بد دُعا کی مگر اُس نے بہت کچھ جزع فزع کیا اور ہمارا مدعامباہلہ سے یہی تھااور اب تک یہ ہی ہے کہ آسمانی نشانیاں اِ س عاجز کی تائید میں عام طور پر ظاہر ہوں اور مخالف مباہل کی ذلّت اور رُسوائی کے لئے اتنا ہی کافی ہو گا کہ خداتعالیٰ ہر ایک مقام میں ہماری فتح ظاہر کرے۔ غرض یہ تمام صداقت کے نشان ہیں مگر اُس کے لئے جو غور کرے۔ افسوس کہ مجھ سے بار بار پُوچھا جاتا ہے کہ تمہارے دعویٰ مسیح موعود ہونے پر دلیل کیا ہے مگر ایسے لوگ نہیں سمجھتے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے موعو د ہونے پر اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النّبیّین موعودہونے پر کیا دلیل تھی۔ کیا یہی نہ تھی کہ بہت سے نشانوں سے خداتعالےٰ نے اُن کا صادق ہونا ثابت کر دیا اور حضرت مسیح کو گو یہودیوں نے قبول نہ کیا اور آج تک یہی کہتے ہیں کہ وہ مسیح موعود نہ تھا مگر اُن کے معجزات اور نشانوں سے ان کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہو گیا*ضروری مطالبہ توصادق اور منجانب اللہ ہونے پر ہوتا ہے اور مثیلیت ؔ کا ثبوت
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 373
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 373
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/373/mode/1up
تو اِسی کے ذیل میں آجاتا ہے باوجود اِس کے تمام لوازم موجودہ بلند آواز سے یہی پکار رہے ہیں کہ اس صدی کامجدّد مسیح موعود ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کی پاک کلام نے جو مسیح موعود کے زمانہ کے نشان ٹھہرائے تھے وُہ سب اِس زمانہ میں پُورے ہو گئے ہیں کیا تم نہیں دیکھتے کہ عیسائی سلطنت تمام دُنیا کی ریاستوں کونگلتی جاتی ہے اور ہر ایک نوع کی بلندی اُن کو حاصل ہے اور3۱؂
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 374
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 374
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/374/mode/1up
کاؔ مصداق ہیں اور اسلام کی دینی دنیوی حالت ایسی ہی ابتر ہو گئی ہے جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں کی حالت ابتر تھی اور جیسا کہ مسیح ایسے وقت میں آیا کہ اُس وقت دین کے لئے تلوار اُٹھانا بالکل نامناسب تھا وجہ یہ کہ یہودی اپنی بد چلنی سے اپنے مُلک کو کھو بیٹھے تھے اور رومی سلطنت کا ملک گیری میں کچھ قصور نہ تھا تا اُن پر تلوار اُٹھائی جاتی۔ یہی حال آج کل ہے کہ مُسلمانوں کے بادشاہوں نے آپ بے اعتدالیاں کرکے اور نالائق عیشوں میں مبتلا ہو کر اپنا ملک کھویا بلکہ اُن میں مُلک داری کی لیاقت ہی باقی نہ رہی سو خداتعالیٰ نے انگریزوں کو ملک دیا اور انہوں نے ملک لے کر کچھ ظلم نہ کیا۔ کسی کا نماز روزہ بند نہ کردیا۔ کسی کو حج جانے سے منع نہ کیا۔ بلکہ عام آزادی اور امن قائم کیا۔ پھر اُن پر باوجودمحسن ہونے کے کیونکر خدا ئے کریم و رحیم تلوار اُٹھانے کا فتویٰ دیتا کیااس کے پاس دین پھیلانے کا ذریعہ صرف ظاہری تلوار تھی رُوحانی تلوار نہ تھی پھر اس پرُ طرہ یہ کہ اِس وقت تلوار کا ایمان کچھ معتبر نہیں انگریزوں نے تلوار سے کسی کو اپنے مذہب میں داخل نہیں کیا تا تلوار کاجواب تلوار ہوتا بلکہ لوگ نئے فلسفہ اور نئے طبعی اور پادریوں کے وساوس سے ہلاک ہوئے
نبی کی رُوح کی سرایت سے پرواز کرتے تھے ورنہ حقیقی خالقیت کے ماننے سے عظیم الشان فساد اور شرک لازم آتا ہے۔ غرض تو معجزہ سے ہے اور بے جان کا باوجودبے جان ہونے کے پرواز یہ بڑا معجزہ ہے۔ ہاں اگر قرآن کریم کی کسی قرأت میں اس موقعہ پر فیکون حَیًّاکا لفظ موجود ہے یا تاریخی طور پرثابت ہے کہ درحقیقت وہ زِندہ ہوجاتے تھے اور انڈے بھی دیتے تھے اور اب تک اُن کی نسل سے بھی بہت سے پرندے موجود ہیں تو پھر ان کا ثبوت دینا چاہیئے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے کہ اگر تمام دُنیا چاہے کہ ایک مکّھی بنا سکے تو نہیں بن سکتی کیونکہ اِس سے تشابہ فی خلق اللہ لازم آتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ خدا تعالیٰ نے آپ ان کو خالق ہونے کا اذن دے رکھا تھا یہ خدا تعالیٰ پر افترا ہے کلام الٰہی میں تناقص نہیں خدا تعالیٰ کسی کو ایسے اذن نہیں دیا کرتا۔ اللہ تعالےٰ نے سیّد الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مکّھی بنانے کا بھی اذن نہ دیا۔ پھر مریم کے بیٹے کو یہ اذن کیونکر حاصل ہوا۔ خداتعالیٰ سے ڈرو اور مجاز کو حقیقت پر حمل نہ کرو۔ منہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 375
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 375
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/375/mode/1up
سو اس کا جواب اسلام کی حقانیت کا ثبوت دینا ہے نہ ؔ یہ کہ لوگوں پر تلوار چلانا۔ لہٰذا خداتعالیٰ نے مُسلمانوں کی حالت کے ہم رنگ پا کر ان کے لئے حضرت مسیح کی مانند بغیر سیف و سنان کے مصلح بھیجا اور اُس مصلح کو دجّالیت کے دُورکرنے کے لئے صرف آسمانی حربہ دیا اورجیسا کہ عیسیٰ عند منارۃ دمشق کے لفظوں سے چودہ سو کاعد د مفہوم ہوتا ہے وہ مسیح موعو د چودھویں صدی کے سرپر آیا اور جیسا کہ3 ۱؂ کے عدد سے ۱۲۷۵ نکلتے ہیں اِسی زمانہ میں وہ اصلاح خلق کے لئے طیار کیاگیا۔ اور جیسا کہ قرآن کریم نے بشارت دی کہ امواج فتن نصاریٰ کے وقت میں نفخ صور ہو گا ایسا ہی اُس کاظہور ہؤا اور کئی بندگان خدا نے الہام پا کر اُسکے ظہور سے پہلے اُسکے آنے کی خبردی بلکہ بعض نے بتیس برس پہلے اُس کے ظہور سے اُسکا نام بتلایا اور یہ کہا کہ مسیح موعود وُہی ہے اور اصل عیسیٰ فوت ہو چکا ہے اور بہت سے صاحب مکاشفات نے چودھویں صدی کو مسیح موعود کے آنیکا زمانہ قرار دیا اور اپنے الہامات لکھ گئے۔ اَب اِس کے بعد ایسے اُمور میں جن میں ایمان بالغیب کی بھی کچھ گنجائش رکھ لینی چاہیئے اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے۔
پھر ما سوا اِس کے بعض اور عظیم الشّان نشان اِس عاجز کی طرف سے معرض امتحان میں ہیں جیسا کہ منشی عبد اللہ آتھم صاحب امرتسری کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ۵ ِ جون ۱۸۹۳ ؁ء سے پندرہ مہینہ تک اور پنڈت لیکھرام پشاوری کی موت کی نسبت پیشگوئی جس کی میعاد ۱۸۹۳ ؁ء سے چھ سال تک ہے اور پھر مرز ا احمدؔ بیگ ہوشیار پوری کے داماد کی موت کی نسبت پیشگوئی جو پٹّی ضلع لاہور کا باشندہ ہے جس کی میعاد آج کی تاریخ سے جو اکیس ستمبر ۱۸۹۳ ؁ء ہے قریبًا گیارہ مہینے باقی رہ گئی ہے یہ تمام امور جو انسانی طاقتوں سے بالکل بالا تر ہیں ایک صادق یاکاذب کی شناخت کے لئے کافی ہیں کیونکہ احیا اور اماتت دونوں خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہیں اور جب تک کوئی شخص نہایت درجہ کا مقبول نہ ہو خدا تعالیٰ اُس کی خاطر سے کسی اس کے دشمن کو اس کی دعا سے ہلاک نہیں کر سکتا خصوصًا ایسے موقع پر کہ وہ شخص اپنے تئیں منجانب اللہ قرار دیوے اور اپنی اُس کرامت کو اپنے صادق ہونے کی دلیل ٹھہراوے۔ سو پیشگوئیاں کوئی معمولی بات نہیں کوئی ایسی بات نہیں جو
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 376
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 376
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/376/mode/1up
انسان کے اختیارؔ میں ہو بلکہ محض اللہجلّ شانہ‘کے اختیار میں ہیں سو اگر کوئی طالب حق ہے تو اِن پیشگوئیوں کے وقتوں کا انتظار کرے ۔ یہ تینوں پیشگوئیاں ہندوستان اور پنجاب کی تینوں بڑی قوموں پر حاوی ہیں یعنی ایک مسلمانوں سے تعلّق رکھتی ہے اور ایک ہندوؤں سے اور ایک عیسائیوں سے اور ان میں سے وُہ پیشگوئی جو مسلمان قوم سے تعلق رکھتی ہے بہت ہی عظیم الشان ہے کیونکہ اِس کے اجزاء یہ ہیں (ا) کہ مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری تین سال کی میعاد کے اندر فوت ہو (۲) اور پھر داماد اُس کا جو اس کی دُختر کلاں کا شوہر ہے اڑھائی سال کے اندر فوت ہو (۳) اورپھر یہ کہ مرزا احمد بیگ تاروز شادی دختر کلاں فوت نہ ہو (۴) اور پھر یہ کہ وہ دختر بھی تانکاح اور تا ایّام بیوہ ہونے اور نکاح ثانی کے فوت نہ ہو (۵) اورپھر یہ کہ یہ عاجز بھی اِن تمام واقعات کے پُورے ہونے تک فوت نہ ہو (۶) اورپھر یہ کہ اِس عاجز سے نکاح ہو جاوے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ تمام واقعات انسان کے اختیار میں نہیں۔
اور اگر اب بھی یہ تمام ثبوت میاں عطا محمد صاحب کے لئے کافی نہ ہوں تو پھر طریق سہل یہ ہے کہ اس تمام رسالہ کو غور سے پڑھنے کے بعد بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو اطلاع دیں کہ میری تسلّی اِن اُمور سے نہیں ہُوئی اور مَیں ابھی تک افترا سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نسبت کوئی نشان ظاہر ہو تو مَیں انشاء اللہ القدیر اُن کے بارہ میں توجہ کروں گا اورمَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی مخالف کے مقابل پر مجھے مغلوب نہیں کرے گا کیونکہ مَیں اُس کی طرف سے ہوں اور اُسکے دین کی تجدید کیلئے اُس کے حکم سے آیا ہوں لیکن چاہیئے کہ وہ اپنے اشتہار میں مجھے عام اجاز ت دیں کہ جس طور سے مَیں ان کے حق میں الہام پاؤں اس کو شائع کرا دوں اور مجھے تعجب ہے کہ جس حالت میں مسلمانوں کو کسی مجدّد کے ظاہر ہونے کے وقت خوش ہونا چاہیئے یہ پیچ و تاب کیوں ہے اور کیوں ان کو بُرا لگا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی حُجّت پُور ی کرنے کیلئے ایک شخص کو مامور کر دیا ہے لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ حال کے اکثر مسلمانوں کی ایمانی حالت نہایت ردّی ہو گئی ہے اور فلسفہ کی موجودہ زہر نے ان کے اعتقاد کی بیخ کنی کر دی ہے ان کی زبانوں پر بے شک اسلام ہے لیکن دل اسلام سے بہت دُورجا پڑے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 377
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 377
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/377/mode/1up
ہیںؔ خدائی کلام اور الٰہی قدرتیں اُن کی نظرمیں ہنسی کے لائق ہیں ۔ ایسا ہی میاں عطا محمد کا حال ہے مجھے یادہے کہ جب بمقام امرت سر مسٹر عبد اللہ آتھم صاحب کو ان کی موت کی نسبت پیشگوئی سُنائی گئی تو میاں عطا محمد نے میرے فرود گا ہ میں آکر میر ے رُوبرو ایک مثال کے طور پر بیان کیا کہ ایک ڈاکٹر نے میری موت کی خبر دی تھی کہ اتنی مدّت میں عطا محمد فوت ہو جائے گا مگر وہ مدّت خیر سے گذر گئی اور مَیں نے اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو سلام کیااُس نے کہا کہ تُو کون ہے۔ مَیں نے کہا وہی عطا محمد جس کے مرنے کی آپ نے پیشگوئی کی تھی ۔ مطلب یہ کہ یہ تمام اُمور جُھوٹ اورلغو ہیں۔ مگر میاں عطا محمد کو یاد رہے کہ ڈاکٹر کی مثال اس جگہ دینا صرف اس قدر ثابت کرتا ہے کہ آسمانی روشنی سے آپ بکلّی بے خبر ہیں بیشک ایک ہستی موجود ہے جس کانام خدا ہے اور وُہ اپنے سچّے مذہب کی تائید میں نہ صرف کسی زمانہ محدود تک بلکہ ہمیشہ ضرورت کے وقت میں آسمانی نشان دکھلاتا ہے اور دنیا کا ایمان نئے سرے قائم کرتا ہے۔ ڈاکٹر کی مثال سے ظاہر ہے کہ آپ کا اُس خدا پر ایمان کِس قدر ہے۔ اَب مَیں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس رسالہ کو اِسی جگہ ختم کردوں۔
فَالحَمْدُ لِلّٰہِ اَوَّلًا وَاٰخِرًا وَظَاہِرًا وبَاطِنًا ھُوَ مَوْلَانَا نِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرُ۔
المؤلّف
عاجز غلام احمدقادیانی
۲۲؍ ستمبر ۱۸۹۳ ؁ ء مقام قادِیان روزِ جُمعہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 378
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 378
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/378/mode/1up
گورؔ نمنٹ کی توجّہ کے لائق
یہ عاجز صاف اور مختصر لفظوں میں گذارش کرتا ہے کہ بباعث اس کے کہ گورنمنٹ انگریزی کے احسانات میرے والد بزرگوار میرزا غلام مرتضیٰ مرحوم کے وقت سے آج تک اس خاندان کے شامل حال ہیں اس لئے نہ کسی تکلّف سے بلکہ میرے رگ و ریشہ میں شکر گذاری اِس معزّر گورنمنٹ کی سمائی ہوئی ہے۔ میرے والد مرحوم کی سوانح میں سے وہ خدمات کسی طرح الگ ہو نہیں سکتیں جو وہ خلوص دل سے اِس گورنمنٹ کی خیر خواہی میں بجا لائے۔ اُنہوں نے اپنی حیثیت اور مقدرت کے موافق ہمیشہ گورنمنٹ کی خدمت گذاری میں اس کی مختلف حالتوں اور ضرورتوں کے وقت وہ صدق اور وفاداری دکھلائی کہ جب تک انسان سچّے دِل اور تہِ دل سے کسی کا خیر خواہ نہ ہو ہرگز دکھلا نہیں سکتا۔ سن ستاو۵۷ن کے مفسدہ میں جبکہ بے تمیز لوگوں نے اپنی محسن گورنمنٹ کا مقابلہ کر کے ملک میں شور ڈال دیاتب میرے والد بزرگوار نے پچا س گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اورپچاس سوار بہم پہنچا کر گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کئے اور پھر ایک دفعہ چود۱۴ہ سوار سے خدمت گذاری کی اور انہیں مخلصانہ خدمات کی وجہ سے وہ اس گورنمنٹ میں ہر دلعزیز ہو گئے چنانچہ جناب گورنر جنرل کے دربار میں عزّت کے ساتھ اُن کو کرسی ملتی تھی اور ہر یک درجہ کے حکام انگریزی بڑی عزّت اور دلجوئی سے پیش آتے تھے انھوں نے میرے بھائی کو صرف گورنمنٹ کی خدمت گذاری کے لئے بعض لڑائیوں پر بھیجا اور ہر ایک باب میں گورنمنٹ کی خوشنودی حاصل کی اور اپنی تمام عمر نیک نامی کے ساتھ بسر کر کے اِس ناپائدار دُنیا سے گذر گئے بعد اِس کے اِس عاجز کا بڑا بھائی میرزا غلام قادر جس قدر مدّت تک زندہ رہا اُس نے بھی اپنے والد مرحوم کے قدم پر قدم مار ا اور گورنمنٹ کی مخلصانہ خدمت میں ؔ بدل و جان مصروف رہا پھر وہ بھی اِس مسافرخانہ سے گذر گیا۔ مَیں امید رکھتا ہوں کہ اَب بھی بہت سے حکّام انگریز بقید حیات ہوں گے جنھوں نے میرے والد صاحب کو دیکھا اور اُنکی مخلصانہ خدمات کو بچشم خود مشاہدہ کیا ہے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 379
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 379
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/379/mode/1up
چنانچہ منجملہ اُن کے مسٹر گریفن ہیں جنہوں نے رئیسان پنجاب کے بارہ میں ایک کتاب بھی لکھی ہے اور اس میں میرے والد صاحب کا بھی خیر اور خوبی سے ذکر کیا ہے ۔
اب میری حالت یہ ہے کہ بعد وفات پا جانے اِن عزیزوں اور بزرگوں کے خُداتعالیٰ نے میرے دِل کو دُنیا سے پھیر دیا اور مَیں نے چاہا کہ خدا تعالیٰ سے میر امعاملہ کامل طور کی سچائی اور صدق اور محبّت سے ہو۔ سو اُس نے میرے دِل کو اپنی محبت سے بھر دیا مگر نہ میری کوشش سے بلکہ اپنے فضل سے۔ تب مَیں نے چاہا کہ جہاں تک میرے لئے ممکن ہے معرفت اور محبت الٰہی میں ترقی کروں اور صحیح طورپر معلوم کروں کہ خدا کون ہے اور اس کی رضا کن باتوں میں ہے سَو میں نے ہر یک تعصب سے دِل کو پاک کیا اور ہر یک آلودگی سے آنکھ کو صاف کرکے دیکھا اور خدا تعالیٰ سے مدد چاہی تب میرے پر کھل گیا اور خدا تعالیٰ نے اپنے پاک الہام سے مجھے آگاہی بخشی کہ خُدا وہ ذات ہے جو اپنی تمام صفات میں کامل ہے اور ازل سے ایک ہی رنگ اور ایک ہی طریق پر چلا آتا ہے نہ اس میں حدوث ہے نہ وہ پَیدا ہوتا ہے نہ مَرتا ہے اور کوئی پیدا ہونے والا اور مرنے والا بجُز عبودیت کے کوئی ایسا تعلق اس سے نہیں رکھتا جسے کہا جائے کہ وُہ اُس کی خُدا ئی کا حصّہ دار ہے بلکہ ایسا خیال کرنا اُس ذات کے انکار سے بھی بدتر اور انسان کی تمام بدکاریوں سے بڑھ کر ایک سخت درجہ کا بُر اخیال ہے۔ یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں میں سے سب سے زیادہ مرتبہ پر وہ لوگ ہیں جن کا نام نبی یا رسُول ہے بے شک وہ خدا تعالیٰ کے پیارے ہیں مقبول ہیں نہایت درجہ کے عزت دار ہیں اسی میں کھوئے گئے اور اُسی کا رُوپ بن گئے اور خُدا تعالیٰ کا جلال اُن میں سے ظاہر ہؤا اور خُدا اُن میں اور وُہ خدا میں مگر تاہم اُن میں سے ہم حقیقتًا نہ کسی کو خدا کہہ سکتے ہیں اور نہ خدا کا بیٹا بلاشبہ اِس اختلاف میں مُسلمان حق پر ہیں اور عیسائی غلطی پر۔ مگر یہ غلطی اِس زمانہ میں عیسائیوں میں قائم رہنے والی نظر نہیں آتی انگریز ایک ایسی قوم ہے جن کو خدا تعالیٰ دن بدن اقبال اور دولت اور عقل اور دانش کی طرف کھینچنا چاہتا ہے اور جو سچائی اورؔ راستبازی اور انصاف میں روزبروز ترقی کرتے جاتے ہیں اورعلوم جدیدہ اورقدیمہ کا تو گویا ایک چشمہ ہیں اسلئے اُمید قوی ہے کہ خدا تعالیٰ یہ دولت بھی اِنھیں دیگا بلکہ میری دانست
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 380
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 380
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/380/mode/1up
میں تو دِلوں کو اندر ہی اندر دے دی ہے بہر حال جبکہ ہمارے نظام بدنی اور امور دنیوی میں خداتعالیٰ نے اِس قوم میں سے ہمارے لئے گورنمنٹ قائم کی اور ہم نے اس گورنمنٹ کے وہ احسانات دیکھے جن کا شکرکرنا کوئی سہل بات نہیں اس لئے ہم اپنی معزّز گورنمنٹ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم اِس گورنمنٹ کے اسی طرح مخلص اورخیر خواہ ہیں جس طرح کہ ہمارے بزرگ تھے۔ ہمارے ہاتھ میں بجُز دعا کے اور کیا ہے۔سو ہم دُعا کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ اِس گورنمنٹ کو ہر یک شر سے محفوظ رکھے اور اس کے دشمن کو ذلت کے ساتھ پسپا کرے۔ خدا تعالیٰ نے ہم پر محسن گورنمنٹ کا شکر ایسا ہی فرض کیا ہے جیسا کہ اس کا شکر کرنا۔ سو اگر ہم اِس محسن گورنمنٹ کا شکر ادا نہ کریں یا کوئی شر اپنے ارادہ میں رکھیں تو ہم نے خُدا تعالیٰ کا بھی شکر ادا نہیں کیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا شکر اور کسی محسن گورنمنٹ کا شکر جس کو خدا ئے تعالیٰ اپنے بندوں کو بطور نعمت کے عطا کرے درحقیقت یہ دونوں ایک ہی چیز ہیں اور ایک دوسری سے وابستہ ہیں اور ایک کے چھوڑنے سے دوسری کا چھوڑنا لازم آجاتا ہے بعض احمق اور نادان سوال کرتے ہیں کہ اِس گورنمنٹ سے جہاد کرنا درست ہے یا نہیں۔ سو یاد رہے کہ یہ سوال اُن کا نہایت حماقت کا ہے کیونکہ جس کے احسانات کا شکر کرنا عین فرض اورواجب ہے اُس سے جہاد کیسا۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ محسن کی بدخواہی کرنا ایک ّ*** اور بَد کار آدمی کا کام ہے۔ سو میرا مذہب جس کو مَیں بار بار ظاہر کرتا ہوں یہی ہے کہ اسلام کے دو حصے ہیں ۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کریں دُوسرے اِس سلطنت کی جس نے امن قائم کیا ہو جس نے ظالموں کے ہاتھ سے اپنے سایہ میں ہمیں پناہ دی ہو۔ سو وہ سلطنت حکومت برطانیہ ہے اگرچہ یہ سچ ہے کہ ہم یورپ کی قوموں کے ساتھ اختلافِ مذہب رکھتے ہیں اور ہم ہرگز خدا تعالیٰ کی نسبت وہ باتیں ؔ پسند نہیں رکھتے جو اُنھوں نے پسند کی ہیں۔ لیکن اِن مذہبی امورکو رعیّت اور گورنمنٹ کے رشتہ سے کچھ علاقہ نہیں۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 381
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 381
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/381/mode/1up
خد اتعالیٰ ہمیں صاف تعلیم دیتا ہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ امن کے ساتھ بسر کرو اس کے شکر گزار اور فرمانبردار بنے رہو سو اگر ہم گورنمنٹ برطانیہ سے سرکشی کریں تو گویا اسلام اور خدا اوررسول سے سرکشی کرتے ہیں اِس صورت میں ہم سے زیادہ بد دیانت کون ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے قانون اور شریعت کو ہم نے چھوڑ دیا۔ اِ س سے انکار نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کا مذہبی تعصّب اُن کے عدل اور انصاف پر غالب آگیا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی جہالت سے ایک ایسے خونخوارمہدی کے انتظار میں ہیں کہ گویا وہ زمین کو مخالفوں کے خون سے سُرخ کردے گا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی ان کا خیال ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام بھی آسمان سے اِسی غرض سے اتریں گے کہ جو مہدی کے ہاتھ سے یہود ونصاریٰ زندہ رہ گئے ہیں اُن کے خون سے بھی زمین پر ایک دریا بہا دیں لیکن یہ خیالات بعض مسلمانوں مثلًا شیخ محمد حسین بٹالوی اور اس کی جماعت کے سرا سر غلط اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ۔ یہ نادان خون پسند ہیں اور محبت اور خیر خواہی خلق اللہ کی سرمُواِن میں نہیں لیکن ہمار ا سچا اور صحیح مذہب جس پر ہمیں یہ لوگ کافر ٹھہراتے ہیں یہ ہے کہ مہدی کے نام پر آنے والا کوئی نہیں ہاں مسیح موعود آگیا مگر کوئی تلوار نہیں چلے گی اور امن سے اور سچائی سے اور محبت سے زمانہ توحید کی طرف ایک پلٹا کھائے گااور وُہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ زمین پر نہ رام چندر پوجا جاوے گا نہ کرشن اورنہ حضرت مسیح علیہ السلام۔ اور سچے پرستار اپنے حقیقی خدا کی طرف رُخ کرلیں گے اور یاد رہے کہ جس بادشاہ کے زیر سایہ ہم باامن زندگی بسر کریں اُس کے حقوق کو نگاہ رکھنا فی الواقعہ خدا کے حقوق ادا کرنا ہے اور جب ہم ایسے بادشاہ کی دِلی صدق سے اطاعت کرتے ہیں تو گویا اُس وقت عبادت کر رہے ہیں۔ کیا اسلام کی یہ تعلیم ہو سکتی ہے کہ ہم اپنے محسن سے بدی کریں اورجو ہمیں ٹھنڈے سایہ میں جگہ دے اُس پر آگ برساویں اور جو ہمیں روٹی دے اُسے پتھر ماریں ایسے انسان سے اور کون زیادہ بد ذات ہو گا کہ جو احسان کرنیوالے کے ساتھ بدی کا خیال بھی دِل میں لاوے۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 382
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 382
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/382/mode/1up
اس ؔ تمام تمہید سے مدّعا یہ ہے کہ گورنمنٹ کو یاد رہے کہ ہم تہ دل سے اس کے شکر گذار ہیں اور بہمہ تن اس کی خیر خواہی میں مصروف ہیں اور مَیں نے سُنا ہے کہ ایک شخص ساکن بٹالہ ضلع گورداسپورہ نے جو اپنے تئیں مولوی ابو سعید محمد حسین کرکے مشہور کرتا ہے اس اختلاف رائے کے سبب سے جو بعض جُزئی مسائل میں وہ اِس عاجز کے ساتھ رکھتا ہے میری نسبت اپنی سخت دشمنی کی وجہ سے اور سراسر بے انصافی اور درندگی کے جوش سے خلاف واقعہ باتیں گورنمنٹ کو بدظن کرنے کے لئے لکھتا ہے اور میرے خاندان کی مخلصانہ اور خیر خواہی کے تعلق کو جو گورنمنٹ سے ہے غلط بیان کرتا اور چُھپاتا اور اپنے افتراؤں کے نیچے دباناچاہتا ہے اور محض عداوت اور حسد ذاتی کی تحریک سے اِس بات پر زور دیتا ہے کہ گویا نعوذ باللہ یہ عاجز گورنمنٹ کا سچا خیر خواہ نہیں ہے۔ یہ نادان ذرہ خیال نہیں کرتا کہ جُھوٹے منصوبوں اور بے بنیاد افتراؤں میں ہرگز وہ قوت پیدا نہیں ہوتی کہ جو سچ میں قدرتی طور پر پائی جاتی ہے۔ سچ کی طاقت کا ایک کرشمہ جُھوٹ کے پہاڑ کو ذرہ ذرہ کرکے دکھا دیتا ہے اور نیز جو جُھوٹ میں ہٹ دھرمی اور بے ایمانی کی عفونت ہوتی ہے وہ حکام کی خدا داد قوت شامہ سے چُھپ بھی نہیں سکتی۔ اور اگرچہ یہ تمام افترا اُس کے اِس قسم کے تھے کہ ازالہ حیثیت عرفی کی و جہ سے عدالت کے ذریعہ سے اس کی اِن تمام چالاکیوں کا تدارک کرایا جائے لیکن بالفعل یہی مناسب سمجھا گیا کہ معزز گورنمنٹ کو اِس شخص کے اِن افتراؤں سے اطلاع دیجائے اور امید ہے کہ داناگورنمنٹ ادنیٰ توجہ سے اس کے ان بہتانات کو بخوبی سمجھ جائے گی اور وزن کرلے گی اورجانچ لے گی اورایسے مفسد کا تدارک نہایت ضروری ہے تا آئندہ کوئی خبیث نفس ایسی حرکات ناشائستہ کی طرف جُرأت نہ کرے۔ ہماری دانا اور عادل گورنمنٹ اِس بات سے بے خبر نہیں ہے کہ ہر یک مخبر کا یہ فرض ہوناچاہیئے کہ جس معاملہ میں وہ قطعی طور پر گورنمنٹ کو اطلاع دیوے اور اپنی طرف سے قطعی رائے ظاہر کرے تو اِس سے پہلے وہ اِس معاملہ کو کما حقّہٗ تحقیق بھی کر لیوے۔ اب عادل گورنمنٹ اگر چاہے تو ایک خیر خواہ خاندان کے لئے جس کو اس نے اپنی خوشنودی کی اعلیٰ درجہ کی اسناد دے رکھی ہے یہ تکلیف اُٹھا سکتی ہے کہ اِس دروغ گو مخبر کو جو بذریعہ اپنے رسالہ اشاعت کے خلاف واقعہ خبریں اس
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 383
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 383
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/383/mode/1up
عاجز کی نسبت گورنمنٹ ؔ کو پہنچاتا ہے طلب کر کے اس بات کا ثبوت مانگے کہ اس نے کن دلائل اور وجوہ سے اِس عاجز کو گورنمنٹ انگریزی کا مفسد قرار دیا ہے اور اگر وہ دلائل شافیہ بیان نہ کر سکے تو پھر جس قدر مناسب ہو قانونی سزا کا اس کو کچھ مزہ چکھا دیوے کہ یہ ایک عین مصلحت اورایک سچّے خیر خواہ خاندان کی اس میں دلجوئی متصوّر ہے اگرچہ ایسے جوش بعض مخالفین مذہب کی تحریرات میں بھی پائے جاتے ہیں جیسے پادری عمادالدین وغیرہ وغیرہ ۔ مگر وہ بباعث ناواقفیّت اور جوش مذہب اور لا علاج تعصّب کے کسی قدر معذور بھی ہیں اور حق بات کو منہ سے نہیں نکال سکتے مگریہ شیخ بٹالوی درحقیقت حد سے گذرگیا ہے۔ عادل گورنمنٹ اس شخص کی تحریرات ۹۲249۱۸۹۳ ؁ء کے ساتھ اِن تحریرات کو بھی دیکھے جو ۱۸۸۴ ؁ء میں اِس شخص کے اشاعۃ السنۃ میں اس عاجز کی نسبت موجود ہیں تا معلوم ہو کہ یہ شخص منافق اور حق پوش اور دو رنگی اختیار کرنے والا ہے اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ زیرک اور دانا اور عادل اور وسیع واقفیّت والی گورنمنٹ کے آگے ایسی مکّاریاں چل نہیں سکتیں اور یہ عمیق اندیش گورنمنٹ دور سے ہوا کا رُخ دیکھ لیتی ہے اور متعصبانہ مخبریوں کو حقیر اور شرمناک حسد یقین کر جاتی ہے لیکن تاہم گورنمنٹ پر کوئی وحی تو نازل نہیں ہوتی اور ممکن ہے کہ چند شر یروں کے یک زبان ہونے سے ایسا دھوکا لگے جو انسان کو لگ سکتا ہے اس لئے ہماری طرف سے کسی قدر عرض حال ضروری تھا۔
اب ہم گورنمنٹ کے ملاحظہ کے لئے ۱۸۸۴ ؁ء کے اشاعۃ السنہ یعنی نمبر ۶ جلد ۷ سے جو براھین احمدیہ پرریویو ہے کسی قدر عبارت اس شخص کے رسالہ مذکورہ کی گورنمنٹ کے ملاحظہ کے لئے نقل کرتے ہیں تادانا گورنمنٹ خود ملاحظہ فرمالیوے کہ اس شخص نے اس عاجز کی نسبت پہلے کیا لکھا تھا اور اب کیا لکھتا ہے۔
اور وہ عبارت یہ ہے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 384
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 384
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/384/mode/1up
پولٹیکلؔ نکتہ چینی کا جواب
مؤ ّ لف براہین احمدیہ کے حالات و خیالات سے جس قدر ہم واقف ہیں ہمارے معاصرین سے ایسے واقف کم نکلیں گے ۔ مؤ ّ لف صاحب ہمارے ہم وطن ہیں بلکہ اوائل عمر کے (جبکہ ہم قطبی اور شرح ملّا پڑھتے تھے) ہمارے ہم مکتب اُس زمانہ سے آج تک ہم میں اُن میں خط و کتابت و ملاقات و مراسلت برابر جاری رہی ہے اِسلئے ہمارا یہ کہنا کہ ہم اُن کے حا لا ت و خیالات سے بہت واقف ہیں مبالغہ قرار نہ دیئے جانے کے لائق ہے۔
گورنمنٹ انگلشیہ کی مخالفت کا خیال کبھی مؤلف کے آس پاس بھی نہیں پھٹکا۔ وُہ کیا اُن کے خاندان میں اِس خیال کا کوئی آدمی نہیں ہے بلکہ اُن کے والد بزرگوار مرزا غلام مرتضیٰ نے عین زمانہ طوفان بے تمیزی (غدر۱۸۵۷ ؁ ء) میں گورنمنٹ کا خیر خواہ جان نثار وفادار ہونا عملًا بھی ثابت کر دکھایا۔ اِس غدر میں جبکہ ترموں کے گھاٹ پر متصل گورداسپورہ مفسدین بد طینت نے یورش کی تھی ان کے والد ماجد نے باوجودیکہ وُہ بہت بڑے جاگیر دار و سردار نہ تھے اپنی جیب خاص سے پچاس گھوڑے معہ سواران و سازو سامان طیارکر کے زیر کمان اپنے فرزند دلبند مرزاغلام قادر مرحوم کے گورنمنٹ کی معاونت میں دیئے جِس پر گورنمنٹ کی طرف سے ان کی اس خدمت پر شکریہ ادا ہوا اور کسی قدر انعام بھی ملا۔ علاوہ براں اِن خدمات کے لحاظ سے مرزاصاحب مرحوم (والدمؤ ّ لف ) ہمیشہ مورد کرم و لطف گورنمنٹ رہے اور در بار گورنری میں عزّت کے ساتھ اُن کو کرسی ملتی رہی اور حکّامِ اعلیٰ ضلع و قسمت (یعنی صاحبان ڈپٹی کمشنر وکمشنر) (چٹھیات خوشنودی مزاج ) جن میں سے کئی چٹھیات اس وقت ہمارے سامنے رکھی ہوئی ہیں وقتًا فوقتًا ان کو عطاکرتے رہے ہیں ۔ اِن چٹھیات سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بڑے دِلی جوش سے لکھی گئی ہیں جو بغیر ایک خاص خیر خواہ اور سچّے وفادار کے کسی دُوسرے کے لئے تحریر نہیں ہو سکتیں۔ اکثر صاحبان ڈپٹی کمشنر و کمشنر ایّام دَورہ میں از راہ خوش خلقی و محبّت و دِلجوئی مرزا صاحب کے مکان پر جاکر ملاقات کرتے رہے اور ان کی وفات پر صاحبان کمشنر و فنانشل کمشنر اور صاحب لفٹنٹ گورنر بہادر
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 385
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 385
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/385/mode/1up
نے اپنےؔ خطوط میں بہت سا افسوس ظاہر کیا ہے اور آئندہ کے لئے قدر دانی اور اس خاندان کے لحاظ اور رعایت کا وعدہ فرمایا ہے۔ اسی شرف خاندان اور خیر خواہ قدیم ہونے کے لحاظ سے صاحب فنانشل کمشنر بہادر نے ان دنوں میں مرزا سلطان احمد (فرزندمؤ ّ لف) کے لئے تحصیل داری کی خاص سفارش کی ہے جس کی رپور ٹ بہ تعمیل حکم ضلع سے روانہ ہوچکی ہے۔ الغرض یہ خاندان قدیم سے خیرخواہ اور زیر نظر عنایت گورنمنٹ چلا آتا ہے۔ ان حالات و واقعات کی تصدیق کے لئے منجملہ ان چٹھیات کے جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہیں ہم تین چٹھیاں حاشیہ میں نقل کرتے ہیں تاکہ حاسد ناعاقبت اندیش اس خاندان کی گورنمنٹ انگریزی میں قدر و منزلت سے آگاہ ہوکر اپنے ارادہ بدونیت فاسد سے باز آویں اور عام مسلمان ان کے دھوکہ میں آکر اس کتاب اور اس کے مؤ ّ لف سے بدگمان اور متوحش نہ ہوں۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 386
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 386
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/386/mode/1up
ہرچندؔ خاص کر مؤلف کتاب (میرزا غلام احمد صاحب) سے ان کے عالمانہ اور درویشانہ وضع و حالت کے سبب کوئی ایسی کارروائی نہیں ہوئی مگر جس قدر خیرخواہی گورنمنٹ منصب علماء اور درویشوں کے مناسب ہے اور ان کی
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 387
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 387
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/387/mode/1up
قدرتؔ میں داخل ہے اس سے انہوں نے بھی دریغ نہیں کیا۔ عالموں کی تلوار قلم ہے اور فقیروں کا ہتھیار دعا۔ مؤ ّ لف نے ان ہتھیاروں کے ساتھ گورنمنٹ کی خیرخواہی و معاونت سے دریغ نہیں فرمایا۔ اپنی قلم سے بارہا لکھ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 388
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 388
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/388/mode/1up
چکےؔ اور اپنی اسی کتاب میں جس کی اشاعت ان کا شباروزی فرض ہے وہ صاف درج کرچکے* ہیں کہ گورنمنٹ انگلشیہ خدا کی نعمتوں سے ایک نعمت ہے۔ یہ ایک عظیم الشان رحمت ہے یہ سلطنت مسلمانوں کے لئے آسمانی برکت کا
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 389
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 389
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/389/mode/1up
حکمؔ رکھتی ہے خداوند رحیم نے اس سلطنت کو مسلمانوں کیلئے ایک بار ان رحمت بھیجا ایسی سلطنت سے لڑائی اور جہاد کرنا قطعی حرام ہے۔ اسلام کا ہرگز یہ اصول نہیں کہ مسلمانوں کی قوم جس سلطنت کے ماتحت رہ کراس کا
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 390
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 390
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/390/mode/1up
احسان اٹھاوؔ ے۔ اس کے ظل حمایت میں بامن و آسایش رہ کر اپنا مقسوم کھاوے اس کے انعامات متواترہ سے پرورش پاوے پھر اسی پر عقرب کی طرح نیش چلاوے۔ اور دعا سے بھی انہوں نے اس گورنمنٹ کو بہت دفعہ
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 391
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 391
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/391/mode/1up
یاد کیا ہے۔ ان ؔ کی آخری دعا ان کے اشتہار مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں جس کی بیس ہزار کاپی چھپوا کر ہندو اور انگلینڈ میں انہوں نے شائع کرنی چاہی ہے یہ کلمات دعائیہ مرقوم ہیں ۔ انگریز جن کی شائستہ اور مہذب اور
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 392
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 392
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/392/mode/1up
بارحمؔ گورنمنٹ نے ہم کو اپنے احسانات اور دوستانہ معاملات سے ممنون کرکے اس بات کے لئے دلی جوش بخشا ہے کہ ہم ان کے دین و دنیا کیلئے دلی جوش سے بہبودی اور سلامتی چاہیں تاان کے گورے وسپید
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 393
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 393
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/393/mode/1up
منہؔ جس طرح دنیا میں خوبصورت ہیں آخرت میں بھی نورانی و منور ہوں۔ فنسئل اللہ تعالی خیرھم فی الدنیا والاخرۃ۔ اللھم اھدھم و ایدھم بروح منک واجعل لھم حظا کثیرا فی دینک-الخ
پھر ایسے شخص پر یہ بہتان کہ اس کے دل میں گورنمنٹ انگلشیہ کی مخالفت ہے اور اس کی کتاب کی نسبت یہ گمان کہ وہ گورنمنٹ کے مخالف ہے پر لے سرے کی بے ایمانی اور شرارت شیطانی نہیں تو کیا ہے۔ خیر خواہان سلطنت و پیروان مذہب اسلام ان یا وہ گو حاسدوں کی ایسی باتیں ہرگزنہ سنیں اور اس کتاب یا مؤ ّ لف کی طرف سے سوء ظنی کو اپنے دلوں میں جگہ نہ دیں گورنمنٹ سے تو ہم پہلے ہی مطمئن ہیں کہ وہ ان باتوں کومؤ ّ لف کی نسبت ہرگز نہ سنے گی- بلکہ جو ان باتوں کو گورنمنٹ تک پہنچائے گا اس کو اس کی دروغگوئی پر سرزنش کرے گی۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 394
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 394
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/394/mode/1up
التواؔ ئے جلسہ ۲۷ دسمبر ۱۸۹۳ء
ہم افسوس سے لکھتے ہیں کہ چند ایسے وجوہ ہم کو پیش آئے جنہوں نے ہماری رائے کو اس طرف مائل کیا کہ اب کی دفعہ اس جلسہ کو ملتوی رکھا جائے اور چونکہ بعض لوگ تعجب کریں گے کہ اس التوا کا موجب کیا ہے لہٰذا بطور اختصار کسی قدر ان وجوہ میں سے لکھا جاتا ہے۔
اول۔ یہ کہ اس جلسہ سے مدعا اور اصل مطلب یہ تھا کہ ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کر لیں کہ ان کے دل آخرت کی طرف بکلی جھک جائیں اور ان کے اندر خدا تعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد اور تقویٰ اور خدا ترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مواخات میں دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمات کے لئے سرگرمی اختیار کریں لیکن اس پہلے جلسہ کے بعد ایسا اثر نہیں دیکھا گیا بلکہ خاص جلسہ کے دنوں میں ہی بعض کی شکایت سنی گئی کہ وہ اپنے بعض بھائیوں کی بدخوئی سے شاکی ہیں اور بعض اس مجمع کثیر میں اپنے اپنے آرام کے لئے دوسرے لوگوں سے کج خلقی ظاہر کرتے ہیں گویا وہ مجمع ہی ان کے لئے موجب ابتلا ہوگیا اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ جلسہ کے بعد کوئی بہت عمدہ اور نیک اثر اب تک اس جماعت کے بعض لوگوں میں ظاہر نہیں ہوا اور اس تجربہ کے لئے یہ تقریب پیش آئی کہ ان دنوں سے آج تک ایک جماعت کثیر مہمانوں کی اس عاجز کے پاس بطور تبادل رہتی ہے یعنی بعض آتے اور بعض جاتے ہیں اور بعض وقت یہ جماعت سو۱۰۰ سو ۱۰۰مہمان تک بھی پہنچ گئی ہے اور بعض وقت اس سے کم لیکن اس اجتماع میں بعض دفعہ بباعث تنگی مکانات اور قلت وسائل مہمانداری ایسے نالائق رنجش اور خودغرضی کی سخت گفتگو بعض مہمانوں میں باہم ہوتی دیکھی ہے کہ جیسے ریل میں بیٹھنے والے تنگی مکان کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں اور اگر کوئی بیچارہ عین ریل چلنے کے قریب اپنی گٹھری کے سمیت مارے اندیشہ کے دوڑتا دوڑتا ان کے پاس پہنچ جاوے تو اس کو دھکے دیتے اور دروازہ بند کر لیتے ہیں کہ ہم میں جگہ نہیں حالانکہ گنجائش نکل سکتی ہے مگر سخت دلی ظاہر کرتے ہیں اور وہ ٹکٹ لئے اور بقچہ اٹھائے ادھر ادھر پھرتا ہے اور کوئی اس پر رحم نہیں کرتا مگر آخر ریل کے ملازم جبراً اس کو جگہ دلاتے ہیں۔ سو ایسا ہی یہ اجتماع بھی بعض اخلاقی حالتوں کے بگاڑنے کا ایک ذریعہ معلوم ہوتا ہے اور جب تک مہمانداری کے پورے وسائل میسرنہ ہوں اور جب تک خدا تعالیٰ ہماری جماعت میں اپنے خاص فضل سے کچھ مادہ رفق اور نرمی اور ہمدردی اور
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 395
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 395
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/395/mode/1up
خدمت اور جفاکشی کاپیدا نہ کرے تب تک یہ جلسہ قرین مصلحت معلوم نہیں ہوتا حالانکہ دل تو یہی چاہتا ہے کہ مبائعین محض لِلّٰہ سفر کرکے آویں اور میری صحبت میں رہیں اور کچھ تبدیلی پیدا کرکے جائیں کیونکہ موت کا اعتبار نہیں۔ میرے دیکھنے میں مبائعین کو فائدہ ہے مگر مجھے حقیقی طور پر وہی دیکھتا ہے جو صبر کے ساتھ دین کو تلاش کرتا ہے اور فقط دین کو چاہتا ہے سو ایسے پاک نیت لوگوں کا آنا ہمیشہ بہتر ہے کسی جلسہ پر موقوف نہیں بلکہ دوسرے وقتوں میں وہ فرصت اور فراغت سے باتیں کرسکتے ہیں اور یہ جلسہ ایسا تو نہیں ہے کہ دنیا کے میلوں کی طرح خواہ انخواہ التزام اس کا لازم ہے بلکہ اس کا انعقاد صحت نیت اور حسن ثمرات پر ؔ موقوف ہے ورنہ بغیر اس کے ہیچ اور جب تک یہ معلوم نہ ہو اور تجربہ شہادت نہ دے کہ اس جلسہ سے دینی فائدہ یہ ہے اور لوگوں کے چال چلن اور اخلاق پر اس کا یہ اثر ہے تب تک ایسا جلسہ صرف فضول ہی نہیں بلکہ اس علم کے بعد اس اجتماع سے نتائج نیک پیدا نہیں ہوتے۔ ایک معصیت اور طریق ضلالت اور بدعت شنیعہ ہے۔ میں ہرگز نہیں چاہتا کہ حال کے بعض پیرزادوں کی طرح صرف ظاہری شوکت دکھانے کے لئے اپنے مبائعین کو اکٹھا کروں بلکہ وہ علت غائی جس کے لئے میں حیلہ نکالتا ہوں اصلاح خلق اللہ ہے پھر اگر کوئی امر یا انتظام موجب اصلاح نہ ہو بلکہ موجب فساد ہو تو مخلوق میں سے میرے جیسا اس کا کوئی دشمن نہیں اور اخی مکرم حضرت مولوی نور الدین صاحب سلمہ تعالیٰ بارہا مجھ سے یہ تذکرہ کرچکے ہیں کہ ہماری جماعت کے اکثر لوگوں نے اب تک کوئی خاص اہلیت اور تہذیب اور پاک دلی اور پرہیز گاری اور للہی محبت باہم پیدا نہیں کی سو میں دیکھتا ہوں کہ مولوی صاحب موصوف کا یہ مقولہ بالکل صحیح ہے۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہوکر اوراس عاجز سے بیعت کرکے اور عہد توبہ نصوح کرکے پھر بھی ویسے کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں وہ مارے تکبر کے سیدھے منہ سے السلام علیک نہیں کرسکتے چہ جائیکہ خوش خلقی اور ہمدردی سے پیش آویں اور انہیں سفلہ اور خود غرض اس قدر دیکھتا ہوں کہ وہ ادنیٰ ادنیٰ خود غرضی کی بناء پر لڑتے اور ایک دوسرے سے دست بد امن ہوتے ہیں اور ناکارہ باتوں کی وجہ سے ایک دوسرے پر حملہ ہوتا ہے بلکہ بسااوقات گالیوں تک نوبت پہنچتی ہے اور دلوں میں کینے پیدا کرلیتے ہیں اور کھانے پینے کی قسموں پرنفسانی بحثیں ہوتی ہیں اور اگرچہ نجیب اور سعید بھی ہماری جماعت میں بہت بلکہ یقیناً دو سو سے زیادہ ہی ہیں جن پر خدا تعالیٰ کا فضل ہے جو نصیحتوں کو سن کر روتے اور عاقبت کو مقدم رکھتے ہیں اور ان کے دلوں پر نصیحتوں کا عجیب اثر ہوتا ہے لیکن میں اس وقت کج دل لوگوں کا ذکر کرتا ہوں اور میں حیران ہوتا ہوں کہ خدایا یہ کیا حال ہے۔ یہ کونسی جماعت ہے جو میرے ساتھ ہے۔ نفسانی لالچوں پر کیوں ان کے دل گرے جاتے ہیں اور کیوں ایک بھائی دوسرے بھائی کو ستاتا اور اس سے بلندی چاہتا ہے۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا ایمان ہرگز درست نہیں ہوسکتا جب تک اپنے آرام پر اپنے بھائی کا آرام حتی الوسع مقدم نہ ٹھہراوے۔ اگر میرا ایک بھائی میرے
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 396
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 396
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/396/mode/1up
سامنے باوجود اپنے ضعف اور بیماری کے زمین پر سوتا ہے اور میں باوجود اپنی صحت اور تندرستی کے چارپائی پر قبضہ کرتا ہوں تاوہ اس پر بیٹھ نہ جاوے تو میری حالت پر افسوس ہے اگر میں نہ اٹھوں اور محبت اور ہمدردی کی راہ سے اپنی چارپائی اس کو نہ دوں اور اپنے لئے فرش زمین پسند نہ کروں اگر میرا بھائی بیمار ہے اور کسی درد سے لاچار ہے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں اس کے مقابل پر امن سے سور ہوں اور اس کے لئے جہاں تک میرے بس میں ہے آرام رسانی کی تدبیر نہ کروں اور اگر کوئی میرا دینی بھائی اپنی نفسانیت سے مجھ سے کچھ سخت گوئی کرے تو میری حالت پر حیف ہے اگر میں بھی دیدہ و دانستہ اس سے سختی سے پیش آؤں بلکہ مجھے چاہیئے کہ میں اس کی باتوں پر صبر کرو ں اور اپنی نمازوں میں اس کے لئے رو رو کر دعا کروں کیونکہ وہ میرا بھائی ہے اور روحانی طور پر بیمار ہے اگر میرا بھائی سادہ ہو یا کم علم یا سادگی سے کوئی خطا اس سے سرزد ہو تو مجھے نہیں چاہیئے کہ میں اس سے ٹھٹھا کروں یا چیں برحبیں ہوکر تیزی دکھاؤں یا بدنیتی سے اس کی عیب گیری کروں کہ یہ سب ہلاکت کی راہیں ہیں کوئی سچا مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل نرم نہ ہو جب تک وہ اپنے تئیں ہریک سے ذلیل تر نہ سمجھے اور ساری مشیختیں دور نہ ہوجائیں۔ خادم القوم ہونا مخدوم بننے کی نشانی ہے اور غریبوں سے نرم ہوکر اور جھک کر باتؔ کرنا مقبول الٰہی ہونے کی علامت ہے اور بدی کا نیکی کے ساتھ جواب دینا سعادت کے آثار ہیں اور غصہ کو کھا لینا اور تلخ بات کو پی جانا نہایت درجہ کی جوانمردی ہے مگر میں دیکھتا ہوں کہ یہ باتیں ہماری جماعت کے بعض لوگوں میں نہیں بلکہ بعض میں ایسی بے تہذیبی ہے کہ اگر ایک بھائی ضد سے اس کی چارپائی پر بیٹھا ہے تو وہ سختی سے اس کو اٹھانا چاہتا ہے اور اگر نہیں اٹھتا تو چارپائی کو الٹا دیتا ہے اور اس کو نیچے گرا تاہے *پھر دوسرا بھی فرق نہیں کرتا اور وہ اس کو گندی گالیاں دیتا ہے اور تمام بخارات نکالتا ہے یہ حالات ہیں جو اس مجمع میں مشاہدہ کرتا ہوں تب دل کباب ہوتا اور جلتا ہے اور بے اختیار دل میں یہ خواہش پیدا ہوتی ہے کہ اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم سے اچھا ہے پھر میں کس خوشی کی امید سے لوگوں کو جلسہ کے لئے اکٹھے کروں۔ یہ دنیا کے تماشوں میں سے کوئی تماشا نہیں ابھی تک میں جانتا ہوں کہ میں اکیلا ہوں بجز ایک مختصر گروہ رفیقوں کے جو دو۲۰۰ سو سے کسی قدر زیادہ ہیں جن پر خدا کی خاص رحمت ہے جن میں سے اول درجہ پر میرے خالص دوست اور محب مولوی حکیم نور الدین صاحب اور چند اور دوست ہیں جن کو میں جانتا ہوں کہ وہ صرف خدا تعالیٰ کے لئے میرے ساتھ تعلق محبت رکھتے ہیں اور میری باتوں اور نصیحتوں کو تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کی آخرت پر نظر ہے سو وہ انشاء اللہ دونوں جہانوں میں میرے ساتھ ہیں اورمیں ان کے ساتھ ہوں ۔ میں اپنے ساتھ ان لوگوں کو کیا سمجھوں جن کے دل میرے ساتھ نہیں
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 397
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 397
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/397/mode/1up
جو اس کو نہیں پہچانتے جس کو میں نے پہچانا ہے اور نہ اس کی عظمتیں اپنے دلوں میں بٹھاتے ہیں اور نہ ٹھٹھوں اور بیراہیوں کے وقت خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے اور کبھی نہیں سوچتے کہ ہم ایک زہر کھا رہے ہیں جس کا بالضرور نتیجہ موت ہے۔ درحقیقت وہ ایسے ہیں جن کو شیطانی راہیں چھوڑنا منظور ہی نہیں۔ یاد رہے کہ جو میری راہ پر چلنا نہیں چاہتا وہ مجھ میں سے نہیں اور اپنے دعویٰ میں جھوٹا ہے اور میرے مذہب کو قبول کرنا نہیں چاہتا بلکہ اپنا مذہب پسندیدہ سمجھتا ہے وہ مجھ سے ایسا دور ہے جیسا کہ مغرب مشرق سے۔ وہ خطا پر ہے سمجھتا ہے کہ میں اس کے ساتھ ہوں میں بار بار کہتا ہوں کہ آنکھوں کو پاک کرو اور ان کو روحانیت کے طور سے ایسا ہی روشن کرو جیسا کہ وہ ظاہری طور پر روشن ہیں ظاہری رویت تو حیوانات میں بھی موجود ہے مگر انسان اس وقت سوجا کھا کہلا سکتا ہے جب کہ باطنی رویت یعنی نیک و بد کی شناخت کا اس کو حصہ ملے اور پھر نیکی کی طرف جھک جائے سو تم اپنی آنکھوں کے لئے نہ صرف چارپاؤں کی بینائی بلکہ حقیقی بینائی ڈھونڈو اور اپنے دلوں سے دنیا کے بت باہر پھینکو کہ دنیا دین کی مخالف ہے جلد مرو گے اور دیکھو گے کہ نجات انہیں کو ہے کہ جو دنیا کے جذبات سے بیزار اور بری اور صاف دل تھے۔ میں کہتے کہتے ان باتوں کو تھک گیا کہ اگر تمہاری یہی حالتیں ہیں تو پھر تم میں اورغیروں میں فرق ہی کیا ہے لیکن یہ دل کچھ ایسے ہیں کہ توجہ نہیں کرتے اور ان آنکھوں سے مجھے بینائی کی توقع نہیں لیکن خدا اگر چاہے اور میں تو ایسے لوگوں سے دنیا اور آخرت میں بیزار ہوں۔ اگر میں صرف اکیلا کسی جنگل میں ہوتا تو میرے لئے ایسے لوگوں کی رفاقت سے بہتر تھا جو خدا تعالیٰ کے احکام کو عظمت سے نہیں دیکھتے اور اس کے جلال اور عزت سے نہیں کانپتے اگر انسان بغیر حقیقی راستبازی کے صرف منہ سے کہے کہ میں مسلمان ہوں یا اگر ایک بھوکا صرف زبان پر روٹی کا نام لاوے تو کیا فائدہ ان طریقوں سے نہ وہ نجات پائے گا اور نہ وہ سیر ہوگا۔ کیا خدا تعالیٰ دلوں کو نہیں دیکھتا۔ کیا اس علیم و حکیم کی گہری نگاہ انسان کی طبیعت کے پاتال تک نہیں پہنچتی۔
پس اے نادانوخوب سمجھو اے غافلو خوب سوچ لوکہ بغیر سچی پاکیزگی ایمانی اور اخلاقی اور اعمالی کے کسی طرح رہائی نہیں اورجو ؔ شخص ہر طرح سے گندہ رہ کر پھر اپنے تئیں مسلمان سمجھتا ہے وہ خدا تعالیٰ کو نہیں بلکہ وہ اپنے تئیں دھوکا دیتا ہے اور مجھے ان لوگوں سے کیا کام جو سچے دل سے دینی احکام اپنے سر پر نہیں اٹھا لیتے اور رسول کریم کے پاک جوئے کے نیچے صدق دل سے اپنی گردنیں نہیں دیتے اور راستبازی کو اختیار نہیں کرتے اور فاسقانہ عادتوں سے بیزار ہونا نہیں چاہتے اور ٹھٹھے کی مجالس کو نہیں چھوڑتے اور ناپاکی کے خیالوں کو ترک نہیں کرتے اور انسانیت اور تہذیب اور صبر اور نرمی کا جامہ نہیں پہنتے بلکہ غریبوں کو ستاتے اور عاجزوں کو دھکے دیتے اور اکڑ کر بازاروں میں چلتے اور تکبر سے کرسیوں پر بیٹھے ہیں اور اپنے تئیں بڑا سمجھتے ہیں اور کوئی بڑا نہیں مگر وہی جو اپنے تئیں چھوٹا خیال کرے۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 398
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 398
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/398/mode/1up
مبارک وہ لوگ جو اپنے تئیں سب سے زیادہ ذلیل اور چھوٹا سمجھتے ہیں اور شرم سے بات کرتے ہیں اور غریبوں اور مسکینوں کی عزت کرتے اور عاجزوں کو تعظیم سے پیش آتے ہیں اور کبھی شرارت اور تکبر کی وجہ سے ٹھٹھا نہیں کرتے اور اپنے رب کریم کو یاد رکھتے ہیں اور زمین پر غریبی سے چلتے ہیں۔ سو میں بار بار کہتا ہوں کہ ایسے ہی لوگ ہیں جن کے لئے نجات طیار کی گئی ہے۔ جو شخص شرارت اور تکبر اور خودپسندی اور غرور اور دنیا پرستی اور لالچ اور بدکاری کی دوزخ سے اسی جہان میں باہر نہیں وہ اس جہان میں کبھی باہر نہیں ہوگا۔ میں کیا کروں اور کہاں سے ایسے الفاظ لاؤں جو اس گروہ کے دلوں پر کارگر ہوں خدایا مجھے ایسے الفاظ عطا فرما اور ایسی تقریریں الہام کر جو ان دلوں پر اپنا نور ڈالیں اور اپنی تریاقی خاصیت سے ان کی زہر کو دور کردیں۔ میری جان اس شوق سے تڑپ رہی ہے کہ کبھی وہ بھی دن ہوکہ اپنی جماعت میں بکثرت ایسے لوگ دیکھوں جنہوں نے درحقیقت جھوٹ چھوڑ دیا اور ایک سچا عہد اپنے خدا سے کر لیا کہ وہ ہریک شر سے اپنے تئیں بچائیں گے اور تکبر سے جو تمام شرارتوں کی جڑ ہے بالکل دور جا پڑیں گے اور اپنے رب سے ڈرتے رہیں گے مگر ابھی تک بجز خاص چند آدمیوں کے ایسی شکلیں مجھے نظر نہیں آتیں۔ ہاں نماز پڑھتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ نماز کیا شے ہے۔ جب تک دل فروتنی کا سجدہ نہ کرے صرف ظاہری سجدوں پر امید رکھنا طمع خام ہے جیسا کہ قربانیوں کا خون اور گوشت خدا تک نہیں پہنچتا صرف تقویٰ پہنچتی ہے ایسا ہی جسمانی رکوع و سجود بھی ہیچ ہے جب تک دل کا رکوع و سجود قیام نہ ہو۔ دل کا قیام یہ ہے کہ اس کے حکموں پر قائم ہو اور رکوع یہ کہ اس کی طرف جھکے اور سجود یہ کہ اس کیلئے اپنے وجود سے دست بردار ہو۔ سو افسوس ہزار افسوس کہ ان باتوں کا کچھ بھی اثر میں ان میں نہیں دیکھتا مگر دعا کرتا ہوں اور جب تک مجھ میں دم زندگی ہے کئے جاؤں گا اور دعا یہی ہے کہ خدا تعالیٰ میری اس جماعت کے دلوں کو پاک کرے اور اپنی رحمت کا ہاتھ لمبا کرکے ان کے دل اپنی طرف پھیر دے اور تمام شرارتیں اور کینے انکے دلوں سے اٹھا دے اور باہمی سچی محبت عطا کردے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ دعا کسی وقت قبول ہوگی اور خدا میری دعاؤں کو ضائع نہیں کرے گا۔ ہاں میں یہ بھی دعا کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص میری جماعت میں خدا تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں بدبخت ازلی ہے جس کے لئے یہ مقدر ہی نہیں کہ سچی پاکیزگی اور خدا ترسی اس کو حاصل ہو تو اس کو اے قادر خدا میری طرف سے بھی منحرف کردے جیسا کہ وہ تیری طرف سے منحرف ہے اور اس کی جگہ کوئی اور لا جس کا دل نرم اور جس کی جان میں تیری طلب ہو۔ اب میری یہ حالت ہے کہ بیعت کرنے والے سے میں ایسا ڈرتا ہوں جیسا کہ کوئی شیر سے۔ اسیؔ وجہ سے کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی دنیا کا کیڑا رہ کر میرے ساتھ پیوند کرے۔ پس التواء جلسہ کا ایک یہ سبب ہے جو میں نے بیان کیا۔
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 399
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 399
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/399/mode/1up
دوسرے یہ کہ ابھی ہمارے سامان نہایت ناتمام ہیں اور صادق جاں فشاں بہت کم اور بہت سے کام ہمارے اشاعت کتب کے متعلق قلت مخلصوں کی سبب سے باقی پڑے ہیں پھر ایسی صورت میں جلسہ کا اتنا بڑا اہتمام جو صدہا آدمی خاص اور عام کئی دن آکر قیام پذیر رہیں اور جلسہ سابقہ کی طرح بعض دور دراز کے غریب مسافروں کو اپنی طرف سے زاد راہ دیا جاوے اور کماحقّہٗ کئی روز صدہا آدمیوں کی مہمانداری کی جاوے اور دوسرے لوازم چارپائی وغیرہ کا صدہا لوگوں کے لئے بندوبست کیا جائے اور ان کے فروکش ہونے کے لئے کافی مکانات بنائے جائیں۔ اتنی توفیق ابھی ہم میں نہیں اور نہ ہمارے مخلص دوستوں میں۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ ان تمام سامانوں کو درست کرنا ہزارہا روپیہ کا خرچ چاہتا ہے اور اگر قرضہ وغیرہ پر اس کا انتظام بھی کیا جائے تو بڑے سخت گناہ کی بات ہے کہ جو ضروریات دین پیش آ رہی ہیں وہ تو نظر انداز ہیں اور ایسے اخراجات جو کسی کو یاد بھی نہیں رہتے اپنے ذمہ ڈال کر ایک رقم کثیر قرضہ کی خوانخواہ اپنے نفس پر ڈال لی جائے۔ ابھی باوجود نہ ہونے کسی جلسہ کے مہمانداری کا سلسلہ ایسا ترقی پر ہے کہ ایک برس سے یہ حالت ہو رہی ہے کہ کبھی تیس تیس چالیس چالیس اور کبھی سو تک مہمانوں کی موجودہ میزان کی ہر روزہ نوبت پہنچ جاتی ہے جن میں اکثر ایسے غربا فقرا دور دراز ملکوں کے ہوتے ہیں جو جاتے وقت ان کو زادراہ دیکر رخصت کرنا پڑتا ہے برابر یہ سلسلہ ہر روز لگا ہوا ہے اور اس کے اہتمام میں مکرمی مولوی حکیم نور الدین صاحب بدل و جان کوشش کر رہے ہیں اکثر دور کے مسافروں کو اپنے پاس سے زاد راہ دیتے ہیں چنانچہ بعض کو قریب تیس تیس یا چالیس چالیس روپیہ کے دینے کا اتفاق ہوا ہے اور دو دو چار چار تو معمول ہے اور نہ صرف یہی اخراجات بلکہ مہمانداری کے اخراجات کے متعلق قریب تین چار سو روپیہ کے انہوں نے اپنی ذاتی جوانمردی اور کریم النفسی سے علاوہ امدادات سابقہ کے ان ایام میں دیئے ہیں اور نیز طبع کتب کے اکثر اخراجات انہوں نے اپنے ذمہ کر لئے کیونکہ کتابوں کے طبع کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے گو بوجہ ایسے لابدی مصارف کے اپنے مطبع کا اب تک انتظام نہیں ہو سکا لیکن مولوی صاحب موصوف ان خدمات میں بدل و جان مصروف ہیں اور بعض دوسرے دوست بھی اپنی ہمت اور استطاعت کے موافق خدمت میں لگے ہوئے ہیں مگر پھر کب تک اس قدر مصارف کا تحمل نہایت محدود آمدن سے ممکن ہے۔ غرض ان وجوہ کے باعث سے اب کے سال التوائے جلسہ مناسب دیکھتا ہوں آگے اللہ جلّ شانہٗ کا جیسا ارادہ ہو۔ کیونکہ اس کا ارادہ انسان ضعیف کے ارادہ پر غالب ہے۔ مجھے معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے اور میں نہیں جانتاکہ خدا تعالیٰ کا منشاء
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 400
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 400
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/400/mode/1up
میری اس تحریر کے موافق ہے یا اس کی تقدیر میں وہ امر ہے جو اب تک مجھے معلوم نہیں۔ وافوض امری الی اللہ واتوکل علیہ ھو مولانا نعم المولی و نعم النصیر۔
خاکسار غلام احمد از قادیان
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 401
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 401
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/401/mode/1up
قصیدہ
درمدح حضرت اقدس مولانا و مرشدنا مسیح موعود صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ
از اٰ ثم بندہ رحمت علی از مقام برناوہ
ای ذات تو کان گوہرِ علم
دانی تو بہائے جوہرِ علم
از علم دلِ تو گنج بر گنج
و ز خامہ کشادۂ درِ علم
علمست بذات روح پرور
تو آمدی روح پرورِ علم
تو نافہ کشائے پردۂ راز
تو نشر شمیم عنبرِ علم
در دیدہ نشین تو مردم آسا
ای صدر نشین و سرورِ علم
تو نورِ چراغِ دینِ احمد
تو شمع منار و منبرِ علم
ایمان ز تو جیغہ جیغۂ ابرو
تو غازۂ روئے دلبرِ علم
تو مظہر آخرین منہم
تو اوّل حرفِ آخرِ علم
برتُست رہِ ہُدیٰ نمودن
امروز توئی چو رہبرِ علم
اکنون تو کلاہ ناز بر کن
ای تاجِ مزین سرِ علم
دادی خبرِ وفاتِ عیسیٰ
کو بود نہان بدفترِ علم
فرخندہ بمان کہ تازہ کردی
زیبندہ لباس دربرِ علم
آن وعدہ کہ عالمِ زمانہ
کردست بما زِ داورِ علم
بینم بہ رخت نشان موعود
گونیست مرا بصائرِ علم
تو مہدی و ہادئ زمانے
تو عیسیٰ و خوش پیمبرِ علم
در دست پئی گلوی دجال
داری تو کشیدہ خنجرِ علم
بر روہمہ عالمان صورت
دارند حجاب اکبرِ علم
آنرا کہ ہدایت ازل ہست
آرند کشان کشان برِ علم
برمن نظرے زِ چشم رحمت
ای روئے تو نیک منظرِ علم
من تشنہ لب و فتادہ در رہ
تو ساقی آب کوثرِ علم
ِللہ تو مکن زِ من دریغے
نورے زِ مہ منوّرِ علم
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 402
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- شَھادَۃُ القُرآن: صفحہ 402
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/402/mode/1up
Ruhani Khazain Volume 6. Page: 403
روحانی خزائن ۔ کمپیوٹرائزڈ: جلد ۶- انڈیکس: صفحہ 403
http://www.alislam.org/library/brow...in_Computerised/?l=Urdu&p=6#page/403/mode/1up
انڈیکس
روحانی خزائن جلدنمبر۶
مرتبہ :مکرم نور اللہ خان صاحب
زیرنگرانی
سیدعبدالحی
آیات قرآنیہ ۳
احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ و سلم ۸
مضامین ۹
اسماء ۳۳
مقامات ۴۴
کتابیات ۴۶
 
Last edited:
Top