• السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اس فورم کا مقصد باہم گفت و شنید کا دروازہ کھول کر مزہبی مخالفت کو احسن طریق سے سلجھانے کی ایک مخلص کوشش ہے ۔ اللہ ہم سب کو ھدایت دے اور تا حیات خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا تابع بنائے رکھے ۔ آمین
  • [IMG]
  • السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ مہربانی فرما کر اخلاق حسنہ کا مظاہرہ فرمائیں۔ اگر ایک فریق دوسرے کو گمراہ سمجھتا ہے تو اس کو احسن طریقے سے سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوشش کرے۔ جزاک اللہ

تحریکات خلفائے احمدیت ۔ یونی کوڈ

MindRoasterMir

لا غالب الاللہ
رکن انتظامیہ
منتظم اعلیٰ
معاون
مستقل رکن
تحریکات خلفائے احمدیت ۔ یونی کوڈ


حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی تحریکات
دورخلافت
27 مئی 1908ء تا 13 مارچ 1914ء


دور خلافت کا منشور
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ سیرت صدیقی کے حامل تھے۔ آپ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلے انہی امور پر توجہ مرکوز کی جو حضرت ابوبکر نے زیر نظر رکھے تھے اور رسول کریم ﷺ اور حضرت مسیح موعود ؑ کی بعثت کے مقاصد کو پورا کرنے والے تھے۔
چنانچہ آپ نے بیعت لینے سے قبل جو خطاب فرمایا اس میں گویا اپنے دور خلافت کا منشور بیان کردیا۔ جو کئی تحریکات پر مشتمل تھا۔ آپ نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے بعد ابوبکرؓ کے زمانہ میں صحابہ کرامؓ کو بہت سی مساعی جمیلہ کرنی پڑیں۔ سب سے اہم کام جو کیا وہ جمع قرآن ہے اب موجودہ صورت میں جمع یہ ہے کہ اس پر عملدرآمد کرنے کی طرف خاص توجہ ہو۔
پھر حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰۃ کا انتظام کیا۔ یہ ایک بڑا عظیم الشان کام ہے۔ انتظام زکوٰۃ کے لئے اعلیٰ درجے کی فرمانبرداری کی ضرورت ہے۔ پھر کنبہ کی پرورش ہے۔ غرض کئی ایسے کام ہیں۔ اب تمہاری طبیعتوں کے رخ کسی طرف ہوں۔ تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔ اگر یہ بات تمہیں منظور ہو تو میں طوعاً و کرہاً اس بوجھ کو اٹھاتا ہوں۔
وہ بیعت کے دس شرائط بدستور قائم ہیں۔ ان میں خصوصیت سے میں قرآن کو سیکھنے اور زکوٰۃ کا انتظام کرنے، واعظین کے بہم پہنچانے اور ان امور کو جو وقتاً فوقتاً اللہ میرے دل میں ڈالے کو شامل کرتا ہوں۔ پھر تعلیم دینیات دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں جس نے فرمایا:
ولتکن منکم امۃ یدعون الی الخیر۔
یاد رکھو ساری خوبیاں وحدت میں ہیں جس قوم کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی۔
(بدر 2 جون 1908ء ص8)
جن الفاظ میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے بیعت لی وہ یہ تھے:۔
’’آج میں نورالدین کے ہاتھ پر تمام ان شرائط کے ساتھ بیعت کرتا ہوں جن شرائط سے مسیح موعود اور مہدی معہود بیعت لیا کرتے تھے اور نیز اقرار کرتا ہوں کہ خصوصیت سے قرآن و سنت اور احادیث صحیحہ کے پڑھنے سننے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا اور اشاعت اسلام میں جان و مال سے بقدر وسعت و طاقت کمر بستہ رہوں گا اور انتظام زکوٰۃ بہت احتیاط سے کروں گا اور باہمی اخوان میں رشتہ محبت کے قائم رکھنے اور قائم کرنے میں سعی کروں گا۔
استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ (تین بار)
رب انی ظلمت نفسی و اعترفت بذنبی فاغفرلی ذنوبی فانہ لا یغفر الذنوب الا انت
ترجمہ: اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔ میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔ آمین (بدر 2 جون 1908ء ص1)
جلسہ سالانہ مارچ 1910ء کے موقعہ پر آپ نے الفاظ بیعت میں مندرجہ ذیل کلمات کا اضافہ فرمایا کہ ’’میں شرک نہیں کروں گا۔ چوری نہیں کروں گا۔ بدکاریوں کے نزدیک نہیں جاؤں گا۔ کسی پر بہتان نہیں لگاؤں گا۔ چھوٹے بچوں کو ضائع نہیں کروں گا۔ نماز کی پابندی کروں گا اور زکوٰۃ اور حج اپنی طاقتوں کے موافق ادا کرنے کو مستعد رہوں گا‘‘۔
بلکہ یہ بھی فرمایا کہ میں الفاظ بیعت میں یہ بھی بڑھانا چاہتا تھا کہ
’’آپس میں محبت بڑھائیں گے‘‘۔
مگر میں نے دیکھا کہ لوگ آپس میں لڑ پڑتے ہیں۔ اس لئے میں ڈرگیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ معاہدہ کا خلاف کریں اور پھر معاہدہ کی خلاف ورزی سے نفاق پیدا ہوجاتا ہے۔ (حیات نور ص337)
قومی وحدت کے لئے تحریکات
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ ایک طرف تو خلافت کے استحکام کے لئے اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لارہے تھے تو دوسری طرف قومی وحدت کے قیام کے لئے سرگرم عمل تھے۔ آپ کے خطبات اور تقاریر پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی ہر گفتگو کا ایک اہم نکتہ باہمی محبت اور پیار اور افتراق سے بچنے کی تلقین پر مشتمل ہوتا تھا۔ ایک بار فرمایا:
پہلی نصیحت یہ ہے اور خدا کے لئے اسے مان لو۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے۔ لا تنازعوا فتفشلوا وتذھب ریحکم۔ اس منازعت سے تم بودے ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا بگڑ جاوے گی۔ پس تنازعہ نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ چونکہ خالق فطرت ہے اور جانتا تھا کہ جھگڑا ہوگا۔ اس لئے فرمایا۔ فاصبروا ان اللہ مع الصابرین۔ پس جب سیکرٹری اور پریذیڈنٹ سے منازعت ہو۔ تو اللہ تعالیٰ کے لئے صبر کرو۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہوگا۔
(بدر 12 جنوری 1911ئ)
پھر فرمایا:
میں یہ چاہتا ہوں کہ تم فرمانبردار رہو۔ اختلاف نہ کریو، جھگڑا نہ کرنا۔
… مجھے شوق یہ ہے کہ میری جماعت میں تفرقہ نہ ہو۔ دنیا کوئی چیز نہیں میں بہت راضی ہوں گا۔ اگر تم میں اتفاق ہو۔ … میں نے تمہاری بھلائی کے لئے بہت دعائیں کیں۔ مجھے طمع نہیں اور ہر گز نہیں۔ پھر فرمایا مجھے تم سے کوئی دنیا کا طمع نہیں۔ مجھے میرا مولیٰ بہت رازوں سے دیتا ہے اور ضرورت سے زیادہ دیتا ہے۔ خبردار جھگڑا نہ کرنا۔ تفرقہ نہ کرنا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے گا اور اس میں تمہاری عزت اور طاقت باقی رہے گی۔ نہیں تو کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ (بدر 26 جنوری 1911ئ)
خطبہ عید الفطر میں فرمایا:۔
’’کوئی قوم سوائے وحدت کے نہیں بن سکتی بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ کوئی انسان سوائے وحدت کے انسان نہیں بن سکتا۔ کوئی محلہ سوائے وحدت کے محلہ نہیں بن سکتا اور کوئی گاؤں سوائے وحدت کے گاؤں نہیں بن سکتا اور کوئی ملک سوائے وحدت کے ملک نہیں بن سکتا اور کوئی سلطنت سوائے وحدت کے سلطنت نہیں بن سکتی … پھر میں کہتا ہوں کہ جب تک وحدت نہ ہوگی تم کوئی ترقی نہیں کر سکتے‘‘۔
(بدر 21؍اکتوبر 1909ء ص10)
جھگڑوں سے بچنے کی تلقین
5 جولائی 1913ء کو حضور نے چغل خوری، نمامی، ہیزم کشی، سخن چینی اور فساد کی باتیں پھیلانے اور ایک دوسرے کو لڑوانے پر نہایت مؤثر اور دل ہلادینے والے پیرایہ میں سخت تنبیہہ فرمائی اور استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ تین بار پڑھوا کر گویا ایک قسم کی بیعت لی۔ اس موقعہ کے مخاطب زیادہ تر طالب علم تھے۔
اسی ضمن میں اپریل 1910ء میں حضرت خلیفہ اولؓ نے بذریعہ اخباریہ اعلان فرمایا کہ بعض احمدی دنیوی معاملات و معاہدات کرلیتے ہیں اور ہم سے مشورہ کرنا بلکہ اطلاع تک دینا پسند نہیں کرتے مگر جب مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں تو شکایتی خطوط آنے لگ جاتے ہیں۔ پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ لین دین میں عاقبت اندیشی، شریعت اور قانون عدالت کے مطابق کام کریں۔ صرف احمدی کہلانا کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں اور نہ اس سے احمدیت پر کوئی الزام ہے خدا کی مخلوق کثیر ہے۔ امت محمدیہ کہلانے والے جب بدمعاملگی کرتے ہیں تو اس طرح آنحضرت ﷺ پر کوئی اعتراض نہیں۔ مخلوق خدا میں سے کوئی بدمعاملگی کرتا ہے تو اس سے خالق پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ (بدر 5 مئی 1910ء ص8 کالم1)
تجنید تیار کرنے کی تحریک
جماعت کو امت واحدہ بنانے اور خلیفہ وقت کے ہر حکم سے مطلع کرنے کے لئے حضور نے جولائی 1908ء میں تحریک فرمائی کہ جماعت کی مکمل تجنید تیار کی جائے تاکہ قادیان سے ہر فرد جماعت تک پیغام پہنچایا جاسکے۔ چنانچہ الحکم 18 جولائی 1908ء میں تحریر ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح نے ارادہ فرمایا ہے کہ تمام جماعت مبائعین کی ایک مکمل اور مفصل فہرست طیار ہو تاکہ تمام جماعت کے نام اور پورے پتے معلوم ہونے کی وجہ سے وہ ضروری امور جو وقتاً فوقتاً قادیان سے قومی معاملات کی نسبت شائع ہوتے ہیں۔ ان سے حتی الوسع تمام قوم کو اطلاع پہنچانے کا انتظام ہو سکے۔ (الحکم 18 جولائی 1908ء ص8 کالم3)
نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے میموریل
جماعت کے اندرونی اتحاد سے آگے بڑھ کر حضور تمام ہندوستان کے مسلمانوں کی وحدت کے خواہشمند تھے۔
امت مسلمہ میں قومی وحدت کے قیام کے لئے جمعہ کا دن نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ یہ مسلمانوں کے لئے ایک نہایت ہی مبارک اور مقدس دن ہے اور اس کو مومنوں کے لئے عید قرار دیا گیا ہے۔ اس لئے قرآن کریم میں حکم ہے کہ ہر قسم کے کاروبار کو چھوڑ کر جمعہ کی نماز میں حاضر ہو جاؤ۔
ہندوستان میں اسلامی سلطنت میں جمعہ کی تعطیل ہوتی تھی مگر انگریزوں کی آمد کے بعد اتوار کی تعطیل شروع ہوگئی اور مسلمان اس مقدس فریضہ کی ادائیگی سے محروم رہ گئے۔
سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ نے یکم جنوری 1896ء کو مسلمانان ہند کی طرف سے وائسرائے ہند کے نام اشتہار شائع کیا جس میں حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ مسلمانوں کے لئے جمعہ کی تعطیل کا اعلان کریں۔
مگر مولوی محمد حسین بٹالوی کی مخالفت کی وجہ سے یہ تحریک پیش رفت نہ کرسکی۔
چونکہ گورنمنٹ برطانیہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ 12 دسمبر 1911ء کو ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں شاہنشاہ ہند جارج پنجم کی رسم تاج پوشی ادا کی جائے۔ اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر ایک میموریل تیار کیا۔ جس میں وائسرائے ہند کی معرفت شاہ جارج پنجم سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ مسلمانوں کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے دو گھنٹہ کی رخصت عنایت فرمائی جایا کرے۔ اس میموریل کا خلاصہ حضور کے الفاظ میں درج ذیل ہے۔
’’جمعہ کا دن اسلام میں ایک نہایت مبارک دن ہے اور یہ مسلمانوں کی ایک عید ہے بلکہ اس عید کی فرضیت پر جس قدر زور اسلام میں دیا گیا ہے۔ ان دو بڑی عیدوں پر بھی زور نہیں دیا گیا۔ جن کو سب خاص و عام جانتے ہیں۔ بلکہ یہ عید نہ صرف عید ہے بلکہ اس دن کے لئے قرآن کریم میں یہ خاص طور پر حکم دیا گیا ہے کہ جب جمعہ کی اذان ہو جائے تو ہرقسم کے کاروبار کو چھوڑ کر مسجد میں جمع ہو جاؤ۔ جیسا کہ فرمایا:
یٰٓایھا الذین آمنوا اذا نودی للصلوٰۃ من یوم الجمعۃ فاسعوا الیٰ ذکر اللّٰہ وذروا البیع
یہی وجہ ہے کہ جب سے اسلام ظاہر ہوا اسلامی ممالک میں جمعہ کی تعطیل منائی جاتی رہی ہے اور خود اس ملک ہندوستان میں برابر کئی سو سال تک جمعہ تعطیل کا دن رہا ہے۔ کیونکہ آیت مذکورہ بالا کی رو سے یہ گنجائش نہیں دی گئی کہ جمعہ کی نماز کو معمولی نمازوں کی طرح علیحدہ بھی ادا کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ جماعت میں حاضر ہونا اور خطبہ سننا اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اس کے لئے ضروری قرار دیئے گئے ہیں ۔
یہ تو ظاہر ہے کہ نظام گورنمنٹ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہر ہفتہ میں دو دن کی تعطیل ہو اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اتوار شاہ وقت کے مذہب کے لحاظ سے تعطیل کا ضروری دن ہے۔ پس کوئی ایسی تجویز گورنمنٹ کے سامنے پیش کرنی چاہئے۔ جس سے نظام گورنمنٹ میں بھی کوئی مشکلات پیش نہ آویں اور اہل اسلام کو یہ آزادی بھی مل جائے۔ اس کی آسان راہ یہ ہے کہ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے وقت یا تو سب دفاتر اور عدالتیں، سکول، کالج وغیرہ دو گھنٹے کے لئے بند ہو جاویں۔ یا کم ازکم اتنی دیر کے لئے مسلمان ملازمین اور مسلمان طلباء کو اجازت ہو کہ وہ نماز جمعہ ادا کرسکیں اور اس کے متعلق جملہ دفاتر و جملہ محکموں میں گورنمنٹ کی طرف سے سرکلر ہو جائے …
ان وجوہات مذکورہ بالا کی بنا پر ہم نے ایک میموریل تیار کیا ہے۔ جو حضور وائسرائے ہند کی خدمت میں بھیجا جاوے گا۔ لیکن چونکہ جس امر کی اس میموریل میں درخواست کی گئی ہے۔ وہ جملہ اہل اسلام کا مشترک کام ہے۔ اس لئے قبل اس کے کہ یہ میموریل حضور وائسرائے کی خدمت میں بھیجا جاوے۔ ہم نے یہ ضروری سمجھا ہے کہ اس کا خلاصہ مسلمان پبلک اور مسلمان اخبارات اور انجمنوں کے سامنے پیش کیا جاوے۔ تاکہ وہ سب اس پر اپنی اتفاق رائے کا اظہار بذریعہ ریزولیوشنوں و تحریرات وغیرہ کے کرکے گورنمنٹ پر اس سخت ضرورت کو ظاہر کریں۔ تاکہ اس مبارک موقعہ پر یہ آزادی اہل اسلام کے اتفاق سے جیسی کہ ضرورت متفقہ ہے یہ درخواست حضور وائسرائے ہند کی خدمت میں پیش ہو اور یہ غرض نہیں کہ ہم ہی اس کو پیش کرنے والے ہوں۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے دل میں یہ تحریک ڈالی ہے۔ اس لئے ہم نے اسے پیش کر دیا ہے۔ اگر کوئی انجمن یا جماعت ایسی ہو۔ جو صرف اس وجہ سے اس کے ساتھ اتفاق نہ کرے کہ یہ میموریل ہماری طرف سے کیوں پیش ہوتا ہے۔ تو ہم بڑی خوشی سے اپنے میموریل کو گورنمنٹ کی خدمت میں نہیں بھیجیں گے۔ بشرطیکہ اس کے بھیجنے کا اور کوئی مناسب انتظام کرلیا جاوے‘‘۔
المعلن نورالدین (خلیفۃ المسیح الموعود)
قادیان ضلع گورداسپور یکم جولائی 1911ء
اس اعلان کا ہر مکتبہ فکر کے مسلمانوں نے پُرجوش خیرمقدم کیا اور مسلمان مقدس اسلامی شعار کے تحفظ کے لئے پھر سے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوگئے۔ چنانچہ مسلم پریس نے اس کے حق میں پُرزور آواز اٹھائی اور پُرجوش الفاظ میں اداریے لکھے۔
اخبار زمیندار نے لکھا:۔
’’اس ضروری اور اہم تحریک کی سعادت مولانا نورالدین صاحب کے حصہ میں آئی ہے جنہوں نے قادیانی جماعت کے پیشوا کی حیثیت سے تمام مسلمانان ہند کی توجہ کو اس طرف مبذول کیا ہے … اور ہمیں یقین ہے کہ کوئی مسلمان ایسا نہ ہوگا۔ جو ایسے میموریل کے گزرانے کو بہ نگاہ احسان نہ دیکھے‘‘۔
اخبار اہلحدیث امرتسر نے لکھا:۔
’’حکیم صاحب نے ایک اشتہار سب مسلمانوں کی اتفاق رائے اور تائید کے لئے اس امر کے متعلق دیا ہے کہ دربار تاج پوشی دہلی کے موقعہ پر گورنمنٹ سے ایک میموریل کے ذریعہ جمعہ کی نماز کے لئے 2 گھنٹہ کی تعطیل حاصل کی جائے اور بذریعہ سرکاری سرکلر سرکاری دفاتر، سکولوں اور کالجوں میں یہ تعطیل ہونی چاہئے … حکیم صاحب کی رائے سے ہم متفق ہیں۔ تمام مسلمانوں کو اس امر کے لئے میموریل تیار کرکے وائسرائے کی خدمت میں بھیجنا چاہئے۔ مگر میموریل مسلم لیگ کی معرفت بھیجنا چاہئے۔
افشاں نے لکھا:۔
’’اس میں شک نہیں کہ یہ تحریک نہایت مناسب اور ضروری ہے کہ کسی مسلمان کو اس قسم کی ضرورت سے انکار نہیں ہوسکتا‘‘۔
مسلمان اخبارات اور دوسرے عام مسلمانوں نے عموماً اور علی گڑھ تحریک سے وابستہ لوگوں نے خصوصاً یہ رائے دی کہ یہ میموریل دربار تاج پوشی کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے پیش ہو۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے بھی اس سے اتفاق فرمایا اور احمدی جماعتوں کو اس سے مطلع کردیا گیا کہ وہ اس معاملہ میں مسلم لیگ کی ہر طرح تائید و معاونت کریں۔
مسلم لیگ کے ہاتھ میں لے لینے کے بعد سب سے زیادہ جس شخص نے اس کی تائید میں منظم کوشش کی وہ شمس العلماء مولانا شبلی تھے جنہوں نے اس غرض کے لئے چندہ جمع کیا۔ انگریزی میں میموریل لکھوائے۔ مسلمانوں کے دستخط کروائے اور ندوۃ العلماء کے اجلاس منعقدہ 8,7,6؍اپریل 1912ء میں ریزولیوشن پیش کرکے اس تحریک کی تائید میں ایک مختصر اور پُردلائل تقریر فرمائی۔ اس اجلاس میں حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمدؓ صاحب بھی موجود تھے۔ آپ نے بھی اس کی تائید کی اور یہ ریزولیوشن بالاتفاق پاس ہوگیا۔ چنانچہ اجلاس کی روئداد میں لکھا ہے۔
’’جناب مرزا سمیع اللہ بیگ صاحب بی اے ایل ایل بی نے اس کی نہایت پُرجوش تائید کی اور جناب مرزا محمود احمد صاحب قادیانی کی تائید مزید کے بعد ووٹ لئے گئے اور تجویز مندرجہ بالا انہیں الفاظ کے ساتھ نہایت جوش کی حالت میں بالاتفاق پاس کی‘‘۔
سید سلیمان ندوی نے اپنی کتاب ’’حیات شبلی‘‘ کے ص501 پر بھی اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔ آخر مارچ 1913ء میں مسٹر غزنوی (بنگال کے ممبر) نے بنگال کونسل میں اس کے متعلق گورنمنٹ سے سوال کیا۔ سرکاری ممبر نے اس کا جواب تسلی بخش دیا اور گورنمنٹ بنگال نے نماز جمعہ کے لئے دو گھنٹہ کی چھٹی منظور کرلی۔ مولانا شبلی نے اس پر ایک اور میموریل تیار کرایا جس میں بنگال گورنمنٹ کے فیاضانہ حکم کا حوالہ دے کر گورنمنٹ سے خواہش کی کہ جمعہ کو دو گھنٹہ کی تعطیل کی بجائے ایک بجے سے آدھے دن کی عام تعطیل دی جائے۔ یہ کارروائی ابھی جاری تھی کہ مولانا شبلی انتقال فرماگئے مگر اس میموریل کا یہ اثر ہوا کہ اکثر صوبوں میں ملازمین کو نماز جمعہ میں جانے کی اجازت مل گئی۔
(تاریخ احمدیت جلد3 ص379تا381)
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ جمعہ کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے اور خلیفہ وقت کے عالمی خطبہ جمعہ کے ذریعہ امت واحدہ کی شکل میں عظیم نمونہ دکھا رہی ہے۔
چنانچہ آج ساری دنیا میں جو وحدت جماعت احمدیہ کو حاصل ہے اس کا عشر عشیر بھی کہیں نظر نہیں آتا۔ جماعت احمدیہ ایک بنیان مرصوص کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا باہمی تعاون اور الفت مثالی ہے اور اگر کبھی حوائج بشریہ کی بنا پر جھگڑے پیدا ہوں تو ان کو مٹانے کے لئے مربوط نظام موجود ہے۔ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے جماعت کو ہدایت کی کہ جھگڑے ختم کرنے کے لئے جہاں تک ہو سکے اپنے حقوق چھوڑ دو۔
چنانچہ جماعت انہی راہوں پر گامزن ہے اور مثالی معاشرہ تخلیق کررہی ہے۔
تعلیم القرآن کے متعلق تحریکات
قرآن کریم حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے دل کی غذا تھا۔ اس کے علوم و معارف کی اشاعت کے لئے آپ ساری زندگی کوشاں رہے۔ ایک بار حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے سوال کیا کہ آپ کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے تو فرمایا:
مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ قرآن مجید عملی طور پر کل دنیا کا دستور العمل ہو۔
(الحکم 7 جولائی 1911ء ص2کالم3)
پھر فرمایا: قرآن کو مضبوط پکڑو۔ قرآن بہت پڑھو اور اس پر عمل کرو۔ (الحکم 21 جنوری 1911ء ص8 کالم3)
تعلیم القرآن کی اس تحریک پر سب سے زیادہ اور عارفانہ عمل آپ ہی کا تھا۔ آپ خلافت سے پہلے بھی مسلسل قرآن کا درس دیتے تھے۔ منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد باوجود بے پناہ ذمہ داریوں کے قرآن کو آپ کی مصروفیات میں اولیت حاصل رہی اور قرآن کا درس دینے کے لئے ہمیشہ جوان اور مستعد رہے۔فرماتے تھے:
’’قرآن شریف کے ساتھ مجھ کو اس قدر محبت ہے کہ بعض وقت تو حروف کے گول گول دوائر مجھے انف محبوب نظر آتے ہیں اور میرے منہ سے قرآن کا ایک دریا رواں ہوتا ہے اور میرے سینہ میں قرآن کا ایک باغ لگا ہوا ہے۔ بعض وقت تو میں حیران ہو جاتا ہوں کہ کس طرح اس کے معارف بیان کروں‘‘۔ (بدر 19 ؍اکتوبر 1911ء ص3 کالم2)
درس قرآن اور عربی سیکھنے کی تحریک
1908ء میں اپنی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ پر دوران تقریر آپ نے فرمایا کہ کرزن گزٹ (دہلی) نے حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات کا ذکر کرکے لکھا ہے کہ اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے ان کا سر کٹ چکا ہے ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اس سے تو کچھ ہوگا نہیں ہاں یہ ہے کہ تمہیں کسی مسجد میں قرآن سنایا کرے۔ سو خدا کرے یہی ہو میں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں۔
اس کے بعد آپ نے قرآن مجید کی بعض آیات پڑھ کر ان کی لطیف تفسیر فرمائی اور آخر میں عربی زبان کی تعلیم کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی اور فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں عربی سے کیا ہوتا ہے میں کہتا ہوں عربی سے قرآن شریف آتا ہے۔ عربی سے محمد رسول اللہؐ کی باتیں سمجھ میں آتی ہیں۔ عربی سے ابوبکر و عمر و تبع تابعین کی قدر کو پہچانا جاتا ہے۔ (بدر 7 جنوری 1909ء ص9,5)
1910ء کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ روزانہ تین دفعہ درس دیتے تھے۔ اخبار بدر لکھتا ہے کہ حضور آجکل تین درس دیتے ہیں۔ بعد از نماز صبح مسجد میں پہلے صاحبزادہ شریف احمد صاحب کو، پھر چند گریجوایٹ ہیں۔ مثلاً شیخ تیمور صاحب ایم اے۔ ان کو قرآن مجید پڑھایا جاتا ہے۔ یہ درس خصوصیت سے لطیف ہوتا ہے۔ بخاری کا درس بھی شروع ہے۔ (بدر 12 مئی 1910ء ص2کالم1)
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ صاحب کے لئے 1913ء میں بعد نماز فجر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے قرآن مجید کا ایک درس دینا شروع فرمایا۔ جس میں دوسرے لوگوں کو بھی شامل ہونے کی اجازت دی گئی۔ علاوہ ازیں ایک درس بعد نماز عصراور دوسرا بعد از نماز مغرب بھی جاری تھا۔
(بدر 27 فروری 1913ء ص19)
الحکم 1913ء سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اولؓ قرآن مجید کا درس پانچ مرتبہ دے رہے تھے اور آپ نے مارچ 1913ء سے قرآن کے درس سے پہلے بخاری کا بھی عام درس شروع فرما دیا اور ایڈیٹر الحکم شیخ یعقوب علیؓ صاحب تراب حضرت کے حکم سے اسے مرتب کرنے لگے۔ یہ درس کئی ماہ تک اخبار بدر میں بطور ضمیمہ چھپتا رہا۔ (الحکم 7 مارچ 1913ء ص10 کالم 3)
تدبر و حفظ قرآن کی تحریک
ایک بار حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اپنے بعض خدام کو یہ کام سپرد فرمایا کہ وہ قرآن مجید کے اسماء افعال اور حروف کی فہرستیں تیار کریں۔ اس طریق سے خدام میں قرآن مجید کی خدمت اور اس پر غوروفکر کی عادت پیدا کرنا مقصود تھا۔
مولوی ارجمند خانصاحب کا بیان ہے کہ اس تحریک کے سلسلہ میں میرے حصہ میں اٹھا رہواں پارہ آیا جو میں نے پیش کر دیا۔
ایک بار آپ نے 12 دوستوں کو تحریک فرمائی کہ اڑھائی اڑھائی پارے یاد کرلیں۔ اس طرح سب مل کر حافظ قرآن بن جائیں۔ (تشحیذ الاذہان مارچ1912ء جلد7 ص101)
اشاعت قرآن کی تحریک
قرآن و حدیث سے حضور کی محبت کا پر تو تھا کہ احباب جماعت کے دل میں خدمت قرآن کے نئے ولولے جنم لیتے تھے۔
حضرت میر ناصر نواب صاحب نے 1913ء میں جماعت کی طرف سے قرآن مجید کے مستند اردو ترجمہ اور بخاری اور دوسری دینی کتب کے تراجم شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی اور حضرت خلیفہ اولؓ سے درخواست کی کہ آپ مجھے ترجمہ اور نوٹ عنایت فرماویں نیز کچھ روپیہ بھی بخشیں۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے اس تحریک پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے، اعانت کا وعدہ کرتے ہوئے فرمایا یہ مبارک تحریک ہے اللہ تعالیٰ اس کو مثمرثمرات برکات کرے آمین۔ خاکسار انشاء اللہ تعالیٰ بقدر طاقت امداد کو حاضر ہے۔
(بدر 18 ستمبر 1913ء ص4,3)
قادیان کا رمضان
حضرت مفتی محمد صادقؓ صاحب نے خلافت اولیٰ کے دوران 1912ء کے ماہ رمضان میں اہل قادیان کے قرآن کریم سے عشق و محبت کا نقشہ عجیب انداز سے کھینچا ہے فرماتے ہیں۔
قادیان کا رمضان قرآن شریف کے پڑھنے اور سننے کے لحاظ سے ایک خصوصیت رکھتا ہے۔ تہجد کے وقت مسجد مبارک کی چھت پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔ صوفی تصور حسین صاحب خوش الحانی سے قرآن شریف تراویح میں سناتے ہیں۔ حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب بھی قرآن شریف سننے کے لئے اسی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔ تراویح ختم ہوئیں تو تھوڑی دیر میں الصلوٰۃ خیرمن النوم کی آواز بلند ہوتی ہے۔ زاہد و عابد تو تہجد کی نماز کے بعد اذان فجرکی انتظار میں جاگ ہی رہے ہوتے ہیں۔ دوسرے بھی بیدار ہو کر حضرت صاحبزادہ صاحب کے لحن میں کسی محبوب کی آواز کی خوشبو سے اپنے دماغوں کو معطر کرتے ہوئے فریضہ صلوٰۃ فجر کو ادا کرتے ہیں۔ جس کے بعد مسجد کی چھت قرآن الفجر کے محبین سے گونجنے لگتی ہے۔ مگر چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح جلد اپنے مکان کے صحن میں درس دینے والے ہوتے ہیں اس واسطے ہر طرف سے متعلمان درس بڑے اور چھوٹے بچے اور بوڑھے، پیارا قرآن بغلوں میں دبائے حضرت کے مکان کی طرف دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ تھوڑی دیر میں صحن مکان بھر جاتا ہے۔ حضرت کے انتظار میں کوئی اپنی روزانہ منزل پڑھ رہا ہے۔ کوئی کل کے پڑھے ہوئے کو دہرا رہا ہے۔ کیا مبارک فجر ہے مومنوں کی۔ تھوڑی دیر میں حضرت کی آمد اور قرآن خوانی سے ساری مجلس بقعہ نور نظر آنے لگتی ہے۔ نصف پارہ کے قریب پڑھا جاتا ہے۔ اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے۔ تفسیر کی جاتی ہے سائلین کے سوالات کے جواب دیئے جاتے ہیں۔ تقویٰ و عمل کی تاکید بار بار کی جاتی ہے۔ لطیف مثالوں سے مطالب کو عام فہم اور آسان کر دیا ہے۔ اس کے بعد اندرون مکان میںعورتوں کو درس قرآن دیا جاتا ہے۔ پھر ظہر کے بعد سب لوگ مسجد اقصیٰ میں جمع ہوتے ہیں وہاں حضرت خلیفۃ لمسیح بھی تشریف لے جاتے ہیں اور صبح کی طرح وہاں پھر درس ہوتا ہے۔ بعد عشاء مسجد اقصیٰ میں حافظ جمال الدین صاحب تراویح میں قرآن شریف سناتے ہیں اور حضرت کے مکان پر حافظ ابواللیث محمد اسمٰعیل صاحب سناتے ہیں۔ غرض اس طرح قرآن شریف کے پڑھنے پڑھانے اور سننے کا ایسا شغل ان ایام میں دن رات رہتا ہے کہ گویا اس مہینہ میں قرآن شریف کا ایک خاص نزول ہوتا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح اپنے دردمند دل کی دعاؤں کے ساتھ قرآن شریف سناتے ہیں۔ درس کے بعد سامعین کے واسطے دعائیں کرتے ہیں‘‘۔ (تاریخ احمدیت جلد3 ص603)
دارالقرآن
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کو قرآن کریم کی تعلیم و اشاعت کا جوش فطرتاً عطا ہوا تھا اور ہمیشہ قرآن کریم کا درس دیتے رہتے تھے جو عموماً مسجد اقصیٰ میں ہوتا تھا مگر آپ کی خواہش تھی کہ ایک خاص کمرہ اس مقصد کے لئے بنایا جائے جو صرف درس قرآن کے لئے وقف ہو۔ اس کمرہ کے لئے حضرت اماں جان نے زمین کا ایک قطعہ دینے کا وعدہ کیا۔
اس کمرہ کی تعمیر کے لئے جماعت میں مالی تحریک بھی کی گئی اس کا ذکر کرتے ہوئے ایڈیٹر الحکم لکھتے ہیں:
جہاں تک میں سمجھتا ہوں یہ دارالقرآن دراصل مدرسہ تعلیم القرآن کا مقدمہ ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح کی دیرینہ خواہش ہے کہ قرآن مجید کے نہایت اعلیٰ معلم موصل وغیرہ سے منگوائے جائیں۔ اس وقت تک ہر چند یہاں قرآن مجید کی تعلیم وتدریس کی طرف توجہ ہے لیکن پھر بھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ حفظ قرآن اور تعلیم قراء ت کا کوئی انتظام نہیں۔ الحکم میں پچھلے دنوں میں نے حضرت خلیفۃ المسیح کو اس ضرورت کی طرف توجہ بھی دلائی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ خواہش اس رنگ میں پوری ہونے لگی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ کو یہ خدمت سپرد کی ہے کہ وہ اس دارالقرآن کی تعمیر کا کام شروع کر دیں۔ اس کے لئے کم ازکم دس ہزار روپیہ درکار ہوگا۔ … چندہ کی فہرست کھول دی گئی ہے۔ ایڈیٹر الحکم چاہتا ہے کہ اس کے ناظرین اس کارخیر میں کم ازکم اڑھائی ہزار جمع کر دیں اور یہ رقم خریداران الحکم کی طرف سے دارالقرآن کے لئے دی جاوے۔
(الحکم 21 فروری 1913ء ص3)
مگر بعد میں حضور کی ہدایت پر یہ طے پایا کہ موجودہ مسجد اقصیٰ میں ہی ایک بڑا کمرہ تیار کروالیا جائے جو درس کے کام بھی آسکے اور نمازی بھی اس میں آرام سے نماز پڑھ سکیں۔ چنانچہ اس فیصلہ کی تعمیل میں حضرت میر صاحب موصوف نے وہ ہال کمرہ بنوادیا۔ (حیات نور ص605)
درس کاسلسلہ جاری رہے
1910ء میں حضور گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے۔ آپ کی بیماری سے جماعت کو جو نقصان پہنچا اس میں آپ کے درس قرآن کی محرومی سب سے بڑا نقصان تھا۔ جس کا آپ کو خود بھی بہت احساس تھا۔ چنانچہ آپ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب کو حکم دیا کہ عصر کے بعد قرآن مجید کا درس دیا کریں اور اگر وہ کسی وجہ سے نہ دے سکیں تو مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب درس دیں اگر وہ بھی نہ دے سکیں تو قاضی امیر حسین صاحب درس دیں چنانچہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے 13 فروری 1911ء سے درس شروع کر دیا۔ (الحکم 14 فروری 1911ء ص4 کالم1)
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی روحانی توجہ اور بار بار ترغیب کے نتیجہ میں جماعت کے اندر قرآن کریم کا درس دینے اور درس سننے کا خاص ذوق پیدا ہو گیا تھا قادیان میں حضور کے علاوہ درس دینے والوں میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب کا نام نامی بہت نمایاں تھا۔
فروری 1910ء سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب نے نماز مغرب کے بعد قرآن مجید کا درس دینا شروع فرمایا۔ (الحکم 21 فروری 1910ء ص5 کالم3)
وسط1913ء سے آپ دن میں دو دفعہ درس دینے لگے یعنی فجر اور ظہر کے بعد۔
(الفضل 18 جون 1913ء ص1)
اس کے علاوہ بھی سیدنا محمودؓ نے نوجوانوں کے لئے کئی بار مختلف قسم کی تربیتی کلاسز کا انعقاد فرمایا۔ مثلاً 1910ء میں آپ نے سکولوں اور کالجوں کی تعطیلات کے دوران قادیان آنے والے طلباء کے لئے ایک تربیتی کلاس کا اجراء فرمایا۔ کلاس کے نصاب میں قرآن و حدیث اور بعض قصائد شامل تھے۔ آپ نے ان کو بڑی محنت سے پڑھایا اور عربی و دینی علوم سے متعارف کیا۔
(بدر 12 مئی 1910ء ص2 کالم1)
آخری وصیت
4 مارچ 1914ء کو نماز عصر کے بعد حضرت خلیفہ اولؓ کو یکا یک ضعف محسوس ہونے لگا۔ اسی وقت آپ نے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب کو قلم دوات لانے کا حکم دیا۔ چنانچہ وہ قلم دوات اور کاغذ لے آئے اور آپ نے لیٹے لیٹے کاغذ ہاتھ میں لیا اور جو وصیت لکھی اس میں فرمایا قرآن و حدیث کا درس جاری رہے۔ (الحکم 7 مارچ 1914ء ص5)
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا یہی طرز عمل اور یہی وصیت تھی جس نے آئندہ جماعت احمدیہ میں درس قرآن کو ہمیشہ کے لئے جاری کردیا۔
آپ نے وفات سے پہلے اپنی بیٹی امۃ الحی صاحبہ سے فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد میاں (بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ) سے کہہ دینا کہ وہ عورتوں میں بھی درس دیا کریں۔
(تاریخ احمدیت جلد3 ص512)
چنانچہ آپ کی وصیت کے مطابق حضرت مصلح موعودؓ نے عورتوں میں الگ درس کا بھی اہتمام فرمایا اور ایم ٹی اے تو بالواسطہ یا بلاواسطہ درحقیقت قرآن کریم کی تعلیمات اور درس کے لئے وقف ہے۔
صادقانہ محبت کے نظارے
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے جس طرح عملی نمونہ سے جماعت کے دل میں قرآن کی محبت پیدا کی اس کا ایک نظارہ امرتسر کے ایک صاحب قلم سے ملاحظہ فرمایئے۔
ایک غیر احمدی صحافی محمد اسلم صاحب امرتسر سے قادیان آئے اور چند دن قیام کرکے واپس چلے گئے۔ انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اور جماعت کا نہایت قریب سے مطالعہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات پر ایک تفصیلی بیان دیا۔ جس سے حضرت خلیفہ اول اور آپ کے عہد خلافت کی قادیان پر بہت تیز روشنی پڑتی ہے۔ مسٹر محمد اسلم نے لکھا:
عام طور پر قادیان کی احمدی جماعت کے افراد کو دیکھا گیا۔ تو انفرادی طور پر ہر ایک کو توحید کے نشہ میں سرشار پایا گیا اور قرآن مجید کے متعلق جس قدر صادقانہ محبت اس جماعت میں میں نے قادیان میں دیکھی کہیں نہیں دیکھی۔ صبح کی نماز منہ اندھیرے چھوٹی مسجد میں پڑھنے کے بعد جو میں نے گشت کی تو تمام احمدیوں کو میں نے بلا تمیز بوڑھے و بچے اور نوجوان کے لیمپ کے آگے قرآن مجید پڑھتے دیکھا۔ دونوں احمدی مساجد میں دو بڑے گروہوں اور سکول کے بورڈنگ میں سینکڑوں لڑکوں کی قرآن خوانی کا مؤثر نظارہ مجھے عمر بھر یاد رہے گا۔ حتیٰ کہ احمدی جماعت کے تاجروںکا صبح سویرے اپنی اپنی دکانوں اور احمدی مسافر مقیم مسافر خانے کی قرآن خوانی بھی ایک نہایت پاکیزہ سین (منظر) پیدا کررہی تھی۔ گویا صبح کو مجھے یہ معلوم ہوتا تھا کہ قدسیوں کے گروہ در گروہ آسمان سے اتر کر قرآن مجید کی تلاوت کرکے بنی نوع انسان پر قرآن مجید کی عظمت کا سکہ بٹھانے آئے ہے۔ غرض احمدی قادیان میں مجھے قرآن ہی قرآن نظر آیا۔ (بدر 13 مارچ 1913ء ص6 تا9)
دعوت الی اللہ کے متعلق تحریکات
واعظین و مربیان کے لئے تحریک
حضرت مسیح موعود ؑ کے دل میں اشاعت اسلام کا بے پناہ جذبہ تھا۔ آپ نے 9 ستمبر 1901ء کو ایک اشتہار بعنوان ’’اشتہار مفید الاخیار‘‘ شائع کیا اور ایک سو مبلغین کی تحریک فرمائی جو نشانات اور دلائل کے ساتھ مخالفین کا مقابلہ کرسکیں۔ اس کے لئے حضور نے اپنی کتابوں کے مطالعہ کوضروری قرار دیتے ہوئے فرمایا:
ہماری اس جماعت میں کم سے کم سو آدمی ایسا اہل فضل اور اہل کمال ہو کہ اس سلسلہ اور اس دعویٰ کے متعلق جو نشان اور دلائل اور براہین قویہ قطعیہ خداتعالیٰ نے ظاہر فرمائے ہیں ان سب کا اس کو علم ہو اور مخالفین پر ہر ایک مجلس میں بوجہ احسن اتمام حجت کرسکے اور ان کے مفتریانہ اعتراضات کا جواب دے سکے اور خداتعالیٰ کی حجت جو ان پر وارد ہو چکی ہے بوجہ احسن اس کو سمجھا سکے اور نیز عیسائیوں اور آریوں کے وساوس شائع کردہ سے ہر ایک طالب حق کو نجات دے سکے اور دین اسلام کی حقّیت اکمل اور اتم طور پر ذہن نشین کرسکے۔ پس ان تمام امور کے لئے یہ قرار پایا ہے کہ اپنی جماعت کے تمام لائق اور اہل علم اور زیرک اور دانشمند لوگوں کو اس طرف توجہ دی جائے کہ وہ 24 دسمبر 1901ء تک کتابوں کو دیکھ کر اس امتحان کے لئے طیار ہو جائیں اور دسمبر آئندہ کی تعطیلوں پر قادیان میں پہنچ کر امور متذکرہ بالا میں تحریری امتحان دے۔ اس جگہ اسی غرض کے لئے تعطیلات مذکورہ میں ایک جلسہ ہوگا اور مباحث مندرجہ کے متعلق سوالات دیئے جائیں گے۔ ان سوالات میں وہ جماعت جو پاس نکلے گی ان کو ان خدمات کے لئے منتخب کیا جائے گا اور وہ اس لائق ہوں گے کہ ان میں سے بعض دعوت حق کے لئے مناسب مقامات میں بھیجے جائیں اور اسی طرح سال بسال یہ مجمع انشاء اللہ تعالیٰ اسی غرض سے قادیان میں ہوتا رہے گا جب تک کہ ایسے مباحثین کی ایک کثیر العدد جماعت طیار ہوجائے، مناسب ہے کہ ہمارے احباب جو زیرک اور عقلمند ہیں اس امتحان کے لئے کوشش کریں۔
(مجموعہ اشتہارات جلد2 ص522)
حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میںبوجوہ اس تحریک پر عمل نہ ہوسکا اور نہ ہی کوئی واعظ مقرر ہوسکا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے اپنی پہلی تقریر میں ’’واعظین کے بہم پہنچانے‘‘ کو بھی بیعت خلافت کی شرائط میں شامل فرما دیا۔ (الحکم 6 جون 1908ئ)
30 مئی 1908ء کو خلافت اولیٰ میں صدرانجمن احمدیہ کا پہلا اجلاس زیر صدارت حضرت سیدنا مرزا بشیرالدین محمود احمدؓصاحب ہوا۔ اس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ شیخ غلام احمد صاحب ( جو حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں اشاعت حق کا عہد کرچکے تھے) کی درخواست تقرر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی خدمت میں بھجوائی جائے۔ چنانچہ حضور نے ان کی تقرری منظور فرمائی اور ہدایات دیں۔
(تاریخ احمدیت جلد3 ص216,208)
16 جولائی 1908ء کو قرآن کریم کا درس دیتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے حضرت مسیح موعود ؑ کے مذکورہ بالا اشتہار مفید الاخیار کے حوالے سے جماعت کو حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب کا امتحان دینے اور مبلغین و واعظین کے تیار ہونے کی تحریک فرمائی اور فرمایا کہ حضرت اقدس کے مذکورہ اشتہار کی اشاعت کی جائے اور جو لوگ اخبار نہیں پڑھتے ان کو دوسرے لوگ یہ اشتہار سنا دیں۔
(الحکم 18 جولائی 1908ئ)
اگست 1909ء میں حضور نے اپنے ایک پیغام میں فرمایا:
’’قوم میں دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے مطلوب ہیں جن کو دنیا کی پروا بھی نہ ہوجب مقابلہ دین و دنیا کا آکر پڑے۔ باہمت واعظ مطلوب ہیں جو اخلاص وصواب سے وعظ کریں، عاقبت اندیش صرف اللہ پر بھروسہ کرنے والے۔ دعاؤں کے قائل اور علم پر نہ گھمنڈ کرنے والے علماء مطلوب ہیں جن کو فکر لگی ہو کہ کیا کیا جائے کہ اللہ راضی ہو جائے‘‘۔ (الحکم 7؍اگست 1909ء ص1)
چنانچہ بہت جلد حضور کی اجازت سے صدر انجمن احمدیہ نے واعظین مقرر کر دیئے۔
1۔حضرت شیخ غلام احمد صاحب۔ یکم اگست 1908ء کو امرتسر سے حیدرآباد تک دورہ پر روانہ ہوگئے۔
2۔مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹیؓ پنجابی کے مشہور شاعر تھے۔
3۔حضرت حافظ غلام رسولؓ صاحب وزیرآبادی۔ پنجابی کے بہت عمدہ واعظ تھے۔
4۔حضرت مولوی غلام رسولؓ صاحب راجیکی۔ آپ کو 1910ء میں جماعت لاہور کے لئے مقرر فرمایا گیا۔ (تاریخ احمدیت جلد3 ص324)
یہ باقاعدہ واعظین یا مربیان تھے ان کے علاوہ جلسوں اور مباحثوں میں حصہ لینے والے بیسیوں افراد تھے جو حضور کی اس تحریک میں شامل ہوئے۔ بعد میں جامعہ احمدیہ کے قیام اور خلفاء کی طرف سے وقف زندگی کی تحریکات کے نتیجہ میں بیسیوں مربیان اور مبلغین سلسلہ کو میسر آگئے۔ وقف جدید کے سینکڑوں معلمین ان کے علاوہ ہیں۔ نیز وہ لوگ جو ذاتی مطالعہ اور جوش خدمت کے تحت داعیان کی صف میں شامل ہوگئے وہ بھی ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور کل عالم کو در توحید پر جھکانے کے لئے تن من دھن قربان کررہے ہیں۔
دینی مدرسہ (جامعہ احمدیہ)کے قیام کی تحریک
حضرت مسیح موعود علیہ السلام غلبۂ اسلام کے جس مشن کو لے کر مبعوث ہوئے تھے وہ بیشمار جانی اور مالی قربانیوں کا متقاضی تھا اور ایسے جاںنثار اور باکردار افراد کی ضرورت تھی جو علمی اسلحہ، اخلاق کی قوت اور دعاؤں کے سرمایہ سے لبریز ہو کر احمدیت کی خدمت پر کمربستہ ہو جائیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مدرسہ احمدیہ کے مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا تھا۔
’’یہ مدرسہ اشاعت اسلام کا ایک ذریعہ بنے اور اس سے ایسے عالم اور زندگی وقف کرنے والے لڑکے نکلیں جو دنیا کی نوکریوں اور مقاصد کو چھوڑ کر خدمت دین کو اختیار کریں‘‘۔
(ملفوظات جلد چہارم ص618)
مدرسہ احمدیہ جو 1898ء میں اپنی ابتدائی شکل میں پرائمری کلاس تک شروع ہوا تھا، جلد جلد ترقی کی منازل طے کرتا ہوا 1903ء تک کالج کے درجے تک پہنچ گیا۔ یہ سفر جاری تھا کہ 1905ء کے سال میں دو بزرگ رفقاء حضرت مولوی عبدالکریمؓ صاحب سیالکوٹی اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی وفات پا گئے۔ ان بزرگان کی وفات سے قبل حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کو الہاماً بتایا گیا:۔
’’دو شہتیر ٹوٹ گئے‘‘۔
چنانچہ ان بزرگان کی وفات سے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی توجہ اس جانب مبذول ہوئی کہ سلسلے کی مضبوطی کے لئے ایسے شہتیر نما وجودوں کی ضرورت جماعت کو ہمیشہ رہے گی۔ چنانچہ دسمبر 1905ء میں ایک موقع پر آپ نے فرمایا۔
’’مدرسہ کی حالت دیکھ کر دل پارہ پارہ اور زخمی ہو گیا۔ علماء کی جماعت فوت ہورہی ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی قلم ہمیشہ چلتی رہتی تھی۔ مولوی برہان الدین فوت ہو گئے اب قائم مقام کوئی نہیں‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم ص584)
نیز فرمایا:۔
’’اس مدرسہ کی بنا سے غرض یہ تھی کہ دینی خدمت کے لئے لوگ تیار ہو جاویں۔ یہ خداتعالیٰ کا قانون ہے۔ پہلے گزر جاتے ہیں، دوسرے جانشین ہوں۔ اگر دوسرے جانشین نہ ہوں تو قوم کے ہلاک ہونے کی جڑ ہے۔ مولوی عبدالکریم اور دوسرے مولوی فوت ہو گئے اور جو فوت ہوئے ہیں ان کا قائم مقام کوئی نہیں۔ دوسری طرف ہزار ہا روپیہ جو مدرسہ کے لئے لیا جاتا ہے پھر اس سے فائدہ کیا؟ جب کوئی تیار ہو جاتا ہے تو دنیا کی فکر میں لگ جاتا ہے اصل غرض مفقود ہے۔ میں جانتا ہوں جب تک تبدیلی نہ ہوگی کچھ نہ ہوگا‘‘۔ (ملفوظات جلد چہارم ص584)
جس تبدیلی کی طرف حضور نے اپنے اس ارشاد میں اشارہ فرمایا وہ دراصل خالص خدمت دین کے لئے وقف ہو جانے سے متعلق تھی۔ جو طلباء مدرسہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہوتے ان کے لئے لازم نہ تھا کہ وہ جماعت کے لئے زندگی وقف بھی کریں۔
خدمت دین کی غرض کو سامنے رکھتے ہوئے آپ کے ارشاد کے مطابق 1906ء میں ایک الگ کلاس کا اجراء کیا گیا۔ جسے شاخ دینیات کا نام دیا گیا۔ مگر سرمایہ کی کمی کی وجہ سے یہ کلاس بہت ناقص حالت میں تھی۔
پھر آپ نے بڑے زور سے یہ تحریک فرمائی کہ حضرت مسیح موعودؑ کی یاد میں اعلیٰ پیمانہ پر ایک دینی مدرسہ قائم کیا جائے جس میں واعظین اور مبلغین تیار کئے جائیں۔ یہ تحریک ایک وسیع انتظام اور کثیر اخراجات کا تقاضا کرتی تھی۔ چنانچہ آپ کی خواہش اور ارشادات کے مطابق جماعت کے عمائدین نے یہ تحریک پوری جماعت کے سامنے رکھی اور بتایا کہ یہ مدرسہ دنیا میں اشاعت حق کا ایک بھاری ذریعہ ہوگا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عظیم الشان یادگار بھی۔ سو اس مدرسہ کے لئے عمدہ عمارت، اعلیٰ درجہ کے سٹاف، طلباء کے لئے وظائف اور بہترین لائبریری کی ضرورت ہے۔ لہٰذا احباب مالی قربانی میں ذوق و شوق سے حصہ لیں۔
بدر 18 جون 1908ء میں ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی یادگار‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہے۔
’’حضرت خلیفۂ مسیح موعود یہ چاہتے ہیں کہ حضرت موعود مبرور کی یادگار میں اعلیٰ پیمانہ پر ایک دینی مدرسہ قائم کیا جاوے جس میں واعظین اور مبلغین تیار کئے جاویں۔…
لائبریری کے متعلق حضرت خلیفۂ مسیح موعود ؑ نے فرمایا ہے کہ ہم اپنی کتابوں کا ایک ذخیرہ کل ہی دے دیں گے۔ انجمن تشحیذ الاذہان بھی اپنی لائبریری کو دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔
سٹاف یعنی اس مدرسہ کے مدرسین کے لئے ہماری یہ تجویز ہے کہ جماعت کے قابل ترین آدمیوں کو اس سب سے اہم کام پر لگایا جائے لیکن اس مدرسہ کے اخراجات اور طلباء کے وظائف کے لئے ایک مستقل ماہوار خرچ کی ضرورت ہے جو آہستہ آہستہ موجودہ ہائی سکول کے برابر پہنچ رہے گا بلکہ اگر اس مدرسہ کو کالج کے درجہ تک پہنچایا جائے اور مختلف زبانوں کے سکھانے کا انتظام کیا جائے تو کسی صورت میں بھی کالج کے خرچ سے کم اس کا خرچ نہ ہوگا مگر سردست کام شروع کرنے کے لئے قریباً دوصد روپے ماہوار تک (خرچ ہوگا۔ناقل) جو چار پانچ سال میں سات آٹھ سو روپے ماہوار تک پہنچ جائے گا اور دوسری طرف اس کی عمارت کے لئے روپیہ درکار ہوگا۔
یہ وہ تجاویز ہیں جو اب ہم حضرت مولوی صاحب کے ارشاد سے قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں:۔
یہ مدرسہ اگر خدا نے چاہا تو دنیا میں اسلام کی اشاعت کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ایک یادگار ہوگی۔ پس احباب کو چاہئے کہ اس مقدس اور اہم کام کے لئے یکمشت اور مستقل چندے حسب استطاعت دیں اور احمدیہ انجمنیں اپنی متفقہ کوششوں سے اس تجویز کو کامیاب بنانے کی کوشش کریں۔ (بدر 18 جون 1908ء ص4 کالم1)
احباب جماعت نے اس تحریک پر حسب استطاعت لبیک کہا اور نامساعد حالات کے باوجود یکم مارچ 1909ء کو اس درسگاہ کی بنیاد رکھی گئی جس کا نام مدرسہ احمدیہ تجویز کیا گیا اور اولین ہیڈ ماسٹر حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب قرار پائے۔
اس درسگاہ کے باقاعدہ قواعد و ضوابط بنائے گئے اور سات سالوں پر مشتمل ایک نصاب ترتیب دیا گیا۔ اس وقت تک ’’مدرسہ احمدیہ کے لئے کسی الگ بورڈنگ کا انتظام نہ تھا اور اس کی کلاسیں مدرسہ تعلیم الاسلام میں ہی لگتی رہیں۔
1910ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب کو افسر مدرسہ احمدیہ مقرر فرمایا اور جملہ انتظامات آپ کے ذمے لگا دیئے۔ آپ ستمبر 1910ء سے مارچ 1914ء تک افسر مدرسہ احمدیہ رہے اسی دور میں مدرسہ کی الگ بورڈنگ، طلباء کے لئے ٹاٹ کی بجائے کرسیوں اور مدرسہ کی الگ لائبریری کا انتظام ہوا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے دور خلافت میں اس مدرسہ کو بہت وسعت دی اور حضور نے 1928ء میں اسے جامعہ احمدیہ کا نام دے کر اس کا افتتاح فرمایا اور حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کو اس کا پہلا پرنسپل مقرر فرمایا۔
جامعہ احمدیہ کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ فرماتے ہیں:۔
’’خداتعالیٰ کے مامور حضرت مسیح موعود ؑ کے ارشاد اور ہدایت کے ماتحت مدرسہ احمدیہ قائم کیا گیا تاکہ اس میں ایسے لوگ تیار ہوں جو ولتکن منکم (-) کے منشاء کو پورا کرنے والے لوگ ہوں۔
تبلیغ کے لحاظ سے یہ کالج (یعنی جامعہ احمدیہ) ایسا ہونا چاہئے کہ اس میں نہ صرف دینی علوم پڑھائے جائیں بلکہ دوسری زبانیں بھی پڑھانی ضروری ہیں۔ ہمارے جامعہ میں بعض کو انگریزی، بعض کوجرمنی، بعض کو سنسکرت، بعض کو روسی، بعض کو سپینش وغیرہ زبانوں کی اعلیٰ تعلیم دینی چاہئے کیونکہ جن ملکوں میں مبلغوں کو بھیجا جائے ان کی زبان جاننا ضروری ہے‘‘۔ (انوارالعلوم جلد10 ص214)
1947ء میں پاکستان بننے کے بعد جامعہ احمدیہ اور مدرسہ احمدیہ کے جملہ اساتذہ و طلباء پہلے لاہور آئے جہاں 13 نومبر 1947ء کو مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ کو مدغم کرکے ادارہ شروع ہوا چند ماہ بعد یہ ادارہ چنیوٹ آیا جہاں سے تقریباً دو ماہ بعد احمد نگر منتقل ہو گیا۔ چند سال کے بعد یہ ادارہ مستقل طور پر ربوہ آگیا۔
1949ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے جامعۃ المبشرین کا آغاز فرمایا۔ جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد جو طلباء اپنی زندگی وقف کرتے وہ اس میں مزید دو سال تعلیم حاصل کرتے تھے۔ بالآخر جامعۃ المبشرین بھی 7 جولائی 1957ء کو جامعہ احمدیہ میں مدغم کر دیا گیا۔
خلافت رابعہ میں ستمبر 1994ء سے جامعہ احمدیہ کو انٹرنیشنل جامعہ احمدیہ کا نام دیا گیا اور ایک Revised نصاب سات سال کے عرصے پر محیط، جاری کیا گیا۔ یہ یہ نصاب تین مرحلوں پر مشتمل ہے۔ پہلا مرحلہ دو سال، دوسرا تین سال اور تیسرا پھر دو سال پر مشتمل ہے۔
یکم ستمبر 2002ء میں واقفین نو کی بڑھتی ہوئی تعداد کے جامعہ میں آنے کی توقع پر جامعہ احمدیہ ربوہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ جامعہ احمدیہ جونیئر سیکشن اور سینئر سیکشن۔
تقسیم ہند کے بعد قادیان میں مدرسہ احمدیہ کے نام سے ادارہ جاری رہا جس میں تدریس کا جدید دور 1954ء سے شروع ہوا۔ 1998ء میں اسے ترقی دے کر جامعہ احمدیہ بنا دیا گیا۔
(مجلہ جامعہ احمدیہ قادیان ص58,54)
خلافت اولیٰ میں قائم ہونے والا یہ چھوٹا سا ادارہ تھا جو کئی مختلف مراحل اور ادوار سے گزرتا ہوا جامعہ احمدیہ کی صورت میں عظیم الشان خدمت کررہا ہے۔ جس کے فارغ التحصیل طلباء نے قربانیوں کے اعلیٰ معیار قائم کرتے ہوئے جابجا ہدایت کے بیج بوئے جو اب اکثر مقامات پر تناور درخت بن چکے ہیں۔
جامعہ احمدیہ کی مرکزی شاخیں قادیان اور ربوہ میں ہیں۔ اس کے علاوہ انگلستان، کینیڈا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، غانا، نائیجیریا، سیرالیون، تنزانیہ وغیرہ میں جامعہ احمدیہ قائم ہوچکے ہیں اور سینکڑوں واقفین زندگی زیر تعلیم ہیں۔
مولوی ثناء اللہ امرتسری نے دینی مدرسہ کی تحریک پر یہ تبصرہ کیا تھا کہ:
’’خلیفہ نورالدین نے حکم دیا ہے کہ مرزا کی یادگار میں دینی مدرسہ قائم کیا جائے ہم بھی اس مدرسہ کی تائید کرتے ہیں۔ امید ہے کہ مرزا صاحب کے راسخ مرید جی کھول کر اس میں چندہ دیں گے کہ آخرکار یہ مدرسہ ہمارا ہوگا اور مرزائی خیال عنقریب نسیاً منسیا ہو کر اڑ جائے گا‘‘۔
(مرقع قادیانی ستمبر اکتوبر 1908ء ص3 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد4 ص230)
ایک طرف یہ تعلّی اور توقعات اور دوسری طرف خداتعالیٰ کی طرف سے یہ برکت کہ ہزاروں واقفین زندگی اس ادارے سے فیض یاب ہوچکے ہیں اور 2006ء میں جامعہ احمدیہ نے دنیا بھر میں اپنے قیام کی سوویں سالگرہ منائی اور اپنے عزائم کو تازہ کیا۔
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یکم اکتوبر 2005ء کو جامعہ احمدیہ یو۔کے کے افتتاح کے موقع پر فرمایا۔
یہ ایک ایسا ادارہ ہے جو جماعت احمدیہ کا دینی تعلیم سکھانے والا ادارہ ہے۔ وہ لوگ یہاں داخل ہوں گے جنہوں نے اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کی ہیں۔ تو اس لحاظ سے بہرحال پھر انتظامیہ کو دیکھنا بھی پڑتا ہے۔ لیکن آپ لوگوں سے میں کہتا ہوں کہ اگر آپ لوگ جو طلباء آئے ہیں اعلیٰ مثالیں قائم کریں اور ہر لحاظ سے قائم کریں تو جامعہ کی تاریخ میں آپ کا نام سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ہمیشہ آپ کو اس نام سے یاد کیا جائے گا کہ یہ ایسے طلباء تھے جن سے بعد میں آنے والوں نے بھی راہنمائی حاصل کی۔ کیونکہ لمبی کلاسیں چلنی ہیں ہر سال داخلے ہوں گے تو ظاہر ہے وہ آپ کے نمونے بھی دیکھ رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی تعلیم مکمل کرنے، نیکیوں میں بڑھتے چلے جانے اور اپنے وقف کو نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیشہ آپ کو اس بات پر فخر رہے اور یہ فخر عاجزی میں بڑھائے۔ (الفضل 7 دسمبر 2005ئ)
ٹریکٹ اور رسالے شائع کرنے کی تحریک
ایک تحریک آپ نے یہ فرمائی کہ دعوت الی اللہ کے لئے زبانی اور لسانی خدمات کے علاوہ چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ اور رسالے لکھ کر شائع کئے جائیں۔ حضور کی اس تحریک کا ذکر کرتے ہوئے ایڈیٹر بدر لکھتے ہیں:۔
’’جو صاحب خود انتظام نہ کرسکیں یا اپنے نام پر شائع نہ کرسکتے ہوں۔ وہ مضمون لکھ کر دفتر بدر میں بھیج دیں۔ چھپوائی اور تقسیم کرائی کا خرچ ساتھ بھیج دیں۔ ہم انتظام کر دیں گے۔ سب احباب کو چاہئے کہ اس ثواب میں شریک ہوں۔ پہلے دعا کریں۔ بہت دعا کریں۔ پھر مضمون لکھیں۔ خالصتاً رضاء الٰہی کے لئے۔ اسلام کی نصرت کے واسطے لاہور اور بڑے شہروں کے دوست تو تمام انتظام بخوبی وہیں کر سکتے ہیں۔ ایسے تمام ٹریکٹوں کا نوٹس اخبار ’’بدر‘‘ میں مفت شائع ہوتا رہے گا‘‘۔
(بدر 22؍اگست 1912ء ص2)
حضور کے اس ارشاد کی تعمیل میں جماعت کے اہل قلم احباب نے دھڑا دھڑ ٹریکٹ لکھ کر چھاپنے شروع کر دیئے۔
اسی ضمن میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مال غنیمت کی تقسیم کے لئے جو اللہ اور رسول کا حق ہے اس کا مصرف موجودہ زمانہ میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی، اس کی صفات، اس کے افعال اور اس کے کلام پاک کی اشاعت پر رسالے اور ٹریکٹ شائع کئے جائیں اور رسول کریم ﷺ کے حصہ کی ادائیگی کے لئے حدیث شریف کی اشاعت اور حضور کی ذات اور حضور کے خلفاء پر اعتراضات کے جوابات پر روپیہ خرچ کیا جائے۔ (الحکم 14 دسمبر 1912ء ص6 کالم1)
اخبارات کا اجراء
تبلیغ اور تربیت کی خاطر خلافت اولیٰ کے دور میں کئی اخبار جاری ہوئے۔ تبلیغ کے نقطہ نگاہ سے الفضل کے علاوہ اخبار ’نور‘ اور ’الحق‘ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
اخبار ’’نور‘‘:
حضرت شیخ محمد یوسف صاحب (سابق سورن سنگھ) نے اکتوبر 1909ء میں اخبار نور جاری کیا جو خلافت اولیٰ میں جاری ہونے والا پہلا اخبار تھا۔ جس کا مشن سکھوں میں دعوت الی اللہ تھا۔ یہ اخبار تقسیم ہند تک بخیروخوبی جاری رہا۔ اس کے بعد شیخ صاحب نے پاکستان میں آکر گوجرانوالہ سے اسے دوبارہ نکالنا شروع کیا مگر افسوس چند پرچے ہی شائع ہوئے تھے کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ سکھوں میں دعوت حق کی کوئی تاریخ شیخ محمد یوسف صاحب کے جاری کردہ اخبار نور اور ان کے شائع کردہ لٹریچر کے بغیر مکمل نہیں قرار دی جاسکتی۔ (الحکم 28؍اکتوبر 1909ئ)
اخبار ’’الحق‘‘:
حضرت میر قاسم علی صاحب نے دہلی سے 7جنوری 1910ء سے دوسرا اخبار نکالنا شروع کیا۔ جس کا نام حضرت خلیفہ اول نے ’الحق‘ تجویز فرمایا۔ اخبار الحق کے اہم اغراض و مقاصد یہ تھے۔ (1) مخالفین کے عموماً اور دیانندیوں کے خصوصاً اعتراضات کا جواب دینا اور دین کی خوبیوں کا اظہار کرنا اور دیانندی تعلیم کے طلسم کو توڑنا۔ (2) باہمی اتحاد و اتفاق بڑھانا اور اختلافات باہمی سے اجتناب۔ (3) حکومت وقت و رعایا کے تعلقات کو خوشگوار بنانا۔
اخبار الحق نے آریوں اور دوسرے مذاہب کے خلاف قلمی جہاد کی بدولت جلد ہی مسلمانان ہند میں شہرت حاصل کرلی۔ 1911ء میں حکومت نے پریس ایکٹ کے تحت ایک ہزار روپیہ کی نقد ضمانت طلب کی تو اسلامی پریس نے اس کے خلاف پرزور احتجاج کیا۔ چنانچہ اخبار البشیر، وکیل، الاسلام، ملت، وقت، مسلمان، زمیندار، افغان وغیرہ اخبارات نے اس فیصلہ پر سخت تنقید کی۔ مگر حکومت نے اپنا فیصلہ برقرار رکھا اور حضرت میر صاحب نے جو ایک دفعہ پہلے بھی پانچ سو روپیہ ضمانت جمع کرچکے تھے۔ تین دن کے اندر اندر ایک ہزار روپیہ کی ضمانت داخل کرادی اور ’الحق‘ پھرسے جاری کردیا۔ حالانکہ بڑے بڑے پرانے اخبار ضمانت طلب کئے جانے پر بند ہو گئے تھے۔ 1913ء کے آخر میں یہ اخبار خطرناک مالی بحران میں مبتلا ہو گیا۔ تو حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی طرف سے بوساطت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب ارشاد ملا کہ حضور پسند نہیں فرماتے کہ الحق بند کر دیا جائے اور یہ بھی فرمایا کہ ہم کچھ امداد بھی کریں گے خود حضرت صاحبزادہ صاحب نے میر صاحب کو لکھا کہ الحق ہر گز بند نہ کیا جائے اور مبلغ دس روپے بطور امداد بھجوائے۔
اخبار ’الحق‘ نے آریوں میں دعوت الی اللہ کے علاوہ احمدیت کے بعض مخصوص مسائل مسئلہ ختم نبوت وغیرہ کی وضاحت کرنے میں بھی نمایاں کام کیا۔ ایک خاص چیز جو سلسلہ میں قیمتی اضافہ کاموجب بنی۔ حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی کا سفرنامہ تھا جو اس میں بالاقساط چھپتا تھا۔ حضرت میر صاحب آخر 1915ء میں دہلی سے قادیان ہجرت کرکے آگئے اور اخبار ’الحق‘ فاروق کی شکل میں قادیان ہی سے شائع ہونے لگا۔ (تاریخ احمدیت جلد3 ص313)
عربی ضمیمہ اخبار بدر ’’مصالح العرب‘‘:
1913ء میں عرب ممالک تک احمدیت کا پیغام پہنچانے کے لئے مصالح العرب کے نام سے بدر کے ساتھ ایک ہفتہ وار عربی ضمیمہ شائع ہونا شروع ہوا۔ جو سید عبدالمحی عرب صاحب کی ادارت میں نکلتا تھا۔ (تاریخ احمدیت جلد3ص438)
انجمنوں کا قیام
مجمع الاخوان:
تبلیغ کی غرض سے خلافت اولیٰ میں کئی انجمنیں قائم کی گئیں۔ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں مارچ 1908ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے مجمع الاخوان کے نام سے ایک تنظیم قائم کی تھی جس کاایک مقصد یہ بھی تھا کہ تائید دین کے لئے چھوٹے چھوٹے پمفلٹوں کا سلسلہ جاری کیا جائے۔
(الحکم 10 مارچ 1908ء ص7)
مگر جلد ہی آپ کے خلیفۃ المسیح بن جانے کی وجہ سے وہ انجمن اس رنگ میں قائم نہ رہ سکی مگر آپ کے دور خلافت میں مختلف انجمنیں ان مقاصد کوپورا کرتی رہیں۔
دیانند مت کھنڈن سبھا :
دہلی اور اس کے ماحول میں آریہ سماج نے زبردست فتنہ برپا کررکھا تھا۔ جماعت احمدیہ دہلی کے نامور ممبر حضرت میر قاسم علی صاحب نے 1909ء میں ملازمت چھوڑ کر ان دشمنان حق کے تحریری و تقریری دفاع کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی اور دہلی میں دیانند مت کھنڈن سبھا کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔ حضرت خلیفہ اولؓ نے اپنی جیب خاص سے اس انجمن کے لئے ایک سو روپیہ عطا فرمایا۔ اس انجمن نے آریوں کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں بڑا بھاری کام کیا اور مسلمانوں کے حوصلے بلند ہو گئے۔ (الحکم 28؍اکتوبر 1909ء ص15 کالم1)
انجمن ارشاد:
1909ء کے آخر پر حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب نے انجمن ارشاد بنائی جس کا مقصد دشمنان حق کے اعتراضوں کا ابطال تھا۔ (تاریخ احمدیت جلد3 ص303)
انجمن انصاراللہ:
فروری 1911ء میں ہی حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب نے ایک رویا کی بناء پر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی اجازت سے انجمن ’انصاراللہ‘ کی بنیاد ڈالی۔ حضور نے فرمایا میں بھی آپ کے انصاراللہ میں شامل ہوں۔ (بدر 23 فروری ص2۔ 9 مارچ1911ء ص8)
اس انجمن کے ہر ممبر کا فرض تھا کہ حتی الوسع دعوت الی اللہ کے کام میں لگا رہے اور جب موقع ملے اس میں اپنا وقت صرف کرے۔ (بدر 23 فروری 1911ء ص2)
چنانچہ جولائی 1913ء تک اس کے ممبروں کے ذریعہ دوتین سو آدمی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور یہ سلسلہ اسی طرح بعد میں بھی جاری رہا۔ انجمن نے جماعت میں داعیان الی اللہ کی ایک جمعیت تیار کردی جس نے آئندہ چل کر جماعت احمدیہ کی ترقی و اشاعت میں بڑا بھاری حصہ لیا۔ انجمن نے اپنے خرچ پر ایک ممبر چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو انگلستان میں خواجہ کمال الدین صاحب کی مدد کے لئے بھجوایا۔ (الفضل 23 جولائی 1913ء ص14) (الحکم جوبلی نمبر ص77)
لندن مشن کے لئے تحریک
1913ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے تحریک فرمائی کہ ہمیں لندن مشن کے لئے ایک مربی کی ضرورت ہے۔ یہ سعادت حضرت چوہدری فتح محمد صاحبؓ سیال کے حصہ میں آئی۔ اخراجات کے لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے انجمن انصاراللہ کی طرف سے تین سو روپیہ حضور کے توسط سے دیا اور 25 جولائی 1913ء کو لندن پہنچ گئے۔ جہاں خواجہ کمال الدین صاحب پہلے سے موجود تھے مگر وہ حضرت مسیح موعود ؑ کا نام لینا پسند نہیں کرتے تھے۔ چنانچہ وہ خواجہ صاحب کی امارت میں حضور کے حکم پر الگ تبلیغ کرتے رہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی وفات پر خواجہ کمال الدین صاحب خلافت سے کٹ گئے تو حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر حضرت چوہدری صاحب نے لندن میں پہلا باقاعدہ احمدیہ مشن قائم کردیا۔
لندن مشن کے ساتھ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ جنوری 1910ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ملک سے باہر پیغام احمدیت پہنچانے کی تحریک فرمائی اور اس ضمن میں سنگاپور اور سیلون وغیرہ میں ایک تبلیغی وفد بھجوانا چاہا مگر آپ کے زمانہ میں اس کی تکمیل نہ ہوسکی اور آپ کی مبارک آرزو خلافت ثانیہ میں پوری ہوئی۔
انجمن مربیان:
حضرت خلیفہ اولؓ کی تحریک پر 1912ء کے ابتداء میں قادیان کے بعض احباب نے انجمن مربیان بنائی جس کا نام ’’یادگار احمد‘‘ بھی تھا۔ اس انجمن کی غرض دین کی تائید اور باقی مذاہب کے ابطال میں چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ شائع کرنا تھا۔ اس انجمن نے پہلا ٹریکٹ ’’کسر صلیب‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ جو حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ کے قلم سے نکلا۔ انجمن کی دیکھا دیکھی لاہور میں ’’احمدیہ ینگ مین ایسوسی ایشن‘‘ بھی قائم ہوئی جس نے کئی پمفلٹ چھاپے۔ (تاریخ احمدیت جلد3 ص429)
دعوت الی اللہ کی وسیع تحریک
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب نے بہت دعاؤں اور التجاؤں کے بعد اور حضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت سے جنوری 1914ء کے آغاز میں جماعت کے سامنے ہندوستان بھر میں دعوت الی اللہ کے لئے ایک سکیم پیش کی۔ جس کے اہم پہلو یہ تھے (الف) ہندوستان کے تمام شہروں اور قصبوں میں خاص طور جلسے کئے جائیں۔ (ب) مختلف مقامات میں واعظ مقرر ہوں۔ (ج) ہر زبان میں ٹریکٹ شائع ہوں۔ (د) سکول کھولے جائیں۔ (الفضل 28,7 جنوری1914ئ)
آپ نے تحریر فرمایا:۔
’’اس وقت ایک دوست نے کچھ روپیہ تبلیغ سلسلہ کے لئے دینے کا وعدہ کیا ہے اور میرا خیال ہے کہ اسے اس طرح خرچ کیا جائے کہ جماعت کے چند آدمی جو قرآن شریف کا ترجمہ اچھی طرح جانتے ہوں۔ حضرت صاحب کی کتب انہوں نے خوب مطالعہ کی ہوں۔ تبلیغ کے لئے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں اس طرح بھیجے جائیں کہ انہیں ڈیڑھ دو سو روپیہ تجارت کے لئے دیا جائے۔ وہ مال تجارت لے کر ان علاقوں میں پھریں۔ جن میں ہم انہیں بھیجیں اور اپنا گزارہ اور خرچ تجارت سے کریں۔ اصل روپیہ محفوظ سمجھا جائے گا اور وہ ہمارا ہی ہوگا۔ اس وقت زیادہ تر ضرورت راجپوتانہ، ممالک متوسط، بہار، بنگالہ، بمبئی، مدراس اور حیدرآباد کے علاقوں میں ہے‘‘۔
اس مقدس کام کے ثواب میں دوسرے احباب کو شریک کرنے کے لئے آپ نے ’’دعوت الی الخیر‘‘ کے عنوان سے ایک کالم شروع فرمایا۔ جس میں ان احباب کی فہرست شائع کی جاتی رہی جو اس فنڈ میں حصہ لیتے رہے۔ (الفضل 7 جنوری 1914ء ص13)
وسع مکانک کے لئے تحریکات
خلافت اولیٰ میں جماعت کے پھیلائو کے پیش نظر تعمیری کام میں بہت وسعت پیدا ہوئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کو ایسے انصار بھی عطا فرمائے جو خدائی منشاء اور امام وقت کے اشارہ ابرو کو سمجھ کر سرگرم عمل ہو جاتے تھے۔ جس طرح درس و تدریس کے کام میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمدؓ صاحب آپ کے سب سے اول مددگار تھے اسی طرح تعمیری کاموں میںحضرت میر ناصر نوابؓ صاحب آپ کے سب سے بڑھ کر معاون و معین تھے۔
حضرت میر ناصر نوابؓ صاحب نے 1909ء میں اعلان کیا کہ قادیان کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظرچار قسم کی عمارات کی اشد ضرورت ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح نے اس کام کے لئے 260 روپے عطا فرمائے۔
ان میںمسجد نور، مردانہ ہسپتال ، زنانہ ہسپتال اور دار الضعفاء شامل تھے جن پر 20ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ تھا۔ جس کے لئے میرصاحب کو ملک کے طول و عرض میں دورہ کرنا پڑا۔
(بدر 24 جون 1909ء ص3)
مسجد نور کے لئے تحریک
دور خلافت اولیٰ کی تین مالی تحریکات کا تعلق مدرسہ تعلیم الاسلام کے ساتھ ہے۔ مدرسہ کی اپنی عمارت کے ساتھ بورڈنگ ہائوس اور مسجد کی اشد ضرورت تھی۔
مدرسہ کے ساتھ مسجد نور کی اہمیت کے پیش نظر سب سے پہلے حضرت میر ناصر نوابؓ نے پانچ ہزار روپیہ کا خرچ تجویز کیا اور اڑھائی ہزار روپیہ جماعتوں میں گھوم کر بطور چندہ وصول کیا ۔ اور اڑھائی ہزار روپیہ ایک خاتون کی وصیت سے میسر آ گیا۔ (تاریخ احمدیت جلد 3ص 312)
(ریویو آف ریلیجنز اردو دسمبر 1909ء ص 484)
5مارچ 1910ء کو حضور نے مسجد نور کا سنگ بنیاد رکھا اور 23؍ اپریل 1910ء کو بیت کا ایک کمرہ تیار ہونے پر نماز عصر پڑھا کر ا س کا افتتاح کیا۔ (بدر 5مئی 1909-10ء ص 3)
مسجد کی تکمیل کے بعد فضل حق صاحب مختار خلیفہ صاحب ریاست پٹیالہ نے اگست 1910ء میں تین سو روپیہ اس کے فرش کے لئے اور پچاس روپے کی رقم نلکا لگوانے کے لئے بھجوائی۔ اور یکم نومبر 1910ء سے اس کے لئے ایک مستقل خادم مقرر ہوا۔ 1912-13ء میں ا س کا وسیع صحن تیار کرایا گیا۔ اور جلسہ سالانہ یہیں منعقد ہونے لگا۔ (تاریخ احمدیت جلد 3ص 312)
یہ مسجد آپ کی زندگی میںہی چھوٹی ہو گئی۔اس لئے آپ نے اس کی توسیع کی تحریک فرمائی۔ چنانچہ جلسہ سالانہ1912ء میں 27دسمبر کو حضرت خلیفۃ المسیح نے مسجد نور میں خطبہ جمعہ پڑھا۔ جس میں فرمایا:
یہ مسجد میرے نام پر بنی ہے۔ مگر میں دیکھتا ہوں۔ یہ کس قدر تنگ ہے۔ اس مسجد نور کو بڑھائو۔ مگر نیکی کے لئے۔ اس میں مدرسہ بنائو مگر قرآن شریف کا۔ (بدر 27فروری 1913ء ص 4کالم نمبر3)
مدرسہ تعلیم الاسلام اور بورڈنگ کے لئے تحریک
مدرسہ تعلیم الاسلام کو جاری کرنے کے لئے اکتوبر 1897ء میںاشتہار دیا گیا تھا اور جنوری 1898ء میںافتتاح ہوا تھا۔ اور اس مدرسہ نے اس قدر ترقی حاصل کی تھی کہ کالج بن گیا اور اس میں حضرت مولوی حکیم نورالدینؓ صاحب جیسے جلیل القدر انسان بھی کچھ وقت دیتے رہے مگر بعد ازاں یونیورسٹی کمیشن کی ہدایات کے ماتحت کالج مذکور کو بند کرنا پڑا۔ ورنہ کالج بڑی کامیابی کے ساتھ چل رہا تھا۔ بہرحال اس امر کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی تھی کہ مدرسہ تعلیم الاسلام اور بورڈنگ تعلیم الاسلام، جو اندرون قصبہ کچی عمارتوں میں تھے ، ان کے لئے باہر کھلی فضا میں بڑی عمدہ عمارتیں تعمیر کروائی جائیں۔ اس لئے خلافت اولیٰ کی ابتداء ہی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ حضرت نواب محمدعلی خانؓ صاحب کی کوٹھی کے سامنے قصبہ کی جانب مدرسہ اور بورڈنگ ہائوس کے لئے شاندار عمارتیں تعمیر کی جائیں۔ چنانچہ اس کام کے لئے چندہ کی تحریک کی گئی او ر جب کچھ روپیہ جمع ہو گیا تو اینٹیں تیار کرنے کے لئے بھٹہ بنوایا گیا اور چونکہ بورڈنگ ہائوس کی زیادہ ضرورت محسوس کی گئی۔ اس لئے مجلس معتمدین نے فیصلہ کیا کہ پہلے بورڈنگ ہائوس کی عمارت تعمیر کی جائے جس کے خرچ کا اندازہ چالیس ہزار یا اس سے کچھ زیادہ رقم کا تھا، مگر چونکہ دس ہزار روپیہ چندہ گزشتہ سال جمع ہو چکا تھا، اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے حکم سے بقیہ تیس ہزار روپیہ کی فراہمی کے لئے تحریک کی گئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اس رقم کی فراہمی کے لئے ایک وفد بھی مقرر فرمایا ۔جس نے سب سے پہلے قادیان میں اپنا کام شروع کیا۔ احباب قادیان نے اس مبارک کام کے لئے سولہ سو روپیہ دینے کا وعدہ کیا اور حضرت خلیفۃ المسیح کے چھ سو روپیہ کے چندہ سے جو کل رقم کا پچاسواں حصہ تھا، اس مبارک کام کی ابتداء کی گئی۔
(بدر 13مئی 1909ء ص 6کالم نمبر2)
چنانچہ 1910ء ہی میںبورڈنگ تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عالی شان اور وسیع عمارت کی بنیاد رکھی گئی، جس کے تین پہلو ستمبر 1910ء تک مکمل ہوئے اور باقی بعد میں چند ماہ تک مکمل ہو گئے۔ جس میں قریباً دو سو بورڈروں کی گنجائش تھی۔ اس بورڈنگ ہائوس میں رہائشی کمروں کے علاوہ کھانا کھانے اور پڑھائی کرنے کے لئے ایک وسیع ہال بھی تھا۔ بورڈنگ ہائوس اور اس سے متعلقہ عمارات پر جو اخراجات ہوئے اس میںعام چندہ کے علاوہ ساڑھے چار ہزار روپیہ حکیم فضل الدین صاحب بھیروی کی موہوبہ حویلی اور زمین سے حاصل ہوئے۔ (تاریخ احمدیت جلد 3ص 312)
مدرسہ تعلیم الاسلام اور اس کے بورڈنگ وغیرہ عمارات کے لئے 400کنال زمین خریدی گئی تھی۔
(حیات نور ص 447)
تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عالی شان عمارت کی تجویز تو بورڈنگ ہائوس کے ساتھ ہی ہو چکی تھی مگر اس کی بنیاد حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے بمعیت صاحبزادگان حضرت مسیح موعود ؑ25 جولائی 1912ء کو رکھی۔ آپ نے تین جگہ بنیادی اینٹیں رکھیں۔ (بدر یکم اگست 1912ء ص 2 کالم نمبر2)
مدرسہ تعلیم الاسلام کی عمارت بورڈنگ کی عمارت سے بھی زیادہ شاندار اور زیادہ جاذب نظر تیار ہوئی۔ جس میں عام کمروں کے علاوہ سائنس روم اور وسیع ہال بھی تھااور اس کی پیشانی پر برج بھی بنائے گئے اس عمارت پر 30ستمبر1913ء تک قریباً پچاس ہزار روپیہ صرف ہوا۔ جس میں16کمرے ارد گرد برآمدوں سمیت تیار ہوئے اور تھوڑا سا ہال بھی۔ عمارت کی پہلی منزل کی تکمیل کے دوران میںروپیہ نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن حضرت خلیفۃ المسیح نے پانچ ہزار روپیہ اپنی ذمہ داری پر بعض ذی استطاعت احباب سے لے کر عطا فرمایا۔ جس سے فوری ضروریات پوری ہو گئیں ۔ چونکہ مدرسہ کی پرانی عمارت میں طلباء کی گنجائش نہ تھی۔ اس لئے مئی 1913ء میں ہی سکول کو ادھوری عمارت میں لانا پڑا۔ (تاریخ احمدیت جلد 3ص 313 )
توسیع مسجد اقصیٰ
1910ء کی پہلی سہ ماہی میں مسجد اقصیٰ کی توسیع بھی عمل میں آئی۔ اس کے لئے تین ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں ایک بڑا کمرہ اور ایک لمبا برآمدہ تیار ہو گیا۔ مستورات کی نماز کے لئے زیر تعمیرمنارۃ المسیحکے ساتھ ایک چبوترہ بھی بنا دیا گیا۔
1909ء کا جلسہ سالانہ تاخیر کے ساتھ 25تا 27 مارچ 1910ء کو منعقد ہونے والا تھا اور مسجد کے نچلے کمرہ میں مٹی ڈلوانے کے لئے مزدور فراہم نہیں ہو رہے تھے اور اندیشہ تھا کہ جلسہ تک یہ حصہ مکمل نہیں ہو سکے گا۔ اس لئے حضرت خلیفہ اولؓ نے 11مارچ 1910ء کو نماز جمعہ کے بعد تحریک فرمائی کہ احباب اس کام میں مدد کریں۔ چنانچہ احباب جماعت اپنے مقدس امام کا ارشاد پاتے ہی مٹی کھودنے اور ٹوکریاں اٹھانے میں مصروف ہو گئے ۔خود حضرت خلیفہ اولؓ نے بھی نہایت سرگرمی سے مٹی اٹھانا شروع کر دی۔ یہ نظارہ نہایت ایمان افروز تھا کہ خدا کے مسیح کا مقدس خلیفہ، مسجد اقصیٰ کی تعمیر نو کے لئے اپنے ہاتھ سے ٹوکریاں اٹھا رہا تھا اور احمدیت کے عاشق، اپنے بوڑھے مگر جواں ہمت آسمانی جرنیل کی قیادت میں پروا نہ وار کام کر رہے تھے۔ (بدر 17مارچ 1910ء ص 2کالم ص 3)
مسجد اقصیٰ کی توسیع کے ساتھ احمدی خواتین کو جمعہ میں شامل ہونے کی سعادت نصیب ہونے لگی۔ چنانچہ 21جنوری 1910ء کے جمعہ میںاحمدی مستورات جن میں حضرت اماں جان بھی تھیںشامل ہوئیں انہوں نے مسجد اقصیٰ میں سب سے پچھلی صف میں نماز پڑھی اور خطبہ سنا۔ اس طرح خلافت اولیٰ میں ایک اہم سنت نبویؐ کا احیاء ہوا۔
نور ہسپتال
صدر انجمن احمدیہ نے ایک مختصر سی ڈسپنسری کھول رکھی تھی۔ مگر زیر علاج مریضوں کے لئے کوئی مخصوص مکان نہ تھااور مریض عموماً حضرت خلیفہ اولؓ کے مکانوں میں یاکرایہ کے مکانوں یا مہمانخانہ یا بورڈنگ ہائوس میں قیام کرتے تھے۔ ان حالات کو دیکھ کر حضرت میر ناصر نوابؓ صاحب کے دل میںپر زور تحریک اٹھی کہ وہ ایک ایسا مکان تعمیر کرائیںجس میں ڈسپنسری کے ساتھ بیماروں کے لئے بھی وسیع ہال ہو۔ چنانچہ 1909ء کے شروع سے آپ نے جماعت میں اس کے لئے چندوں کی تحریک کرنا شروع کر دی، جس کا نام ناصر وارڈ رکھا گیا۔ ناصر وارڈ کے کام پر حضرت خلیفہ اولؓ نے نہایت درجہ خوشنودی کا اظہار فرمایا اور اس کے لئے خود بھی چند ہ دیا اور دوسروںکو بھی تحریک فرمائی۔اس مقصد کے لئے 5ہزار روپیہ اندازہ خرچ تجویز ہوا ۔ (بدر 14جنوری 1909ئ)
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ایک مضمون میں تحریر فرمایا۔
میر ناصر نواب کو جو آجکل انجمن ضعفاء کے سرگرم ممبر ہیں۔ ایک جوش پیدا ہوا۔ کہ ان بیماروں کے لئے ایک وسیع مکان بنانا ضروری ہے تاکہ ڈاکٹر اور طبیب ایک ہی جگہ ان کو دیکھ لیا کریں اور ان کی تیمارداری میں کافی سہولت ہو۔ ان کی اس جوش بھری خواہش کو میں نے محسوس کرکے ایک سو روپیہ کا وعدہ ان سے بھی کر لیا ہے اور 30روپے نقد بھی دئیے۔ ایک پرانی رقم ساٹھ روپیہ کی جو اس کام کے لئے جو میںنے جمع کی اس کے بھی نکلوا دینے کا وعدہ کیا۔ اس جوش بھرے مخلص نے قادیان کے بستی مخالفوں اور موافقوں ہند و اور مسلمان۔ دشمن و دوست سب کو چندہ کے لئے تحریک کی۔ جہاں تک مجھے علم ہے۔ اس کا اثر تھا۔ کہ رات کے وقت میری بیوی نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ آج جو میر صاحب نے تحریک کی ہے اس میں میںنے سچے دل اور کامل جوش اور پورے اخلاص سے چندہ دیا ہے۔ اور میں چاہتی ہوں کہ اگر ایسے مکان کے لئے ہمارے کوئی مکان کسی طرح بھی مفید ہو سکیں۔ تو میں اپنی خام حویلی دینے کو دل سے تیار ہوں۔ یہ سب کچھ میر صاحب کے اخلاص اور دلی جوش کا نتیجہ تھا۔
(الحکم 14جنوری 1909ء ص4)
حضرت میرناصر نوابؓ صاحب کی کوششوں سے یکم رمضان 1335ھ مطابق 21جون 1917ء کو ’’نور ہسپتال‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ اور ستمبر 1917ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔ابتدائً ہسپتال میںکوئی سند یافتہ ڈاکٹر نہیں تھا، اس لئے حضرت مصلح موعودؓ کے خصوصی اشارہ پر محترم حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ خانؓ صاحب ریاست پٹیالہ سے بلوائے گئے اور 2فروری 1919ء کو ان کا تقرر عمل میںآیا۔ پہلے حضرت میر محمد اسحق ؓ صاحب افسر نور ہسپتال تھے مگر اب حضرت ڈاکٹر صاحب میڈیکل ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ آپ کے زمانہ میںہسپتال نے خوب کام کیا، زنانہ وارڈ قائم ہوا، آپریشن روم میں ترقی ہوئی۔ 1930ء میں اسے سیکنڈ گریڈ ہسپتال کی حیثیت حاصل ہوئی۔ اسی سال اس کے لئے مستقل قواعد وضوابط تجویز کئے گئے۔
نور ہسپتال متحدہ ہندوستان کا واحد ادارہ تھا جس نے ایک مذہبی جماعت کی نگرانی میں ربع صدی سے زائد عرصہ تک بلاتمیز مذہب و ملت خدمت کی۔
13جنوری 2006ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے دورہ قادیان کے دوران نور ہسپتال کی نئی عمارت کا افتتاح فرمایا۔ ہسپتال کی عمارت نہایت پر شکوہ ہے اور قادیان اور اس کے ماحول کی تمام طبی ضروریات پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ (الفضل 18مارچ 2006ء ص 3)
حضرت اماں جانؓ نے یکم اگست 1923ء کو نور ہسپتال قادیان کے زنانہ وارڈ کا سنگ بنیاد رکھا ۔
خدمت خلق کی تحریکات
غربا، مساکین اور طلباء کے لئے تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی زندگی کے حالات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ جہاںکہیں رہے یتامیٰ مساکین اور طالب علموں کے لئے ملجا وماویٰ بن کر رہے اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم الشان قوم کا امام بنایا آپ اس اہم کام سے کیونکر غفلت برت سکتے تھے۔ آپ نے اس امر کو مدنظر رکھ کر سیکرٹری صدر انجمن احمدیہ کو ارشاد فرمایا کہ یتامیٰ، مساکین اور طالب علموں کے لئے جماعت میں چندہ کی تحریک کی جائے۔ اس پر سیکرٹری صاحب نے جو تحریک کی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ قریب چار ہزار روپے کی رقم تو ان یتامیٰ، مساکین اور طالب علموں وغیرہ کے گزارہ کے لئے چاہئے، جو اس وقت انجمن کے انتظام کے نیچے اس امداد کے مستحق ہیں۔ اور اکیس سو روپے کی رقم ان یتامیٰ، مساکین وغیرہ کے ایک سال کے گزارہ کے لئے چاہئے، جن کی درخواستیں آئی ہوئی ہیں اور گو اس روپے کا بالفعل کوئی اندازہ پیش نہیں کیا جا سکتا جو آئندہ درخواست کنند گان کے لئے درکار ہو گا مگر یہ ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ گنجائش اور بھی ہونی چاہئے۔ پس مجھے ارشاد ہوا ہے کہ میں ان سب کے لئے تمام احمدی احباب کی خدمت میں اپیل کروں۔اکیس سو روپے کی رقم میں سے ایک سو روپیہ خود حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے اپنی طرف سے عطا فرمایا۔ (بدر 21جنوری 1909ء ص1 کالم نمبر2)
دارالضعفاء
حضرت میر ناصر نوابؓ صاحب نے باہمی محبت و مواساۃ اور اخوت پیدا کرنے کے لئے ایک مجلس ضعفاء کی بنیاد بھی رکھی جسے حضرت خلیفۃ المسیح نے بھی پسند فرمایا۔ اس مجلس میں سب کے سب غربا شامل تھے۔ ہر آٹھویں روز مجلس کے ممبر اپنے اپنے گھروں سے کھانا لاتے اور ایک دستر خوان پر بیٹھ کر کھاتے تھے۔ حضرت میر صاحب نہایت محبت و اخلاص کے ساتھ ان میں بیٹھتے اور اپنے غریب بھائیوں کی دلجوئی کرتے تھے۔ (حیات ناصر ص 26)
غربا کے لئے رہائشی مکانات کا ملنا سخت مشکل تھا اس لئے حضرت میر ناصرنوابؓ صاحب نے بہشتی مقبرہ کے ساتھ دارالضُعفاء کا ایک حصہ آباد کر دیا۔ اس محلہ کی بنیاد حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے 1911ء میںرکھی۔ حضرت نواب محمد علی خانؓ صاحب نے بائیس مکانات کے لئے زمین عطا فرمائی۔ پہلامکان حضرت خلیفہ اولؓ کے خرچ پر بنا۔ بعد میں یہ محلہ ناصر آباد کے نام سے موسوم ہوا۔ 1913ء میر صاحب آپ نے ناصر آباد میں مسجد بھی تعمیر کرا دی اور اس کے ساتھ ایک کنواں بھی بنوا دیا۔
(حیات ناصر ص 25)
حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ نے حضرت میر صاحبؓ کی انہی خدمات کے باعث، انہی دنوں،اپنے قلم سے ایک خط لکھا کہ آپ کے کاموں اور خواہشوں کو دیکھ کر میری خواہش بھی ہوتی ہے اور دل میں بڑی تڑپ پیدا ہوتی ہے کہ جس طرح آپ کے دل میں جوش ہے کہ شفاخانہ زنانہ، مردانہ، مسجد اور دارالضعفاء کے لئے چندہ ہو، اور آپ ان میں سچے دل سے سعی و کوشش فرما رہے ہیں اور بحمداللہ آپ کے اخلاص صدق و سچائی کا نتیجہ نیک ظاہر ہو رہا ہے اور ان کاموں میں آپ کے ساتھ والے قابل شکر گزاری سے پر جوش ہیں، ہمارے اور کاموں میں سعی کرنے والے ایسے ہی پیدا ہوں۔
(الحکم 7مئی 1909ء ص 2)
حضرت میر صاحبؓ ہر ممکن کوشش کرتے تھے کہ غربا کی ضروریات بطریق احسن پوری ہوتی رہیں۔ چنانچہ بدر 19 جنوری 1911ء میں ’’اطلاع عام‘‘ کے عنوان سے آپ کی طرف سے ایک نوٹ شائع ہوا۔ جس میں آپ فرماتے ہیں:
’’جس قدر احمدی جماعت ہے۔ اس پر واضح ہو کہ قادیان میں ہمیشہ کچھ نہ کچھ ضعفا، تعلیم دین کے لئے جمع رہتے ہیں۔ جن کا گزارہ فقط توکل پر ہوتا ہے۔ روٹی لنگر مسیح سے مل جاتی ہے۔ لیکن کپڑے و دیگر حوائج ضروری جیسے دھوبی، نائی وغیرہ کے لئے کچھ نہ کچھ کپڑے یا نقد کی بھی انہیں ضرورت پڑتی ہے۔ جس کے لئے اس عاجز یعنی (ناصر نواب) نے کوشش کا ذمہ لیا ہے۔ چنانچہ بعض احباب نے ان غربا و ضعفاء کا حال معلوم کرکے اس عاجز کو ان کی خدمت کے لئے تھوڑا بہت ماہوار یا سالانہ دینا منظور فرمایا ہے۔ نیز قادیان کے احمدیوں نے ضعفاء کے لئے چندہ دینا شروع کر دیا ہے۔ حضرت صاحب کے انتقال کے بعد یہ کام اس عاجز نے شروع کیا ہے اور اس کام میں مجھے تھوڑی بہت کامیابی بھی اب تک ہوئی ہے اور آئندہ زیادہ امید ہے۔ چونکہ کام نفسانی جوش سے نہیںشروع کیا گیا۔ اس لئے انشاء اللہ تعالیٰ دن بدن اس میں زیادہ سے زیادہ برکت ہونے کی امید ہے۔ اکثر احباب پر یہ امر پوشیدہ تھا۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ اخبار میں درج کرکے کل احباب پرواضح اور مبرہن کر دیا جاوے کہ ہر ایک اہل وسعت احمدی، ضعفاء کے لئے حسب مقدور کچھ نہ کچھ عنایت فرما کر میری دستگیری فرماوے، اور خداتعالیٰ کی رضا حاصل کرے۔ پرانے جوتے پرانے کپڑے ، نقد و جنس، جس قسم کی ہو۔قرآن شریف و کتب دینیہ، غرض جو کچھ ہو سکے عنایت فرماویں اور اس عاجز کو کسی خوشی و غمی کی تقریب میں فراموش نہ کریں۔ یہ عاجز اور میرے ضعفاء ان کے حق میں دعا کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں۔ ہم انشاء اللہ تعالیٰ دعا کرتے رہیں گے ۔ جس کا فائدہ انشاء اللہ تعالیٰ انہیں نظر آتا رہے گا اور یہ دینی خدمت ان کی خالی نہیں جانے کی۔ امید ہے کہ لوگ ضرور متوجہ ہوں گے۔ اور پنبۂ غفلت کانوںسے نکال کر میری عرض سنیں گے۔ کوئی تعداد میں مقرر نہیں کرتا۔ایک روپیہ، دس روپیہ، سو روپیہ 8آنے، 4آنے، 2آنے، ایک آنہ جو ہو، ماہانہ ، سالانہ ، ششماہی، سہ ماہی بھیج دیا کریں۔ نیا پرانا کپڑا۔ نیا یاپرانا جوتا، کوئی قرآن شریف یا دینی کتاب، جو کچھ میسر ہو وہ عطا فرماویں۔ لیکن یہ چیزیں بنام اس عاجز کے ہوں۔ ناصر نواب از قادیان‘‘۔ (بدر 19جنوری 1911ء ص 8کالم نمبر1)
علمی تحریکات
علم تعبیر الرویا سے متعلق تحریک
1912ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ نے ایک ایسی تحریک فرمائی جو حضور کے مخصوص عالمانہ مزاج کی آئینہ دار ہے۔ آپ نے سورۃ یوسف کا درس دیتے ہوئے تعبیر الرویا کے بارہ میں تحریک کی اور فرمایا:
سورہ یوسف پر تدبرکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ علم الرویا بھی ایک بڑا علم ہے۔ خوابیں کافر کی بھی ہوتی ہیں، مومن کی بھی، یہ علم اللہ تعالیٰ اپنے بعض انبیاء کو دیتا ہے اور ان سے ورثہ میں علماء امت محمدیہ کو بھی پہنچا ہے۔ چنانچہ پہلے مسلمانوں نے اس فن پر بہت عمدہ کتابیں لکھی ہیں۔ کامل التعبیر اور تعطیر الانام مجھے بہت پسند ہیں۔ آجکل کے نئی روشنی کے تعلیم یافتہ اور جنٹلمین تو خوابوں کوپریشان خیالات کا مجموعہ سمجھتے ہیں۔ مگر ہمیں ایسی بے ادبی نہیں کرنی چاہئے۔ خوابیں تو نبوت کا جزو ہیں۔ ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ جو جو خواب ان کو آئے۔ وہ مختصر طور پر ان کو لکھ لیا کریں اور پھر جو تعبیر اللہ تعالیٰ سمجھائے یا دکھائے اسے بھی نوٹ کرلیا کریں۔ اس طرح پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس فن میں ایک ضخیم کتاب تیار ہوسکے گی۔ ہم سے پہلوں نے تو اپنا فرض ادا کردیا۔ لیکن اب کئی چیزیں ایسی نکل آئی ہیں جو پہلے موجود نہ تھیں۔ اس لئے ان کی تعبیر ان کتابوں میں نظر نہیں آتی۔ مثلاً خواب میں کوئی موٹر کار دیکھے یا ہوائی جہاز یا ایسی اور ایجادیں۔ ایسے خوابوں کی تعبیریں تجارب کی بناء پر سمجھ میں آجاتی ہیں۔ (الحکم 14 دسمبر 1912ء ص6 کالم1)
حضرت مصلح موعودؓ نے 1917ء میں حقیقۃ الرویا کے نام سے جلسہ سالانہ پر بے نظیر خطاب فرمایا تھا اور حضور نے رویا و کشوف کے ضمن میں بہت سی تعبیریں بھی بیان فرمائی ہیںمگر اس میں ابھی بہت گنجائش ہے اور مختلف احباب اپنے اپنے ذوق کے مطابق کام کرتے رہتے ہیں۔ یہ تحریک اب بھی اہل ذوق کو دعوت عام دے رہی ہے اگر تمام دنیا کے احمدی اس میں حصہ لیں تو یقینا ایک نادر خزانہ تیار ہو جائے گا۔
علی گڑھ یونیورسٹی کے لئے تحریک
سر سید کے بیٹے سید محمود نے 1873ء میں ایک ایسی اسلامی یونیورسٹی کا تخیل پیش کیا جو کیمبرج اور آکسفورڈ کی طرح حکومت وقت کے اختیارات سے آ زاد ہو۔ اس کے بعد نواب محسن الملک مرحوم نے سرسید کی وفات کے بعد اس خیال کو آگے بڑھایا اور سرسید کی یادگار ٹھہرا کر ایجوکیشنل کانفرنس کے مقصد میں اس کو داخل کر لیا۔ اور اس کی اعانت کے لئے ہندوستان بھر میں اداروں، جماعتوں، دوسرے رئوسا اور عوام سے چند ہ کی تحریکیں کی گئیں۔
محترم نواب فتح علی خاں صاحب نے لاہور سے حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی خدمت میںبھی چندہ کی تحریک کی۔ اور یہ بھی عرض کیا کہ جماعت میں بھی تحریک فرماویں کہ وہ کارخیر میںحصہ لے۔ اس سلسلہ میں حضور نے جو خط نواب صاحب موصوف کو لکھا۔ وہ درج ذیل ہے:
’’قادیان 27 فروری 1911ء
مکرم معظم جناب نواب صاحب
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
جیسا کہ میں نے پہلے جناب کو لکھا تھا۔ مجھے اسلامی یونیورسٹی کی تجویز کے ساتھ پوری ہمدردی ہے۔ میں خود اس فنڈ میں انشاء اللہ تعالی ایک ہزار روپیہ دوں گا۔ اپنی جماعت کی شمولیت کے لئے میں نے ایک اعلان شائع کر دیا ہے۔
جس کی نقل ارسال خدمت ہے۔ والسلام دعا گو نورالدین‘‘
اعلان ضروری تکمیل تجویز متعلق محمڈن یونیورسٹی ’’چونکہ اس وقت ایک عام تحریک، اسلامی یونیورسٹی کی ہندوستان میں قائم کرنے کے لئے ہو رہی ہے۔ اور بعض احباب نے یہ دریافت کیا ہے کہ اس چندہ میں ہمیں بھی شامل ہونا چاہئے یا نہیں۔ اس لئے ان سب احباب کی اطلاع کے لئے جو اس سلسلہ میں شامل ہیں۔ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اگرچہ ہمارے اپنے سلسلہ کی خاص ضروریات بہت ہیں اور ہماری قوم پر بہت بوجھ چندوں کا ہے، تاہم چونکہ یونیورسٹی کی تحریک ایک نیک تحریک ہے، اس لئے ہم یہ ضروری سمجھتے ہیں کہ ہمارے احباب بھی اس تحریک میں شامل ہوںاور قلمے، قدمے، سخنے، زرے مدد دیں۔ نورالدین۔‘‘ (بدر 9 مارچ 1911ء ص 6کالم نمبر3)
اس اعلان کے ساتھ جماعت احمدیہ کی طرف سے یہ ایک ہزار روپیہ کا عطیہ بھی بھجوایا۔
(سالانہ رپورٹ صدر انجمن احمدیہ 12’1911ء ص 81)
نواب محسن الملک کی زندگی میں انگریزی حکومت کی بعض کڑی شرائط کے باعث یونیورسٹی کا معاملہ کئی برسوں تک کھٹائی میںپڑا رہا۔ مگر آخر جنوری 1921ء میں عظیم الشان یونیورسٹی جو ایشیائی مسلمانوں کی بہت بڑی یونیورسٹی تھی۔ معرض وجود میں آ گئی۔ (موج کوثر ص 145)
 

MindRoasterMir

لا غالب الاللہ
رکن انتظامیہ
منتظم اعلیٰ
معاون
مستقل رکن
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ
کی تحریکات
دورخلافت
14 مارچ 1914ء تا 8 نومبر1965ء

حضرت مصلح موعودؓ کی تربیتی تحریکات
تعلق باللہ اور عبادات کی تحریک
نماز مومن کی معراج ہے۔ اس لئے حضرت مصلح موعودؓ کی تمام ہدایات تعلق باللہ اور نمازوں کے گرد گھومتی ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ نے 11؍اگست 1955ء کو نوجوانان احمدیت کو یہ تحریک فرمائی:
’’وہ تقویٰ اور عبادت پر خاص زور دیں اور اتنی عبادت کریں کہ آسمان کے دروازے ان پر کھل جائیں اور ان پر الہام نازل ہونا شروع ہو جائے‘‘۔ (الفضل 17نومبر 1955ئ)
ذکر الٰہی کی تحریک
حضور نے 12مئی 1944ء کو تحریک فرمائی کہ احمدی نمازیں سنوار کر اور با جماعت پڑھیں اور روزانہ کم از کم بارہ دفعہ تسبیح و تحمید اور درود شریف پڑھنے کا التزام کریں ۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں:۔
کلمتان حبیبتان الی الرحمن خفیفتان علی اللسان ثقیلتان فی المیزان سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
فرماتے ہیں دو کلمے ایسے ہیں کہ رحمن کو بہت پیارے ہیں۔ خفیفتان علی اللسان زبان پر بڑے ہلکے ہیں ۔ عالم ،جاہل،عورت ،مرد،بوڑھا،بچہ، ہر شخص ان کلمات کو آسانی سے ادا کر سکتا ہے۔ … جہاں رسول کریم ﷺ نے تسبیح و تحمید اور تکبیر کی طرف توجہ دلائی ہے۔ وہاں تسبیحوں میں سے یہ تسبیح آپ نے بڑی اہم قرار دی ہے۔ پس میں جماعت میں تحریک کرتا ہوں کہ ہر احمدی کم سے کم بارہ دفعہ دن میں یہ تسبیح روزانہ پڑھ لیا کرے۔ وہ چاہے تو سوتے وقت پڑھ لے۔ چاہے تو ظہر کے وقت پڑھ لے۔چاہے تو عصر کے وقت پڑھ لے۔ چاہے تو مغرب کے وقت پڑھ لے۔ چاہے تو عشاء کے وقت پڑھ لے۔ چاہے تو فجر کے وقت پڑھ لے۔ بہر حال ہر احمدی یہ عہد کرے کہ وہ روزانہ بارہ دفعہ سبحان اللّٰہ وبحمدہ سبحان اللّٰہ العظیم پڑھ لیا کرے گا۔ اسی طرح دوسری چیز جو اسلام کی ترقی کے لئے ضروری ہے وہ رسول کریم ﷺ کی برکات اور آپ کے فیوض کا دنیا میں وسیع ہونا ہے اور ان برکات اور فیوض کو پھیلانے کا بڑا ذریعہ درود ہے۔ بیشک ہر نماز کے وقت تشہد کے وقت درود پڑھا جاتا ہے مگر وہ جبری درود ہے اور جبری درود اتنا فائدہ نہیں دیتا جتنا اپنی مرضی سے پڑھا ہوا درود انسان کو فائدہ دیتا ہے۔ وہ درود بیشک نفس کی ابتدائی صفائی کے لئے ضروری ہے۔ لیکن تقرب الی اللہ کے حصول کے لئے اس کے علاوہ بھی درود پڑھنا چاہئے۔ پس میں دوسری تحریک یہ کرتا ہوں کہ ہر شخص کم از کم بارہ دفعہ روزانہ درود پڑھنا اپنے اوپر فرض قرار دے لے‘‘۔ ( الفضل 23مئی1944ء ص6,5)
حضرت مصلح موعودؓ نے 12؍اکتوبر 1947ء کو مجلس عرفان میں ایک پُر معارف تقریر کے ذریعہ احمدیوں کو ذکر الٰہی اورنماز با جماعت کی خاص تحریک کی۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’ ہمیں تو ایسے رنگ میں اپنے اعمال کو ڈھالنا چاہئے۔ جو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ کر دے۔ پھر نماز سے پہلے اور پیچھے ذکر الٰہی کرنے میں بھی بہت غفلت سے کام لیا جاتا ہے۔ نماز سے پہلے جو وقت امام کے انتظار میں گزارا جاتا ہے اس کو بالعموم ادھر ادھر کی باتوں میں گنوا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ وقت ایسا ہی ہوتا ہے جیسے جہاد کا وقت۔ ذکر الٰہی سے دماغ صاف ہوتا ہے۔ فرشتوں سے تعلق مضبوط ہوتا ہے اور نفس کی کمزوریاں دور ہوتی ہیں۔ پس ذکر الٰہی کی عادت ڈالو۔ اپنے وقتوں کو صحابہ کے رنگ میں گزارو، ورنہ وہ برکتیں دیر تک پیچھے پڑتی ہی جائیں گی جو خداتعالیٰ نے تمہارے لئے مقدر کر رکھی ہیں۔ ان فتنوں کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کا فضل ہم پر نازل ہو۔
پس خدا کے فضل کے جاذب بنو اور دعائیں کرو کہ قوم کے اندر اتحاد، قربانی اور ایثار کا مادہ پیدا ہو ۔ اگر پاکستان میں بھی خدانخواستہ مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے تو پھر سوائے سمندر میں جا کر غرق ہو جانے کے اس ملک میں مسلمانوں کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں ہو گا‘‘۔ (الفضل 14؍اکتوبر1947ء ص4)
ایک الہامی دعا پڑھنے کی تحریک:
حضرت مصلح موعود کو نومبر 1956ء کے آغاز میں بذریعہ خواب مندرجہ ذیل دو فقرے القاء ہوئے۔ ’’ہم قدم قدم پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں اور اس کی رضا کی جستجو کرتے ہیں ‘‘۔ حضور نے 16نومبر 1956ء کے خطبہ جمعہ میں احباب جماعت کو تحریک فرمائی کہ دوست اپنی دعائوں میں یہ فقرے کثرت سے پڑھیں ان کی دعائیں زیادہ قبول ہوں گی۔ (الفضل 23نومبر 1956ء ص3)
نفلی روزے
حضرت مصلح موعودؓ نے فرض روزوں کے علاوہ متعدد بار نفلی روزوں کی تحریک فرمائی۔ چنانچہ 1929ئ، 1930ء میں دشمن کی شرارتوں اور اذیت رسانی کے مقابل پر انسانی عدالتوں کی بجائے حضور نے خدائے قدوس کی بارگاہ میں استغاثہ پیش کرنے کی یہ ہدایت فرمائی۔ آپ نے مجلس مشاورت 1929ء میں فرمایا کہ:
’’رسول کریم ﷺ کی عادت تھی کہ ہفتہ میں دو روز پیر اورجمعرات کے دن روزے رکھا کرتے تھے۔ ہماری جماعت کے وہ احباب جن کے دل میں اس فتنہ نے درد پیدا کیا ہے اور جو اس کا انسداد چاہتے ہیں۔ اگر روزے رکھ سکیں تو 28؍اپریل 1930ء سے تیس دن تک جتنے پیر کے دن آئیں ان میں روزے رکھیں اور دعائوں میں خاص طور پرمشغول رہیں کہ خدا تعالیٰ فتنہ دور کردے اور ہم پر اپنا خاص فضل اور نصرت نازل کرے اور جو دوست یہ مجاہدہ مکمل کرنا چاہیں وہ چالیس روز تک جتنے پیر کے دن آئیں ان میں روزے رکھیں اور دعا کریں ۔ (الفضل 23؍اپریل 1930ء ص2کالم4,3)
چنانچہ جماعت کے دوستوں نے حضور کی تحریک پر روزے رکھے اور تضرع سے دعائیں کیں آخر خدائی عدالت نے اپنے بندوں کے حق میں ڈگری دے دی یعنی ایسا سامان پیدا کردیا کہ فتنہ پر دازوں کے دلوں میں حکومت کی مخالفت کا جوش پیدا ہو گیا۔ جس کی وجہ سے وہ سب پکڑے گئے باقی وہ رہ گئے جو بالکل کم حیثیت اور ذلیل اور ذلیل لوگ تھے۔ اصل وہی تھے جن کی شہ پر انہیں شرار ت کی جرأ ت ہوتی تھی اور وہ گرفتار ہو گئے ان کے علاوہ وہ اخبار جو جماعت کے خلاف گند اچھالتے تھے یا تو وہ بند ہو گئے ۔ یا پریس آرڈی نینس کے خوف کی وجہ سے اپنا رویہ بدلنے پر مجبور ہوئے۔
(الفضل 12جون 1930ء صفحہ5کالم3)
اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ نے سالانہ جلسہ 1952ء پر ارشاد فرمایا کہ احمدی 1953ء کے شروع میں سات نفلی روزے رکھیں اور ہر روزہ سوموار کو رکھا جائے ۔ حضور نے سال کے پہلے خطبہ میں اس کی یاددہانی کرائی اور نصیحت فرمائی کہ:
’’جو طاقتور ہیں ، تندرست ہیں ان کے لئے سفر میں رمضان کے روزے جائز نہیں ۔ نفلی روزے جائز ہیں کیونکہ احادیث سے یہ ثابت ہے کہ جب مسافر کے لئے فرض روزے منع ہو گئے تو بھی بعض صحابہؓ سفر اور لڑائیوں میں نفلی روزے رکھ لیتے ۔ ان ایام کو خصوصیت کے ساتھ دعائوں میں گذارو اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو‘‘۔
احمدیوں نے جو ہمیشہ فتنوں اور آزمائشوں کے ایام میں اِس روحانی مجاہدہ کے خوشکن اثرات و نتائج کو آزماتے آ رہے تھے اس تحریک پر بھی والہانہ لبیک کہا۔ (تاریخ احمدیت جلد15 ص421)
تحریک ادائیگی حج
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے فریضہ حج کی بجا آوری کے لئے پر زور تحریک کی ۔ چنانچہ خطبہ جمعہ یکم ستمبر 1952ء کے دوران فرمایا
’’ یہ عید اس طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھ کر ہمارے اندر بھی حج کرنے کا جذبہ پیدا ہو نا چاہیے۔جہاں اپنے بعض بھائیوں کو حج نصیب ہونے کی خبر سن کر ہم خوش ہوتے ہیں وہاں ساتھ ہی ہمیں یہ خیال بھی کرنا چاہئے کہ ہم کیوں حج نہ کریں ؟ہمارے اندر یہ خواہش پیدا ہونی چاہئے کہ خداتعالیٰ ہمیں بھی حج کا موقعہ دے مگر افسوس کہ حج کی طرف سے لوگوں کی توجّہ ہٹ گئی ہے بہت کم لوگ ہیں جو حج کے لئے جاتے ہیں ۔‘‘
’’یہ عید اس لئے آتی ہے تا ہمارے دلوں کو بیدار کرے اور ہمیں ہمارا فرض یاد دلائے عید ہمیں یہ بتانے آتی ہے کہ حج کی عبادت تم پر بھی فرض ہے جس طرح نماز ایک ضروری فریضہ ہے جس طرح زکوٰۃ ایک ضروری فریضہ ہے، جس طرح روزے ایک ضروری فریضہ ہیں۔ اسی طرح حج بھی ایک ضروری فریضہ ہے لیکن افسوس کہ نہ غیر احمدیوں میں اِس فریضہ کا صحیح احساس پایا جاتا ہے اور نہ احمدیوں کو اس کا پورا احساس ہے۔ غیر احمدیوں میں تو یہ لطیفہ ہوتا ہے ۔ ان کے خطوط آتے ہیں کہ اگر حضرت مرزا صاحب مسلمان تھے تو انہوں نے حج کیوں نہیں کیا؟ پھر ان کے پہلے خلیفہ نے بھی حج نہیں کیا اور آپ نے بھی حج نہیں کیا حالانکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے نہ صرف حج کیا تھا بلکہ دو سال کے قریب آپ مکہ مکرمہ میں رہے اور میں نے بھی حج کیا ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑ کی صحت اِس قابل نہیں تھی کہ آپ سفر کرتے اور پھر آپ کے لئے رستہ میں امن بھی نہیں تھا ۔ اِس لئے آپ نے حج نہیں کیا لیکن آپ کی طرف سے ہم نے حج بدل کر وا دیا تھا۔
اب اس عید سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دلوں میں حج کی عظمت پیدا کرو اور زیادہ سے زیادہ حج کے لئے جائو تاکہ حج کی غرض پوری ہو اور حج سے جو خداتعالیٰ کا منشاء ہے وہ پورا ہو ۔
(الفضل 3؍اکتوبر 1952ئ)
سندھ کے ایک احمدی دوست نے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں تجویز بھجوائی کہ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ ایک فنڈ قائم کرے جس میں زیادہ سے زیادہ خدام شامل ہوں جو ایک روپیہ سالانہ چندہ ادا کریں ۔ اس طرح جو رقم جمع ہو اس سے ہر سال کم از کم ایک احمدی کو حج بیت اللہ کرایا جائے ۔ حضورنے اس تجویز پر اظہار خوشنودی کیا اور فرمایا کہ فی الحال یہ تحریک کی جائے کہ جو شخص چھ سو روپیہ خود ادا کرے اسے اس فنڈ سے مزید چھ سو روپے دے دئیے جائیں گے تاکہ وہ حج کر کے آ سکے۔ اس ارشاد مبارک کی تکمیل میں سال 1954ء کے شروع میں حج فنڈ مجلس خدام الاحمدیہ کی مدّ امانت کھول دی گئی۔ اس مبارک تحریک کی بدولت متعدد احمدیوں کو فریضہ حج بجا لانے کی توفیق ملی ۔
(الفضل 8جنوری 1954ئ)
احیاء سنت کی تحریک
سالانہ جلسہ1937ء پر سیدنا محمودؓ نے سالانہ جلسہ پر جمع ہونے والے احمدیوں کو احیاء سنّت کے لئے سرگرم ہونے کا حکم دیتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی کہ احمدیت کے ذریعہ مستقبل میں عالمگیر اسلامی انقلاب برپا ہونا مقدر ہے اور دنیا کی حکومتیں اور بادشاہتیں احمدیوں کو عطا ہونے والی ہیں ۔
یہ عظیم الشان بشارت حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنی 28دسمبر 1938ء کی معرکۃ الآراء اور اپنے اندر ’’الہامی رنگ رکھنے والی ‘‘ پُر شوکت تقریر کے آخر میں سنائی جو’’انقلاب حقیقی ‘‘ کے اہم موضوع پر تھی اور جس کے ابتداء میں حضور نے دنیا کی مشہور تمدنی اور مذہبی تحریکات کی خصوصیات پر بالتفصیل روشنی ڈالنے کے بعد اعلان فرمایا۔
’’اب وقت آگیا ہے کہ ہماری جماعت اپنی ذمہ داری کو سمجھے اور احیاء سنت و شریعت کے لئے سرگرم عمل ہو جائے ۔جب تک میں نے اعلان نہ کیا تھا۔ لوگوں کے لئے کوئی گناہ نہ تھا ۔ مگر اب جبکہ امام اعلان کرتا ہے کہ احیاء سنت و شریعت کا وقت آ گیا ہے کسی کو پیچھے رہنا جائز نہیں ہو گا۔ اور اب اگر سستی ہوئی تو کبھی بھی کچھ نہ ہوگا۔ (انقلاب حقیقی۔انوارالعلوم جلد15 ص100 )
اس اعلان کے بعد حضور نے اسلامی تمدن کے متعلق بطور نمونہ دس احکام بیان فرمائے اور احمدیوں سے عہد لیا کہ وہ اپنی جائداد سے اپنی لڑکیوں اور دوسری رشتہ دار عورتوں کو وہ حصہ دے گا۔ جو خدا اور اس کے رسول ؐ نے مقرر کیا ہے ۔ (انقلاب حقیقی ۔انوارالعلوم جلد15 ص108 )
اس کے علاوہ حضور نے احیاء شریعت و سنت کے پہلے مرحلہ کے طور پر عورتوں کے حقوق ،امانت، خدمت خلق اور احمدی دارالقضاء کی طرف رجوع کرنے کے متعلق تاکیدی ہدایات دیں اور فرمایا
’’بیشک آج ہم وہ کام نہیں کرسکتے جو حکومت اور بادشاہت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں مگر وہ باتیں جو ہمارے اختیار میں ہیں۔ ان پر آج سے ہی عمل شروع ہو جانا چاہیے‘‘۔
حضور نے تقریرکے آخر میں یہ بشارت دی کہ :
’’ دنیا میں انسان جب ایک سبق یاد کر لیا کرتا ہے تو استاد اسے دوسرا سبق دیتاہے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ جب تم اس سبق کو یاد کر لو گے۔ تو اللہ تعالیٰ دنیا کی حکومتیں اور بادشاہتیں تمہارے قدموں میں ڈال دے گا ۔ اور کہے گا جب تم نے ان تمام احکام اسلام کو جاری کر دیا ۔ جن کے لئے حکومت کی ضرورت نہیں تھی ۔ تو آئو اب میں حکومتیں بھی تمہارے سپرد کرتا ہوں۔ یا جو چند احکام شریعت کے باقی ہیں ان کا بھی عالم میں نفاذ ہو اور اسلامی تمدن کی چاروں دیواریں پایۂ تکمیل کو پہنچ جائیں۔ پس اگر تم میری ان باتوں پر عمل شروع کر دو ۔ تو اللہ تعالیٰ حکومتوں کو بھی تمہارے سپرد کر دے گا اور جو حکومتیں اس کے لئے تیار نہیں ہوں گی اللہ تعالیٰ انہیں تباہ کر دے گا اور اپنے فرشتوں کو حکم دے گا کہ جائو اور ان کا تختہ الٹ کر حکومت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دو جو میرے اسلام کو دنیا میں رائج کر رہے ہیں ‘‘۔
(انقلاب حقیقی۔انوارالعلوم جلد15 ص114)
نظام وصیت میں شمولیت کی تحریک
حضور نے 7مئی 1926ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا ’’وصیت کی تحریک خداتعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ اور اس کے ساتھ بہت سے انعامات وابستہ ہیں ۔ابھی تک جنہوں نے وصیت نہ کی ہو وہ کر کے اپنے ایمان کے کامل ہونے کا ثبوت دیں ۔ کیونکہ حضرت مسیح موعود ؑ نے لکھا ہے کہ جو شخص وصیت نہیں کرتا مجھے اس کے ایمان میں شبہ ہے ۔ پس وصیت معیار ہے ایمان کے کامل ہونے کا۔ مگر دسویں حصہ کی وصیت اقل ترین معیارہے۔ یعنی یہ تھوڑے سے تھوڑا حصہ ہے جو وصیت میں دیا جا سکتا ہے۔ مگر مومن کو یہ نہیں چاہئے کہ چھوٹے سے چھوٹے درجہ کا مومن بننے کی کوشش کرے بلکہ بڑے سے بڑے درجہ کا مومن بننا چاہئے۔ یہ درست ہے کہ رشتہ داروں اور لواحقین کو مد نظر رکھ کر کہا گیا ہے کہ 1/3حصہ سے زیادہ وصیت میں نہ دے ۔ لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ دسویں حصہ سے زیادہ وصیت نہ دے ۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ اکثر دوست 1/10حصہ کرنے پر کفایت کرتے ہیں جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شاید ان کا خیال ہو کہ وصیت کا مفہوم دسویں حصہ کی وصیت کرنا ہی ہے حالانکہ یہ ادنیٰ مقدار بیان کی گئی ہے اور مومن کے لئے یہی بات مناسب ہے کہ جس قدر زیادہ دے سکے دے ۔ (خطبات محمود جلد 10ص 167)
حضور نے جلسہ سالانہ 1926ء پر 28دسمبر کے خطاب میں فرمایا:
’’میں دوستوں کو وصیت کی طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں ۔ وصیت ہماری جماعت کے لئے نہایت اہم اور اصل چیز ہے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا ہے جو شخص وصیت نہیں کرتا اس کے ایمان میں نفاق کا حصہ ہے ۔پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں ۔ وصیت کی طرف خاص توجہ کریں۔ جماعت کا کثیر حصہ ابھی تک وصیتوں سے خالی ہے ۔ اس وقت ہماری جماعت کی ترقی کے لئے مالی قربانیوں کی بہت ضرورت ہے ۔ خدا تعالیٰ کا منشاء ہے کہ ہم مالی قربانیوں میں پورا حصہ لیں ‘‘۔
(انوار العلوم جلد9صفحہ 443)
حضور نے 26؍اگست1932ء کو فرمایا’’ تیسرا فرض جس کی طرف میں جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں وہ وصیت کا مسئلہ ہے ۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے لکھا ہے کہ وصیت ایمان کی آزمائش کا ذریعہ ہے اور وہ اس کے ذریعہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون سچا مومن ہے اور کون نہیں ہے ۔ہماری جماعت اس وقت لاکھوں کی تعداد میں ہے مگر وصیت کرنے والے صرف دو تین ہزار ہیں۔ حالانکہ وصیت ایسی چیز ہے جو یقینی طور پر خدا کا مقرب ہونا ظاہر کرتی ہے ۔
اس میں شبہ نہیںکہ مومن ہی وصیت کرتا ہے لیکن اس میں بھی شبہ نہیں کہ اگر کسی شخص میں کچھ کمزوریاں بھی پائی جاتی ہوں تو جب وہ وصیت کرے گا تو اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کے مطابق بہشتی مقبرہ میں صرف جنتی ہی مدفون ہوں گے ، اس کے اعمال کو درست کر دیتا ہے ۔ پس وصیت اصلاح نفس کا زبر دست ذریعہ ہے ۔ کیونکہ جو بھی وصیت کرے گا اگر وہ ایک وقت میں جنتی نہیں تو بھی وہ جنتی بنا دیا جائے گا اور اگر اعمال اس کے زیادہ خراب ہیں تو خدا اس کے نفاق کو ظاہر کر کے اسے وصیت سے الگ کر دے گا۔ (خطبات محمود جلد 13صفحہ 562)
حضور نے 27دسمبر 1942ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پر ’نظام نو‘کے عنوان سے ایک معر کۃ الآراء خطاب فرمایا جس میں تحریک جدید اور نظام وصیت کے باہمی رابطے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’خداتعالیٰ نے میرے دل میں تحریک جدید کا القاء فرمایا تاکہ اس ذریعہ سے ابھی سے ایک مرکزی فنڈ قائم کیا جائے اور ایک مرکزی جائیداد پیدا کی جائے جس کے ذریعہ تبلیغ احمدیت کو وسیع کیا جائے۔ پس تحریک جدید کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیاز پیش کرنے کے لئے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس کے آنے میں ابھی دیر ہے اس لئے ہم تیرے حضور اس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں تاکہ اس وقت تک کہ وصیت کا نظام مضبوط ہو اس ذریعہ سے جو مرکزی جائیداد پیدا ہو اس سے تبلیغ احمدیت کو وسیع کیا جائے اور تبلیغ سے وصیت کو وسیع کیا جائے۔
پس جوں جوں تبلیغ ہو گی اور لوگ احمدی ہوں گے وصیت کا نظام وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جائے گا اور کثرت سے اموال جمع ہونے شروع ہو جائیں گے … پس وصیت کے ذریعہ اس وقت جو اموال جمع ہو رہے ہیں ان کی رفتار بیشک تیز نہیں مگر جب کثرت سے احمدیت پھیل گئی اور جوق در جوق لوگ ہمارے سلسلہ میں داخل ہو گئے اس وقت اموال خاص طور پر جمع ہونے شروع ہو جائیں گے اور قدرتی طور پر جائیدادوں کا ایک جتھا دوسری جائیدادوں کو کھینچنا شروع کردے گا اور جوں جوں وصیت وسیع ہوگی نظام نو کا دن انشاء اللہ قریب سے قریب تر آ جائے گا۔
غرض تحریک جدیدگو وصیت کے بعد آئی ہے مگر اس کے لئے پیشرو کی حیثیت میں ہے … بطور ارہاص کے ہے ہر شخص جو تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے وصیت کے نظام کو وسیع کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہر شخص جو نظام وصیت کو وسیع کرتا ہے وہ نظام نو کی تعمیر میں مدد دیتا ہے‘‘۔ پھر فرمایا:
’ ’پس تم جلد سے جلد وصیتیں کرو تاکہ جلد سے جلد نظام نو کی تعمیر ہو اور وہ مبارک دن آجائے جبکہ چاروں طرف اسلام اور احمدیت کا جھنڈا لہرانے لگے۔ اس کے ساتھ ہی میں ان سب دوستوں کو مبارک باد دیتا ہوں۔ جنہیں وصیت کرنے کی توفیق حاصل ہو ئی اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو بھی جو ابھی تک اس نظام میں شامل نہیں ہوئے ۔توفیق دے کہ وہ بھی اس میں حصہ لے کر دینی و دنیوی برکات سے مالا مال ہو سکیں اور دنیا اس نظام سے ایسے رنگ میں فائدہ اٹھائے کہ آخر اسے یہ تسلیم کرنا پڑے کہ قادیان کی وہ بستی جسے کور دہ کہا جاتا تھا۔ جسے جہالت کی بستی کہا جاتا تھا۔اس میں سے وہ نور نکلا جس نے ساری دنیا کی تاریکیوں کو دور کر دیا۔ جس نے ساری دنیا کی جہالت کو دور کر دیا۔ جس نے ساری دنیا کے دکھوں اور دردوں کو دور کر دیا جس نے ہر امیر اور غریب، ہر چھوٹے اور بڑے کو محبت اور پیار اور الفت باہمی سے رہنے کی توفیق عطا فرما دی ‘‘۔
(نظام نو ۔انوار العلوم جلد16صفحہ 602-599)
جماعت امریکہ کو نظام وصیت میں شمولیت کی تحریک :
حضرت مصلح موعودؓ نے 1955ء میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے احمدیوں کے نام انگریزی میں ایک اہم پیغام ارسال فرمایا جس میں حضور نے نظام وصیت کے عظیم الشان مقصد پر روشنی ڈالی اور اسے امریکہ میں بھی جاری کرنے کی پُر زور تحریک فرمائی۔
میرے عزیز امریکن بھائیو!
جیسا کہ آپ سب کو معلوم ہو گا کہ حضرت مسیح موعود ؑنے اپنی وفات سے دو سال قبل وصیت کے طور پر ضروری ہدایات اس دستاویز کی شکل میں شائع فرما دی تھیں جو ’’الوصیت ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ دستاویز بہت اہم ہے ہر احمدی کو چاہئے کہ وہ اس کا ضرور مطالعہ کرے۔ …مجھے یقین ہے کہ اس دستاویز کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ میں سے ہر ایک میں یہ شدید خواہش ہو گی کہ وہ بھی اس عظیم الشان تحریک میں جو اس میں بیان کی گئی ہے اور جو اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے نہایت درجہ اہمیت کی حامل ہے شامل ہونے کی سعادت حاصل کرے۔ …’’الوصیت ‘‘ کے منشاء کے مطابق ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جماعت احمدیہ جتنی جلدی ممکن ہو سکے کسی مرکزی علاقے میں ایک موزوں قطعہ زمین خریدنے کا انتظام کرے گی۔ یہ قطعہ زمین قبرستان کے طور پر ان لوگوں کے لئے مخصوص ہو گا جو ’’الوصیت‘‘ میں بیان کردہ شرائط اور ان قواعد کے مطابق جو امام جماعت احمدیہ اور صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی طرف سے نافذ ہوں ۔ وصیت کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ریاست ہائے متحدہ میں ایک دفعہ جاری ہونے کے بعد یہ سکیم انشاء اللہ تقویت حاصل کرے گی۔ اور رفتہ رفتہ تمہارے ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ہم وطن اس میں شامل ہو جائیں گے اور اس طرح ان لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا جو اپنی مساعی اور آمدنیوں اور جائیدادوں کا ایک معقول حصہ ’’الوصیت ‘‘کے اغراض و مقاصد کے لئے وقف کریں گے۔
جوں جوں ایسے مخلص اور فدائی احمدیوں کی تعداد بڑھے گی ۔ اس امر کی ضرورت محسوس ہو گی کہ ملک کے مختلف حصوں میں ایسے قبرستان قائم کئے جائیں ۔ چنانچہ حسب ضرورت مختلف اوقات میں ایسے قبرستانوں کا قیام عمل میں آتا رہے گا۔
جیسا کہ ’’الوصیت ‘‘ میں بیان کیا گیا ہے وصیت کی اس سکیم کے فوائد اور رنگ میں بھی ظاہر ہوں گے۔ اور بالآخر یہ انسانیت کے کمزور طبقوں کو اٹھانے اور انسانی فلاح و بہبود اور خوشحالی کو ترقی دینے کا ذریعہ ثابت ہو گی۔ کوئی نظام بھی جس کی بنیاد جبر و اکراہ پر ہو اس مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ الوصیت میں جو سکیم پیش کی گئی خالصۃً طوعی اور رضاکارانہ اور خدمت اسلام کے ایک اجر کا درجہ رکھتی ہے اس لحاظ سے جو اخلاقی اور روحانی فوائد اس تحریک کے ساتھ وابستہ ہوں گے تمام دوسرے نظام ان سے محروم ہیں۔
رفتہ رفتہ ایک ملک کے بعد دوسرا ملک اس تحریک کو اپنانے کے لئے آگے آ تا رہے گا اور اس طرح ان لوگوں کی طرف سے جو اس سکیم کے ذریعہ روحانی، اخلاقی اور مادی فوائد سے متمتع ہوں گے۔ دنیا میں خدا کا نام بلند ہوتا رہے گا۔
اس تحریک پر پاکستان اور ہندوستان میں پہلے سے عمل ہو رہا ہے ۔میری خواہش ہے اور میں اس کے لئے دعا بھی کرتا ہوں کہ تحریک کو اپنانے والے ممالک میں سے امریکہ تیسرا ملک ثابت ہو ۔اور اس طرح وہ وسیع سے وسیع تر پیمانے پر انسانیت کی فلاح و بہود اور اس کی ترقی کی بنیادیں استوار کرنے میں حصہ لے آمین ۔ (الفضل 9فروری 1956ئ)
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے یہ خصوصی پیغام چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر انچارج امریکہ مشن کو ارسال فرمایا اور اس مبارک تحریک کو عملی جامہ پہنانے کے لئے بذریعہ مکتوب حسب ذیل ہدایات دیں
ایک مضمون ارسال ہے۔اس کو فوراً شائع کروائیں۔اور پھر اس کے مطابق جو لوگ وصیتیں کریں ان کے نام اور جائیداد کی تفصیل مرکز کو بھجوائیں۔ ایک مقبرہ کمیٹی قائم کریں جو زمین خریدے اور اس مقبرے کو بہت خوبصورت بنا یا جائے۔ باغ وغیرہ لگایا جائے۔ میرے مضمون ’’نظام نو‘‘ کا انگریزی ترجمہ بھی جلد شائع کیا جائے اس میں تمام تفصیلات اس مضمون کی میں نے بیان کی ہیں ۔
وہاں کے لوگوں میں قادیان کی محبت اور قادیان کو واپس لینے کا جذبہ بھی پیدا کریں ۔ جن لوگوں کو خدا توفیق دے وہ ایسا انتظام کریں کہ ان کی وفات کے بعد قادیان ان کی نعش لے جائی جا سکے تو اس کا بہت اچھا اثر ہو گا۔ (تاریخ احمدیت جلد 19ص 112)
جماعت انڈونیشیا کو نظام وصیت میں شمولیت کی تحریک :
حضرت مصلح موعودؓ نے امریکہ کے بعد اگلے سال 1956ء میں انڈونیشیا کی احمدیہ جماعتوں کو بھی نظام وصیت کی ترویج کی طرف توجہ دلائی جس کے خوشکن اثرات رونما ہو نے شروع ہو گئے ۔ جس پر حضور نے 29جون 1956ء کو خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا
’’ حضرت مسیح موعود ؑ نے وصیت کا نظام جاری فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں ایسی برکت رکھ دی کہ باوجود اس کے کہ انجمن کے کام ایسے ہیں جو دلوں میں پیدا کرنے والے نہیں۔ پھر بھی انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید کے بجٹ سے ہمیشہ بڑھا رہتا ہے۔ کیونکہ وصیت ان کے پاس ہے اس سال کا بجٹ بھی تحریک جدید کے بجٹ سے دو تین لاکھ زیادہ ہے حالانکہ تحریک جدید کے پاس اتنی بڑی جائیداد ہے کہ اگر وہ جرمنی میں ہوتی تو ڈیڑھ دو کروڑ روپیہ سالانہ ان کی آمد ہوتی مگر اتنی بڑی جائیداد اور بیرونی ممالک میں تبلیغ کرنے کی جوش دلانے والی صورت کے باوجود محض وصیت کے طفیل صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ تحریک جدید سے بڑھا رہتا ہے۔ اس لئے اب وصیت کا نظام میں نے امریکہ اور انڈونیشیا میں بھی جاری کر دیا ہے اور وہاں سے اطلاعات آر ہی ہیں کہ لوگ بڑے شوق سے اس میں حصہ لے رہے ہیں … میں نے سمجھا کہ چونکہ یہ خدا تعالیٰ کا قائم کردہ ایک نظام ہے اگر اس نظام کو بیرونی ملکوں میں بھی جاری کر دیا جائے تو وہاں کے مبلغین کے لئے اور مساجد کی تعمیر کے لئے بڑی سہولت پیدا ہو جائے گی۔ (روزنامہ الفضل ربوہ 10جولائی1956ئ)
جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ کے مندرجہ بالا پیغام سے عیاں ہے کہ آپ کی دلی تمنا اور خواہش تھی کہ برصغیر پاک و ہند کے بعد نہ صرف امریکہ اور انڈونیشیا بلکہ ساری دنیا کے ممالک میں نظام وصیت کا قیام عمل میں آجائے سو الحمدللہ حضور نے 1955ء میں جو آواز بلند کی تھی اس کی گونج اب آہستہ آہستہ ساری دنیا میں سنائی دینے لگی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ 2004ء پر نظام وصیت میں شمولیت کی پُرزور تحریک فرمائی جس کے بے حد خوشکن نتائج ظاہر ہوئے۔
شعائر اسلامی کی پابندی کا تاکیدی ارشاد
3؍اکتوبر 1930ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے شعار اسلامی (داڑھی) کی پابندی کی طرف پُرزور توجہ دلائی چنانچہ فرمایا ’’ احباب کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو شعائر اسلامی کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عادی بنائیں کیا یہ کوئی کم فائدہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف جا رہی ہے اور ہم کہتے ہیں ہم اس طرف چلیں گے۔ جس طرف محمد رسول اللہ ﷺ لے جانا چاہتے ہیں اس سے دنیا پر کتنا رعب پڑے گا دنیا رنگا رنگ کی دلچسپیوں اور ترغیبات سے اپنی طرف کھینچ رہی ہو مگر ہم میں سے ہر ایک یہی کہے کہ میں اس راستہ پر جائوں گا جو محمد رسول اللہ ﷺ کا تجویز کردہ ہے تو لازماً دنیا کہے گی کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی چاہئے کیونکہ اس کے متبعین اس کے گرویدہ اور جاںنثار ہیں۔ لیکن جو شخص فائدے گن کر مانتا ہے وہ دراصل مانتا نہیں مانتا وہی ہے جو ایک دفعہ یہ سمجھ کر کہ میں جس کی اطاعت اختیار کررہا ہوں وہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہے آئندہ کے لئے عہد کر لیتا ہے کہ جو نیک بات یہ کہے گا اسے میں مانوں گا اور اطاعت کی اس روح کر مد نظر رکھتے ہوئے سوائے ان صورتوں کے کہ گورنمنٹ کے کسی حکیم یا نیم حکیم سے داڑھی پر کوئی پابندی عائد ہو جائے سب کو داڑھی رکھنی چاہئے… مگر یہ ایسی ہی صورت ہے جیسے بیماری کی حالت میں شراب کا استعمال جائز ہے۔ اس لئے اس حالت والے چھوڑ کر باقی سب دوستوں کو داڑھی رکھنی چاہئے اور اپنے بچوں کی بھی نگرانی کرنی چاہئے کہ وہ شعائر اسلامی کی پابندی کرنے والے ہوں اور اگر وہ نہ مانیں تو ان کا خرچ بند کر دیا جائے اسے کوئی صحیح الدماغ انسان جبر نہیں کہہ سکتا … اس کا نام جبر نہیں بلکہ نظام کی پابندی ہے اور نظام کی پابندی جبر نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر بہت بڑے بڑے فوائد ہیں اور اس کے بغیر دنیا میں گزارہ ہی نہیں ہو سکتا ۔
(الفضل 9؍اکتوبر 1930ء ص 7کالم 3-2)
حضور نے 19جون 1942ء کو ایک مفصل خطبہ ارشاد فرمایا ۔جس میں شعائر اسلامی کی پابندی کی ازحد تاکید کی اور بتایا کہ داڑھی منڈوانے والے احمدی شکست خوردہ ذہنیت رکھتے ہیں ۔ انہیں جماعت کے کسی عہدہ کے لئے منتخب نہ کیا جائے ۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔
’’جہاں شریعت کے احکام کا سوال آجائے وہاں اگر ہم دوسروں کی نقل کریں تو یقینا ہم اسلام کی ذلت کے سامان کر کے دشمنوں کی مدد کرنے والے قرار پاتے ہیں۔ انہی نقلوں میں سے ایک نقل داڑھی منڈوانا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ نہیں متواتر داڑھی منڈوانے سے منع فرمایا ہے اور داڑھی منڈوا کر کوئی خاص فائدہ انسان کو نہیں پہنچتا … جو شخص رسول کریم ﷺ کی اتنی چھوٹی سی بات نہیں مان سکتا اس سے یہ کب توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر اس کے سامنے کوئی بڑی بات پیش کی جائے تو وہ اسے مان لے گا‘‘۔
نیز فرمایا :
’’ میں نے متواتر جماعتوں کو توجہ دلائی ہے اور ہاں قانون بھی ہے کہ کم سے کم جماعت کے عہدیدار ایسے نہیں ہونے چاہئیں جو داڑھی منڈواتے ہوں اور اس طرح اسلامی احکام کی ہتک کرتے ہوں ۔ مگر میں دیکھتا ہوں کہ اب بھی دنیا داری کے لحاظ سے جس کی ذرا تنخواہ زیادہ ہوئی یا چلتا پرزہ ہوا یا دنیاوی لحاظ سے اسے کوئی اعزاز حاصل ہوا اسے جماعت کا عہدیدار بنا دیا جاتاہے خواہ وہ داڑھی منڈواتا ہو۔ حالانکہ دنیوی لحاظ سے ہماری جماعت کے بڑے سے بڑے لوگ بھی ان لوگوں کے پاسنگ بھی نہیں جو اس وقت دنیا میں پائے جاتے ہیں ۔ …
پس ایسی شکست خوردہ ذہنیت کے لوگ جنہوں نے مغربیت کے آگے ہتھیار ڈال رکھے ہیں۔ وہ ہر گز کسی عہدہ کے قابل نہیں ہیں۔ وہ بھگوڑے ہیں اور بھگوڑوں کوحکومت دے دینا اوّل درجہ کی حماقت اور نادانی ہے۔ … پس میں ایک دفعہ پھر جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہاں سوال چند بالوں کا نہیں بلکہ یہاں سوال اس ذہنیت کا ہے جو مغربیت کے مقابلہ میں اسلام اور احمدیت نے پیدا کرنی ہے اور جس ذہنیت کو ترک کرکے انسان مغربیت کا غلام بن جاتا ہے۔ … تمہارا ایمان تو ایسا ہونا چاہئے کہ اگر دس کروڑ بادشاہ بھی آکر کہیں کہ ہم تمہارے لئے اپنی بادشاہتیں چھوڑنے کو تیار ہیں تم ہماری صرف ایک بات مان لو جو اسلام کے خلاف ہو تو تم ان دس کروڑ بادشاہوں سے کہہ دو کہ تُف ہے تمہاری اس حرکت پر میں محمد مصطفیٰ ﷺ کی ایک بات کے مقابل میں تمہاری اور تمہارے باپ دادا کی بادشاہتوں کو جوتی بھی نہیں مارتا یہ ہے ایمان کی کیفیت۔ جوشخص یہ کیفیت اپنے دل میں محسوس نہیں کرتا اس کا یہ دعویٰ کہ اس کا ایمان پکا ہے ہم ہرگز ماننے کے لئے تیار نہیں ہو سکتے ‘‘۔
(الفضل 30جون 1942ء ص 7,5,3)
تحریک حلف الفضول
’’حلف الفضول ‘‘ ایک معاہدہ تھا جو حضرت رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بعثت سے قبل ہوا جس میں زیادہ جوش کے ساتھ حصہ لینے والے تین فضل نام کے تھے اور اسی لئے اس کو حلف الفضول کہتے ہیں۔ یہ معاہدہ عبدا للہ بن جدعان کے مکان میں ہوا۔ اس کے اولین اور پُر جوش داعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا اور خاندان کے سربراہ زبیر بن مطلب تھے اور طے پایا کہ ہم مظلوموں کو ان کے حقوق دلوانے میں مدد کیا کریں گے اور اگر کوئی ظلم کرے گا تو اس کو روکیں گے اور اس بات میں ایک دوسرے کی تائید کریں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حمایت مظلوم کی اس تحریک میں بنفس نفیس شرکت فرمائی۔ حضورؐ عہد نبوت میں بھی فرمایا کرتے تھے کہ میں عبدا للہ بن جدعان کے مکان پر ایک ایسے معاہدہ میں شریک ہوا کہ اگر آج اسلام کے زمانہ میں بھی مجھے کوئی اس کی طرف بلائے تو میں اس پر لبیک کہوں۔ سیدنا مصلح موعود کے قلب مبارک پر القاء کیا گیا کہ اگر اسی قسم کا ایک معاہدہ آپ کی اولاد بھی کرے اور پھر اس کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو خدا تعالیٰ ان کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ ان پر اپنا فضل فرمائے گا۔ (الفضل 22جولائی1944ء ص 2کالم3)
اس الہام ربانی کی بناء پر حضور نے 4 جولائی 1944ء کے خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ جماعت احمدیہ کے بعض افراد معاملات کی صفائی اور مظلوم کی امداد اور دیانت و امانت اور عدل و انصاف کے قیام کے لئے باقاعدہ عہد کریں۔
حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ نے ’’حلف الفضول ‘‘ کی مبارک تحریک میں شمولیت کے لئے یہ شرائط تجویز فرمائیں کہ :
’ ’ جو لوگ اس میں شامل ہونا چاہیں ان کے لئے لازمی ہے کہ سات دن تک متواتر اور بلا ناغہ استخارہ کریں۔ عشاء کی نماز میں یا نماز کے بعد دو نفل الگ پڑھ کر دعا کریں کہ اے خدا اگر میں اس کو نباہ سکوں گا تو مجھے اس میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرما۔ ایک اور شرط ہو گی کہ ایسا شخص خواہ امام الصلوٰۃ کے ساتھ اسے ذاتی طور پر کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو مرکزی احکام کے بغیر اس کے پیچھے نماز پڑھنا ترک نہ کر ے گا اور اپنے کسی بھائی سے خواہ اسے شدید تکلیف بھی کیوں نہ پہنچی ہو اس نے بات چیت کرنا ترک نہ کرے گا اور اگر وہ دعوت کرے تو اسے رد نہ کرے گا۔ ایک اور شرط ہے کہ سلسلہ کی طرف سے اسے جو سزا دی جائے گی اسے بخوشی برداشت کرے گا اور ایک یہ کہ اس اس کام میں نفسانیت اور ذاتی نفع نقصان کے خیالات کو نظر انداز کر دے گا‘‘۔
اس دعوت پر وسط 1945ء تک جو دوست شریک معاہدہ ہوئے ان کی تعداد 177 تھی۔
تحریک سالکین
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے احمدیوں کی تربیت و اصلاح کی غرض سے 27 دسمبر 1933ء کو جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ایک نہایت اہم تحریک ’’تحریک سالکین‘‘ کے نام سے جاری فرمائی۔ یہ تحریک تین سال کے لئے تھی اس کے مقاصد حضور کے الفاظ میں یہ تھے۔
’’تربیت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تربیت ابدال یا تبدیلی سے ہوتی ہے اور ایک تربیت سلوک سے ہوتی ہے۔ صوفیاء نے ان دونوں طریق کو تسلیم کیا ہے۔ تبدیلی یہ ہے کہ انسان کے اندر کسی اہم حادثہ سے فوراً ایک تبدیلی پیدا ہو جائے اور سلوک یہ ہے کہ مجاہدہ اور بحث سے آہستہ آہستہ تبدیلی پیدا ہو۔ یورپ والے بھی ان کو تسلیم کرتے ہیں اور وہ فوری تبدیلی کو کنورشن (conversion) کہتے ہیں صوفیاء کنورشن کو ہی ابدال کہتے ہیں۔ ابدال کی مثال یہ ہے کہ لکھا ہے ایک شخص ہمیشہ برے کاموں میں مبتلا رہتا تھا۔ اسے بہت سمجھایا گیا۔ مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوتا۔ ایک دفعہ کوئی شخص گلی میں سے گزرتا یہ آ یت پڑھ رہا تھا
الم یان للذین اٰمنو ٓا ان تخشع قلوبھم لذکر اللّٰہ (الحدید:17)
کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ مومن کے دل میں خشیت اللہ پیدا ہو۔ اس وقت وہ شخص ناچ اور رنگ رلیوں میں مصروف تھا۔ یہ آیت سنتے ہی چیخیں مارکر رونے لگ گیا۔ سارا قرآن سن کر اس پر اثر نہ ہوتا تھا لیکن یہ آیت سن کر ان کی حالت بدل گئی۔ یہ اصلاح کنورشن کہلاتی ہے۔ ایک سلوک ہوتا ہے ۔ یعنی انسان اپنی اصلاح کی آہستہ آہستہ کوشش کرتا ہے ۔ وہ ذکر الٰہی کرتا ہے اور دوسروں سے دعائیں کراتا ہے اور اسی طرح اپنی اصلاح میں لگا رہتا ہے لیکن کبھی یہ دونوں باتیں ایک ہی انسان میں پائی جاتی ہیں۔ جماعت احمدیہ میں جو شخص داخل ہوتا ہے اس پر یہ دونوں حالتیں آتی ہیں جب کوئی پہلے پہل داخل ہوتا ہے تو ابدال میں شامل ہوتا ہے ایک عظیم الشان تغیر اس پر آتا ہے ۔ حضرت مسیح موعود کا ایک الہام ہے یدعون لک ابدال الشام شام کے ابدال تیرے لئے دعائیں کرتے ہیں گو اس جگہ ابدال شام کا ذکر ہے لیکن اس سے ہم یہ نتیجہ نکال سکتے ہیں کہ احمدیت میں سچے دل سے داخل ہونے والے ابدال میں شامل ہوتے ہیں۔ یعنی شخصیت کو بدلنے والی ایک فوری تبدیلی ان میں پیدا ہوتی ہے جیسا کہ اس لفظ کے معنوں سے ثابت ہوتا ہے۔ بدل عوض کو کہتے ہیں اور تغیر کو بھی، مراد یہ ہوتی ہے کہ پہلے وجود کی جگہ ایک نیا وجود اس شخص کو ملتا ہے مگر یہ یاد رکھنا چاہئے ۔ کہ بعض لوگ پورے ابدال بن جاتے ہیں ا ور بعض ناقص یعنی کچھ حصہ ان کا سلوک کا محتاج رہ جاتا ہے اور ان لوگوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آہستہ آہستہ مجاہدات سے اپنے بقیہ نقصوں کو دور کریں اس قسم کے نقصوں کو دور کرنے کے لئے وعظ اور نصیحت کی جاتی ہے۔ مگر خالی وعظ سے یہ کام نہیں ہوتا۔ بلکہ ایک مستقل نگرانی کی حاجت باقی رہتی ہے۔‘‘ (انوارالعلوم جلد13 ص345)
حضور نے 1934ء کے اوائل میں تحریک سالکین کی نسبت متعدد خطبات دیئے اور 23,9فروری اور 23 مارچ کے خطبات جمعہ میں سالکین کو پانچ بنیادی ہدایات دیں جو یہ تھیں:۔
اوّ ل یہ کہ بجائے اپنے کسی بھائی کو بدنام کرنے کے پہلے عام رنگ میں نصیحت کی جائے کہ وہ لوگ جنہیں کہیں سے روپیہ آنے کی امید نہ ہو۔ وہ قرض نہ لیا کریں۔ دوم روپیہ دینے والوں کو نصیحت کریں کہ ایسے لوگوں کو قرض دینے سے اجتناب کیا کریں۔ سوم یہ کہ دھوکہ باز کا فریب جماعت میں ظاہر کریں تا لوگ اس سے بچ کر رہیں ۔ (الفضل 15فروری1934ء ص 8)
چہارم احباب اپنے اپنے نقائص کا پتہ لگائیں اور ان کی اصلاح کریں۔ اس سلسلہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کیا جائے ۔ دوسرے امر پر غور کیا جائے کہ غیر اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔
(الفضل یکم مارچ 1934ء ص8 کالم1)
پنجم رب العالمین کی صفت کے ماتحت تو کام ہوتے ہی رہتے ہیں۔ رحمانیت کی صفت کے ماتحت بھی نیکیاں کریں اور اس نیت سے کریں کہ دین کو تقویت ہو۔ (الفضل 29 مارچ 1934ئ)
یہ گویا پانچ ستون تھے جن پر تحریک سالکین کی بنیاد رکھی گئی۔
تحریک مصالحت اور اس کا اثر
تبلیغی نظام چونکہ جماعت مومنین نے باہمی اتفاق و اتحاد اور جذبہ اخوت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس لئے حضور نے تبلیغ پر زور دینے کے ساتھ 8جنوری 1932ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت سے اس خواہش کابھی اظہار فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم اس نئے سال کو اس غرض کے لئے وقف کر دیں کہ جماعت سے تمام لڑائیاں جھگڑے تفرقے اور عناد اللہ تعالیٰ کے فضل سے مٹا دیں۔ اس سلسلہ میں احباب جماعت کو یہ خاص ہدایت بھی فرمائی کہ جو شخص اپنے دوسرے بھائی سے کسی وجہ سے نہیں بولتا۔ یا اس سے عداوت اور بغض رکھتا ہے وہ فوراً اپنے بھائی کے پاس جائے اور اس سے خلوص دل کے ساتھ صلح کر لے اور آئندہ کے لئے کوشش کرے کہ آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو۔
حضرت مصلح موعودؓ کے اس خطبہ جمعہ کا جماعت پر حیرت انگیز اثر ہوا اور جماعت کے دوستوں نے اپنی رنجشوں اور کدورتوں کو حضور کے اشارہ پھر چھوڑ دیا۔ حتیٰ کہ لوگوں نے مالی نقصان گوارا کر کے خطبہ سنتے یا پڑھتے ہی صلح کر لی۔ مستثنیات تو ہر معاملہ میں چلتی ہیں۔ تاہم شاذونادر ہی کوئی ایک شخص ہو گا جو اس سعادت سے بکلی محروم رہا ہو۔
جماعت میں صلح و آشتی کا یہ خوش کُن نظارہ دیکھ کر حضور نے 29جنوری 1932ء کے خطبہ جمعہ میں نہایت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔ مگر ساتھ ہی نصیحت فرمائی:
’’میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ لوگ اپنے دلوں کو دوسروں کی نسبت صاف کر لیں اور خواہ وہ مظلوم ہی کیوں نہ ہوں صلح کر یں۔ میری یہ نصیحت نامکمل رہے گی اور فتنوں کا سد باب پوری طرح نہیں ہوگا جب تک میں اس کا دوسرا حصہ بھی بیان نہ کروں اور وہ یہ ہے کہ نہ صرف دوسروں کے متعلق ہر قسم کی کدورت سے اپنے دلوں کو صاف کرو بلکہ اس امر کو بھی مد نظر رکھو کہ کسی مظلوم کا معافی مانگ لینا ایسی بات نہیں جو تمہارے لئے خوشی کا موجب ہو سکے بلکہ خوشی صرف اسی کے لئے ہے جس نے معافی مانگی اور تمہیں خوشی اس وقت حاصل ہو گی جب تم اپنے خدا کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اگر دوسروں کے حقوق کو تم نے غصب کیا ہو ا ہے تو وہ حقوق ادا کر دو اور اگر تم پر کسی کا مالی یا جانی یا اخلاقاً حق ہے تو وہ اسے دیدو۔ ورنہ اگر تم دوسروں کے حقوق ادا نہیں کرتے تو خواہ دوسرا شخص تم سے ہزار معافی مانگے اس کا درجہ بڑھتا جائے گا لیکن تمہارا جرم اور گناہ بھی ساتھ ساتھ بڑھتا جائے گا۔ کیونکہ وہ شخص میرے کہنے پر تمہارے پاس گیا اور اس نے مظلوم ہونے کے باوجودتم سے معافی مانگی مگرتم نے باوجود ظالم ہونے کے اور باوجود اس کے معافی مانگ لینے کے اس کے حقوق کی ادائیگی کا خیال نہ کیا اور تم نے اپنے دل میں یہ سمجھ لیا کہ وہ نیچا ہو گیا۔ پس اپنے نفوس کو اس غرور میں مبتلاء نہ ہونے دو کہ ہم نے دوسرے کو نیچا دکھا دیا۔ کیونکہ وہ معافی مانگ کر نیچا نہیں ہوا بلکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اونچا ہو گیا۔ کیونکہ اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور خلیفہ وقت کی بات مانی مگر تم جو اس وقت اپنے آپ کو اونچا سمجھ رہے ہو دراصل نیچے گر گئے جس طرح انسان جتنا اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں جھکتا ہے۔ خدا اس کو اوپر اٹھاتا ہے یہاں تک کہ اسے ساتویں آسمان پر لے جاتا ہے اسی طرح جو شخص اپنے بھائی سے معافی مانگتا ہے وہ نیچے نہیں گرتا بلکہ اس کا درجہ بلند ہوتا ہے اور خدا کے حضور بہت بلند ہو جاتا ہے۔
(الفضل 4فروری 1932ء ص5)
کچھ عرصہ بعد جبکہ جماعتی مخالفت زوروں پر تھی جماعت کے ایک طبقہ میں اندرونی مناقشات نے پھر سر اٹھایا اور اس تحریک کے اثرات زائل ہوتے نظر آئے تو مقدس امام نے 26مئی1935ء کو پھر توجہ دلائی کہ:
’’کوئی احمق ہی اس وقت اپنے بھائی سے لڑ سکتا ہے۔ جب کوئی دشمن اس کے گھر پر حملہ آور ہو ایسے نازک وقت میں اپنے بھائی کی گردن پکڑنے والا یا تو پاگل ہو سکتا ہے یا منافق۔ ایسے شخص کے متعلق کسی مزید غور کی ضرورت نہیں وہ یقینا یا تو پاگل ہے اور یا منافق اس لئے آج چھ ماہ کے بعد میں پھر ان لوگوں سے جنہوں نے اس عرصہ میں کوئی جھگڑا کیا ہو۔ کہتا ہوں کہ وہ توبہ کریں توبہ کریں۔ ورنہ خدا کے رجسٹر سے ان کا نام کاٹ دیا جائے گا اور وہ تباہ ہو جائیں گے۔ منہ کی احمدیت انہیں ہرگز ہرگز نہیں بچا سکے گی۔ ایسے لوگ خدا کے دشمن ہیں۔ رسول کے دشمن ہیں ۔ قرآن کے دشمن ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دشمن ہیں۔ ایسے لوگ خون آلود گندے چیتھڑے کی طرح ہیں جو پھینک دیئے جانے کے قابل ہیں۔ اس لئے ہر وہ شخص جس نے اپنے بھائی سے جنگ کی ہوئی ہے اس سے کہتا ہوں کہ پیشتر اس کے کہ خدا کا غضب اس پر نازل ہو وہ ہمیشہ کے لئے صلح کر لے اور پھر کبھی نہ لڑے ‘‘۔
(الفضل 12جون 1935ء ص 8کالم 4,3)








تعلیم القرآن کے متعلق تحریکات
مصلح موعود کا ایک اہم فرض اور علامت یہ تھی کہ اس کے ذریعہ کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہوگا۔ اس لئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ صاحب نے خلافت اولیٰ میں ہی تعلیم القرآن کا مقدس کام شروع کر دیا تھا۔ آپ نے درس القرآن کا آغاز فرمایا اور سکولوں اور کالجوں کی تعطیلات کے دوران تربیتی کلاسز کا اجراء کیا۔
خلافت ثانیہ میں حضور نے علم قرآن کے دریا بہائے۔ معارف لٹائے جو تفسیر کبیر اور دوسری متعدد کتب سے چھلک رہے ہیں۔ قرآن سیکھنے اور سکھانے کے نظام کو آپ نے منظم بنیادوں پر قائم کرتے ہوئے متعدد تحریکات جاری فرمائیں۔
تعلیم کتاب و حکمت:
حضور نے اپنے عہد کی پہلی مجلس شوریٰ 12؍اپریل 1914ء میں سورۃ البقرہ آیت 130 کی روشنی میں اپنی خلافت کا لائحہ عمل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کے جانشین ہونے کی وجہ سے خلیفہ کا ایک بہت اہم کام تعلیم کتاب و حکمت ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایاـ:۔
’’یعلمھم الکتٰب قرآن شریف کتاب موجود ہے اس لئے اس کی تعلیم میں قرآن مجید کا پڑھنا پڑھانا۔ قرآن مجید کا سمجھانا آجائے گا۔ کتاب تو لکھی ہوئی موجود ہے اس لئے کام یہ ہوگا کہ ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کی تعلیم ہو۔ پھر اس کے سمجھانے کے لئے ایسے مدارس ہوں جہاں قرآن مجید کا ترجمہ سکھایا جائے اور وہ علوم پڑھائے جائیں جو اس کے خادم ہوں۔ ایسی صورت میں دینی مدارس کا اجراء اور ان کی تکمیل کا کام ہوگا۔ دوسرا کام اس لفظ کے ماتحت قرآن شریف پر عمل کرانا ہوگا کیونکہ تعلیم دو قسم کی ہوتی ہے ایک کسی کتاب کا پڑھا دینا اور دوسرے اس پر عمل کروانا۔
الحکمۃ تعلیم الحکمۃ کے لئے تجاویز اور تدابیر ہوں گی کیونکہ اس فرض کے نیچے احکام شرائع کے اسرار سے آگاہ کرنا ضروری ہے۔ (انوارالعلوم جلد2ص31)
پھر حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی وصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’حضرت خلیفۃ المسیح نے اپنی وصیت میں اپنے جانشین کے لئے فرمایا متقی ہو، ہر دلعزیز ہو، قرآن و حدیث کا درس جاری رہے عالم باعمل ہو۔ اس میں یعلمھم الکتٰب والحکمۃ کی طرف اشارہ اس حکم میں ہے کہ قرآن و حدیث کا درس جاری رہے کیونکہ الکتب کے معنے قرآن شریف ہیں اور الحکمۃ کے معنے بعض ائمہ نے حدیث کے کئے ہیں۔ اس طرح یعلمھم الکتٰب والحکمۃ کے معنے ہوئے قرآن و حدیث سکھائے۔ (انوارالعلوم جلد2 ص33)
اصل مقصود:
حضور نے تمام جماعتی نظام کا اصل مقصود بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔
ہمارا اصل پروگرام تو وہی ہے جو قرآن کریم میں ہے۔ لجنہ اماء اللہ ہو، مجلس انصار ہو، خدام الاحمدیہ ہو، نیشنل لیگ ہو، غرضیکہ ہماری کوئی انجمن ہو، اس کا پروگرام قرآن کریم ہی ہے اور جب ہر ایک احمدی یہی سمجھتا ہے کہ قرآن کریم میں سب ہدایات دے دی گئی ہیں اور ان میں سے کوئی بھی مضر نہیں تو اس کے سوا اور کوئی پروگرام ہو ہی کیا سکتا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ اصل پروگرام تو وہی ہے اس میں سے حالات اور اپنی ضروریات کے مطابق بعض چیزوں پر زور دے دیا جاتا ہے۔ لیکن جب روزے رکھے جارہے ہوں تو اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ حج منسوخ ہو گیا بلکہ چونکہ وہ دن روزوں کے ہوتے ہیں اس لئے روزے رکھے جاتے ہیں۔ جب ہم کوئی پروگرام تجویز کرتے ہیں تو اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ اس وقت یہ امراض پیدا ہو گئے ہیں اور ان کے لئے یہ قرآنی نسخہ ہم استعمال کرتے ہیں اور یہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ سارا پروگرام سامنے ہو اور اس میں سے حالات کے مطابق باتیں لے لی جائیں۔ لیکن اگر سارا پروگرام سامنے نہ ہو تو اس کا ایک نقص یہ ہوگا کہ صرف چند باتوں کو دین سمجھ لیا جائے گا۔ (مشعل راہ جلد اول ص103)
حضور نے 21 نومبر 1947ء کو خاص طور پر اس موضوع پر خطبہ جمعہ دیا کہ اگر ہماری جماعت قرآن کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے تو سارے مصائب آپ ہی آپ ختم ہو جائیں۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’سلسلہ الٰہیہ کو سلسلہ الٰہیہ سمجھنا اور اس کی تعلیم پر عمل نہ کرنا بالکل لغو اور فضول ہوتا ہے بلکہ بسا اوقات عذاب الٰہی کو بھڑکانے کاموجب بن جاتاہے۔ پس ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے کا اتنا رواج دے کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک شخص بھی نہ رہے جسے قرآن نہ آتا ہو۔ … ابھی تک جماعت کے بعض لوگ اس سلسلے کو محض ایک سوسائٹی کی طرح سمجھتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ بیعت کرنے کے بعد اگر چندہ دے دیا تو اتنا ہی ان کے لئے کافی ہے … حالانکہ … جب تک ہم اپنے ساتھیوں اور اپنے دوستوں اور اپنے رشتہ داروں کو قرآن کریم کے پڑھانے اور اس پر عمل کرانے کی کوشش نہ کریں گے اس وقت تک ہمارا قدم اس اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ سکتا جس مقام تک پہنچنے کے نتیجہ میں انبیاء کی جماعتیں کامیاب ہواکرتی ہیں‘‘۔ (الفضل9 دسمبر 1947ء ص6,5)
آپؓ نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’میں بھی طلباء سے یہی کہتا ہوں کہ وہ خود غور کرنے کی عادت ڈالیں اور جو باتیں میں نے بیان کی ہیں ان کے متعلق سوچیں پھر دوسرے لوگوں میں بھی انہیں پھیلانے کی کوشش کریں۔ یاد رکھو صرف کتابیں پڑھنا ہی کافی نہیں بلکہ ان میں جو کمی تمہیں نظر آتی ہے اسے دور کرنا بھی تمہارا فرض ہے مثلاً تفسیر کبیر کو ہی لے لو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن کریم کا بہت کچھ علم دیا ہے لیکن کئی باتیں ایسی بھی ہوں گی جن کا ذکر میری تفسیر میں نہیں آیا۔ اس لئے اگر تمہیں کوئی بات تفسیر میں نظر نہ آئے تو تم خود اس بارہ میں غور کرو اور سمجھ لو کہ شاید اس کا ذکر کرنا مجھے یاد نہ رہا ہو اور اس وجہ سے میں نے نہ لکھی ہو یا ممکن ہے وہ میرے ذہن میں ہی نہ آئی ہو اور اس وجہ سے وہ رہ گئی ہو۔ بہرحال اگرتمہیں اس میں کوئی کمی دکھائی دے تو تمہارا فرض ہے کہ تم خود قرآن کریم کی آیات پر غور کرو اور ان اعتراضات کو دور کرو۔ جو ان پر وارد ہونے والے ہیں‘‘۔ (مشعل راہ جلد اول ص750)
کلاسز اور درس کی تحریک
آپؓ نے ذیلی تنظیموں کو بار بار تعلیم القرآن کلاسز لگانے کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ 1945ء میں مجلس خدام الاحمدیہ اور نظارت تعلیم و تربیت کے اشتراک سے پہلی تعلیم القرآن کلاس شروع کی گئی جو ایک ماہ جاری رہی اور 86 نمائندگان نے شرکت کی۔ (الفضل 8 ستمبر 1945ئ)
خلافت ثانیہ میں ہی نظارت اصلاح و ارشاد کے تحت تعلیم القرآن کلاس کا 1964ء میں آغاز ہوا جو کامیابی سے مسلسل جاری ہے۔ بعد میں خدام الاحمدیہ کے زیر اہتمام سالانہ تربیتی کلاس کا آغاز ہوا جس میں اب ایک ہزار کے قریب طلباء حصہ لیتے ہیں۔
حضور نے 27 دسمبر 1927ء کو جلسہ سالانہ پر خطاب میں فرمایا:۔
قرآن کریم پڑھنے کا بہترین طریق یہ ہے کہ درس جاری کیا جائے۔ بہت سی ٹھوکریں لوگوں کو اس لئے لگتی ہیں کہ وہ قرآن کریم پر تدبر نہیں کرتے۔ پس ضروری ہے کہ ہر جگہ قرآن کریم کا درس جاری کیا جائے اگر روزانہ درس میں لوگ شامل نہ ہوسکیں تو ہفتہ میں تین دن سہی اگر تین دن بھی نہ آسکیں تو دو دن ہی سہی۔ اگر دو دن بھی نہ آسکیں تو ایک ہی دن سہی مگر درس ضرور جاری ہونا چاہئے تاکہ قرآن کریم کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو۔ اس کے لئے بہترین صورت یہ ہے کہ جہاں جہاں امیر مقرر ہیں وہاں وہ درس دیں۔ اگر کسی جگہ کا امیر درس نہیں دے سکتا تو وہ مجھ سے اس بات کی منظوری لے کہ میں درس نہیں دے سکتا۔ درس دینے کے لئے فلاں آدمی مقرر کیا جائے۔ … تمام امراء کو جنوری کے مہینہ کے اندر اندر مجھے اطلاع دینی چاہئے کہ درس کے متعلق انہوں نے کیا فیصلہ کیا ہے اور درس روزانہ ہوگا یا دوسرے دن یا ہفتہ میں دو بار یا ایک بار۔ میں سمجھتا ہوں درس کے ذریعہ لوگوں کے دلوں میں قرآن کریم کی محبت راسخ ہو جائے گی اور بہت سے فتن کا آپ ہی آپ ازالہ ہو جائے گا۔
(تقریر دلپذیر۔ انوارالعلوم جلد10 ص92)
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ صاحب نے بھی حضور کے ارشاد پر وسط مارچ 1928ء میں ناظر تعلیم و تربیت کی حیثیت سے عہدیداران جماعت کو مزید توجہ دلائی کہ جہاں جہاں ابھی تک سلسلہ درس شروع نہیں ہوا اس کی طرف فوراً توجہ دیں۔ نیز گھروں میں بھی درس جاری کرنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:
’’ہمارے احباب کو چاہئے کہ علاوہ مقامی درس کے اپنے گھروں میں بھی قرآن شریف اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود ؑ کا درس جاری کریں اور یہ درس خاندان کے بزرگ کی طرف سے دیا جانا چاہئے۔ اس کے لئے بہترین وقت صبح کی نماز کے بعد کاہے لیکن اگر وہ مناسب نہ ہو تو جس وقت بھی مناسب سمجھا جائے اس کا انتظام کیا جائے۔ اس درس کے موقعہ پر گھر کے سب لوگ، مرد، عورتیں لڑکے، لڑکیاں بلکہ گھر کی خدمت گاریں بھی شریک ہوں اور بالکل عام فہم سادہ طریق پر دیا جائے اور درس کا وقت پندرہ بیس منٹ سے زیادہ نہ ہو، تا کہ طبائع میں ملال نہ پیدا ہو۔ اگر ممکن ہو تو کتاب کے پڑھنے کے لئے گھر کے بچوں اور ان کی ماں یا دوسری بڑی مستورات کو باری باری مقرر کیا جائے اور اس کی تشریح یا ترجمہ وغیرہ گھر کے بزرگ کی طرف سے ہو میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس قسم کے خانگی درس ہماری جماعت کے گھروں میں جاری ہو جائیں تو علاوہ علمی ترقی کے یہ سلسلہ اخلاق اور روحانیت کی اصلاح کے لئے بھی بہت مفید و بابرکت ہو سکتا ہے‘‘۔ (الفضل16 مارچ 1928ء ص2)
حضور نے خطبہ جمعہ 26 جنوری 1934ء بمقام لاہور فرمایا:۔
میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ قرآن کو اخلاص سے پڑھیں ہر جماعت کو چاہئے کہ درس جاری کرے … بہت سے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو بھی خود نہیں سمجھ سکتے اس لئے ابتدائً انہیں سہارے کی ضرورت ہوتی ہے جو درس سے حاصل ہو سکتا ہے۔ یا اگر مسجد، ہوسٹل یا جو دوست دور دور رہتے ہیں وہ محلہ وار جمع ہو کر درس کا انتظام کریں اور جن کے لئے محلہ وار جمع ہونا بھی مشکل ہو وہ گھر میں ہی درس دے لیا کریں تو جماعت میں تھوڑے ہی دنوں کے اندر علوم کے دریا بہہ جائیں۔ درس کے لئے بہترین طریق یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی تفاسیر کو مدنظر رکھا جائے۔ آپ نے اگرچہ کوئی باقاعدہ تفسیر تو نہیں لکھی مگر تفسیر کے اصول ایسے بتا دیئے ہیں کہ قرآن کو ان کی مدد سے سمجھنا بہت آسان ہو گیا ہے۔ (خطبات محمود جلد15 ص33)
جہاد بالقرآن کی اہم تحریک
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جولائی 1928ء کے پہلے ہفتہ میں مسلمانان عالم کو اس طرف توجہ دلائی کہ ترقی و سربلندی کا اصل راز قرآن مجید کے سمجھنے اور اس پر کاربند ہونے میں مضمر ہے۔ چنانچہ حضور نے 6 جولائی 1928ء کو خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:۔
’’ہر مسلمان کو چاہئے کہ قرآن کریم کو پڑھے۔ اگر عربی نہ جانتا ہو تو اردو ترجمہ اور تفسیر ساتھ پڑھے عربی جاننے والوں پر قرآن کے بڑے بڑے مطالب کھلتے ہیں مگر یہ مشہور بات ہے کہ جو ساری چیز نہ حاصل کرسکے اسے تھوڑی نہیں چھوڑ دینی چاہئے۔ کیا ایک شخص جو جنگل میں بھوکا پڑا ہو، اسے ایک روٹی ملے تو اسے اس لئے چھوڑ دینی چاہئے کہ اس سے اس کی ساری بھوک دور نہ ہوگی۔ پس جتنا کوئی پڑھ سکتا ہو پڑھ لے اور اگر خود نہ پڑھ سکتا ہو تو محلہ میں جو قرآن جانتا ہو اس سے پڑھ لینا چاہئے۔ جب ایک شخص بار بار قرآن پڑھے گا اور اس پر غور کرے گا تو اس میں قرآن کریم کے سمجھنے کا ملکہ پیدا ہو جائے گا۔ پس مسلمانوں کی ترقی کا راز قرآن کریم کے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں ہے جب تک مسلمان اس کے سمجھنے کی کوشش نہ کریں گے، کامیاب نہ ہوں گے۔ کہا جاتا ہے دوسری قومیں جو قرآن کو نہیں مانتیں وہ ترقی کررہی ہیں پھر مسلمان کیوں ترقی نہیں کرسکتے۔ بے شک عیسائی اور ہندو اور دوسری قومیں ترقی کرسکتی ہیں لیکن مسلمان قرآن کو چھوڑ کر ہرگز نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی اس بات پر ذرا بھی غور کرے تو اسے اس کی وجہ معلوم ہوسکتی ہے اگر یہ صحیح ہے کہ قرآن کریم خداتعالیٰ کی کتاب ہے اور اگر یہ صحیح ہے کہ ہمیشہ دنیا کو ہدایت دینے کے لئے قائم رہے گی تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اگر قرآن کو خدا کی کتاب ماننے والے بھی اس کو چھوڑ کر ترقی کرسکیں تو پھر کوئی قرآن کو نہ مانے گا پس قرآن کی طرف مسلمانوں کو توجہ رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کی ترقی کا انحصار قرآن کریم ہو‘‘۔
(الفضل 13 جولائی 1928ء ص7 کالم3)
حفظ قرآن کی تحریکات
تعلیم القرآن کی ہی ذیلی سکیم حفظ قرآن ہے۔ حضور نے 7 دسمبر1917ء کو وقف زندگی کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔
جو لوگ اپنے بچوں کو وقف کرنا چاہیں وہ پہلے قرآن کریم حفظ کرائیں۔ کیونکہ مبلغ کے لئے حافظ قرآن ہونا نہایت مفید ہے۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں۔ اگر بچوں کو قرآن حفظ کرانا چاہیں تو تعلیم میں حرج ہوتا ہے۔ لیکن جب بچوں کو دین کے لئے وقف کرنا ہے تو کیوں نہ دین کے لئے جو مفید ترین چیز ہے وہ سکھالی جائے۔ جب قرآن کریم حفظ ہو جائے گا تو اور تعلیم بھی ہو سکے گی۔ میرا تو ابھی ایک بچہ پڑھنے کے قابل ہوا ہے اور میں نے تو اس کو قرآن شریف حفظ کرانا شروع کرا دیا ہے۔ ایسے بچوں کا تو جب انتظام ہوگا اس وقت ہوگا اور جو بڑی عمر کے ہیں وہ آہستہ آہستہ قرآن حفظ کر لیں گے۔
(الفضل 22 دسمبر 1917ئ۔ خطبات محمود جلد5 ص612)
اپریل، مئی 1922ء میں حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت میں حفظ قرآن کی تحریک فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ کم ازکم تیس آدمی قرآن کریم کا ایک ایک پارہ حفظ کریں جس پر کئی احباب نے لبیک کہا۔
(الفضل4 مئی 1922ء ص1)
24؍اپریل 1944ء کو دعویٰ مصلح موعود کے بعد حضور نے پھر حفاظ پیدا کرنے کی تحریک فرمائی۔
(الفضل 26 جولائی 1944ء ص4,3)
حضرت مصلح موعودؓ نے 29 ؍اپریل 1946ء کو تحریک فرمائی کہ قرآن کریم کا چرچا اور اس کی برکات کو عام کرنے کے لئے ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’صدر انجمن احمدیہ کو چاہئے کہ چار پانچ حفاظ مقرر کرے جن کا کام یہ ہو کہ وہ مساجد میں نمازیں بھی پڑھایا کریں اور لوگوں کو قرآن کریم بھی پڑھائیں۔ اسی طرح جو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں جانتے ان کو ترجمہ پڑھا دیں اگر صبح و شام و ہ محلوں میں قرآن پڑھاتے رہیں تو قرآن کریم کی تعلیم بھی عام ہو جائے گی اور یہاں مجلس میں بھی جب کوئی ضرورت پیش آئے گی ان سے کام لیا جاسکے گا۔ بہرحال قرآن کریم کا چرچا عام کرنے کے لئے ہمیں حفاظ کی سخت ضرورت ہے۔ انجمن کو چاہئے کہ وہ انہیں اتنا کافی گزارہ دے کہ جس سے وہ شریفانہ طور پر گزارہ کرسکیں۔ پہلے دو چار آدمی رکھ لئے جائیں پھر رفتہ رفتہ اس تعداد کو بڑھایا جائے‘‘۔ (الفضل 26؍اگست1960ء ص4)
چنانچہ حضور کی توجہ اور ہدایات کے تابع جماعت میں حفظ قرآن کی سکیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ تاریخی ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 1920ء سے قبل قادیان میں حافظ کلاس کا آغاز ہوچکا تھا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے اسی کلاس سے قرآن حفظ کیا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ کلاس احمد نگر، پھر مسجد مبارک ربوہ اور جون 1969ء سے جامعہ احمدیہ کے کوارٹر اور کچھ دیر مسجد حسن اقبال جامعہ میں جاری رہی۔ 1976ء میں باقاعدہ مدرسۃ الحفظ قائم کیا گیا۔ 2000ء میں مدرسۃ الحفظ کو موجودہ نئی عمارت میں منتقل کیا گیا۔ (الفضل 11؍اپریل 2001ئ)
مدرسۃ الحفظ سے سینکڑوں بچے اب تک قرآن حفظ کرچکے ہیں۔
اسی طرح بچیوں کے لئے 17 مارچ 1993ء سے عائشہ دینیات اکیڈمی قائم کی گئی ہے جس سے سینکڑوں بچیاں قرآن حفظ کرچکی ہیں۔
2 ستمبر 2000ء کو برطانیہ میں مدرسہ حفظ قرآن عمل میں آیا جس میں ٹیلی فون اور جز وقتی کلاسوں کے ذریعہ بچوں کو قرآن حفظ کروایا جاتا ہے۔ اس کا نام الحافظون رکھا گیا ہے۔
یکم مارچ 2005ء کو غانا میں جامعہ احمدیہ کے ساتھ مدرسۃ الحفظ کا قیام عمل میں آیا۔
(الفضل 13 مئی 2006ئ)
عربی سیکھنے کی تحریک
قرآن سیکھنے کے لئے عربی جاننا اول قدم ہے اس لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے عربی زبان کی ترویج کی طرف خاص توجہ فرمائی اور 19 جون 1944ء کو خطبہ جمعہ کے علاوہ مجلس عرفان میں فرمایا۔
’’عربی زبان کا مردوں اور عورتوں میں شوق پیدا کرنے اور اس زبان میں لوگوں کے اندر گفتگو کا ملکہ پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ … ایک عربی بول چال کے متعلق رسالہ لکھیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے بھی عربی کے بعض فقرے تجویز فرمائے تھے جن کو میں نے رسالہ تشحیذ الاذہان میں شائع کردیا تھا۔ ان فقروں کو بھی اپنے سامنے رکھ لیا جائے اور تبرک کے طور پر ان فقرات کو بھی رسالہ میں شامل کر لیا جائے۔ درحقیقت وہ ایک طریق ہے جو حضرت مسیح موعود ؑ نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس راستہ پر چلیں اور اپنی جماعت میں عربی زبان کی ترویج کی کوشش کریں۔ میرے خیال میں اس میں اس قسم کے فقرات ہونے چاہئیں کہ جب ایک دوست دوسرے دوست سے ملتا ہے تو کیا کہتا ہے اور کس طرح آپس میں باتیں ہوتی ہیں۔ وہ باتیں تربیت کے ساتھ لکھی جائیں۔ پھر مثلاً انسان اپنے گھر جاتا ہے اور کھانے پینے کی اشیاء کے متعلق اپنی ماں سے یا کسی ملازم سے گفتگو کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے کھانے کے لئے کیا پکا ہے یا کون سی ترکاری تیار ہے؟ اس طرح کی روزمرہ کی باتیں رسالہ کی صورت میں شائع کی جائیں۔ بعد میں محلوں میں اس رسالہ کو رائج کیا جائے۔ خصوصاً لڑکیوں کے نصاب تعلیم میں اس کو شامل کیا جائے اور تحریک کی جائے کہ طلباء جب بھی ایک دوسرے سے گفتگو کریں عربی زبان میں کریں۔ اس طرح عربی بول چال کا عام رواج خداتعالیٰ کے فضل سے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں نے ایک مردہ زبان کو اپنی کوشش سے زندہ کر دیا ہے۔ عبرانی زبان دنیا میں کہیں بھی رائج نہیں۔ لیکن لاکھوں کروڑوں یہودی عبرانی زبان بولتے ہیں۔ اگر یہودی ایک مردہ زبان کو زندہ کر سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ عربی زبان جو ایک زندہ زبان ہے اس کا چرچا نہ ہوسکے۔ پہلے قادیان میں اس طریق کو رائج کیا جائے۔ پھر بیرونی جماعتوں میں یہ طریق جاری کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ چھوٹے چھوٹے آسان فقرے ہوں جو بچوں کو بھی یاد کرائے جاسکتے ہیں۔ اس کے بعد لوگوں سے امید کی جائے گی کہ وہ اپنے گھروں میں بھی عربی زبان کو رائج کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح قرآن کریم سے لوگوں کی دلچسپی بڑھ جائے گی اور اس کی آیات کی سمجھ بھی انہیں زیادہ آنے لگ جائے گی۔ اب تو میں نے دیکھا ہے۔ دعائیں کرتے ہوئے جب یہ کہا جاتا ہے۔ ربنا اننا سمعنا … تو ناواقفیت کی وجہ سے بعض لوگ بلند آواز سے آمین کہہ دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ آمین کہنے کا موقعہ نہیں ہوتا۔ یہ عربی زبان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔ اگر عربی بول چال کا لوگوں میں رواج ہو جائے گا تو یہ معمولی باتیں لوگ خودبخود سمجھنے لگ جائیں گے اور انہیں نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
یہ رسالہ جب شائع ہوجائے تو خدام الاحمدیہ کے سپرد کر دیاجائے تاکہ اس کے تھوڑے تھوڑے حصوں کا وہ اپنے نظام کے ماتحت وقتاًفوقتاً نوجوانوں سے امتحان لیتے رہیں۔ یہ فقرات بہت سادہ زبان میں ہونے چاہئیں۔ مصری زبان میں انشاء الادب نام سے کئی رسالے اس قسم کے شائع ہوچکے ہیں مگر وہ زیادہ دقیق ہیں۔ معلوم نہیں ہمارے سکولوں میں انہیں کیوں جاری نہیں کیا گیا۔
(الفضل یکم جنوری 1945ء ص4 کالم4,3)
ترجمہ قرآن کریم انگریزی کے پھیلاؤ کی تحریک
انگریزی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع ہوا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی خاطر جماعت کو تحریک کی کہ اس کی ایک ہزار کاپیاں دنیا کے مشہور علمائ، سیاستدان، لیڈروں اور مملکتوں کے سربراہوں کو دی جائیں اور دنیا کی مشہور لائبریریوں میں رکھی جائیں۔ جماعت کے مخیر اور مخلص احباب ایک یا ایک سے زائد کاپیوں کی قیمت پیش کریں۔ حضور فرماتے ہیں:۔
’’جماعت کو ہمت کر دکھانی چاہئے اور ایک ہزار کتاب خرید کر سلسلہ کے سپرد کر دینی چاہئے تاکہ بڑے بڑے سیاستدانوں، لیڈروں، مذہبی لوگوں اور مستشرقین میں ان کتابوں کو تقسیم کیا جاسکے۔ اگر کتاب کی قیمت بیس روپے ہوئی تو کل بیس ہزار کی رقم بنتی ہے۔ اگر پچیس روپے ہوئی تو پچیس ہزار روپے کی رقم بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیس پچیس ہزار کی رقم جماعت کے لئے کوئی بڑا بوجھ نہیں بلکہ جس قسم کا یہ کام ہے اس کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ رقم بہت ہی ادنیٰ ہے۔ کہتے ہیں جو بولے وہی کنڈا کھولے۔ اس لئے میں اپنی طرف سے ایک سو جلد خرید کر محلہ کو تقسیم کرنے کے لئے دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ ایک سو جلدوں کی جو بھی قیمت ہوگی وہ میں دوں گا۔ باقی نو حصے جماعت کو پورنے کرنے چاہئیں۔ لجنہ اماء اللہ نے دو سو جلدوں کا وعدہ کیا ہے۔ اس لئے صرف سات سو جلدیں باقی جماعت کے ذمہ رہ جاتی ہیں۔ ممکن ہے بعض مخلصوں کو اللہ تعالیٰ توفیق بخشے اور یہ حصے بھی لگ جائیں اور باقیوں کو افسوس کرنا پڑے اس لئے اس نیک کام میں حصہ لینے کے لئے دوستوں کو جلدی کرنی چاہئے‘‘۔
(الفضل 26 فروری 1947ء ص3 کالم3)
جماعت کے احباب نے اپنے پیارے امام کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے اپنے اموال پیش کئے اور کلام اللہ کی اشاعت میں حصہ لیتے ہوئے ترجمہ کی مطلوبہ کاپیاں خرید کر پیش کردیں۔



سیرت النبی ﷺ کے متعلق تحریکات
تحفظ ناموس رسالت کی تحریک
متحدہ ہندوستان میں بعض بد زبان اور دریدہ دہن آریہ مصنف آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات پر خاص طور پر حملے کررہے تھے۔ چنانچہ ایک آریہ سماجی راجپال نے ’’رنگیلا رسول‘‘ نامی کتاب شائع کی اور اس میں مقدس بانی اسلام ﷺ کی نسبت نہایت درجہ دلخراش اور اشتعال انگیز باتیں لکھیں جس پر حکومت کی طرف سے مقدمہ چلا۔ یہ مقدمہ ابھی زیر سماعت تھا کہ امرتسر کے ہندو رسالہ ’’ورتمان‘‘ نے مئی 1927ء کی اشاعت میں ایک بے حد دلآزار مضمون شائع کیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے یہ اشتعال انگیز مضمون دیکھتے ہی ایک پوسٹر شائع فرمایا جس کا عنوان تھا۔ ’’رسول کریم کی محبت کا دعویٰ کرنے والے کیا اب بھی بیدار نہ ہوں گے‘‘۔ اس پوسٹر میں حضور نے نہایت پُرشوکت اور پُرجلال انداز میں تحریر فرمایا:۔
’’ہماری جنگل کے درندوں اور اور بن کے سانپوں سے صلح ہو سکتی ہے لیکن ان لوگوں سے ہر گز صلح نہیں ہوسکتی جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے والے ہیں۔ بیشک وہ قانون کی پناہ میں جو کچھ چاہیں کرلیں اور پنجاب ہائی کورٹ کے تازہ فیصلہ کی آڑ میں جس قدر چاہیں ہمارے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دے لیں۔ لیکن وہ یاد رکھیں کہ گورنمنٹ کے قانون سے بالا اور قانون بھی ہے اور وہ خدا کا بنایا ہوا قانون فطرت ہے وہ اپنی طاقت کی بناء پر گورنمنٹ کے قانون کی زد سے بچ سکتے ہیں لیکن قانون قدرت کی زد سے نہیں بچ سکتے اور قانون قدرت کا یہ اٹل اصل پورا ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس کی ذات سے ہمیں محبت ہوتی ہے اس کو برا بھلا کہنے کے بعد کوئی شخص ہم سے محبت اور صلح کی توقع نہیں رکھ سکتا‘‘۔
پھر مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’اے بھائیو! میں دردمند دل سے پھر آپ کو کہتا ہوں کہ بہادر وہ نہیں جو لڑ پڑتا ہے وہ بزدل ہے کیونکہ وہ اپنے نفس سے دب گیا ہے بہادر وہ ہے جو ایک مستقل ارادہ کرلیتا ہے اور جب تک اس کو پورا نہ کرلے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ پس اسلام کی ترقی کے لئے اپنے دل میں تینوں باتوں کا عہد کرلو۔ اول یہ کہ آپ خشیت اللہ سے کام لیں گے اور دین کو بے پرواہی کی نگاہ سے نہیں دیکھیں گے۔ دوسرے یہ کہ آپ تبلیغ اسلام سے پوری دلچسپی لیں گے اور اس کام کے لئے اپنی جان اور اپنے مال کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے اور تیسرے یہ کہ آپ مسلمانوں کو تمدنی اور اقتصادی غلامی سے بچانے کے لئے پوری کوشش کریں گے اور اس وقت تک بس نہیں کریں گے جب تک کہ مسلمان اس کچل دینے والی غلامی سے بکلی آزاد نہ ہو جائیں اور جب آپ یہ عہد کرلیں تو پھر ساتھ ہی اس کے مطابق اپنی زندگی بسر کرنے لگیں۔ یہی وہ سچا اور حقیقی بدلہ ہے ان گالیوں کا جو اس وقت بعض ہندو مصنفین کی طرف سے رسول کریم ﷺ فداہ نفسی و اھلی کو دی جاتی ہیں اور یہی وہ سچا اور حقیقی علاج ہے جس سے بغیر فساد اور بدامنی پیدا کرنے کے مسلمان خود طاقت پکڑ سکتے ہیں اور دوسروں کی مدد کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ورنہ اس وقت تو وہ نہ اپنے کام کے ہیں نہ دوسروں کے کام کے اور وہ قوم ہے بھی کس کام کی جو اپنے سب سے پیارے رسول کی عزت کی حفاظت کے لئے حقیقی قربانی نہیں کرسکتی؟
کیا کوئی دردمند دل ہے جو اس آواز پر لبیک کہہ کر اپنے علاقہ کی درستی کی طرف توجہ کرے اور خداتعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو‘‘۔ (انوارالعلوم جلد9 ص555)
رنگیلا رسول کے مقدمہ میں راجپال کو زیر دفعہ 153۔الف تعزیرات ہند چھ ماہ قید بامشقت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ قید مزید کی سزا ہوئی تھی۔ راجپال نے پنجاب ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی اور اس کے جج کنور دلیپ سنگھ نے اسے بری کر دیا۔
فیصلہ کے خلاف اخبار مسلم آؤٹ لُک (Muslim Outlook) کے احمدی ایڈیٹر سید دلاور شاہ صاحب بخاری نے 14 جون 1927ء کو ’’مستعفی ہو جاؤ‘‘ کے عنوان سے ایک اداریہ لکھا جس پر پنجاب ہائی کورٹ کی طرف سے اخبار کے ایڈیٹر اور اس کے مالک و طابع (مولوی نورالحق صاحب) کے نام توہین عدالت کے جرم میں ہائی کورٹ کی طرف سے نوٹس پہنچ گیا۔
سید دلاور شاہ صاحب بخاری ہائی کورٹ کا نوٹس لے کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ بعض لوگوں کی رائے ہے کہ مضمون پر اظہار افسوس کر دینا چاہئے مگر حضور نے مشورہ دیا کہ :
آپ اپنے جواب میں لکھوا دیں کہ اگر ہائی کورٹ کے ججوں کے نزدیک کنور دلیپ صاحب کی عزت کی حفاظت کے لئے تو قانون انگریزی میں کوئی دفعہ موجود ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے کوئی دفعہ موجود نہیں تو میں بڑی خوشی سے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہوں۔
(الفضل یکم جولائی 1927ء ص3۔انوارالعلوم جلد9 ص559۔ )
اس مقدمہ میں وکالت کے لئے مسلمان وکلاء نے متفقہ طور پر چودھری ظفراللہ خان صاحب کا نام تجویز کیا اور آپ ہی مقدمہ میں پیش ہوئے اور ایسی قابلیت اور عمدگی سے وکالت کی کہ سب مسلمانوں نے آپ کو خراج تحسین ادا کیا۔
جسٹس براڈوے نے سید دلاور شاہ صاحب بخاری، مولوی نورالحق صاحب کے بیانات اور چودھری ظفراللہ خان صاحب کی بحث سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ:۔
’’میں سید بخاری کو چھ ماہ قید محض اور ساڑھے سات سو روپے جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی چھ ہفتہ مزید قید محض کی سزا دیتا ہوں اور مولوی نورالحق کو 3 ماہ قید محض ہزار روپے جرمانہ اور بصورت عدم ادائیگی مزید ایک ماہ قید محض کا حکم سناتا ہوں۔ تمام ججوں نے اس سزا سے اتفاق کیا۔
(الفضل یکم جولائی 1927ئ۔انوارالعلوم جلد9 ص560 )
عدالتی فیصلہ پر مسلمانان ہند کا قومی دماغ سخت پریشان ہو گیا اور مسلمان اس وقت متفق طور پر یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ اب انہیں کیا اقدام کرنا چاہئے ایک فریق نے یہ علاج سوچا کہ عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جائے۔ دوسرے فریق نے کہا کہ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر کی طرح دوسرے مسلمان بھی توہین عدالت کے جرم کا تکرار کریں۔ آخر کتنے مسلمانوں کو جیل خانہ میں ڈالا جاسکے گا۔ تیسرے فریق نے یہ تجویز بتائی کہ ملک میں سول نافرمانی شروع کر دی جائے۔
مگر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ان سب تدبیروں کو پُرزور دلائل سے بے فائدہ بلکہ مسلم مفادات کے اعتبار سے انتہائی نقصان دہ اور ضرررساں ثابت کیا اور اس نازک ترین وقت میں جبکہ مسلمانوں اور اسلام کی زندگی اور موت کا سوال درپیش تھا مسلمانوں کی فرمائی اور تحفظ ناموس رسول ﷺ کے لئے ایک پُرامن مگر مؤثر عملی تحریک کا آغاز کر دیا۔
اس سلسلہ میں حضور نے ابتدائی مرحلہ پر فوری رنگ میں یہ تجویز کی کہ ’’مسلم آؤٹ لک‘‘ کے مدیر و مالک کی قید کے پورے ایک ماہ بعد یعنی 22 جولائی 1927ء کو جمعہ کے دن ہر مقام پر جلسے کئے جائیں جن میں مسلمانوں کو اقتصادی اور تمدنی آزادی سے متعلق آگاہ کیا جائے اور سب سے وعدہ لیا جائے کہ وہ اپنے اپنے حلقہ میں تبلیغ اسلام کا کام جاری کریں گے اور ہندوؤں سے ان امور میں چھوت چھات کریں گے جن میں ہندو چھوت چھات کرتے ہیں۔ اپنے قومی حقوق قوانین حکومت کے ماتحت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور اس دن ہر مقام پر ایک مشترکہ انجمن بنائی جائے جو مشترکہ فوائد کا کام اپنے ہاتھ میں لے۔ اسی طرح تمام مسلمان حکومت سے درخواست کریں کہ ہائی کورٹ کی موجودہ صورت مسلمانوں کے مفاد کے خلاف اور ان کی ہتک کا موجب ہے (پنجاب میں) پچپن فیصد آبادی والی قوم کے کل دو جج ہیں اس لئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ کم سے کم ایک مسلمان جج پنجاب کے بیرسٹروں میں سے اور مقرر کیا جائے اور اسے نہ صرف مستقل کیا جائے بلکہ دوسرے ججوں سے اسے اس طرح سینئر کیا جائے کہ موجودہ چیف جسٹس (سر شادی لال) کے بعد وہی چیف جج ہو۔
حضور نے مزید فرمایا کہ 22 جولائی کے جلسوں میں مسلمانوں سے دستخط لے کر ایک محضرنامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک ’’مسلم آؤٹ لک‘‘ کے ایڈیٹر اور مالک نے ہر گز عدالت عالیہ کی ہتک نہیں کی بلکہ جائز نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نزدیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد جسٹس کنور دلیپ سنگھ کا فیصلہ مسترد کرکے مسلمانوں کی دلجوئی کی جائے۔
( انوارالعلوم جلد9 ص589)
انگریزی حکومت نے چاہا کہ آپ یہ مہم جاری نہ کریں۔ لیکن حضور نے حکومت کو صاف صاف کہہ دیا کہ:۔
’’مجھ سے یہ نہیں ہوسکتا کہ گورنمنٹ کی خاطر قوم کو قربان کردوں اس وقت قوم کی حفاظت کا سوال ہے‘‘۔ (لیکچر شملہ ۔انوارالعلوم جلد10 ص29)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی اس آواز سے جو آپ نے قادیان سے بلند کی تھی پورا ہندوستان گونج اٹھا اور جیسا کہ آپ نے تحریک پیش کی تھی، 22 جولائی کو مسلمانان ہند نے ہر جگہ کامیاب جلسے کئے اور ایک متحدہ پلیٹ فارم سے نہ صرف مسلم آؤٹ لک کے مالک اور مدیر کی گرفتاری پر احتجاج کیا گیا۔ بلکہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی سکیم کے مطابق مسلمانوں نے مشترکہ انجمنیں قائم کرکے دکانیں کھلوائیں۔ تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دی اور اپنے سیاسی حقوق کے لئے اپنی جدوجہد تیز تر کردی اور ایک محضر نامہ تیار کیا جس پر پانچ لاکھ مسلمانوں کے دستخط تھے۔
جماعت احمدیہ کے علماء مصنفین اور دوسرے احمدی اپنے محبوب امام کی ہدایات کے مطابق اس تحریک کو کامیاب کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہو گئے۔ (الفضل 25؍اکتوبر 1927ء ص4)
رسالہ ’’ورتمان‘‘ کی ضبطی اور اس کے طابع و ناشر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے پر ہندوؤں نے حکومت انگریزی پر زور دیا کہ وہ امام جماعت احمدیہ پر بھی مقدمہ چلائے مگر حکومت ہندوؤں سے مرعوب نہ ہوئی اور چیف جسٹس نے یہ مقدمہ ایک جج کے سپرد کردیا۔ لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے حکومت کو بذریعہ تار توجہ دلائی کہ یہ مقدمہ ایک سے زیادہ ججوں کے سامنے پیش ہونا چاہئے تا دفعہ 153۔الف سے متعلق جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کی تحقیق ہو جائے۔
یہ معقول مطالبہ حکومت نے منظور کرلیا اور چیف جسٹس صاحب جو رخصت پر جارہے تھے۔ بمبئی سے واپس آگئے اور مقدمہ ورتمان ڈویژن بنچ کے سپرد ہو گیا۔ جس نے 6؍اگست 1927ء کو فیصلہ سنایا کہ مذہبی پیشواؤں کے خلاف بدزبانی 153۔الف کی زد میں آتی ہے اور بانی اسلام کو اسلام سے علیحدہ نہیں کیا جاسکتا اور بنابریں ڈویژن بنچ نے ورتمان کے مضمون نگار کو ایک سال قید بامشقت اور پانچ سو روپیہ جرمانہ اور ایڈیٹر کو چھ ماہ قید سخت اور اڑھائی سو روپیہ جرمانہ کی سزا دی۔
(الفضل 16؍اگست 1927ئ)
تحفظ ناموس پیشوایان مذاہب کے لئے مکمل قانون کا مطالبہ
مقدمہ ’’ورتمان‘‘ کے فیصلہ کے بعد اس امر کی فوری ضرورت تھی کہ بزرگان مذاہب کی توہین کے انسداد کے لئے پہلے سے زیادہ واضح اور زیادہ مکمل قانون کا مطالبہ حکومت سے کیا جاتا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 10؍اگست 1927ء کو فیصلہ ورتمان کے بعد مسلمانوں کا اہم فرض کے عنوان سے ایک اشتہار شائع کیا جس کے ابتداء میں یہ بتایا کہ جماعت احمدیہ اس قانون کے نامکمل ہونے کی دیر سے شاکی ہے۔ چنانچہ حضور نے تحریر فرمایا کہ:۔
’’1897ء میں بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے گورنمنٹ کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ مذہبی فتن کو دور کرنے کے لئے اسے ایک زیادہ مکمل قانون بنانا چاہئے لیکن افسوس کہ لارڈ اینکن نے جو اس وقت وائسرائے تھے اس تجویز کی طرف مناسب توجہ نہ کی۔ اس کے بعد سب سے اول 1914ء میں میں نے سراڈوائر کو اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ گورنمنٹ کا قانون مذہبی فتن کے دور کرنے کے لئے کافی نہیں اور جب تک اس کو مکمل نہ کیا جائے ملک میں امن قائم نہ ہوگا۔ انہوں نے مجھے اس بارہ میں مشورہ کرنے کے لئے بلایا لیکن جس تاریخ کو ملاقات کا وقت تھا اس سے دو دن پہلے استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدینؓ صاحب امام جماعت احمدیہ فوت ہو گئے اور دوسرے دن مجھے امام جماعت منتخب کیا گیا۔ چنانچہ وہ جماعت کے لئے ایک سخت فتنہ کا وقت تھا۔ میں سراڈوائر سے مل نہ سکا اور بات یونہی رہ گئی۔ اس کے بعد 1923ء میں میں میکلیگن سابق گورنر پنجاب سے ملا اور انہیں اس قانون کے نقصوں کی طرف توجہ دلائی مگر باوجود اس کے کہ میں نے انہیں کہا تھا کہ آپ گورنمنٹ آف انڈیا کو توجہ دلائیں انہوں نے یہ معذرت کردی کہ اس امر کا تعلق گورنمنٹ آف انڈیا سے ہے اس لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد میں نے پچھلے سال ہز ایکسیلینسی گورنر جنرل کو ایک طویل خط میں ہندوستان میں قیام امن کے متعلق تجاویز بتاتے ہوئے اس قانون کی طرف بھی توجہ دلائی لیکن افسوس کہ انہوں نے محض شکریہ تک ہی جواب کو محدود رکھا اور باوجود وعدہ کے کہ وہ ان تجاویز پر غور کریں گے غور نہیں کیا۔ میرے اس خط کا انگریزی ترجمہ چھ ہزار کے قریب شائع کیا گیا اور تمام حکام اعلیٰ سیاسی لیڈروں اخباروں پارلیمنٹ کے ممبروں اور دوسرے سربرآوردہ لوگوں کو جاچکا ہے اور کلکتہ کے مشہور اخبار ’’بنگالی‘‘ نے جو ایک متعصب اخبار ہے لکھا ہے کہ اس میں پیش کردہ بعض تجاویز پر ہندو مسلم سمجھوتے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ سرمائیکل اڈوائر اور ٹائمز آف لندن کے مسٹر براؤن نے ان تجاویز کو نہایت ہی ضروری تجاویز قرار دیا اور بہت سے ممبران پارلیمنٹ اور دوسرے سربرآوردوں نے ان کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ لیکن افسوس کہ ان حکام نے جن کے ساتھ ان تجاویز کا تعلق تھا ان کی طرف پوری توجہ نہ کی جس کا نتیجہ وہ ہوا جو نظر آرہا ہے ملک کا امن برباد ہو گیا اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑک اٹھی‘‘۔
(الفضل 19؍اگست 1927ء ص5۔ انوارالعلوم جلد9 ص632)
یہ تفصیل بیان کرنے کے بعد حضور نے حکومت اور مسلمانوں کو مروجہ قانون (153۔الف) کی چار واضح خامیوں کی طرف توجہ دلائی۔
1۔موجودہ قانون صرف اس شخص کو مجرم گردانتا ہے جو فسادات کی نیت سے کوئی مضمون لکھے۔ براہ راست توہین انبیاء کو جرم نہیں قرار دیتا۔
2۔اس قانون کے تحت صرف حکومت ہی مقدمہ چلا سکتی ہے۔
3۔اس قانون میں یہ اصلاح کرنا ضروری ہے کہ جوابی کتاب لکھنے والے پر اس وقت تک قانونی کارروائی نہ کی جائے جب تک کہ اصل مؤلف پر مقدمہ نہ چلایا جائے بشرطیکہ اس نے گندہ دہنی سے کام لیا ہو۔
4۔یہ قانون صوبائی ہے لہٰذا اصل قانون یہ ہونا چاہئے کہ جب ایک گندی کتاب کو ایک صوبائی حکومت ضبط کرلے تو باقی تمام صوبائی حکومتیں بھی قانوناً پابند ہوں کہ وہ اپنے صوبوں میں اس کتاب کی طباعت یا اشاعت بند کردیں بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس قانون پر عملدرآمد گورنمنٹ آف انڈیا کے اختیار میں ہوجو کسی صوبہ کی حکومت کے توجہ دلانے پر ایک عام حکم جاری کردے۔ جس کا سب صوبوں پر اثر ہو۔
(الفضل 19؍اگست 1927ء ص7,6) (انوارالعلوم جلد9 ص633 تا635)
سیرت النبیؐ کے جلسوں کی تحریک
1928ء کا نہایت مہتم بالشان اور تاریخ عالم میں سنہری حروف سے لکھے جانے کے لائق واقعہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ہاتھوں سیرت النبی کے جلسوں کی بنیاد ہے جس نے برصغیر ہندو پاک کی مذہبی تاریخ پر خصوصاً اور دنیا بھر میں عموماً بہت گہرا اثر ڈالا ہے اور جو اب ایک عالمگیر تحریک کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔
حضور نے فرمایا:۔
’’لوگوں کو آپؐ پر (یعنی آنحضرت ﷺ پر۔ ناقل) حملہ کرنے کی جرأت اسی لئے ہوتی ہے کہ وہ آپ کی زندگی کے صحیح حالات سے ناواقف ہیں۔ یا اسی لئے کہ وہ سمجھتے ہیں دوسرے لوگ ناواقف ہیں اور اس کا ایک ہی علاج ہے جو یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ کی سوانح پر اس کثرت سے اور اس قدر زور کے ساتھ لیکچر دیئے جائیں کہ ہندوستان کا بچہ بچہ آپ کے حالات زندگی اور آپؐ کی پاکیزگی سے آگاہ ہوجائے اور کسی کو آپ کے متعلق زبان درازی کرنے کی جرأت نہ رہے جب کوئی حملہ کرتا ہے تو یہی سمجھ کر کہ دفاع کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔ واقف کے سامنے اس لئے کوئی حملہ نہیں کرتا کہ وہ دفاع کر دے گا۔ پس سارے ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کو رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی سے واقف کرنا ہمارا فرض ہے اور اس کے لئے بہترین طریق یہی ہے کہ رسول کریم ﷺ کی زندگی کے اہم شعبوں کو لے لیا جائے اور ہر سال خاص انتظام کے ماتحت سارے ہندوستان میں ایک ہی دن ان پر روشنی ڈالی جائے تاکہ سارے ملک میں شور مچ جائے اور غافل لوگ بیدار ہوجائیں‘‘۔
(الفضل 10 جنوری 1928ء خطبات محمود جلد11 ص272)
وسیع سکیم:
اس اہم قومی و ملی مقصد کی تکمیل کے لئے آپ نے ایک وسیع پروگرام تجویز فرمایا جس کے اہم پہلو مندرجہ ذیل تھے۔
اول: ہر سال آنحضرت ﷺ کی مقدس سوانح میں سے بعض اہم پہلوؤں کو منتخب کرکے ان پر خاص طور سے روشنی ڈالی جائے۔ 1928ء کے پہلے سیرت النبیؐ کے جلسے کے لئے آپ نے تین عنوانات تجویز فرمائے۔ (1) رسول کریم ﷺ کی بنی نوع انسان کے لئے قربانیاں۔ (2) رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی۔ (3) رسول کریم ﷺ کے دنیا پر احسانات۔
دوم: ان مضامین پر لیکچر دینے کے لئے آپ نے ایسے ایک ہزار فدائیوں کا مطالبہ کیا۔ جو لیکچر دینے کے لئے آگے آئیں تا انہیں مضامین کی تیاری کے لئے ہدایات دی جاسکیں اور وہ لیکچروں کے لئے تیار کئے جاسکیں۔ جلسوں کے اثرات سے قطع نظر صرف یہی بہت بڑا اور غیر معمولی کام تھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت پر روشنی ڈالنے والے ہزار لیکچرار تیار کردیئے جائیں۔
سوم: سیرت النبیؐ پر تقریر کرنے کے لئے آپ نے مسلمان ہونے کی شرط اڑادی اور فرمایا رسول کریم ﷺ کے احسانات سب دنیا پر ہیں اس لئے مسلمانوں کے علاوہ وہ لوگ جن کو ابھی تک یہ توفیق تو نہیں ملی کہ وہ رسول کریم ﷺ کے اس تعلق کو محسوس کر سکیں۔ جو آپ کو خداتعالیٰ کے ساتھ تھا۔ مگر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی قربانیوں سے بنی نوع انسان پر بہت احسان کئے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو پیش کرسکتے ہیں ان کی زبانی رسول کریم ﷺ کے احسانات کا ذکر زیادہ دلچسپ اور زیادہ پیارا معلوم ہوگا۔ پس اگر غیر مسلموں میں سے بھی کوئی اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کریں گے تو انہیں شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا اور ان کی اس خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔
(الفضل 10 جنوری 1928ئ۔ خطبات محمود جلد11 ص273)
چہارم: غیرمسلموں کو سیرت رسولؐ کے موضوع سے وابستگی کا شوق پیدا کرنے کے لئے یہ اعلان کیا گیا کہ جو غیر مسلم اصحاب ان جلسوں میں تقریریں کرنے کی تیاری کریں گے اور اپنے مضامین ارسال کریں گے ان میں سے اول، دوم اور سوم پوزیشن حاصل کرنے والوں کو علی الترتیب سو، پچاس اور پچیس روپے کے نقد انعامات بھی دیئے جائیں گے۔ (الفضل 5 جون 1928ء ص1)
پنجم: حضور کے سامنے چونکہ ’’میلاد النبیؐ ‘‘ کے معروف رسمی، بے اثر اور محدود جلسوں کی مخصوص اغراض کی بجائے ’’سیرت النبیؐ ‘‘ کے خالص علمی اور ہمہ گیر جلسوں کا تصور تھا اس لئے آپ نے ان کے انعقاد کے لئے 12 ربیع الاول کے دن کی بجائے (جو عموماً ولادت نبوی کی تاریخ تسلیم کی جاتی ہے) دوسرے دنوں کو زیادہ مناسب قرار دیا۔ چنانچہ 1928ء میں آپ نے یکم محرم 1347ھ بمطابق 20 جون کو یوم سیرت منانے کا اعلان کیا۔ جسے شیعہ فرقہ کے مسلمانوں کی بآسانی شمولیت کے پیش نظر 17 جون میں تبدیل کر دیا۔ (الفضل 4 مئی 1928ئ۔ خطبات محمود جلد 11 ص364)
سیرت النبیؐ کے کامیاب جلسوں کا روح پرور نظارہ:
اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس عظیم الشان مہم کے پیچھے کام کررہی تھی اور ہندوستان کے عرض و طول میں 17 جون کو نہایت تزک و احتشام سے یوم سیرت النبیؐ منایا گیا اور نہایت شاندار جلسے منعقد کئے گئے اور ایک ہی سٹیج پر ہر فرقہ کے مسلمانوں نے سیرت رسولؐ پر اپنے دلی جذبات عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے تقریریں کیں۔ چنانچہ متعدد مقامی احمدیوں نے لیکچر دیئے مرکز سے قریباً پچاس کے قریب لیکچرار ملک کے مختلف جلسوں میں شامل ہوئے۔
دوسرے مسلمانوں میں سے تقریر کرنے والوں یا نظم پڑھنے والوں یا صدارت کرنے والوں میں کئی نمایاں شخصیتیں شامل تھیں۔
مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ، عیسائی، جینی اصحاب نے بھی آنحضرت ﷺ کی پاکیزہ سیرت، بیش بہا قربانیوں اور عدیم النظیر احسانات کا ذکر کیا اور نہ صرف ان جلسوں میں بخوشی شامل ہوئے بلکہ کئی مقامات پر انہوں نے ان کے انعقاد میں بڑی مدد بھی دی۔ جلسہ گاہ کے لئے اپنے مکانات دیئے، ضروری سامان مہیا کیا، سامعین کی شربت وغیرہ سے خدمت کی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بڑے بڑے معزز اور مشہور لیڈروں نے جلسوں میں شامل ہو کر تقریریں کیں۔ سینکڑوں غیرمسلم معززین اور غیر مسلم تعلیم یافتہ خواتین بھی جلسوں میں شریک ہوئیں اور دنیا کے سب سے بڑے محسن سب سے بڑے پاکباز اور سب سے بڑے ہمدرد کے متعلق اپنی عقیدت اور اخلاص کا اظہار کیا۔ یہ ایسا روح پرور نظارہ تھا جو اس سے قبل کبھی دیکھنے میں نہیں آیا اور جس کی یاد دیکھنے والوں کے ذہن میں آج بھی تازہ ہے۔
(الفضل 26 جولائی 1928ء ص4,3)
ہندوستان کے علاوہ سماٹرا، آسٹریلیا، سیلون، ماریشس، ایران، عراق، عرب، دمشق، حیفا (فلسطین) گولڈ کوسٹ (غانا)، نائیجیریا، جنجہ، ممباسہ (مشرقی افریقہ) اور لندن میں بھی سیرت النبیؐ کے جلسے ہوئے۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 1929ء ص206)
اس طرح خدا کے فضل سے عالمگیر پلیٹ فارم سے آنحضرت ﷺ کی شان میں محبت و عقیدت کے ترانے گائے گئے اور سپین کے مشہور صوفی حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ علیہ کی پیشگوئی کا ایک پہلو کہ آنحضرتؐ کے مقام محمود کا ظہور حضرت امام مہدی کے ذریعہ سے ہوگا۔ امام مہدی کے خلیفہ برحق کے زمانہ میں (جس کا نام خدائے ذوالعرش نے محمود رکھا تھا) پوری ہوگئی۔
مجالس سیرت النبیؐ کی کامیابی ایسے شاندار رنگ میں ہوئی کہ بڑے بڑے لیڈر دنگ رہ گئے اور اخباروں نے اس پر بڑے عمدہ تبصرے شائع کئے اور اس کی غیر معمولی کامیابی پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو مبارکباد دی۔
یوم پیشوایان مذاہب کی بنیاد
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دنیا میں عموماً اور ہندوستان میں خصوصاً مذہبی نفرت و حقارت اور کشیدگی کم کرنے کے لئے 1928ء میں سیرت النبیؐ کے مبارک جلسوں کی بنیاد رکھی جو عوامی فضا کو درست کرنے اور مسلم و غیر مسلم حلقوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بہت ممد و معاون ثابت ہوئی۔ اس سلسلہ میں حضور نے دوسرا قدم قیام امن و اتحاد عالم کے لئے یہ اٹھایا کہ اپریل 1939ء کی جماعتی مجلس شوریٰ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دیرینہ خواہش کے مدنظر آئندہ کے لئے پیشوایان مذاہب کی سیرت بیان کرنے کے لئے بھی سال میں ایک دن مقرر فرمادیا اور ہدایت فرمائی کہ اس دن تمام لوگوں کو دعوت دی جائے کہ وہ اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں یا اپنے بانی مذہب کے حالات اس موقع پر بیان کریں۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 1939ء ص96,95)
اس فیصلہ کی تعمیل میں جماعت احمدیہ کی طرف سے دنیا بھر میں پہلا یوم پیشوایان مذاہب نہایت جوش و خروش سے 3 دسمبر 1939ء کو منایا گیا اور بہت سے غیر مسلم معززین نے ان جلسوں میں شمولیت کی اور بعض جگہ تو خود غیر مسلموں نے جلسوں کا انتظام کیا اور اشتہار وغیرہ شائع کرائے اور حضرت امام جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس جلسہ کی بناء رکھ کر ہم پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔
(رپورٹ سالانہ صیغہ جات صدر انجمن احمدیہ 1940-41ء ص167)
غرض یہ جلسے ہر طرح کامیاب رہے اور آئندہ کے لئے ’’جلسہ سیرت النبیؐ ‘‘ کی طرح ہر سال باقاعدگی کے ساتھ ان کا انعقاد ہونے لگا۔ جو اب تک کامیابی سے جاری ہے۔



وقف زندگی کے متعلق تحریکات
حضرت مسیح موعود ؑ کی قریباً 1901ء سے خواہش تھی کہ جماعت کے واعظین مقرر کرکے پیغام حق ؎پہنچایا جائے اور آپ متفرق مجالس میں اس کا ذکر فرماتے رہے۔ ستمبر 1907ء میں آپ کی توجہ خاص طور پر اس طرف مبذول ہوئی۔
چنانچہ حضرت مفتی محمد صادقؓ صاحب ایڈیٹر بدر لکھتے ہیں:۔
چند روز سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے دل میں یہ خاص جوش ڈالا ہے کہ واعظین سلسلہ حقہ کے جلد تقرر کے واسطے جماعت کے خواندہ اور لائق آدمیوں سے جو اس کام کے واسطے اپنے آپ کو وقف کرسکیں انتخاب کیا جائے اور ایسے آدمیوں کو خدمت تبلیغ سپرد کرکے مختلف مقامات پر بھیجا جائے۔ دسمبر 1905ء کے جلسہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب نے بھی اس قسم کی تجویز پیش کی تھی کہ مدرسہ میں باقاعدہ طورپر واعظین طیار کرنے سے پہلے سردست جماعت کے خواندہ اور لائق آدمیوں کو کچھ عرصہ قادیان میں رکھ کر اور دینی تعلیم دے کر یہ خدمت ان کے سپرد کی جائے۔ ہر ایک امر کے واسطے ایک وقت ہوتا ہے اور اب جبکہ خداتعالیٰ نے اپنے مامور کو اس کام کے جلد پورا کرنے کے واسطے جوش عطا فرمایا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وقت آگیا ہے۔
اس کے بعد انہوں نے واعظین کی صفات کے متعلق حضرت مسیح موعود ؑ کا ارشاد درج کیا اور لکھا کہ حضور کے اس فرمان کو سن کر 13 احباب نے وقف کیا ہے۔ حضور نے سب پر خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے مگر سردست کسی کو مقرر نہیں فرمایا۔ (بدر 3؍اکتوبر 1907ئ)
واعظین کا باقاعدہ تقرر خلافت اولیٰ میں شروع ہوا۔ مگر جماعت کے بڑھتے اور پھیلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے وقف زندگی کی متعدد تحریکات فرمائیں اور جماعت میں وقف کے نظام کو نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم کردیا۔
پیشے سیکھ کر خدمت دین کریں
حضرت مصلح موعودؓ نے وقف زندگی کی پہلی تحریک خطبہ جمعہ 7 دسمبر 1917ء میں فرمائی۔
حضور نے اشاعت اسلام کے لئے صحابہ اور بزرگان دین کی طرف سے زندگیاں وقف کرنے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
یہ وہ طریق ہے جس کے ذریعہ اسلام نے دنیا میں ترقی کی تھی اور جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی پسند فرمایا تھا۔ حضرت صاحب ؑ کے وقت اس مسئلہ پر غور کیا گیا تھا اور آپ نے قواعد بنانے کے لئے سید حامد شاہ صاحب کو مقرر فرمایا تھا۔ سید صاحب نے جو قواعد مرتب کرکے دیئے تھے وہ حضرت صاحب ؑ نے مجھ کو دیکھنے کے لئے دیئے تھے کہ درست ہیں یا نہیں۔ تو میں نے عرض کیا تھا کہ درست ہیں۔ حضرت صاحب نے بھی ان کوپسند کیا تھا۔ ان قواعد پر عمل کرنے کے لئے تجویز ہوا تھا کہ دوستوں کو اپنی زندگیاں وقف کرنی چاہئیں تاکہ سلسلہ پر ان کا کوئی بوجھ نہ ہو اور وہ خود محنت کرکے اپنا گزارہ بھی کریں اور اسلام کی اشاعت میں بھی مصروف رہیں اور وہ ایک ایسے انتظام کے ماتحت ہوں کہ ان کو جہاں چاہیں۔ جس وقت چاہیں بھیج دیں اور وہ فوراً چلے جائیں۔ … ان تجاویز کو حضرت صاحب ؑ نے پسند فرمایا تھا اس وقت کچھ لوگوں نے اپنی زندگی بھی کی تھی۔ مگر پھر معلوم نہیں کہ کیا اسباب ہوئے کہ وہ سلسلہ قائم نہ رہ سکا۔ ابتدائے اسلام میں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام ایسے ہی لوگوں کے ذریعہ پھیلا۔ وہ لوگ چند آدمیوں کی جماعت بن کر مختلف اقطاع میں چلے جاتے تھے۔ اپنے گھر بار چھوڑ دیتے تھے اور بال بچوں سمیت جدھر حکم ہوتا تھا۔ چل کھڑے ہوتے تھے۔ یہی وہ روح تھی۔ جس نے اسلام کو ابتداء میں پھیلایا اور یہی وہ روح ہے جو حقیقی اسلام کی روح ہے۔ ابتداء میں تبلیغ کا یہی رنگ تھا۔ اور طریق بعدمیں پیدا ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کو پسند فرمایا ہے اور یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعہ ہم کامیاب ہوسکتے ہیں۔ پس جب تک کام اس طرح نہیں ہوگا۔ وہ کام انجام نہیں پائے گا۔ جو ہمارے پیش نظر ہے۔
پس ہمارے دوست اپنی زندگیاں وقف کریں اور مختلف پیشہ سیکھیں۔ پھر ان کو جہاں جانے کے لئے حکم دیا جائے۔ وہاں چلے جائیں اور وہ کام کریں جو انہوں نے سیکھا ہے۔ کچھ وقت اس کام میں لگے رہیں تاکہ ان کے کھانے پینے کا انتظام ہوسکے اور باقی وقت دین کی تبلیغ میں صرف کریں۔ مثلاً کچھ لوگ ڈاکٹری سیکھیں کہ یہ بہت مفید علم ہے۔ بعض طب سیکھیں۔ اگرچہ طب جہاں ڈاکٹری پہنچ گئی ہے کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ مگر ابھی بہت سے علاقہ ایسے ہیں جہاں طب کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح اور کئی کام ہیں۔ ان تمام کاموں کو سیکھنے سے ان کی غرض یہ ہو کہ جہاں وہ بھیجے جائیں وہاں خواہ ان کاکام چلے یا نہ چلے۔ لیکن کوئی خیال ان کو روک نہ سکے۔ …
میرے دل میں مدت سے یہ تحریک تھی لیکن اب تین چار دوستوں نے باہر سے بھی تحریک کی ہے کہ اسی رنگ میں دین کی خدمت کی جائے پس میں اس خطبہ کے ذریعہ یہاں کے دوستوں اور باہر کے دوستوں کومتوجہ کرتا ہوں کہ دین کے لئے جوش رکھنے والے بڑھیں اور اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ جو ابھی تعلیم میں ہیں اور زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مجھ سے مشورہ کریں کہ کس ہنر کوپسند کرتے ہیں۔ تا ان کے لئے اس کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ لیکن جو فارغ التحصیل تو نہیں لیکن تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ وہ بھی مشورہ کرسکتے ہیں۔ (الفضل 22 دسمبر 1917ئ۔خطبات محمود جلد5 ص611,610)
اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے 63 نوجوانوں نے اپنے نام پیش کئے جن میں حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس، مولوی ظہور حسین صاحب، مولوی ابوبکر صاحب سماٹری، خان بہادر مولوی ابوالہاشم خان صاحب ایم اے اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس بنگال۔ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور مولوی رحمت علی صاحب مولوی فاضل بھی تھے۔ (تاریخ احمدیت جلد 4 ص204)
مبلغین کے لئے تحریک
حضور نے 4 مئی 1928ء کو جماعت کے نوجوانوں سے دوسری بار وقف زندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے فرمایا:
کچھ عرصہ ہوا میں نے تحریک کی تھی کہ نوجوان خدمت دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ اس پر بہت سے نوجوانوں نے کیں جن میں کئی ایک عربی کی تعلیم حاصل کئے ہوئے تھے اور کئی انگریزی کی۔ اس وقت جتنے آدمیوں کی ضرورت تھی وہ پوری ہوگئی لیکن اب پھر بعض کاموں کے لئے ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ ……… پہلے میں نے مدرسہ احمدیہ میں اس بات کا ذکر کیا ہے اور بعض نوجوانوں نے مجھے درخواستیں پہنچائی ہیں اور بعض نے دفتر میں دی ہیں۔ اب میں باقی جماعت کو اس خطبہ کے ذریعہ مطلع کرتا ہوں خصوصاً کالجوں کے طلباء کو اور ان طلباء کو جو اپنی تعلیم ختم کر چکے یا کرنے والے ہیں۔ اس وقت غیرمذاہب میں تبلیغ کے لئے مبلغ بھیجنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے ایسے نوجوان ہوں جو دین کے متعلق واقفیت رکھتے ہوں یا واقفیت پیدا کرنے کی خواہش رکھتے ہوں۔ اس وقت چند آدمیوں کی ضرورت ہے جن کو لے کر کام پر لگا دیا جائے گا یا تیاری کرائی جائے۔
(الفضل 15 مئی 1928ئ۔ خطبات محمود جلد11 ص377)
تبلیغ ممالک بیرون کے لئے وقف
1934ء میں تحریک جدید کے آغاز پر حضور نے وقف زندگی کا بڑے زور سے مطالبہ کیا جس پر بیسیوں احباب نے لبیک کہا اور دنیا بھر میں دعوت الی اللہ کی ایک مربوط اورمنظم سکیم کا آغاز ہوا۔
تحریک جدید کا آٹھواں مطالبہ یہ تھا کہ ایسے نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں جو تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔ (الفضل 9 دسمبر 1934ئ)
اس پر مولوی فاضل، بی اے، ایف اے اور انٹرنس پاس قریباً دوسو نوجوانوں نے تین سال کے لئے وقف کردیا۔ (الفضل 22 دسمبر 1937ئ)
1937ء میں حضور نے اس تحریک میں اضافہ کرتے ہوئے مستقل وقف زندگی کی تحریک فرمائی۔ حضور نے فرمایا۔
دور اول میں میں نے کہا تھا کہ نوجوان تین سال کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں مگر دور ثانی میں وقف عمر بھر کے لئے ہے۔ میری کوشش یہ ہے کہ اس دور میں سو واقفین ایسے تیار ہو جائیں جو علاوہ مذہبی تعلیم رکھنے کے ظاہری علوم کے بھی ماہر ہوں اور سلسلہ کے تمام کاموں کو حزم و احتیاط سے کرنے والے اور قربانی و ایثار کا نمونہ دکھانے والے ہوں۔ (الفضل 24 نومبر 1938ئ)
یکم فروری 1945ء کو حضور نے 22 واقفین کو بیرونی ممالک میں بھجوانے کے لئے منتخب فرمایا۔
(تاریخ احمدیت جلد8 ص107)
چنانچہ دوسری جنگ عظیم کے خاتمہ پر 1945ء میں 16 مبلغین بیرونی ممالک کے لئے روانہ ہوئے اور یہ سلسلہ کسی تعطل کے بغیر آج تک جاری ہے۔
دیہاتی مبلغین کے لئے تحریک
ایک لمبے تجربہ کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے جب دیکھا کہ ہم اتنے مبلغ تیار نہیں کرسکتے جو دنیا کی ضرورت کو پورا کرسکیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے حضور کے دل میں دیہاتی مبلغین کی سکیم ڈالی اور حضور نے 29 جنوری 1943ء کو وقف برائے دیہاتی مبلغین جاری کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ
’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دو قسم کے مبلغ ہونے چاہئیں۔ ایک تو وہ جو بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں جا کر تبلیغ کرسکیں۔ لیکچر اور مناظرے وغیرہ کرسکیں۔ اپنے ماتحت مبلغوں کے کام کی نگرانی کرسکیں اور ایک ان سے چھوٹے درجہ کے مبلغ دیہات میں تبلیغ کے لئے ہوں۔ جیسے دیہات کے پرائمری سکولوں کے مدرس ہوتے ہیں ایسے مبلغ دیہات کے لوگوں میں سے ہی لئے جائیں۔ ایک سال تک ان کو تعلیم دے کر موٹے موٹے مسائل سے آگاہ کر دیا جائے اور پھر ان کو دیہات میں پھیلا دیا جائے اور جس طرح پرائمری کے مدرس اپنے اردگرد کے دیہات میں تعلیم کے ذمہ دار ہوتے ہیں اسی طرح یہ اپنے علاقہ میں تبلیغ کے ذمہ دار ہوں … انہیں ایک سال میں موٹے موٹے دینی مسائل مثلاً نکاح، نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جنازہ وغیرہ کے متعلق احکام سکھا دیئے جائیں۔ قرآن شریف کا ترجمہ پڑھا دیا جائے، کچھ احادیث پڑھائی جائیں، سلسلہ کے ضروری مسائل پر نوٹ لکھا دیئے جائیں۔ تعلیم و تربیت کے متعلق ان کو ضروری ہدایات دی جائیں اور انہیں سمجھا دیا جائے کہ بچوں کو کس قسم کے اخلاق سکھانے چاہئیں اور اس غرض سے انہوں نے ایک دو ماہ خدام الاحمدیہ میں کام کرنے کاموقع بہم پہنچایا جائے اور یہ سارا کورس ایک سال یا سوا سال میں ختم کراکے انہیں دیہات میں پھیلا دیا جائے … پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس سکیم کو کامیاب بنانے کی کوشش کرے اور اپنے اپنے ہاں کے ایسے نوجوانوں کو جو پرائمری یا مڈل پاس ہوں اور لوئر پرائمری کے مدرسوں جتنا ہی گزارہ لے کر تبلیغ کا کام کرنے پر تیار ہوں۔ فوراً بھجوا دیں تا ان کے لئے تعلیم کا کور س مقرر کرکے انہیں تبلیغ کے لئے تیار کیا جاسکے‘‘۔ (الفضل 4 فروری 1943ئ)
چونکہ جنگ کا زمانہ تھا اور گرانی بہت تھی اس لئے ابتداء میںصرف پندرہ واقفین منتخب کئے گئے جن کی ٹریننگ باقاعدہ ایک کلاس کی شکل میں جنوری 1945ء تک جاری رہی۔ انہیں علمائے سلسلہ کے علاوہ خود سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ بھی تعلیم دیتے تھے۔ چنانچہ حضور نے مجلس مشاورت (منعقدہ 9,8,7 ؍اپریل 1944ئ) میں بتایا کہ
’’میں دیہاتی مبلغین کو آجکل تعلیم دے رہا ہوں۔ یہ لوگ مدرس بھی ہوں گے اور مبلغ بھی۔ چھ مہینہ تک یہ لوگ فارغ ہو جائیں گے۔ پندرہ بیس ان کی تعداد ہے‘‘۔
ٹریننگ کا دور ختم ہوا تو ان میں سے چودہ کو فروری 1945ء سے پنجاب کے مختلف دیہاتی علاقوں میں متعین کر دیا گیا۔
دیہاتی مبلغین کے وقف کی یہ سکیم بہت کامیاب رہی اور حضور نے دیہاتی مبلغین کی نسبت اظہار خوشنودی کرتے ہوئے 17 جنوری 1947ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔
’’خداتعالیٰ کے فضل سے ہمارا یہ تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔ کئی جماعتیں ایسی تھیں جو کہ چندوں میں سست تھیں اب ان میں بیداری پیدا ہوگئی۔ پہلے سال صرف پندرہ آدمی اس کلاس میں شامل ہوئے تھے اور پچھلے سال پچاس شامل ہوئے‘‘۔ (الفضل 30 جنوری 1947ء ص4)
دیہاتی مبلغین کی تیسری کلاس 1947ء میں کھولی گئی جس میں 53 واقفین داخل کئے گئے۔ ابھی پڑھائی کا گویا آغاز ہی تھا کہ ملک فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اکثر طلباء قادیان میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے رہ گئے اور صرف چھ پاکستان آئے جنہیں تکمیل تعلیم کے بعد تبلیغ پر لگا دیا گیا۔
(رپورٹ سالانہ صدرانجمن احمدیہ پاکستان 1947-48ء ص6)
خاندان مسیح موعود کو وقف کی تحریک
حضور نے دعویٰ مصلح موعود کے بعد 10 مارچ 1944ء کے خطبہ جمعہ میں خاندان حضرت اقدس مسیح موعود کو وقف کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:
’’دیکھو ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کے اس قدر احسانات ہیں کہ اگر سجدوں میں ہمارے ناک گھس جائیں، ہمارے ہاتھوں کی ہڈیاں گھس جائیں تب بھی ہم اس کے احسانات کا شکر ادا نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری موعود کی نسل میں ہمیں پیدا کیا ہے اور اس فخر کے لئے اس نے اپنے فضل سے ہمیں چن لیا ہے۔ پس ہم پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔ دنیا کے لوگوں کے لئے دنیا کے اور بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں مگر ہماری زندگی تو کلیۃً دین کی خدمت اور اسلام کے احیاء کے لئے وقف ہونی چاہئے‘‘۔ (الفضل 14 مارچ 1944ء ص1)
اس تحریک وقف پر سب سے پہلے حضرت صاحبزادہ حافظ مرزا ناصر احمد صاحب نے لبیک کہا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے انہی دنوں فرمایا:۔
’’سب سے پہلے ہمارے خاندان میں سے عزیزم مرزا ناصر احمد نے اپنے آپ کو وقف کیا تھا‘‘۔
(الفضل 12 جنوری 1945ء ص3 کالم2)
سیدنا حضرت المصلح الموعودؓ نے اپنے سب بچوں کو وقف فرمادیا اور اپنی جیب سے ان کے تعلیمی اخراجات ادا فرمائے اور اس کے بعد ان کو سلسلہ احمدیہ کے سپرد فرمادیا۔ چنانچہ حضور نے ایک بار فرمایا کہ:
’’میں نے اپنا ہر ایک بچہ خداتعالیٰ کے دین کے لئے وقف کررکھا ہے۔ میاں ناصر احمد وقف ہیں اور دین کا کام کررہے ہیں۔ چھوٹا بھی وقف ہے اور میں سوچ رہا ہوں کہ اسے کس طرح دین کے کام پر لگایا جائے۔ اس سے چھوٹا ڈاکٹر ہے۔ وہ امتحان پاس کرچکا ہے اور اب ٹریننگ حاصل کررہا تا سلسلہ کی خدمت کرسکے۔ باقی چھوٹے پڑھ رہے ہیں اور وہ سب بھی دین کے لئے پڑھ رہے ہیں۔ میرے تیرہ لڑکے ہیں اور تیرہ کے تیرہ دین کے لئے وقف ہیں‘‘۔ (تاریخ احمدیت جلد8 ص50)
اپنے سارے بیٹوں کو خدمت دین کے لئے وقف کرنے کے بعد سیدنا حضرت المصلح الموعودؓ نے اپنی زندگی میں ان کی تعلیم و تربیت سے متعلق امور کو نہایت توجہ اور حکمت سے ادا فرمایا۔ اس ضمن میں حضور نے خود ایک موقع پر اپنے ایک بیٹے سے متعلق ایک واقعہ بیان فرمایا جو خصوصاً واقفین زندگی کے لئے مشعل راہ کا کام دیتا رہے گا۔ فرمایا :۔
’’میرے ایک بچہ نے ایک دفعہ ایک جائز امر کی خواہش کی تو میں نے اسے لکھا کہ یہ بیشک جائز ہے مگر تم یہ سمجھ لو کہ تم نے خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی ہوئی ہے اور تم نے دین کی خدمت کاکام کرنا ہے اور یہ امر تمہارے لئے اتنا بوجھ ہو جائے گا کہ تم دین کی خدمت کے رستہ میں اسے نباہ نہیں سکو گے اور یہ تمہارے رستہ میں مشکل پید اکردے گا‘‘۔ (الفضل 29 نومبر1934ئ)
فرمایا: ’’آخر میرے تیرہ بیٹوں نے زندگیاں وقف کی ہیں یا نہیں … وہ جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے وقف چھوڑا تو میں نے ان کی شکل نہیں دیکھنی۔ میرے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں رہے گا‘‘۔
(سوانح فضل عمر جلد3 ص329)
وقف زندگی اور حضرت مصلح موعود کا ایک عہد:
حضور نے 1939ء میں ایک عہد بھی کیا تھا جو حضور کی ایک نوٹ بک پر جو حضور عموماً اپنے کوٹ کی اندر کی جیب میں یادداشت وغیرہ لکھنے کے لئے رکھا کرتے تھے آپ کے قلم سے درج ہے اور وہ یہ ہے۔
’’آج چودہ تاریخ کو (مئی1939ئ) میں مرزا بشیرالدین محمود احمد اللہ تعالیٰ کی قسم اس پر کھاتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود ؑ کی نسل سیدہ سے جو بھی اپنی زندگی سلسلہ کی خدمت میں خرچ نہیں کررہا میں اس کے گھر کاکھانا نہیں کھاؤں گا اور اگر مجبوری یا مصلحت کی وجہ سے مجھے ایسا کرنا پڑے تو میں ایک روزہ بطور کفارہ رکھوں گا یا پانچ روپے بطور صدقہ ادا کروں گا۔ یہ عہد سردست ایک سال کے لئے ہوگا‘‘۔
(الفضل 25 مارچ1966ئ)
وقف زندگی کی وسیع تحریک
حضرت مصلح موعودؓ کی دوربین نگاہ نے قبل از وقت دیکھ لیا تھا کہ جنگ عظیم دوم کے اختتام پر ہمیں فوری طور پر تبلیغ اسلام کی طرف توجہ دینا پڑے گی۔ اس لئے حضور نے 24 مارچ 1944ء کو وقف زندگی کی پُرزور تحریک کی اور فرمایا:
’’میرا اندازہ ہے کہ فی الحال اور دو سو علماء کی ہمیں ضرورت ہے تب موجودہ حالات کے مطابق جماعتی کاموں کو تنظیم کے ماتحت چلایا جاسکتا ہے لیکن اس وقت واقفین کی تعداد 35,30 ہے۔ … اس کے علاوہ گریجویٹوں اور ایم اے پاس نوجوانوں کی بھی کالج کے لئے ضرورت ہے تا پروفیسر وغیرہ تیار کئے جاسکیں۔ ایسے ہی واقفین میں سے آئندہ ناظروں کے قائم مقام بھی تیار کئے جاسکیں گے۔ آگے ایسے لوگ نظر نہیں آتے جنہیں ناظروں کا قائم مقام بنایا جاسکے۔ میری تجویز ہے کہ واقفین نوجوانوں کو ایسے کاموں پر بھی لگایا جائے اور ایسے رنگ میں ان کی تربیت کی جائے کہ وہ آئندہ موجودہ ناظروں کے قائم مقام بھی ہوسکیں پس ایم اے پاس نوجوانوں کی ہمیں ضرورت ہے۔ (الفضل 31 مارچ 1944ئ)
اس عظیم الشان تحریک پر بھی مخلصین جماعت نے شاندار جوش و خروش کا مظاہرہ کیا اور ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر قادیان اور بیرونی مقامات کے 335 مخلصین نے (جن میں ہر طبقہ، ہر عمر اور ہر قابلیت کے افراد شامل تھے) اپنے آقا کے حضور وقف زندگی کی درخواستیں پیش کردیں۔
(الفضل 11 مئی1944ء ص6)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی اس تحریک پر نوجوانان احمدیت خدمت دین کے لئے جس طرح دیوانہ وار آگے بڑھے اور اپنی زندگیاں وقف کیں۔ اس نے غیرمسلموں تک کو متاثر کیا۔ چنانچہ اخبار ’’پرکاش‘‘ (جالندھر) نے لکھا:۔
’’آپ احمدیت، تحریک قادیان کی طرف دھیان دیں اور آنکھیں کھولیں۔ قادیان میں بڑے سے بڑے احمدی نے اپنے لخت جگروں کو احمدیت کی تبلیغ کے لئے وقف کردیا ہے اور اس پیشہ کو بڑی آدر کی درشٹی سے دیکھا جاتا ہے۔ تحریک دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کررہی ہے کیونکہ ان کے لیڈر عالم باعمل ہیں اور سپرٹ مخلصانہ ہے‘‘۔ (بحوالہ الفضل 10 مئی 1947ئ)
اس تحریک کا غیر احمدی نوجوانوں پر کیا اثر ہوا؟ اس کا اندازہ لگانے کے لئے صرف ایک مکتوب درج کیا جاتا ہے۔ ایک غیراحمدی دوست اقبال احمد صاحب زبیری بی اے بی ٹی علیگ نے حضور کی خدمت میں لکھا:۔
آپ کی جماعت میں ایک صاحب بنام مبارک احمد صاحب میرے ہم پیشہ دوست ہیں۔ میرا اور موصوف کا قریباً دو اڑھائی سال سے ساتھ ہے اور ہمارے درمیان بہت گہرے اور مخلصانہ تعلقات قائم ہیں۔ … موصوف کے ساتھ دو جمعہ کی نمازوں میں شریک ہوا جبکہ علاوہ وقتاً فوقتاً الفضل پڑھنے کے آپ کا دیا ہوا خطبہ میں نے سنا۔ وہ خطبے جو میں نے سنے ان میں سے دو قابل ذکر ہیں۔ ایک جو ہندوستان اور برطانیہ کے مابین مصالحت کے متعلق تھا اور دوسرا جس میں آپ نے جماعت کے لوگوں سے زندگی وقف کر دینے کے لئے خدا اور اس کے رسول کی راہ میں تاکید فرمائی۔ مبارک احمد صاحب نے تو آپ کی آواز پر فوراً لبیک کہا اور ان کا خط اور درخواست غالباً اس وقت آپ کے زیر غور ہوگی۔ میں آپ کی جماعت کا باقاعدہ رکن تو اس وقت نہیں ہوں۔ لیکن اللہ اور اس کے رسول کی خدمت کسی نظام کے ماتحت کرنے میں مجھے عذر بھی نہیں‘‘۔ (تاریخ احمدیت جلد8 ص102)
خاندانی وقف کی تحریک
5 جنوری 1945ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے خاندانی وقف کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:
’’تحریک جدید کے پہلے دور میں، میں نے اس کی تمہید باندھی تھی۔ مگر اب دوسری تحریک کے موقعہ پر میں مستقل طور پر دعوت دیتا ہوں کہ جس طرح ہر احمدی اپنے اوپر چندہ دینا لازم کرتا ہے۔ اسی طرح ہر احمدی خاندان اپنے لئے لازم کرے کہ وہ کسی نہ کسی کو دین کے لئے وقف کرے گا‘‘۔
(الفضل 10 جنوری 1945ء ص5)
نیز فرمایا:۔
’’ایمان کی کم سے کم علامت یہ ہونی چاہئے کہ ہر خاندان ایک لڑکا دے‘‘۔
(الفضل 10 جنوری 1945ئ)
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کو اپنے دوسرے سفر یورپ 1955ء کے دوران یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ مغربی دنیا تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہورہی اور آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ وقت آگیا ہے کہ وقف زندگی کی تحریک کو پہلے سے زیادہ منظم، مؤثر اور دائمی شکل دی جائے کیونکہ جب تک جماعت احمدیہ میں دین کی خدمت کرنے والے مسلسل اور متواتر پیدا نہ ہوں غلبۂ اسلام کے اہم مقصد کی تکمیل ہرگز ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضور نے سفر یورپ سے واپسی کے بعد کراچی اور ربوہ میں جو ابتدائی خطبات ارشاد فرمائے۔ ان میں بار بار وقف زندگی کی پُرجوش تحریک فرمائی۔ چنانچہ 16 ستمبر 1955ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔
’’جب تک جماعت میں وقف کی تحریک مضبوط نہ ہو اس وقت تک ساری دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ناممکن ہے … وقف کی تحریک اسلام کی اشاعت کے لئے ایک عظیم الشان تحریک ہے۔ اگر وقف کی تحریک مضبوط ہو جائے اور نسلاً بعد نسلٍ ہماری جماعت کے نوجوان خدمت دین کے لئے آگے بڑھتے رہیں تو سینکڑوں نہیں ہزاروں سال تک تبلیغ اسلام کا سلسلہ قائم رہ سکتا ہے۔ اس غرض کے لئے میں نے متواتر جماعت پر وقت کی اہمیت کو ظاہر کیا مگر اب میرا ارادہ ہے کہ جماعت سے خاندانی طور پر وقف اولاد کا مطالبہ کروں یعنی ہر خاندان کے افراد اپنی طرف سے ایک ایک نوجوان کو خدمت کے لئے پیش کرتے ہوئے عہد کریں کہ ہم ہمیشہ اپنے خاندان میں سے کوئی نہ کوئی فرد دین کی خدمت کے لئے وقف رکھیں گے اور اس میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں کریں گے۔ جب خاندانی وقف کی تحریک مضبوط ہوجائے توپھر اس کو وسیع کرکے ہم وقف کرنے والوں کو تحریک کرسکیں گے کہ وہ اپنے اپنے دوستوں اور ساتھیوں میں سے ایک ایک دو دو تین تین چار چار کو وقف کرنے کی کوشش کریں اس طرح یہ سلسلہ خداتعالیٰ کے فضل سے ممتد ہوتا چلا جائے گا اور قیامت تک جاری رہے گا۔‘‘
اسی سلسلہ میں حضور نے 14؍اکتوبر 1955ء کو ایک زوردار خطبہ میں فرمایا:
’’خاندانی طور پر اپنی زندگیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کرو اور عہد کرو کہ تم اپنی اولاد دراولاد کو وقف کرتے چلے جاؤ گے۔ پہلے تم خود اپنے کسی بچے کو وقف کرو۔ پھر اپنے سب بچوں سے عہد لو کہ وہ اپنے بچوں میں سے کسی نہ کسی کو خدمت دین کے لئے وقف کریں گے اور پھر ان سے یہ عہد بھی لو کہ وہ اپنے بچوں سے عہد لیں گے کہ وہ بھی اپنی آئندہ نسل سے یہی مطالبہ کریں گے۔ چونکہ اگلی نسل کا وقف تمہارے اختیار میں نہیں اس لئے صرف تحریک کرنا تمہارا کام ہوگا۔ اگر وہ نہیں مانیں گے تو یہ ان کا قصور ہوگا۔ تم اپنے فرض سے سبکدوش سمجھے جاؤ گے اگر تم یہ کام کرو گے اور یہ روح جماعت میں نسلاً بعد نسلٍ پیدا ہوتی چلی جائے گی اور ہر فرد یہ کوشش کرے گا کہ اس کے خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد دین کی خاطر اپنی زندگی وقف کرے تو خداتعالیٰ کے فضل سے لاکھوں واقف زندگی دین کی خدمت کے لئے مہیا ہو جائیں گے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے وصیت کی تحریک فرمائی ہے۔ تمہیں یہ بھی کوشش کرنی چاہئے کہ تم میں سے ہر شخص وصیت کرے اور پھر اپنی اولاد کے متعلق بھی کوشش کرے کہ وہ بھی وصیت کرے اور وہ اولاد اپنی اگلی نسل کو وصیت کی تحریک کرے۔ یہ بھی دین کی خدمت کا ایک بڑا بھاری ذریعہ ہے۔ اگر ہم ایسا کرلیں تو قیامت تک تبلیغ اور اشاعت کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے‘‘۔ (الفضل 25 نومبر 1955ئ)
تحریک وقف تجارت
5؍اکتوبر 1945ء کو حضور نے وقف تجارت کی تحریک فرمائی جس کا مقصد تجارت کے ذریعہ تبلیغی سنٹر قائم کرنا تھا۔ چنانچہ حضور نے فرمایا:
’’وہ نوجوان جو فوج سے فارغ ہوں گے اور وہ نوجوان جو نئے جوان ہوئے ہیں اور ابھی کوئی کام شروع نہیں کیا۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ اپنی زندگی وقف کریں۔ ایسے رنگ میں نہیں کہ ہمیں دین کے لئے جہاں چاہیں بھیج دیں چلے جائیں گے بلکہ ایسے رنگ میں کہ ہمیں جہاں بھجوایا جائے ہم وہاں چلے جائیں گے اور وہاں سلسلہ کی ہدایت کے ماتحت تجارت کریں گے۔ اس رنگ میں ہمارے مبلغ سارے ہندوستان میں پھیل جائیں گے۔ وہ تجارت بھی کریں گے اور تبلیغ بھی۔
(الفضل 11؍اکتوبر 1945ء ص6)
وقف تجارت کے تحت واقفین تجارت کو مختلف مقامات پر متعین کیا گیا جہاں سے وہ دفتر کی ہدایات کے ماتحت تجارت کرتے اور اپنی باقاعدہ رپورٹیں بھجواتے تھے۔ اس وقف کے تحت سرمایہ واقفین خود لگاتے تھے۔ (الفضل 7 نومبر 1945ء ص4 کالم 4)
طلباء کو وقف کی تحریک
قیام پاکستان کے ابتدائی چند سالوں میں جہاں انڈونیشیا، سیلون اور افریقہ وغیرہ ممالک کے احمدی جوانوں میں وقف زندگی کی طرف رجحان پہلے سے بڑھ گیا وہاں پاکستان میں اس کی طرف بتدریج توجہ کم ہوگئی اور آہستہ آہستہ اس کا احساس مٹنے لگا حتیٰ کہ 1954ء میں صرف ایک پاکستانی احمدی نوجوان مدرسہ احمدیہ میں داخل ہوا۔ جس کی ایک وجہ یہ ہوئی کہ تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ کے سابق ہیڈ ماسٹر حضرت سید محمود اللہ شاہ صاحب مرحوم سال بھر کوشش کرتے رہتے تھے اور حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ کی خدمت بابرکت میں یہ اطلاع بھی پہنچاتے رہتے تھے کہ میں نے اتنے طلباء سے وقف کا وعدہ لیا ہے مگر ان کے بعد یہ التزام و اہتمام نہ رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ پورے ملک میں صرف ایک احمدی نوجوان کو وقف کرنے کی توفیق مل سکی۔ اس تشویش انگیز صورتحال کا سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے فوری نوٹس لیا اور 8 اور15؍ اکتوبر 1954ء کے خطبات وقف زندگی کی تحریک کے لئے وقف کردیئے۔ جن میں جماعت کے سامنے اصل حقائق رکھے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول کے اساتذہ اور تعلیم الاسلام کالج کے احمدی پروفیسروں کو ہدایت فرمائی کہ وہ ہمیشہ ہی طلباء کو دین کی خاطر زندگیاں وقف کرنے کی تحریک کرتے رہیں۔ نیز جماعت کو تلقین فرمائی کہ وہ ضرورت وقت کو سمجھیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرکے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو وقف کریں اور اتنی کثرت سے کریں اگر دس نوجوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سو نوجوان پیش کرے۔
15؍اکتوبر کے خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے آیت قرآنی ولتکن منکم امۃٌ یدعون الیٰ الخیر (آل عمران:105) کی روشنی میں واضح کیا کہ دینی جماعتیں وقف کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتیں۔ چنانچہ حضور نے صحابۃ النبیؐ کی مثال دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’بغیر وقف کے دین کا کام کرنا مشکل ہے جس جماعت میں وقف کا سلسلہ نہ ہو وہ اپنا کام کبھی مستقل طور پر جاری نہیں رکھ سکتی ہم نے تو وقف کی ایک شکل بنا دی ہے ورنہ زندگی وقف کرنے والے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں بھی موجود تھے۔
حضور نے خطبہ کے آخر میں تحریک فرمائی کہ:۔
’’تم ضرورت وقت کو سمجھو اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرکے اپنے اپنے خاندان کے نوجوانوں کو وقف کرو اور یہ وقف اتنی کثرت سے ہونا چاہئے کہ اگر دس نوجوانوں کی ضرورت ہو تو جماعت سو نوجوان پیش کرے‘‘۔ (الفضل 20؍اکتوبر 1954ء ص6,4)
حضرت مصلح موعودؓ کی اس تحریک پر کئی مخلص خاندانوں نے لبیک کہا اور متعدد احمدی نوجوانوں نے اپنی جانیں اپنے مقدس امام کے حضور پیش کردیں۔
صدر انجمن احمدیہ کے لئے تحریک واقفین
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے 1955ء کے شروع میں تحریک فرمائی کہ مخلص احباب تحریک جدید کے علاوہ صدرانجمن احمدیہ کے لئے بھی اپنی زندگیاں وقف کریں۔ فرمایا:
’’احباب کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ اب تک صرف تحریک جدید کے لئے واقفین لئے جاتے تھے۔ اب ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ صدر انجمن کے لئے بھی واقفین زندگی کی تحریک کی جائے۔ پس اس بارہ میں مَیں اعلان کرتا ہوں کہ مخلص احباب اپنے آپ کو سلسلہ کی خدمت کے لئے پیش کریں۔ عام راہنمائی کے لئے یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ مندرجہ ذیل قسم کے احباب کارآمد ہو سکیں گے:۔
اول: ایم اے ایل ایل بی۔ ڈاکٹر
دوم: بی اے بی ٹی
سوم: ایسے افراد جن کو انتظامی کاموں کا تجربہ ہو۔ خواہ پنشنر ہوں۔ چہارم: ایسے احباب جو تجارتی یا صنعتی دلچسپی رکھتے ہوں۔ خواہ مڈل تک کی تعلیم ہو۔ گزارہ کے متعلق ہر ایک واقف کو صدر انجمن احمدیہ اطلاع دے گی کہ کس اصل پر وہ گزارہ دے سکتی ہے۔
اس تحریک پر کئی مخلصین جماعت نے اپنی زندگیاں اپنے پیارے امام کے حضور پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ (الفضل 8 فروری 1955ء ص3)
قادیان کے لئے واقفین
حضرت مصلح موعودؓ نے 1956ء میں قادیان میں سلسلہ کے کاموں کے لئے وقف کی تحریک فرمائی۔
’’قادیان میں کارکنان کی سخت ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ہندوستان میں پیدا کیا۔ اس لئے یہ ہندوستانیوں کا حق ہے کہ وہ سلسلہ کے کاموں کے لئے قربانیاں کریں۔ اس لئے تمام جماعتوں کی اطلاع کے لئے لکھا جاتا ہے کہ اول ڈاکٹر۔ دوم گریجویٹ۔ سوم میٹرک پاس اگر اپنی زندگیاں ساری عمرکے لئے نہیں تو دس سال کے لئے وقف کریں تاکہ ان کو قادیان میں رکھ کر دینی تعلیم دلائی جائے اور پھر سلسلہ کے کاموں پر لگایا جائے‘‘۔
(الفضل 16 مارچ 1956ئ)
یہ واقفین زندگی بڑے ہی سخت جان ہیں
ہزار مشکلات میں بھی حوصلے کی کان ہیں
نہ پوچھ ان کے حوصلوں کی ہمتوں کی رفعتیں
کہ پست ان کے سامنے زمین و آسمان ہیں
(عبدالحمید خان شوق۔ الفضل 6 جون 2006ئ)

تبلیغی تحریکات
حضرت مصلح موعودؓ نے منصب خلافت سنبھالتے ہی پہلی شوریٰ میں 12؍اپریل1914ء کو جو ایجنڈا جماعت کے سامنے رکھا اس میں سب سے بلند مقام تبلیغ کو حاصل ہواتھا۔
آپ نے مجلس شوریٰ کے سامنے’’منصب خلافت‘‘ کے موضوع پر معرکتہ الآاء تقریر فرمائی اور ابراہیمی دعا و ابعث فیھم رسولا کی روشنی میں نہایت لطیف پیرائے میں مقام خلافت، فرائض خلافت اور تزکیہ نفوس کے طریق پر روشنی ڈالی اور خلافت اور انجمن سے متعلق مسائل پر سیر حاصل بحث کی اور فرمایا:۔
’’پہلا فرض خلیفہ کا تبلیغ ہے۔جہاں تک میں نے غور کیا ہے میں نہیں جانتا کیوں بچپن ہی سے میری طبیعت میں تبلیغ کا شوق رہا ہے اور تبلیغ سے ایسا انس رہا ہے کہ میں سمجھ ہی نہیں سکتا ۔میں چھوٹی سی عمر میں بھی ایسی دعائیں کرتا تھا اور مجھے ایسی حرص تھی کہ اسلام کا جو کام بھی ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو۔ میںاپنی اس خواہش کے زمانہ سے واقف نہیں کہ کب سے ہے میں جب دیکھتا تھا اپنے اندر اس جوش کو پاتا تھا اور دعائیں کرتا تھا کہ اسلام کا جو کام ہو میرے ہی ہاتھ سے ہو پھر اتنا ہو اتھا کہ قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ ہو جس میں اسلام کی خدمت کرنے والے میرے شاگرد نہ ہوں۔میں نہیں سمجھتا تھا اور نہیں سمجھتا ہوں کہ یہ جوش دین کی خدمت کا میری فطرت میں کیوں ڈالا گیا۔ہاں اتنا جانتا ہوں کہ یہ جوش بہت پرانا رہا ہے۔ غرض اسی جوش اور خواہش کی بناء پر میں نے خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ میرے ہاتھ سے تبلیغ اسلام کا کام ہو اور میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے میری ان دعائوں کے جواب میں بڑی بڑی بشارتیں دی ہیں … پس آپ وہ قوم ہیں جس کو خدا نے چن لیا اور یہ میری دعائوں کا ایک ثمرہ ہے جو اس نے مجھے دکھایا۔ اس کو دیکھ کر میں یقین رکھتا ہوں کہ باقی ضروری سامان بھی وہ آپ ہی کرے گا اور ان بشارتوں کو عملی رنگ میں دکھادے گااور اب میں یقین رکھتا ہوں کہ دنیا کو ہدایت میرے ہی ذریعے ہوگی اور قیامت تک کوئی زمانہ ایسا نہ گزرے گا جس میں میرے شاگرد نہ ہوں گے ۔کیونکہ آپ لوگ جو کام کریں گے۔وہ میرا ہی کام ہوگا‘‘۔
پھر اپنی سکیم کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا۔
’’میں چاہتا ہوں کہ ہم میں ایسے لوگ ہوں جو ہر ایک زبان کے سیکھنے والے اور پھر جاننے والے ہوں۔ تاکہ ہم ہر ایک زبان میں آسانی کے ساتھ تبلیغ کرسکیں اور اس کے متعلق میرے بڑے بڑے ارادے اور تجاویز ہیں اور میں اللہ تعالیٰ کے فضل پر یقین رکھتا ہوں کہ خدا نے زندگی دی اور توفیق دی اور پھر اپنے فضل سے اسباب عطا کئے اور ان اسباب سے کام لینے کی توفیق ملی تو اپنے وقت پر ظاہر ہو جاویں گے۔ غرض میں تمام زبانوں اور تمام قوموں میں تبلیغ کا ارادہ رکھتا ہوں ‘‘۔
(منصب خلافت۔انوارالعلوم جلد 2 ص35,34)
اس مجلس نے حضور کے ارشاد کے روشنی میں تفصیلی تجاویز تیار کیں پھر ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے حضور نے ایک انجمن کی بنیاد رکھی جس کا نام اپنے ایک رؤیا کی بناء پر’’انجمن ترقی اسلام‘‘رکھا۔
یہ انجمن اپنے نام کی طرح خدا کے فضل سے اسلام کی ترقی اشاعت کا نہایت موثر ذریعہ ثابت ہوئی برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں اس انجمن کا نام ہمیشہ قائم رہے گا۔یہی وہ بابرکت ادارہ تھا جس نے ایک عرصہ تک دنیا میں تبلیغ کی ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالے رکھی ۔یہاں تک کہ پہلے صدر انجمن احمدیہ اور پھر 1945ء میں تحریک جدید نے بین الاقوامی سطح پر تبلیغ کا یہ کام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
تبلیغ کی اس سکیم کے لیے مالی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:۔
اللہ تعالیٰ نے اس کام کو پورا کرنے کے لئے میرے دل میں ڈالا ہے کہ میں اسلام و احمدیت کی اشاعت کے لئے خاص جدو جہد کروں اور میں نے فی الحال اندازہ لگایا ہے کہ اس کام کا ایک سال کا خرچ بارہ ہزار روپیہ ہوگا۔میں نے روپیہ کے انتظام کے لئے ایک کمیٹی مقرر کی ہے۔جس میں مجلس معتمدین کے کل وہ ممبر ان شامل ہوں گے جو بیعت کرچکے ہیں اور ان کے علاوہ کچھ اوردوست بھی شامل کئے جائیں گے۔
…میں نے بہت دعائوں کے بعد اس بات کا اعلان کیا ہے اور اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ میری دعائوںکو ضرور قبول کرے گااور خود اشاعت اسلام کے لئے سامان کردے گا اور جو لوگ اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں گے ان پر خاص فضل فرمائے گا۔
میرے دوستو بارہ ہزار روپیہ سالانہ کی رقم بظاہر بہت معلوم ہوتی ہے۔لیکن جس رب نے مجھے اس کام پر مقرر کیا ہے اس کے سامنے کچھ بھی نہیں وہ بڑے خزانہ والا ہے۔وہ خود آپ لوگوں کے دل میں الہام کرے گااور آپ ہی اس کے لئے سامان کردے گا‘‘۔ (انوارالعلوم جلد2 ص73)
حضور نے یہ اعلان کاتب کو دینے سے پہلے جب درس قرآن کے وقت سنایا تو اللہ تعالیٰ نے جماعت قادیان کے دلوں میں ایسا جوش پیدا کر دیا کہ اس نے دوسرے ہی دن عام جلسہ کرکے تین ہزار کے قریب وعدے لکھوائے اور اعلان کی اشاعت سے پہلے ہی پانچ سو روپے سے زائد وصول بھی ہوگئے۔بعض مخلصین نے اپنی ساری زمین تبلیغ کے لئے وقف کردی۔بعض نے اپنا کل اندوختہ نذر کردیا۔ (الفضل 2 مئی 1914ء ص11)
کئی دوستوں نے اپنی ایک ایک ماہ کی تنخواہ پیش کردی۔ عورتوں نے بھی اس مالی قربانی کی پہلی تحریک میں مردوں کی طرح حصہ لیا۔حضرت اماں جان نے ایک سو روپیہ دیا۔
(الفضل 27؍اپریل 1914ء ص 1)
بعض مستورات نے اپنے زیور تک پیش کر دئیے۔ (الفضل 29؍اپریل1914ء ص1)
حضرت مصلح موعود کو اہل قادیان کی اس شاندار قربانی سے پہلے ہی دکھا دیا گیا تھا کہ ’’ایک شخص عبدالصمد کھڑا ہے اور کہتا ہے مبارک ہو قادیان کی غریب جماعت تم پر خلافت کی رحمتیں یا برکتیں نازل ہوتی ہیں‘‘۔ (منصب خلافت۔انوارالعلوم جلد2ص 47)
کلاسوں کا اجرائ:
آغاز خلافت ثانیہ میں مدرسہ احمدیہ میں تعلیم پانے والے مبلغین کے میدان عمل میں آنے کے لئے ابھی کچھ وقت درکار تھا۔مگر جماعتی حالات کا تقاضا تھا کہ ملک میں تبلیغ کا کام جلد سے جلد تیز سے تیز تر کر دیا جائے۔حضرت مصلح موعود نے اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے تبلیغی کلاسیں جاری کئے جانے کی ہدایت فرمائی۔یہ کلاسیں مسجد مبارک اور مسجد اقصیٰ میں دو وقت لگتی تھیں اور حضرت قاضی امیر حسین صاحبؓ حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ۔ حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ۔حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصریؓ اور حضرت صوفی غلام محمد صاحبؓ پڑھاتے تھے۔
(الفضل 27؍اپریل1914ئ)
آنریری مبلغین کے لئے تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح ؓ کے حکم سے تبلیغ کے کام کو ملک کے طول و عرض میں زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کے لئے نومبر1916ء آنریری مبلغین کے تقرر کی تحریک ہوئی۔ (الفضل 25نومبر1916ئ)
جس پر کئی احمدیوں نے لبیک کہا۔ (الفضل 13 جنوری 1917ئ)
خواتین کے لئے تبلیغ فنڈ کی تحریک
حضرت مصلح موعودؓ نے دسمبر1916ء میں سلسلہ احمدیہ کی خواتین کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ
’’اس وقت مرد اندازاً آٹھ دس ہزار روپیہ ماہوار کا خرچ برداشت کر رہے ہیں۔ جن سے مختلف ضروریات دینی کو پورا کیا جاتا ہے اور سر دست مردوں کی جماعت پر اتنا بوجھ ہے کہ وہ اب زیادہ بوجھ برداشت نہیں کرسکیں گے۔ولائت کے اخراجات تبلیغ بڑھ رہے ہیں اور اس وقت پانچ سو روپیہ ماہوار کا اندازہ کیا جاتا ہے کہ جس سے وہاں گزارا ہوسکتا ہے … عورتیں اپنے ذمہ یہ پانچ سو کی رقم لے لیں … اس سے ان کا یہ عہد بھی پورا ہو جائے گا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گی اور جو لوگ اس کے وجود کو پیش کر کے اسلام سے لوگوں کو بدظن کرتے ہیں۔ان کی اس کاروائی کا جواب بھی ہو جائے گا۔ کیونکہ جب ولائت کے لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ مسلمان عورتوں نے وہاں لوگوں کی ہدایت کے لئے ایک تبلیغی وفد بھیجا ہے۔تو ان کو فوراً معلوم ہو جائے گا کہ یہ جو ہمیں سنایا جاتا تھاکہ اسلام میں عورتیں جانوروں کی طرح سمجھی جاتی ہیں اور روحانی ترقیات کا دروازہ ان کے لئے بند ہے یہ بالکل غلط تھا کیونکہ مسلمان عورتیں نہ صرف خود دین پر قائم ہوتی ہیں بلکہ وہ تو ہزاروں کوسوں پر ہمیں بھی اسلام کی طرف بلانے کے لئے وفد بھیج رہی ہیں۔یہ ایک عملی چوٹ ہوگی جو جھوٹ بولنے والوں کے طلسم کو آناً فاناً توڑ دے گی اور اہل یورپ کی آنکھیں اس بات کو معلوم کرتے ہی کھل جائیں گی اور وہ معلوم کرلیں گے کہ صرف صداقت سے محروم رکھنے کے لئے انہیں دھوکہ دیا جاتا تھا۔ پھر جس قدر لوگ ایمان لائیں گے ۔ان کا ثواب تمہارے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا‘‘۔
آپ نے ہدایت فرمائی ’’ایک اشتہار بھی عورتوں کی طرف سے انگریزی میں ترجمہ کرکے شائع کردیا جائے‘‘۔
نیز فرمایا:۔
چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حکم ہے کہ ہر ایک احمدی لنگر کے لئے چندہ دے ۔اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ سب چندہ میں سے دسواں حصہ لنگر کے فنڈ میں منتقل کر دیا جایا کرے اور باقی تبلیغ ولائت پر خرچ ہو‘‘۔
تحصیل چندہ کے متعلق فرمایا:۔
’’ہر جگہ کی عورتیں اپنے ہاں جلسہ کریں اور ایک اپنی سیکرٹری مقرر کریں۔جو ماہوار چندہ سب سے لکھوا کے اور باقاعدہ طور پر یہاں بھجوادیا کرے۔ اگر کسی جگہ ایسی کارکن عورت نہ ہو تو مرد سیکرٹری ہیں۔ خاوندوں، باپوں،،بھائیوں اور بیٹوں کے ذریعے عورتوں کا چندہ وصول کریں۔وہ الگ جمع ہو اور الگ ہی بھیجا جایا کرے‘‘۔
’’گائوں کی عورتیں یہ انتظام کرسکتی ہیں کہ ایک آٹا فنڈ قائم کرلیں اور روزانہ ایک مٹھی آٹے کی الگ کرکے ایک برتن میں جمع کردیا کریں۔جو ہفتہ وار جمع ہو کر عورتوں کے تبلیغ فنڈ میں جمع کیا جائے اور فروخت کرکے اس کی قیمت بھجوا دی جایا کرے‘‘۔ (ضمیمہ الفضل 16دسمبر1916ئ)
اللہ تعالیٰ نے جماعت کی عورتوں کو توفیق دی کہ وہ حضور کی تحریک پر لبیک کہیں۔ چنانچہ انہوں نے اخلاص کا بہترین نمونہ پیش کرکے اس خرچ کو برداشت کیا۔جو ان کے امام نے ان کے ذمہ لگایا تھا۔
تحریری خدمات کی تحریک
1917ء میں مخالفین نے احمدیت کے خلاف کافی لٹریچر شائع کیا اس کے جواب میں حضور نے 26؍اکتوبر1917ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت کو قلمی خدمت کے ذریعہ تبلیغ کی تحریک کرتے ہیں فرمایا:۔
’’آج صرف تقریروں کا زمانہ نہیں، بلکہ تحریر کا ہے اور تحریر سے ایک شخص دور دور تک ہلچل ڈال سکتا ہے۔ اس زمانہ میں مطابع کی ایجاد اور کاغذ کی کثرت نے حملہ کے طریق کو بدل دیا ہے اور جس طرح شرارت کے اسباب زیادہ ہوگئے ہیں۔ اس طرح ہدایت کے سامان بھی بہت وسیع ہوگئے ہیں۔ پس زبانی طور پر تبلیغ کا کام کرنے کی بجائے یہ طریق زیادہ مؤثر ہے۔ اس وقت ہمارے مخالف انہی سامانوں کے ساتھ اُٹھے ہیں۔ ستارہ صبح۔ذوالفقار۔اہلحدیث وغیرہ اخباروں میں حملے ہورہے۔ کئی انجمنیں ہیں جو ٹریکٹ ہمارے خلاف شائع کرتی ہیں اور ان ٹریکٹوں کی بیسیوں تک نوبت پہنچ گئی ہے جن کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک وہ وقت تھا ہمارا قرضہ دشمنوں کے ذمہ ہوتا تھا۔لیکن اب ہمارے ذمہ ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ آجکل جو لوگ لکھ سکتے ہیں۔انہوں نے فرض کفایہ کی طرح دین کی خدمت سمجھ لیا ہے۔ وہ کہتے ہیں ہم میں سے فلاں فلاں جو کام کر رہے ہیں۔ ہمیں کیا ضرورت ہے۔ حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مجموعی طور پر مخالفین کا مقابلہ کیا جائے۔ اس لئے میں تمام دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ سستی اور غفلت کو چھوڑ دیں اور ہر ایک ٹریکٹ، اشتہار، اخبار خواہ وہ غیر احمدیوں کے ہوں یا غیر مبائعین کے یا عیسائیوں کے یا آریوں کے غرض کسی طرف سے ہوں ۔ان کا جواب دیا جائے اور ان پر اعتراضات کئے جائیں تاکہ دشمن کو حملہ کا پہلو چھوڑ کر دفاع کاطریق اختیار کرنا پڑے۔ (خطبات محمود جلد 5ص580)
9نومبر1917ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے تبلیغ کے لئے ابتدائی اور ضروری معلومات کا نصاب بھی بیان فرمایا اور ان پر عبور حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’ہماری جماعت نے اپنے ذمہ لیا ہے۔بلکہ خدا نے ان کے ذمہ ڈالا ہے کہ وہ تبلیغ اسلام کرے۔ پس جماعت کے لوگوں کو چاہئے کہ پہلے تبلیغ کے اصل کو پورا کریں۔تمام ضروری علوم کو حاصل کریں۔جن کی تبلیغ کی ضرورت ہے۔غیر احمدیوں کے لئے تین چار مسئلہ ہیں۔1۔وفات مسیح2۔آمد مسیح کا ثبوت قرآن و حدیث سے3۔راستبازوں کی پہچان کے معیار4۔پیشگوئیوں کے متعلق خدا تعالیٰ کی سنت کیا ہے۔5۔ہر قسم کی نبوت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بند ہوگئی یا کوئی قسم جاری بھی ہے۔ یہ پانچ مسائل ہیں۔پہلا مسیح فوت ہوچکا ہے ۔دوسرا اسی اُمت میں سے ہے۔ اس کی تائید قرآن کریم اور فلاں فلاں احادیث سے ہوتی ہے۔ پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا طریقہ کیا ہے۔
ان سب مسائل کیلئے 100آیات اور احادیث سے زیادہ نہیں بنتی ہوں گی ان کو اچھی طرح سمجھ لے ۔زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ میں انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے۔اگر پورا وقت نہ دے سکے۔صرف ڈیڑھ دو گھنٹہ بوجہ اپنے کام کاج کی مصروفیت کے دے سکے۔تو پانچ چھ مہینے میں اچھی طرح خوب یاد کر سکتا ہے۔اگر غور کریں تو بہت سا فرصت کا وقت محض لغو باتوں میں بہت سے ہیں جو صرف کر دیتے ہوں گے۔ وہ اسی وقت کو جو ایسی باتوں میں خرچ کرتے ہیں جن کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ اس دین کے علم حاصل کرنے میں لگائیں۔تو وہ بخوبی اٹھا سکتے ہیں اور ان کے کام کاج میں کچھ حرج واقع نہیں ہوگا۔ (خطبات محمود جلد5ص587)
اچھوت اقوام میں تبلیغ کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو ایک عرصہ سے یہ خیال تھا کہ ہندوستان کی اچھوت اقوام میں تبلیغ کی جاوے۔تبلیغ کے عام فریضہ کے علاوہ آپ نے یہ بھی سوچا کہ ہندوستان میں ان قوموں کی تعداد کئی کروڑ ہے اور ہندو لوگ انہیں مفت میں اپنائے بیٹھے ہیں۔ پس اگرا ن قوموں میں احمدیت کی اشاعت ہو اور وہ احمدی ہوجائیں تو ان کی اپنی نجات کے علاوہ اس سے اسلام کو بھی بھاری فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ چنانچہ آپ نے اپریل1922ء کے آغاز میں ایک سکیم کے مطابق پنجاب کی اچھوت قوموں میں تبلیغ شروع فرمادی اور ان کے لئے ایک خاص عملہ علیحدہ مقرر کردیا۔ آپ کی اس کوشش کو خدا نے جلد ہی بار آور کیا اور تھوڑے عرصہ میں ہی کافی لوگ حق کی طرف کھنچ آئے اور بہت سے مذہبی سکھ، بالیکی اور دوسرے اچھوت احمدیت میں داخل ہوئے اس رو کا سب سے بڑا زور 1923-24ء میں تھا۔جبکہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ قومیں ایک انقلابی رنگ میںپلٹا کھائیں گی۔ مگر اس وقت بعض خطرات محسوس کرکے یہ سلسلہ دانستہ مدہم کردیا گیا اور انفرادی تبلیغ پر زور دیا جانے لگا اور خدا کے فضل سے اس کے اچھے نتائج پیدا ہوئے۔ (سلسلہ احمدیہ ص373)
ابتداء میں یہ کام شیخ عبدالخالق کے ذریعہ سے مختصر پیمانہ پر قادیان سے شروع کیا گیا۔ دو اڑھائی سال میں جو اچھوت حلقہ بگوش احمدی ہوئے ان کے ذریعہ سے ارد گرد کے دیہات میں جدوجہد جاری کی گئی اور پھر پورے ملک میں ان سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔ 1928ء سے مکرم گیانی واحد حسین صاحب اچھوت اقوام کے طلباء کی تعلیم و تدریس کے لئے مقرر ہوئے ان کے بعد مہاشہ فضل حسین صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خاص ہدایات کے ماتحت عظیم الشان لٹریچر پیدا کیا جس سے اچھوتوں کو بیدار کرنے اور انہیں اسلام کے قریب لانے میں بھاری مدد ملی اس سلسلہ میں ’’اچھوتوں کی درد بھری کہانیاں‘‘،’’اچھوتوں کی حالت زار‘‘، ’’وید شاست اور اچھوت ادھار‘‘، ’’اچھوت ادھار کی حقیقت یا ہندو اقتدارکے منصوبے‘‘ (حصہ اول) خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ آخری کتاب مشہور اچھوت لیڈر ڈاکٹر امبیدکر کی فرمائش پر لکھی گئی تھی اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کر دیا گیا۔ڈاکٹر امبیدکر اس لٹریچر سے بہت متاثر تھے۔ انہوں نے چودھری مشتاق احمد صاحب باجوہ سے لندن میں ایک ملاقات کے دوران میں کہا کہ اگر میں کبھی مسلمان ہوا تو احمدی جماعت میں ہی داخل ہوں گا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ہندوستان میں صوبہ پنجاب کے بعد بنگال کی طرف بھی توجہ فرمائی اور صوفی عبدالقدیر صاحب نیاز بی اے کو ابتدائی سروے کے لئے بھجوایا۔ جنہوں نے بڑی حکمت عملی سے کام لے کر ایک مفصل سکیم پیش کی۔ جس پر وہاں بھی یہ کام ہونے لگا۔
(رپورٹ مجلس مشاورت 1928ء ص201)
انسداد شدھی کی تحریک
1923ء کے دوران آریوں نے یہ سکیم تیار کی کہ ہندوستان کے سات کروڑ مسلمانوں کو ہندو بنالیا جائے۔ اس کے لئے انہوں نے چندے جمع کئے تنظیمیں قائم کیں۔ اخبارات نکالے اور پروپیگنڈا کی ایک مشینری حرکت میں آئی۔ ملکانہ کے علاقہ میں چار لاکھ سے زائد ایک قوم نے ہندومت کو قبول کر لینے کے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حضور کو علم ہوا تو اس شدھی کی تحریک کا وسیع پیمانہ پر مقابلہ کرنے کے لئے ایک زبردست سکیم تیار کی اور آپ نے یہاں تک تہیہ کرلیاکہ ’’میری کل جماعت کی جائیداد تخمیناً دو کروڑ روپیہ کی ہے۔ اگر ضرورت پڑی تو یہ سب املاک اور اموال خدا کی راہ میں وقف کرنے سے میں اور میری جماعت دریغ نہ کریں گے‘‘۔ اس عظیم سکیم کے ماتحت کام کرنے کے لئے افراد اور اموال کی ضرورت تھی۔ حضور نے اپنے خدام کو آواز دی تو وہ سینکڑوں کی تعداد میں حاضر ہوگئے۔
چنانچہ حضور نے 7مارچ 1923ء کو درس القرآن سے قبل اعلان فرمایا کہ جماعت احمدیہ فتنہ ارتداد کے خلاف جہاد کا علم بلند کرنے کی غرض سے ہر قربانی کے لئے تیار ہوجائے۔
(انوارالعلوم جلد7ص169)
اس کے بعد 9مارچ1923ء کو خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ فتنہ ارتداد کے مٹانے کے لئے فی الحال ڈیڑھ سو احمدی سرفروشوں کی ضرورت ہے۔ جو اپنے اور اپنے لواحقین کی معاش کا انتظام کر کے میدان عمل میں آجائیں۔چنانچہ آپؓ نے فتنہ ارتداد کی وسعت بیان کرتے ہوئے اور جماعت کو اپنی سکیم کے ایک حصہ سے آگاہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔
’’ہمیں اس وقت ڈیڑھ سو آدمیوں کی ضرورت ہے جو اس علاقہ میں کام کریں اور کام کرنے کا یہ طریق ہو کہ اس ڈیڑھ سو کو تیس تیس کی جماعتوں پر تقسیم کردیا جائے اور اس کے چار حصہ بیس بیس کے بنائے جائیں اور تیس آدمیوں کو ریزرو رکھا جائے۔کہ ممکن ہے کوئی حادثہ ہو… اس ڈیڑھ سو میں سے ہر ایک کو …فی الحال تین مہینہ کے لئے زندگی وقف کرنی ہوگی۔ … ہم ان کو ایک پیسہ بھی خرچ کے لئے نہیں دیں گے۔اپنا اور اپنے اہل وعیال کا خرچ انہیں خود برداشت کرنا ہوگا۔… سوائے ان لوگوں کے جن کو ہم خود انتظام کرنے لئے بھیجیں گے۔ان کو بھی جو ہم کرایہ دیںگے وہ تیسرے درجے کا ہوگا۔ چاہے وہ کسی درجہ، کسی حالت کے ہوں اور اخراجات بہت کم دیں گے۔ ان لوگوں کے علاوہ زندگی وقف کرنے والے خود اپنا خرچ آپ کریں گے۔ اپنے اہل و عیال کا خرچ خود برداشت کریں گے۔ البتہ ڈاک کا خرچ یا وہاں تبلیغ کا خرچ اگر کوئی ہو گا تو ہم دیں گے … اس کے لئے جماعت کو پچاس ہزار روپیہ دینا ہوگا۔ ایسے کاموں کے لئے جو تبلیغ وغیرہ کے ہوں گے۔باقی مبلغین اسی رنگ میں جائیں گے وہاں اپنے اخراجات خود اٹھائیں گے۔ … جو لوگ ملازمتوں پر ہیں وہ اپنی رخصتوں کا خود انتظام کریں اور جو ملازم نہیں اپنے کاروبار کرتے ہیں۔… وہاں سے فراغت حاصل کریں اور ہمیں درخواست میں بتائیں کہ دو چار سہ ماہیوں میں سے کس سہ ماہی میں کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔
(خطبات محمودجلد8ص37)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 7 اور9 مارچ 1923ء کو جماعت سے جس عظیم الشان جانی و مالی قربانی کا مطالبہ فرمایا اس پر جماعت نے انتہائی والہانہ رنگ میں لبیک کہا اور ڈیڑھ ہزار احمدیوں نے اپنی آنریری خدمات حضور کی خدمت میں پیش کر دیں۔ اس قربانی کے لئے آگے آنے والے ملازم، رؤسا، وکلائ، تاجر، زمیندار، صناع، پیشہ ور مزدور،استاد، طالبعلم، انگریزی خوان،عربی دان،بوڑھے اور جوان غرض کہ ہر طبقہ کے لوگ تھے۔ حتیٰ کہ مستورات اور بچوں تک نے اس جہاد کے لئے اپنا نام پیش کیا۔
چنانچہ لجنہ اماء اللہ نے حضور کی خدمت میں درخواست پیش کی کہ ہمیں راہنمائی فرمائی جائے کہ ہم اس جہاد میں کیا خدمت سرانجام دے سکتی ہیں؟ خواتین نے ملکانہ عورتوں میں تبلیغ کرنے پر آمادگی کا اظہار کیا۔ اس موقعہ پر احمدی بچوں میں بھی اشاعت اسلام کا جوش اور ولولہ پیدا ہوگیا۔ چنانچہ حضور کے بیٹے مرزا منور احمد صاحب جو اس وقت 5سال کے تھے ملکانہ علاقوں میں جانے کے لئے تیار ہوگئے۔ حضرت نواب محمد علی خانؓ صاحب کے فرزند محمد احمد صاحب نے جن کی عمر اس وقت بارہ سال ہوگی اپنی والدہ ماجدہ حضرت نواب مبارکہ بیگمؓ صاحبہ کو لکھا کہ تبلیغ کرنا بڑوں کا ہی نہیں ہمارا بھی فرض ہے۔ اس لئے جب آپ تبلیغ کے لئے جائیں تو مجھے بھی لے چلیں اور اگر آپ نہ جائیں تو مجھے ضرور بھیج دیں۔
جہاں تک انسداد ارتداد کے لئے پچاس ہزار روپیہ چندہ کا تعلق تھا یہ بہت جلد جمع ہوگیا اور جماعت نے اپنی بساط سے بڑھ کر حصہ لیا۔ چندہ میں شرکت کے لے ابتدائً یہ شرط تھی کہ کم از کم ایک سو روپیہ چندہ دینے والے لوگ آگے آئیں۔لیکن بعد میں غریب احمدیوں کی درخواست پر حضور نے یہ شرط اڑا دی اور غریبوں کو بھی اس ثواب میں حصہ لینے کا موقعہ میسر آگیا۔
چندے کے علاوہ احمدی احباب نے مجاہدین کے لئے سائیکل دیئے خصوصاً لاہور کی جماعت نے، ڈاکٹر محمد منیر صاحب آف امرتسر نے دھوپ سے بچانے والے پروٹیکٹر دئیے۔بعض نے ستو کی بوریاں بھیج دیں۔ عید الاضحیہ کا موقعہ آیا تو ہزاروں روپے میدان ارتداد میں ملکانہ قوم کے لئے جانور ذبح کرنے کے لئے بھجوا دئیے۔بعض غریبوں نے جن کے پاس کچھ نقد اثاثہ نہ تھا۔اپنا مکان یا زمین یا جانور بیچ کر اس میں حصہ لیا۔کہتے ہیں کہ مشہور پنجابی شاعر ڈاکٹر منظور احمد صاحب بھیروی نے اپنی بھینس بیچ ڈالی اور میدان ارتداد میں جا پہنچے۔ بھینس اگر چہ خسارے پر بکی۔ مگر ڈاکٹر صاحب نے اس گھاٹے کے سودے پر بھی خوشی منائی۔
مردوں کے علاوہ احمدی عورتوں نے بھی ایثار و قربانی کا ثبوت دیا۔ چنانچہ لجنہ اماء اللہ نے بیس بڑے دوپٹے ان ملکانہ عورتوں کے لئے بھیجے جو ارتداد کے وقت پر ثابت قدم رہیں۔ حضرت اقدس کی صاحبزادی امتہ القیوم نے جن کی عمر اس وقت چھ سال کی ہوگی، اپنا ایک چھوٹا دوپٹہ دیا اور کہا کہ یہ کسی چھوٹی ملکانی کو دیا جائے۔ (تاریخ احمدیت جلد 4ص333)
تحریک شدھی کے خلاف جماعت کی کوششوں کو مسلمان اخبارات اور دانشوروں کی طرف سے زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا اور ہندو بھی عش عش کر اٹھے۔ ان کے بیانات کا ایک حصہ تاریخ احمدیت کی چوتھی جلد میں محفوظ ہے۔
جب آریوں کو پسپا ہونا پڑا تو شدھی کے بانی شردھانند نے بالآخر تحریک شدھی سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ مگر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ جب تک شدھ شدہ مسلمانوں میں ایک فرد بھی باقی ہے ہم یہ ہرگز نہیں بند کریں گے۔ چنانچہ آپ نے علاقہ ارتداد میں مستقل مبلغین مقرر فرما دئیے۔
بالشویک علاقہ میں تبلیغ کی تحریکات
حضرت مصلح موعودؓ نے 9؍اگست1923ء کو مندرجہ بالا عنوان کے تحت ایک مضمون تحریر فرمایا۔ جس میں حضور نے روسی علاقوں میں تبلیغ کرنے والے بعض فدائیوں خصوصاً محمد امین خان صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
میںان واقعات کو پیش کرکے اپنی جماعت کے مخلصوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ تکالیف جن کو ہمارے اس بھائی نے برداشت کیا ہے۔ان کے مقابلہ میں وہ تکالیف کیا ہیں جو ملکانہ میں پیش آرہی ہیں۔پھر کتنے ہیں جنہوں نے ان ادنیٰ تکالیف کے برداشت کرنے کی جرأت کی ہے۔
اے بھائیو! یہ وقت قربانی کا ہے۔کوئی قوم بغیر قربانی کے ترقی نہیں کرسکتی۔آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اپنی نئی برادری کو جو بخارا میں قائم ہوئی ہے۔یونہی نہیں چھوڑ سکتے۔پس آپ میں سے کوئی رشید روح ہے جو اس ریوڑ سے دور بھیڑوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو اور اس وقت تک ان کی چوپانی کرے کہ اس ملک میں ان کے لئے آزادی کا راستہ اللہ تعالیٰ کھول دے۔
(انوارالعلوم جلد7 ص291)
سالانہ ایک لاکھ بیعتوںکی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 13فروری1925ء کو تحریک فرمائی کہ ہر ایک احمدی دل میں عہد کرے کہ اشاعت سلسلہ میں ہمہ تن لگ جائے گا۔نیز فرمایا:۔
’’میرے نزدیک موجودہ ترقی کی رفتار بہت کم ہے۔ جب تک ایک لاکھ سالانہ سلسلہ میں لوگ داخل نہ ہوں ہماری ترقی خطرہ میں ہے۔ ہمیں جلد سے جلد اس بات پر قادر ہونا چاہئے۔ ایک لاکھ سالانہ کی رفتار سے ہم یہ امید کرسکتے ہیں کہ سلسلہ میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے کہ جو اس کام کو جاری رکھ سکیں گے۔ موجودہ حالت میں تو ہم یہ بھی امید نہیں کرسکتے۔ پس جس طرح احباب سب چندہ دیتے ہیں۔ اس طرح ایک دو سال بھی اگر وہ سب اشاعت سلسلہ اور اخلاق کی درستی کی کوشش میں لگ جائیں جس کے ساتھ جماعت کے اندر ایک رو پیدا ہو جائے تو اس طرح ایسی تعداد پیدا ہوسکتی ہے کہ جو کام کو سنبھال سکیں‘‘۔ (خطبات محمود جلد9ص40)
تبلیغی کتب
حضرت مصلح موعودؓ نے کئی والیان ریاست کو تبلیغی خطوط لکھے اور ان کے لئے کتب تصنیف فرمائیں اور تبلیغ کا ایک جدید طریق اختیار کیا۔ان میں سے دو کتب ایسی ہیں جو ہندوستان کے انگریز حکمرانوں کے نام لکھیں اور اس کی اشاعت میں آپ نے احمدیوں کی ایک بڑی تعداد کو شامل فرمایا۔
تحفہ شہزادہ ویلز کی اشاعت کی تحریک:
شہزادہ ویلز جو بعد میں ایڈورڈ ہشتم بنے دسمبر 1921ء میں ہندوستان کے دورہ پر آئے تو حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کے سامنے یہ تجویز پیش فرمائی:۔
’’ہم ان کو جماعت کی طرف سے ایک مناسب تحفظ دیں۔جو ان کی شان کے شایان ہو اور ہماری شان کے بھی شایان ہو اور وہ تحفہ یہی ہو سکتا ہے کہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیں اور حق و صداقت کی ان کو دعوت دیں‘‘۔
اس تحفہ کی اشاعت کے سلسلہ میں فرمایا:۔
میں نے ہر شخص سے ایک آنہ کے پیسہ وصول کئے جانے کی تجویز پیش کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کم سے کم پچیس ہزار آدمی کی طرف سے یہ تحفہ پیش ہو۔گو اس سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔
دوبارہ چندہ کسی سے نہ لیاجائے اور نہ ایک آنہ فی کس سے زیادہ وصول کیا جائے۔ اگر کوئی صاحب اپنی خوشی سے زیادہ دینا بھی چاہیں۔ تب بھی ایک آنہ فی کس سے زیادہ نہ لیا جائے۔ (الفضل 9جنوری1922ئ)
اس تحریک کے بعد حضور نے تحفہ شہزادہ ویلز کے نام سے ایک عظیم الشان کتاب تصنیف فرمائی۔ جس میں آپ نے شہزادہ کو سچائی کا پیغام دیا۔
اس کتاب کو آپ کی تجویز کے مطابق جماعت احمدیہ کے بتیس ہزار سے زائد افراد نے ایک ایک آنہ فی کس آمدنی جمع کرکے شائع کیا اور 27فروری 1922ء کو لاہور میں احمدیہ وفد کے ذریعہ ایک مرصع رو پہلی کشتی میںشہزادہ کے سامنے پیش کیا۔
شہزادہ ویلز نے اس لاثانی تحفہ کو نہایت قدرو احترام کی نگاہ سے دیکھا اور نہ صرف اپنے چیف سیکرٹری کے توسط سے اس کا شکریہ ادا کیا بلکہ یکم مارچ1922ء کو لاہور سے جموں تک کے سفر میں سے مکمل طور پر مطالعہ کیا اور بہت خوش ہوئے اور جیسا کے بعد کی اطلاعات سے معلوم ہوا کہ کتاب پڑھتے پڑھتے بعض مقامات پر ان کا چہرہ گلاب کی طرح شگفتہ ہوجاتا تھا۔ اس طرح ان کے ایڈی کانگ نے یہ بھی بتایا کہ وہ کتاب پڑھتے پڑھتے یکدم کھڑے ہو جاتے تھے۔ چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے صراحتاً عیسائیت سے بیزاری کا اظہار کیا۔
اخبار’’ذوالفقار‘‘(24؍اپریل1922ئ) نے اس کتاب پر یہ ریویو کیا کہ ’’ہم خلیفہ ثانی کی سلسلہ احمدیہ کی اشاعت اسلام میں ہمت کی داد دئیے بغیر نہیں رہ سکتے … تحفہ ویلز کا بہت سا حصہ ایسا ہے جو تبلیغ اسلام سے لبریز ہے اور ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ جس کو دیکھتے ہوئے غیر احمدی ضرور شک کریں گے یہ ضروری ہے کہ ہم اخبارنویسی کے میز پر تعصب کی مالا گلے سے اتار کر رکھ دیتے ہیں۔ اس واسطے اس تحفہ کو دیکھ کر ہم عش عش کر اٹھے۔ (بحوالہ الفضل 8مئی1922ئ)
تحفہ لارڈ ارون:
لارڈ ارون 1926ء میں ہندوستان میں وائسرائے ہو کر آئے اور 1931ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ لارڈارون نہایت خوش خلق،نیک دل اور مذہبی آدمی تھے۔جنہوں نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں اعلیٰ اخلاقی نمونہ پیش کیا۔
لارڈارون جب ہندوستان سے رخصت ہونے لگے تو دوسروں نے تو ان کو مادی تحفے و تحائف پیش کئے مگر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ایک کتاب ’’تحفہ لارڈارون کے نام سے (27مارچ سے 31مارچ1931ء تک)پانچ روز میں تصنیف فرمائی جو احمدیہ وفد نے 8؍اپریل1931ء کو وائسرائے الیگل لاج (دہلی) میں وائسرائے ہند لارڈارون کو نہایت خوبصورت اور خوشنما طشتری میں بطور تحفہ پیش کی۔
اس کتاب میں حضور نے لارڈارون کو سلسلہ احمدیہ کی نسبت گزشتہ نوشتے بتائے اور پھر جماعت احمدیہ کے بائیس بنیادی عقائد بیان کرنے کے بعد خاتمہ میں بتایا کہ ’’بے شک یہ سلسلہ اس وقت کمزور ہے لیکن سب الٰہی سلسلے شروع میں کمزور ہوتے ہیں، شام، فلسطین اور روم کے شہروں میں پھرنے والے حواریوں کو کون کہہ سکتا تھا کہ یہ کسی وقت دنیامیں عظیم الشان تغیر پیدا کردیں گے۔ وہی حال ہمارے سلسلہ کا ہے اس کی بنیادیں خدا تعالیٰ نے رکھی ہیں اور دنیاکی روکیں اس کی شان کو کمزور نہیں بلکہ دوبالا کرتی ہیں کیونکہ غیر معمولی مشکلات پر غالب آنا اور غیر معمولی کمزوری کے باوجود ترقی کرنا الٰہی مدد اور الٰہی نصرت کا نشان ہوتا ہے اور بصیرت رکھنے والوں کے ایمان کی زیادتی کا موجب‘‘۔
لارڈارون نے اس قیمتی تحفہ پر بہت خوشی کا اظہار کرنے اور اس کا زبانی شکریہ ادا کرنے کے علاوہ حضور کے نام ایک تحریری شکریہ بھی ارسال کیا جو تحفہ لارڈارون اردو ایڈیشن کے آخرمیں طبع شدہ ہے۔
جماعت احمدیہ سے تبلیغ کے متعلق عہد
مجلس مشاورت 1927ء کے دوران جماعت کے سامنے کئی اہم امور زیر بحث آئے جن میں ایک بہت بڑا مسئلہ اچھوت اقوام میں تبلیغ تھا۔جس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جماعت کے نمائندوں سے تبلیغ کی مہم جاری رکھنے کا عہد لیا کہ اگر ہمارے جسموں کا ذرہ ذرہ بھی اشاعت میں لگ جائے گا تو ہم تبلیغ بند نہ کریں گے۔ نیز پُر شوکت الفاظ میں فرمایا۔
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے ہمیں دلوں کی عمارتیں بنانے کے لئے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ہمیں اینٹ پتھر کی عمارتوں سے کیا غرض۔ آپ نے یہ بھی فرمایاکہ آئندہ لوگ آئیں گے جو سنگ مرمر کی عمارتیں بنائیں گے ان میں سونے کا کام کریں گے۔ یہ کام ان کے لئے رہنے دو۔آئو ہم دلوں کی عمارتیں بنائیں۔ پس اگر ہمیں ان عمارتوںکو فروخت کرنا پڑے، ان زمینوں کو بیچ ڈالنا پڑے تو کوئی پرواہ نہیں۔ یہ سارا نظام اسی وقت تک ہے جب تک ہم اصل فرض اور مقصد کو پورا کرسکتے ہیںجب ہم سمجھیںکہ اسلام کی عزت اس کی محتاج ہے تو ہمیں ان کے بیچ ڈالنے میں ایک منٹ کے لئے بھی دریغ نہ ہوگا۔ مگر کوئی غیرت مند آدمی پسند نہ کرے گاکہ اس کا مکان باقی رہے اور قوم کی عمارتیں بک جائیں۔اس کی زمین تو باقی رہے لیکن اسلام کی زمین فروخت ہو جائے … اگر صرف آپ لوگ جنہوں نے آج اقرار کیا ہے دین کی خدمت کے لئے کھڑے ہو جائیں تو میں سمجھوں گا اسلام کی فتح کا زمانہ آگیا اور میں دشمن پر فتح پاگیا‘‘۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 1927ء ص(186,183
تبلیغ کے لئے نئے عزم کی تحریک
1927ء میں مشہور ہندو لیڈر پنڈت شردھا نند صاحب کے قتل نے ہندوقوم میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف زبردست آگ لگادی تھی اور پشاور سے لے کر کلکتہ تک کے تمام ہندوئوں نے عزم کرلیا کہ وہ پنڈت شردھانند کاکام بہرکیف جاری کھیں گے اور اپنی جان اور اپنا مال تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس غرض کے لئے ایک ’’شردھانند میموریل فنڈ‘‘ قائم کیا گیا اور ہندو شدھی سبھا نے اپنی سرگرمیاں اور زیادہ تیز کردیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جماعت کے سامنے یہ تشویشناک صورت رکھتے ہوئے بتایا کہ اب دین پر جو حملہ ہوگا۔اس کا دفاع ہمیں کرنا ہوگا۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔
’’ہندوستان میں سپین کی طرح کا مشکل وقت اسلام کے لئے آیا ہوا ہے … یہ جو ہندوئوں کی طرف سے چیلنج دیا گیا ہے اگر احمدی جماعت اس کے جواب کے لئے میدان میں نکل کھڑی ہو تو یقینا دین کی فتح ہے … پس میں احمدی دوستوں سے کہتا ہوں … اگر وہ اس جنگ کے لئے تیار ہوں تو … وہ ایک جان ہوکر مضبوط عزم کے ساتھ کھڑے ہوجائیں اور ایسی بلند آواز اٹھائیں کہ ہر ہندو کے کان میں وہ پہنچے اور کوئی شخص اس آواز کو دبا نہ سکے‘‘۔ (الفضل 6مئی1927ئ)
دیوانہ وار تبلیغ کرنے کا ارشاد
22نومبر1929ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت سے بذریعہ خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا کہ دیوانہ وار تبلیغ احمدیت میں لگ جائو ورنہ آئندہ نسلیں بھی کمزور ہوجائیں گی۔ (الفضل 29نومبر1929ء ص6)
نئے مقامات پر مبلغین کی تقرری کی تحریک
حضرت مصلح موعودؓ نے ملک میں تبلیغ کا دائرہ وسیع تر کرنے کے لئے 4دسمبر 1929ء کو ہدایت فرمائی کہ مبلغین خاص طور پر ان مقامات پر بھجوائے جائیں جہاں ابھی تک کوئی جماعت قائم نہیں ہوئی چنانچہ فرمایا۔
’’ہماری تبلیغ میں ایک روک ہے۔ عام طور پر ہمارے مبلغین انہی مقامات پر جاتے ہیں جہاں پہلے ہی جماعتیں موجود ہیں میں نے سوچا ہے ہر مبلغ کے لئے ایسے مقامات کے دورے لازمی کردئیے جائیں جہاں پہلے کوئی احمدی نہیں۔تا نئی جماعتیں قائم ہوں جس جگہ پہلے ہی کچھ احمدی ہوتے ہیں وہاں پھر جماعت ترقی نہیں کرتی۔کیونکہ لوگوں میں ضد پیدا ہو جاتی ہے لیکن اگر مبلغین کو نئے مقامات پر بھیجا جائے تو ہر ایک کے لئے ماہ ڈیڑھ ماہ میں پانچ سات نئے آدمی جماعت میں داخل کرنا کچھ مشکل نہیں … اور اس طرح پہلی جماعتوں میں بھی از سر نو جوش پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ جب ان کے قرب و جوار میں نئی جماعتیں قائم ہو جائیں تو وہ بھی زیادہ جوش اور سرگرمی سے کام کریں گے‘‘۔
(الفضل 17دسمبر1929ء ص6)
تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے خطبہ جمعہ6فروری1931ء میں فرمایا:۔
میں نے پچھلے سال یہ اعلان کیا تھا کہ جو اضلاع یا جو تحصیلیں ایک ہزار نئے احمدی جماعت میں داخل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے ان کے علاقہ میں ایک مستقل مبلغ رکھنے کا انتظام ہم کر دیں گے لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے اعلان ایسے موقع پر ہوا جب وقت بہت کم تھا اس لئے دوبارہ اس سال کے شروع میں میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اگر کوئی تحصیل ایک سال میں ایک ہزار نئے احمدی پیدا کرے تو اس کے لئے اگر کوئی سارا ضلع اتنی تعداد پوری کرے تو اس کے لئے ہم ایک مستقل مبلغ دے دیں گے۔
(خطبات محمود جلد13ص41)
چالیس سالہ جوبلی:
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اکتوبر، نومبر 1890ء میں مقام مسیحیت کا انکشاف ہوا جس کا اعلان حضور نے شروع1891ء میں ’’فتح اسلام‘‘ میں فرمایا۔اس لحاظ سے 1931ء کے آغاز میںجماعت احمدیہ کی عمر چالیس سال تک پہنچ گئی اور بلوغت تامہ کا پہلا درجہ جماعت کو حاصل ہوا۔یہ چالیس سالہ دور اس شان سے گزرا کہ اس کی ہر دہائی میں احمدیت کو فتح نصیب ہوئی۔پہلے دس سال میں مسیحیت و مجددیت کے خلاف اٹھنے والے طوفان کا رخ پلٹا گیا۔ دوسرے دس سال میں اللہ تعالیٰ نے نبوت کی تشریح و توضیح کا سامان فرمایا۔تیسرے دس سال میں نظام خلافت کو تقویت حاصل ہوئی اور چوتھے دس سال میں بیرونی ممالک میں بکثرت احمدیہ مشن قائم ہوئے اور سلسلہ کی عالمگیرترقی کی بنیادیں رکھ دی گئیں۔
حضرت مصلح موعودؓ نے خدا تعالیٰ کی اس غیر معمولی تائید و نصرت پر جذبات تشکر ظاہر کرنے کے لئے 5جون 1931ء کو ایک اہم خطبہ جمعہ پڑھا اور ارشاد فرمایا کہ
’’یہ ایک قسم کی جوبلی ہے کیونکہ پچاس سال کا عمر پاجا نا بڑی خوشی کی بات ہوا کرتی ہے۔ مگر پہلی بلوغت چالیس سالہ ہے اور ہمیں سب سے پہلے اس بلوغت کے آنے پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ باوجود دشمنوں کی کوششوں کے ہماری جماعت چالیس سال کی عمر تک پہنچ گئی اور میں سمجھتا ہوں ہمیں خاص طور پر اس تقریب پر خوشی منانی چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے قوانین میں سے ایک قانون یہ بھی ہے کہ اگر بندہ اس کی نعمت پر خوشی محسوس نہیں کرتا تو وہ نعمت اس سے چھین لی جاتی ہے اور اگر خوشی محسوس کرے اور اللہ تعالیٰ کی حمد کرے تو زیادہ زور سے اللہ تعالیٰ کے فیضان نازل ہوتے ہیں۔ پس میرا خیال ہے ہم کو اس سال چالیس سالہ جوبلی منانی چاہئے‘‘۔
اس چہل سالہ جوبلی کی بہترین صورت آپ نے یہ بیان فرمائی کہ:
’’سب سے بڑی جوبلی یہ ہے کہ ہم سال حال تبلیغ کے لئے مخصوص کردیںاور اتنے جوش اور زور کے ساتھ تبلیغ میں مصروف ہوجائیں کہ ہر جماعت اپنے آپ کو کم از کم دگنی کرے یہ جوبلی ایسی ہوگی جو آئندہ نسلوںمیںبطور یادگار رہے گی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے اپنی یادگاروں کے قیام کے لئے اینٹوں، پتھروں اور چونے کے محتاج نہیں ہوتے بلکہ وہ دنیا میں روحانیت قائم کرنا چاہتے ہیں اور یہی ان کی بہترین یادگار ہوتی ہے کہ اس مقصد کو پورا کردیا جائے جس کے لئے وہ دنیا میں مبعوث ہوئے‘‘۔
اور فرمایا:۔
’’اس جوبلی کی یادگار کا اس کو حصہ ہی قرار دے لو کہ تمام بالغ احمدی خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کوشش تو یہ کریں کہ ہمیشہ تہجد پڑھیں لیکن اگر ہمیشہ اس پر عمل نہیں کرسکتے تو جمعہ کی رات مخصوص کرلیں اور سب اللہ تعالیٰ کے حضور متفقہ طور پر دعائیں مانگیں‘‘۔
(الفضل 11 جون 1931ئ، خطبات محمود جلد13 ص183,175)
حضور نے 12جون1931ء کو جمعہ کی رات میں التزام سے تہجد پڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار فرمایا کہ اگر جماعت یہ نیکی بطور یادگار پیدا کرے تو عرش الٰہی ہل جائے گا اور دہریت کی رو جو اس وقت دنیا میں جاری ہے رک جائے گی اور بے دینی و الحاد کو شکست ہوجائے گی اور اللہ کی رحمتوں کا نزول شروع ہوجائے گا‘‘۔ (الفضل 18جون1931ئ۔ خطبات محمود جلد13 ص189)
یوم التبلیغ کا آغاز
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ خصوصاً پچھلے کئی سالوں کی جماعت کو اس کی تبلیغی ذمہ داریوں کی طر ف توجہ دلا رہے تھے اور گو اس کا نتیجہ بھی نہایت خوشکن نکل رہا تھا اور خدا کے فضل سے جماعت سُرعت سے ترقی بھی کر رہی تھی مگر چونکہ یہ ترقی نسبتی تھی اور ابھی جماعت کے بہت سے احباب حقیقی طور پر تبلیغ کی طرف متوجہ نہیں ہوئے تھے اس لئے حضور نے 1932ء کے آغاز میں جماعت کو نہایت جوش سے تبلیغ کرنے کے تحریک فرمائی۔ چنانچہ 8 جنوری 1932ء کو خطبہ جمعہ کے دوران ارشاد فرمایا کہ:
’’ضروری ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ کام کریں کیونکہ جب تک ہر سال لاکھوں آدمی ہماری جماعت میں شامل نہ ہوں گے۔اس وقت تک ہم پورے طور پر ترقی نہیں کرسکیں گے۔بالعموم پہلی صدی ہی ایسی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت دنیا میں وسیع طور پر پھیل جاتی ہے اور ہم یہ ترقی حاصل نہیں کرسکتے جب تک لاکھوں آدمی ہر سال ہماری جماعت میں شامل نہ ہوں … الٰہی سلسلہ کی پہلی صدی میں تبلیغ کا کام تو دوستوں کے سپرد ہوتا ہے اور تربیت کا کا م دشمنوں کے سپرد۔ مگر بعدکی صدیوںمیں چونکہ دشمن کم ہوجاتے ہیں اور دشمنوں کے شدائد کی کمی کی وجہ سے تربیت میںنقص آجاتا ہے اس لئے اُس وقت بہت سے جھگڑے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس ہم اگر اس وقت تبلیغ میں سُستی ظاہر کرتے ہیں تو یہ سستی تربیت پر بھی برا اثر ڈالتی ہے اور جماعت اگر تعداد کے لحاظ سے کم ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کی تربیت میںبھی کمی آجاتی ہے۔کیونکہ جب بھی تبلیغ سرد پڑ جائے گی اسی وقت تربیت بھی سرد پڑ جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کے مظالم، دکھ اور تکالیف مومنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور یہ تکالیف ہی ایسی چیزہیں جو اللہ تعالیٰ کی نصرت لا کر مومن کو اللہ تعالیٰ کا عینی مشاہدہ کرا دیتی ہیں۔تب وہ ایمان حاصل ہوتا ہے جو خطرے سے بچاتا ہے اور تمام لغزشوں سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔
پس میں تبلیغ کے لئے اگرچہ پہلے بھی کئی بار احباب کو توجہ دلا چکا ہوں مگر اب پھر توجہ دلاتا ہوں اور دوستوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اپنی سستی کو دور کریں اور اس جوش سے تبلیغ کا کام کریں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال لاکھوں آدمی سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہوجائیں۔
(الفضل 14جنوری1932ئ۔خطبات محمود جلد13ص325)
اس ولولہ انگیز خطبہ کے بعد حضور نے ملک میں تبلیغ احمدیت کا ایک عام رجحان اور حرکت پید اکرنے کے لئے مجلس مشاورت 1932ء میںیہ فیصلہ بھی فرمایاکہ جماعت سال میں دو دفعہ ’’یوم التبلیغ‘‘ منائے۔ ایک ’’یوم التبلیغ‘‘ غیر احمدی مسلمانوں کے لئے مخصوص ہو اور دوسرا غیر مسلموں خصوصاً ہندو اصحاب کیلئے۔ نیز یہ ہدایت فرمائی کہ نظارت دعوۃ و تبلیغ ایسے قواعد بنائے کہ ہر احمدی اس تبلیغ میں مشغول ہوسکے اور اس غرض کے لئے باقاعدہ ایک سکیم بنائی جائے۔ فہرستیں تیار کی جائیں اور اس کے ماتحت احمدی مردوں اور احمدی خواتین غرضیکہ تمام افراد جماعت کی نگرانی کی جائے کہ اس میں کہاں تک حصہ لیا گیا ہے۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 1932ء ص44تا49)
پہلا یوم التبلیغ:
چنانچہ اس فیصلہ کے مطابق جماعت احمدیہ نے ملک بھر میںسب سے پہلا یوم التبلیغ 8؍اکتوبر 1932ء کو پورے جوش و خروش اور والہانہ اور فدائیانہ ذوق و شوق سے منایا اور مخالفین احمدیت کی شر انگیزیوں کے باوجود اس کے نہایت شاندار نتائج برآمد ہوئے جن کی تفصیل سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے مبارک الفاظ میں درج کی جاتی ہے۔حضور نے فرمایا:۔
’’جس غرض کو پورا کرنے کے لئے یہ دن مقرر کیا گیا تھا اس وقت تک جس حد تک نتائج میرے سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت حد تک پوری ہو چکی ہیں اور مخالفوں کی مخالفت ہمارے رستہ میں روک بننے کی بجائے کھاد کا موجب ہوئی ہے ۔بعض دوستوں نے لکھا اور بعض نے بیان کیا ہے کہ جن لوگوں کے پاس جاکر ہم نے دس پندرہ منٹ صرف اپنی آمد کی غرض بتانے میں صرف کرنے تھے انہوں نے دیکھتے ہی کہہ دیا اچھا آپ آج ہمیں تبلیغ کرنے کے لئے آئے ہیں ہم تو پہلے ہی سمجھتے تھے کہ آپ نے ہمیں چھوڑنا نہیں۔ اچھا آئیے سنائیے گویا اس مخالفت سے وہ ہزاروں لاکھوں آدمی جن تک ہماری آواز پہنچنا مشکل تھی یا جن کے گھروں پر جا کر دس پندرہ منٹ اپنی آمد کی غرض سمجھانے میں ہمیں صرف کرنے پڑتے انہیں مخالفوں کی آواز نے پہلے ہی تیار کر دیا۔ ــــــ’’زمیندار‘‘، ’’حریت‘‘ اور مولوی ثناء اللہ صاحب وغیر ہ معاندین نے انہیں بتا دیا کہ فلاں تاریخ کو احمدی تمہارے پاس آئیں گے ان کے پاس وقت چونکہ تھوڑا ہے اس لئے اسے ضائع نہ کرنا ان کی آمد کی غرض ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں اور اس طرح وہ ہزارہا گھنٹے جو احمدیوں کے اپنے آنے کی تمہید میں ضائع ہونے تھے بچ گئے ۔… بہرحال مخالفوں کی مخالفت نے بھی ہمیں فائدہ ہی پہنچایا ہے اور میں سمجھتا ہوں اگر یہ نہ ہوتی تو شاید ہماری تبلیغ اس سے آدھی بھی نہ ہو سکتی جتنی کہ اب۔ … ایک جگہ ہمارے آدمی گئے تو ان میں سے ایک نے اس مکان میں جہاں وہ جا کر بیٹھے باہر سے کنڈی لگا دی تا دوسرے لوگ آکر ان کی باتوں کو نہ سن سکیں۔ لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے اپنے پانچ سات آدمی جو وہاں پہلے سے موجود تھے ان کو خوب تبلیغ کی گئی۔ کنڈی باہر سے لگی رہی اور وہ مجبوراً بیٹھے سنتے رہے۔ میں سمجھتا ہوں اْس وقت کی تبلیغ بھی زیادہ مؤثر ہوئی ہوگی۔ اگر ہمارے آدمی کی طرف سے کنڈی لگائی جاتی تو ان پر اور قسم کا اثر ہوتا وہ اسے شرارت پر محمول کرتے اور بھڑک جاتے لیکن جب ان کے اپنے آدمی کی طرف سے ایسا ہوا تو ہمارے مبلّغین پر غصہ نہیں ہو سکتے تھے بلکہ ان سے گونہ ہمدردی پیدا ہوئی ہو گی تو کچھ دیوانگی ہم سے بھی ہونی چاہئے تھی اور وہ یہ کہ شدید مخالفوں کے گھروں میں جاتے مثلاً مولوی ظفر علی، مولوی ثناء اللہ، مولوی اشرف تھانوی وغیرہ اور ایسے مخالفوں کے مکانوں پر پہنچ کر انہیں تبلیغ کرتے لیکن بہر حال اس سے جو نتائج نکلے ہیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ بہت ہی مفید چیز ہے ۔
(خطبات محمود جلد13ص612و615۔خطبہ فرمودہ21؍اکتوبر1932ئ)
دوسرا یوم التبلیغ:
دُوسرا یوم التبلیغ جو غیر مسلموں کے لئے مقرر کیا گیا تھا بڑی شان و شوکت سے اگلے سال 5مارچ1933ء کو منایا گیا اور احمدیوں نے ہندوئوں، سکھوں اور عیسائیوں اور اچھوتوں تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے پورا دن وقف کیا۔ قادیان میں اس تقریب پر صبح سوا آٹھ بجے کے قریب حضور نے تبلیغ پر جانے والوں کو بیش قیمت ہدایات دیں اور دعا سے رخصت کیا۔ قادیان کے چھوٹے بڑے اصحاب کے قریباً 60 وفود قادیان کے گردونواح کے دس میل کے حلقہ میں تمام دن مصروف تبلیغ میں رہے۔ اس کے علاوہ قادیان کے مقامی غیرمسلموں کے گھروں اور دکانوں میں جاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچایا اور ایک تبلیغی پوسٹر اور 15,16مختلف تبلیغی ٹریکٹ قادیان اور بیرونجات کے لکھے پڑھے لوگوں میں تقسیم کئے گئے ۔چھوٹے بچوں کا ایک جلوس نکالا گیا۔دوپہر کے وقت لوکل کمیٹی کی طرف سے قادیان کے دو سو اچھوتوں کو ہائی سکول کے ہال میں دعوت طعام دی گئی جس میں بزرگان سلسلہ نے تقریریں کیں ۔شام کے وقت چالیس کے قریب ہندو اور سکھ معززین قادیان کو قصر خلافت میں پھلوں کی پارٹی دی گئی جس میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے نہایت لطیف پیرایہ میں صداقت اسلام معلوم کرنے کا یہ طریق بتایا کہ:
’’وہ سچے دل سے دعا کریں اور سارے خیالات دل سے نکال کر خدا کے آگے جھکیں اور کہیں۔ہم ہر طرف سے منقطع ہو کر تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ ہمیں ہدایت عطا کر۔اگرا ب بھی ہماری دُعا نہ سنی گئی تو ذمہ داری ہم پر نہ ہوگی‘‘۔
اس تقریر سے مقامی غیر مسلم بہت متاثر ہوئے اور لالہ دولت رام ممبر سمال ٹائون کمیٹی نے اہل ہنود اور اہل شہر کی طرف سے اس تقریب کے انعقاد پر شکریہ بھی ادا کیا اور مبارک باد بھی پیش کی۔
قادیان کی مستورات نے بھی یوم التبلیغ میں سرگرم حصہ لیا اور ہندو سکھ عورتوں کے علاوہ خاکروب عورتوں کے گھروں میں جاکر تبلیغ کی۔ بعض خواتین نواحی دیہات میں بھی گئیں۔
امرتسر میں غیر احمدی علماء نے ایڑی چوٹی کا زور لگایاکہ احمدیوں کو غیر مسلموں میں تبلیغ نہیں کرنے دیں گے۔ اس مقصد کے لئے احمدیت کے خلاف متواتردو ہفتے تک جلسے کئے گئے۔ایک مقامی انجمن تبلیغ اسلام نے اشتہارات شائع کئے اور ہندوئوں کو اکسایاگیا کہ احمدیوں کی بات نہ سنو کیونکہ ہم ان کو اسلام سے خار ج کرچکے ہیں۔ یہ احمدی 5مارچ کو تمہارے گھروں پر ہلہ بول دیں گے اور فساد کریں گے۔ ہم مسلمان ذمہ دار نہیں ہوں گے مگر اس زبردست مخالفت کے باوجود امرتسر کے احمدیوں نے باقاعدہ تنظیم کے ساتھ الگ الگ گروپ ترتیب دے کر غیر مسلم ایڈیٹروں، مضمون نگاروں، مذہبی پیشوائوں، وکیلوں، ڈاکٹروں، افسروں یا اعلیٰ حکام غرضیکہ ہر طبقہ کے لوگوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا۔
اس موقعہ پر مقامی جماعت نے پانچ ہزار کی تعداد میں (انگریزی،ہندی،گورمکھی کے)اشتہارات ٹریکٹ اور پمفلٹ اور ہینڈ بل تقسیم کئے۔غیرمسلم حضرات بڑی خوش دلی اور محبت و تکریم سے پیش آئے اور تبلیغی لٹریچر بڑی مسرت اور قدردانی سے قبول کیا۔ پنڈت کرتار سنگھ فلاسفر ہندی گورمکھی، سنسکرت اور انگریزی کے فاضل نے کہا کہ میں مسلمانوں کو ڈاکو سمجھتا تھا مگر حضر ت مرزا صاحب کی کتاب اسلامی اصول کی فلاسفی کے ترجمہ ’’دی ٹیچنگ آف اسلام‘‘ نے میرے خیالات کی کایا پلٹ دی ہے۔ اب مجھے اسلام، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور احمدی جماعت سے بڑی عقیدت ہے اور حضرت مرزا صاحب کو ایک بہت بڑا بزرگ رشی مانتا ہوں اور کہا ہم نے تو حضرت مرزا صاحب کے طفیل اسلام کا صحیح فوٹو دیکھا ہے۔
کبیر پنتھیوں کے استھان میں جب اسلام کی خوبیوں اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم کا ذکر کیا گیا۔ توان لوگوں نے جواب دیا کہ زندگی میں آج پہلی دفعہ اسلام کی سچی تعلیم ہمارے سامنے پیش کی گئی ہے۔ غیر احمدی علماء اور مساجد کے درویش بازاروں میں برملا گالیاں دیتے اور احمدیوں کے مکانوں اور دکانوں کے آگے سیاپا کرتے اور دل آزار نعرے لگاتے ہوئے کوشش کرتے کہ کسی طرح فساد ہوجائے مگر احمدیوں نے ان کو قطعاً لائق التفات ہی نہ سمجھا اور صبروتحمل سے پورا دن تبلیغ میں مصروف رہے۔
حدیہ ہے کہ جناب مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اپنے اخبار ’’اہلحدیث‘‘ 10 مارچ 1933ء میں فخریہ انداز میں لکھا۔
’’امرتسر میں 5 مارچ کا دن دیکھنے کے قابل تھا بجائے اس کے کہ مرزائی ہندوئوں کو تبلیغ کرتے طلباء عربی مرزائیوں کو تلاش کرکر کے بازاروں،گلیوں اور ان کے گھروںمیں پکڑ کر تبلیغ کا حق ادا کرتے تھے‘‘۔
گویا بالفاظ مولوی صاحب یہ طریق اس لئے اختیار کیا گیا کہ احمدی ہندوئوں کو تبلیغ اسلام نہ کرسکیں ورنہ خاص اس دن جو احمدیوں نے خالصۃً غیر مسلموں میں تبلیغ کے لئے وقف کیا تھا احمدیوں کو تلاش کرکے اور پکڑ کر تبلیغ کرنے کے کیا معنی ہو سکتے تھے۔ (الفضل 21مارچ1933ئ)
خاندان حضرت مسیح موعود کو تبلیغ کی زبردست تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 2جولائی1934ء کو حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر صاحب اور صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے نکاحوں کا اعلان فرمایا۔ اس پُر مسرت تقریب پر حضور نے ایک نہایت ایمان افروز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے افراد خاندان کو خصوصاً اور جماعت احمدیہ کو عموماً ان کی حفاظت اسلام سے متعلق اہم ذمہ داریوں کی نسبت پُر زور طریق پرتوجہ دلائی۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔
’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت محمدیہ کی تباہی کے وقت امید ظاہر کی ہے کہ لنا لہ رجال من فارِس اور یقین ظاہر کیا کہ اس فارسی النسل موعود کی اولاد دنیا کے لالچوں،حرصوں اور ترقیات کو چھوڑ کر صرف ایک کام کے لئے اپنے آپ کو وقف کردے گی اور وہ کام یہ ہے دنیا میں اسلام کا جھنڈا بلند کیا جائے۔ ایمان کوثریا سے واپس لایا جائے اور مخلوق کو آستانہ خدا پر گرایا جائے۔ یہ امید ہے کہ جو خدا کے رسول نے کی اب میں اُن پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس کا کیا جواب دیتے ہیں۔ خواہ میری اولاد ہو یا میرے بھائیوں کی وہ اپنے دلوں میں غور کر کرکے اپنی فطرتوں سے دریافت کریں کہ اس آواز کے بعد ان پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔…
اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اولاد میں سے اگر کوئی شخص مغربیت کی نقل کا ذرہ بھی مادہ اپنے اندر رکھتا ہے تو وہ مسیح موعود کا حقیقی بیٹا نہیں کہلا سکتا۔ کیونکہ اس نے اس آواز کو نہیں سنا، جسے پھیلانے کے لئے مسیح موعود مبعوث ہوئے۔ پس میں وضاحت سے ان کو یہ پیغام پہنچاتا اور وضاحت سے ہر ایک کو ہوشیار کرتا ہوں کہ میں ہر ایسے خیال اور ہر ایسے شخص سے بیزار ہوں جس کے دل میں مغربیت کی نقل کا ذرہ بھی مادہ پایا جاتا ہے اور جو دین کی خدمت کرنے کے لئے تیار نہیں خواہ وہ میرا بیٹا ہو یا میرے کسی عزیز کا۔ لیکن میں نے ہمیشہ یہ دعا کی ہے اور متواتر کی ہے کہ اگر میرے لئے وہ اولاد مقدر نہیں جو دین کی خدمت کرنے والی ہو تو مجھے اولاد کی ضرورت نہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اسی دعا کی آخر دم تک توفیق عطا فرمائے۔ ہمارے سامنے ایک عظیم الشان کام ہے اتنا عظیم الشان کہ اس سے بڑھ کر اور کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ہمارے سامنے ایک فتنہ ہے۔اتنا بڑا فتنہ کہ اس کے برابر دنیا میں اور کوئی فتنہ نہیں اگر ہم اس کام کی سر انجام دہی کے لئے کھڑے نہیں ہوجاتے اور اس فتنہ کے مقابلے کی ضرورت اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم دنیا میں ذرہ سی عزت کے بھی مستحق ہیں۔
اس وقت اسلام کے مقابل پر بیسیوں جھنڈے بلند ہیں۔ جب تک وہ تمام جھنڈے سرنگوں نہیں ہو جاتے جب تک تثلیث کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہو جاتا۔ جب تک بت پرستی کا جھنڈا سرنگوں نہیں ہو جاتا۔ جب تک اسلام کے سوا باقی تمام جھنڈے سرنگوں نہیں ہوجاتے۔ جب تک سب دنیا میں تکبیر کے نعرے بلند نہیں ہوجاتے ہم کبھی اپنے فرائض کو پورا کرنے والے سمجھے نہیں جاسکتے ۔یہ وہ چیز ہے جسے میں آج پیش کرتا ہوں اور اگرچہ میں پہلے بھی اسے پیش کرتا رہا ہوں لیکن کچھ دنوں سے ایک طاقت مجھے مجبور کر رہی ہے کہ میں واضح طور پر یہ بات پیش کردوں۔ (خطبات محمود جلد3ص345)
غیر مبائعین کو محبت وخلوص سے تبلیغ کرنے کی تحریک
حضرت مولوی غلام حسن خاں صاحب کی بیعت خلافت نے غیر مبائعین میں بہت جوش و خروش پیدا کر دیا۔ جس پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے 29 مارچ 1940ء کو یہ تحریک فرمائی کہ نہایت درد اور اخلاص کے ساتھ اپنے بچھڑے ہوئے بھائیوں کی اصلاح کی پوری کوشش کی جائے۔ نیز ہدایت فرمائی کہ ہر جماعت میں ’’سیکرٹری اصلاح مابین‘‘ کے نام سے ایک عہدیدار مقرر کیا جائے جس کا یہ فرض ہو کہ وہ غیر مبائعین سے ملے انہیں تبلیغ کرے، پرانا لٹریچر مہیا کرے اور جماعت کو اس لٹریچر سے آگاہ کرے۔ دوسرے یہ حکم دیا کہ جماعتیں غیر مبائعین کی مفصل لسٹیں مرکز میں بھجوائیں تا اُن کو مرکز سے بھی تبلیغی لٹریچر بھجوایا جاسکے۔ ساتھ ہی نظارت دعوت و تبلیغ کو توجہ دلائی کہ وہ اس قسم کے علماء اور انگریزی خوانوں کی ایک لسٹ تیار کرے جو غیر مبائعین کے متعلق مفید مضامین لکھ سکتے ہوں اور پھر انہیں اخباروں اور رسالوں میں مضامین لکھنے کی تحریک کرے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے غیر مبائعین کو تبلیغ کرنے والوں یا اس کی نسبت مضمون لکھنے والوں کو خاص طور پر یہ نصیحت فرمائی کہ ’’دوستوں کو محبت اور پیار سے کام لینا چاہئے اور کبھی بھی سختی نہیں کرنی چاہئے۔ یاد رکھو سختی سے تم دوسرے کو چُپ کراسکتے ہو۔ سختی سے تم دوسروں کو شرمندہ کرسکتے ہو۔ سختی سے تم دوسرے کو ذلیل کرسکتے ہو۔ مگر سختی سے تم دوسرے کے دل کو فتح نہیں کرسکتے۔ اگر تم دل فتح کرنا چاہتے ہو تو تمہارے اپنے دل میں یہ اخلاص اور درد ہونا چاہئے کہ میرا ایک بھائی گمراہ ہو رہا ہے اُسے کسی طرح میں ہدایت پر لائوں۔ جب تک یہ احساس اور یہ جذبہ تمہارے اندر نہ ہوگا…
اس سلسلہ میں اصلاح مابین کے سیکرٹریوں کو ارشاد فرمایا کہ:
’’جب انہیں مرکز سے ٹریکٹ وغیرہ بھجوائے جائیں تو وہ محنت سے انہیں غیر مبائعین کے گھروں تک پہنچائیں تا اُن میں سے جو سعید لوگ ہیں وہ سلسلہ کی طرف توجہ کریں‘‘۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی اس خاص تحریک پر احمدی جماعتوں نے منظم طریق پر غیر مبائعین تک پیغام حق پہنچانے کی طرف توجہ دی۔ اہل قلم بزرگوں اور دوستوں نے ’’الفضل‘‘، ’’فاروق‘‘ اور’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ میں معلومات افزا مضامین 1940-41ء کے دوران لکھے۔
علاوہ ازیں نظارت دعوت و تبلیغ قادیان نے غیر مبائعین کے لئے مناسب ٹریکٹ اور اشتہارات شائع کئے اور ایک کمیٹی اصلاح مابین کے لئے قائم کردی جس کے فرائض میں سے ایک فرض یہ بھی تھا کہ غیر مبائعین اصحاب کے استفسارات کا جواب دیا جائے۔اس کمیٹی کے سیکرٹری حضرت قاضی محمد نذیرصاحب لائلپوری کے مقرر کئے گئے۔ کمیٹی کے پاس متعدد اعتراضات پہنچتے رہے جن کا مدلل جواب علمائے سلسلہ کی طرف سے دیا جاتا رہا۔
ان سب اصلاحی کوششوں کا مجموعی نتیجہ یہ ہوا کہ جہاں تک جماعت احمدیہ کے نوجوان خصوصاً اور دوسرے افراد عموماً متنازعہ مسائل کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل موقف کو پہلے سے زیادہ عمدہ طریق پر سمجھنے لگے وہاں بعض سعید الفطرت، غیر مبائعین کے حلقہ سے نکل کر نظامِ خلافت سے وابستہ ہوگئے۔
صحابہؓ مسیح موعود ؑ کو اشاعت احمدیت کے لئے سرگرم عمل ہونے کی تحریک
3جنوری1941ء کو سال کا پہلا جمعہ تھا جس کے خطبہ میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے سالِ نو کا پروگرام رکھتے ہوئے رفقاء حضرت مسیح موعودؑ کو تلقین فرمائی کہ وہ احمدیت کی عمارت کو دنیا میں مضبوط و مستحکم بنانے کے لئے ہر ممکن جدوجہد سے کام لیں۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔
’’ہر دن اور ہر رات ہمیں موت کے قریب کرتی جارہی ہے اور صحابیوںؓ کے بعدجنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھایہ کام تابعین کے ہاتھ میں اور پھر اُن کے بعد تبع تابعین کے ہاتھوں میں جائے گا ۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ آئندہ احمدی ہونے والے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں دیکھا وہ یہ تو کہہ سکیں کہ ہم نے آپ کے دیکھنے والوں کو دیکھا یا یہ کہ آپ کے دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں کو دیکھا۔ پس جن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دیکھا اُن کی زندگیاں بہت قیمتی ہیں اور جتنا کام وہ کرسکتے ہیں دوسرے نہیں کرسکتے۔ اس لئے اُن کو کوشش کرنی چاہئے کہ مرنے سے قبل احمدیت کو مضبوط کر دیں تا دنیا کو معلوم ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہؓ نے ایسی محنت سے کام کیا کہ احمدیت کو دنیا میں پھیلا کر مرے‘‘۔
(الفضل4جنوری1941ئ)
اخبارات اور خطوط کے ذریعے تبلیغی مہم
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو دوسری جنگ عظیم کے دوران اِس طرف توجہ ہوئی کہ اب تک جماعت احمدیہ انفرادی رنگ میں تبلیغ کرتی رہی ہے۔ اب اسے اجتماعی تبلیغ کا رنگ اختیار کرنا چاہئے اور جنگ کے خاتمے سے پہلے ہندوستان میں اشاعت دین کے لئے پورا زور لگا دیا جائے اور جونہی جنگ ختم ہو اور بیرونی راستے کھلیں تو غیر ممالک پر روحانی حملہ کر دیا جائے تا دنیا میں جو خلا پیدا ہو وہ احمدیت کے ذریعے بآسانی پورا کیا جاسکے۔چنانچہ حضور نے فرمایا:۔
گو ہندوستان سے باہر مبلغ نہیں بھیجے جاسکتے مگر جنگ کے بعد بہت ضرورت ہوگی۔ فی الحال ہمیں ہندوستان میں ہی تبلیغ کے کام کو بڑھانا چاہئے اور باہر کا جو رستہ بند ہوچکا ہے اس کا کفارہ یہاں ادا کرنا ضروری ہے پس کیوں نہ ہم یہاں اتنا زور لگائیںکہ جماعت میں ترقی کی رفتار سوائی یا ڈیوڑھی ہوجائے اور دوتین سال میں ہی جماعت دوگنی ہوجائے۔جب تک ترقی کی یہ رفتار نہ ہو کامیابی نہیں ہوسکتی۔ ہمارے سامنے بہت بڑا کام ہے، پونے دو ارب مخلوق ہے جس سے ہم نے صداقت کو منوانا ہے اور جب تک باہر کے راستے بند ہیں ہندوستان میں ہی کیوں نہ کوشش زیادہ کی جائے‘‘۔
(انوارالعلوم جلد16 ص286)
اس مقصد کے مدّ نظر حضور نے 6؍اکتوبر 1942ء کے خطبہ جمعہ میں ہندوستان کے چپہ چپہ تک پیغام احمدیت پہنچانے کے لئے تبلیغ کی نہایت اہم تحریک فرمائی جس کے دو حصے تھے۔ اوّل:۔غیر احمدی علمائ،امراء اور مشائخ کے نام خطبہ نمبر ’’الفضل‘‘اور ’’سن رائز‘‘کے ہزار ہزار پرچے جاری کرائے جائیں۔ دوم:۔ ملک کے بااثر اور مقتدر طبقہ کو خطوط کے ذریعے بھی بار بار تبلیغ کی جائے۔
تبلیغ کی اس نئی تحریک کی تفصیلات پر حضور نے مندرجہ ذیل الفاظ میں روشنی ڈالی۔
سر دست ضرورت ہے کہ ایک حد تک اس طبقہ میں جو علماء اور رُوساء اور امراء یا پیروں اور گدی نشینوں کا طبقہ ہے اُس تک باقاعدہ سلسلہ کالٹریچر بھیجا جائے ’’الفضل‘‘کا خطبہ نمبر یا انگریزی دان طبقہ تک ’’سن رائز‘‘ جس میں میرے خطبہ کا انگریزی ترجمہ چھپتا ہے باقاعدہ پہنچایا جائے۔ تمام ایسے لوگوں تک ان کو پہنچایا جائے جو عالم ہیں یا امراء رُوسا یا مشائخ میں سے ہیںاور جن کا دوسروں پر اثر و رسوخ ہے اور اس کثرت سے اُن کو بھیجیں کہ وہ تنگ آکر یا تو اس طرف توجہ کریں اور یا مخالفت کا بیڑہ اٹھائیں اور اس طرح تبلیغ کے اس طریق کی طرف آئیں جسے آخر ہم نے اختیار کرنا ہے۔ لٹریچر اور ’’الفضل‘‘ کا خطبہ نمبر یا ’’سن رائز‘‘ بھیجنے کے علاہ ایسے لوگوں کو خطوط کے ذریعے بھی تبلیغ کی جائے اور بار بار ایسے ذرائع اختیار کر کے اُن کو مجبور کر دیں کہ یا وہ صداقت کی طرف توجہ کریں اور تحقیق کرنے لگیں اور یا پھر مخالفت شروع کردیں۔ مثلاً ایک چٹھی بھیج دی۔پھر کچھ دنوں کے بعد اور بھیجی پھر کچھ انتظار کے بعد اور بھیج دی جس طرح کوئی شخص کسی حاکم کے پاس فریاد کرنے کے لئے اُسے چٹھی لکھتا ہے مگر جواب نہیں آتا تو اور لکھتا ہے پھر وہ توجہ نہیں کرتا تو ایک اور لکھتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ افسر توجہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ پس تکرار کے ساتھ علماء اور امراء و رؤساء ،مشائخ نیز راجوں مہاراجوں نوابوں اور بیرونی ممالک کے بادشاہوں کو بھی چٹھیاں لکھی جائیں۔اگرکوئی شکریہ ادا کرے تو اس بات پر خوش نہ ہوجائیں اور پھر لکھیں کہ ہمارا مطلب یہ ہے کہ آپ اس کی طرف توجہ کریں۔ جواب نہ آئے تو پھر چند روز کے بعد اور لکھیں کہ اس طرح آپ کو خط بھیجا گیا تھا مگر آپ کی طرف سے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔ پھر کچھ دنوں تک انتظار کے بعد اور لکھیں حتیٰ کہ یا تو وہ بالکل ایسا ڈھیٹ ہو کہ اُس کے دل پر مہر لگی ہوئی ہے اور اس کی طرف سے اس کی سیکرٹری کاجواب آئے کہ تم لوگوں کو کچھ تہذیب نہیں بار بار دق کرتے ہو۔ راجہ صاحب یا پیر صاحب نے خط پڑھ لیا اور وہ جواب دینا نہیں چاہتے اور یا پھر اس کی طرف سے جواب آئے کہ آئو جو سُنانا چاہتے ہو سنا لو۔ اس رنگ میں تبلیغ کے نتیجہ میں کچھ لوگ غور کے لئے تیار ہو جائیں گے۔ مگر اس وقت تو یہ حالت ہے کہ غور کرتے ہی نہیں۔ پس اب اس رنگ میں کام شروع کرنا چاہئے اس کے لئے ضرورت ہے ایسے مخلص کارکنوں کی جو اپنا وقت اس کام کے لئے دے سکیں۔ بہت سی چٹھیاں لکھنی ہوں گی۔چٹھیاں چھپی ہوئی بھی ہوسکتی ہیں مگر پھر بھی اُن کو بھیجنے کا کام ہوگا۔اگر جواب آئے تو اُن کا پڑھنا اور پھر اُن کے جواب میں بعض چٹھیاں دستی بھی لکھنی پڑیں گی۔بعض چٹھیوں کے مختلف زبانوں میں تراجم کرنے ہوں گے اور یہ کافی کام ہوگا۔ اس کے لئے جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ توفیق دے وہ اس کام میں مدد کریں۔ پھر جو دوست ’’الفضل‘‘ کا خطبہ نمبر اور ’’سن رائز‘‘دوسروں کے نام جاری کراسکیںوہ اس رنگ میں مدد کریں۔
…امداد دینے والے دوست اپنے نام میرے سامنے پیش کریں میں خود تجویز کروں گا کہ کن لوگوں کے نام یہ پرچے جاری کرائے جائیں۔پھر اس سلسلہ میں اور جو دوست خدمت کے لئے اپنا نام پیش کرنا چاہیں وہ بھی کردیں۔ ان کے ذمہ کام لگا دئیے جائیں گے۔ مثلاً یہ کہ فلاں قسم کے خطوط فلاں کے پاس جائیں اور اُن کے جواب بھی وہ لکھیں۔اس کام کی ابتداء کرنے کے لئے میں نے ایک خط لکھا ہے جو پہلے اردو اور انگریزی میں اور اگر ضرورت ہوئی تو دوسری زبانوں میں بھی ترجمہ کرا کے دنیا کے بادشاہوں اور ہندوستان کے راجوں مہاراجوںکی طرف بھیجا جائے گا۔ اس قسم کے خطوط بھی وقتاً فوقتاً جاتے رہیں۔ مگر اصل چیز ’’الفضل‘‘ کا خطبہ نمبر یا’’سن رائز‘‘ہے جو ہر ہفتہ اُن کو پہنچتا رہے اور چونکہ خطبہ کے متعلق مسنون طریق یہی ہے کہ وہ اہم امور پر مشتمل ہو اس لئے اس میں سب مسائل پر بحثیں آجاتی ہیں۔ اس میں سلسلہ کے مسائل بھی ہوتے ہیں۔ جماعت کو قربانی کی طرف بھی توجہ دلائی جاتی ہے اور مخالفوں کا ذکر بھی ہوتا ہے اور اس طرح جس شخص کو ہر ہفتہ یہ خطبہ پہنچتا رہے احمدیت گویا ننگی ہو کر اس کے سامنے آتی رہے گی اور وہ بخوبی اندازہ کرسکتا ہے کہ اس جماعت کی امنگیں اور آرزوئیں کیا ہیں کیا ارادے ہیں یہ کیا کرنا چاہتے ہیں۔ دشمن کیا کہتا ہے اور یہ کس رنگ میں اس کا مقابلہ کرتے ہیں یا کرنا چاہتے ہیں؟ اگر اس رنگ میں کام شروع کیاجائے تو ایک شور مچ سکتا ہے۔ اگر دو ہزار آدمی بھی ایسے ہوں جن کے پاس ہر ہفتہ سلسلہ کا لٹریچر پہنچتا ہے تو بہت اچھے نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔ان لوگوں کو چٹھیاں بھی جاتی رہیں اور ان سے پوچھا جائے کہ آپ ہمارا لٹریچرمطالعہ کرتے ہیں یا نہیں؟ اگر کوئی کہے نہیں تو اس سے پوچھا جائے کیوں نہیں؟ یہ پوچھنے پر بعض لوگ لڑیں گے اور یہی ہماری غرض ہے کہ وہ لڑیں یا سوچیں۔ جب کسی سے پوچھا جائے گا کیوں نہیں پڑھتے تو وہ کہے گا کہ یہ پوچھنے سے تمہارا کیا مطلب ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ پوچھنا ضروری ہے کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی آواز ہے جو آپ تک پہنچائی جارہی ہے ۔اس پر وہ یا تو کہے گا سنا لو اور یا پھر کہے گا کہ میں نہیں مانتا اور جس دن کوئی کہے گا کہ جائو میں نہیںمانتا اسی دن سے وہ خدا تعالیٰ کا مد مقابل بن جائے گا اور ہمارے رستہ سے اُٹھا لیا جائے گا جن لوگوں تک یہ آواز ہم پہنچائیں گے اُن کے لئے دو ہی صورتیں ہوں گی یا تو ہماری جو رحمت کے فرشتے ہیں سنیں اور یا پھر ہماری طرف سے منہ موڑ کر خدا تعالیٰ کے عذاب کے فرشتوںکی تلوار کے آگے کھڑے ہوجائیں۔ مگر اب تو یہ صورت ہے کہ نہ ہمارے سامنے ہیں اور نہ ملائکہ عذاب کی تلوار کے سامنے بلکہ آرام سے اپنے گھروںمیں بیٹھے ہیں۔ نہ تو وہ خدا تعالیٰ کی تلوار کے سامنے آتے ہیں کہ وہ انہیں فنا کردے اور نہ اس کی محبت کی آواز کو سنتے ہیں کہ ہدایت پا جائیں۔ اب تو ایک ایسی چیز ہیں جو اپنے مقام پر کھڑی ہے اور وہاں سے ہلتی نہیں۔ لیکن نئی تعمیر کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُسے وہاں سے ہلایا جائے۔یا تو وہ ہماری طرف آئے اور یا اپنی جگہ سے ہٹ جائے‘‘۔
(الفضل 22؍اکتوبر 1942ء ص4,5)
اس ضمن میں حضور نے اپنے ایک دوسرے خطبہ میں ان اخبارات کو اور ان کے متعلقہ محکموں کو ہدایت فرمائی کہ وہ اپنے پرچوں کو زیادہ سے زیادہ مکمل اور دلچسپ بنانے کی کوشش کریں اور مواد اس طرح مرتب کریں کہ اسلام اور احمدیت کا صحیح نقشہ پڑنے والوں کے سامنے آجائے اور ساتھ ہی اہل قلم اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ۔
’’وہ مختصر عبارتوں میں ایسے مضامین لکھیں جن سے یہ پرچے زیادہ دلچسپ اور زیادہ مفید بن سکیں اور لوگوں کی توجہ تبلیغ کی طرف کھینچ سکے۔خالی دلچسپی بھی کوئی چیز نہیں۔یہ تو بھانڈ پن ہی ہے۔بلکہ دلچسپی کا مطلب یہ ہے کہ دین کے معاملات کو ایسی عمدگی اور خوبصورتی سے پیش کیا جائے کہ لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں۔ قرآن کریم سے زیادہ دلچسپ کتاب اور کوئی نہیں ہو سکتی مگر اس میںکھیل تماشے کی کوئی بات نہیں۔ پھر بھی کافریہ کہتے تھے کہ کانوں میں انگلیاں ڈال لو۔ خوب شور مچائو تا یہ کلام کانوں میں نہ پڑے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ساحر اور قرآن کریم کو سحر کہتے تھے۔ یہ دلچسپی کی ہی بات ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کہ جو سنے اس پر ضرور اثر ہوتا ہے بشرطیکہ اس کے دل میں خدا کا خوف ہو‘‘۔
(الفضل 5نومبر1942ئ)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی دوسری تحریکوں کی طرح یہ تحریک بھی کامیاب رہی اور مخلصین جماعت نے چند ہفتوں کے اندر اندر ’’الفضل‘‘اور ’’سن رائز‘‘ کے پرچوں کے لئے مطلوبہ رقم پیش کردی۔ اسی طرح کئی احمدی خطوط کے ذریعے تبلیغ کرنے کی مہم میں شامل ہوگئے۔اس تحریک کے بہت عمدہ اور خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔ (الفضل2دسمبر1942ئ)
ہندوستان میں سات مراکز بنانے کی تحریک
حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ نے ملک میں تبلیغ کو وسیع پیمانے پر شروع کرنے کے لئے 21جولائی 1944ء کو تحریک فرمائی کہ ہندوستان کے سات مقامات یعنی پشاور، کراچی،مدراس، بمبئی، کلکتہ، دہلی اور لاہورمیںتبلیغی مراکز قائم کئے جائیں۔ اس تحریک کے مطابق چند ماہ کے اندر اندر بمبئی ، کلکتہ اور کراچی میں باقاعدہ مشن کھول دئیے گئے۔ (الفضل 4اگست1944ء ص1)
پھر حضور نے ان مقامات پر قیام مساجد کی تحریک فرمائی۔کراچی میں عرصہ ہوا کہ حضور پہلے ہی چار کنال زمین خرید چکے تھے۔اس تحریک کے مطابق پہلے ہی سال دہلی کی جماعت نے تیس ہزار روپے کے وعدے پیش کئے۔ (الفضل یکم جنوری1945ئ)
نکل کھڑے ہوں
سیدنا المصلح الموعودؓ نے یکم مئی1944ء کو جماعت کے سامنے تحریک فرمائی کہ دنیامیں تبلیغ اسلام کے لئے ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت صرف اس طرح پوری ہوسکتی ہے کہ احمدی بدھ بھکشوئوں اور حضرت مسیح ؑ کے حواریوں کی طرح قریہ قریہ بستی بستی میں نکل کھڑے ہوں۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’دنیا میں تبلیغ کرنے کے لئے ہمیں ہزاروں مبلغوں کی ضرورت ہے۔ مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مبلغ کہاں سے آئیں اور ان کے اخراجات کون برداشت کرے میںنے بہت سوچا ہے مگر بڑے غوروفکر کے بعد سوائے اس کے اور کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا کہ جب تک وہی طریق اختیار نہیں کیا جائے گا جو پہلے زمانوں میں اختیار کیا گیا تھا اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہوسکتے … حضرت مسیح ناصری نے اپنے حواریوں سے کہا کہ تم دنیا میں نکل جائو اور تبلیغ کرو۔ جب رات کو وقت آئے تو جس بستی میں تمہیں ٹھہرنا پڑے اس بستی کے رہنے والوں سے کھانا کھائو اور پھر آگے چل دو۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی حکمت سے یہ بات امت کو سکھائی ہے۔ آپ نے فرمایا ہر بستی پر باہر سے آنے والے کی مہمان نوازی تین دن فرض ہے۔ ایک صحابی ؓ نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ اگر بستی والے کھانا نہ کھلائیں تو کیا کیا جائے ؟ آپ نے فرمایا تم زبردستی ان سے لے لو۔ گویا ہمارا حق ہے کہ ہم تین دن ٹھہریں اور بستی والوں کا فرض ہے کہ وہ تین دن کھانا کھلائیں۔ میں سمجھتا ہوں اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ کے طریق کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے۔ اگر تم کسی بستی سے تین دن کھانا کھاتے ہو تو یہ بھیک نہیں۔ ہاں اگر تین دن سے زائد ٹھہر کر تم ان سے کھانا مانگتے ہو تو یہ بھیک ہوگی۔
اگر ہماری جماعت کے دوست بھی اسی طرح کریں کہ وہ گھروں سے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں۔ ایک ایک گائوں اور ایک ایک بستی اور ایک ایک شہر میں تین تین دن ٹھہرتے جائیں اور تبلیغ کرتے جائیں۔ اگر کسی گائوں والے لڑیں تو جیسے حضرت مسیح ناصری ؑ نے کہا تھا وہ اپنے پائوں سے خاک جھاڑ کر آگے نکل جائیں تو میں سمجھتا ہوں تبلیغ کا سوال ایک دن میں حل ہو جائے ‘‘۔
(الفضل 21دسمبر1944ء ص4)
دیہاتی مبلغین کی تحریک
حضور نے جلسہ سالانہ 1944ء پر فرمایا:۔
اس سال پندرہ دیہاتی مبلغ تیار کئے گئے ہیں ان کو قرآن کریم کا ترجمہ موٹے موٹے دینی مسائل اور طب وغیرہ کی تعلیم دی گئی ہے۔ ان کے علاقے بھی مقرر کردئیے گئے ہیں۔تین ضلع سیالکوٹ میں ، تین ضلع گورداسپور،دو ضلع لاہور، دو ضلع سرگودھا، ایک ضلع ملتان، ایک ضلع کرنال، ایک ضلع امرتسر اور دو ضلع گوجرانوالہ میں لگائے گئے ہیں۔ یہ سکیم میں پہلے شائع کرچکا ہوں۔ میرا منشاء یہ ہے کہ دس پندرہ یا بیس دیہات کے لئے ایک مبلغ مقرر کیا جائے۔ یوں تو بہت سے دیہاتی مبلغین کی ضرورت ہے اگر صرف ان مقامات پر ہی دیہاتی مبلغ رکھے جائیں جہاں جماعتیں ہیں تو بھی آٹھ سو جماعتیں ہیں۔اگر ہر دیہاتی مبلغ کا حلقہ چار چار جماعتوں پر پھیلا ہوا ہو تو بھی دو سو دیہاتی مبلغ درکار ہوں گے۔ لیکن اگر دو سو دیہاتی مبلغ بھی مہیا کئے جائیں تو اُن پر سوا لاکھ روپیہ خرچ ہوگا۔ اگر ہر مبلغ کا خرچ پچاس روپیہ بھی سمجھ لیا جائے تو اس کے معنی ہوں گے دس ہزار روپیہ ماہوار۔ یعنی ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ سالانہ۔ مگر ابھی ہم اتنا خرچ برداشت نہیں کرسکتے اس لئے میری تجویز ہے کہ فی الحال پچاس تیار کئے جائیں۔اس کے لئے بھی بیس سے تیس سال تک کی عمر کے نوجوان جن کی تعلیم مڈل کے درجہ تک ہو اپنے نام پیش کریں۔چالیس سال تک کی عمر کے وہ لوگ بھی لئے جاسکتے ہیں جو اس کام کے لئے موزوں سمجھے جائیں۔ (انوارالعلوم جلد17ص492)
’’ستیارتھ پرکاش‘‘کے مکمل جواب کی سکیم
1944ء حضرت سیدنا المصلح الموعودؓنے یہ فیصلہ فرمایا کہ آریہ سماج کے بانی دیانندسرسوتی کی کتاب ستیارتھ پرکاش کا مکمل جواب شائع کیا جائے۔چنانچہ حضور 1944ء کو مجلس عرفان میں رونق افروز ہوئے اور ملک فضل حسین صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔
’’میرے دل میں تحریک پیدا ہوئی ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ’’ستیارتھ پرکاش‘‘کا مکمل جواب لکھا جائے۔ اس وقت تک اس کے جس قدر جواب دئیے گئے ہیں وہ سب دفاعی رنگ رکھتے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں نے ستیارتھ پرکاش کے چودھویں باب کو اپنے سامنے رکھا ہے اور اسی کا جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ ضرورت ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب سے شروع کرکے آخر تک مکمل جواب لکھا جائے اور اس جواب میں صرف دفاعی رنگ نہ ہو بلکہ دشمن پر حملہ بھی کیا جائے۔ کیونکہ دشمن اس وقت تک شرارت سے باز نہیں آتا جب تک اس کے گھر پر حملہ نہ کیا جائے۔ اس کا طریق تو یہ ہے کہ ستیارتھ پرکاش کے جتنے نسخے شروع سے لے کر اب تک چھپے ہیں ان سب کو جمع کی جائے اور پھر ان نسخوں میں جو جو اختلافات ہیں یا جہاں جہاں آریوں نے ستیارتھ پرکاش میں تبدیلیاں کی ہیں وہ سب اختلافات واضح کئے جائیں اور کتاب کا ایک باب اس غرض کے لئے مخصوص کر دیا جائے۔ گویا ایک باب ایسا ہو جس کا عنوان مثلا یہی ہو کہ ’’ستیارتھ پرکاش میں تبدیلیاں‘‘ اور پھر بحث کی جائے کہ آریوں نے اس میں کیا کیا تبدیلیاں کی ہیں۔ پھر جہاں جہاں وہ بہانے بناتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کاتب کی غلطی سے ایسا ہوگیا۔وہاں بھی بحث کرکے واضح کیا جائے کہ یہ کتابت کی غلطی ہوہی نہیں سکتی۔ پھر پنڈت دیانند نے علمی طور پر ہندو مذہب کے متعلق جو باتیں لکھی ہیں ان کے متعلق ویدوں اور ہندئوں کی پرانی کتابوں سے یہ ثابت کیا جائے کہ پنڈت جی کا بیان غلط ہے۔ اس طرح ستیارتھ پرکاش کے ہر باب میں جو کوتاہیاں یا غلطیاں پائی جاتی ہیں، الف سے لے کر ی تک ان سب کو واضح کیا جائے۔ اسلام پر جو حملہ کئے گئے ہیں ان کا بھی ضمنی طور پر جواب آجانا چاہئے۔ اس طرح ستیارتھ پرکاش کے رد میں ایک مکمل کتاب لکھی جائے جو کم سے کم آٹھ سو صفحات کی ہو اور جس طرح ستیارتھ پرکاش ایک معیاری کتاب کے طور پر پیش کی جاتی ہے اس طرح یہ کتاب نہایت محنت سے معیاری رنگ میں لکھی جائے۔بعد میں ہر زبان میں اس کتاب کا ترجمہ کرکے تمام ہندوستان میںپھیلائی جائے۔
آپ اس کے لئے ڈھانچہ تیار کریں اور مجھ سے مشورہ لیں اور پھر میرے مشور ہ اور میری ہدایات کے مطابق یہ کتاب لکھی جائے۔ پہلا باب مثلاً اس کتاب کی تاریخ پر مشتمل ہونا چاہئے دوسرے باب میں ستیارتھ پرکاش کے پہلے باب کا جواب دیا جائے اور بتایا جائے کہ اس میں کیا کیا غلطیاں ہیںیا اگر ہم ان باتوں کو ہندومذہب کے لحاظ سے تسلیم کرلیں تو پھر ان پر کیا کیا اعتراض پڑتے ہیں۔ اس طرح شروع سے لے کر آخر تک تمام کتاب کا مکمل جواب لکھا جائے۔ (الفضل یکم جنوری1945ء ص4کالم1)
اس سکیم کے مطابق حضر ت سیدنا المصلح الموعودؓ نے اس کتاب کے مختلف ابواب پروفیسر ناصر الدین عبداللہ صاحب، مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب میں بغرض جواب تقسیم فرما دئیے۔
چودھویں باب کی نسبت حضورنے فیصلہ فرمایا کے اس کا جواب خود تحریر فرمائیں گے۔
جماعت احمدیہ کے ان سنسکرت دان علماء نے حضرت سیدنالمصلح الموعودؓ کی ہدایت اور نگرانی میں ماہ جنوری 1948ء میں قریباً سات، آٹھ ابواب کا جواب مکمل کرلیا۔چنانچہ حضور نے 2فروری 1945ء کے خطبہ جمعہ میں بتایا کہ :
’’میں نے ستیارتھ پرکاش کا جواب شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ چنانچہ اس کا جواب قریباً سات آٹھ بابوں کا ہو چکا ہے اور بقیہ تیار ہوررہا ہے۔جو نوجوان اس کام کو کر رہے ہیں مجھے خوشی ہے کہ وہ محنت کے ساتھ کررہے ہیں اور مجھے اس بات کی بھی خوشی ہے کہ ہماری جماعت میں ایسے نوجوان پیدا ہو رہے ہیں جو ہندو لٹریچر کو اس کی اپنی زبان میں پڑھ کر غور کرسکتے ہیں۔ اس کام کے لئے میں نے مولوی ناصر الدین صاحب عبداللہ اور مہاشہ محمد عمر صاحب اور مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر کیاہوا ہے اور یہ تینوں بہت جانفشانی سے اس کام میں لگے ہوئے ہیں اورمیں سردست ایڈیٹنگ کرتا ہوں۔ وہ نوٹ لکھ کر مجھے دے دیتے ہیں اور میں جرح کرکے واپس بھیج دیتا ہوں۔ پھر وہ اصل مضمون لکھ کر بھیج دیتے ہیں اور میںاسے دیکھ لیتا ہوں۔ اس میں میرا اپنا کام صرف اتنا ہی ہے کہ جو دلائل کمزور ہوں ان کی طرف انہیںتوجہ دلا دیتا ہوں کہ یہ دلائل کمزور ہیں یا تمہارا یہ اعتراض ان معنوں پر پڑتا ہے اور ان معنوں پر نہیں پڑتا یا یہ کہ بعض دفعہ ان کی عبارتوں میں جوش ہوتا ہے کیونکہ ستیارتھ پرکاش میں سخت سخت حملے کئے گئے ہیںاس لئے اس کا جواب دیتے وقت جذبات کو روکنا مشکل ہوتا ہے۔ اس لئے میں اس بات کی بھی نگرانی کرتا ہوں کہ ایسے سخت الفاظ استعمال نہ کئے جائیں جن سے کسی کی دل شکنی ہو۔ یا اس بات کو بھی مدنظر رکھتا ہوں کہ یہ کتاب آریہ سماج کی ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان بعض دفعہ ناتجربہ کاری کی وجہ سے اس بات کو بھول کر کہ ہمارے مخاطب تمام ہندو نہیں بلکہ صرف آریہ سماجی ہیں مضمون زیر بحث میں سناتن دھرم کی بعض باتوں کی بھی تردید شروع کردیتے ہیں تو میں اس بات میں بھی ان کی نگرانی کرتا ہوں کہ وہ صرف آریہ سماج کو ہی مخاطب کریں اور ایسی باتوں کاذکر نہ کریں جو براہ راست ویدوں یا سناتن دھرم کے لٹریچر کے متعلق ہوں جس حد تک میرے پاس مضمون آچکا ہے اور غالباً اکثر آچکا ہے اس کو دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا ہے کہ بہت محنت اور جانفشانی سے لکھا گیا ہے‘‘۔
(الفضل8فروری1945ئ)
افسوس! تقسیم ہند کی وجہ سے ستیارتھ پرکاش کے جواب کی یہ کوشش درمیان ہی میں رہ گئی۔
ظلم کے سدباب کے لئے تبلیغ کی تحریک
دوسری جنگ عظیم ابھی پورے زور شور سے جاری تھی کہ حضرت سیدنا المصلح الموعودؓنے29 ستمبر 1944ء کو ایک خاص خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جس میں بتایا کہ جنگ کے بعد دنیا پھر ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔ ہمیں اس غلطی کو واضح کرنے اور دین کو پھیلانے میں دیوانہ وارمصروف ہو جانا چاہئے۔
حضور نے جماعت احمدیہ کے ہر فرد کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’بالکل ممکن ہے اگر فاتح مغربی اقوام جرمنی اور جاپان سے اچھوتوں والا سلوک کریں تو گو جرمنی اور جاپان سے یہ قومیں ذلت نہ اُٹھائیں مگر اس ظلم کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ بعض اور قومیں کھڑی کردے جن کا مقابلہ ان کے لئے آسان نہ ہو۔ پس دنیا پھر خدانخواستہ ایک غلطی کرنے والی ہے۔ پھر خدا نخواستہ ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے۔ پھر ایک ایسی حرکت کرنے والی ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا پیدا نہیں ہوسکتا اور ہمارا فرض ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے دُعا کریں کہ وہ اس غلطی سے حاکم اقوام کو بچائے اور دوسری طرف ہمارا فرض ہے ہم دنیا کو اس غلطی سے آگاہ کریں اور تبلیغ کے متعلق زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں۔ اس جنگ کے بعد کم سے کم دو ملک ایسے تیار ہو جائیں گے جو ہماری باتوں پر سنجیدگی اور متانت کے ساتھ غور کریں گے۔ یعنی جرمنی اور جاپان۔ یہ دو ملک ایسے ہیں جو ہماری باتیں سننے کے لئے تیار ہوجائیں گے۔ خصوصاً جرمنی ایک ایسا ملک ہے جو اس لحاظ سے خاص طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ ہم ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ دیکھو عیسائیت کتنی ناکام رہی کہ عیسائیت کی قریباً دو ہزار سالہ آزادی کے بعد بھی تم غلام کے غلام رہے اور غلام بھی ایسے جن کی مثال سوائے پرانے زمانے کے اور کہیں نظر نہیں آسکتی۔ اس وقت ان کے دل اسلام کے طرف راغب ہوں گے اور ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوگا کہ آئو ہم عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام پر غور کریںاور دیکھیں کہ اس نے ہمارے دُکھوں کا کیا علاج تجویز کیا ہوا ہے۔ پس وہ وقت آنے والا ہے جب جرمنی اور جاپان دونوں کے سامنے ہمیں عیسائیت کی ناکامی اور اسلامی اصول کی برتری کو نمایاں طور پر پیش کرنا پڑے گا۔ اس طرح انگلستان اور امریکہ اور روس کے سمجھدار طبقہ کو (اور کوئی ملک ایسے سمجھدار طبقہ سے خالی نہیںہوتا) دین کی تعلیم کی برتری بتا سکیں گے۔ مگر یہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب ہماری طاقت منظم ہو جب ہماری جماعت کے تمام افراد زیادہ سے زیادہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار ہوں جب کثرت سے مبلغین ہمارے پاس موجود ہوںاور جب ان مبلغین کے لئے ہر قسم کے سامان ہمیں میسر ہوں۔
(الفضل 11اکتوبر1944ء ص7)
مشہور زبانوں میں لٹریچر:
حضور نے20؍اکتوبر1944ء کو ترجمہ قرآن کریم کے ساتھ دوسرے تبلیغی لٹریچر کی اشاعت کی نہایت اہم سکیم رکھی اور اس غرض کے لئے 12کتابوں کا سیٹ تجویز فرمایا جس کا دنیا کی آٹھ زبانوں میں ترجمہ ہونا ضروری تھا۔ ان بارہ کتابوں میں سے نو یہ تھیں۔ اسلامی اصول کی فلاسفی، مسیح ہندوستان میں، احمدیت یعنی حقیقی اسلام، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح عمری، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سوانح، ترجمہ احادیث، پرانے اور نئے عہد نامہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشگوئیاں، پرانے اور نئے عہد نامہ کی روشنی میں توحید، نظام نو۔ یہ سیٹ انگریزی ممالک کے لئے تھا۔ جہاں تک عربی ممالک کا تعلق ہے حضور کا منشاء تھا کہ اور قسم کا سیٹ تجویز ہونا چاہئے۔
اس کے علاوہ حضور نے نو زبانوں میں چھوٹے چھوٹے ٹریکٹوں اور اشتہارات کی اشاعت کا پروگرام اس سکیم میں شامل کیا۔
اس عظیم الشان جدوجہد کا واحد مقصد یہ تھا کہ جونہی مادی اور سیاسی جنگ بند ہو تبلیغی اور روحانی جنگ کا آغاز کردیا جائے۔چنانچہ حضور نے فرمایا۔
’’لڑائی کا بگل تو جب اللہ تعالیٰ چاہے گا بجے گا۔ پریڈ کا بگل بجا دیا گیا ہے اور چاہئے کہ اسلام کا درد رکھنے والوں میں یہ بگل ایک غیر معمولی جوش پیدا کرنے کا موجب ہو۔ وقت آگیا ہے کہ جن نوجوانوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں وہ جلد سے جلد علم حاصل کرکے اس قابل ہوجائیں کہ انہیں اسلام کی جنگ میں ا س طرح جھونکا جاسکے جس طرح تنور میں لکٹریاں جھونکی جاتی ہیں۔ اس جنگ میں وہی جرنیل کامیاب ہوسکتا ہے جو اس لڑائی کی آگ میں نوجوانوں کو جھونکنے میں ذرا رحم محسوس نہ کرے اور جس طرح ایک بھڑ بھونجا چنے بھونتے وقت آموں اور دوسرے درختوں کے خشک پتے اپنے بھاڑ میں جھونکتا چلا جاتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے اس کے دل میں ذرا بھی رحم پیدا نہیں ہوتا اسی طرح نوجوانوں کو اس جنگ میں جھونکتا چلا جائے۔ اگر بھاڑ میں پتے جھونکنے کے بغیر چنے بھی نہیں بھن سکتے تو اس قسم کی قربانی کے بغیر اسلام کی فتح کیسے ہوسکتی ہے؟
پس اس جنگ میں وہی جرنیل کامیابی کا منہ دیکھ سکے گا جو یہ خیال کئے بغیر کہ کس طرح مائوں کے دلوں پر چھریاں چل رہی ہیں نوجوانوں کو قربانی کے لئے پیش کرتا جائے۔موت اس کے دل میں کوئی رحم اور درد پیدا نہ کرے۔ اس کے سامنے ایک ہی مقصد ہو اور وہ یہ کہ اسلام کا جھنڈا اس نے دنیا میں گاڑنا ہے اور سنگدل ہو کر اپنے کام کو کرتا جائے۔ جس دن مائیں یہ سمجھیں گی کہ اگر ہمارا بچہ دین کی راہ میں مارا جائے تو ہمارا خاندان زندہ ہوجائے گا جس دن آپ یہ سمجھنے لگیں گے کہ اگر ہمارا بچہ شہید ہوگیا تو وہ حقیقی زندگی حاصل کرجائے گا اور ہم بھی حقیقی زندگی پالیں گے وہ دن ہوگا جب محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو زندگی ملے گی‘‘۔ (الفضل20مئی1944ئ)
سندھیوں میں حلقہ تبلیغ وسیع کرنے کی تحریک
حضرت مصلح موعودؓ نے 2مارچ 1951ء کو ناصر آباد سندھ کے مقام پر ایک اہم خطبہ ارشاد فرمایا جس میں احمدی جماعتوں کو تحریک فرمائی کہ وہ صوبہ کے اصل باشندوں یعنی سندھیوں میں حلقہ تبلیغ کو وسیع کریں۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’جب تک تم سندھیوں میں احمدیت کی تبلیغ نہیں کرتے یا جب تک تم ان کے ساتھ اس طرح مل جل نہیں جاتے کہ تمہارا تمدن بھی سندھی ہوجائے تمہارے کپڑے بھی سندھیوں جیسے ہوجائیں۔ تمہاری زبانیں بھی سندھی ہوجائیں اس وقت تک تمہاری حیثیت محض ایک غیر ملکی کی رہے گی۔ یہ کتنی واضح چیز ہے جو نظر آرہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ کتنے آدمی ہیں جنہوں نے اس حقیقت پر کبھی غور کیا ہے۔ اس وقت بیرونی جماعتوں میں سے سو ڈیڑھ سو آدمی یہاں آیا ہوا ہے اور ہم خوش ہیں کہ جماعت میں زندگی کے آثار پائے جاتے ہیںکہ ایک جنگل میں اتنے آدمی اکٹھے ہوگئے ہیںلیکن اگر ہم غور سے کام لیں تو یہ زندگی کے آثار ہیں کہ جس ملک میں ہم بیٹھے ہیں اسی ملک کے باشندے ہمارے اندر موجود نہیں۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے ہم انگلستان میں ایک بہت بڑا جلسہ کریں اور اس میں پاکستان کے پاکستانی، افریقہ کے حبشی، انڈونیشیا کے انڈونیشین، سیلون کے سیلونی، برما کے برمی، افغانستان کے افغان اور عرب ممالک کے عرب سب موجود ہوں لیکن انگلستان کا کوئی آدمی نہ ہو اور ہم بڑے خوش ہوں کہ ہمارا جلسہ نہایت کامیاب ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ جلسہ کیا کامیاب رہا جس میں اور ممالک کے لوگ تو موجود تھے اور انگلستان کا کوئی آدمی موجود نہ تھا۔ اس طرح تو ہم نے اپنے روپیہ کو ضائع ہی کیا کیونکہ جس ملک کے لوگوں پر ہم اپنا اثر پیدا کرنا چاہتے تھے اس ملک کا کوئی فرد اس میں موجود نہیں تھا۔ اس طرح ہم جب سندھ میں آئے تو سندھ کے لوگوں کی خاطر آئے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم سندھیوں میں اپنی تبلیغ کے حلقہ کو وسیع کریں اور ان کو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل کریں۔ غرض اگر غور سے کام لیا جائے اور سوچنے کی عادت ڈالی جائے تو یہ چیز ہمارے سامنے آجاتی ہے اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ درحقیقت اس صوبہ میں رہتے ہوئے ہم نے اپنی ذمہ داری کو سمجھا ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کے رہنے والوں کا حق پنجابیوں سے زیادہ ہے اور ہمارے لئے خوشی کا دن دراصل وہ ہوگا جب ہمارے جلسہ میں اگر پانچ سو آدمی ہوں تو ان میں سے چار سو سندھی ہوں اور ایک سو پنجابی ہوں۔ اگر ہم ایسا تغیر پیدا کرلیں تب بیشک یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے اپنے فرض کو اداکردیا‘‘۔ (الفضل28مارچ1951ء ص6)




تحریک جدید
وسعت اور جامعیت:
خلفائے احمدیت کی تحریکات میں تحریک جدید کو ایک نمایاں اہمیت اور امتیاز حاصل ہے۔ اپنی وسعت اور جامعیت کے اعتبار سے یہ قریباً تمام تربیتی تبلیغی اور مالی تحریکات کا بہترین نچوڑ ہے۔ خاص طور پر تحریک جدید سے قبل سرزمین احمدیت میں دعوت الی اللہ کے جتنے چشمے پھوٹے رواں ہوئے ان سب کو تحریک جدید کی جھیل میں اکٹھا کرکے دعوت حق کی بیشمار نہریں جاری کی گئیں جو آج شاخ در شاخ دنیا کے ہر خطے میں پھیل گئی ہیں۔ اس کی کوکھ سے سینکڑوں نئی تحریکات نے جنم لیا۔ جن میں سے بعض اس کے اثرات کو چاردانگ عالم میں پھیلانے کے لئے تھیں اور بعض اس کے ثمرات کو سمیٹنے کے لئے تھیں۔
تاریخ احمدیت میں تحریک جدید اس پھل کی حیثیت رکھتی ہے جو اپنے سینے میں طاقتور بیج جمع کئے ہوئے ہے۔ جن سے نئے رسیلے پھل پیدا ہوتے ہیں جگہ جگہ ہوتے ہیں مگر بسااوقات یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ پھل کس بیج کا مرہون منت ہے۔
نظام وصیت کی ارہاص:
تحریک جدید گو نظام وصیت کے ایک عرصہ بعد ظہور پذیر ہوئی لیکن دراصل یہ حضرت اقدس مسیح موعود ؑ کے قائم کردہ عالمی ابدی نظام کی ارہاص ہے۔ کیونکہ تحریک جدید احمدیت میں داخل کرنے کا ایک دروازہ ہے جس کے ذریعہ نظام جماعت میں شامل ہونے والے نظام وصیت کا حصہ بنتے ہیں اور پھر تحریک جدید کے فیض سے دعوت الی اللہ میں حصہ لے کر نئے موصی پیدا کرتے ہیں۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔
’’تحریک جدید کیا ہے وہ خداتعالیٰ کے سامنے عقیدت کی یہ نیاز پیش کرنے کے لئے ہے کہ وصیت کے ذریعہ تو جس نظام کو دنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے اس کے آنے میں ابھی دیر ہے اس لئے ہم تیرے حضور اس نظام کا ایک چھوٹا سا نقشہ تحریک جدید کے ذریعہ پیش کرتے ہیں تاکہ اس وقت تک کہ وصیت کا نظام مضبوط ہو اس ذریعہ سے جو مرکزی جائیداد پیدا ہو اس سے تبلیغ کو وسیع کیا جائے اور تبلیغ سے وصیت کو وسیع کیا جائے … غرض تحریک جدید گو وصیت کے بعد آتی ہے مگر اس کے لئے پیشرو کی حیثیت میں ہے … ہر وہ شخص جو تحریک جدید میں حصہ لیتا ہے وصیت کے نظام کو وسیع کرنے میں مدد دیتا ہے اور ہر شخص جونظامِ وصیت کو وسیع کرتا ہے وہ نظام نو کی تعمیر میں مدد دیتا ہے‘‘۔
(انوارالعلوم جلد 16 صفحہ 599،600)
پس منظر:
تحریک جدید کا آغاز 1934ء میں ہوا اوراللہ تعالیٰ کی خاص تقدیروں کے تابع اس سے قبل شدیدمخالفانہ ماحول پیدا ہوا تاکہ جماعت کے سینوں میں منہ زور جذبے ابلنے لگیں جن کا رخ تحریک جدید کی لگام کے ذریعہ خدمت دین کی طرف موڑ دیا جائے اور جماعت کے جسم و روح کا ذرہ ذرہ شجر احمدیت کی آبیاری میں کھاد کا کام دے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب تمام مذہبی جماعتیں مجلس احرار کی شکل میں اور تمام انتظامی طاقتیں انگریزی حکومت کی شکل میں اکٹھے ہو کر جماعت کے خلاف صف آراء ہو چکی تھیں اور چاروں سمتوں اور اوپر اور نیچے سے جماعت کو پیس دینے کا ارادہ کر چکی تھیں اور جماعت باز کے پنجوں میں ایک کمزور چڑیا کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی۔
ان لرزہ خیز حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعودؓ کے دل پر یہ تحریک نازل فرمائی جس نے دیکھتے دیکھتے طوفانوں کا رخ پھیر دیا اور کشتی احمدیت بھنور سے نکل کر نئی فتوحات کے سفر پر روانہ ہو گئی۔
حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔
’’تحریک جدید کے پیش کرنے کے موقع کا انتخاب ایسا اعلیٰ انتخاب تھا جس سے بڑھ کر اور کوئی اعلیٰ انتخاب نہیں ہو سکتا اور خداتعالیٰ نے مجھے اپنی زندگی میں جو خاص کامیابیاں اپنے فضل سے عطا فرمائی ہیں ان میں ایک اہم کامیابی تحریک جدید کو عین وقت پر پیش کرکے مجھے حاصل ہوئی اور یقینا میں سمجھتا ہوں جس وقت میں نے یہ تحریک کی وہ میری زندگی کے خاص مواقع میں سے ایک موقع تھا اور میری زندگی کی ان بہترین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی تھی جبکہ مجھے اس عظیم الشان کام کی بنیاد رکھنے کی توفیق ملی‘‘۔ (انوارالعلوم جلد 14ص 116 )
تین بنیادی حصے
تحریک جدید بنیادی طور پر تین شقوں پر مشتمل ہے۔
1۔ جماعت اپنے کردار میں پاک تبدیلیاں پیدا کرے۔ جسد واحد بن جائے، تقویٰ کی باریک راہوں کو اختیار کرے اور خداتعالیٰ کی خاطر ہر قربانی کے لئے تیار ہو جائے۔
2۔جماعت سادہ زندگی اپنائے، لغویات سے بچے اور تمام غیر ضروری اخراجات کم کرکے تبلیغ احمدیت کے لئے رقم فراہم کرے۔
3۔جماعت تبلیغ کے لئے اٹھ کھڑی ہو۔ ہر فرد اپنے دائرہ میں داعی الی اللہ بن جائے نیز ہر قسم کے واقفین کی ضرورت ہے جو ممالک بیرون میں سلسلہ کا پیغام پہنچائیں۔
27مطالبات
اس سکیم کے ماتحت حضور نے مختلف اوقات میں 27 مطالبات جماعت کے سامنے رکھے جو مجموعی طور پر درج ذیل ہیں۔
(1 سادہ زندگی بسر کریں۔ (2 امانت فنڈ تحریک جدید میں روپیہ جمع کروائیں۔ (3 دشمن کے گندے لٹریچر کا جواب تیار کریں۔ (4 دعوت الی اللہ ممالک بیرون میں حصہ لیں۔ (5 سکیم خاص دعوت الی اللہ میں مالی لحاظ سے حصہ لیں۔ (6 سروے میں حصہ لیں ۔ (7 وقف رخصت موسمی میں حصہ لیں۔(8 نوجوان خدمت دین کے لئے زندگیاں وقف کریں۔ (9رخصت کے ایام خدمت دین کے لئے وقف کریں۔ (10 صاحب پوزیشن مختلف جلسوں میں لیکچر دیں۔ (11 کم ازکم پچیس لاکھ کا ایک مستقل ریزرو فنڈ قائم کریں۔ (12 پنشنرز اصحاب اپنے آپ کو خدمت دین کے لئے پیش کریں۔ (13طلباء کو تعلیم و تربیت کے لئے مرکز سلسلہ میں بھیجیں۔ (14صاحب حیثیت لوگ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں مشورہ طلب کریں۔ (15بیکار دنیا میں نکل جائیں، خود کمائیں اور کھائیں اور تبلیغ بھی کرتے رہیں۔ (16 اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں۔ (17جو لوگ بیکار ہیں وہ چھوٹے سے چھوٹا جو کام بھی مل سکے کریں۔ (18مرکز سلسلہ میں مکان بنوائیں یہ دنیا نہیں بلکہ دین ہے۔ (19 مقاصد تحریک جدید کی کامیابی کے لئے خاص طور پر دعائیں کریں۔ (20تمدن قرآنی کا قیام کریں۔ (21قومی دیانت کا قیام کریں۔ (22عورتوں کے حقوق کی حفاظت کریں۔ (23راستوں کی صفائی کا خیال رکھیں۔ (24احمدیہ دارالقضاء کا قیام کریں اور اس کے فیصلوں کی پابندی کریں۔ (25اپنی اولاد کو دین کے لئے وقف کریں۔ (26وقف جائیداد و آمد میں حصہ لیں۔ (27’’حلف الفضول‘‘ کی قسم کا معاہدہ کریں کہ ہم امانت، عدل و انصاف کو قائم رکھیں گے۔
ان مطالبات کے متعلق حضور نے فرمایا:
’’ان میں سے ہر ایک لمبے غور اور فکر کے بعد تجویز کیا گیا ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جو سلسلہ کی ترقی میں ممد نہ ہو ان میں سے ہر ایک ایسا بیج ہے جو بڑا ترقی پانے والا اور بہت بڑا درخت بننے والا ہے اور دشمنوں کو زیر کرنے والا ہے ان میں سے کوئی چیز بھی نظر انداز کرنے والی نہیں اور ایک بھی ایسی نہیں کہ اس کے بغیر ہماری ترقی کی عمارت مکمل ہو سکے‘‘۔ (الفضل 9 دسمبر 1934ئ)
مالی قربانی
مقاصد تحریک جدید کی تکمیل کے لئے حضور نے جماعت سے مالی قربانی کی اپیل کی اور اس کی ابتدائی طور پر وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔
1۔گندہ لٹریچر جو ہمارے خلاف شائع ہورہا ہے اس کا جواب دیا جائے یا اپنا نقطہ نگاہ احسن طور پر لوگوں تک پہنچایا جائے اور وہ روکیں جو ہماری ترقی کی راہ میں ہیںانہیں دور کیا جائے … اس کام کے واسطے تین سال کے لئے پندرہ ہزار روپے کی ضرورت ہو گی ۔
2۔قوم کو مصیبت کے وقت پھیلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کہتا ہے مکہ میں اگر تمہارے خلاف جوش ہے تو کیوں باہر نکل کر دوسرے ملکوں میں نہیں پھیل جاتے اگر باہر نکلو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری ترقی کے بہت سے راستے کھول دے گا۔ اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ حکومت میں بھی ایک حصہ ایسا ہے جو ہمیں کچلنا چاہتا ہے اور رعایا میں بھی۔ کیا معلوم کہ ہماری مدنی زندگی کی ابتداء کہاں سے ہوتی ہے۔ قادیان بیشک ہمارا مذہبی مرکز ہے لیکن ہمیں کیا معلوم کہ ہماری شوکت و طاقت کا مرکز کہاں ہے۔ یہ ہندوستان کے کسی اور شہر میں بھی ہوسکتا ہے اور چین، جاپان، فلپائن، سماٹرا، جاوا، روس، امریکہ غرضیکہ دنیا کے کسی ملک میں ہوسکتا ہے… میری تجویز ہے کہ دو دو آدمی تین نئے ممالک میں بھیجے جائیں۔ ان میں سے ایک ایک انگریزی دان ہو اور ایک ایک عربی دان۔ سب سے پہلے تو ایسے آدمی تلاش کئے جائیں جو کچھ حصہ خرچ کا لے کر حسب ہدایت کام کریں۔ مثلاً صرف کرایہ لے لیں۔ آگے خرچ کچھ نہ مانگیں۔ یا کرایہ خود ادا کریں۔ خرچ سات ماہ کے لئے ہم سے لے لیں … اس تحریک کے لئے خرچ کا اندازہ میں نے دس ہزار روپے لگایا ہے‘‘۔
3۔تبلیغ کی ایک سکیم میرے ذہن میں ہے جس پر سوروپیہ ماہوار خرچ ہوگا۔
4۔پانچ آدمی بھیج کر ملک کی تبلیغی سروے کرائی جائے۔ ان کی تنخواہ اور سا ئیکلوں وغیرہ کی مرمت کا خرچ ملا کر سو روپیہ ماہوار ہوگا اور اس طرح کل رقم جس کا مطالبہ ہے، ساڑھے ستائیس ہزار بنتی ہے۔
(خطبات محمود جلد 15صفحہ 432تا436)
اس تحریک کی تمام شقوں پر جماعت نے حیرت انگیز طور پر لبیک کہا اور ایک نئی زندگی پا کر دشمن کو انگشت بدنداں کر دیا۔
چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت سے تین سال کے عرصہ میں ساڑھے ستائیس ہزار روپے کی رقم مانگی اور اس نے پہلے سال ہی ڈیڑھ ماہ کے اندر اندر 29712 روپے نقد حضور کے قدموں میں لا کر رکھ دیئے۔ مجموعی طور پر اس سال جماعت کی طرف سے ایک لاکھ تین ہزار روپے وصول ہوئے۔
دوسرے سال وصولی ایک لاکھ دس ہزار تھی۔ تیسرے سال ایک لاکھ چالیس ہزار کی رقم وصول ہوئی گویا ساڑھے ستائیس ہزار روپے کے مطالبہ کے مقابل تین لاکھ تریپن ہزار روپے کی رقم پیش کی گئی۔ حضور نے جماعت کے اس جذبہ قربانی پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔
’’میں نے روپیہ کے متعلق جو تحریک کی تھی۔ اس کا جواب جو جماعت کی طرف سے دیا گیا ہے وہ اتنا خوش آئند ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ باقی حصہ سکیم میں جماعت کمزوری دکھلائے گی‘‘۔ (خطبات محمود جلد 16ص5)
قادیان کی جماعت کے متعلق فرمایا:
’’قادیان کی جماعت سارے پنجاب کا دسواں حصہ ہے۔ لیکن ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ کی تحریکات میں قادیان کی جماعت کی طرف سے پانچ ہزار روپیہ نقد اور وعدوں کی شکل میں آیا ہے۔ (اور یہ رقم صرف پہلے سال کے لئے تھی باقی دو سالوں کی رقم اس کے علاوہ ہے ۔ناقل)
(الفضل 20 دسمبر 1935ئ)
دائمی تحریک
تین سال کے بعد اس تحریک کو سات سال کے مزید عرصہ کے لئے بڑھا دیا گیا۔ گویا پہلے تین سالوں کو ملا کر یہ تحریک دس سال کے لئے کر دی گئی۔ اس نئے دور کو سات سال تک کے عرصہ تک محدود رکھنے کے متعلق حضور نے فرمایا:
’’قربانیاں کئی رنگ میں کرنی پڑتی ہیں۔ موجودہ مالی سکیم کو میں نے سات سال تک کے لئے مقررکیا ہے جس کی و جہ یہ ہے کہ بعض پیشگوئیوں سے معلوم ہوتی ہے کہ 43،42ء تک زمانہ ایسا ہے جس تک سلسلہ احمدیہ میں بعض مالی مشکلات جاری رہیں گی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کر دے گا کہ بعض قسم کے ابتلاء دور ہو جائیں گے اور اس وقت تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے نشانات ظاہر ہوجائیں گے کہ جن کے نتیجہ میں بعض مقامات کی تبلیغی روکیں دور ہو جائیں گے اور سلسلہ احمدیہ ترقی کرنے لگ جائے گا‘‘۔
حضور نے قربانی کے اس مطالبہ پر لبیک کہنے والوں کو ان الفاظ میں بشارت دی کہ
’’حضرت مسیح موعود ؑ یہ دعا کرچکے ہیں کہ اے خدا وہ شخص جو میرے دین کی خدمت میں حصہ لے تو اس پر اپنے فضلوں کی بارش نازل فرما اور آفات اور مصائب سے اسے محفوظ رکھ پس وہ شخص جو اس تحریک میں حصہ لے گا اسے حضرت مسیح موعود کی دعا سے بھی حصہ ملے گا اور پھر وہ میری دعاؤں میں بھی حصہ دار ہو جائے گا‘‘۔ (الفضل 4 دسمبر 1937ئ)
اس دس سالہ دور کے ختم ہونے پر حضور نے نہ صرف اس تحریک کو انیس سال کے عرصہ تک بڑھا دیا۔ بلکہ ایک نئی پانچ ہزاری فوج کو بھی آگے آنے کے لئے ارشاد فرمایا۔ جو نئے سرے سے اس تحریک میں حصہ لے کر ایک دوسرے انیس سالہ دور کی بنیاد رکھے۔ حضور نے ان کا حساب علیحدہ علیحدہ رکھنے کا ارشاد فرمایا ۔
1953ء میں جب یہ انیس سالہ دور ختم ہوا تو حضور نے اس سکیم کو دائمی قرار دے دیا اور 27 نومبر 1953ء کے خطبہ جمعہ میں ارشاد فرمایا:
’’تحریک جدید کے کام کو وسیع کرنے کے بعد خداتعالیٰ نے میرا ذہن اس طرف پھیرا کہ تمہارے منہ سے جو عرصے بیان کروائے گئے تھے وہ محض کمزور لوگوں کو ہمت دلوانے کے لئے تھے۔ ورنہ حقیقتاً جس کام کے لئے تو نے جماعت کو بلایا تھا۔ وہ ایمان کا ایک جزو ہے اور ایمان کو کس حالت میں اور کسی وقت بھی معطل نہیں کیا جاسکتا‘‘۔
نیز حضور نے فرمایا:
’’میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں تحریک جدید کو اس وقت تک جاری رکھوں گا جب تک کہ تمہارا سانس قائم ہے تا خداتعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت صرف 19 سال تک محدود نہ رہے بلکہ وہ تمہاری ساری عمر تک چلتی چلی جائے اور جس کی ساری زندگی تک خداتعالیٰ کے فضل اورانعام جاتے ہیں اس کے مرنے کے بعد بھی وہ اس کے ساتھ جاتے ہیں‘‘۔ (المصلح 11 دسمبر 1953ء ص2،3)
تحریک جدید کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعہ حضرت مسیح موعود ؑ کا وہ کشف بھی پورا ہو گیا جس میں حضور کو غلبہ حق کے لئے پانچ ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک فوج دی گئی تھی۔فرماتے ہیں:۔
کشفی حالت میں اس عاجز نے دیکھا کہ انسان کی صورت پر دو شخص ایک مکان میں بیٹھے ہیں ایک زمین پر اور ایک چھت کے قریب بیٹھا ہے تب میں نے اس شخص کوجو زمین پر تھا مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے مگر وہ چپ رہا اور اس نے کچھ بھی جواب نہ دیا تب میں نے اس دوسرے کی طرف رخ کیا جو چھت کے قریب اور آسمان کی طرف تھا اور اسے میں نے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے ایک لاکھ فوج کی ضرورت ہے۔ وہ میری اس بات کو سن کر بولا کہ ایک لاکھ نہیں ملے گی مگر پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا تب میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگرچہ پانچ ہزار تھوڑے آدمی ہیں پر اگر خدائے تعالیٰ چاہے تو تھوڑے بہتوں پر فتح پاسکتے ہیں۔ اس وقت میں نے یہ آیت پڑھی کم من فئۃ قلیلۃغلبت فئۃ کثیرۃ۔ پھر وہ منصور مجھے کشف کی حالت میں دکھایا گیا اور کہا گیا کہ خوشحال ہے خوشحال ہے مگر خدائے تعالیٰ کی کسی حکمت مخفیہ نے میری نظر کو اس کے پہچاننے سے قاصر رکھا لیکن امید رکھتا ہوں کہ کسی دو سرے وقت دکھا یا جائے۔ ( ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد3 صفحہ 149)
یہ کشف اس طرح پورا ہوا کہ تحریک جدید کے پہلے انیس سالہ دور (1934ء تا1953ئ) میں حصہ لینے والے احباب پانچ ہزار کے لگ بھگ تھے۔ ان لوگوں کی قربانیاں احیائے دین کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ اس لئے حضور نے فرمایا:
’’تحریک جدید کا جہاد کبیر وہ شان رکھتا ہے کہ اس میں اخلاص سے حصہ لینے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے قرب کا مقام عطا فرمائے گا کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خداتعالیٰ کے دین کے احیاء کے لئے اور اس کے جھنڈے کے بلند رکھنے کے لئے اس میں حصہ لیا اور یہی وہ پانچ ہزاری فوج ہے جو حضرت مسیح موعود ؑ کی پیشگوئی کے پورا کرنے میں حصہ پارہی ہے‘‘۔
ان پانچ ہزار احباب کے نام اور قربانیوں کو ہمیشہ زندہ رکھنے کے لئے جون 1959ء میں پانچ ہزاری مجاہدین کی مکمل فہرست شائع کی گئی۔
دفاتر کا قیام:
تحریک جدید کا آغاز 1934ء میں ہوا۔ پہلے دس سال تک جو اس کے چندہ دہندگان میں شامل ہوئے وہ دفتر اول میں شمار کئے گئے۔ 1944ء میں دفتر دوم جاری ہوا اور نئے چندہ دینے والے اس دفتر میں شامل ہوتے رہے۔ اپریل 1966ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے دفتر سوم کا اجراء فرمایا اور ساتھ ہی فرمایا کہ اس کا اجراء یکم نومبر 1965ء سے شمار کیا جائے تاکہ یہ دفتر بھی حضرت مصلح موعودؓ کے عہد کی طرف منسوب ہو۔ 25؍اکتوبر 1985ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے دفتر چہارم کا اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے 5نومبر2004ء کو دفتر پنجم کے اجراء کا اعلان کیا۔
خلفاء سلسلہ نے مختلف وقتوں میں ان دفاتر کی ذمہ داری ذیلی تنظیموں پر ڈالی۔ چنانچہ دفتر اول اور چہارم مجلس انصاراللہ، دفتر دوم مجلس خدام الاحمدیہ اور دفتر سوم لجنہ اماء اللہ کے سپرد ہے۔ (الفضل 11 نومبر 1993ئ)
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے خطبہ جمعہ 5 نومبر 1982ء میں تحریک فرمائی کہ دفتر اول اور دفتر دوم کو ہمیشہ زندہ رکھا جائے اور ان کی اولادیں ان کی طرف سے چندہ ادا کرتی رہیں ۔
(خطبات طاہر جلد اول ص 255-6)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے بھی کئی دفعہ اس امر کی یاد دہانی کروائی اور آپ نے 3 نومبر2006ء کو تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کرتے ہوئے یہ خوشخبری دی کہ د فتر اول کے تمام کھاتے جاری ہو چکے ہیں ۔ (الفضل 12دسمبر2006ئ)
تحریک جدید کے دیگر مطالبات پر جماعت کا ردعمل
جماعت احمدیہ نے تحریک جدید کے مالی جہاد میں پُرجوش حصہ لینے کے علاوہ دوسرے مطالبات پر بھی شاندار طور پر لبیک کہا جس کا خلاصۃً ذکر کیا جاتا ہے۔
مطالبہ سادہ زندگی کے تحت جماعت کے مخلصین نے کھانے، لباس، علاج اور سینما وغیرہ کے بارہ میں اپنے پیارے امام کی ہدایات کی نہایت سختی سے پابندی کی۔ کھانے کے تکلفات یکسر ختم کر دیئے۔ بعض نے چندے زیادہ لکھوا دیئے اور دو دو تین تین سال تک کوئی کپڑے نہیں بنوائے۔
اکثر نوجوانوں نے سینما، تھیٹر، سرکس وغیرہ دیکھنا چھوڑ دیا اور بعض جو کثرت سے اس کے عادی تھے اس سے نفرت کرنے لگے۔ الغرض حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی آواز نے جماعت میں دیکھتے ہی دیکھتے ایک زبردست انقلاب برپا کر دیا جو دوسرے لوگوں کی نگاہ میں ایک غیرمعمولی چیز تھی۔ چنانچہ اخبار ’’رنگین‘‘ (امرتسر) کے سکھ ایڈیٹر ارجن سنگھ عاجز نے لکھا کہ:
’’احمدیوں کا خلیفہ ان کی گھریلو زندگی پر بھی نگاہ رکھتا ہے اور وقتاً فوقتاً ایسے احکام صادر کرتا رہتا ہے جن پر عمل کرنے سے خوشی کی زندگی بسر ہو سکے۔ …
ترک خواہشات کی سپرٹ ان کے خلیفہ نے جس تدبر اور دانائی سے ان کے اندر پھونک دی ہے وہ قابل صد ہزار تحسین و آفرین ہے اور ہندوستان میں آج صرف ایک خلیفہ قادیان ہی ہے جو سربلند کرکے یہ کہہ سکتا ہے کہ اس کے لاکھوں مرید ایسے موجود ہیں جو اس کے حکم کی تعمیل کے لئے حاضر ہیں اور احمدی نہایت فخر سے کہتے ہیں کہ ان کا خلیفہ ایک نہایت معاملہ فہم، دور اندیش اور ہمدرد بزرگ ہے جس نے کم ازکم ان کی دنیاوی زندگی کو بہشتی زندگی بنا دیا ہے اور اس کے عالی شان مشوروں پر عمل کرنے سے دنیا کی زندگی عزت و آبرو سے کٹ سکتی ہے‘‘۔ (بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 8 ص42,41)
ستمبر 1936ء تک تیرہ سو احباب نے اپنی چھٹیاں ملک میں رضاکارانہ تبلیغ کے لئے وقف کیں اور شمالی اور وسطی ہند کے علاوہ جنوبی علاقہ مثلاً میسور، مدراس، کولمبو اور بمبئی میں بھی تبلیغی وفود نے کام کیا۔ ایسے اصحاب کو حضرت خلیفۃ المسیحؓ کی طرف سے تحریرات خوشنودی عطا کی جاتی تھیں۔
مولوی فاضل بی اے، ایف اے اور انٹرنس پاس قریباً دو سو نوجوانوں نے اپنے آپ کو سہ سالہ وقف کے لئے پیش کیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے فرمایا:
’’یہ قربانی کی روح کہ تین سال کے لئے دین کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا جائے اسلام اور ایمان کی رو سے تو کچھ نہیں۔ لیکن موجودہ زمانہ کی حالت کے لحاظ سے حیرت انگیز ہے … اس قسم کی مثال کسی ایک قوم میں بھی جو جماعت احمدیہ سے سینکڑوں گنے زیادہ ہو ملنی محال ہے‘‘۔
کئی پنشنر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے حکم کی تعمیل میں آگے آئے اور مرکز میں کام کرنے لگے مثلاً خانصاحب فرزند علی صاحب، بابو سراج دین صاحب، خانصاحب برکت علی صاحب، ملک مولا بخش صاحب اور خان بہادر غلام محمد صاحب گلگتی وغیرہم۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ایک خطبہ میں بھی ان کی خدمات کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔
تحریک جدید کے تحت وقف زندگی کے مستقل نظام نے جنم لیا۔ جس کے تحت ہزاروں مستقل یا عارضی واقفین کل عالم میں خدمات بجالارہے ہیں۔
حضور کے اس مطالبہ کے تحت کہ بیکار نوجوان باہر غیر ممالک میں نکل جائیں، کئی نوجوان اپنے گھروں سے نکل کھڑے ہوئے اور نامساعد حالات کے باوجود غیر ممالک میں پہنچ گئے۔ چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیحؓ نے شروع 1935ء میں بتایا کہ ایک نوجوان جالندھر سے پیدل چل کر 1500 میل دور رنگون پہنچ گیا اور اب سٹریٹ سیٹلمنٹس کی طرف جارہا ہے۔ (خطبات محمود جلد 17صفحہ 26)
پھر فرمایا:
’’ایک نوجوان نے گزشتہ سال میری تحریک کو سنا۔ وہ ضلع سرگودھا کا باشندہ ہے۔ وہ نوجوان بغیر پاسپورٹ کے ہی افغانستان جاپہنچا اور وہاں تبلیغ شروع کر دی۔ حکومت نے اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا تو وہاں قیدیوں اور افسروں کو تبلیغ کرنے لگا اور وہاں کے احمدیوں سے بھی وہیں واقفیت بہم پہنچالی اور بعض لوگوں پر اثر ڈال لیا۔ آخر افسروں نے رپورٹ کی کہ یہ تو قید خانہ میں بھی اثر پیدا کررہا ہے۔ ملانوں نے قتل کا فتویٰ دیا۔ مگر وزیر نے کہا کہ یہ انگریزی رعایا ہے۔ اسے ہم قتل نہیں کرسکتے۔ آخر حکومت نے اپنی حفاظت میں اسے ہندوستان پہنچا دیا۔ اب وہ کئی ماہ کے بعد واپس آیا ہے۔ اس کی ہمت کا یہ حال ہے کہ میں نے اسے کہا کہ تم نے غلطی کی اور بہت ممالک تھے جہاں تم جاسکتے تھے اور وہاں گرفتاری کے بغیر تبلیغ کرسکتے تھے تو وہ فوراً بول اٹھا کہ اب آپ کوئی ملک بتادیں۔ میں وہاں چلا جاؤں گا۔ اس نوجوان کی والدہ زندہ ہے۔ لیکن وہ اس کے لئے بھی تیار تھا کہ بغیر والدہ کو ملے دوسرے کسی ملک کی طرف روانہ ہو جائے۔ (خطابات محمود جلد16ص758 )
ہاتھ سے کام کرنے کے مطالبہ پر جماعت کے افراد نے خاص توجہ دی۔ چنانچہ اس ضمن میں مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ اور طلباء نے اولیت کا شرف حاصل کیا اور 13 دسمبر 1934ء کو قادیان کے اندرونی حصہ سے ایک ہزار شہتیریاں سالانہ جلسہ گاہ تک پہنچائیں۔ (الفضل 16 دسمبر 1934ئ)
1936ء سے اس مطالبہ کے تحت اجتماعی ’’وقارعمل‘‘ کا سلسلہ جاری کیا گیا اور اب جماعت کی پہچان بن چکا ہے۔
جہاں تک قادیان میں مکان بنانے کا تعلق تھا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جماعت کے طرز عمل پر اظہار خوشنودی کرتے ہوئے شروع 1936ء میں فرمایا:
’’جماعت نے اس معاملہ میں بہت کچھ کام کیا ہے۔ چنانچہ اب دوسومکان سالانہ خداتعالیٰ کے فضل سے قادیان میں بن رہا ہے اور بہت سے دوست زمینیں بھی خرید رہے ہیں‘‘۔
جماعت احمدیہ اگرچہ ہمیشہ غلبہ اسلام کے لئے دعاؤں میں مصروف رہتی تھی مگر تحریک جدید کے مطالبات کے ضمن میں حضور نے جو خاص تحریک فرمائی اس کی بنا پر جماعت میں خاص جوش پیدا ہوگیا اور احباب جماعت نے خداتعالیٰ کے سامنے جبین نیاز جھکانے میں خاص طور پر زور دینا شروع کیا اور نمازوں میں عاجزانہ دعاؤں کا ذوق و شوق پہلے سے بہت بڑھ گیا اور جماعت میں ایک نئی روحانی زندگی پیدا ہوگئی۔
جنوری 1935ء سے لے کر نومبر 1935ء تک صوبہ کے پانچ اضلاع کا مکمل تبلیغی سروے کیا گیا جو اپنی نوعیت کی جدید چیز تھی۔ (الفضل 20 نومبر 1935ئ)
یہ کام سا ئیکلوں کے ذریعہ سے کیا جاتا تھا۔ ابتداء میں چار سائیکل سوار بھجوائے گئے ایک کے پاس اپنی ذاتی سائیکل تھی۔ دو سائیکلیں ہدیۃً اور ایک سائیکل دفتر نے خرید کی تھی۔ 11 جنوری 1935ء کو حضور نے تحریک فرمائی کہ سولہ سا ئیکلوں کی فوری ضرورت ہے۔ اس پر جماعت نے اس کثرت سے سائیکلیں بھیج دیں کہ آئندہ سائیکل نہ بھجوانے کی ہدایت کرنا پڑی۔ اس معاملہ میں جماعت احمدیہ دہلی سب جماعتوں پر سبقت لے گئی۔ (الفضل 24 جنوری، 14 فروری 1935ئ)
نئے مراکز کا قیام :
تبلیغی جائزہ کی رپورٹیں موصول ہونے پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے تحریک جدید کے زیر انتظام شروع 1935ء میں چار تبلیغی مراکز قائم فرمائے جن میں مکیریاں (ضلع ہوشیارپور) اور ویرووال (ضلع امرتسر) کے مشن بالخصوص قابل ذکر ہیں۔
مکیریاں مشن کا قیام مختار احمد صاحب ایاز (پہلے امیر المجاہدین) کی کوششوں سے ہوا۔ مرکز کے لئے ایک احمدی مولوی محمد عزیز الدین صاحب سٹیشن ماسٹر ابن حضرت مولوی محمد وزیرالدین صاحب (313) نے اپنا مکان ہبہ کر دیا تھا۔ اس مشن کی ذیلی شاخیں حسب ذیل مقامات پر کھولی گئیں، چھنیاں، بہبووال، مہت پور۔
تحریک جدید کے قومی سرمایہ سے (زینت محل لال کنواں) دہلی میں ’’ویدک یونانی دواخانہ‘‘ قائم کیا گیا۔ دواخانہ جاری کرنے سے پہلے حضرت مصلح موعودؓ نے چند واقفین کو یونانی طب کی تعلیم دلائی اور خود بھی ویدک اور یونانی ادویہ سے متعلق قیمتی مشورے دیئے۔
تحریک جدید کی طرف سے ایک مناسب رقم انگریزی ترجمۃ القرآن کے لئے مخصوص کر دی گئی اور اس کی ترتیب و تدوین کے لئے 26 فروری 1936ء کو حضرت مولوی شیر علی صاحب انگلستان بھجوائے گئے۔ آپ 9 نومبر 1938ء کو واپس قادیان میں تشریف لائے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ریزرو فنڈ کی نسبت فرمایا کہ میں نے آج سے کچھ سال پہلے 25 لاکھ ریزرو فنڈ کی تحریک کی تھی مگر وہ تو ایسا خواب رہا جو تشنۂ تعبیر ہی رہا مگر اللہ تعالیٰ نے تحریک جدید کے ذریعہ اب پھر ایسے ریزرو فنڈ کے جمع کرنے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے اور ایسی جائیدادوں پر یہ روپیہ لگایا جاچکا اور لگایا جارہا ہے جن کی مستقل آمد 30,25 ہزار روپیہ سالانہ ہو سکتی ہے تا تبلیغ کے کام کو بجٹ کی کمی کی وجہ سے کوئی نقصان نہ پہنچے‘‘۔ (الفضل 24 نومبر 1938ء ص11)
ثمرات و برکات
تحریک جدید کی کامیابیاں سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا نہایت درخشاں پہلو ہے۔ اس نے نہ صرف جماعت کی عملی زندگی میں حیرت انگیز انقلاب برپا کیا بلکہ بیرونی فتوحات کا بھی دروازہ کھول دیا۔ وہ جماعت جسے مخالفین قادیان کے اندر گلا گھونٹنے کی دھمکیاں دے رہے تھے وہ ایک سیلاب کی طرح بلندیوں اور پستیوں کو عبور کرتی ہوئی زمین کے کناروں تک پھیل گئی۔
تحریک جدید عالمی غلبہ حق میں جو کردار ادا کررہی ہے اس کا نظارہ دو پہلوؤں سے کیا جاسکتا ہے۔
1۔خلافت ثانیہ کے اختتام تک اس کے ثمرات 1934ء تا1965ء
2۔تازہ ترین اعدادوشمار
خلافت ثانیہ میںخدمات
یہ تحریک ساڑھے ستائیس ہزار روپیہ سے شروع ہوئی اور 1965-66ء اس کا سالانہ بجٹ قریباً چھتیس لاکھ روپے تک پہنچ چکا تھا۔ دنیا کے مختلف براعظموں کے 40 ملکوں میں اس کے 136 مضبوط مشن قائم ہوئے اور ان کے علاوہ کئی ممالک میں منظم جماعتیں قائم ہوئیں جو مالی اور دعوت الی اللہ کے جہاد میں حصہ لے رہی تھیں۔ جن چالیس ملکوں میں مشن قائم ہوئے ان کے نام یہ ہیں:۔
شمالی امریکہ: ریاست ہائے متحدہ امریکہ، ٹرینیڈاڈ، برٹش گی آنا۔
یورپ: انگلینڈ، سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، سپین، ڈنمارک، جرمنی۔
مغربی افریقہ: نائیجیریا، غانا، سیرالیون، لائبیریا، گیمبیا، آئیوری کوسٹ، ٹوگو لینڈ۔
مشرقی افریقہ: کینیا، ٹانگا، یوگنڈا، ماریشس، جنوبی افریقہ۔
مشرق وسطیٰ: فلسطین، لبنان، شام، عدن، مصر، کویت، عراق، بحرین، دوبئی۔
ممالک بحر ہند: برما، سیلون۔
مشرق بعید: ہانگ کانگ، سنگاپور، کوالالمپور، شمالی بورنیو، جاپان، جزائر فجی، فلپائن اور انڈونیشیا۔
ان کے علاوہ چین، ایران، اردن، ایتھوپیا، سومالی لینڈ، کانگو، سویڈن، ناروے، فرانس، اٹلی، جزائر سسلی، رومانیہ، بلغاریہ، یوگوسلاویہ البانیہ ہنری پولینڈ ارجنٹائن اور دیگر کئی ممالک میں باقاعدہ مبلغین کے ذریعہ احمدیت کا پیغام پہنچایا جاچکا تھا اور کئی ممالک میں لٹریچر کے ذریعہ احمدیت سے روشناس کرایا گیا ۔
واشنگٹن، ہیمبرگ (جرمنی)، فرینکفرٹ (جرمنی)، زیورک (سوئٹزرلینڈ)، ہیگ (ہالینڈ)، نیروبی (کینیا)، جنجہ کسموں (ٹانگانیکا) کے علاوہ کئی ممالک میں اہم مقامات پر 311 شاندار بیوت الذکر تعمیر کی گئیں۔
ممالک بیرونی میں57 کالج/ سکول کام کررہے تھے جن کے ذریعہ دینی اور دنیوی دونوں قسم کے علوم کی تعلیم جاری تھی۔
اشاعت اسلام کے لئے مختلف ملکوں اور مختلف زبانوں میں 122 اخبارات اور رسائل جاری ہوئے۔ قرآن کریم کے تراجم انگریزی، ڈچ، جرمنی اور سواحیلی زبان میں شائع ہوئے اور دو زبانوں میں کچھ حصہ اشاعت پذیر ہوا۔ تین زبانوں میں ترجمہ زیر اشاعت تھا۔ بارہ اور زبانوں میں ترجمہ ہو چکا تھا جو بعد میں زیور اشاعت سے آراستہ ہوا اور تین زبانوں میں ترجمہ ہورہا تھا۔ لٹریچر کے لحاظ سے ٹریکٹ اور پمفلٹ اور انگریزی اور عربی کی کتب کروڑوں کی تعداد میں تقسیم کی گئیں۔ ملکی زبانوں میں ہر جگہ لٹریچر تیار کیا جارہا تھا۔ متعدد اہم کتابوں کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوا۔ اشاعت لٹریچر پر قریباً پونے دو لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کیا جارہا تھا۔
اس تحریک کا مرکزی ادارہ جو تحریک جدید انجمن احمدیہ کے نام سے موسوم ہے گورنمنٹ کے سوسائٹی ایکٹ کے ماتحت باقاعدہ رجسٹر شدہ ہے اور مرکز ربوہ میں اس کے دفاتر اس کی اپنی تعمیر کردہ شاندار عمارت میں ہیں۔ جس کی جدید پر شکوہ عمارت تعمیر ہو چکی ہے کارکنان کے لئے بیسیوں کوارٹرز بھی یہ ادارہ تعمیر کرواچکا ہے۔ یہ تنظیم مرکز میں ایک مرکزی تعلیمی ادارہ (جامعہ احمدیہ) بھی چلا رہی ہے جو سلسلہ کی ضروریات کو پورا کررہا ہے۔ 1965ء کے آخر تک اس تنظیم میں جو عملہ کام کررہا تھا اس کا علم مندرجہ ذیل گوشوارہ سے ہوتا ہے۔
مرکزی دفاتر:
وکلاء 5۔ نائب وکلائ8۔ محررین 40۔ انسپکٹر 7۔ مددگار کارکن و دیگر 23۔
جامعہ احمدیہ:
پرنسپل 1۔ اساتذہ 19۔ لائبریرین1۔ محرر 3۔ دیگر کارکنان 7
بیرونی مشنز:
پاکستانی مبلغ 61۔ مقامی مبلغ 65۔ دیگرکارکنان 20
بیرونی تعلیمی ادارے:
پاکستانی ٹیچرز اور پروفیسرز 13 (مقامی ٹیچرز اور پروفیسرز ان کے علاوہ ہیں)
میڈیکل مشنز:
پاکستانی سند یافتہ ڈاکٹر 30 ۔ ان کے علاوہ 33 مبلغین باہر جانے کے لئے تیار تھے۔
اس سارے نظام میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بے پناہ وسعت پیدا ہوچکی ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں جامعہ احمدیہ کی شاخیں قائم ہوچکی ہیں جن میں واقفین نو کی بڑی تعداد حصول علم میں مصروف ہے۔
تازہ کوائف
نومبر 2007ء تک تحریک جدید کی مالی قربانی میں شامل ہونے والوں کی تعداد 4 لاکھ 68 ہزار ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا میں بیشمار رضاکار اس کی تشخیص، وصولی اور اس کے مقاصد کی تکمیل کے لئے سرگرم عمل ہیں۔
جولائی 2006ء اور پھر 28 جولائی 2007ء میں جلسہ سالانہ برطانیہ پر حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے احمدیت کی ترقیات کے جو کوائف بیان فرمائے ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے۔
دنیا کے 189 ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ اس سال 4 نئے ممالک میں احمدیت قائم ہوئی۔ جن میں گواڈے لوپ، سینٹ مارٹن، فرنچ گیانا اور ھیٹی شامل ہیں۔
653 نئی جماعتوں کا قیام ہوا اور 631 نئے مقامات پر پہلی بار جماعت کا پودا لگا۔ اس طرح کل 1284 نئے مقامات پر احمدیت کا نفوذ ہوا۔
1984ء کے بعد 21 سالوں میں جماعت کو 14304 بیوت الذکر بنانے کی توفیق ملی یا بنی بنائی ملیں۔
گزشتہ 15 سالوں میں ساڑھے سولہ کروڑ افراد احمدیت میں داخل ہوچکے ہیں۔ 64 زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر میں دعوت الی اللہ کے 1587 مراکز قائم ہو چکے ہیں۔
55 ممالک میں 650 سے زائد ہومیوپیتھک کلینک قائم ہیں۔
186 نئے مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا اور 97 ممالک میں کل تعداد 1869 ہو چکی ہے۔
جماعت برطانیہ نے نئی جلسہ گاہ حدیقۃ المہدی خریدی جو 208 ایکڑ پر مشتمل ہے۔
74 زبانوں میں کتب اور فولڈر تیار کرائے گئے۔ رسالہ الوصیت کا 11 زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ تفسیر کبیر کی 6 جلدوں کا عربی ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔
دنیا میں لگنے والی 273 نمائشوں کے ذریعہ 3لاکھ سے زائد افراد تک پیغام پہنچایا گیا۔
رقیم پریس لندن کے تحت افریقہ کے 8 ممالک میں پریس کام کررہے ہیں۔
نصرت جہاں سکیم کے تحت افریقہ کے 12 ممالک میں 34 ہسپتال کام کررہے ہیں۔ 11 ممالک میں 494 سکول جاری ہیں۔
مختلف ممالک میں 1398 ٹی وی پروگرام دکھائے گئے جو 813 گھنٹوں پر مشتمل تھے۔ ریڈیو پروگرام 11873 گھنٹوں پر مشتمل ہیں۔ ان ذرائع سے 8 کروڑ اور 6 کروڑ افراد تک پیغام پہنچایا گیا۔
احمدیہ ویب سائٹ پر 170 کتابیں آگئی ہیں۔
تحریک وقف نو میں 34 ہزار 811 بچے شامل ہو چکے ہیں۔
31 ہومیو ڈسپنسریوں سے 37,412 مریضوں نے فائدہ اٹھایا۔ طاہر ہومیوپیتھک انسٹی ٹیوٹ میں 1,21,390 مریضوں کا علاج کیا گیا۔
ہیومینیٹی فرسٹ 19 ممالک میں رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ پاکستان کے زلزلہ میں 5 لاکھ 20 ہزار کلوگرام امدادی سامان دیا گیا۔


قیام مساجد کے لئے تحریکات
حضرت مصلح موعودؓ کو قیام نماز کے ساتھ تعمیر مساجد کی طرف بھی خاص توجہ تھی اور آپ کے دور خلافت میں قریباً311 مساجد تعمیر ہوئیں یا ان میں توسیع ہوئی۔
نئی تعمیر ہونے والی مساجد میں سب سے اہم مسجد فضل لندن ہے جس نے تاریخ احمدیت بلکہ تاریخ اشاعت اسلام میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔
مسجد فضل لندن
انگلستان میں جماعت احمدیہ کا باقاعدہ مشن 1914ء سے کام کررہا تھا مگر اپنا مشن ہاؤس اور مسجد نہ تھی۔
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے لندن میں مسجد کی تعمیر کے لئے احباب جماعت کو مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تحریک کرنے کے لئے 6 جنوری 1920ء کو ایک مضمون تحریر فرمایا۔
اس میں حضور انور نے اس امر کی طرف متوجہ کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انگلستان میں کامیابی کے ساتھ تبلیغ کا کام جاری ہے، وہاں کے مبلغین اس امر پر زور دیتے رہے ہیں کہ تبلیغ کے فریضہ کو کماحقہٗ ادا کرنے کے لئے اس ملک میں مسجد کی تعمیر کرنا ضروری ہے۔ تاکہ لوگوں کی توجہ کو زیادہ مؤثر رنگ میں اسلام کی طرف منتقل کیا جاسکے۔ حضور نے فرمایا کہ ہمارے مبلغین کی یہ درخواست واقعی قابل توجہ ہے۔ مگر میرے نزدیک اپنی مسجد بنانے کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسجد میں کچھ خاص برکات ہیں جو بغیر مسجد کے حاصل نہیں ہوتیں۔ (انوارالعلوم جلد5 ص3)
اس سلسلہ میں تحریک کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔
’’یاد رکھیں انگلستان وہ مقام ہے جو صدیوں سے تثلیث پرستی کا مرکز بن رہا ہے۔ اس میں ایک ایسی مسجد کی تعمیر جس پر سے پانچ وقت لاالٰہ الا اللہ کی صدا بلند ہو کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا عظیم الشان کام ہے جس کے نیک ثمرات نسلاً بعد نسلٍ پیدا ہوتے رہیں گے اور تاریخیں اس کی یاد کو تازہ رکھیں گی۔ وہ مسجد ایک نقطۂ مرکزی ہوگی جس میں سے نورانی شعاعیں نکل کر تمام انگلستان کو منور کر دیں گی‘‘۔ (انوارالعلوم جلد5 ص4)
حضور نے مسجد کے لئے 30 ہزار روپیہ کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’یہ موقع اس کام کے لئے سب سے بہتر ہے کیونکہ اس وقت پونڈ کی قیمت گری ہوئی ہے اور ہم اگر یہاں سے دس روپے بھیجیں تو ولایت میں اس کے بدلہ میں ایک پاؤنڈ مل جاتا ہے۔ گویا اس وقت روپیہ بھیجنے سے ہمیں ڈیوڑھا روپیہ ملنے کی امید ہے۔ پس ان تمام امور کو مد نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی ماہ میں ایک معقول رقم جس کا اندازہ تیس ہزار کیا جاتا ہے۔ مسجد لندن کے لئے یہاں سے بھجوا دی جائے جو امید ہے کہ وہاں پچاس ہزار کے قریب ہو جاوے گی اور اس سے ایک گزارہ کے قابل مسجد اور مختصر مکان بن سکے گا اور میں اس اعلان کے ذریعہ تمام احمدی احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ جلد اس رقم کوپورا کرنے کی کوشش کریں اور اپنے اپنے چندے فوراً بھجوادیں تاکہ اسی ماہ ولایت روانہ کئے جاسکیں‘‘۔ (انوارالعلوم جلد5 ص3)
حضور نے یہ مضمون تحریر فرمایا اور اشاعت سے قبل 7 جنوری 1920ء کو اہل قادیان کو ایک خطاب کے ذریعہ مسجد لندن کے لئے تحریک فرمائی تو فوری طور پر 5 ہزار کے قریب چندہ قادیان سے ہی ہوا تھا۔ حضور فرماتے ہیں:۔
’’دوسرے دن پھر عورتوں اور مردوں میں تحریک کی تو چندہ کی مقدار گیارہ ہزار سے بھی بڑھ گئی اور بارہ ہزار کے قریب پہنچ گئی۔ جس میں سے سات ہزار وصول بھی ہوچکا ہے اور باقی بہت جلد وصول ہو جائے گا۔ … اس غریب جماعت سے اس قدر چندہ کی وصولی خاص تائید الٰہی کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اس چندہ کے ساتھ شامل ہے۔ ان دنوں میں قادیان کے لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا اور اس کا وہی لوگ ٹھیک اندازہ کرسکتے ہیں جنہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا ہو۔ اخلاص تو نیا نہیں پیدا ہوتا۔ وہ تو دل میں پہلے سے ہوتا ہے مگر اس کے اظہار کا یہ ایک خاص موقع تھا اور یوں معلوم ہوتا تھا کہ قادیان کے احمدیوں کا اخلاص ابلنے کے درجہ پر پہلے سے پہنچا ہوا تھا اور صرف بہانہ ڈھونڈ رہا تھا اور جماعت کے اس ولولہ کو دیکھتے ہوئے حضور نے چندہ کی رقم 30 ہزار سے بڑھا کر ایک لاکھ کر دی‘‘۔ (انوارالعلوم جلد5 ص7,5)
اس تحریک کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو کامیابی کی بشار ت اور راہنمائی سے بھی نوازا۔ فرمایا:۔
’’مجھے خداتعالیٰ کی رویت ہوئی ہے جس سے مجھے یقین ہے کہ یہ کام مقبول ہے جہاں تک مجھے یاد ہے وہ یہی ہے کہ میں مسجد لندن کا معاملہ خداتعالیٰ کے حضور پیش کررہا تھا میں اللہ تعالیٰ کے حضور دو زانو بیٹھا تھا کہ خدا تعالیٰ نے فرمایا۔ جماعت کو چاہئے کہ ’’جد‘‘ سے کام لیں اور ’’ھزل‘‘ سے کام نہ لیں۔ ’’جد‘‘ کا لفظ مجھے اچھی طرح یاد ہے اور اس کے مقابلہ میں دوسرا لفظ ’’ھزل‘‘ اس حالت میں معاً میرے دل میں آیا تھا اس کے معنے یہ ہیں کہ جماعت کو چاہئے کہ اس کام میں سنجیدگی اور نیک نیتی سے کام لے ہنسی اور محض واہ واہ کے لئے کوشش نہ کرے‘‘۔ (رویا و کشوف سیدنا محمود ص55)
چنانچہ جماعت نے جس سنجیدگی اور اخلاص سے حضور کی اس تحریک میں حصہ لیا۔ وہ اپنوں کو تو کیا غیروں کو بھی متاثر کئے بغیر نہ رہ سکا۔ چنانچہ آریہ اخبار پرکاش لاہور نے اپنے 18 جنوری 1920ء کے ایشوع میں لکھا کہ:۔
’’اس مسجد لندن کے خرچ کا کا اندازہ تیس ہزار لگایا گیا ہے۔ لندن جیسے شہر میں تیس ہزار کی لاگت پر ایک مسجد کا تیار ہونا ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ لیکن اس بات کو چھوڑ کر ہم ان کی ہمت کی طرف نظر ڈالتے ہیں۔ مرزا محمود احمد صاحب نے قادیان کے احمدیوں سے اپیل کی جس پر بارہ ہزار روپیہ جمع ہو گیا۔ جب قادیان میں اس قدر روپیہ جمع ہو گیا تو تیس ہزار کا جمع ہونا کیا مشکل ہے‘‘۔
(الفضل 29 جنوری 1920ئ)
اخبار تنظیم امرتسر نے اپنے ایشوع مورخہ 20 دسمبر 1926ء میں لکھا:۔
’تعمیر مسجد کی تحریک 6 جنوری 1920ء میں امیر جماعت احمدیہ نے کی۔ اس سے زیادہ مستعدی اس سے زیادہ ایثار اور اس سے زیادہ سمع و اطاعت کا اسوہ حسنہ اور کیا ہوسکتا ہے کہ 10 جون تک ساڑھے اٹھہتر ہزار روپیہ نقد اس کارخیر میں جمع ہو گیا تھا۔ کیا یہ واقعہ نظم و ضبط امت اور ایثار و فدائیت کی حیرت انگیز مثال نہیں‘‘۔ (تاثرات قادیان بحوالہ تاریخ احمدیت جلد4 ص253)
چنانچہ 1920ء میں مسجد فضل لندن کے لئے زمین خرید لی گئی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے پہلے سفر یورپ میں 19 ؍اکتوبر 1924ء کواس کا سنگ بنیاد رکھا اور سر شیخ عبدالقادر صاحب نے 3؍اکتوبر 1926ء کو اس کا افتتاح فرمایا۔
مسجد برلن :
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ایک عرصہ سے جرمنی میں تعمیر مسجد کے لئے جدوجہد فرمارہے تھے۔ آخر ستمبر 1922ء میں مولوی مبارک علی صاحب لندن سے برلن بھیجے گئے۔ انہوں نے حضور کی ہدایت پر وہاں زمین کا انتظام کرلیا۔ جس پر حضور نے 2 فروری 1923ء کو یہ تحریک فرمائی کہ مسجد برلن کی تعمیر خواتین کے چندہ سے ہو۔
فرمایا میں نے سوچنے اور غور کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ جرمنی میں جو مسجد بننے والی ہے وہ عورتوں کے چندہ سے بنے۔
پھر حضور نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’میرا یہ منشاء ہے کہ جرمن میںمسجد عورتوں کے چندہ سے بنے۔ کیونکہ یورپ میں لوگوں کا خیال ہے کہ ہم میں عورت جانور کی طرح سمجھی جاتی ہے۔ جب یورپ کو یہ معلوم ہوگا کہ اس وقت اس شہر میں جو دنیا کا مرکز بن رہا ہے۔ اس میں مسلمان عورتوں نے جرمن کے نومسلم بھائیوں کے لئے مسجد تیار کرائی ہے تو یورپ کے لوگ اپنے اس خیال کی وجہ سے جو مسلمان عورتوں کے متعلق ہے۔ کس قدر شرمندہ اور حیران ہوں گے اور جب وہ مسجد کے پاس سے گزریں گے تو ان پر ایک موت طاری ہوگی اور مسجد بآواز بلند ہر وقت پکارے گی کہ پادری جھوٹ بولتے ہیں جو کہتے ہیں کہ عورت کی اسلام میں کچھ حیثیت نہیں۔ وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عورتیں بالکل جانور ہیں اور ان کو جانور ہی سمجھا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے۔ مسلمان عورتوں کو جانور کی طرح سمجھتے ہیں۔ اب جب صرف عورتوں کے چندہ سے وہاں مسجد بنے گی۔ تو ان کو یہ معلوم ہوگا کہ یہاں کی عورتوں کو تو یہ بھی علم ہے کہ ایسے لوگ بھی دنیا میں ہیں جو ایک بندے کی پرستش کرتے ہیں‘‘۔ (خطبات محمود جلد8 ص19)
…میں اب خطبہ کے ذریعہ تمام احمدی عورتوں کو تحریک کرتا ہوں کہ وہ اس کام کے لئے تین ماہ کے اندر پچاس ہزار روپیہ چندہ جمع کردیں۔ ہاں یہ یاد رہے کہ مردوں کا ایک پیسہ بھی اس کام میں نہیں لیا جائے گا۔ اگر کسی مرد کی طرف سے چندہ آگیا تو وہ کسی اور مد کی طرف منتقل کردیاجائے گا۔ اس میں صرف عورتوں کا ہی روپیہ ہوگا تاکہ یہ مسجد ہمیشہ کے لئے عورتوں کی ہی یادگار رہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ عورتوں کو اس کام کی توفیق عطا کرے۔ (خطبات محمود جلد8 ص21)
اس تحریک نے احمدی خواتین کا مطمح نظر بلند کرکے ان میں اخلاص و قربانی اور فدائیت اور للہیت کا ایسا زبردست ولولہ پیدا کردیا کہ (متحدہ) ہندوستان کی اسلامی تاریخ میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی اور اگر ملتی ہے تو صرف اور صرف قرون اولیٰ کی صحابیات میں!!
چنانچہ ام المومنین حضرت اماں جانؓ کو ایک جائیداد میں سے پانچ سو روپے کا حصہ ملا تھا جو آپ نے سب کا سب چندہ میں دے دیا۔ حضرت نواب مبارکہ بیگمؓ صاحبہ نے ایک ہزا ر روپیہ دیا۔ حضرت نواب امۃ الحفیظ بیگمؓ صاحبہ، بیگم صاحبہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ۔ حضرت ام داؤدؓ (اہلیہ حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ) اور بیگم صاحبہ خان بہادر حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحبؓ نے مقدور بھر حصہ لیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے اہل بیت بھی خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دوسری مبارک خواتین سے اپنی قربانی میں پیچھے نہیں رہے۔ حضرت ام ناصر کو حضور کی طرف سے ایک رقم ملی تھی جس کا نصف آپ نے وصیت میں اور باقی اس تحریک میں دے دیا۔ حضرت امۃ الحی صاحبہ نے ایک سو روپیہ پیش کیا۔ حضرت ام طاہر نے اپنا ایک گلوبند بھی دیا اور کچھ نقدی بھی۔
قادیان کی دوسری احمدی خواتین میں سے حضرت شیخ یعقوب علیؓ صاحب عرفانی، حضرت قاضی امیر حسینؓ صاحب کے گھروالوں اور حامدہ بیگم صاحبہ (دختر حضرت پیر منظور محمد صاحبؓ) نے نمایاں حصہ لیا۔ ایک نہایت غریب و ضعیف بیوہ جو پٹھان اور مہاجر تھی اور سونٹی لے کر بمشکل چل سکتی تھی خود چل کر آئی اور حضور کی خدمت میں دو روپے پیش کردیئے۔ یہ عورت بہت غریب تھی اس نے دو چار مرغیاں رکھی ہوئی تھیں جن کے انڈے فروخت کرکے اپنی کچھ ضروریات پوری کیا کرتی تھی۔ باقی دفتر کی امداد پر اس کا گزارہ چلتا تھا۔ ایک پنجابی بیوہ عورت نے جس کے پاس زیور کے سوا کچھ نہ تھا اپنا ایک زیور مسجد کے لئے دے دیا۔ ایک اور بیوہ عورت جو کئی یتیم بچوں کوپال رہی تھی اور زیور اور مال میں سے کچھ بھی پیش کرنے کے لئے موجود نہ تھے اپنے استعمال کے برتن ہی چندہ میں دے دیئے۔ ایک خاتون نے اپنا زیور چندہ میں دے دیا تھا دوبارہ گھر گئی کہ بعض برتن بھی لاکر حاضر کردوں۔ اس کے خاوند نے کہا کہ تو زیور دے چکی ہے اس نے جواب دیا کہ میرے دل میں اس قدر جوش پیدا ہورہا ہے کہ اگر خدا اس کے دین اور اس کے رسول کے لئے ضرورت پیش آئے (اور ایسا ممکن اور جائز ہو) تو میں تجھے بھی فروخت کرکے چندہ میں دے دوں یہ الفاظ گوہرگز قابل تعریف نہ تھے نہ شرعاً نہ اخلاقاً مگر ان سے اس جوش کا ضرور اندازہ ہوسکتا ہے۔ جس نے ایک غیر تعلیم یافتہ عورت کا جذبہ فدائیت ان الفاظ میں ظاہر کردیا۔ ایک بھاگلپوری دوست کی بیوی دو بکریاں لئے الدار میں پہنچی اور کہا کہ ہمارے گھر میں ان کے سوا کوئی چیز نہیں۔ یہی دو بکریاں ہیں جو قبول کی جائیں۔
قادیان کے باہر کی مستورات نے بھی قربانی کے قابل رشک اور قابل فخر نمونے دکھائے۔ چنانچہ اہلیہ صاحبہ کپتان عبدالکریم صاحب (سابق کمانڈرانچیف ریاست خیرپور) نے اپنا کل زیور اور اعلیٰ کپڑا چندے میں دے دیا۔ اس قسم کے اخلاص کا نمونہ چوہدری محمد حسین صاحب صدرقانونگو سیالکوٹ، سیٹھ ابراہیم صاحب، خان بہادر علی خاں صاحب اسسٹنٹ پولیٹیکل افسر چکدرہ (بنوں) حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری، ڈاکٹر اعظم علی صاحب جالندھری، خان بہادر صاحب خان نون اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر، حضرت ڈاکٹر قاضی کرم الٰہی صاحب امیر جماعت امرتسر (والد ماجد قاضی محمد اسلم صاحب) میاں محمد دین صاحب واصل باقی نویس کے خاندان کی مستورات نے بھی دکھایا۔
(الفضل یکم مارچ 1923ء ص2,1)
اس طرح جماعت کی خواتین نے فوری طور پر 50ہزار روپیہ جمع کردیا مگر خداتعالیٰ کی تقدیر تھی کہ جرمنی کے حالات یکایک بدل گئے۔ کاغذی روپیہ کو عملاً منسوخ کردیا گیا اور سکہ سونے کا جاری کردیا گیا۔ اس وجہ سے دو تین سوگنا قیمت بڑھ گئی۔ پہلے اندازہ تھا کہ تیس ہزار میں مسجد بن جائے گی۔ مگر اب یہ اندازہ 15 لاکھ روپیہ تک جاپہنچا۔ اس لئے حضور نے بمشورہ نمائندگان جماعت تعمیر مسجد کے کام کو ملتوی کردیا اور مسجد برلن کے لئے جو رقم وصول ہوئی تھی وہ لندن مشن کو مضبوط بنانے میں لگا دی گئی۔
مسجد برلن کی تعمیر کا یہ خواب خلافت خامسہ میں پورا ہورہا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2 جنوری 2007ء کو مسجد برلن کا سنگ بنیاد رکھا۔ (الفضل 23 جنوری 2007ء ص8)
مسجد لندن کا خرچ:
مسجد لندن کی تعمیر کے بعد انگلستان میں تبلیغ اسلام کا کام روز بروز بڑھ رہا تھا چنانچہ مبلغ انگلستان خان صاحب فرزند علی صاحب کی طرف سے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں یہ درخواست پہنچی کہ کام زیادہ ہے اور عملہ بڑھانے کی ضرورت ہے اس کی تائید حضرت شیخ یعقوب علیؓ صاحب عرفانی نے بھی ولایت کے دوران قیام میں کی تھی۔ اس لئے حضور نے فیصلہ صادر فرمایا کہ ایک مبلغ کا وہاں اضافہ کردیا جائے اور بجائے ہندوستان سے کوئی نیا مبلغ بھیجنے کے خود انگلستان کے کسی نو مسلم کو اس کام پر مقرر کیا جائے۔ صدر انجمن کے بجٹ میں اس کی گنجائش نہیں تھی اس لئے حضور نے 12؍اکتوبر 1928ء کو احمدی خواتین کو تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔
لندن کی مسجد چونکہ احمدی عورتوں کے چندہ سے بنی ہے اس لئے انہی کی ہے۔ مردوں کا روپیہ مکان خریدنے اور تجارت پر لگایا گیا اور کچھ روپیہ یہاں جماعت کے لئے جائیداد خریدنے پر صرف کیا گیا تھا اس طرح چونکہ مردوں کا روپیہ خرچ ہوا تھا اس لئے لندن کی مسجد عورتوں کے اس روپیہ سے بنی ہے جو مسجد کے لئے جمع کیا گیا تھا۔ چونکہ وہ مسجد عورتوں ہی کی ہے اس لئے اس مشن کا سارا خرچ عورتوں کو ہی برداشت کرنا چاہئے۔ اس سال نوہزار کی تحریک عورتوں میں کی جاتی ہے … میں سمجھتا ہوں تمام دنیا میں پھیلی ہوئی جماعت کی عورتوں کے لئے 9 ہزار کی رقم نہایت قلیل ہے اور وہ بہت جلدی اسے پورا کردیں گی۔ … نیز فرمایا کہ مرد اس تحریک میں حصہ نہ لیں۔ (خطبات محمود جلد11 ص499)
چنانچہ احمدی مستورات نے حسب سابق حضور کے اس مطالبہ پر پورے اخلاص سے لبیک کہا اور قادیان، امرتسر، لدھیانہ، کراچی، گوجرانولہ، سنتوکداس، سیالکوٹ، کیمبل پور، لاہور، فیروزپور، لالہ موسیٰ، گھٹیالیاں، میلسی، ملتان، میرٹھ، دہلی، نوشہرہ چھاؤنی، ایبٹ آباد، فیض اللہ چک ضلع گورداسپور، ضلع محبوب نگر، ڈیرہ غازی خاں، جہلم، بھیرہ، چکوال، کتھوالی چک 312، کوہاٹ اور راولپنڈی وغیرہ مقامات کی مستورات نے اس مالی قربانی میں نہایت اخلاص سے حصہ لیا۔ بیرونی ممالک میں سے ماریشس کی احمدی عورتوں نے بھی چندہ دے کر اپنے اخلاص کا ثبوت دیا۔
(الفضل 23؍اکتوبر 1928ئ)
مسجد لندن کی مرمت کے لئے خواتین سے اپیل:
حضرت مصلح موعودؓ نے 1931ء میں فرمایا:۔
انگلستان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد لندن میں جو صرف احمدی خواتین کے روپیہ سے تیار ہوئی تھی اور جس کی وجہ سے ہماری جماعت کی مستورات کے اخلاس اور قربانی کی تمام دنیا میں دھوم مچ گئی تھی۔ اس کا گنبد کسی انجینئرنگ کے نقص کی وجہ سے خطرہ کی حالت میں ہے اور عمارت کے فن کے ماہروں نے مشورہ دیا ہے کہ فوراً گنبد کی مرمت کی جائے اور ایسے خول چڑھائے جائیں جن سے وہ کلی طورپر محفوظ ہو جائے ورنہ مسجد کی تمام عمارت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہی نہیں بلکہ غالب یقین ہے … ضروری مرمت کے اندازے بھی میں نے لگوائے ہیں اور کم سے کم اندازہ چھ ہزار روپیہ کاہے۔ لیکن چونکہ اخراجات عام طور پر اندازوں سے بڑھ جایا کرتے ہیں۔ اس لئے اصل اندازہ سات اور آٹھ ہزار کے درمیان لگانا چاہئے۔
اس رقم کے جمع کرنے کے لئے میں خواتین جماعت احمدیہ سے اپیل کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قدر عظیم الشان یادگار قائم کرنے کے بعد اگر انہوں نے اس کی ضروری مرمت سے بے توجہی کی تو جس طرح دنیا میں ان کی شہرت ہوئی ہے اسی طرح ان کی دوسری سستی کی وجہ سے بدنامی ہوگی۔
عورتوں کو ترغیب دلاتے ہوئے فرمایا:
اپنے عمل سے یہ ثابت کردو کہ اگر دوسری قوموں کی عورتیں مذہبی اور قومی کاموں سے بے پرواہ اور غافل ہیں تو احمدی جماعت کی مستورات ایسی نہیں ہیں۔ انہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ دل و گردہ دیا ہے کہ ہر ایک آواز جو دین کی خدمت کے لئے اٹھتی ہے۔ وہ اس پر لبیک کہتی ہیں اور دین کی خدمت پر ان کے دل میں ملال نہیں پیدا ہوتا بلکہ ان کا دل اس خوشی سے بھر جاتا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایک کام کرنے کا موقع ملا۔ (الفضل 27؍اگست 1931ئ)
حضور کی اس تحریک میں بیگم صاحبہ سیٹھ عبداللہ الٰہ دین صاحب نے مبلغ ایک ہزار روپیہ چندہ دیا اور باقی رقم بھی دوسری خواتین سلسلہ کے اخلاص اور قربانی کی وجہ سے وقت کے اندر پوری ہو گئی۔
مسجد اقصیٰ قادیان کی توسیع کی تحریک:
حضور نے فرمایا:
’’یہ مسجد جو کسی وقت آدمیوں کی محتاج تھی اب ہمارے لئے تنگ ہورہی ہے اب وہ دن آگیا ہے کہ ہم اسے بڑھانے کی کوشش کریں۔ اس کے جس طرف راستہ ہے۔ ادھر تو بڑھائی نہیں جاسکتی۔ اس لئے اس کے بڑھانے کی صرف یہی صورت ہے کہ دوسری طرف کے مکانات خرید کر اس میں شامل کرلئے جائیں۔ ایک مکان تو خرید بھی لیا گیا ہے اور اگر خدا نے چاہا تو کسی وقت مسجد میں شامل کیا جاسکے گا۔ … میں نے سنا ہے کہ ایک دوست اپنا مکان فروخت کرنا چاہتے ہیں۔ کارکنوں کو چاہئے کہ اگر وہ فروخت کریں تو اسے خرید لیں اور اس کی تعمیر کو صرف قادیان والے اپنا فرض سمجھیں۔ یہ غلط اصول ہے کہ ہم مقامی کاموں میں بیرونی جماعتوں کی امداد کے خواہشمند ہوں … کوئی وجہ نہیں کہ قادیان کی ساری جماعت مل کرپانچ چھ ہزار روپیہ مرکزی مسجد کے لئے خرچ نہ کرسکے میں جانتا ہوں کہ بعض بیرونی مخلصین اس بات کو ناپسند کریں گے کہ اس مسجد کی توسیع میں جسے اللہ تعالیٰ نے مسجد اقصیٰ قرار دیا اور اس کے انوار کی جلوہ گاہ ہے اور جو درحقیقت ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ حصہ لینے سے انہیں محروم کیا جائے لیکن اس کی یہی صورت ہو سکتی ہے کہ اگر کوئی حصہ لینا چاہے تو لے ہم کسی کو حکم نہیں دیں گے کہ وہ ضرور اس میں حصہ لے … یاد رکھنا چاہئے کہ خداتعالیٰ کی برکات جس وقت نازل ہونا شروع ہوتی ہیں تو وہ آثار سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر وہ جماعت جسے دشمن چاہتے تھے کہ کچل دیں۔ ہر سال یا دوسرے تیسرے سال اپنی سابقہ عمارتوں کو اپنی وسعت کے مقابلہ میں تنگ محسوس کرنے لگے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا نشان ہے لیکن یہ بھی اس کی سنت ہے کہ وہ کسی جماعت کو وسعت دینا چاہتا ہے لیکن وہ اس کی طرف توجہ نہیں کرتی اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ساتھ ساتھ ترقی کرنے کی کوشش نہیں کرتی تو پھر اسے تنگ کردیتا ہے پس پیشتر اس کے کہ خداتعالیٰ کہے۔ جب یہ خود وسعت نہیں چاہتے تو انہیں کیوں وسعت دی جائے اور اس رنگ میں اس کی نگاہ ہم پر پڑے۔ اس طرف توجہ کرو اور جس قدر جلد ہوسکے۔ مسجد کو وسیع کردو اور دعائیں کرتے رہو کہ خداتعالیٰ اور بھی وسعت عطا فرمائے‘‘۔ (الفضل 14 فروری 1932ئ)
حضور کی اس اپیل پر احباب قادیان نے لبیک کہا اور بعض بیرونی جماعتوں کے احمدی افراد نے بھی حصہ لیا اور ان کی کوششوں سے اتنا چندہ جمع ہو گیا کہ خداتعالیٰ کے فضل سے مسجد اقصیٰ پہلے کی نسبت دوگنی ہوگئی۔ کچھ مکانات خرید کئے گئے اور حضور کی تجویز کے مطابق انہیں مسجد میں شامل کرلیا گیا۔
مسجد مبارک قادیان کی توسیع:
حضرت مصلح موعودؓ نے دعویٰ مصلح موعود کے بعد 9 مارچ 1944ء کو مسجدمبارک قادیان میں مجلس عرفان کے آغاز کا اعلان فرمایا۔ وہاں ساتھ ہی مسجدمبارک کی توسیع کا بھی فیصلہ کیا۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’اب اس کثرت سے لوگ یہاں نمازیں پڑھنے آرہے ہیں کہ کل سے میں بھی سوچ رہا ہوں اور بعض دوسرے دوست بھی کہ اب یہ مسجد اس قابل نہیں رہی کہ سب لوگ اس میں سما سکیں بلکہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے بڑھا دیا جائے۔ چنانچہ اس کے نتیجہ میں پہلی برکت تو یہ نازل ہوئی ہے کہ آج ہی میں نے فیصلہ کردیا ہے کہ اس مسجد کو پہلو کی طرف بڑھا دیا جائے۔ اس سے انشاء اللہ یہ مسجد موجودہ مسجد سے دوگنی ہو جائے گی۔ مسجد کے لئے یہ جگہ سالہا سال سے خریدی جاچکی تھی۔ … اب انشاء اللہ اس مسجد کو بڑھا دیا جائے گا۔ میں اپنے قلب میں ایسا محسوس کرتا ہوں جیسے خداتعالیٰ کی طرف سے یہ انکشاف ہوتا ہے۔ گوکسی الہام یا رویا کی بناء پر میں یہ نہیں کہہ رہا۔ مگر میرا قلب یہ محسوس کرتا ہے کہ ہر شخص جو یہاں نماز پڑھنے کے لئے آتا ہے وہ سلسلہ کی ترقی کے لئے ایک باب کھولتا ہے‘‘۔
(الفضل 6؍اپریل 1944ئ)
اس فیصلہ کے مطابق بہت جلد مسجد مبارک کی توسیع عمل میں آئی جس سے مسجد کی عمارت نہایت شاندار اور پہلے کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی۔ 2دسمبر 1944ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے نئے محراب میں نماز ظہر پڑھا کر اس کا افتتاح فرمایا۔ (الفضل 4 دسمبر 1944ئ)
اس حصہ کی توسیع کے لئے روپیہ حضرت سیدنا المصلح الموعود کی ذاتی اپیل پر دوستوں نے پُرجوش طوعی چندوں کی صورت میں پیش کیا جس میں ایک معقول حصہ خود حضور کے ذاتی چندہ کا تھا۔
حضور نے فرمایا:۔
’’کل عصر کے وقت میں نے اس کا ذکر کیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں مسجد مبارک کی توسیع کرنی چاہئے اس کا اثر یہ ہوا کہ شام کی نماز کے بعد جب میں بیٹھا تو میں نے بعض ایسے دوستوں کے نام لکھوانا شروع کردیا۔ جنہوں نے اس غرض کے لئے مجھے چندہ دیا ہوا تھا۔ اس پر دوسرے دوستوں نے بھی اس وقت چندہ دینا شروع کردیا اوربعض نے وعدے لکھوانے شروع کردیئے اور اس اخلاص سے چندے دیئے اور وعدے لکھوانے شروع کئے کہ نماز مغرب میں شامل ہونے والے نمازیوں سے ہی اندازہ کی رقم پوری ہوگئی۔ ہمارا اندازہ مسجد کی زیادتی کے خرچ کا 10 ہزار روپیہ کا تھا۔ مگر اب تک خداتعالیٰ کے فضل سے پندرہ ہزار روپے کے وعدے ہوچکے ہیں (جو آج ہفتہ کی شام تک سترہ ہزار سے زائد کے وعدے ہو چکے ہیں) اور ان میں سے سات ہزار روپیہ تو نقد وصول ہوچکا ہے۔ باقی روپیہ بھی امید ہے دو چار دنوں میں دوستوں کی طرف سے مل جائے گا۔ (آج ہفتہ کی شام تک دس ہزار روپیہ سے اوپر نقد آچکا ہے) یہ کیسا شاندار اخلاص کا نمونہ ہے جو ہماری جماعت نے دکھایا۔ دنیا میں آج کون سی جماعت ہے جو دین کی خدمت کے لئے ایسا نمونہ دکھا رہی ہے‘‘۔
(الفضل 14 مارچ 1944ئ)
اس توسیع کی نگرانی کا کام حضور کی خاص ہدایت کے تحت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے انجام دیا اور عملی نگرانی سید سردار حسین شاہ صاحب اوورسیئر نے کی۔ مسجد مبارک کی نئی توسیع عملاً دسمبر 1944ء ہی میں مکمل ہو چکی تھی اور اسی لئے حضور نے اس جدید حصہ میں نماز کا آغاز فرمادیا۔ مگر اس کی تکمیل کی بعض ضمنی تعمیرات 1945ء کے شروع تک جارہی رہیں۔ (الفضل 26 مارچ 1945ئ)
قیام مساجد کی تحریک
حضور نے 27 دسمبر 1944ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر فرمایا:۔
’’اس کے بعد میں مساجد کی تحریک کا ذکر کرتا ہوں میں نے اس سال یہ تحریک کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں کافی کامیابی ہوئی ہے۔ ام طاہر احمد مرحومہ کی وفات کے بعد میں نے مسجد مبارک کی توسیع کی تحریک کی تھی اور احباب نے دیکھ لیا ہوگا کہ اب کیسی شاندار مسجد بن چکی ہے۔ پہلے تو اندازہ تھا کہ اس پر 13,12 ہزار روپیہ خرچ آئے گا اور میرا یہ بھی ارادہ تھا کہ بیرونی دوستوں کو بھی اس میں حصہ لینے کا موقع دوں گا۔ مگر میں نے عصر کی نماز کے بعد یہ تحریک کی کہ میں چاہتا ہوں اس مسجد کو وسیع کیا جائے اورعشاء کی نماز تک سولہ ہزار کی بجائے قادیان کی جماعت نے ہی 24 ہزار روپیہ جمع کردیا۔ اس تحریک کے نتیجے میں مسجد مبارک پہلے کی نسبت دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے اور ابھی بعض اور سامان بھی اس کی وسعت کے ہیں اور خداتعالیٰ چاہے تو اس سے بھی وسیع ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس امر کی ضرورت ہے کہ مسجد اقصیٰ کو وسیع کیا جائے۔ چند ہی سال ہوئے ہم نے اس مسجد کو بڑھایا تھا۔ شیخ محمد یوسف صاحب ایڈیٹر نور نے مہربانی کرکے اپنا مکان انجمن کے پاس فروخت کردیا جسے مسجد میں شامل کرلیا گیا … اب وہ مسجد بھی تنگ ہوگئی ہے۔ دوسری طرف باہر کے دوستوں کی طرف سے میرے پاس یہ شکایت پہنچتی ہے کہ مسجد مبارک کے چندہ کی تحریک میں انہیں حصہ لینے کا موقع نہیں دیا گیا اب اگر مسجد اقصیٰ میں توسیع کی تحریک کی گئی تو باہر کے دوستوں کو ضرور اس میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے گا مگر ابھی اس تحریک کا موقع نہیں۔ اگر اس مسجد کو بڑھایا گیا تو میرا خیال ہے اس پر پچاس ہزار روپیہ بلکہ ممکن ہے ایک لاکھ روپیہ خرچ ہو۔ اب جن عمارات کو اس میں شامل کرکے اسے وسعت دی جاسکتی ہے وہ بہت قیمتی جائیدادیں ہیں۔ اس لئے اسے وسیع کرنے پر کافی خرچ آئے گا اور جب اس کا موقع آئے گا میں تحریک کردوں گا اور باہر کی جماعتوں کو اس میں شامل ہونے کا موقع دیا جائے گا۔
اس سال میں نے یہ تحریک بھی کی تھی کہ ہندوستان کے سات اہم مقامات پر مساجد تعمیر کرنا چاہئیں یعنی پشاور، لاہور، کراچی، دہلی، بمبئی، مدراس اور کلکتہ میں اور یہ تحریک بھی خداتعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہورہی ہے۔ دہلی کے دوستوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور سب نے ایک ایک ماہ کی آمد چندہ میں دی اور اس طرح اس مد میں تیس ہزار روپیہ کے وعدے ہو چکے ہیں اور کچھ روپیہ امانت فنڈ سے دے دیا گیا ہے۔ دوکنال زمین خرید لی گئی ہے جس کی قیمت پچاس ہزار روپیہ ہے یہ نواب پٹواری کی جائیداد ہے۔ ستر ہزار روپیہ عمارت کی تعمیر پر خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ یہ جگہ جو خریدی گئی ہے یہاں پہلے عیسائیوں کا مشن بنا تھا۔
مجھے اس سلسلہ میں ایک بات یاد آئی جس سے بہت لطف آیا۔ قریباً تیس سال پہلے مولوی محمد علی صاحب کی کوٹھی پر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے ہائی سکول اور بورڈنگ کی عمارتوں کی طرف اشارہ کرکے کہا تھا کہ ہم تو قادیان سے جارہے ہیں لیکن دس سال نہیں گزریں گے کہ ان عمارتوں پر عیسائیوں کا قبضہ ہوجائے گا۔ ان کی یہ بات تو خداتعالیٰ نے غلط ثابت کردی اور ہمیں توفیق دی کہ دہلی میں عین اس مقام پر ہم مسجد بنارہے ہیں جہاں سب سے پہلے عیسائیوں نے اپنا مشن قائم کیا تھا اور اس طرح بجائے اس کے کہ عیسائی ہماری عمارتوں پر قبضہ کرسکتے ہم کو اللہ تعالیٰ نے وہ جگہ دے دی جہاں انہوں نے پہلے اپنا مشن قائم کیا۔ امید ہے کہ ایک لاکھ بیس ہزار روپیہ میں وہاں ایک مسجد اور ایک ہال تعمیر ہوجائے گا۔ میرا تو اندازہ تھا کہ کم سے کم سوا لاکھ یا ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ ہوگا مگر دہلی کے دوستوں نے بتایا ہے کہ بعض تجاویز ایسی ہیں کہ انشاء اللہ انہیں سامان سستا مل سکے گا اور اس طرح بہت جلد وہاں مسجد، ہال اور ایک مہمان خانہ تعمیر ہوسکے گا اور ہندوستان کے سیاسی مرکز میں ہمارا تبلیغی مرکز قائم ہوجائے گا۔
دوسری جماعت جس نے جماعت دہلی سے بھی بڑھ کر اس تحریک میں حصہ لیا ہے وہ کلکتہ کی جماعت ہے۔ ابھی پانچ سات سال کی بات ہے کہ کلکتہ کی جماعت کا چندہ دوچار ہزار روپیہ سے زیادہ نہ ہوتا تھا مگر اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسا ہوا ہے کہ کچھ نئے آدمی وہاں گئے اور جو پہلے سے وہاں موجود تھے ان میں سے بعض کی حالت سدھر گئی اور اب یہ حالت ہے کہ اس جماعت نے 66 ہزار روپیہ چندہ مسجد کے لئے دیا ہے اور ان میں سے بعض نے تحریک کی ہے کہ اس چندہ کو ڈبل کیا جائے گویا ایک لاکھ تیس ہزار کے قریب ایک جگہ بھی انہوں نے مسجد کے لئے تجویز کی ہے جو امید ہے ساٹھ پینسٹھ ہزار میں مل جائے گی۔ ایک اور ٹکڑا زمین کا شہر کے اندر ہے مگر اس کی قیمت ڈیڑھ لاکھ روپیہ ہے میں نے یہی مشورہ دیا ہے کہ شہر کے باہر کے علاقہ میں بنائیں۔ باہر کے علاقہ میں تبلیغ میں سہولت ہوتی ہے وہاں مخالفت بھی بڑی ہوتی ہے تو اس طرح خداتعالیٰ کے فضل سے کلکتہ میں سامان ہورہا ہے اور جماعت نے 66 ہزار روپیہ جمع کردیا ہے۔
بمبئی میں ابھی جگہ خریدی نہیں گئی مگر وہاں بھی سامان ہورہا ہے۔ وہاں قبرستان کے لئے بھی جگہ حاصل کی جارہی ہے۔ بعض ممبروں کے دستخط بھی ہو چکے ہیں۔ صرف ایک کے باقی ہیں۔ فی الحال بمبئی میں زمین خریدنے کے لئے روپیہ مرکز سے بھجوایا گیا ہے۔
پشاور میں پہلے سے مسجد ہے مگر چھوٹی ہے وہاں مبلغ کے لئے مکان اور لیکچر ہال کی بھی ضرورت ہے اور میں صوبہ سرحد کے احمدیوں کو ہدایت کرتا ہوں کہ وہ کسی ایسی جگہ کا خیال رکھیں جہاں پاس آبادی بھی ہو اور جگہ کھلی مل سکے تا اگر ہوسکے تو وہاں عربی مدرسہ بھی جاری کیا جاسکے …
لاہور میں بھی اچھے موقع پر سات ایکڑ زمین خرید لی گئی ہے مگر اب حکومت کی طرف سے نوٹس دیا گیا ہے اور وہ اسے واپس لینا چاہتی ہے کوشش کی جائے گی کہ وہ واپس نہ لے … حیدرآباد بھی ہندوستان میں ایک اہم جگہ ہے سیٹھ عبداللہ الہٰ دین صاحب کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی اور انہوں نے 30,25 ہزار روپیہ صرف کرکے وہاں ایک احمدیہ جوبلی ہال تعمیر کرایا ہے۔ ہے تو وہ مسجد ہی مگر کہلاتی ہال ہے اب انہوں نے اسے اور بڑا کردیا ہے اور وہ اب تک اس پر قریباً پچاس ہزار روپیہ خرچ کرچکے ہیں۔
(انوارالعلوم جلد 17 ص486)
تعمیر مسجد مبارک ربوہ کی تحریک
مورخہ 3؍اکتوبر 1949ء کو بعد نماز عصر حضرت مصلح موعودؓ نے مسجد مبارک ربوہ کی بنیادی اینٹ اپنے دست مبارک سے رکھی۔ اس موقع پر حضور نے احباب جماعت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’چونکہ یہ ایک مرکزی مقام ہے اور ساری دنیا کے لوگوں سے اس کا تعلق ہے اس لئے ساری دنیا کے لوگوں کو ہی اس کی تعمیر میں حصہ لینا چاہئے۔ پس اس موقع پر میں تمام جماعتوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی توفیق کے مطابق اس مسجد کی تعمیر میں حصہ لیں۔ میرا خیال ہے کہ بیس پچیس ہزار روپیہ اور یا تیس پینتیس ہزار روپیہ اس پر خرچ ہوجائے گا‘‘۔ (الفضل6 ؍اکتوبر 1949ئ)
حضور نے اس موقع پر نہ صرف اپنی طرف سے اور اپنے بیوی بچوں کی طرف سے چندہ کے وعدے لکھوائے بلکہ اس خیال سے کہ بیرونی جماعتوں تک اطلاع دیر سے پہنچے گی اور اس طرح وہ شاید اسی نیک کام میں حصہ لینے سے محروم رہ جائیں گی ان کی طرف سے خود وعدے لکھوا دیئے اور فرمایا اگر یہ جماعتیں اس سے زیادہ رقم دینا چاہیں تو دے دیں اور اگر ان کی طرف سے اس سے کم رقم وصول ہوئی تو کمی میں خود پوری کروں گا۔ اس کے بعد موجود احباب نے اپنی طرف سے اور اپنی جماعتوں کی طرف سے وعدے لکھوائے اور حضور دعا کے بعد قصر خلافت تک نہیں پہنچے تھے کہ 16 ہزار کی رقم کے وعدے ہوگئے۔ دفتر میں جو وعدے بعد میں لکھوائے گئے ان کی مقدار سترہ ہزار سے اوپر چلی گئی اور اسی دن شام تک سولہ ہزار سات سو روپے کی رقم نقد وصول ہوگئی۔ باقی احباب کے وعدے جو بعد میں وصول ہوئے۔ انہیں ملا کر مطلوبہ رقم پوری ہوگئی اور یہ مسجد قریباً پچاس ہزار روپے کی لاگت سے تیار ہوگئی۔ 25؍اکتوبر تک جماعت احمدیہ ربوہ کی طرف سے ایک ہزار روپیہ چندہ میں دیا گیا۔
مسجد ہالینڈ کے لئے تحریک
حضرت مصلح موعودؓ نے ہالینڈ کی مسجد احمدی عورتوں کے چندہ سے تعمیر کرنے کی تحریک فرمائی اور خواتین احمدیت نے اپنی روایت کے مطابق اس پر والہانہ لبیک کہا۔ چنانچہ حضور نے فرمایا:۔
’’ہالینڈ کی مسجد کے متعلق عورتوں میں تحریک کی گئی تھی انہوں نے مردوں سے زیادہ قربانی کا ثبوت دیا ہے … انہوں نے زمین کی قیمت ادا کردی ہے اور ابھی چھ سات ہزار روپیہ ان کا جمع ہے جس میں اور روپیہ ڈال کر ہالینڈ کی مسجد بنے گی۔ پھر چندہ انہوں نے ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ لجنہ کا دفتر بنانے کے لئے بھی انہوں نے چودہ پندرہ ہزار روپیہ جمع کیا تھا‘‘۔ (الفضل 20 دسمبر 1951ئ)
سالانہ جلسہ 1951ء کے موقع پر بتایا:۔
’’مسجد ہالینڈ کا چندہ عورتوں نے مردوں سے زیادہ دیا ہے۔ مردوں کے ذمہ واشنگٹن کی مسجد لگائی گئی ہے اور اس کا خرچ مسجد بنا کر قریباً اڑھائی پونے تین لاکھ ہوتا ہے اور جو عورتوں کے ذمہ لگایا گیا تھا مسجد ہالینڈ کا اس کی ساری رقم زمین وغیرہ ملا کر کوئی اسی ہزار یا لاکھ کے قریب بنتی ہے۔ انہوں نے اپنے اسی ہزار میں سے چھیالیس ہزار روپیہ ادا کردیا ہے۔ … میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کو توجہ دلانے کی اتنی ضرورت نہیں مجھے یقین ہے کہ وہ میری اس مختصر سی تحریک سے ہی اپنے فرض کو سمجھنے لگ جائیں گی اور اس نیک کام کو تکمیل تک پہنچا دیں گی۔ میں عورتوں سے کہتا ہوں تمہاری قربانی مردوں سے اس وقت بڑھی ہوئی ہے۔ اپنی اس شان کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دفتر کے قرضہ کو بھی ادا کرو اور اس کے ساتھ مسجد ہالینڈ کو بھی نہ بھولنا۔ اس کے لئے ابھی کوئی پچاس ہزارروپیہ کے قریب ضرورت ہے۔ ہمارا پہلا اندازہ مکان اور مسجد کی تعمیر کا تیس ہزار کے قریب تھا لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ ہزار سے کم میں وہ جگہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس جگہ پر گورنمنٹ کی طرف سے کچھ قیود ہیں اور وہ ایک خاص قسم کی اور خاص شان کی عمارت بنانے کی وہاں اجازت دیتے ہیں اس سے کم نہیں دیتے۔ پس زمین کی قیمت مل کر نوے ہزار سے ایک لاکھ تک کا خرچ ہوگا جس میں سے وہ بفضلہ چھیالیس ہزار تک اس وقت تک ادا کرچکی ہیں‘‘۔ (الفضل 2 جنوری1952ئ)
چنانچہ 12 فروری 1955ء کو کھدائی کا کام شروع کیا گیا۔ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے دعا کرائی اور کدال چلا کر کام کا آغاز کیا۔ 20 مئی 1955ء کو حضرت چوہدری صاحب نے ہی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ 9 دسمبر کو 1955ء کو حضرت چوہدری صاحب نے ہی اس کا افتتاح فرمایا۔
(الفضل 13 دسمبر 1955ئ)
ہالینڈ میں مسجد کی تعمیر کو غلبہ اسلام کی شاہراہ میں ہمیشہ سنگ میل کی حیثیت حاصل رہے گی۔ اس سرزمین میں خانہ خدا کی اہمیت کو ہالینڈ کے اونچے طبقے نے خاص طور پر محسوس کیا ہے چنانچہ ہیگ کا ایک کثیر الاشاعت روزنامہ "Nieuwe Heagse Courant" نے مسجد ہیگ میں نماز کی حالت کا ایک بڑا سا فوٹو دیتے ہوئے لکھا کہ:۔
’’یہ فوٹو کراچی، قاہرہ یا بغداد کی نہیں بلکہ یہ مسجد خود ہیگ میں ہے جس میں لوگ نماز ادا کررہے ہیں‘‘۔
تکمیل مسجد کے لئے مزید چندہ کی تحریک:
مسجد ہالینڈ پر چونکہ اندازہ سے زیادہ خرچ ہوچکا تھا اس لئے حضرت مصلح موعود نے احمدی خواتین کو چندہ کی تحریک برابر جاری رکھی اور اس پر بہت زور دیا۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’اس سال ہالینڈ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے صرف احمدی مستورات کے چندہ سے ہی ایک نہایت عظیم الشان مسجد تعمیر ہوئی ہے لیکن اس پر جو خرچ ہوا ہے وہ ابتدائی اندازے سے بہت بڑھ گیا ہے۔ اس وقت تک مستورات نے جو چندہ دیا ہے۔ 91 ہزار روپیہ اس سے زائد خرچ ہوگیا ہے۔ مستورات کو چاہئے کہ جلد یہ رقم جمع کردیں‘‘۔
ایک اور موقعہ پر فرمایا:۔
’’عورتوں نے ہالینڈ کی مسجد کا چندہ اپنے ذمہ لیا تھا مگر اس پر بجائے ایک لاکھ کے جو میرا اندازہ تھا ایک لاکھ چوہتر ہزار روپیہ خرچ ہوا۔ 78 ہزار ان کی طرف سے چندہ آیا تھا گویا ابھی 96 ہزار باقی ہے۔ پس عورتوں کو بھی میں کہتا ہوں کہ وہ 96 ہزار روپیہ جلد جمع کریں تاکہ مسجد ہالینڈ ان کی ہوجائے‘‘۔
بعدازاں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ:۔
’’میں نے مسجد ہالینڈ کی تعمیر کے لئے عورتوں میں ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک کی تھی جس میں سے 99 ہزار عورتیں اس وقت تک دے چکی ہیں لیکن جو اندازہ وہاں سے آیا تھا وہ ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تھا اور عملاً اب تک ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپیہ خرچ ہوچکا ہے۔ تحریک جدید کا ریکارڈ کہتا ہے عورتیں ننانوے ہزار روپیہ دے چکی ہیں۔ میں نے وکالت مال کے شعبہ بیرون کے انچارج چوہدری شبیر احمد صاحب کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ریکارڈ ہے جس سے معلوم ہو کہ جب ہیگ سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تخمینہ آیا تھا تو میں نے عورتوں سے اس قدر چندہ کرنے کی اجازت دی ہو کیونکہ عورتوں کا حق تھا کہ چندہ لینے سے پہلے ان سے پوچھ لیا جاتا کہ کیا وہ یہ چندہ دے بھی سکتی ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا افسوس ہے کہ اس وقت ہم سے غلطی ہوئی اور ہم نے حضور سے دریافت نہ کیا کہ آیا مزید رقم بھی عورتوں سے جمع کی جائے۔ ہمارے پاس ایسا کوئی ریکارڈ نہیں جس کی رو سے زیادہ رقم اکٹھی کرنے کی منظوری لی گئی ہو۔ میں نے کہا میں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ نے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ کے جمع کرنے کی منظوری مجھ سے نہ لی لیکن جب وہ رقم ایک لاکھ پچھہتر ہزار بن گئی تو پھر تو آپ نے مجھ سے منظوری لینی تھی کیا آپ نے مجھ سے منظوری لی۔ انہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہم نے اس کے متعلق بھی حضور سے کوئی منظوری نہیں لی اور ہمارے پاس کوئی ایسا کاغذ نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ عورتوں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار یا ایک لاکھ پچھہتر ہزار روپیہ جمع کرنا منظور ہے۔ اس لئے میں یہ فیصلہ کرتاہوں کہ لجنہ اماء اللہ اس سال صرف چھتیس ہزار روپیہ چندہ کرکے تحریک جدید کو دے دے اور باقی روپیہ تحریک جدید خود ادا کرے۔ لجنہ اماء اللہ چھتیس ہزار روپے سے زیادہ نہیں دے گی اور مسجد ہالینڈ ہمیشہ کے لئے عورتوں کے نام پر ہی رہے گی‘‘۔
(الفضل 23 فروری 1958ئ)
حضرت مصلح موعودؓ نے تعمیر مسجدہیگ کے لئے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپیہ کی تحریک خاص فرمائی تھی مگر خواتین احمدیت نے اپنے آقا کے حضور ایک لاکھ تینتالیس ہزار چھ سو چونسٹھ روپے کی رقم پیش کردی بلکہ بعض مستورات تو اس مد کے ختم ہونے کے بعد بھی چندہ بھجواتی رہیں۔
(تاریخ احمدیت جلد12 ص182)
تحریک تعمیر مساجد بیرون
حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس شوریٰ 1952ء میں بیرون ممالک میںمساجد تعمیرکرنے کے متعلق تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’یورپین ممالک میں مسجد تبلیغ کا ایک ضروری حصہ ہیں‘‘۔ (رپورٹ مجلس شوریٰ 1952ء ص20)
نیز فرمایا:۔
’’چھ ممالک (امریکہ، ہالینڈ، جرمنی، اٹلی، سپین اور فرانس) ہیں۔ جن میں اگر ہماری مسجدیں بن جائیں۔ تو تبلیغ کا بڑا بھاری ذریعہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ اگر ان مساجد پر سات لاکھ روپیہ کے خرچ کا بھی اندازہ ہو اور ہم اپنے بجٹ میں ایک لاکھ روپیہ سالانہ تعمیر مساجد کے لئے رکھیں تو سات سال میں اور اگر پچاس ہزار روپیہ رکھیں تو چودہ سال میں اس رقم کو پورا کرسکتے ہیں۔ مگر بہرحال کچھ تو ہونا چاہئے۔ تاکہ ہم اپنے تبلیغ کے کام کو وسیع کرسکیں اور لوگوں کے جمع ہونے کا امکان ہو‘‘۔ (ایضاً ص21)
حضور نے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے جماعت کے سامنے ایک سکیم رکھی جس کی تفصیل رپورٹ مذکور میں درج ہے۔
چندہ تعمیر مساجد کا مستقل نظام
اسی موقع پر حضور نے تعمیر مساجد کے چندہ کی فراہمی کے لئے ایک مستقل نظام تجویز فرمایا جس کا خلاصہ یہ تھا کہ (1) ملازم پیشہ اپنی سالانہ ترقی کے پہلے ماہ کی رقم (2) بڑے پیشہ ور ایک مہینے کی آمد کا پانچواں حصہ (3) چھوٹے پیشہ ور مہینے کی کسی معینہ تاریخ کی مزدوری کا دسواں حصہ (4) تاجر اصحاب مہینہ کے پہلے سودا کا منافع اس مد میں دیا کریں اور (5) زمیندار احباب ہر فصل پر ایکڑ زمین میں سے ایک کرم کے برابر چندہ تعمیر مساجد ادا کیا کریں۔
مندرجہ بالا طبقوں کے نمائندوں نے خلیفہ وقت کے سامنے بشاشت کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ مجوزہ نظام کے مطابق بالالتزام چندہ دیا کریں گے۔ اس موقعہ پر سیالکوٹ کے ایک تاجر دوست خواجہ محمد یعقوب صاحب نے حضور کی خدمت میں ایک سو روپیہ اس فنڈ کے لئے پیش کیا جس پر حضور کی خدمت بابرکت میں نقدی پیش کرنے کی ایک عام رو پیدا ہوگئی …حضور کے اردگرد اتنا ہجوم ہوگیا کہ نظم و ضبط کی خاطر انہیں قطاروں میں کھڑا کرنا پڑا، چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے چار ہزار سے زائد روپیہ نقد اور ایک ہزار روپیہ سے زائد کے وعدے وصول ہوگئے۔ خواتین کی طرف سے 90/6/0 نقد کے علاوہ دو طلائی انگوٹھیاں بھی بطور چندہ حضور کی خدمت میں پیش ہوئیں۔ … چندہ دینے کا یہ سلسلہ ابھی پورے جوش و خروش سے جاری تھا کہ حضور نے مجلس کی کارروائی کی خاطر اسے روک دینے کا اعلان کیا اور ارشاد فرمایا کہ مسجد فنڈ کے مزید چندے اور وعدے بعد میں دیئے جائیں۔
(الفضل 17؍اپریل 1952ئ)
سب سے پہلے احمدی تاجر جنہوں نے مشاورت کے معاً بعد اس مالی جہاد میں حصہ لیا اور ڈھائی سو روپیہ اس مد میں بھجوایا۔ حضرت شیخ کریم بخش صاحب آف کوئٹہ کے فرزند شیخ محمد اقبال صاحب ہیں جن کا ذکر خصوصی خود حضرت مصلح موعودؓ نے خطبہ جمعہ 26مئی 1951ء میں فرمایا:۔
حضور کی اس سکیم کے تحت اپریل 1965ء تک سات لاکھ تریپن ہزار ایک سو تین روپے کی آمد ہوئی مساجد واشنگٹن، ہیگ(ہالینڈ)، ہیمبرگ(جرمنی)، فرینکفورٹ (جرمنی)، زیورک (سوئٹزرلینڈ) اور ڈنمارک کی خصوصی تحریکوں کے نتیجہ میں نولاکھ سولہ ہزار سات سو پچھہتر روپے وصول ہوئے اور اس رقم میں سے دس لاکھ تریسٹھ ہزار چارسو اڑسٹھ روپیہ کی رقم سے مذکورہ بالا مساجد تعمیر ہوئیں۔ اس رقم میں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ مسجد ہیگ (ہالینڈ) کے لئے اور دو لاکھ بارہ ہزار چھ سو بیس روپیہ 21 جنوری 1966ء تک لجنہ اماء اللہ نے ادا کیا۔
یورپ میں 5 مساجد
خلافت ثانیہ میں سرزمین یورپ میں 5 مساجد تعمیر ہوئیں۔
(1) مسجد فضل لندن۔ حضرت مصلح موعود نے 1924ء کو اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ 3؍اکتوبر 1926ء کو اس کا افتتاح ہوا۔
(2) مسجد مبارک ھیگ ہالینڈ کا سنگ بنیاد 20 مئی 1955ء کو حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے رکھا اور 9 دسمبر 1955ء کو اس کا افتتاح فرمایا۔
(3) مسجد فضل عمر ہمبرگ جرمنی کا افتتاح حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے 22 جون 1957ء کو فرمایا۔
(4) مسجد نور فرینکفرٹ جرمنی کا سنگ بنیاد چوہدری عبداللطیف صاحب نے رکھا اور 12 ستمبر 1959ء کو حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے افتتاح فرمایا۔
(5) مسجد محمود زیورک سوئٹزرلینڈ۔حضرت سیدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ بنت حضرت مسیح موعود ؑ نے 25؍اگست 1962ء کو سنگ بنیاد رکھا اور 22 جون 1963ء کو حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحبؓ نے افتتاح فرمایا۔
دلی تڑپ
حضور نے مساجد کی تعمیر کے متعلق اپنی دلی تڑپ اور خواہش کا اظہار کرتے ہوئے سالانہ اجتماع خدام الاحمدیہ پر 13 ؍اکتوبر 1957ء کو فرمایا:۔
’’مجھے اسلام کا غم ہے۔میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ابھی تو صرف لندن، ہیمبرگ، جرمنی اور ہیگ میں ہی مساجد تعمیر ہوئی ہیں مگر جلد ہی فرینکفرٹ جرمنی میں ایک مسجد تعمیر ہوگی ونٹز برگ جرمنی میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ نیورمبرگ جرمنی میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ روم میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ نیپلز میں ایک مسجد تعمیر ہوگی۔ تین مساجد سکنڈے نیویا میں بنیں گی۔ تم کہو گے یہ بڈھا سٹھیا گیا ہے۔ ابھی یورپ میں صرف تین مساجد بنی ہیں اور یہ آٹھ مساجد اور بنا رہا ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ میں تقریر کرتا ہوامساجد کی تعداد کم کرگیا ہوں۔ اگر اللہ تعالیٰ توفیق دے تو میں پچاس مساجد یورپ میں بنواؤں گا۔ تاکہ وہاں ہر بڑے شہر میں مسجد موجود ہو۔ باوانانک تو ایک دنیادار ملاں کے پیچھے کھڑے ہوگئے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کا ساتھ نہ دے سکے لیکن تم ایک ایسے آدمی کے پیچھے لگے ہوئے ہو جس کو یورپ میں اسلام پھیلانے اور مساجد تعمیر کرنے کا شوق ہے بلکہ پچاس مساجد بھی کم سے کم اندازہ ہے۔ میرا خیال تو اس سے بھی بلند جایا کرتا ہے۔ پچاس مساجد پر ایک کروڑ روپیہ لگتا ہے جو اس وقت ہمارے پاس موجود نہیں لیکن اگر تم اپنے رشتہ داروں کو تبلیغ کرکے انہیں احمدیت میں داخل کرو تو ایک کروڑ روپیہ کا مہیا ہونا کوئی مشکل امر نہیں۔ مثلاً صدرانجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ پچھلے سال بارہ لاکھ تھا۔ اس سال وہ پچاس ساٹھ لاکھ ہو جائے اور دو تین سال کے اندر اس کی مقدار تین کروڑ ہوجائے تو ایسی صورت میں اگر ہم 1/3 حصہ بھی مساجد کی تعمیر کے لئے رکھیں تو ایک کروڑ روپیہ ہرسال نکل سکتا ہے اور ہر سال پچاس مساجد تعمیر کی جاسکتی ہیں اور اگر ہم ہر سال پچاس مساجد تعمیر کرسکیں تو پانچ سال کے عرصہ میں اڑھائی سو مساجد بن سکتی ہیں۔ اگر اڑھائی سو مساجد یورپ میں تعمیر ہو جائیں تو اس کے چپہ چپہ پر خداتعالیٰ کی تکبیر کی صدا بلند ہو سکتی ہے۔
…ان مساجد سے مؤذن اللہ اکبر کی صدا بلند کریں گے اور ان کے ساتھ ساتھ قصبات والے بھی اللہ اکبر کہیں گے۔ تو بیک وقت سارا یورپ اللہ اکبر کی آوازوں سے گونج اٹھے گا اور عیسائی اپنی زبان سے کہیں گے کہ اب عیسائیت کمزور ہوگئی ہے اور یہ بات تو میں نے پانچ مساجد کے متعلق بیان کی ہے لیکن جب یورپ میں اڑھائی سو مساجد تعمیر ہو جائیں گی تو یورپ کے سارے کناروں تک نعرہ ہائے تکبیر کی صدائیں بلند ہوں گی اور وہ نعرہ ہائے تکبیر ایسے ہوں گے کہ ایک مسجد کی آواز دوسری مسجد تک پہنچے گی اور پھر قریب کے علاقہ میں پھیلتی جائے گی اور یورپ والے کہیں گے کہ اب اسلام غالب آگیا ہے اور وہ اسلام کے مقابلہ میں اپنے ہتھیار پھینک دیں گے۔ ان کا سارا غرور جاتا رہے گا اور وہ خود اقرار کریں گے کہ اب اسلام غالب آچکا ہے۔ تب وہ زمانہ آجائے گا جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ قومیں اسلام میں داخل ہوں گی پھر ہم امریکہ کی طرف متوجہ ہوں گے اور وہاں ہزار دو ہزار مساجد بنائیں گے۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ آواز در آواز پھیلتی چلی جائے گی۔ تم دیکھو لو ربوہ ایک چھوٹا ساقصبہ ہے لیکن یہاں جب مسجد مبارک میں مؤذن کی آواز بلند ہوتی ہے تو وہ سارے شہر میں پھیلتی ہے اور جب دوسری مساجد سے بھی اذان کی آوازیں اٹھتی ہیں تو پورے شہر کے اندر زندگی اور بیداری کی ایک لہر دوڑجاتی ہے۔ اسی طرح جب یورپ اور امریکہ کی ہزاروں مساجد میں اذانیں ہوں گی تو عیسائی سمجھ لیں گے کہ اب عیسائیت مرگئی اورپھر یہ نور آہستہ آہستہ تمام دنیا میں پھیلا تو چکر کھا کر جاپان، فلپائن اور انڈونیشیا سے ہوتا ہوا پاکستان آئے گا۔ پہلے لوگ کہتے تھے کہ انگریزی سلطنت پر سورج نہیں ڈوبتا۔ لیکن اب یہ بات عملاً احمدیت پر بھی صادق آتی ہے۔ اب احمدیت پر بھی سورج غروب نہیں ہوتا لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اذانوں پر بھی سورج غروب نہ ہو۔
(الفضل 26 دسمبر1957ئ)



کتب حضرت مسیح موعود کے متعلق تحریکات
حضرت مصلح موعودؓ نے قرآن کریم اور حدیث کے فہم کے لئے حضرت مسیح موعود کی کتب کے مطالعہ کی طرف سینکڑوں بار توجہ دلائی اور اس ضمن میں بعض اہم تحریکات بھی فرمائیں۔
مطالعہ کی تحریک
27 دسمبر 1920ء کو حضور نے جلسہ سالانہ پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’تم بے شک ظاہری علوم پڑھو مگر دین کا علم ضرور حاصل کرو اور اپنے اندر دین کی باتیں سمجھنے اور اخذ کرنے کا ملکہ پیدا کرو۔
اس کے لئے ایک تو قرآن کریم سیکھو اور دوسرے حضرت صاحب کی کتابیں پڑھو اور خوب یاد رکھو کہ حضرت صاحب کی کتابیں قرآن کی تفسیر ہیں۔ کل میں ان کے متعلق ایک خاص نکتہ بتاؤں گا۔ آج صرف اتنا ہی کہتا ہوں کہ وہ قرآن کی تفسیر ہیں ان کو پڑھو‘‘۔ (اصلاح نفس۔ انوارالعلوم جلد5 ص447)
ایک خاص نکتہ:
اگلے دن حضور نے وہ خاص نکتہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’جو کتابیں ایک ایسے شخص نے لکھی ہوں جس پر فرشتے نازل ہوتے تھے ان کے پڑھنے سے بھی ملائکہ نازل ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت صاحب کی کتابیں جو شخص پڑھے گا اس پر فرشتے نازل ہوں گے۔ یہ ایک خاص نکتہ ہے کہ کیوں حضرت صاحب کی کتابیں پڑھتے ہوئے نکات اور معارف کھلتے ہیں اور جب پڑھو جب ہی خاص نکات اور برکات کا نزول ہوتا ہے۔ براہین احمدیہ خاص فیضان الٰہی کے ماتحت لکھی گئی ہے اس کے متعلق میں نے دیکھا ہے کہ جب کبھی میں اس کو لے کر پڑھنے کے لئے بیٹھا ہوں دس صفحے بھی نہیں پڑھا سکا کیونکہ اس قدر نئی نئی باتیں اور معرفت کے نکتے کھلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ دماغ انہیں میںمشغول ہو جاتا ہے‘‘۔ (ملائکۃ اللہ۔ انوارالعلوم جلد5 ص560)
روزانہ ایک صفحہ پڑھو:
حضور نے 27 دسمبر 1927ء کو جلسہ سالانہ کے خطاب میں کتب حضرت مسیح موعود ؑ کا روزانہ ایک صفحہ پڑھنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’اصلاح نفس کے لئے دوسری چیز یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ کیا جائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ لوگ باقاعدہ حضرت صاحب کی کتب کامطالعہ نہیں کرتے۔ اگر ہر ایک احمدی یہ فیصلہ کرلے کہ حضرت صاحب کی کسی کتاب کا روزانہ کم ازکم ایک صفحہ کامطالعہ کیا کروں گا تو اس کا بہت بڑا فائدہ ہو سکتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب میں وہ روشنی اور وہ معارف ہیں جو قرآن کریم میں مخفی طورپر بیان ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی اپنی کتب میں تشریح فرمائی ہے حتیٰ کہ ایک ادنیٰ لیاقت کا آدمی بھی انہیں سمجھ سکتا ہے۔ اس وجہ سے آپ کی کتب میں بھی وہ نور اور ہدایت ہے جو قرآن کریم میں ہے۔ قرآن کریم کی یہ فوقیت ہے کہ وہ خود خداتعالیٰ کے الفاظ میں ہے۔
پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر ایک احمدی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب میں سے کم ازکم ایک صفحہ روزانہ پڑھا کرے۔ عیسائی انجیل کامطالعہ کرتے ہیں اور ان لوگوں کو چھوڑ کر جو علی الاعلان دہریہ ہیں باقی سب اسے پڑھتے ہیں۔ وہ رات کو اپنے بچوں کو سونے نہیں دیتے جب تک کہ دعا نہ کرالیں پھر کتنے افسوس کی بات ہے کہ جن کو دہریہ اور بے دین اور کیا کیا کہا جاتا ہے وہ تو اپنی اس مذہبی کتاب کا مطالعہ نہیں چھوڑتے جس میں بہت کچھ تغیر و تبدل ہو چکا ہے مگر آپ لوگ جن کو تازہ کتابیں ملی ہیں آپ انہیں نہیں پڑھتے کم ازکم ایک صفحہ روزانہ ضرور پڑھنا چاہئے‘‘۔
(تقریر دلپذیر۔ انوارالعلوم جلد10 ص92)
مطالعہ کتب مسیح موعود کا نظام ترتیب
1920ء میں ایک مخلص احمدی نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت اقدس میں بذریعہ مکتوب استفسار کیا کہ حضرت مسیح موعود کی کتابیں کس ترتیب سے پڑھنی چاہئے۔
اس کے جواب میں حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا
(1)سب سے پہلے ازالہ اوہام کی ضرورت ہے۔ (2)پھر براہین احمدیہ حصہ پنجم۔(3) تحفہ گولڑویہ۔ (4)الوصیت۔ (5)تقویۃ الایمان (کشتی نوح) (6)حقیقۃ الوحی۔
ان کو اچھی طرح سمجھ لینے کے بعد دوسرا سلسلہ (1)براہین احمدیہ پہلے چار حصے۔ (2)سرمہ چشم آریہ۔ (3)آئینہ کمالات اسلام۔ (4)اسلامی اصول کی فلاسفی اور چشمۂ معرفت۔
اور وقت ملے تو باقی جو حضرت مسیح موعود ؑ کی دوسری کتابیں ہیں وہ بھی پڑھیں……براہین احمدیہ حصہ پنجم اورحقیقۃ الوحی اس کے ساتھ ملحوظ رہے۔ اگر خود تحقیق کی فرصت نہ ہو۔ تو حقیقۃ النبوۃ کا مطالعہ کیا جاوے مگر یہ یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس کی صرف کتب کا مطالعہ کافی نہیں۔ اس سے محض علمی رنگ کامل ہوتا ہے۔ایک اور چیز ہے۔ جس کے بغیر حضرت اقدس کی بعثت سے انسان پورا فائدہ نہیںاٹھا سکتا۔ اور وہ ان ڈائریوں کا مطالعہ ہے۔ جو وقتاً فوقتاً اخباروں میں چھپتی رہی ہیں ان کا علمی حصہ ایسا یقینی نہیں۔ جیسے حضرت اقدس کی کتب ہیں۔ کیونکہ ڈائری نویس بعض وقت الفاظ پوری طرح یاد نہیں رکھ سکتا لیکن ان سے دو باتوں کا پتہ لگتا ہے۔ ایک یہ کہ حضرت اقدس اپنی بعثت کا مطلب کیا سمجھے تھے اور اسے پورا کرنے کے لئے کس رنگ میںکوشش کرتے رہے۔ دوسر ے یہ کہ جن لوگوں کے سامنے حضور کا دعوے پیش ہوا۔ اور اسے انہوں نے قبول کیا۔ اور سالہاسال تک آپ کے ساتھ رہے یا کثرت سے آپ کی ملاقات کرتے رہے۔ انہوںنے حضور کے کلام سے کیا سمجھا اور آپ کے ساتھ کس رنگ میں معاملہ کرتے تھے۔ ان دونوں باتوں کے جاننے کے بغیر انسان احمدیت کے مغز کو نہیںپا سکتا‘‘۔
(الفضل 9دسمبر1920ء ص9,8)
کتب کا عظیم مقام:
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت 1925ء پر یہ اعلان فرمایا:۔
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام خداتعالیٰ کی طرف سے آئے تھے۔ محمد ﷺ کا بروز ہوکر آئے تھے۔ اس لئے آپ کے قلم سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ دنیا کی ساری کتابوں اور تحریروں سے بیش قیمت ہے اور اگر کبھی یہ سوال پیدا ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریر کی ایک سطر محفوظ رکھی جائے یا سلسلہ کے سارے مصنفین کی کتابیں؟ تو میں کہوں گا آپ کی ایک سطر کے مقابلہ میں یہ ساری کتابیں مٹی کا تیل ڈال کر جلا دینا گوارا کروں گا۔ مگر اس سطر کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنی انتہائی کوشش صرف کردوں گا‘‘۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 1925ء ص39)
کتب کے پھیلاؤ کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 22 مارچ 1929ء کو ارشاد فرمایا کہ یہ زمانہ نشرواشاعت کا ہے جس ذریعہ سے ہم آج اسلام کی مدد کر سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ صحف و کتب کی اشاعت پر خاص زور دیں اگر ہر جماعت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کی ایجنسیاں قائم ہو جائیں تو یقینا بہت فائدہ ہو سکتا ہے۔
(رپورٹ مجلس مشاورت 1929ء ص247)
نیز ہدایت فرمائی کہ عام طور پر ہماری کتابیں گراں ہوتی ہیں اور اس و جہ سے لوگ ان کی اشاعت نہیں کرسکتے۔ اس کے لئے ایک طرف تو میں نظارت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ کتابوں کی قیمتوں پر نظر ثانی کرے اور قیمتیں اس حد پر لے کر آئے کہ ان انجمنوں کو جو ایجنسیاں لیں کافی معاوضہ بھی دیا جاسکے اور نقصان بھی نہ ہو اور دوسری طرف احباب کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بھی اس بارے میں فرض شناسی کا ثبوت دیں۔ (الفضل 29 مارچ 1929ء ص6)
حضرت مسیح موعود ؑ کی طرز تحریر اختیار کرنے کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 10 جولائی 1931ء کو جماعت کے مصنفوں، اخبار نویسوں اور مضمون نگاروں کو یہ اہم تحریک فرمائی کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرز تحریر اپنائیں تا ہمارے جماعتی لٹریچر ہی میں اس کانقش قائم نہ ہو بلکہ دنیا کے ادب کا رنگ ہی اس میں ڈھل جائے۔
چنانچہ حضور نے فرمایا:۔
’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وجود سے دنیا میں جو بہت سی برکات ظاہر ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی برکت آپ کا طرز تحریر بھی ہے۔ جس طرح حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے الفاظ جو ان کے حواریوں نے جمع کئے ہیں یا کسی وقت بھی جمع ہوئے ان سے آپ کا ایک خاص طرز انشاء ظاہر ہوتا ہے اور بڑے بڑے ماہرین تحریر اس کی نقل کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا طرز تحریر بھی بالکل جداگانہ ہے اور اس کے اندر اس قسم کی روانی زور اور سلاست پائی جاتی ہے کہ باوجود سادہ الفاظ کے، باوجود اس کے کہ وہ ایسے مضامین پر مشتمل ہے جن سے عام طورپر دنیا ناواقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیاء کا کلام مبالغہ، جھوٹ اور نمائشی آرائش سے خالی ہوتا ہے اس کے اندر ایک ایسا جذب اور کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان اسے پڑھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپٹتی جارہی ہیں اور یہ انتہا درجہ کی ناشکری اور بے قدری ہوگی۔ اگر ہم اس عظیم الشان طرز تحریر کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے طرز تحریر کو اس کے مطابق نہ بنائیں‘‘۔
نیز فرمایا:۔
’’پس میں اپنی جماعت کے مضمون نگاروں اور مصنفوں سے کہتا ہوں کسی کی فتح کی علامت یہ ہے کہ اس کا نقش دنیا میں قائم ہوجائے۔ پس جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نقش قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے آپ کے اخلاق کو قائم کرنا اس کے ذمہ ہے۔ آپ کے دلائل کو قائم رکھنا ہمارے ذمہ ہے۔ آپ کی قوت قدسیہ اور قوت اعجاز کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے۔ آپ کے نظام کو قائم کرنا جماعت کے ذمہ ہے وہاں آپ کے طرز تحریر کو قائم رکھنا بھی جماعت کے ذمہ ہے‘‘۔
اس ضمن میں حضور نے اپنا تجربہ یہ بتایا کہ:
’’میں نے ہمیشہ یہ قاعدہ رکھا ہے۔ خصوصاً شروع میں جب مضمون لکھا کرتا تھا۔ پہلا مضمون جو میں نے تشحیذ میں لکھا وہ لکھنے سے قبل میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تحریروں کو پڑھا تا اس رنگ میں لکھ سکوں اور آپ کی وفات کے بعد جو کتاب میں نے لکھی اس سے پہلے آپ کی تحریروں کو پڑھا اور میرا تجربہ ہے کہ خداتعالیٰ کے فضل سے اس سے میری تحریر میں ایسی برکت پیدا ہوئی کہ ادیبوں سے بھی میرا مقابلہ ہوا اور اپنی قوت ادبیہ کے باوجود انہیں نیچا دیکھنا پڑا‘‘۔
(الفضل 16 جولائی 1931ء ص5)
اردو سیکھنے کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب پڑھنے کی تحریک
23 جولائی 1933ء کو طلباء جامعہ احمدیہ و مدرسہ احمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے تحریک فرمائی کہ احمدی طلباء کو اردو سیکھنے کے لئے حضرت مسیح موعود ؑ کی کتب پڑھنی چاہئیں اس تعلق میں یہ بھی ارشاد فرمایا۔
’’جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دینی امور میں اصلاح کی ہے وہاں اردو زبان میں بھی بہت بڑی اصلاح کی ہے۔ چنانچہ ایک شخص نے لندن یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے لئے ’’انگریزی لٹریچر کا اردو لٹریچر پر اثر‘‘ کے عنوان سے ایک تھیسس لکھا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے متعلق یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ آپ کی تحریروں نے زبان اردو پر خاص اثر ڈالا ہے۔
اب اردو کے حامل احمدی ہوں گے یا یہ کہ اردو کے حامل احمدی ہو جائیں گے … زمانہ خود اردو کو اس طرف لے جارہا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ اردو کے سمجھے جائیں گے پس ہمارے طلباء کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کی کتب نمونہ اور ماڈل ہونی چاہئیں خصوصاً آخری زمانہ کی کتابیں ان کی روانی اور سلاست پہلے کی نسبت بہت بڑھی ہوئی ہے ان کی اردو نمونہ کے طور پر ہے اور وہی اردو دنیا میں قائم رہے گی‘‘۔
(الفضل 6؍اگست 1933ء ص7,6)
تراجم کی تحریک
حضرت مصلح موعودؓ نے متعدد مواقع پر حضرت مسیح موعود ؑ کی مختلف کتب کے تراجم کی تحریک بھی فرمائی۔ چنانچہ خلافت ثانیہ میں کئی زبانوں میں بہت سی کتب کا ترجمہ شائع ہوا۔


صحابہؓ حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق تحریکات
تابعی بنانے کی تحریک
3 جنوری 1936ء کو حضور نے صحابہ مسیح موعود ؑ کی زیارت کے ذریعہ دنیا کے تمام ممالک میں تابعین پیدا کرنے کی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا۔
میرا پروگرام خواہ وہ ایک سال میں پورا ہو خواہ چار پانچ سال میں، یہ ہے کہ کوئی ملک دنیا کا ایسا نہ ہو، جس میں تابعی یعنی ایسے لوگ موجود نہ ہوں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کو دیکھا ہے۔ اس وقت دنیا کے قریباً ایک ہزار ممالک ہوں گے اور ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام پہنچا دیں۔ ملک کی تشریح میں حکومتوں کے لحاظ سے نہیں بلکہ زبان کے لحاظ سے کرتا ہوں اور مختلف زبانوں کے لحاظ سے اس وقت شاید ایک ہزار سے بھی زیادہ ممالک ہوں گے اور ان میں سے صرف ساٹھ ستر ہی ہیں جن تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آمد کی خبر پہنچی ہو۔ باقی 900 سے زیادہ ابھی تک ایسے ہیں جن تک ابھی یہ خبر نہیں پہنچی بلکہ کافی حصہ ان میں ایسے ممالک کا بھی ہے جن میں اسلام کا نام تو ممکن ہے پہنچ چکا ہو مگر تعلیم نہیں پہنچی اور میرا پروگرام یہ ہے کہ ہم کوشش کریں کہ ان ممالک میں تابعی پیدا کرسکیں۔ وہ وقت تو گزر گیا جب ہم ساری دنیا کو صحابی بناسکتے تھے مگر تابعی بنا سکنے کے لئے ابھی وقت ہے۔ صحابہ نے بیسیوں ممالک میں تابعی بنا دیئے تھے اور زبان کے لحاظ سے اگر ممالک کی تقسیم کی جائے تو سینکڑوں ممالک میں بنا دیئے تھے۔ صحابہ کے زمانہ میں ریل، تار، ڈاک وغیرہ کی سہولتیں نہ تھیں اور ان کے نہ ہونے کے باوجود جب صحابہ نے اتنا کام کیا تو کوئی وجہ نہیں کہ ان سہولتوں کی موجودگی کے باوجود ہم ان سے زیادہ کام نہ کریں۔ قربانی کی قیمت کا اندازہ رستہ کی رکاوٹوں سے کیا جاسکتا ہے۔ اگر صحابہ نے دو سو ممالک میں تابعی بنائے تو ہم بھی دو سو ممالک میں تابعی بنا کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کے برابر ہم نے کام کیا ہے اس لئے جب تک ان سے کئی گنا زیادہ کام نہ کریں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے ان کی مشابہت حاصل کرلی۔
پس ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہر ملک میں تابعی پیدا کردیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صحابہ کو ان تک پہنچا دیں یا ان کو یہاں بلالیں اور اگر ہم یہ کرسکیں تو یہ کام اتنا شاندار ہوگا کہ کسی نبی کے زمانہ میں اس کی مثال نہ مل سکے گی۔ کیونکہ کوئی نبی یا مامور آج تک ایسا نہیں گزرا جس کے تابعی تمام دنیا میں تھے۔ یہ ایک ایسی عجیب بات ہے کہ اس کے تصور سے ہی میرا دل مسرت سے بھر جاتا ہے اور بجلی کی رو کی طرح مسرت کی لہر تمام جسم میں دوڑ جاتی ہے۔ حضرت مسیح ناصری کے صحابہ شام سے چلے اورکشمیریا مدراس تک پہنچے تھے اور ان کا یہ کام اس زمانہ کے لحاظ سے بہت تھا مگر پھر بھی یہ کچھ نہ تھا۔ ہم گو یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ حضرت مسیح ناصری کے پیروؤں نے تابعی بنائے یا نہیں لیکن بہرحال انہوںنے روم سے لے کر کشمیر تک آپ کاپیغام ضرور پہنچا دیا تھا اور باوجود ان دقتوں کے پہنچا دیا تھا جو اس زمانہ میں سفر کے رستہ میں تھیں۔ لیکن ہمیں اس زمانہ میں جو سہولتیں حاصل ہیں وہ اس امر کی مقتضی ہیں کہ ہم ان سے بہت زیادہ کام کریں۔ (خطبات محمود جلد17 ص4)
روایات صحابہؓ محفوظ کرنے کی تحریک
سلسلہ احمدیہ کے قیام کو 1937ء میں اڑتالیس سال اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وصال مبارک پر انتیس سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اس لمبے عرصہ کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے کثیر التعداد رفقاء رحلت فرما گئے۔ اس تشویش انگیز صورتحال کو دیکھ کر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جماعت کو 19 نومبر 1937ء کے خطبہ جمعہ میں باقی ماندہ رفقاء کی روایات کے محفوظ کرنے کی خاص تحریک فرمائی چنانچہ فرمایا:۔
’’حضرت مسیح موعود ؑ کی وفات 1908ء کی ابتداء میں ہوئی ہے اور اس وقت جن لوگوں کی عمر پندرہ سال کی سمجھی جائے۔ کیونکہ یہی کم سے کم عمر ہے جس میں بچہ سمجھ رکھتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کی عمر بھی اب 44 سال ہوگی۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ ایسے لوگ بھی زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس سال اور جماعت میں رہ سکتے ہیں اور بظاہر آج سے 25,20 سال بعد شائد ہی کوئی صحابی جماعت کو مل سکے۔ ایسا صحابی جس نے حضور کی باتوں کو سنا اور سمجھا ہو۔
…میں سمجھتا ہوں رسول کریم ﷺ کی زندگی اور سیرت کے حالات کی کتابیں اور احادیث اگر جمع کی جائیں تو تین چار سو ضخیم جلدیں تیار ہوسکتی ہیں۔ جن میں سے ہر ایک جلد پانچ سو صفحات کی ہوگی۔ اگر ایسی تین چار سو جلدیں بھی ہوں تو یہ ڈیڑھ لاکھ صفحات ہوں گے۔ … غرض صحابہ کرام ؓ نے اتنا ذخیرہ چھوڑا ہے کہ آج ہمیں بہت ہی کم یہ خیال آسکتا ہے کہ کاش رسول کریم ﷺ کی فلاں بات ہمیں معلوم ہوتی۔ مگر حضرت مسیح موعود ؑ کے حالات اقوال اور واردات کا بہت ہی کم حصہ محفوظ ہوا ہے۔ میں نے بارہا دوستوں کو توجہ دلائی ہے کہ جو بات کسی کومعلوم ہو۔ وہ لکھا دے اور دوسروں کو سنادے۔ مگر افسوس کہ اس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے اور اگر کسی نے توجہ کی بھی ہے تو ایسی طرز پر کہ اس کا نتیجہ صفر کے برابر ہے۔ پس … میں دوستوں کو بالخصوص نظارت تالیف و تصنیف اور تعلیم کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ اس قسم کا کام ہے کہ اس میں سے بہت ساہم ضائع کرچکے ہیں اور اس کے لئے ہم خدا کے حضور کوئی جواب نہیں دے سکتے۔ اب جو باقی ہے اسے ہی محفوظ کرنے کا انتظام کیا جائے۔ ہمارا سالانہ بجٹ تین لاکھ کا ہوتا ہے۔ مگر اس میں ایک ایسا آدمی نہیں رکھا گیا جو ان لیکچروں اور تقریروں کو جو صحابہ کریں، قلمبند کرتا جائے۔ اب بھی اگر ایسا انتظام کردیا جائے تو جو کچھ محفوظ ہوسکتا ہے اسے کیا جاسکتا ہے اور اس میں سے سال دو سال کے بعد جو جمع ہو شائع ہوتا رہے اور باقی لائبریریوں میں اور لوگوں کے پاس بھی محفوظ رہے، میں سمجھتا ہوں۔ اب بھی جو لوگ باقی ہیں۔ وہ اتنے ہیں کہ ان سے چالیس پچاس فیصدی باتیں محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک بہت بڑے مصنف بھی تھے۔ اس لئے آپؑ کی کتابوں میں بھی بہت کچھ آچکا ہے۔ لیکن جو باتیں صحابہ کو معلوم ہیں اگر ان کو محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہ کیا گیا تو ہم ایک ایسی قیمتی چیز کھو بیٹھیں گے جو پھر کسی صورت میں بھی ہاتھ نہ آسکے گی۔ میں کئی سال سے اس امر کی طرف توجہ دلارہا ہوں مگر افسوس ہے کہ ابھی تک اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا گیا۔ (الفضل 26 نومبر 1937ئ)
حضور کے اس فرمان مبارک پر حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ ناظر تالیف و تصنیف نے حافظ بشیر احمد صاحب مولوی فاضل جالندھری کا انتخاب روایات صحابہ جمع کرنے کے لئے کیا۔ لیکن حافظ صاحب ابھی اس کام کا چارج لینے نہ پائے تھے کہ 2 مئی 1938ء کو اچانک انتقال کر گئے اور عارضی طور پر یہ کام ملک محمد عبداللہ صاحب کے سپرد کیا گیا۔ ملک صاحب آخر اگست 1938ء تک یہ کام سرانجام دیتے رہے۔ انہوں نے رفقاء کرام سے روایات حاصل کرکے ان کو ’’اخبار الفضل‘‘ میں شائع بھی کرانے کا اہتمام کیا اور تبرکات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فہرست بھی مرتب کی۔ اسی اثناء میں حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے قادیان کے تمام محلہ جات کا بار بار دورہ کرکے صحابہؓ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اسم وار فہرست سن بیعت کے لحاظ سے مرتب کی۔
ملک محمد عبداللہ صاحب کے بعد شیخ عبدالقادر صاحب (سابق سوداگرمل) مبلغ کراچی نے ستمبر 1938ء سے اس اہم کام کاچارج لیا اور اس کے لئے اپنے سب اوقات وقف کر دیئے اور نہ صرف بذریعہ ڈاک ہی روایات منگوائیں بلکہ بٹالہ، امرتسر، لاہور اور سیالکوٹ وغیرہ علاقوں کے دورے کرکے روایات کا ایک نہایت قیمتی ذخیرہ فراہم کرکے ان کو رجسٹروں کی صورت میں نقل کرانا شروع کر دیا اور اصل کے ساتھ ساتھ مقابلہ بھی جاری رکھا۔ اس کے ساتھ ہی شیخ صاحب موصوف تبرکات مسیح موعود کی فہرستوں کو زیادہ سے زیادہ مکمل کرکے اخبار الفضل میں شائع کرنے لگے۔
جناب شیخ عبدالقادر صاحب 4 جون 1940ء تک یہ قومی خدمت بجالاتے رہے۔ اس عرصہ میں آپ نے سینکڑوں رفقاء کی روایات تیرہ رجسٹروں کی صورت میںمحفوظ کرلیں۔
شیخ صاحب کے بعد 4 جون 1940ء کو دوبارہ ملک محمد عبداللہ صاحب مولوی فاضل نے اس کام کا چارج لیا۔ آپ نے قریباً ڈھائی ماہ کام کیا اور 150 صفحات پر مشتمل روایات حاصل کرے درج رجسٹر کیں ازاں بعد 15؍اگست 1940ء کو یہ فریضہ مہاشہ ملک فضل حسین صاحب مہاجر کے سپرد کیا گیا۔
(تاریخ احمدیت جلد 8 ص431)
جلسہ سالانہ 1959ء کے موقع پر (جو 22 تا24 جنوری 1960ء کو منعقد ہوا) مجلس انصاراللہ مرکزیہ نے 11 صحابہ مسیح موعود کی روایات کو ان کی آواز میں ریکارڈ کیا۔
صحابہؓ کے بابرکت وجود سے فائدہ اٹھانے کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ ہمیشہ ہی احباب جماعت کو یہ تلقین فرماتے رہتے تھے کہ وہ صحابہؓ مسیح موعود کے مبارک زمانہ کو غنیمت سمجھیں، ان سے فیض صحبت اٹھائیں اور ان کے رنگ میں رنگین ہو کر زندہ ایمان اور کامل عرفان پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اسی سلسلہ میں حضور نے 1944ء کے آغاز میںایک درد انگیز خطبہ ارشاد فرمایا جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مخلص رفقاء میں سے خصوصاً حضرت منشی رستم علی صاحب (آف مدار ضلع جالندھر) کے جذبہ ایثار و فدائیت کی مثال دیتے ہوئے فرمایا۔
’’حضرت مسیح موعود ؑ کے زمانہ میں کئی لوگ ایسے تھے جنہیں قادیان میں صرف دو تین دفعہ آنے کا موقعہ ملا اور انہوں نے اپنے دل میں یہ سمجھا کہ خداتعالیٰ نے بڑا فضل کیا کہ ہمارا قادیان سے تعلق پیدا ہوگیا اور ہم نے زمانہ کے نبی کو دیکھ لیا۔ مگر آج اس چیز کی اس قدر اہمیت ہے کہ ہماری جماعت میں سے کئی لوگ ہیں جو حضرت مسیح موعود ؑ کا زمانہ یاد کرکے بڑی خوشی سے یہ کہنے کے لئے تیار ہو جائیں گے کہ کاش ہماری عمر میں سے دس یا بیس سال کم ہوجاتے لیکن ہمیں زندگی میں صرف ایک دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ کو دیکھنے کا موقع مل جاتا …
حضرت مسیح موعود ؑ کا زمانہ تو گزر گیا۔ اب آپ کے خلفاء اور صحابہ کا زمانہ ہے۔ مگر یا درکھو کچھ عرصہ کے بعد ایک زمانہ ایسا آئے گا جب چین سے لے کریورپ کے کناروں تک لوگ سفر کریں گے اس تلاش اس جستجو اور اس دھن میں کہ کوئی شخص انہیں ایسا مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود ؑ سے بات کی ہو مگر انہیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا۔پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود ؑ سے بات نہ کی ہو صرف مصافحہ ہی کیاہو مگر انہیں ایسا شخص بھی کوئی نہیں ملے گا۔ پھر وہ کوشش کریں گے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے حضرت مسیح موعود ؑسے بات نہ کی ہو۔ آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو، صرف اس نے آپ کو دیکھا ہی ہومگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نظر نہیں آئے گا۔ پھر وہ تلاش کریں گے کہ کاش انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جس نے گو حضرت مسیح موعود ؑسے بات نہ کی ہو۔ آپ سے مصافحہ نہ کیا ہو، آپ کو دیکھا نہ ہو، مگر کم سے کم وہ اس وقت اتنا چھوٹا بچہ ہو کہ حضرت مسیح موعود ؑ نے اس کو دیکھا ہو مگر انہیں ایسا بھی کوئی شخص نہیں ملے گا۔ لیکن آج ہماری جماعت کے لئے موقع ہے کہ وہ ان برکات کو حاصل کرے۔ (الفضل 15؍اپریل 1944ئ)
صحابہؓ مسیح موعود کے حالات محفوظ کرنے کی تحریک
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے 27 دسمبر 1955ء کو جلسہ سالانہ کے موقع پر تحریک فرمائی کہ صحابہؓ مسیح موعود ؑکے حالات جلد سے جلد محفوظ ہوجانے چاہئیں اور جس کو کوئی روایت پتہ لگے وہ اخبارات اور کتابوں میں چھپوا دے اور ملک صلاح الدین صاحب کو پہنچا دے تا یہ خزانہ محفوظ ہوجائے۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’ہمارے ہاں بھی صحابہ کے حالات محفوظ ہونے چاہئیں ملک صلاح الدین صاحب لکھ رہے ہیں … جس وقت یورپ اور امریکہ احمدی ہوا تو انہوں نے آپ کو برا بھلا کہنا ہے کہ حضرت صاحب کے صحابہ اور ان کے ساتھ رہنے والوں کے حالات بھی ہمیں معلوم نہیں وہ بڑی بڑی کتابیں لکھیں گے جیسے یورپ میں بعض کتابوں کی بیس بیس چالیس چالیس پونڈ قیمت ہوتی ہے اور بڑی بڑی قیمتوں پر لوگ ان کو خریدیں گے مگر ان کا مصالحہ ان کو نہیں ملے گا اور وہ غصہ میں آکر تم کو بددعائیں دیں گے کہ ایسے قریبی لوگوں نے کتنی قیمتی چیز ضائع کردی۔ ہم نے تو اب تک حضرت مسیح موعود کی سیرت بھی مکمل نہیں کی۔ بہرحال صحابہ کے سوانح محفوظ رکھنے ضروری ہیں۔ جس جس کو کوئی روایت پتہ لگے اس کو چاہئے کہ لکھ کر اخباروں میں چھپوائے۔ کتابوں میں چھپوائے اور جن کو شوق ہے ان کو دے تاکہ وہ جمع کریں اور پھر وہ جوکتابیں چھاپیں ان کو ضرور خریدے اور اپنے بچوں کوپڑھائے۔ صحابہ میں جو رنگ تھا اور ان لوگوں میں جو قربانی تھی وہ ہمارے اندر نہیں ہے مگر ہمارے اندر بھی وہ طبقہ جس نے حضرت مسیح موعود کی صحبت پائی تھی۔ بڑا مخلص تھا اور ان میں بڑی قربانی تھی اگر وہی اخلاص آجکل نوجوانوں میں پیدا ہو جائے تو جماعت ایک سال میں کہیں سے کہیں نکل جائے۔ (روزنامہ الفضل ربوہ 16 فروری 1956ء ص4)


ماہرین علوم پیدا کرنے کے لئے تحریکات
ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی علمی جماعت کو ہر قسم کے کارکنان اور خدمت گاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے نہ صرف عمومی وقف زندگی کی تحریکات فرمائیں بلکہ علماء اور ماہرین تیار کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کی خاطر ٹھوس قدم اٹھائے۔
مختلف مذاہب کے ماہرین
اس سلسلہ کو بڑھاتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے بعض جوانوں کو خاص خاص مذاہب کی ریسرچ کے لئے ارشاد فرمایا۔ مثلاً ہندو مذہب کے لئے مہاشہ ملک فضل حسین صاحب۔ سکھ مذہب کے لئے چوہدری عبدالسلام صاحب کاٹھ گڑھی۔ مولوی رحمت علی صاحب (مبلغ انڈونیشیا)، شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور عیسائی مذہب کی تحقیق کے لئے شیخ (حکیم) فضل الرحمن صاحب مقرر ہوئے۔ ان حضرات میں سے مولوی رحمت علی صاحب اور شیخ فضل الرحمن صاحب اور شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے آگے چل کر بالترتیب انڈونیشیا، افریقہ اور مصر میں سلسلہ کی اشاعت کے لئے بڑی قابل قدر خدمات سرانجام دیں اور ملک فضل حسین صاحب نے اندرون ملک میں ہندو مذہب کے حوالہ سے شاندار لٹریچر پیدا کیا۔ چوہدری عبدالسلام صاحب کاٹھ گڑھی نے تحریک شدھی ملکانہ میں سرگرم حصہ لیا۔
(تاریخ احمدیت جلد4 ص223)
سینکڑوں مفسر اور محدث
1944ء میں حضرت میر محمد اسحق صاحبؓ کی المناک وفات کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے سیدنا المصلح الموعودؓ کی توجہ اس طرف مبذول فرمائی کہ جماعت میں جلد سے جلد علماء اور علوم اسلامیہ کے ماہرین پیدا کرنے ضروری ہیں تا پہلے بزرگوں کے قائم مقام ہوسکیں اور جماعت کے لئے من حیث الجماعت اپنے علمی مقام سے گرنے کا امکان باقی نہ رہے۔ چنانچہ حضور نے مجلس مشاورت کے دوران9؍اپریل 1944ء کو فرمایا فرمایا:۔
’’خداتعالیٰ کی مشیت پوری ہوئی اور میر صاحب وفات پاگئے۔ ان کے انتقال سے جماعت کو اس لحاظ سے شدید صدمہ پہنچا ہے کہ وہ سلسلہ کے لئے ایک نہایت مفید وجود تھے۔ مگر یاد رکھو مومن بہادر ہوتا ہے اور بہادر انسان کا یہ کام نہیں ہوتا کہ جب کوئی ابتلاء آئے تو وہ رونے لگ جائے یا اس پر افسوس کرنے بیٹھ جائے … تم کیوں اپنے آپ کو اس حالت میں تبدیل نہیں کرلیتے کہ جب کوئی شخص مشیت ایزدی کے ماتحت فوت ہوجائے تو تمہیں ذرا بھی یہ فکر محسوس نہ ہو کہ اب سلسلہ کا کام کس طرح چلے گا بلکہ تم میں سینکڑوں لوگ اس جیسا کام کرنے والے موجود ہوں … ہماری جماعت اگر روحانی طور پر نہایت مالدار بن جائے تو اسے کسی شخص کی موت پر کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہوسکتی۔ تم اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے مالدار بنانے کی کوشش کرو۔ تم میں سینکڑوں فقیہہ ہونے چاہئیں۔ تم میں سینکڑوں محدث ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں مفسر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں علم کلام کے ماہر ہونے چاہئیں۔ تم میں سینکڑوں علم اخلاق کے ماہر ہونے چاہئیں۔ تم میں سینکڑوں علم تصوف کے ماہر ہونے چاہئیں۔ تم میں سینکڑوں منطق اور فلسفہ اور فقہ اور لغت کے ماہر ہونے چاہئیں۔ تم میں سینکڑوں دنیا کے ہر علم کے ماہر ہونے چاہئیں تاکہ جب ان سینکڑوں میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو تمہارے پاس ہر علم اور ہر فن کے 499 عالم موجود ہوں اور تمہاری توجہ اس طرف پھرنے ہی نہ پائے کہ اب کیا ہوگا جو چیز ہر جگہ اور ہر زمانہ میںمل سکتی ہو اس کے کسی حصہ کے ضائع ہونے پر انسان کو صدمہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسی سینکڑوں چیزیں میرے پاس موجود ہیں۔ اسی طرح اگر ہم میں سے ہر شخص علوم و فنون کا ماہر ہو تو کسی کو خیال بھی نہیں آسکتا کہ فلاں عالم تو مر گیا۔ اب کیا ہوگا۔ یہ خیال اسی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے وجودوں کو نادر بننے دیتے ہیں اور ان جیسے سینکڑوں نہیں ہزاروں وجود اور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اگر ان کے نادر ہونے کا احساس جاتا رہے جس کی سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں ہوسکتی کہ ان کے قائم مقام ہزاروں کی تعداد میں ہمارے اندرموجود ہوں تو کبھی بھی جماعت کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فلاں شخص تو فوت ہو گیا۔ اب کیا ہوگا؟
دیکھو۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فاستبقواالخیرات۔ تم نیکی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اگر ہم قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق یہ اشتیاق رکھتے کہ ہم دوسروں سے آگے بڑھ کر رہیں۔ اگر ہم میں سے ہر شخص استباق کی روح کو اپنے اندر قائم رکھتا تو آج ہم میں سے ہر شخص بڑے سے بڑا محدث ہوتا۔ بڑے سے بڑا مفسر قرآن ہوتا۔ بڑے سے بڑا عالم دین ہوتا اور کسی کے دل میں یہ احساس تک پیدا نہ ہوتا کہ اب جماعت کا کیا بنے گا؟ … ہمارے لئے یہ خطرہ کی بات نہیں ہے کہ حضرت خلیفہ اولؓ بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی عبدالکریم صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا مولوی برہان الدین صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا حافظ روشن علی صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا قاضی امیر حسین بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے یا میر محمد اسحق صاحب بہت بڑے عالم تھے جو فوت ہو گئے۔ بلکہ ہمارے لئے خطرہ کی بات یہ ہے کہ جماعت کسی وقت بحیثیت جماعت مر جائے اور ایک عالم کی جگہ دوسرا عالم ہمیں اپنی جماعت میں دکھائی نہ دے‘‘۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 1944ء ص174 تا178)
اس سلسلہ میں حضور نے عملی طور پر بھی کئی اہم اقدامات اٹھائے۔
خصوصی تعلیم کے لئے واقفین کا انتخاب
یکم فروری 1945ء کو حضور نے دارالواقفین کے تمام ممبران کو قصر خلافت میں شرف باریابی بخشا۔ ازاں بعد حضور نے 22 واقفین کو بیرونی ممالک میں بھجوانے اور 9 واقفین کو تفسیر، حدیث، فقہ اور فلسفہ و منطق کی اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے منتخب فرمایا تا وہ سلسلہ کے بزرگ علماء کے قائم مقام بن سکیں۔
حصول تعلیم خاص کے لئے مندرجہ ذیل واقفین منتخب کئے گئے۔
مولوی نورالحق صاحب (تفسیر)۔ ملک سیف الرحمن صاحب (فقہ)۔ مولوی محمد صدیق صاحب (حدیث)۔ مولوی محمد احمد صاحب جلیل (حدیث)۔ مولوی محمد احمد صاحب ثاقب (فقہ)۔ مولوی غلام باری صاحب سیف (حدیث)۔ حکیم محمد اسماعیل صاحب (منطق و فلسفہ)۔ حافظ بشیرالدین عبیداللہ صاحب (تفسیر)۔ ملک مبارک احمد صاحب (منطق و فلسفہ)
ازاں بعد مولوی خورشید احمد صاحب شاد بھی اس زمرہ میں شامل کر لئے گئے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے آپ کو حدیث شریف کی خصوصی تعلیم کا ارشاد فرمایا۔
مندرجہ بالا واقفین مئی 1947ء میں فارغ التحصیل ہوئے جس کا ذکر خود حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 6 جون 1947ء کے خطبہ جمعہ میں کیا۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’مجھے کئی سال سے یہ فکر تھا کہ جماعت کے پرانے علماء اب ختم ہوتے جارہے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ جماعت کو یکدم مصیبت کا سامنا کرنا پڑے اور جماعت کا علمی معیار قائم رہ نہ سکے۔ چنانچہ اس کے لئے میں نے آج سے تین چار سال قبل نئے علماء کی تیاری شروع کر دی تھی۔ کچھ نوجوان تو میں نے مولوی صاحب (یعنی حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ۔ ناقل) سے تعلیم حاصل کرنے کے لئے مولوی صاحب کے ساتھ لگا دیئے اور کچھ باہر بھجوا دیئے تاکہ وہ دیوبند وغیرہ کے علماء سے ظاہری علوم سیکھ آئیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور قدرت کی بات ہے کہ ان علماء کو واپس آئے صرف ایک ہفتہ ہوا ہے۔ جب وہ واپس آگئے تو مولوی صاحب فوت ہو گئے‘‘۔ (الفضل 11 جون 1947ء ص5)
حضرت مصلح موعودؓ نے مرکز میں ان واقفین کو واپسی پر ان کو دوسرے واقفین کے پڑھانے پر مقرر فرمادیا۔
ان علماء نے ایک لمبا عرصہ مختلف میدانوں میں جماعت کی بھرپور خدمت کی ہے اور اب ان کے شاگردوں کے ذریعہ یہ سلسلہ جاری ہے۔




مرکز سلسلہ کے متعلق تحریکات
قادیان جماعت احمدیہ کا دائمی مرکز ہے۔ یہ ایک طرف کل عالم کے احمدیوں کا مرکز وحدت ہے اور دوسری طرف مخالفین کی شرارتوں اور ایذارسانیوں کا مرکز نگاہ ہے۔ اس لئے قادیان کی آبادی، اس کا ماحول، اس کی حفاظت اور دیگر امور احمدیت کی ترقی اور اشاعت میں زبردست کردار اد اکرتے ہیں۔ لہٰذا حضرت مصلح موعودؓ نے اس طرف بھی ہر پہلو سے خاص توجہ فرمائی۔ یہاں قادیان اور پھر منارۃ المسیح کے متعلق حضور کی نمایاں تحریکات کو یکجا کر دیا گیا ہے۔
قادیان کے متعلق سب سے اہم تحریکات تو وہ ہیں جن میں حضور اہل قادیان کو علمی اور روحانی لحاظ سے بلند مدارج پر پہنچنے کی تلقین کرتے رہے اور مسلسل خطبات کے ذریعہ راہنمائی فرماتے رہے۔ نظام جماعت اور ذیلی تنظیموں کی بنیاد رکھی اور متعدد ایسے ادارے قائم فرمائے جو قادیان اور اس کے باسیوں کی نیک شہرت کا ذریعہ بنیں۔ یہ سلسلہ حضرت مصلح موعودؓ کے پورے دور خلافت پر پھیلا ہوا ہے اور خلافت ثانیہ کی پوری تاریخ اس کی تفصیل میں پیش کی جاسکتی ہے۔
مینارۃ المسیح قادیان کی تکمیل کی تحریک
احادیث نبوی میں ایک پیشگوئی تھی کہ مسیح سفید منارہ کے قریب نازل ہوگا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خداتعالیٰ کی اس بات کو ظاہر میں پورا کرنے کے لئے ایک مینار کی بنیاد رکھی۔ گو اس وقت یہ کام بظاہر مشکل نظر آتا تھا لیکن پھر بھی آپ کے زمانہ میں جماعت نے اس غرض کے لئے بہت سا چندہ جمع کیا۔ لیکن کام پھر بھی نامکمل رہا۔ بعض مخالفین نے اس پر اعتراض کیا تو حضرت مسیح موعود ؑ نے تحریر فرمایا:
’’اگر سارے کام ہم ہی کر جائیں تو بعد میں آنے والے لوگ کیا کریں گے اور وہ کس طرح ثواب لیں گے‘‘۔
حضرت مصلح موعودؓ نے 27 نومبر 1914ء کے خطبہ میں مخلصین کو تحریک فرمائی کہ وہ منار کی تکمیل میں حصہ لیں۔ حضرت مسیح موعود ؑنے اس کی تکمیل سے بہت سی برکات کے نزول کی پیشگوئی فرمائی ہے ممکن ہے اللہ تعالیٰ اسی کی بدولت ہمارے موجودہ ابتلاؤں کو دور کردے۔
خطبہ جمعہ کے بعد حضور نے منار کی اس عمارت پر اپنے دست مبارک سے اینٹ رکھی جو ناتمام تھی۔ بظاہر حالات بہت مخدوش تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی توجہ اور مخلصین کی قربانیوں سے دسمبر 1916ء میں منار قریباً مکمل ہو گیا اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی اجازت خاص سے حضرت چوہدری مولا بخشؓ صاحب کی طرف سے یادگاری پتھر نصب کیا گیا۔ فروری 1923ء میں اس پر گیس کے ہنڈے نصب ہوئے۔ 1929ء میں منارۃ المسیح پر گھڑیال لگانے کے لئے ویسٹ اینڈ واچ کمپنی سے خط و کتابت کی گئی۔ 1930ء میںمنار پر لیمپ لگائے گئے اور 1931ء میں ٹاور کلاک آیا۔ اکتوبر 1935ء میں منارۃ المسیح پر بجلی کے لئے وائرنگ کی منظوری دی گئی۔
منارۃ المسیح کی تکمیل سے وہ تمام اغراض و مقاصد پورے ہوئے جو اس کی بنیاد کے وقت حضرت مسیح موعود ؑکے پیش نظر تھے اور جیسا کہ حضور نے خبر دی تھی، اس کی تعمیر کے بعد اسلام کی روشنی دنیا کے کناروں تک پہنچ گئی اور تبلیغ اسلام کے ایک جدید اور انقلابی دور کا آغاز ہوا۔
حضرت مسیح موعود ؑ نے فیصلہ فرمایا تھا کہ منارۃ المسیح کے لئے کم ازکم سو روپیہ دینے والوں کے نام منار پر بطور یادگار کندہ کرائے جائیں گے چنانچہ منار کی تکمیل کے بعد اس پر قریباً 1929ء میں دو سو گیارہ مخلصین کے نام لکھوا دیئے گئے۔
قادیان بار بار آنے کی تحریک
28 دسمبر 1915ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر میں حضور نے بار بار قادیان آنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا ہے کہ جو لوگ قادیان نہیں آتے مجھے ان کے ایمان کا خطرہ ہی رہتا ہے … بار بار یہاں آؤ تاکہ حضرت مسیح موعود ؑکی صحبت یافتہ جماعت کے پاس بیٹھو۔ حضرت مسیح موعود ؑ کے نشانات کو دیکھو اور اپنے دلوں کو صیقل کرو۔ میں یہ نہیں کہتا کہ آپ لوگوں نے اس وقت تک کچھ نہیں سیکھا یا کچھ نہیں حاصل کیا۔ آپ نے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ حاصل کیا ہے مگر اس کو قائم اور تازہ رکھنے کے لئے یہاں آؤ اور بار بار آؤ۔ بہت لوگ ایسے ہیں جو صرف جلسہ پر آتے ہیں اور پھر نہیں آتے۔ میں کہتا ہوں انہیں اس طرح آنے سے کیا فائدہ ہوا۔ یہ فائدہ تو ہوا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود ؑ کا حکم مانا اور اس حکم کی قدر کی۔ مگر ایسے موقعہ پر انہیں کچھ سکھانے اور پڑھانے کا کہاں موقع مل سکتا ہے۔ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جلسہ پر آتے اور پھر چلے جاتے ہیں ان کی بعض حرکات خلاف شرع ہوتی ہیں۔ لیکن ایسے وقت میں نہ کچھ بتایا جاسکتاہے اور نہ بتانے کا کوئی موقع ملتا ہے اور پھر وہ جو یہاں نہیں آتے ان کے لئے بار بار دعا بھی نہیں ہوسکتی اور کس طرح ہو۔ میںتو دیکھتا ہوں۔ ماں بھی اپنے اس بچہ کو جو ہر وقت اس سے دور رہے بھول جاتی ہے اور جو نزدیک رہے اسے یاد رکھتی ہے۔ اسی طرح خداتعالیٰ بھی ان لوگوں کو بھلا دیتا ہے جو اس کو یاد نہیں رکھتے۔ … تو وہ شخص جو بار بار مجھے ملتا ہے اور اپنے آپ کو شناخت کراتا ہے وہ اپنے لئے دعا کے لئے بھی یاد دلاتا ہے۔ … پھر قادیان میں نہ صرف قرآن شریف علمی طور پر حاصل ہوتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی ملتا ہے۔ یہاں خدا کے فضل سے پڑھانے والے ایسے موجود ہیں جو پڑھنے والے کے دل میں داخل کر دیں اور یہ بات کسی اور جگہ حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ تفقہ فی الدین اور چیز ہے اور علم اور چیز ہے۔ … جو قرآن شریف پڑھ سکتا ہے وہ عالم ہو سکتا ہے مگر فقیہہ نہیں ہوسکتا۔ … ایسے انسان خدا کے فضل سے یہاں موجود ہیں ان سے آپ یہ بات حاصل کریں اور وہ اس طرح کہ بار بار یہاں آئیں۔
(انوار خلافت۔ انوارالعلوم جلد3 ص172)
27 دسمبر 1920ء کو جلسہ سالانہ پر حضور نے قادیان آنے کے سات فوائد بیان کئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔
1۔مرکز سے تعلق رکھنے والا خطرات اور ہلاکت سے بچ جاتا ہے۔
2۔مرکز کا نمونہ دیکھ کر نیک اور دینی باتوں میں حصہ لینے کی تحریک ہوتی ہے۔
3۔تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے۔
4۔امام کی صحبت اور دعا سے برکات حاصل ہوتی ہیں۔
5۔مقدس مقام کی برکات سے حصہ ملتا ہے۔
6۔جماعتی کاموں کو دیکھ کر اہمیت ذہن نشین ہوتی ہے۔
7۔مرکزی کام کرکے مرکزی برکات عطا ہوتی ہیں۔ (انوارالعلوم جلد5 ص450)
فرمایا:۔
قادیان میں آنا دو موقعوں پر بڑا ضروری ہوتا ہے۔ ایک جلسہ کے موقع پر۔ وہ خاص برکات کے نزول کا اور وعظ و نصیحت اور دوستوں سے ملنے کا موقع ہوتا ہے اور ایک کسی ایسے موقعہ پر جب لوگوں کا زیادہ ہجوم نہ ہو۔ تاکہ ذاتی تعارف پیدا ہوسکے۔ ہجوم کے دنوں میں اتنی فرصت نہیں ہوتی کہ ہر شخص سے الگ الگ ملاقات کی جائے۔ یا اس کی طرف خاص توجہ کی جائے۔ پس دونوں ہی موقعوں پر آپ کو ایک دفعہ آنا چاہئے۔ ایک دفعہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اکثر لوگ ایک دفعہ آکر پھر آتے ہی رہتے ہیں‘‘۔
(الفضل 13؍اکتوبر 1998ئ)
قادیان میں مکان بنانے کی تحریک
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے سالانہ جلسہ 1931ء پر جماعت کو تحریک فرمائی کہ وہ قادیان میں مکان بنائیں تا قادیان کو وسعت حاصل ہو اور اس مقام کی ظاہری عظمت بھی قائم ہو۔ نیز بتایا کہ اس کے لئے میں نے بھی ایک سکیم بنائی ہے اور خطوط کے ذریعہ شائع کی گئی ہے جو یہ ہے کہ ایک حصہ پچیس روپے ماہوار کا رکھا گیا ہے کل حصے ایک سو بیس رکھے گئے ہیں۔ ایک شخص ایک یا زیادہ حصے لے سکتا ہے۔ اس طرح جو روپیہ جمع ہو وہ قرعہ ڈال کر ہر مہینے ایک دوست کو دے دیا جائے جو مکان بنالے اس طرح ایک سو بیس حصوں کے مکان نئے اور اچھے بن جائیں گے۔ … پہلے ڈیڑھ سال تک کوئی قرعہ نہیں ڈالا جائے گا تاکہ اس طرح جو رقم جمع ہو اس سے زمین خرید لی جائے اس کے بعد ہر مہینے قرعہ ڈالا جائے گا اور جس کے نام نکلے گا اس سے یہ شرط ہوگی کہ روپیہ مکان بنانے پر ہی خرچ کیا جائے۔
حضور کی اس تحریک پر متعدد مخلصین جماعت نے لبیک کہا اور اس سکیم کے مطابق حضرت مسیح موعود ؑ کی ایک پیشگوئی پوری کرنے کے لئے قادیان کی پرانی آبادی کے مشرق کی طرف ایک نیا محلہ ’’دارالانوار‘‘ کے نام سے آباد کیا گیا۔ جس کی بنیاد حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 4؍اپریل 1932ء کو رکھی اور 25؍اپریل 1932ء کو اپنی کوٹھی دارالحمد کی بنیادی اینٹ رکھی جو اس نئے محلہ کی پہلی عمارت تھی۔ دارالحمد کی عمارت دسمبر 1932ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی اور 15 جنوری 1933ء کو حضور نے بطور افتتاح ایک سو روپیہ غربا میں پارچات تقسیم کرنے کے لئے عطا فرمایا۔ حضور نے 27 دسمبر 1932ء کو احباب جلسہ سے اپنی اس خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہ اس نئے مکان کے بابرکت ہونے کے لئے دعا کریں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ
’’میں نے قرض لے کر ایک مکان بنوایا ہے کیونکہ اب ہمارے گھر میں اتنی تنگی ہے کہ ایک ایک کمرہ میں جیل کی اتنی جگہ کے مقابلہ میں دو گنے افراد رہتے ہیں … مجھے مکان بنوانے سے ہمیشہ ڈر آتا ہے جو مکان بنوایا گیا ہے اس کے متعلق بھی میرے دل پر بوجھ ہے اس لئے دوستوں سے خواہش کرتا ہوں کہ دعا کریں خداتعالیٰ اس مکان کو بابرکت کرے۔ میں تو اس میں رہنے کا ارادہ ہی نہیں رکھتا۔ میرے لئے تو حضرت مسیح موعود ؑکا مکان ہی بہترین ہے مگر جو اس میں جا کر رہے اس کے لئے دعا کی جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکات سے اسے حصہ ملے‘‘۔
غرضیکہ متضرعانہ دعاؤں کے ساتھ دارالانوار کی بناء پڑی اور دراصل انہیں دعاؤں کا اثر تھا کہ چند سالوں کے اندر اندر قادیان کا یہ مشرقی علاقہ آباد ہو گیا اور ہر طرف خوبصورت اور عالی شان عمارتیں بن گئیں۔
حضرت اماں جانؓ کی کوٹھی ’’بیت النصرت‘‘ (جوحضرت اماں جان نے کمال مادرانہ شفقت سے حضرت صاحبزدہ مرزا ناصر احمد صاحبؓ کو تخفۃً دے کر دلی محبت کے اظہار سے ان کی عزت افزائی فرمائی) اور چودھری محمد ظفراللہ خانؓ صاحب کی کوٹھی ’’بیت الظفر‘‘ جن کی بنیاد حضور کے دست مبارک سے بالترتیب 23 فروری 1933ء اور 12؍اپریل 1934ء کو رکھی گئی اسی محلہ میں تعمیر ہوئیں۔ اسی طرح گیسٹ ہاؤس اور دفتر خدام الاحمدیہ مرکزیہ بھی یہیں بنے۔
حفاظت مرکز اور وقف جائیداد کی تحریک
متحدہ ہندوستان کی آخری مجلس مشاورت 6,5,4 اپریل 1947ء کو منعقد ہوئی۔ اس مشاورت کا اہم ترین واقعہ حضرت مصلح موعود کی طرف سے حفاظت مرکز کے لئے مالی تحریک اور اس پر مخلصین جماعت کا شاندار رنگ میں لبیک کہنے کا ایمان افروز نظارہ ہے۔ جو مشاورت کے دوسرے دن 5 ؍اپریل کو نماز مغرب و عشاء کے بعد دیکھنے میں آیا۔
اس روز تیسرا اجلاس 9 بجے شب شروع ہوا۔ جس کے آغاز میں حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’حفاظت مرکز کے لئے جماعت سے دو لاکھ کی رقم کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر اس وقت تک صرف 36 ہزار کے قریب رقم جمع ہوئی ہے۔ میں حیران ہوں کہ موجودہ ہولناک تباہیوں اور خونریزیوں کو دیکھتے ہوئے جماعت نے کس طرح اتنی رقم پر اکتفا کیا۔ کیا کوئی عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ یہ حقیر رقم شعائراللہ کی حفاظت کے لئے کافی ہے اور ہم اپنے فرض سے سبکدوش ہو گئے ہیں۔ اس سے سینکڑوں گنا زیادہ تو تم سال بھر میں اپنے بیماروں پر خرچ کر دیتے ہو۔ کیا شعائر اللہ کو اتنی اہمیت بھی حاصل نہیں؟ اب آپ مجھے بتائیں کہ بقیہ رقم کس طرح پوری ہوسکتی ہے؟‘‘ حضرت مصلح موعودؓ کے اس ارشاد پر کئی دوستوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور سب کچھ قربان کر دینے کا یقین دلایا۔
احباب اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرچکے تو سیدنا حضرت المصلح الموعودؓ نے فرمایا:۔
’’دنیا میں ہر شخص کے لئے آزادی ہے سوائے ہمارے کہ ہم اپنے مقدس مقامات کو نہ چھوڑ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ایک عمارت جو مٹی اور اینٹوں کی بنی ہوئی ہے اس سے ایک مومن کی جان کہیں قیمتی ہوتی ہے لیکن جب وہ عمارت اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہونے لگے اور شعائر اللہ بن جائے تو اس کی حفاظت کے لئے سینکڑوں مومنوں کی جان بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور انہیں خوشی سے قربان کیا جاسکتا ہے۔ پس جماعت نے اگر ان باتوں کو مدنظر نہیں رکھا تھا تو میرا فرض تھا کہ میں انہیں احساس ذمہ داری دلاؤں اور ان کے مونہوں سے کہلواؤں کہ ہم سے غفلت ہوئی۔ سو میں سمجھتا ہوں کہ وہ غرض پوری ہو گئی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کمی کس طرح پوری کی جائے۔ ہمارے عام چندے تو ان اخراجات کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمیں کوئی اور طریق اختیار کرنے ہوں گے۔ سو اس کے لئے جماعت سے میرا سب سے پہلا مطالبہ یہ ہے کہ وہ دوست جن کی رقوم باہر بینکوں میں جمع ہیں وہ بطور امانت قادیان بھیج دیں تاکہ سلسلہ کو اگر کوئی فوری ضرورت پڑے تو اس میں سے خرچ کر سکے اور پھر آہستہ آہستہ اس کمی کو پورا کردے۔ یہ رقوم بطور امانت کے ہوں گی اور بوقت ضرورت واپس مل سکیں گی۔ اس طرح سلسلہ کی ضرورت بھی پوری ہو جائے گی اور آپ لوگوں کے ایمان کا امتحان بھی ہوجائے گا۔ جو دوست اس تحریک پر لبیک کہنے کے لئے تیار ہوں وہ اپنے نام اور رقوم لکھا دیں‘‘۔
حضور کی زبان سے ان الفاظ کا نکلنا ہی تھا کہ مخلصین نے نہایت ذوق و شوق سے اپنے نام لکھانے شروع کر دیئے۔ ہر چہرہ سے یہی اضطراب ظاہر ہوتا تھا کہ وہ دوسروں سے سبقت لینا چاہتا ہے اور ہر دل مضطر تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ رقوم اپنے آقا کے قدموں میں ڈال دے۔ قریباً نصف گھنٹہ کے عرصہ میں 371000/- روپے کے وعدے ہوئے جس کا حضور نے کھڑے ہو کر اعلان کیا اور فرمایا ’’ابھی کچھ دوست رہتے ہیں۔ جو سوچ رہے ہوں گے اور اکثر ایسے بھی ہیں جنہوں نے مشورہ وغیرہ کرنا ہوگا اور ابھی ہزاروں ہزار دوست ایسے ہیں جو ہم سے کسی طرح اخلاص میں کم نہیں ہیں مگر وہ اس وقت دور بیٹھے ہیں۔ جب آپ لوگ جا کر ان کو اطلاع دیں گے تو وہ کبھی بھی آپ سے پیچھے نہ رہیں گے اور ممکن ہے مطلوبہ رقم سے بہت زیادہ روپیہ جمع ہوجائے‘‘۔
اس کے بعد فرمایا ’’سب سے پہلے میں جائیداد کے وقف کو لیتا ہوں جو خداتعالیٰ کے الہام کے ماتحت جاری کیا گیا ہے۔ مگر میں نہایت افسوس سے کہتا ہوں کہ جماعت نے اس طرف پوری توجہ نہیں کی اور صرف دو ہزار آدمیوں نے اس وقت تک اس میں حصہ لیا ہے۔ حالانکہ لاکھوں کی جماعت ہے اور لاکھوں کی جماعت میں سے لاکھوں ہی کو وقف کرنا چاہئے تھا۔ آپ میں سے جن دوستوں نے اپنی آمد یا جائیداد وقف کی ہوئی ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔ (اس پر 455 میں سے جو ہال میں تھے صرف 167 کھڑے ہوئے) فرمایا یہ تعداد ہے جو 35 فیصدی کے قریب بنتی ہے۔ اس پر دوسری جماعت کا بھی اندازہ کرلیں۔ آپ میں سے جو لوگ اس وقت وقف کرنا چاہیں وہ بھی اپنے نام اور جائیداد کی قیمت وغیرہ لکھا دیں۔ اس پر ہر طرف سے ناموں کی آواز آنے لگی اور کارکنوں نے نام لکھنے شروع کئے۔
اس سلسلہ کے ختم ہونے پر حضور نے کھڑے ہو کر فرمایا کہ اب آپ لوگوں کا کام ہے کہ جماعتوں میں جاکر دوسرے لوگوں کو بھی اس کارخیر میں شریک کریں۔ ہم اس بات سے خوش نہیں ہوسکتے کہ ہم میں سے اتنے لوگوں نے حصہ لیا۔ بلکہ ہمیں تبھی خوشی ہو سکتی ہے کہ جب جماعت کے ہر فرد نے اس میں شرکت کی ہو اور کوئی بھی اس سے باہر نہ رہا ہو۔ یہی زندہ جماعتوں کی علامت ہے اس ضمن میں فرمایا ’’اس وقت میں تجویز کرتا ہوں کہ وقف جائیداد والے دوست اپنی جائیداد کی کل قیمت کا ایک فیصدی چھ ماہ کے اندر اندر مرکز میں جمع کرادیں اور وہ جنہوں نے ایک ماہ یا دو ماہ کی آمد وقف کی ہوئی ہے وہ ایک ماہ کی آمد بھیج دیں اور جن لوگوں نے وقف نہیں کی وہ بھی اس چندہ میں حصہ ضرور لیں۔ وہ اپنی کل جائیداد کی قیمت کا 1/2 فیصدی اور اپنی ایک ماہ کی آمد کانصف چھ ماہ کے اندر اندر یہاں بھیج دیں‘‘۔
بالآخر حضور نے نہایت پُرجوش کلمات میں نمائندگان کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’پس جاؤ اور کوئی فرد باقی نہ رہنے دو جو اپنی جائیداد یا آمد وقف نہ کرے اور وہ لوگ جو انکار کریں ان سے کہہ دو کہ ہم تمہارے حرام مال سے اپنے پاکیزہ مال کو ملوث نہیں کرنا چاہئے۔……
تیسری تجویز یہ ہے کہ وصیتوں کی تحریک کی جائے اور جماعت کا کوئی فرد نہ رہے جس نے وصیت نہ کی ہو۔ وصیت بیشک طوعی چیز ہے۔ مگر اب وقت آرہا ہے جب طوعی چیزیں بھی فرض بن جاتی ہیں۔
چوتھی تجویز یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی موصی ہیں وہ اپنی وصیتوں کو بڑھائیں۔ جو 1/10 کے موصی ہیں وہ 1/9 دیں اور جو 1/9 دیتے ہیں وہ 1/8 دیں۔ و علیٰ ھذا۔
چوتھی تجویز قادیان کی جائیدادوں کے متعلق ہے کہ جب وہ بیچی جائیں تو جو نفع ہو اس نفع کا 50/100 سلسلہ کو دیا جائے اور جن کے پاس پہلی جائیدادیں ہیں وہ منافع کا 1/10 فیصدی سلسلہ کو دیں۔ میں آئندہ کے لئے یہ قانون مقرر کرتا ہوں کہ کوئی جائیداد امور عامہ کے علم اور مرضی کے خلاف فروخت نہ ہو۔ اس حکم کا اطلاق آج سے شروع ہو گا‘‘۔
سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔
’’اب رہا یہ سوال کہ اگر ان تجاویز کے باوجود مطلوبہ رقم جس کی اس وقت سلسلہ کے کام چلانے اور مرکز کی حفاظت کے لئے ضرورت ہے پوری نہ ہو تو میری کوٹھی دارالحمد کو بیچ کر کمی پوری کی جائے۔ کوٹھی کے ساتھ بہت سی زمین اور باغ بھی ہے جس کی مالیت چند لاکھ کے قریب ہے۔ میرے پاس نقد روپیہ نہیں ہے۔ جماعت کے دوست یہ کریں کہ اسے خرید لیں‘‘۔
اپنے پیارے آقا کی قربانی کا یہ فقید المثال جذبہ دیکھ کر ہر مومن نے یہی سمجھا کہ جس طرح اپنے پیارے امام کے مقابلہ میں ہماری جانوں کی کوئی قیمت نہیں اسی طرح اس کی جائیداد کے مقابلہ میں ہماری جائیدادوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ ہر طرف سے اس قسم کی صدائیں آنے لگیں یہ نہیں ہوگا بلکہ پہلے ہماری جائیدادیں فروخت ہوں گی۔ پہلے ہمارا سب کچھ قربان ہوگا۔ اس پر حضور نے فرمایا اگر آپ لوگ قربانی کرنا چاہیں تو میرے ساتھ شامل ہوجائیں مجھے قربانی سے کیوں محروم کرتے ہیں۔ سب سے مقدم فرض میرا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں سب کچھ قربان کروں۔ آپ لوگ جائیں اور اپنے دوسرے بھائیوں کو بھی شریک کریں صرف چند افراد میں یہ روح فائدہ نہیں دے سکتی۔ جبکہ ساری قوم میں یہ روح ہونی چاہئے۔ چند افراد تو مشرکوں اور عیسائیوں میں بھی غیر معمولی قربانیاں پیش کر دیا کرتے ہیں لیکن اصل چیز یہ ہے کہ قوم کا ہرفرد اس میں شریک ہو۔ (الفضل 9 ؍اپریل 1947ئ)
تحریک وقف جائیداد و آمد کی کامیابی اور اس کے مفید نتائج:
متحدہ ہندوستان میںملکی حالات بدسے بد تر ہو رہے تھے اور مرکز احمدیت کے خطرات میں اضافہ ہورہا تھا اس لئے جماعت احمدیہ کے اولوالعزم قائد اور امام حضرت مصلح موعودؓ نے مجلس مشاورت کے بعد بھی بار بار جماعتوں کو تحریک وقف جائیداد و آمد میں حصہ لینے اور جلد ازجلد فہرستیں مکمل کرکے بھجوانے کی تحریک مسلسل جاری رکھی اور ان کو بتایا کہ یہ تحریک آئندہ عظیم الشان اسلامی عمارات کی بنیاد بنے گی۔ چنانچہ 16 مئی 1947ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ تحریک بھی ہمارے سلسلہ کی اور تحریکوں کی طرح اپنے اندر خداتعالیٰ کی بہت بڑی حکمتیں رکھتی ہے اور اس کی خوبیاں صرف اس کی ذات تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ایک بنیاد ہے آئندہ بہت بڑے اور عظیم الشان کارناموں کو سرانجام دینے کی اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ کوئی اتفاقی تحریک نہیں بلکہ اس تحریک کے ذریعہ ہماری جماعت کی ترقی اور سلسلہ کے مفاد کے لئے بعض نہایت ہی عظیم الشان کاموں کی بنیاد رکھی جارہی ہے گو اب تک لوگ اس تحریک کی اہمیت کو نہیں سمجھے لیکن دو چار سال تک اس کے کئی عظیم الشان فوائد جماعت کے سامنے آنے شروع ہو جائیں گے جیسے تحریک جدید کو جب شروع کیا گیا تھا تو اس تحریک کی خوبیاں جماعت کی نگاہ سے مخفی تھیں مگر اب نظر آرہا ہے کہ اس تحریک کے ذریعہ دنیا بھر میں تبلیغ اسلام کا کام نہایت وسیع پیمانے پرجاری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے جتنے کام مجھ سے لئے ہیں ان تمام کاموں کے متعلق میں دیکھتا ہوں کہ درحقیقت وہ بنیاد ہوتے ہیں بعض آئندہ عظیم الشان کاموں کی۔ اسی طرح یہ تحریک بنیاد ہوگی آئندہ تعمیر ہونے والی عظیم الشان اسلامی عمارات کی جس طرح میں نے وقف جائیداد کی تحریک کی تھی جو درحقیقت بنیاد تھی آج کی تحریک کے لئے مگر اس وقت لوگ اس تحریک کی حقیقت کو نہیں سمجھے تھے۔ کچھ لوگوں نے تو اپنی جائیدادیں وقف کر دی تھیں مگر باقی لوگوں نے خاموشی اختیار کرلی اور وہ لوگ جنہوں نے اپنی جائیدادیں وقف کی تھیں وہ بھی بار بار مجھے لکھتے تھے کہ آپ نے وقف کی تو تحریک کی ہے اور ہم اس میں شامل بھی ہو گئے ہیں لیکن آپ ہم سے مانگتے کچھ نہیں۔ انہیں میں کہتا تھا کہ تم کچھ عرصہ انتظار کرو۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو وہ وقت بھی آ جائے گا۔ جب تم سے جائیدادوں کا مطالبہ کیا جائے گا۔ چنانچہ دیکھ لو اس تحریک سے خداتعالیٰ نے کتنا عظیم الشان کام لیا ہے۔ اگر عام چندہ کے ذریعہ اس وقت جماعت میں حفاظت مرکز کے لئے تحریک کی جاتی تو میں سمجھتا ہوں کہ لاکھ دو لاکھ روپیہ کا اکٹھا ہونا بھی بہت مشکل ہوتا مگر چونکہ آج سے تین سال پہلے وقف جائیداد کی تحریک کے ذریعہ ایک بنیاد قائم ہو چکی تھی۔ اس لئے وہ لوگ جنہوں نے اس تحریک میں اس وقت حصہ لیا تھا وہ اس وقت مینار کے طور پر ساری جماعت کے سامنے آگئے اور انہوں نے اپنے عملی نمونہ سے جماعت کو بتایا کہ جو کام ہم کرسکتے ہیں۔ وہ تم کیوں نہیں کرسکتے۔ چنانچہ جب ان کی قربانی پیش کی گئی تو ہزاروں ہزار لوگ ایسے نکل آئے۔ جنہوں نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اپنی جائیدادیں وقف کردیں۔ پس جس طرح وہ تحریک جدید بنیاد تھی بعض اور عظیم الشان کاموں کے لئے اسی طرح حفاظت مرکز کے متعلق جو تحریک چندہ کے لئے کی گئی ہے یہ بھی آئندہ بعض عظیم الشان کاموں کا پیش خیمہ ثابت ہوگی اور جس وقت یہ تحریک اپنی تکمیل کو پہنچے گی اس وقت مالی لحاظ سے جماعت کی قربانیاں اپنے کمال کو پہنچ جائیں گی درحقیقت جانی قربانی کا مطالبہ وقف زندگی کے ذریعے کیا جارہا ہے اور مالی قربانی کے ایک بہت ہی بلند مقام پر کھڑا کیا جارہا ہے پھر شاید وہ وقت بھی آجائے کہ سلسلہ ہر شخص سے اس کی جان کا بھی مطالبہ کرے اور جماعت میں یہ تحریک کی جائے کہ ہر شخص نے جس طرح اپنی جائیداد خداتعالیٰ کے لئے وقف کی ہوئی ہے اسی طرح وہ اپنی زندگی بھی خداتعالیٰ کے لئے وقف کردے تاکہ ضرورت کے وقت اس سے کام لیا جاسکے‘‘۔
(الفضل 22 مئی 1947ئ)
منارۃ المسیح ہال کے لئے تحریک
یکم اپریل 1945ء کو مجلس مشاورت کا تیسرا دن تھا۔ اس روز حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ ناظر دعوت و تبلیغ نے ایجنڈا کی تجویز نمبر5 سے متعلق سب کمیٹی کی حسب ذیل سفارش پیش فرمائی کہ:۔
’’وقت آگیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے ماتحت نظارت دعوت و تبلیغ کے زیر اہتمام قادیان میں ایک مذہبی کانفرنس کی جائے۔ تفصیلی قواعد بنانے کے لئے ایک سب کمیٹی بنا دی جائے۔ اس کانفرنس کے اخراجات کے لئے مبلغ دو ہزار روپیہ اس بجٹ میں رکھا جائے۔ سب کمیٹی کی بحث کے دوران میں حضرت مسیح موعود ؑ کے یہ الفاظ مندرجہ اشتہار خطبہ الہامیہ پڑھ کر سنائے گئے۔
’’بالآخر میں ایک ضروری امر کی طرف اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس مینارہ میں ہماری یہ بھی غرض ہے کہ مینارہ کے اندر یا جیسا کہ مناسب ہو ایک گول کمرہ یا کسی اور وضع کا کمرہ بنایا جائے جس میں کم ازکم 100 آدمی بیٹھ سکے اور یہ کمرہ وعظ اور مذہبی تقریروں کے کام آئے گا۔ کیونکہ ہمارا ارادہ کہ ایک یا دو دفعہ قادیان میں مذہبی تقریروں کا جلسہ ہوا کرے اور اس جلسہ پر ایک ایک شخص مسلمانوں ہندوؤں، آریوں، عیسائیوں اور سکھوں میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے۔ مگر شرط یہ ہوگی کہ کسی مذہب پر کسی قسم کا حملہ نہ کرے۔ فقط اپنے مذہب کی تائید میں جو چاہے تہذیب سے کہے‘‘۔
حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ یہ تجویز پڑھ ہی رہے تھے کہ حضرت مصلح موعودؓ اچانک کرسی سے اٹھے اور پاس ہی فرش پر جو تھوڑی سی جگہ تھی وہاں سجدہ میں پڑ گئے۔ یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین اپنی اپنی جگہ پر سجدہ میں گر گئے اور حضور کے اٹھنے پر جب اللہ اکبر کہا گیا تو اٹھے جس کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔
’’قرآن کریم میں خداتعالیٰ فرماتا ہے اکثر لوگ خدا کے نشانوں سے اعراض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ آج سے 45 سال پہلے وہ شخص جس کی جوتیوں کا غلام ہونا بھی ہم اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں اسے اس وقت کی اپنی جماعت کی حالت دیکھتے ہوئے ایک بہت بڑا مقصد اور کام یہ نظر آیا کہ ایک ایسا کمرہ بنایا جائے جس میں سو آدمی بیٹھ سکے۔ مگر آج ہم ایک ایسے کمرے میں بیٹھے ہیں جو اس غرض سے نہیں بنایا گیا تھا کہ مختلف مذاہب کے لوگ اس میں تقریریں کریں مگر اس میں پانچ سو کے قریب آدمی بیٹھے ہیں اور وہ بھی کرسیوں پر جو زیادہ جگہ گھیرتی ہیں۔ گویا اس زمانہ میں جماعت کی طاقت اور وسعت کی یہ حالت تھی کہ سو آدمیوں کے بیٹھنے کا کمرہ بنایا جائے اور سو آدمیوں کی بٹھانے کے لئے جگہ بنانے کی غرض سے بھی حضرت مسیح موعود ؑکو اعلان کرنا پڑا اور اسے ایک بڑا کام سمجھا گیا اور خیال کیا گیا کہ سو آدمیوں کے بیٹھنے کے لئے کمرہ بنانا بھی مشکل ہوگا۔ مجھے منارۃ المسیح کی تعمیر کے وقت کی یہ بات یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود شہ نشین پر بیٹھے تھے اور میر حامد شاہ صاحب کے والد میر حکیم حسام الدینؓ صاحب سامنے بیٹھے تھے۔ منارہ بنانے کی تجویز ہورہی تھی۔ 8,7 ہزار جو جمع ہوا تھا۔ وہ بنیادوں میں ہی صرف ہو گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس فکر میں تھے کہ اب کیا ہوگا، حکیم حسام الدینؓ صاحب زور دے رہے تھے کہ حضور یہ بھی خرچ ہوگا اور وہ بھی ہوگا اور کئی ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ پیش کررہے تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ان کی باتیں سن کر فرمایا۔ حکیم صاحب کا منشاء یہ معلوم ہوتا ہے کہ منارہ کی تعمیر کو ملتوی کر دیا جائے۔ چنانچہ ملتوی کر دیا گیا۔
ایک تو وہ وقت تھا اور ایک آج ہے کہ مسجد مبارک کی توسیع کے لئے عصر کی نماز کے وقت میں نے مقتدیوں سے ذکر کیا اور عشاء کی نماز سے پہلے پہلے 18 ہزار کے وعدے اور رقوم جمع ہو گئیں اور بیرونی احباب کو اس چندہ میں شریک ہونے کا موقع ہی نہ ملا۔ یہ نشان کسی نابینا کو نظر نہ آئے۔ مگر ہر بینا کو نظر آرہا ہے کہ کس طرح خداتعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو بڑھا رہا اور سامان پیدا کرتا جارہا ہے کہ اس وقت جو بات بہت بڑی معلوم ہوتی تھی۔ آج بہت ہی معمولی اور حقیر سی نظر آتی ہے اور آج جو چیز بہت بڑی معلوم ہوتی ہے وہ کل حقیر ہو جاتی ہے۔ خداتعالیٰ کا یہی سلوک ہماری جماعت سے برابر چلا جارہا ہے اور اس بات کا خیال کرکے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح دل بھر آتا ہے اور آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کہ کاش جماعت کی یہ ترقی حضرت مسیح موعود ؑکے زمانہ میں ہوتی تا آپ بھی اس دنیا میں اپنے کام کے خوشکن نتائج دیکھ لیتے۔ (یہ فرماتے فرماتے حضور پر بیحد رقت طاری ہوگئی پھر تھوڑی دیر توقف کے بعد فرمایا)
اس تجویز کا اصل مقصد کانفرنس منعقد کرنا ہے جس میں ہر مذہب کے نمائندے اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کریں۔ سب کمیٹی نے اس کے لئے دو ہزار روپے تجویز کئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جو دوست اس کے متعلق کچھ کہنا چاہیں نام لکھا دیں‘‘۔
چنانچہ ایک مخلص نے دو ہزار روپیہ دینے کا اعلان کر دیا۔
اس کے بعد بعض اصحاب نے خودبخود رقوم پیش کرنی شروع کر دیں جس پر حضور نے فرمایا:۔
’’دوستوں نے چندہ دینا شروع کر دیا ہے اور اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ میں کیا کہنا چاہتا ہوں۔ مجھ پر جو اس وقت وجد کی حالت طاری ہوئی اور میں سجدہ میں گرگیا۔ اس کی وجہ حضرت مسیح موعود ؑکے زمانہ کے حالات اور بعد کے حالات کا فرق ہے۔ اس وقت دو ہزار روپیہ کا جو سوال ہے وہ تو ایک دوست نے پورا کردیا ہے اور وہ کیا اس سے بہت زیادہ چندہ ہو سکتا ہے۔ مگر دیکھنا یہ ہے کہ اس تجویز کے پیچھے جذبہ کیا کارفرما ہے۔ یہی کہ باہر سے کتنے آدمی آسکیں گے۔ چونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اب بیس پچیس ہزار احمدی ہی جلسہ پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں چاہئے کہ ہم ایک ایسا ہال بنائیں جس میں ایسے جلسے ہوتے رہیں یا شیڈ کے طورپر ایسی جگہ بنائیں جس میں کم ازکم ایک لاکھ آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہو حضرت مسیح موعود ؑنے اپنی اولاد کے لئے دعا فرمائی ہے کہ ایک سے ہزار ہوویں اور نبی کی اولاد اس کی جماعت بھی ہوتی ہے۔ اس لئے 100 کو ہزار سے ضرب دیں۔ تو ایک لاکھ بنتا ہے۔ ان کے بیٹھنے کے لئے جگہ بنانی چاہئے۔ گو ہم جانتے ہیں کہ کچھ ہی عرصہ کے بعد آنے والے کہیں گے کہ یہ بیوقوفی کی گئی۔ کم ازکم دس لاکھ کے لئے توجگہ بنانی چاہئے تھی۔ پھر اور آئیں گے جو کہیں گے یہ کیا بنا دیا کروڑ کے لئے جگہ بنانی چاہئے تھی۔ اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ پانچ سال میں دو لاکھ روپیہ ہم اس غرض کے لئے جمع کریں۔ پانچ سال کا عرصہ اس لئے میں نے رکھا ہے کہ اس وقت تک جنگ کی وجہ سے جو گرانی ہے وہ دور ہوجائے گی اور ہم ایسی عمارت بنا سکیں گے۔ اس لئے فی الحال میں یہ تجویز کرتا ہوں کہ آئندہ پانچ سال میں اس بات کو مدنظر رکھ کر دو لاکھ روپیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لئے جمع کریں میں اس تجویز کو بھی منظور کرتا ہوں کہ بجٹ میں یہ رقم رکھنے اور مجلس شوریٰ میں پیش کرنے کی بجائے انفرادی طور پر جماعت سے لے لی جائے۔ دو ہزار روپیہ جو چوہدری اسداللہ خاں صاحب نے دیا ہے۔ اسی دو لاکھ کی رقم میں داخل کرتا ہوں۔ یہ رقم اعلان کرکے طوعی چندہ سے پوری کرلی جائے گی۔ …
اس وقت تک حضور کے آگے میز پر وعدوں کی تحریریں اور نقد رقوم بہت سی جمع ہوچکی تھیں۔ جن کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔
یہ رقعے اور روپے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری والے اٹھالیں۔ میں اس بارہ میں بری ہوتا ہوں۔ خداتعالیٰ کے حضور دفتر والے جواب دہ ہوں گے۔
یہ فرمانے پر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضور جلسہ ختم ہی کرنے والے ہیں اور حضور نے رقوم پیش کرنے والوں کے نام سنانے کا ارشاد فرمایا اور اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ اس فنڈ میں دینے کا ارشاد فرمایا۔ ابھی چند ہی نام سنائے گئے تھے کہ اس کثرت سے احباب نے اپنے نام پیش کرنے شروع کر دیئے کہ حضور نے فرمایا۔ احباب باری باری بولیں تا ان کے نام لکھے جاسکیں اور ساتھ ہی حضور نے کئی اور اصحاب کو نام لکھنے پر مقرر کر دیا۔ کچھ دیر بعد حضور نے فرمایا کہ
’’میں اپنی طرف سے، اپنے خاندان کی طرف سے نیز چودھری ظفراللہ خانؓ صاحب اور ان دوستوں اور سیٹھ عبداللہ بھائی صاحب کے خاندان اور جماعت احمدیہ کی طرف سے اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ بیرونی جماعتوں کو اس فنڈ میں شریک ہونے کا موقعہ دینے کے بعد دو لاکھ میں جو کمی رہے گی وہ ہم پوری کر دیں گے‘‘۔
اسی اثناء میں ساری فہرست تیار ہونے کے بعد جب رقوم کی میزان کی گئی تو حضور نے اعلان فرمایا کہ:
’’اس جلسہ میں شریک ہونے والوں نے اپنی طرف سے یا اپنے غیر حاضر دوستوں اور رشتہ داروں کی طرف سے جو چندے پیش کئے ہیں ان کی فہرست تیار کرلی گئی ہے۔ ممکن ہے جلدی میں ان رقوم کی میزان کرنے میں کچھ غلطی ہو گئی ہو۔ لیکن اس وقت جس قدر چندہ ہوچکا ہے۔ وہ دو لاکھ بائیس ہزار سات سو چونسٹھ روپے شمار کیا گیا ہے۔
اس کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے یہ فرماتے ہوئے کہ یہ سجدہ شکر ہے پھر سجدہ کیا اور تمام مجمع حضور کے ساتھ خداتعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوگیا اور نہایت رقت سے دعائیں کیں۔ سجدہ سے اٹھنے پر حضور نے فرمایا:
’’بعض مواقع پر بولنے سے خاموشی زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ اس لئے میں اس جلسہ کو اللہ کے نام پر ختم کرتاہوں اور دوستوں کو واپسی کی اجازت دیتا ہوں۔ مجھے جو کچھ کہنا ہوگا بعد میں خطبات میں کہوں گا‘‘۔
اس کے بعد مجلس مشاورت کا آخری اجلاس برخواست ہو گیا۔
منارۃ المسیح ہال کے ساتھ ایک عظیم الشان لائبریری کی سکیم
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ کو اللہ تعالیٰ نے دوربین آنکھ بخشی تھی اور آپ کا ہر نیا قدم بصیرت اور معاملہ فہمی کی نئی سے نئی راہیں کھول دیتا تھا۔ منارۃ المسیح ہال کی تحریک کسی سوچی ہوئی تجویز کا نتیجہ نہیں تھی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجلس شوریٰ کے موقعہ پر خود ہی جماعت کے دلوں میں ایسا زبردست جوش اور اخلاص پیدا کردیا کہ اندازہ سے بھی زیادہ چندہ نقد اور وعدوں کی صورت میں ہوگیا اور جب یہ خبر شائع ہوئی تو باہر کے دوستوں کی طرف سے بھی تقاضا ہونے لگا کہ ہمیں بھی ثواب میں شامل کیا جائے اور ساتھ ہی چندے بھی آنے لگے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ایک طرف تو خطبہ جمعہ (20؍اپریل 1945ئ) میں اعلان فرمایا کہ جماعت کا ہر فرد اس مد میں چندہ لکھوا سکتا ہے اور پانچ سال کے عرصہ میں بالاقساط یا یکمشت ادا کر سکتا ہے۔ مگر دوسری طرف جماعت کے دوستوں کو بتایا کہ مجوزہ ہال کم ازکم پچیس لاکھ روپیہ میں بنے گا۔ اتنی بڑی رقم خرچ کرنے کے بعد ہمیں ایسی صورت سوچنی چاہئے کہ جس سے ہم اس ہال کو اسلام کی تبلیغ کا عظیم الشان مرکز بنا دیں اور وہ اس طرح ممکن ہے کہ ہال کے ساتھ سولہ لاکھ روپے کے مصرف سے ایک عظیم اور مثالی لائبریری بھی بنائیں جس میں دنیا کے تمام مذاہب کی اہم کتابیں اور اسلام کی قریباً ساری کتابیں جمع کرنے کی کوشش کی جائے۔
اس سلسلہ میں حضور نے مجوزہ لائبریری کی نسبت ایک تفصیلی سکیم بھی تیار کی۔ چنانچہ فرمایا:۔
’’یوں تو لائبریری پڑھنے ہی کے لئے ہوتی ہے۔ لیکن ہماری غرض چونکہ یہ ہوگی کہ اسلام کی تبلیغ کو ساری دنیا میں پھیلائیں اس لئے ساری دنیا میں تبلیغ پھیلانے کے لئے ضروری ہوگا کہ ہم ایسے آدمی تیار کریں جو ہر زبان جاننے والے ہوں۔ یا اگر ہر ایک زبان نہیں تو نہایت اہم زبانیں جاننے والے ہوں۔ جن زبانوں میں ان مذاہب کی کتابیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً یونانی ہے، عبرانی ہے تاکہ عیسائیت اور یہودیت کا لٹریچر پڑھ سکیں اور عربی جاننے والے بھی ہوں تاکہ اسلام کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ فارسی جاننے والے بھی ہوں تاکہ اسلام کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ سنسکرت اور تامل جاننے والے بھی ہوں تاکہ ہندو اور ڈریوڈینس کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ پالی زبان جاننے والے بھی ہوں تاکہ بدھوں کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ چینی زبان جاننے والے ہوں تاکہ کنفیوشس کا لٹریچر پڑھ سکیں اور پہلوی زبان بھی جاننے والے ہوں تاکہ زرتشتیوں کا لٹریچر پڑھ سکیں۔ اسی طرح پرانی دو تہذیبیں ایسی ہیں کہ گو اب وہ تہذیبیں مٹ چکی ہیں مگر ان کا لٹریچر ملتا ہے ان میں سے ایک پرانی تہذیب بغداد میں تھی اور ایک مصر میں تھی ان کا لٹریچر پڑھنے کے لئے بابلی زبان اور ہلیوگرافی جاننے والے چاہئیں تاکہ ان کے لٹریچر کو پڑھ کر اسلام کی تائید میں جو حوالے مل سکیں ان کوجمع کریں اور ان کے ذریعہ اسلام پر جو حملے ہوتے ہیں ان حملوں کاجواب دے سکیں … پس ہمارے لئے ضروری ہوگا کہ ہم اس قسم کے لٹریچر کامطالعہ کرنے والے لوگ پیدا کریں اور ان کو اس کام کے لئے وقف کریں کہ وہ لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھیں اور معلومات جمع کرکے مدون صورت میں مبلغوں کو دیں تا وہ انہیں استعمال کریں۔ اسی طرح وہ اہم مسائل کے متعلق تصنیفات تیار کریں۔ اگر ان لوگوں کی رہائش اور گزارہ کے لئے دو لاکھ روپیہ وقف کریں تو یہ اٹھارہ لاکھ روپیہ بنتا ہے پھر ان کی کتب کو شائع کرنے کے لئے ایک مبلغ کی ضرورت ہے جس کے لئے ادنیٰ اندازہ دو لاکھ کا ہے اس کے علاوہ پانچ لاکھ روپیہ اندازاً اس بات کے لئے چاہئے کہ جو تصنیفات وہ تیار کریں ان کو شائع کیا جائے اور پھر ایسا انتظام کیا جائے کہ نفع کے ساتھ وہ سرمایہ واپس آتا جائے اور دارالمصنفین کا گزارہ اس کی آمد پر ہو۔ یہ وہ صحیح طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے ہم علمی دنیا میں ہیجان پیدا کرسکتے ہیں اور اس کام کے لئے پچیس لاکھ روپے کی ضرورت ہے‘‘۔ (الفضل یکم مئی 1945ئ)
ربوہ کا قیام
1947ء میں تقسیم ہند کے بعد حضور نے جماعت کے نئے مرکز ربوہ کی بنیاد ابراہیمی دعاؤں کے ساتھ رکھی اور اس کو ایک مثالی شہر بنانے کے لئے کئی تحریکیں کیں۔
ربوہ میں مکان بنانے اور مثالی شہر بنانے کی تحریک
حضور نے فرمایا:۔
’’احباب جماعت کو آئندہ نئے مرکز میں بار بار آنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ بار بار آنے سے نہ صرف یہ کہ مرکز سے ان کا تعلق مضبوط ہوگا بلکہ وہ ترقی کی سکیموں اور اسلامی خدمات کے سلسلہ میں دیگر جماعتی سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر رہیں گے اور ان کاکثرت کے ساتھ یہاں آنا ان کے ایمان اور اخلاص میں ترقی کاموجب ثابت ہوگا‘‘۔
ربوہ میں زمین خرید کر مستقل رہائش اختیار کرنے والوں کو حضور نے ہدایت فرمائی کہ ہم اس مرکز کو اسلامی تہذیب و تمدن اور معاشرت کا ایک نمونہ بنانا چاہتے ہیں اس لئے جو لوگ بھی مکان بنا کر مستقل طورپر یہاں رہنا چاہیں گے انہیں بعض شرائط اور قواعد و ضوابط کی پابندی کرنی ہوگی۔ مثلاً ہر شخص کو خواہ اس کی تجارت کا نقصان ہو یا اس کے کاروبار پر اس کا اثر پڑے سال میں ایک ماہ خدمت دین کے لئے ضرور وقف کرنا ہوگا۔
ہر بچے اور بچی کو سکول میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کرنی ہوگی۔ ہر فرد بشر کے لئے اسلامی اخلاق کو اس درجہ اپنانا ضروری ہوگا کہ وہ دوسروں کے لئے نمونہ بن سکے۔ مثلاً نماز باجماعت کی پابندی اور داڑھی رکھنا وغیرہ۔ (الفضل 20؍اپریل 1949ئ)
فرمایا:’’ربوہ کی بنیاد کی غرض یہ تھی کہ یہاں زیادہ سے زیادہ نیکی اختیار کرنے والوں کو اس غرض سے بسنا چاہئے کہ وہ یہاں رہ کر دین کی اشاعت میں دوسروں سے زیادہ حصہ لیں گے۔ ہم نے اس مقام کو اس لئے بنایا ہے کہ تا اشاعت دین میں حصہ لینے والے لوگ یہاں جمع ہوں اور دین کی اشاعت کریں اور اس کی خاطر قربانی کریں۔ پس تم یہاں رہ کر نیک نمونہ دکھاؤ اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔ تم خداتعالیٰ سے تعلق قائم کرلو۔ اگر تم اس کی رضا کو حاصل کرلو تو ساری مصیبتیں اور کوفتیں دور ہوجائیں اور راحت کے سامان پیدا ہو جائیں‘‘۔ (تاریخ احمدیت جلد13 ص172)
صفائی اور شجرکاری
ربوہ کی صفائی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔
شہر کی صفائی کی طرف توجہ کرو اور درخت اورپھول اور سبزیاں لگاؤ۔ جن لوگوں نے گھروں میں درخت لگائے ہوئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر دل بہت خوش ہوتا ہے۔ گلی میں سے گزریں تو لہلہاتے درخت نہایت بھلے معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن اصل میں یہ کام میونسپل کمیٹی اور لوکل انجمن کا ہے۔ اگر سارے مل کر کوشش کریں تو وہ شہر کو دلہن بنا سکتے ہیں۔ … اب بھی جب میں تصور کرتا ہوں تو یورپ کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ ہر گھر میں دروازوں کے آگے چھجے بنے ہوئے ہیں اور ان پر بکسوں میں بھری ہوئی مٹی پڑی ہے اور اس میں پھول لگے ہوئے ہیں۔ جس گلی میں سے گزروپھول ہی پھول نظر آتے ہیں اور سارا شہر ایک گلدستہ کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ ربوہ بھی اسی طرح بنایا جاسکتا ہے۔ بڑی محنت کی ضرورت نہیں تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔ اس سے بیوی بچوں کو باغبانی کا فن بھی آتا ہے۔ صحت بھی اچھی ہوجاتی ہے اور کچھ آمد کی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً گھروں میں خربوزے۔ ککڑی اور دوسری چیزیں لگا دی جائیں تو خوبصورتی کی خوبصورتی نظر آئے گی۔ صحت بھی اچھی رہے گی اور کھانے کو ترکاری بھی مل جائے گی جو یہاں نصیب نہیں۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ یورپ کا ڈاکٹر بھی کہتا ہے کہ سبزیاں کھاؤ مگر پاکستان میں سبزیاں نہیں ملتیں۔ اگر لوگ گھروں میں سبزیاں لگانے لگ جائیں اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈالیں تو اس سے ان کی صحت میں بھی ترقی ہو گی اور پھر جو شخص گھروں میں سبزیاں لگائے گا اور اسے سبزیاں کھانے کی عادت ہوگی۔ وہ دکاندار سے بھی اصرار کرے گا کہ سبزیاں لاؤ اور دکاندار آگے زمینداروں سے اصرار کرے گا کہ تم سبزیاں لگاؤ۔ اس طرح ملک میں سبزیاں کاشت کرنے کا رواج عام ہو جائے گا۔ (الفضل 14 دسمبر 1955ئ)
حضور جب بسلسلہ علاج یورپ میں تھے تو زیورچ سے مئی 1955ء میں ناظر صاحب اعلیٰ کو حسب ذیل مکتوب لکھا جس میں تاکید فرمائی کہ اہل ربوہ کی صحت کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگوائے جائیں۔
حضور نے فرمایا:۔
’’ربوہ میں لوگوں کی صحت کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے نہایت ضروری ہیں اور درخت بغیر پانی کے نہیں لگ سکتے۔ آپ فوری طور پر صدر انجمن میں یہ معاملہ رکھ کر پاس کرائیں کہ پہلے ٹیوب ویل کودرست کرایا جائے۔ بلکہ بہتر ہو کہ بجلی کا انجن اس کی جگہ فوری لگ جائے تاکہ پانی باافراط مہیا ہوسکے اور پہلے لگے ہوئے درخت سوکھ نہ جائیں اس کے علاوہ مزید ٹیوب ویل بھی جلدی لگائے جانے ضروری ہیں۔ اس بارہ میں کسی واقف سے مشورہ کرکے فوری اپنی رپورٹ بھجوائیں کہ کس کس جگہ ٹیوب ویل لگ سکیں گے جن سے تمام ربوہ کی سڑکوں پر پودوں کے لئے پانی آسانی سے دیا جاسکے۔
ضروری ہے موجودہ درختوں سے بھی دس پندرہ گنے بلکہ زیادہ درخت لگائے جائیں بجلی سے اب کام بہت آسان ہو گیا ہے۔ (تاریخ احمدیت جلد17 ص527)


اخبارات و رسائل کے متعلق تحریکات
حضرت مسیح موعود ؑاس زمانہ میں دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث کئے گئے اور آپ نے کل عالم میں اسلام کو غالب کرنے کی مہم کا آغاز فرمایا۔ اس لئے آپ دنیا کے تازہ ترین حالات سے باخبر رہتے تھے۔ آپ اس زمانہ کے معروف اخبارات کا مطالعہ فرماتے اور اسلام پر ہونے والے اعتراضوں کے جوابات تحریر فرماتے۔
آپ کے دور میں الحکم اور البدر شروع ہوئے جن کو آپ اپنا بازو قرار دیا کرتے تھے۔
آپ کے موعود فرزند حضرت مصلح موعودؓ ایک زندہ باشعور جماعت کے نہایت ذہین و فہیم رہنما تھے۔ جن کے سپرد بیشمار روحوں کو صاف کرنا تھا۔ اس لئے آپ دنیا کے حالات سے نہ صرف خود باخبر رہتے تھے بلکہ جماعت کو بھی اس طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔
آپ نے حضرت مسیح موعود ؑکی زندگی میں مارچ 1906ء میں رسالہ تشحیذ الاذہان اور خلافت کے منصب پر فائز ہونے سے قریباً ایک سال پہلے 18 جون 1913ء سے الفضل کا اجرا فرمایا۔ جو خدا کے فضل سے اب اپنی عمر کے 95 ویں سال میں ہے۔ قادیان جیسی گمنام، وسائل سے محروم اور تہذیبی علاقوں سے دور بستی میں سے سابقہ اخباروں اور رسالوں کی موجودگی میں الفضل کا اجرائ۔ جبکہ مالی تنگدستی بھی ہو آپ کی اولوالعزمی کا ایک زندہ ثبوت ہے۔
مطالعہ کی ترغیب
اخبارات کے مطالعہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔
’’جماعتی معاملات میں افراد کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتے بلکہ کبھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ جب تک ان کا جڑ سے تعلق نہ ہو اور اس زمانہ میں یہ تعلق پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ اخبارات ہیں۔
(انوارالعلوم جلد14 ص543)
حضورنے خطبہ جمعہ 11 جنوری 1935ء میں بعض نوجوانوں سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’میں نے عام طور پر لڑکوں سے سوال کرکے دیکھا اور مجھے معلوم ہوا کہ کثرت سے طالب علم ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اخبار کوپڑھا ہی نہیں۔ کیا دنیا میں کبھی کوئی ڈاکٹر کام کرسکتا ہے جسے معلوم ہی نہیں کہ مرضیں کون کون سی ہوتی ہیں۔ میں نے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کو دیکھا ہے۔ آپ راتوں کو بھی کام کرتے اور دن کو بھی کام کرتے اور اخبارات کا باقاعدہ مطالعہ رکھتے۔ اسی تحریک کے دوران میں خود اکتوبر سے لے کر آج تک بارہ بجے سے پہلے کبھی نہیں سویا اور اخبار کا مطالعہ کرنا بھی نہیں چھوڑا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام کو تو میں نے اس طرح دیکھا ہے کہ جب ہم سوتے اس وقت بھی آپ جاگ رہے ہوتے اور جب ہم جاگتے تو اس وقت بھی آپ کام کر رہے ہوتے۔ جب انہیں پتہ ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے تو وہ دنیا میں کام کیا کرسکتے ہیں۔ میں نے جس سے بھی سوال کیا۔ معلوم ہوا کہ اس نے اخبار کبھی نہیں پڑھا۔ (خطبات محمود جلد16 ص36)
آپ کی توجہ اور تحریکات کی بدولت آپ کے دور خلافت میں متعدد اخبارات اور رسائل دنیا بھر سے جاری ہوئے۔ صرف قادیان اور ربوہ سے 25 کے قریب جرائد قادیان اور ربوہ سے شائع ہونے لگے جن میں اردو، عربی، انگریزی، گورمکھی اور ہندی زبانوں کے تبلیغی اور تربیتی رسائل شامل ہیں۔ کئی رسالے جماعت کی ذیلی تنظیموں کی طرف سے جاری کئے گئے۔
مسلسل تحریکات کا خلاصہ
ان اخبارات و رسائل کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے مسلسل کئی تحریکیں فرمائیں جن کا خلاصہ درج ذیل ہے۔
1۔احباب کثرت سے ان اخبارات و رسائل کا مطالعہ کریں۔
2۔احباب ان میں مضامین تحریر کریں۔
3۔رسالے اپنا معیار بہتر بنائیں اور مضامین میں وسعت اور تنوع پیدا کیا جائے۔
4۔ان کی خریداری اور اشاعت بڑھائی جائے۔
5۔جماعت کے باہر دوسرے احباب کو بھی یہ جرائد بھجوائے جائیں۔
حضور جلسہ سالانہ پر قریباً ہر سال جلسہ سالانہ پر نئی کتب کے علاوہ اخبارات و رسائل سے متعلق تحریکات کو دہرایا کرتے تھے اور سب سے زیادہ الفضل کی اشاعت کی تحریک فرماتے تھے۔
ایک موقعہ پر آپ نے فرمایا:۔
’’آج لوگوں کے نزدیک الفضل کوئی قیمتی چیز نہیں مگر وہ دن آرہے ہیں اور وہ زمانہ آنے والا ہے جب الفضل کی ایک جلد کی قیمت کئی ہزار روپیہ ہوگی لیکن کوتاہ بین نگاہوں سے یہ بات ابھی پوشیدہ ہے‘‘۔ (الفضل 28 مارچ 1946ئ)
قیام پاکستان کے بعد روزنامہ الفضل لاہور سے شائع ہوتا تھا۔ دسمبر 1954ء میں الفضل لاہور سے ربوہ منتقل کر دیا گیا اور 31 دسمبر 1954ء سے ضیاء الاسلام پریس ربوہ سے چھپنے لگا۔ اس وقت پہلے پرچہ کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے جو تحریری پیغام ارسال فرمایا وہ درج ذیل ہے۔
’’آج ربوہ سے اخبار شائع ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا ربوہ سے نکلنا مبارک کرے اور جب تک یہاں سے نکلنا مقدر ہے اس کو اپنے صحیح فرائض ادا کرنے کی توفیق دے۔
اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہئے اور اپنے اخبار کے مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ان امور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔
(روزنامہ الفضل 31 دسمبر 1954ئ)
اخباری زندگی مضبوط کریں
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ تقریر جلسہ سالانہ 27دسمبر 1937ء میں فرماتے ہیں:۔
ایک طبقہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو اپنے آپ کو ارسطو اور افلاطون کا بھائی سمجھتے ہیں انہیں توفیق بھی ہوتی ہے اور اخبار کی خریداری کی استطاعت بھی رکھتے ہیں مگر جب کہا جاتا ہے کہ آپ ’’الفضل‘‘ کیوں نہیں خریدتے تو کہہ دیتے ہیں اس میں کوئی ایسے مضامین نہیں ہوتے جو پڑھنے کے قابل ہوں ۔ ان کے نزدیک دوسرے اخبارات میں ایسے مضامین ہوتے ہیں جو پڑھے جانے کے قابل ہوں مگر خدا تعالیٰ کی باتیں ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتیں کہ وہ انہیں سنیں اور ان کے پڑھنے کیلئے اخبار خریدیں ایسے لوگ یقینا وہمی ہوتے ہیں اور ان میں قوت موازنہ نہیں پائی جاتی ۔
میرے سامنے جب کوئی کہتا ہے کہ ’’الفضل ‘‘میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جس کی وجہ سے اسے خریداجائے تو میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ مجھے تو اس میں کئی باتیں نظر آجاتی ہیں آپ کا علم چونکہ مجھ سے زیادہ وسیع ہے اس لئے ممکن ہے کہ آپ کو اس میں کوئی بات نظر نہ آتی ہو۔
اصل بات یہ ہے کہ جب کسی کے دل کی کھڑکی بند ہو جائے تو اس میں کوئی نور کی شعاع داخل نہیں ہو سکتی پس اصل وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اخبار میں کچھ نہیں ہوتا بلکہ اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے اپنے دل کا سوراخ بند ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اخبار میں کچھ نہیں ہوتا۔
اس سستی اور غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری اخباری زندگی اتنی مضبوط نہیں جتنی کہ ہونی چاہئے حالانکہ یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے اور اس زمانہ میں اشاعت کے مراکز کو زیادہ سے زیادہ مضبوط ہونا چاہئے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر اخبارات کے متعلق ہمار ی جماعت کی وہی حالت ہو جائے جو حضرت مسیح موعود ؑکے زمانہ میں تھی تو اخبار ’’الفضل‘‘ کے روزانہ ہونے کے باوجود کم از کم پانچ ہزار خریدار پیدا ہو سکتے ہیں۔ بشرطیکہ ہمارے دوستوں کے اندر وہی روح پیدا ہو جائے کہ وہ کہیں ہم نے بہرحال اخبار خریدنا ہے چاہے ہمیں پڑھنا آتا ہو یا نہ آتا ہو۔ اور اسی روح سے کام کرنے کے نتیجے میں باقی رسائل وغیرہ کے بھی ہزار دو ہزار خریدار ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت پنجاب میں ہماری ایک لاکھ سے زیادہ معلوم جماعت ہے۔ وہ لوگ جو کمزوری کی وجہ سے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتے یا دل میں تو احمدی ہیں مگر ہمیں ان کی احمدیت کا علم نہیں وہ اس سے الگ ہیں اور اگر سارے ہندوستان کو دیکھا جائے تو اس میں جو ہماری معلوم جماعت ہے اس کوشامل کر کے یہ تعداد دو لاکھ تک ہو جاتی ہے اور اگر بیرون ہند کی معلوم جماعت کو اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد تین ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔ گویا وہ احمدی جو ہمارے ریکارڈ کے لحاظ سے ہمیں معلوم ہیں اور جو اپنے آپ کو ایک نظام میں شامل کئے ہوئے ہیں وہ تین چار لاکھ سے کم نہیں ۔ اگر یہ لوگ اپنے اندر زندگی کی حقیقی روح پیدا کریں اور عورتوںا ور بچوں اور ان لوگوں کو نکال بھی دیا جائے جو انتہائی غربت کی وجہ سے کسی اخبار کے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کم از کم بیس ہزار لوگ یقینا ہماری جماعت میں ایسے موجود ہیں جو سستا یا مہنگا کوئی نہ کوئی اخبار خرید سکتے ہیں مگر افسوس ہے کہ اس طرف توجہ نہیں کی جاتی اور ان کا نفس یہ عذر تراشنے لگ جاتا ہے کہ اور چندوں کی کثرت کی وجہ سے ہم اخبار نہیں خرید سکتے حالانکہ اس قسم کے چندے حضرت مسیح موعود ؑکے زمانہ میں بھی تھے اور گو اس وقت عام چندہ کم تھا مگر ایسے مخلص بھی موجود تھے جو اپنا تمام اندوختہ حضرت مسیح موعود ؑکی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔
(انوار العلوم جلد14 ص543 )
مضامین کی وسعت:
الفضل کے مضامین کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
میں تو حیران ہوتا ہوں کہ بعض دوست شکایت کرتے ہیں کہ الفضل میں سیاسی مضامین شائع ہوتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر وہ دنیا کی سیاسیات سے واقف نہیں ہوں گے تو اس کی اصلاح کیسے کریں گے۔ کیا سیاست قرآن کریم کا حصہ نہیں؟ ہاں اگر کوئی بات غلط شائع ہو تو اعتراض ہو سکتا ہے۔ ایک دوست کو شکایت ہے کہ جاپان کے حالات اخبار الفضل میں کیوں درج ہوتے ہیں۔ اور یہی لوگ ہیں جن کو میں کنویں کے مینڈک کہتا ہوں۔ فکر تو یہ ہونی چاہئے کہ جاپان کے حالات تو شائع ہوتے ہیں فلپائن کے کیوں نہیں ہوتے؟ روس کے کیوں نہیں ہوتے؟ یہ غم تمہیں کھائے جانا چاہئے کہ کیا یہی ہماری پہنچ ہے کہ ہمارے اخبار میں صرف جاپان کے حالات ہی شائع ہوتے ہیں۔ ہمارے دوستوں کو اس پر گلہ ہونا چاہئے کہ جو نہیں چھپا نہ کہ اس پر جو چھپ رہا ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا جاپان کی اصلاح ہمارا فرض نہیں؟ اگر ہے تو اس کے حالات کا علم نہ ہوگا تو ہمارے دل میں اس کے لئے درد کس طرح پیدا ہوگا اور ہم اس کی اصلاح کس طرح کرسکتے ہیں۔
پس ہماری جماعت کو اپنے فرائض کو سمجھنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ خداتعالیٰ نے ہمیں دنیا کی اصلاح کے لئے پیدا کیا ہے۔ خاص کر ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں اس قدر خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ کیا ایک طبیب کہہ سکتا ہے کہ لوگ آکر مجھے تنگ کرتے ہیں جو اپنی بیماریاں مجھے بتاتے ہیں؟ اگر وہ ان بیماریوں سے آگاہ نہ ہو تو علاج کس طرح کرسکتا ہے۔ اسی طرح جب تک تمام دنیا کے حالات سے واقف نہ ہو اس کی اصلاح کیسے کرسکتے ہو۔ (خطبات محمود جلد18 ص10)
یہ آپ کا فائدہ ہے:
حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔
جماعت کے دوستوں کو میں توجہ دلاتا ہوں اور گو پہلے بھی کئی دفعہ توجہ دلا چکاہوں مگر معلوم ہوتا ہے۔ دوست میرے الفاط کو رسمی سمجھتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ میں اخبار کی امداد کا اعلان کررہا ہوں حالانکہ میں اخبار کے فائدہ کے لئے نہیں بلکہ آپ لوگوں کے ایمانوں اور آپ کی نسلوں کے ایمانوں اور آپ کے ہمسایوں کے ایمانوں کے فائدے کے لئے کہہ رہا ہوں کہ آپ لوگ اخبارات خریدیں اور جو لوگ نہیں پڑھ سکتے وہ بھی اخبار خرید کر اپنے غیر احمدی ہمسایوں اور دوست کو دیا کریں …
پس میں دوستوں کو اس طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔ انہیں اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کہ میں الفضل کی تائید کے لئے کہہ رہا ہوں بلکہ میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ تا آپ لوگوں کے ایمان مضبوط ہوں۔ مخالف جب بھی حملہ کرتا ہے اس لئے کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میں بعض لوگوں کو ورغلا لوں گا۔ کیونکہ وہ سلسلہ کی تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں لیکن اگر جماعت پوری طرح سلسلہ سے وابستہ ہو اور جماعت کے عقائد اور تعلیمات سے اسے واقفیت ہو تو وہ حملہ کی جرأت نہیں کرسکتا۔ پس سلسلہ سے وابستگی کے لئے بھی اخبارات کی خریداری ضروری ہے تا ایسا نہ ہو کہ کوئی بھیڑیا حملہ کرکے کسی بھیڑ کو لے جائے۔
میں امید کرتا ہوں کہ جماعتوں کے سیکرٹری اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اولین کوشش یہ کریں گے کہ اخبار کے خریداروں میں اضافہ ہو تاکہ الفضل بغیر کسی تکلیف کے چل سکے۔
(انوارالعلوم جلد14 ص543)


تاریخ احمدیت کی تدوین و اشاعت کے لئے تحریکات
حضرت مصلح موعودؓ کی تڑپ
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کو اپنے زمانہ خلافت کے آغاز ہی سے سلسلہ احمدیہ کی ابتدائی تاریخ کے محفوظ کئے جانے کا خیال دامنگیر رہا۔ چنانچہ حضور نے جلسہ سالانہ 1914ء کے موقع پر ارشاد فرمایا:۔
’’ہمارے بہت بڑے فرائض میں سے ایک یہ بھی فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑکے حالات اور آپ کے سوانح کو بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے محفوظ کر دیں۔ …
اس لئے حضرت مسیح موعود ؑکے سوانح لکھنے نہایت ضروری ہیں پس جس کسی کو آپ کا کوئی واقعہ کسی قسم کا یاد ہو وہ لکھ کر میرے نام بھیج دے۔ یہ ہمارے ذمہ بہت بڑا کام ہے جس کو ہم نے کرنا ہے میں نے ایک آدمی کو لوگوں سے حالات دریافت کرکے لکھنے کے لئے مقرر کیا ہے اور وہ لکھ رہا ہے تم میں سے بھی جس کو کوئی واقعہ یاد آئے وہ لکھ کر بھیج دے تاکہ کل واقعات ایک جگہ جمع کرکے چھاپ دیئے جائیں اور ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائیں۔
آج بہت سے لوگ حضرت مسیح موعود ؑکے دیکھنے والے اور آپ کی صحبت میں بیٹھنے والے موجود ہیں اور ان سے بہت سے واقعات معلوم ہوسکتے ہیں مگرجوں جوں یہ لوگ کم ہوتے جائیں گے۔ آپ کی زندگی کے حالات کا معلوم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس لئے جہاں تک ہوسکے بہت جلد اس کام کوپورا کرنا چاہئے‘‘۔ (برکات خلافت۔انوارالعلوم جلد2 ص324)
ابتدائی سوانحی کتب
حضور نے صرف جماعت ہی کو اس طرف توجہ نہیں دلائی بلکہ بعد ازاں علاوہ رسالہ ’’سیرت مسیح موعوؑد‘‘ تالیف کیا، اپنے خطبات، تقاریر اور ملفوظات اور کتب میں بڑی کثرت سے حضرت مسیح موعود ؑکے عہد مبارک کے واقعات پر روشنی ڈالی۔ جہاں تک جماعت احمدیہ کے دوسرے افراد کا تعلق ہے جن بزرگوں کو سب سے بڑھ کر اس قومی فریضہ کی بجاآوری کا شرف حاصل ہوا ان میں سرفہرست حضرت شیخ یعقوب علی صاحبؓ تراب (عرفانی) تھے۔ جنہوں نے ’’حیات النبی‘‘ ’’حیات احمد‘‘ اور ’’سیرت مسیح موعوؑد‘‘ کی متعدد جلدیں شائع فرمائیں۔ آپ کے علاوہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے صحابہ مسیح موعود ؑکی روایات ’’سیرت المہدی‘‘ کے تین حصوں میں سپرد اشاعت فرمائیں۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ نے ’’ذکر حبیب‘‘ کے نام سے ایمان افروز کتاب لکھی۔ حضرت پیر سراج الحق ؓصاحب نعمانی کا ’’سفرنامہ‘‘ جو حضرت مسیح موعود ؑکے واقعات پر مشتمل تھا۔ خلافت اولیٰ کے عہد مبارک میں اخبار ’’الحق‘‘ (دہلی) میں چھپا اور جون 1915ء میں ’’تذکرۃ المہدی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے فرمایا کہ اس کا دوسرا حصہ بھی چھپنا چاہئے۔ حضرت پیر صاحب کے قلم کا لکھا ہوا دوسرا حصہ 375 صفحات کا تھا اور آپ کا ارادہ تھا کہ اسے کئی حصوں میں تقسیم کرکے چھپوادیں مگر افسوس اس کے صرف 48 صفحات ہی شائع کرپائے تھے کہ آپ انتقال کرگئے۔
روایات ظفر:
19 نومبر1937ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے روایات صحابہؓ جمع کرنے کی ایک اور مؤثر تحریک فرمائی۔ اس تحریک پر ابھی مرکزی نظام کے تحت باقاعدہ کام شروع نہیں ہوا تھا کہ حضرت مسیح موعود ؑکے نہایت یک رنگ، قدیم اور بے مثال فدائی و شیدائی حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کپورتھلوی بیمار ہوگئے۔ حضرت خلیفہ ثانی المصلح الموعودؓ نے 15 دسمبر 1937ء کو اپنے قلم مبارک سے مکرم شیخ محمد احمد صاحب مظہر ایڈووکیٹ کپورتھلہ کو لکھا کہ:۔
’’منشی صاحب کی بیماری کی خبر سے افسوس ہوا۔ آپ یہ کام ضرور کریں کہ بار بارپوچھ پوچھ کر ان سے ایک کاپی میں سب روایات حضرت مسیح موعود ؑ کے متعلق لکھوالیں اس میں تاریخی اور واعظانہ اور سب ہی قسم کی ہوں یعنی صرف ملفوظات ہی نہ ہوں بلکہ سلسلہ کی تاریخ اور حضور کے واقعات تاریخی بھی ہوں۔ یہ آپ کے لئے اور ان کے لئے بہترین یادگار اور سلسلہ کے لئے ایک کارآمد سامان ہوگا‘‘۔
محترم شیخ محمد احمد صاحب مظہرؓ نے اس ارشاد مبارک کی تعمیل میں حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کی بیان فرمودہ روایات انہی کے الفاظ میں قلمبند کرکے رسالہ ریویو آف ریلیجنز جنوری 1942ء میں شائع کرادیں۔
تاریخی کتب:
1937ء کی تحریک کے نتیجہ میں نہ صرف روایات صحابہؓ کے جمع و اشاعت کا کام پوری توجہ اور باقاعدگی سے شروع ہو گیا بلکہ ایسا لٹریچر بھی تیار ہونے لگا جو سیدنا حضرت مسیح موعود ؑاور خلافت اولیٰ و ثانیہ کے عہد مبارک کی تاریخ پر مشتمل تھا۔ چنانچہ فروری 1938ء میں مکرم چوہدری محمد شریف صاحب مولوی فاضل مربی سلسلہ احمدیہ نے ’’سلسلہ عالیہ احمدیہ‘‘ اور دسمبر 1938ء میں ملک فضل حسین صاحب مہاجر نے ’’تاثرات قادیان‘‘ شائع کی۔ دسمبر 1939ء میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے قلم سے ’’سلسلہ احمدیہ‘‘ جیسی شاندار تالیف، اشاعت پذیر ہوئی جو سلسلہ احمدیہ کی پچاس سالہ تاریخ پر ایک مختصر مگر نہایت جامع اور حقیقت افروز کتاب تھی۔ 1942ء میں شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مدیر الحکم نے ’’مرکز احمدیت۔ قادیان‘‘ کے نام سے ایک پُرازمعلومات کتاب چھپوائی۔ 1945ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب درد نے اپنی محققانہ تالیف "Life of Ahmad" کا حصہ اول مکمل کیا جو 1948ء میں لاہور سے شائع ہوا۔
1950ء میں ملک صلاح الدین صاحب ایم اے درویش قادیان نے ’’اصحاب احمد‘‘ کی پہلی جلد اور 1952ء میں دوسری جلد شائع کی جس سے سلسلہ کے لٹریچر میں قابل قدر اضافہ ہوا۔ اسی طرح 1951ء کے دوران حضرت مولانا غلام رسولؓ صاحب راجیکی کی ’’حیات قدسی‘‘ کے دو حصے حیدرآباد دکن سے سیٹھ علی محمد ۔ اے۔ الہ دین صاحب کے زیر انتظام چھپے اور ہر طبقہ کے لئے ازدیاد ایمان کا موجب بنے۔
تاریخ کی باقاعدہ تدوین کا آغاز
1953ء کا سال اگرچہ ابتلاؤں کا سال تھا مگر یہی وہ سال تھا جس میں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی تحریک خاص سے مرکز احمدیت میں تاریخ سلسلہ احمدیہ کی تدوین و اشاعت کی مرکزی سطح پر بنیاد پڑی۔
اس کا محرک دراصل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ کا ایک مکتوب تھا جو آپ نے 24 مارچ 1953ء کو حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت بابرکت میں لکھا اور جس میں ایک عزیز کی یہ تجویز عرض کی گئی تھی کہ کوائف 1953ء سے متعلق حکومت پاکستان کے مرکزی اور صوبائی افسروں کے بیانات ایک رسالہ کی صورت میں شائع ہونے چاہئیں۔
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے اس پر اپنے قلم مبارک سے تحریر فرمایا کہ:۔
’’اچھی بات ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس کی مکمل تاریخ لکھی جائے۔ میرے نزدیک مہاشہ فضل حسین کو بلوا کر اس کام پر لگادیا جائے یا دوست محمد بھی یہ کام کرسکتے ہیں …‘‘۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور کی توجہ اس طرف بھی منعطف فرمائی کہ سلسلہ احمدیہ کی پوری تاریخ کو محفوظ کیا جانا چاہئے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں حضور نے درج ذیل الفاظ میں تحریک فرمائی:۔
آپ کو علم ہے کہ ہماری جماعت کی تاریخ اب تک غیرمحفوظ ہے۔ حضرت مسیح موعود ؑکے سوانح بعض لوگوں نے مرتب کرنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ بھی نامکمل ہیں۔ پس سلسلہ کی اس اہم ضرورت کوپورا کرنے کے لئے تاریخ سلسلہ احمدیہ کے مکمل کرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے قریب کے زمانہ کی تاریخ مرتب کی جائے گی تاکہ ضروری واقعات محفوظ ہوسکیں۔ سلسلہ کی تاریخ کئی جلدوں میں مکمل ہوگی۔ تین سال تک کام کا اندازہ ہے۔ اس کی چھپوائی اور لکھوائی وغیرہ پر کم ازکم تیس پینتیس ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ ہے۔ صدرانجمن احمدیہ پر چونکہ اس وقت کافی بار ہے اس لئے اس کام کا علیحدہ انتظام کرنے کے لئے میں احباب جماعت میں سردست صرف مبلغ بارہ ہزار روپیہ کی تحریک اس کام کے لئے کررہا ہوں۔ جب یہ روپیہ خرچ ہونے کو ہوگا پھر اور اپیل کی جائے گی۔ جماعت کے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہے۔ انہیں سلسلہ کی اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے تا یہ کام جلدپایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔
دفتر محاسب صدرانجمن احمدیہ ربوہ میں اس تحریک کے لئے مد کھول دی گئی ہے جو احباب اس تحریک میں حصہ لینا چاہیں وہ اپنی رقوم محاسب صاحب صدرانجمن احمدیہ ربوہ کو ’’بمد تصنیف تاریخ سلسلہ احمدیہ‘‘ بھجوادیں۔
یہ رقم میرے اختیار میں رہے گی اور میرے ہی دستخطوں سے برآمد ہوسکے گی۔
یہ تحریک اخبار ’’المصلح‘‘ (کراچی) 20 مئی 1953ء میں چھپ کر منظر عام پر آئی تو مخلصین جماعت نے اس کا پُرجوش خیرمقدم کیا۔ نیز اس اعلان نے جماعت کے اہل قلم اصحاب میں بھی ایک جنبش پیدا کردی۔ چنانچہ لاہور کے ایک مخلص احمدی ایڈووکیٹ نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت اقدس میں تحریری درخواست دی کہ انہیں تاریخ سلسلہ لکھنے کا موقعہ عطا فرمایا جائے۔ لیکن حضور نے دفتر کو ارشاد فرمایا کہ:۔
’’المصلح میں اعلان کیا جائے۔ تاریخ سلسلہ کے لکھنے کے لئے آدمیوں کی ضرورت ہے۔ تاریخ سے مس ہو۔ ادیب ہوں، تحقیق اور مطالعہ کا بہت شوق ہو۔ جس تنخواہ پر آسکیں اس سے بھی اطلاع دیں‘‘۔
چنانچہ مکرم مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری ربوہ کی جانب سے المصلح 16 جولائی 1953ء ص6 میں یہ بھی اعلان کردیا گیا جس پر درج ذیل مقامات سے درخواستیں موصول ہوئیں۔
لاہور (2 عدد)، شیخوپورہ (2 عدد)، کراچی(ایک عدد)، لطیف نگر سٹیٹ ضلع تھرپارکر سندھ (ایک عدد)
حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت بابرکت میں جب یہ سب درخواستیں مع کوائف پیش کی گئیں تو حضور نے فیصلہ صادر فرمایا کہ
’’درخواستوں پر کسی کارروائی کی ضرورت نہیں ان میں سے سردست کوئی پورا نہیں اترتا‘‘۔
حضور کی معین راہنمائی
چونکہ حضور تاریخ سلسلہ کے مدون کئے جانے کا عزم صمیم کرچکے تھے۔ اس لئے آپ نے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ کے ابتدائی مراسلہ کے قریباً سواماہ کے بعد مکرم مہاشہ فضل حسین صاحب کو تاریخ احمدیت کا مواد اکٹھا کرنے کے لئے نامزد فرمایا اور ان کا تقرر خلافت لائبریری میں ہوا۔ آپ نے 30؍اپریل 1953ء سے لے کر 20 مئی 1955ء تک یہ خدمت انجام دی۔ حضور نے فسادات 1953ء کے واقعات کو جمع کرنے میں اولیت دینے کی ہدایت فرمائی۔ چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں انہوں نے علاوہ اخبارات و رسائل کامطالعہ کرنے کے منٹگمری (ساہیوال) سے لے کر راولپنڈی تک کا دورہ کیا اور بہت سی چشمدید شہادتیں جمع کرکے ان کو مرتب کیا نیز ’’فسادات پنجاب 1953ء کا پس منظر‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ بھی لکھا۔ محترم مولانا دوست محمد صاحب شاہد لکھتے ہیں۔
محترم مہاشہ فضل حسین صاحب کو مقرر ہوئے چندہفتے ہی گزرے تھے کہ 24 جون 1953ء کو دفتر پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے راقم الحروف (دوست محمد شاہد) کو اطلاع ملی کہ حضرت اقدس نے اس عاجز کو یاد فرمایا ہے۔ چنانچہ اگلے دن حضور نے شرف بازیابی بخشا اور تاریخ احمدیت کی تدوین سے متعلق بنیادی ہدایات ارشاد فرمائیں جن کا خلاصہ یہ تھا کہ:۔
1۔فی الحال ستمبر 1946ء سے اگست 1952ء تک کی تاریخ لکھنے کا کام آپ کے سپرد کیا جاتا ہے۔ یہ حصہ لکھنے کے بعد دوسرے حصوں کی طرف توجہ دینا ہوگی۔
2۔تاریخ کی ترتیب و تدوین میں علاوہ دیگر ماخذوں کے لاہور کی پبلک لائبریری سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔
3۔اس حصہ تاریخ میںنمایاں طور پر قیام و استحکام پاکستان کے سلسلہ میں جماعتی خدمات کو پیش کیا جائے۔ حوالہ پورا نقل کیا جائے اور جو مواد بھی مل سکے اس کو جمع کردیا جائے تا مستقبل کے مؤرخ اس سے انتخاب کرکے اپنے زمانہ میں ان واقعات کی ترتیب دے سکیں۔
تاریخ احمدیت کی تدوین کا دفتر ابتدائً پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر کے کمرہ ملاقات میں قائم کیا گیا بعدازاں جب خلافت لائبریری کے نئے کمرے تعمیر ہوگئے تو اسے لائبریری میں منتقل کردیا گیا۔
یہ محکمہ چونکہ حضور کی تحریک خاص سے قائم ہوا تھا اس لئے حضور اس کی خاص طور پر نگرانی اور راہنمائی فرماتے تھے۔ حضور کی شروع ہی سے تاکیدی ہدایت تھی کہ اس شعبہ کی ہفتہ وار رپورٹ آنی چاہئے۔ چنانچہ (حضور کی بیماری یا سفر یورپ کے دنوں کے سوا) اس شعبہ کی کارگزاری باقاعدگی سے حضور کی خدمت میں پیش کی جاتی تھی حضور اسے ملاحظہ فرما کر بعض اوقات اپنے دست مبارک سے اور بعض اوقات زبانی ارشادات فرمادیتے۔ حضور کے بعض احکام حضرت سیدہ ام متین صاحبہ حرم حضرت مصلح موعودؓ کے قلم سے بھی لکھے ہوتے تھے۔
22 مئی 1955ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ زیورچ (سوئٹزرلینڈ) میں تشریف فرما تھے اس روز حضور نے مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ پرائیویٹ سیکرٹری کو مکرم مولوی محمد صدیق صاحب انچارج خلافت لائبریری ربوہ کے نام خط لکھوایا کہ ’’مہاشہ صاحب نے جتنا کام کرلیا کرلیا باقی دوست محمد صاحب شروع کردیں بہرحال تاریخ سلسلہ ہم نے لکھنی ہے 1938ء سے پہلے لکھ لیں پچھلی بعد میں لکھ لی جائے گی‘‘۔
حضور کا یہ ارشاد 29 مئی 1955ء کو ربوہ میں موصول ہوا۔
ازاں بعد 6 فروری 1956ء کو شعبہ تاریخ کی رپورٹ ملاحظہ کرکے ارشاد فرمایا:۔
’’یہ بتائیں چھپنے میں کیا دیر ہے؟ چھپنی جلد چاہئے تاکہ محفوظ ہوجائے پھر ابتدائی تاریخ کی تدوین شروع کردیں میں نے پچھلے زمانہ کی تاریخ اس لئے سپرد کی تھی کہ کم ازکم یہ تو محفوظ ہو جائے۔
(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد17)
19 جلدیں
حضرت مصلح موعودؓ کی اس مبارک خواہش کوپورا کرنے کی سعادت ادارۃ المصنفین کے حصہ میں آئی۔ حضور نے اس مرکزی ادارہ کی بنیاد دسمبر 1957ء میں رکھی اور اس کے بنیادی مقاصد میں تاریخ احمدیت کی اشاعت کو بھی شامل فرمایا۔ چنانچہ 2007ء تک ’’تاریخ احمدیت‘‘ کی 19 ضخیم جلدیں شائع ہوچکی ہیں۔ علاوہ ازیں ابتدائی جلدوں کے نئے ایڈیشن بھی شائع ہورہے ہیں۔
تاریخ سے آگاہی کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے خطبہ جمعہ 9 فروری 1973ء میں فرمایا:۔
’’تاریخ کا جاننا اور خصوصاً اپنی تاریخ کا جاننا ہم سب کیلئے ضروری ہے کیونکہ کسی انسان یا کسی جماعت کی زندگی اپنے ماضی سے کلیۃً منقطع نہیں ہوتی۔ مجھے یہ احساس ہے کہ بہت سے احمدی گھروں میں سلسلہ کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود ؑکے زمانہ کے واقعات دہرائے نہیں جاتے حضرت مسیح موعود ؑ نے اپنی کتاب میں بعض جگہ خود ان واقعات کی تصویر کھینچی ہے۔ ان واقعات کو بچوں کے سامنے دہرانا چاہئے۔ جماعت کی مخالفت میں دنیا کو اسّی سال ہوگئے ہیں اور جماعت کو اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو حاصل کرتے ہوئے اسّی سال ہو گئے ہیں اور ان کوششوں کو بھی اسّی سال ہوگئے ہیں جو جماعت کو مٹانے میں لگی ہوئی ہیں اور ان ناکامیوں کو بھی اسّی سال ہوگئے ہیں جو ہر روز ان مخالفانہ حرکتوں کے نصیب میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ ہماری یہ ایک معمور تاریخ ایک کامیاب تاریخ ہے‘‘۔
(خطبات ناصر جلد5 ص38)
خاندانوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے جماعت کی دوسری صدی میں داخل ہوتے وقت تحریک فرمائی کہ:
’’ہر خاندان کو اپنے بزرگوں کی تاریخ اکٹھا کرنے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے‘‘۔
(الفضل 27 مارچ 1989ئ)
اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے بہت سے افراد نے اپنی خاندانی یا علاقائی تاریخ کو محفوظ کیا ہے اور متعدد کتابیں یا کتابچے منظر عام پر آچکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح بہت سے مقالے اور مضامین بھی شائع ہوچکے ہیں۔



اعلیٰ دنیاوی تعلیم کے متعلق تحریکات
مدارس کے قیام کی تحریک
حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی خلافت کے آغاز میں ہی 12؍اپریل 1914ء کو نمائندگان مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’یزکیھم کے معنوں میں ابھارنا اور بڑھانا بھی داخل ہے اور اس کے مفہوم میں قومی ترقی داخل ہے اور اس ترقی میں علمی ترقی بھی شامل ہے اور اسی میں انگریزی مدرسہ، اشاعت اسلام وغیرہما امور آجاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں میرا خیال ہے کہ ایک مدرسہ کافی نہیں ہے جو یہاں کھولا ہوا ہے اس مرکزی سکول کے علاوہ ضرورت ہے کہ مختلف مقامات پر مدرسے کھولے جائیں۔ زمیندار اس مدرسہ میں لڑکے کہاں بھیج سکتے ہیں۔ زمینداروں کی تعلیم بھی تو مجھ پر فرض ہے پس میری یہ رائے ہے کہ جہاں جہاں بڑی جماعت ہے وہاں سردست پرائمری سکول کھولے جائیں ایسے مدارس یہاں کے مرکزی سکول کے ماتحت ہوں گے۔
ایسا ہونا چاہئے کہ جماعت کاکوئی فرد عورت ہو یا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو۔ صحابہؓ نے تعلیم کے لئے بڑی بڑی کوششیں کی ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے بعض دفعہ جنگ کے قیدیوں کا فدیہ آزادی یہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو تعلیم دیں۔ میں جب دیکھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کیا فضل لے کر آئے تھے تو جوش محبت سے روح بھرجاتی ہے۔ آپؐ نے کوئی بات نہیں چھوڑی۔ ہر معاملہ میں ہماری راہنمائی کی ہے پھر حضرت مسیح موعود ؑاور حضرت خلیفۃ المسیح نے بھی اسی نقش قدم پر چل کر ہر ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی بھی پہلو سے مفید ہوسکتا ہو۔
غرض عام تعلیم کی ترقی کے لئے سردست پرائمری سکول کھولے جائیں۔ ان تمام مدارس میں قرآن مجید پڑھایا جائے اور عملی دین سکھایا جائے نماز کی پابندی کرائی جائے۔ مومن کسی معاملہ میں پیچھے نہیں رہتا۔ پس تعلیم عامہ کے معاملہ میں ہمیں جماعت کو پیچھے نہیں رکھنا چاہئے اگر اس مقصد کے ماتحت پرائمری سکول کھولے جائیں گے تو گورنمنٹ سے بھی مدد مل سکتی ہے‘‘۔
(منصب خلافت۔ انوارالعلوم جلد2 ص49)
اعلیٰ تعلیم دلوائیں
بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کے بارہ میں حضور فرماتے ہیں:۔
’’جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی ہے وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائیں اور وہ لوگ جنہیں استطاعت نہیں۔ انہیں چاہئے کہ وہ سب مل کر اپنے گاؤں کے کم ازکم ایک اچھے اور ہونہار طالب علم کو اعلیٰ تعلیم دلائیں اور پھر وہ طالب علم جب برسرکار ہو تو آگے کسی اور طالب علم کی پڑھائی کا بوجھ اٹھائے اس طرح وہ طالب علم دوسروں کے لئے ایک نمونہ بن جائے گا اور دوسرے طالب علموں میں بھی تعلیم کا شوق پیدا ہوگا۔ ترقی کرنے والی قوم کے لئے ایک نہایت اہم سوال ہوتا ہے کہ اس کے جوان زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوں۔ کیونکہ تعلیم یافتہ آدمی بات کی تہہ تک جلدی پہنچ جاتا ہے اور جس پیشے کو وہ اختیار کرتا ہے اس میں بہت جلد مہارت حاصل کرلیتا ہے اور ہر وقت یہ بات اس کے مد نظر رہتی ہے کہ میں قوم کا ایک مفید جزو بنوں۔ اس لئے ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہماری جماعت کے نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں‘‘۔ (روزنامہ الفضل 13 ؍اکتوبر 1960ئ)
آپ نے جب صدر انجمن احمدیہ میں نظارتوں کا قیام فرمایا تو نظارت تعلیم بھی قائم فرمائی جس کے فرائض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
اس صیغہ کے ذمہ یہ کام ہوگا کہ جماعت کے لڑکوں کی فہرستیں تیار کرائے اور معلوم کرے کہ مثلاً زید کے تین لڑکے ہیں ان کی تعلیم کا کوئی انتظام ہے یا نہیں اور وہ دینی تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں یا نہیں۔ اگر معلوم ہو کہ نہیں تو اسے لکھا اور سمجھایا جائے کہ اپنے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرے۔
ایسے لوگ خواہ کہیں رہتے ہوں ان کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی نگرانی یہ صیغہ کرے گا اور ممکن سہولتیں مہیا کرنا اس کا فرض ہوگا اس طرح تمام جماعت کے بچوں پر اس صیغہ کی نگرانی ہوگی۔ پھر جو شخص فوت ہو جائے گا اس کی اولاد کے متعلق یہ دیکھا جائے گا کہ اس کی تعلیم و تربیت کا کیا انتظام ہے۔ اس کے رشتہ داروں نے کچھ کیا ہے یا نہیں۔ اگر کیا ہے تو وہ تسلی بخش ہے یا نہیں اور کس قدر امداد دینے کی ضرورت ہے‘‘۔ (سوانح فضل عمر جلد دوم ص132)
تعلیم الاسلام کالج کا آغاز
سیدنا حضرت مسیح موعود ؑکے زمانہ میں تعلیم الاسلام کالج کا افتتاح 28 مئی 1903ء کو ہوا۔ مگر بعد میں حکومت کی طرف سے ایسی شرائط تمام تعلیمی اداروں کے لئے نافذ کر دی گئیں کہ ایک غریب جماعت کے لئے کالج کا جاری رکھنا نہایت دشوار تھا۔ چنانچہ کالج کو بند کر دیا گیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے خلیفہ بنتے ہی 12؍اپریل 1914ء کو نمائندگان مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے کالج کے متعلق اپنی دلی آرزو کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالج ہو۔ حضرت خلیفہ المسیح کی بھی یہ خواہش تھی۔ کالج ہی کے دنوں میں کیریکٹر بنتا ہے۔ سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے۔ اس پر دوبارہ سیاہی کالج لائف ہی میں ہوتی ہے۔ پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور مؤثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنائیں۔ پس تم اس بات کو مدنظر رکھو میں بھی غور کررہا ہوں‘‘۔
(منصب خلافت۔انوارالعلوم جلد2 ص51)
کالج کے احیاء کی تحریک
1943ء کی مجلس مشاورت کے دوران اللہ تعالیٰ نے حضور کے دل میں تحریک کی کہ جلد سے جلد اپنا کالج کھول دینا چاہئے اور پھر اس تحریک کے فوائد اور نتائج بھی حضور کو سمجھا دیئے۔
(الفضل 31 مئی 1944ء ص5)
چنانچہ حضور نے 24 مارچ 1944ء کے خطبہ جمعہ میں اور 19؍اپریل 1944ء کو مجلس مشاورت کے دوران ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی تحریک فرمائی۔
1½ لاکھ روپے کی تحریک:
حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔
’’ہم نے قادیان میں کالج شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی اخراجات کے لئے ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی ضرورت ہے … عمارت وغیرہ کے لئے قرض لے کر روپیہ دے دیا گیا ہے تا کام شروع ہو سکے … میں جماعت میں یہ تحریک کرتا ہوں کہ عام چندوں کے معیار کو قائم رکھتے ہوئے وہ اس چندہ میں حصہ لے اور مجھے امید ہے کہ جماعت کا مالدار حصہ خصوصاً وہ لوگ جن کو جنگ کی وجہ سے ٹھیکوں وغیرہ کے ذریعہ یا دوسرے ایسے ہی کاموں کے ذریعہ زیادہ روپیہ ملا ہے … وہ اس طرف توجہ کریں۔ یا وہ زمیندار جن کی آمدنیاں بڑھ گئی ہیں۔ دین کے حصہ کو نہ بھولیں۔ پس ایسے لوگ اس چندہ میں خاص طور پر حصہ لیں۔ میں کسی کو محروم نہیں کرتا۔ غریب لوگ بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اگر کوئی غریب ایک دھیلہ بھی دیتا ہے تو وہ رد نہیں بلکہ شکریہ کے ساتھ قبول کیا جائے گا اور اس امید کے ساتھ کیا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ اسے ایک لاکھ روپیہ دینے والے امیر سے زیادہ ثواب دے گا‘‘۔ (الفضل 31 مارچ 1944ئ)
حضور کی اس تحریک کے بعد چھ ماہ کے اندر یعنی اکتوبر تک جماعت کی طرف سے 151000 روپے کے وعدے ہوئے اس کے بعد جن لوگوں نے اس تحریک میں حصہ لیا وہ ان کے علاوہ تھا۔ بعد میں محترم ناظر صاحب بیت المال نے جماعت سے اس رقم کو دو لاکھ تک پہنچا دینے کی اپیل کی اور جماعت نے یہ مطلوبہ رقم پوری کردی۔
بچے بھجوانے کی تحریک:
5 مئی 1944ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے کالج کے لئے طلباء بھجوانے کی تحریک فرمائی۔
’’کالج شروع کر دیا گیا ہے۔ پروفیسر بھی خداتعالیٰ کے فضل سے مل گئے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ چندہ جمع کیا جائے اور لڑکوں کو اس میں تعلیم کے لئے بھجوایا جائے۔ ہر وہ احمدی جس کے شہر میں کالج نہیں وہ اگر اپنے لڑکے کو کسی اور شہر میں تعلیم کے لئے بھیجتا ہے تو کمزوری ایمان کا مظاہرہ کرتا ہے۔ بلکہ میں کہوں گا ہر وہ احمدی جو توفیق رکھتا ہے کہ اپنے لڑکے کو تعلیم کے لئے قادیان بھیج سکے خواہ اس کے گھر میں ہی کالج ہو اگر وہ نہیں بھیجتا اور اپنے ہی شہر میں تعلیم دلواتا ہے تو وہ بھی ایمان کی کمزوری کا مظاہرہ کرتا ہے‘‘۔ (الفضل 20 مئی 1944ئ)
7مئی 1944ء کو حضور نے حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کو کالج کا پرنسپل مقرر فرمایا اور 26 مئی کو فضل عمر ہوسٹل قائم کر دیا گیا۔ کالج کا باقاعدہ افتتاح 4 جون 1944ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے نہایت پُرمعارف خطاب سے فرمایا۔ پہلے سال میں 60 کے لگ بھگ طلباء داخل ہوئے۔
نئی کلاسز کے لئے مالی تحریک:
حضور نے کالج میں بی اے اور بی ایس سی کی کلاسیں کھولنے کے لئے 15 مارچ 1946ء کو ایک مضمون رقم فرمایا جس میں 2 لاکھ روپے کی تحریک فرمائی۔
’’تکمیل تعلیم کے لئے بی اے اور بی ایس سی کی جماعتوں کا ہونا ضروری ہے جس کے کھولنے کے لئے صرف عمارت اور فرنیچر اور سائنس کے سامان کا اندازہ ایک لاکھ ستر ہزار کیا جاتا ہے اور کل خرچ پہلے سال کا دو لاکھ پانچ ہزار بنایا جاتا ہے … میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرکے کالج کی بی اے اور بی ایس سی کی کلاسیں کھول دی جائیں اور اس سے دعائے کامیابی کرتے ہوئے، میں جماعت احمدیہ کے مخلص افراد سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کام کے لئے دل کھول کر چندہ دیں اور یہ دو لاکھ کی رقم اسی سال پوری کردیں۔ تاکہ یہ کام بہ تمام و کمال جلد مکمل ہو کر اسلام کی ایک شاندار بنیاد رکھی جائے‘‘۔ (الفضل 19 مارچ 1946ئ)
حضور کی اس تحریک پر لبیک کہتے ہوئے فوری طور پر جماعت کے چار افراد نے 26 ہزار روپے کے وعدے کئے۔ لجنہ اماء اللہ قادیان نے اس میں پانچ ہزار روپے کا وعدہ کیا۔ جون 1946ء میں یہ وعدے ایک لاکھ سے اوپر نکل گئے اور اپریل 1947ء تک اس مد میں ڈیڑھ لاکھ کے وعدے پہنچ گئے۔
پاکستانی دور:
1947ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ہجرت کرکے لاہور تشریف لائے اور قادیان کے نامساعد حالات کی بناء پر کالج بند ہو گیا۔ 24؍اکتوبر 1947ء کو حضور نے ہدایت فرمائی کہ آسمان کے نیچے پاکستان کی سرزمین پر جہاں کہیں بھی جگہ ملتی ہے لے لو اور کالج شروع کر دو۔ چنانچہ لاہور کی ایک بوسیدہ عمارت میں دسمبر سے کالج کا آغاز کر دیا گیا۔
ربوہ میں کالج کی مستقل عمارت کی تعمیر حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمدؒ صاحب کی زیرنگرانی مکمل ہوئی اور 6 دسمبر 1954ء کو حضرت مصلح موعود نے اس کا افتتاح فرمایا۔
افسوس کہ 1972ء میں حکومت نے اسے قومی تحویل میں لے لیا اور اس کی شاندار تعلیمی اور ادبی روایات کا خاتمہ ہو گیا۔
تعلیم آئندہ زمانہ کی دولت ہے
1947ء میں ہجرت کے پُرآشوب حالات میں مصلح موعودؓ نے نوجوانوں کو تعلیم حاصل کرنے کی پُرزور تحریک کی اور یہ بھی راہنمائی کی کہ انہیں کس قسم کی تعلیم حاصل کرنی چاہئے۔ چنانچہ حضور نے 28 دسمبر 1947ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر بمقام لاہور میں فرمایا:۔
تعلیم آئندہ زمانہ کی دولت ہے اور اس دولت کو موجودہ زمانہ کی مصیبت کی وجہ سے برباد نہیں کرنا چاہئے۔ اس زمانہ کی مصیبت کا بوجھ ہم کو خود برداشت کرنا چاہئے۔ آئندہ زمانہ اپنے ساتھ نئی ذمہ داریاں اور نئے بوجھ لائے گا اور کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان ذمہ داریوں کے لئے اپنی آئندہ نسل کو تیار نہ کریں۔ پس میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ جن جن دوستوں کے بیٹے گھر میں بیٹھے ہیں وہ انہیں تعلیم پر مجبور کریں۔ آخر ہر ایک کا بیٹا مصیبت میں مبتلا نہیں بعض اس خوشی میں بیٹھے ہیں کہ اچھا ہوا پڑھائی ختم ہوگئی۔ دوستوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی اس خوشی میں شریک نہ ہوں یہ حقیقی خوشی نہیں بلکہ ان کے مستقبل کو تباہ کرنے والی بات ہے۔ جس جس کا بچہ گھر میں بیٹھا ہو اس کا فرض ہے کہ وہ اسے کالج یا سکول میں داخل کرے۔ تعلیم الاسلام کالج اب لاہور میں کھل گیا ہے اور تعلیم الاسلام ہائی سکول چنیوٹ میں ہے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے لڑکوں کو فوری طور پر ان درسگاہوں میں بھجوادیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حالات میں ہمارا سائنس کا سامان ضائع ہوگیا ہے مگر بہرحال تعلیم جاری رکھنے کے لئے ہم نے فورمن کرسچین کالج والوں سے سائنس کا سامان مستعار طور پر لیا ہے۔ ایک دوماہ تک اس سے کام چلائیں گے۔ اس کے علاوہ میں نے یورپ اور امریکہ سے بھی سائنس کے سامان کے متعلق خطوط لکھے ہوئے ہیں کچھ سامان مل گیا ہے اور کچھ ابھی تک نہیں ملا۔ بہرحال اپنے کالج میں اپنے انتظام کے ماتحت لڑکے تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔
لیکن آئندہ کے لئے جماعت کو یہ امر یاد رکھنا چاہئے کہ لڑکوں کی تعلیم ایک نہایت اہم چیز ہے خود انہیں بھوکا رہنا پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں، پھٹے پرانے کپڑے پہننے پڑیں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اولاد کو ضرور تعلیم دینی چاہئے۔… خصوصاً سائنس کی طرف ہمارے طلباء کو زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔ مستقبل کی بنیاد اب سائنس پر ہی پڑنے والی ہے اور اس طرف نوجوانوں کا متوجہ ہونا نہایت ضروری ہے۔
… پس نوجوانوں کو خصوصیت سے سائنس کی طرف توجہ کرنی چاہئے یہ خوشی کی بات ہے کہ ہماری جماعت کے نوجوان سائنس کی طرف توجہ کررہے ہیں مگر موجودہ توجہ سے انہیں زیادہ توجہ کرنی چاہئے بلکہ آرٹ کی نسبت بھی سائنس کی طرف زیادہ توجہ کرنی چاہئے۔ ہمارے منتظمین کو چاہئے کہ وہ سائنس کا سامان زیادہ مہیا کریں اور طالبعلموں کو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اتنا محنتی بنائیں کہ کالج یا سکول والوں کو انہیں لینے میں کوئی عذر نہ ہو۔ (انوارالعلوم جلد19 ص372 تا374)
تعلیمی وظائف
جماعت احمدیہ نے 1939ء میں خلافت احمدیہ کی سلور جوبلی منائی۔ اس موقع پر حضور کی خدمت میں جماعت کی طرف سے 3 لاکھ روپے نذرانہ پیش کیا گیا۔ حضور نے اس رقم کے مصارف کا ذکر کرتے ہوئے 28 دسمبر 1939ء کے خطاب میں فرمایا:۔
’’آرٹ اور سائنس کی تعلیم نیز غربا کی تعلیم و ترقی بھی خلفاء کا اہم کام ہے۔ ہماری جماعت کے غربا کی اعلیٰ تعلیم کے لئے فی الحال انتظامات نہیں ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ کند ذہن لڑکے جن کے ماں باپ استطاعت رکھتے ہیں تو پڑھ جاتے ہیں مگر ذہین بوجہ غربت کے رہ جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ایک یہ بھی ہے کہ ملک کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اس رقم سے اس کا بھی انتظام کیا جائے اور میں نے تجویز کی ہے کہ اس کی آمد سے شروع میں فی الحال ہر سال ایک ایک وظیفہ مستحق طلباء کو دیا جائے۔ پہلے سال مڈل سے شروع کیا جائے۔ مقابلہ کا امتحان ہو اور جو لڑکا اول رہے اور کم سے کم ستر فیصدی نمبر حاصل کرے اسے انٹرنس تک بارہ روپیہ ماہوار وظیفہ دیا جائے اور پھر انٹرنس میں اول، دوم اور سوم رہنے والوں کو تیس روپیہ ماہوار، جو ایف اے میں یہ امتیاز حاصل کریں انہیں 45 روپے ماہوار اور پھر جو بی اے میں اول آئے اسے 60 روپے ماہوار دیا جائے اور تین سال کے بعد جب اس فنڈ سے آمد شروع ہو جائے تو احمدی نوجوانوں کا مقابلہ کا امتحان ہو اور پھر جو لڑکا اول آئے اسے انگلستان یا امریکہ میں جا کر تعلیم حاصل کرنے کے لئے اڑھائی سو روپیہ ماہوار تین سال کے لئے امداد دی جائے۔ اس طرح غربا کی تعلیم کا انتظام ہو جائے گا اور جوں جوں آمد بڑھتی جائے گی ان وظائف کو ہم بڑھاتے رہیں گے کئی غربا اس لئے محنت نہیں کرتے کہ وہ سمجھتے ہیں ہم آگے تو پڑھ نہیں سکتے خواہ مخواہ کیوں مشقت اٹھائیں لیکن اس طرح جب ان کے لئے ترقی کا امکان ہوگا تو وہ محنت سے تعلیم حاصل کریں گے مڈل میں اول رہنے والوں کے لئے جو وظیفہ مقرر ہے وہ صرف تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کے طلباء کے لئے ہی مخصوص ہوگا کیونکہ سب جگہ مڈل میں پڑھنے والے احمدی طلباء میں مقابلہ کے امتحان کا انتظام ہم نہیں کرسکتے۔ یونیورسٹی کے امتحان میں امتیاز حاصل کرنے والا خواہ کسی یونیورسٹی کا ہو وظیفہ حاصل کر سکے گا ہم صرف زیادہ نمبر دیکھیں گے کسی یونیورسٹی کا فرسٹ، سیکنڈ اور تھرڈ رہنے والا طالب علم بھی اسے حاصل کر سکے گا اور اگر کسی بھی یونیورسٹی کا کوئی احمدی طالب علم یہ امتیاز حاصل نہ کرسکے تو جس کے بھی سب سے زیادہ نمبر ہوں اسے یہ وظیفہ دے دیا جائے گا۔ انگلستان یا امریکہ میں حصول تعلیم کے لئے جو وظیفہ مقر ر ہے اس کے لئے ہم سارے ملک میں اعلان کرکے جو بھی مقابلہ میں شامل ہونا چاہیں ان کا امتحان لیں گے اور جو بھی فرسٹ رہے گا اسے یہ وظیفہ دیا جائے گا‘‘۔
(انوارالعلوم جلد15 ص436)
اس سلسلہ میں ایک نہایت ایمان افروز بات یہ ہے کہ محترم ڈاکٹر عبدالسلام صاحب اس وقت میٹرک میں زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے ان وظائف سے استفادہ کرکے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
ان کے والد چوہدری محمد حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ جس دن حضور کی تقریر ہوئی اسی شام ہماری جماعت جھنگ شہر کی حضور سے ملاقات تھی۔ وہ لکھتے ہیں:۔
’’عزیز سلام سلمہ اللہ تعالیٰ میرے ساتھ تھے۔ میں نے عرض کی کہ حضور یہ وظائف جو حضور نے اعلان فرمائے ہیں۔ عزیز سلام سب لے جائے گا۔ حضور حیران ہوئے اور چپ ہو گئے۔ 1940ء میں عزیز سلام سلمہ اللہ تعالیٰ نے میٹرک کا امتحان دیا اول آکر ریکارڈ توڑا۔ حضرت صاحب بہت خوش ہوئے اور حسب اعلان وظیفہ کے علاوہ ایک سو روپیہ نقد ریکارڈ مات کرنے کا اعلان کیا اور دیا۔ ایف اے اور بی اے میں اسی طرح ہوا۔ عزیز کا بی اے کا ریکارڈ 1944ء سے تاحال موجود ہے۔ انگلش آنرز کا ریکارڈ تاحال موجود ہے۔ حضور نے علاوہ وظیفہ کے دو سو روپیہ نقد انعام دیا۔
ڈاکٹر صاحب نے میٹرک ایف اے، بی اے اور ایم اے میں یہ اعلان کردہ وظائف حاصل کئے‘‘۔ (عالمی شہرت یافتہ سائنسدان عبدالسلام از عبدالحمید چوہدری ص35)
اعلیٰ تعلیم کے لئے یہ وہ پودا تھا جو 1939ء میں لگایا گیا اور 1979ء میں اللہ تعالیٰ نے انہیں نوبیل انعام حاصل کرکے دنیا میں احمدیت کا وقار بلند کرنے کا موقع عطا فرمایا۔
جماعت احمدیہ میں اعلیٰ تعلیم کی توسیع کے لئے سکیم
حضور نے 19؍اکتوبر 1945ء کو احمدیوں میں اعلیٰ تعلیم کے عام کرنے کے لئے ایک نہایت اہم سکیم تیار کی جس کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ ’’جس طرح ہماری جماعت دوسرے کاموں کے لئے چندہ کرتی ہے اسی طرح ہر گاؤں میں اس کے لئے کچھ چندہ جمع کرلیا جائے جس سے اس گاؤں کے اعلیٰ نمبروں پر پاس ہونے والے لڑکے یا لڑکوں کو وظیفہ دیا جائے۔ اس طرح کوشش کی جائے کہ ہر گاؤں میں دو تین طالب علم اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیں‘‘۔ حضور نے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ ’’جو احمدی اپنے بچوں کو پرائمری تک تعلیم دلوا سکتے ہیں وہ کم ازکم مڈل تک اور جو مڈل تک تعلیم دلواسکتے ہیں وہ کم ازکم انٹرینس تک اور جو انٹرینس تک پڑھا سکتے ہیں وہ اپنے لڑکوں کو کم ازکم بی اے کرائیں‘‘۔ نیز فرمایا کہ چونکہ ہم تبلیغی جماعت ہیں اس لئے ہمارے لئے لازمی ہے کہ ہم سو فیصد تعلیم یافتہ ہوں‘‘۔ اسی ضمن میں حضرت مصلح موعودؓ نے صدرانجمن احمدیہ کو ہدایت فرمائی کہ:
’’وہ فوری طور پر نظارت تعلیم و تربیت کو ایک دو انسپکٹر دے جو سارے پنجاب کا دورہ کریں اور جو اضلاع پنجاب کے ساتھ دوسرے صوبوں کے ملتے ہیں اور ان میں احمدی کثرت سے ہوں ان کا دورہ بھی ساتھ ہی کرتے چلے جائیں۔ یہ انسپکٹر ہر ایک گاؤں اور ہر ایک شہر میں جائیں اور لسٹیں تیار کریں کہ ہر جماعت میں کتنے لڑکے ہیں۔ ان کی عمریں کیا ہیں ان میں کتنے پڑھتے ہیں اور کتنے نہیں پڑھتے۔ ان کے والدین کو تحریک کی جائے کہ وہ انہیں تعلیم دلوائیں اور کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ لڑکے ہائی سکولوں میں تعلیم حاصل کریں اور ہائی سکولوں سے پاس ہونے والے لڑکوں میں سے جن کے والدین استطاعت رکھتے ہوں ان کو تحریک کی جائے کہ وہ اپنے بچے تعلیم الاسلام کالج میں پڑھنے کے لئے بھیجیں‘‘۔ (الفضل 30؍اکتوبر 1945ئ)
اس خطبہ کی اشاعت پر نہ صرف بیرونی جماعتوں نے توسیع تعلیم سے متعلق اعدادوشمار کے مطلوبہ نقشے بھجوائے بلکہ اس سکیم کو جلد سے جلد نتیجہ خیز کرنے کے لئے حضرت مصلح موعودؓ کی منظوری سے دو انسپکٹر بھی مہیا کئے گئے۔ تعلیمی اعدادوشمار جب حضور کی خدمت میں پیش کئے گئے تو حضور نے ارشاد فرمایا:۔
’’ساتھ کے ساتھ ان علاقوں میں تعلیم پر زور دیا جائے جو تعلیم حاصل نہیں کررہے انہیں تعلیم پر مجبور کیا جائے اور جو کررہے ہیں انہیں اعلیٰ تعلیم پر‘‘۔
انسپکٹران کی تقرری کے موقعہ پر یہ ہدایت خاص فرمائی کہ
’’پانچ ماہ کے لئے منظور ہے جہاں تک میں سمجھتا ہوں اگر جماعت کو منظم کیا جائے تو باقی صیغوں کی طرح اس صیغہ کے سیکرٹری یہ کام سنبھال سکیں گے‘‘۔ (الفضل 5 جون 1945ئ)
چنانچہ ان ہر دو احکام کی تعمیل کی گئی اور جب جماعت میں تعلیم کی اشاعت و فروغ کی ایک رو چل نکلی توپانچ ماہ کے بعد یہ کام سیکرٹریان تعلیم و تربیت کے سپرد کر دیا گیا۔
تعلیم بالغاں کی تحریک
یکم جنوری 1954ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے خطبہ جمعہ میں پھر تحریک فرمائی کہ ہر تعلیم یافتہ احمدی مرد اور عورت کسی ایک ناخواندہ مرد یا عورت کو لکھنا پڑھنا سکھانے کی کوشش کرے۔ آپ نے فرمایا:
’’…جو باتیں میں نے جلسہ سالانہ کے موقع پر جماعت کے مردوں اور عورتوں کے سامنے رکھی ہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ہر تعلیم یافتہ مرد اور ہر تعلیم یافتہ عورت جماعت کے کسی ایک مرد یا عورت کوجو لکھنا پڑھنا نہیں جانتے معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے۔ ہماری جماعت میں خداتعالیٰ کے فضل سے تعلیم یافتہ طبقہ زیادہ ہے۔ … اگر ہم عزم کرلیں اورپھر اس کے مطابق عمل کریں تو اگلے سال ہماری پچاس فیصدی تعداد تعلیم یافتہ ہو جائے گی۔ پھر اگر اس بات کومدنظر رکھتے ہوئے کہ گو ربوہ میں عورتیں تعلیم کے لحاظ سے مردوں سے بہت زیادہ آگے ہیں لیکن باہر کی جماعتوں میں عورتوں کی تعلیم کا یہ معیار نہیں۔ اگر ہم عورتوں کے لحاظ سے وہی معیار لے لیں جو دوسرے مسلمانوں میں مردوں کاہے تب بھی جماعت کی ساڑھے تیرہ فیصدی عورتیںتعلیم یافتہ ہیں۔ اگر جماعت کی ہر لکھی پڑھی عورت کم سے کم ایک عورت کومعمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے تو اگلے سال تعلیم یافتہ عورتوں کی تعداد 25 فیصدی ہو جائے گی۔ اس طرح اگلے دو سال کی جدوجہد میں ہم سب کو تعلیم یافتہ بنادیں گے … پس یہ کوئی مشکل امر نہیں … اگر کوئی دقت ہے تو محض یہ کہ ہم اس کے لئے ارادہ اور عزم نہیں کرتے۔ پس ایک تحریک میں نے یہ کی تھی کہ ہر تعلیم یافتہ ہرمرد ہر تعلیم یافتہ عورت کم سے کم کسی ایک مرد یا عورت کو معمولی لکھنا پڑھنا سکھا دے اور زیادہ ہو جائے تو یہ اور بھی اچھی بات ہے‘‘۔
(روزنامہ المصلح کراچی 21 فروری 1954ئ)
اساتذہ کی ذمہ داری
حضرت مصلح موعودؓ نے احباب جماعت کو تعلیمی میدان میں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھانے کے علاوہ مرکزی درسگاہوں کے احمدی اساتذہ کو بچوں کی نگرانی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے فرمایا کہ:
’’میرے نزدیک اس کی کلی طور پر ذمہ داری سکول کے عملہ پر ہے اور کالج کے لڑکوں کی ذمہ داری کالج کے عملہ پر ہے۔ اگر سکول یا کالج کا نتیجہ خراب ہو اور کالج یا سکول کا عملہ اس پر عذر کرے تو میں یہ کہوں گا یہ منافقانہ بات ہے اگر لڑکے ہوشیار نہیں تھے اگر لڑکے محنت نہ کرتے تھے اور اگر لڑکے پڑھائی کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے تو ان کاکام تھا کہ وہ ایک ایک کے پاس جاتے اور ان کی اصلاح کرتے۔ اگر وہ متوجہ نہ ہوتے تو ان کے والدین کو اس طرف متوجہ کرتے اور ان کو مجبور کرتے کہ وہ تعلیم کو اچھی طرح حاصل کریں۔ ہماری جماعت کے لئے اعلیٰ تعلیم کا حصول اب بہت ضروری ہے۔ اگر ہم میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ ہوں گے تو ساری سکیم فیل ہو جائے گی‘‘۔ (الفضل 30 جنوری 1945ئ)
تعلیمی اداروں کی فہرست
حضرت مصلح موعودؓ کے زیر نگرانی پاکستان میں جو تعلیمی ادارے قائم ہوئے ان کی ایک فہرست یہ ہے۔
جامعہ احمدیہ ربوہ، تعلیم الاسلام کالج ربوہ، تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ، نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ، جامعہ نصرت ربوہ، نصرت انڈسٹریل سکول ربوہ، فضل عمر ماڈل سکول ربوہ، تعلیم الاسلام انٹرمیڈیٹ کالج گھٹیالیاں، تعلیم الاسلام ہائی سکول گھٹیالیاں، تعلیم الاسلام سیکنڈری سکول کراچی، احمدیہ گرلز ہائی سکول سیالکوٹ، تعلیم الاسلام پرائمری سکول احمد نگر (دیناج پور)، تعلیم الاسلام مڈل سکول کھاریاں، تعلیم الاسلام ہائی سکول شادیوال، تعلیم الاسلام پرائمری سکول چوکنا والی، تعلیم الاسلام مڈل سکول سندھ، مدرسۃ البنات کنری سندھ۔ انٹرمیڈیٹ کالج کلر کہار۔ ان کے علاوہ بھی بعض اور دیہی مقامات پر متعدد پرائمری سکول قائم ہوئے۔
اندرون پاکستان تعلیمی اداروں کے علاوہ بیرون پاکستان بھی تعلیمی ادارے، سکول اور کالجز قائم کئے گئے۔ ان کی کسی قدر تفصیل ذیل میں درج ہے۔
ٹرینیڈاڈ: 1 ۔برٹش گی آنا: 1۔ نائیجیریا: 11 ۔ فلسطین: 1 ۔غانا: 20 ۔ سیرالیون: 19 ۔کینیا: 1
یوگنڈا: 2 ۔ ماریشس: 1 ۔جزائر فجی: 1 ۔ انڈونیشیا: 1 ۔میزان : 59
(روزنامہ الفضل 19 فروری 1998ئ)
یہ ادارے تعلیمی و تربیت لحاظ سے دین اور انسانیت کی گرانقدر خدمات کررہے ہیں۔ اس کا ایک ثبوت وہ احساس تشکر ہے جو ان افریقی احباب میں پایا جاتا ہے جو ان اداروں سے فیضیاب ہو کر نکلنے والوں کی عظیم الشان قومی خدمات پر انگشت بدنداں ہیں۔
احمدی بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے حضور نے 1915ء میں لاہور میں احمدیہ ہوسٹل قائم کیا اور وقتاً فوقتاً خود بھی تشریف لے جاتے رہے۔ 1928ء میںجامعہ احمدیہ کے نام سے عربی کالج قائم کیا گیا۔ جس نے بعد میں موجودہ جامعہ احمدیہ کی شکل اختیار کی۔
احمدیہ یونیورسٹی
1930ء کی مجلس مشاورت میں احمدیہ یونیورسٹی کی تجویز بھی زیر غور آئی مگر اس وقت کے حالات اور جماعت کے وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب مشورہ کے لئے یہ تجویز حضور نے متعدد سب کمیٹیوں کے سپرد فرمائی۔ بالآخر 1940ء کی مجلس شوریٰ میں یہ تجویز پیش ہوئی اور حضور کی منظوری سے 1942ء میں تعلیمی بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ جس کا کام امتحانات کی نگرانی، تعلیمی ضروریات کا خیال رکھنا، نصاب مقرر کرنا اور مناسب کتب لکھوانا تھا۔ (تاریخ احمدیت جلد5 ص190,189)
تحریک وقف جدید
جس طرح تحریک جدید دعوت الی اللہ سے متعلق تحریکات کی سرخیل ہے اسی طرح تربیتی تحریکات میں سب سے اہم اور جامع تحریک وقف جدید کی تحریک ہے۔ تحریک جدید اگر اللہ اور رسول کی خاطر نئے علاقے فتح کرنے کا نام ہے تو وقف جدید ان مفتوحہ علاقوں کے ہر فرد کو سچا احمدی بنانے کا نام ہے۔
اس تحریک کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ قیام پاکستان تک حضرت مسیح موعود ؑکو دیکھنے والے اور ان کی صحبت سے فیض حاصل کرنے والے بہت سے بزرگ جماعتوں میں موجود تھے اور یہ بزرگ جماعت کے افراد کی علمی اور روحانی ضرورتیں پوری کر رہے تھے۔ 1947ء تقسیم ہندوستان کے نتیجے میں جماعتوں کا نظام قائم نہ رہ سکا۔ بہت سے بزرگ وفات پا گئے۔ خاندانوں کے افراد مختلف جگہوں پر جا کر آباد ہو گئے۔
جو افراد جماعت شہروں میں آ کر آباد ہوئے وہاں ذیلی تنظیمیں مضبوط تھیں اس لئے وہاں تعلیم و تربیت کا مسئلہ حل ہو گیا۔ تعلیمی سہولتوں کی وجہ سے ان کا معیار تعلیم بھی زیادہ ہوتا ہے اور وہ ذاتی مطالعہ سے اپنی کمی کو دور کر لیتے ہیں۔ علماء سلسلہ کی بھی شہروں میں آمد و رفت رہتی ہے جس سے یہ جماعتیں مستفیض ہوتی ہیں۔ مگر دیہاتی جماعتوں میں یہ سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔یہ افراد تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہوتے ہیں اور ان کی مصروفیات بھی مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ سال کے بعض دنوں میں یہ بہت زیادہ مصروف ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کو کوشش کرکے ہی اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور اس امر کی ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی معلم یا مربی ان لوگوں میں رہ کر ان کی تعلیم و تربیت کرے۔ اس لئے دیہاتی جماعتوں کی تعلیم وتربیت کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے وقف جدید کا نام لئے بغیر ایک تحریک جاری کرنے کا اعلان پہلی دفعہ 9 جولائی 1957ء کو عیدالاضحی کے خطبہ میں فرمایا۔
آپ نے فرمایا:۔
’’درحقیقت قربانیوں کی عید ہمیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ ہم خدا کی خاطر اور اس کے بعد دین کے لئے جنگلوں میں جائیں اور وہاں جا کر خداتعالیٰ کے نام کو بلند کریں اور لوگوں سے اس کے رسول کا کلمہ پڑھوائیں۔ جیسا کہ ہمارے صوفیا کرام کرتے چلے آئے ہیں۔ … پس تم اپنے آپ کو اس قربانی کے لئے پیش کرو … میرا خیال یہ ہے کہ اس ملک میں بھی اس طریق کو جاری کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی ؒاور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی ؒ کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں…… (براہ راست میرے سامنے وقف کریں تاکہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ … کو تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔ وہ مجھ سے ہدایتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے، اور آج بھی اس میں چشتیوں کی ضرورت ہے، سہروردیوں کی ضرورت ہے اور نقشبندیوں کی ضرورت ہے۔ اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت معین الدین صاحب چشتی ؒ، حضرت شہاب الدین صاحب سہروردیؒ اور حضرت فریدالدین صاحب شکر گنج ؒجیسے لوگ پیدا نہ ہوئے تو یہ ملک روحانیت کے لحاظ سے اور بھی ویران ہو جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ ویران ہو جائے گا…… پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں…… (الفضل 6 فروری 1958ئ)
حضرت مصلح موعودؓ نے جلسہ سالانہ 1957ء پر جماعت کے سامنے وقف جدید کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’میری اس وقف سے غرض یہ ہے کہ پشاور سے لے کر اچی تک ہمارے معلمین کا جال پھیلا دیا جائے اور تمام جگہوں پر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر۔ یعنی دس دس پندرہ پندرہ میل پر ہمارا معلم موجود ہو اور اس نے مدرسہ جاری کیا ہوا ہو۔ یا دکان کھولی ہوئی ہو اور وہ سارا سال اس علاقہ کے لوگوں میں رہ کر کام کرتا رہے اور گو یہ سکیم بہت وسیع ہے مگر میںنے خرچ کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے ممکن ہے بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں یا اور غیر ملکوں سے بھی لئے جائیں مگر بہرحال ابتداء دس واقفین سے کی جائے گی اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔
’’پس میں جماعت کے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ جتنی قربانی کر سکیں اس سلسلہ میں کریں اور اپنے نام اس سکیم کے لئے پیش کریں۔ اگر ہمیں ہزاروں معلم مل جائیں تو پشاور سے کراچی تک کے علاقہ کو ہم دینی تعلیم کے لحاظ سے سنبھال سکتے ہیں اور ہر سال دس دس بیس بیس ہزار اشخاص کی تعلیم و تربیت ہم کر سکیں گے۔‘‘ (الفضل 16فروری1958ئ)
حضرت مصلح موعودؓ نے 2 جنوری 1958ء کے خطبہ جمعہ میں وقف جدید کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’ پس میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر اس وقف کی طرف توجہ دلاتا ہوں ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا یہاں تک کہ پنجاب کا کوئی گوشہ اور کوئی مقام ایسا نہ رہے جہاں رشد و اصلاح کی کوئی شاخ نہ ہو…… اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک مربی ایک ضلع میں مقرر ہو گیا اور وہ دورہ کرتا ہوا ہر ایک جگہ گھنٹہ گھنٹہ دو گھنٹے ٹھہرتا ہوا سارے ضلع میں پھر گیا اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے مربی کو ہر گھر اور ہر جھونپڑی تک پہنچنا پڑے گا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب میری یہ نئی سکیم پر عمل کیا جائے اور تمام پنجاب میں بلکہ کراچی سے لے کر پشاور تک ہر جگہ ایسے آدمی مقرر کر دئے جائیں جو اس علاقے کے لوگوں کے اندر رہیں اور ایسے مفید کام کریں کہ لوگ ان سے متاثر ہوں وہ انہیں پڑھائیں بھی اور رشد و اصلاح کے کام بھی کریں اور یہ جال اتنا وسیع طور پر پھیلایا جائے…… اور اس کے ذریعے گائوں گائوں اور قریہ قریہ کے لوگوں تک ہماری آواز پہنچ جائے بلکہ ہر گائوں کے ہر گھر تک ہماری پہنچ ہو …… پس جب تک ہم اس مہاجال کو نہ پھیلائیں گے اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘ (الفضل 11 جنوری 1958ئ)
پھر فرمایا
’’ہماری اصل سکیم تو یہ ہے کہ کم سے کم ڈیڑھ ہزار سینٹر سارے ملک میں قائم کر دئیے جائیں…… اگر ڈیڑھ ہزار سنٹر قائم ہو جائیں تو کراچی سے پشاور تک ہر پانچ میل پر ایک سنٹر قائم ہو جاتا ہے…… پس اگر ڈیڑھ ہزار سینٹر قائم ہوجائے تو ہمارے ملک کا کوئی گوشہ اصلاح و ارشاد کے دائرے سے باہر نہیں رہ سکتا‘‘۔ (الفضل 15مارچ1958ئ)
اس طرح وقف جدید دو اجزا پر مشتمل تھی
1۔ واقفین زندگی اور معلمین کے ذریعہ تربیت اور دعوت الی اللہ کا نظام
2۔ مالی قربانی کا نظام
حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر وقف جدید نے دیہاتی جماعتوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ سندھ میں ہندوئوں میں دعوت الی اللہ کے کام پر توجہ دینی شروع کی اور ان دونوں کاموں کے بہت شاندار نتائج ظاہر ہوئے۔
معلمین کا نظام
حضرت مصلح موعودؓ کی طرف سے وقف جدید کا اعلان ہوتے ہی واقفین کی درخواستیں آنی شروع ہو گئیں چنانچہ 18جنوری 1958ء کو 14واقفین کو بطور معلم منتخب کر لیا گیا ان کے لئے ایک ہفتہ کی تربیتی کلاس منعقد کی گئی اور یکم فروری 1958ء کو 6معلمین کا پہلا قافلہ سوئے منزل روانہ ہو گیا۔ 16فروری کو مزید 22واقفین کا انٹرویو لے کر تقرر کیا گیا۔ چنانچہ پہلے سال کے اختتام پر 90مراکز وقف جدید کے تحت قائم ہو چکے تھے۔ چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے جلسہ سالانہ 1958ء پر وقف جدید کے معلمین اور ان کی خوشکن کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
’’اس سال 90معلم وقف جدید میں کام کر رہے ہیں اور ستر ہزار روپیہ کے وعدے جماعت کی طرف سے آئے تھے جو قریباً پورے ہو گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ صیغہ بڑی عمدگی سے اپنا کام کر رہا ہے…… وقف جدید کی معرفت 400بیعت آئی ہے۔ اصلاح وارشادکی معرفت صرف 54افراد سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ اگر جماعت اپنی آمد بڑھائے تو اس کے نتیجہ میں چندہ کی مقدار بھی بڑھ جائے گی۔ جس سے ہم اپنے کام سہولت سے وسیع کر سکیں گے بلکہ بیماریوں کو دور کرنے میں بھی ہم ملک کی مدد کر سکیں گے کیونکہ وقف جدید کے معلم تعلیم کے ساتھ ساتھ علاج معالجہ بھی کرتے ہیں اور اس سے ملک میںبیماریوں کو دور کرنے میں مدد مل رہی ہے۔‘‘ (الفضل 25جنوری 1959ئ)
خلافت ثانیہ کے اختتام تک 71باقاعدہ معلمین کام کر رہے تھے جن کے ذریعہ 64مراکز میں اصلاح و ارشاد کی مہم چلائی جا رہی تھی جن کی تعداد دسمبر 2007ء میں 270ہو چکی ہے۔ پاکستان میں اب تک 733سنٹرز پر معلمین کام کر چکے ہیں۔
معلمین کی تعلیم و تربیت کے لئے ایک سال کی معلمین کلاس جاری کی گئی اور باقاعدہ ایک مدرسہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جسے مدرسۃ الظفر کا نام دیا گیا ہے۔ 1996ء میں عرصہ تعلیم 2سا ل کیا گیا مگر 2005ء سے اس کا دورانیہ 3سا ل کر دیا گیا ہے۔ اس وقت بھی 122کے قریب طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں جن کو ہوسٹل کی سہولت بھی میسر ہے پرنسپل کے علاوہ 13 اساتذہ تدریس کے فرائض سرانجام دیتے ہیں ۔
ایک معلم کا حلقہ پانچ میل کا ہوتا ہے وہ اپنے حلقہ میں تعلیم و تربیت اور اصلاح و ارشاد کا ذمہ دار ہوتا ہے وہ اپنے حلقہ کا دورہ کرکے معلوم کرتا ہے کہ اس کے حلقہ میں کل کتنے دیہات ہیں اور ان میں کتنی احمدی جماعتیں ہیں اور اس کے حلقہ میں کل کتنے احمدی احباب ہیں۔ معلم اپنے ماحول کا ایک نقشہ بنا کر دفتر کو بھجواتا ہے جس میں وہ اپنے جائزہ کے مطابق اعداد و شمار کا اندراج کرتا ہے اور دفتر کو ابتدائی رپورٹ بھجواتا ہے کہ اس وقت مقامی جماعت کی تعلیم و تربیت کا یہ حال ہے اتنے افراد قاعدہ یسرنالقرآن جانتے ہیں اتنے افراد قرآن مجید ناظرہ اور باترجمہ جانتے ہیں اور اتنے افراد نماز باجماعت ادا کرنے کے عادی ہیں اور تلاوت قرآن مجید کے عادی ہیں۔ اس گائوں میں احمدیت کب یعنی کس سن میں آئی اور کون کون سے فرقے پائے جاتے ہیںوغیرہ وغیرہ۔ پھر اس کی روشنی میں تعلیم و تربیت کا نظام قائم کر تا ہے۔
ان معلمین کے ذریعہ صرف خلافت ثانیہ میں 3827افراد احمدیت میں داخل ہوئے۔
مالی نظام
آغاز میں وقف جدید کی تحریک صرف پاکستانی اور بھارتی احمدیوں کے لئے تھی اور باہر کے ممالک سے اگر کوئی اپنی مرضی سے حصہ لینا چاہتا تو لے سکتا تھا 1985ء میں حضرت خلیفۃ المسح الرابعؒ نے وقف جدید کی مالی قربانی کی تحریک کو ساری دنیا پر پھیلا دیا۔ تاکہ ہندوستان میں بھی وقف جدید کے نظام کو فعال کیا جا سکے۔
وقف جدید کا سال یکم جنوری تا 31 دسمبرشمار کیا جاتا ہے۔ احباب جماعت اپنی استطاعت کے مطابق ہر سال کے شروع میں چندہ و قف جدید کے دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ کہ دوران سال ہم اتنا چندہ ادا کریں گے۔ چندہ وقف جدید کی درج ذیل مدّات ہیں۔
1۔ چندہ وقف جدید بالغاں
2 ۔ چندہ وقف جدید اطفال و ناصرات
3۔قیام مراکز
4۔ امداد مراکز
چندہ وقف جدید بالغاں: اس کے دو حصے ہیں ایک احباب جماعت اپنی استطاعت کے مطابق چندہ ادا کرتے ہیں دوسرے معاونین خصوصی ہوتے ہیں صف اول کے معاونین خصوصی ایسے افراد جماعت جو ایک ہزار روپیہ یا اس سے زائد سالانہ ادا کرتے ہیں۔
صف دوم کے معاونین خصوصی ایسے افراد جماعت جو پانچ سو روپیہ سے 999روپے تک سالانہ ادا کرتے ہیں۔
قیام مراکز :ایسی جماعتیں یا افراد جو وقف جدید کے معلم کا سارا خرچ یا کچھ حصہ وقف جدید کو ادا کرتے ہیں یہ رقم چندہ وقف جدید کے علاوہ ہوتی ہے۔
امداد مراکز: وقف جدید کے تحت پاکستان کے ضلع تھرپارکر میں جہاں ہندوئوں کی ایک کثیر تعداد ہے۔ وہاں ہندوئوں میں دعوت الی اللہ کا کام ہو رہا ہے اس کام کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے 1978ء میں ایک خصوصی مد امداد مراکز کے نام سے قائم فرمائی۔ جس کا بجٹ ایک لاکھ روپیہ مقرر فرمایا۔
دفتر اطفال: حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے 7؍اکتوبر 1966ء کو دفتر اطفال کا اعلان فرمایا۔ آپ نے 15سال کی عمر کے لڑکوں اور لڑکیوں۔ اطفال اور ناصرات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔
’’میں آج احمدی بچوں (لڑکوں اور لڑکیوں) سے اپیل کرتا ہوں کہ اے خدا اور اس کے رسول کے بچو۔ اٹھو اور آگے بڑھو اور تمہارے بڑوں کی غفلت کے نتیجہ میں وقف جدید کے کام میں جو رخنہ پڑ گیا ہے اسے پر کر دو اور اس کمزوری کو دور کر دو… وہ بچے جو اپنی عمر کے لحاظ سے اطفال الاحمدیہ یا ناصرات الاحمدیہ میں شامل ہو چکے ہیں یعنی ان کی عمریں سات سال سے پندرہ سال کی ہیں اگر وہ مہینہ میں ایک اٹھنی وقف جدید میں دیں تو جماعت کے سینکڑوں ہزاروں خاندان ایسے ہیں جن پر ان بچوں کی قربانی کے نتیجہ میں کوئی ایسا بار نہیں پڑے گا…… اب سال کا بہت تھوڑا حصہ باقی رہ گیا ہے اگر احمدی بچے اس پر پچاس ہزار روپے پیش کر دیں تو وہ دنیا میں ایک بہترین نمونہ قائم کرنے والے ہوں گے۔‘‘ (الفضل 12؍ اکتوبر 1966ئ)
جماعت احمدیہ کے بچوں اور بچیوں اطفال الاحمدیہ اور ناصرات الاحمدیہ نے اپنے پیارے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے جیب خرچ اور اپنی عیدی اپنے امام کے حضور پیش کر دی۔
چندہ اطفال کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ایک تو وہ عام بچے ہیں جو چھ روپے سالانہ یا اس سے کچھ زائد چندہ ادا کرتے ہیں۔ دوسرے وہ ننھے مجاہدین اور ننھی مجاہدات ہیں جو سالانہ ایک سو روپیہ یا اس سے زائد چندہ ادا کرتے ہیں۔
چندہ اطفال وقف جدید کی وصولی کا تمام کام خدام الاحمدیہ کے سپرد ہے اور ناصرات کا چندہ لجنہ اماء اللہ کے سپرد ہے اور سات سال سے کم عمر بچگان بھی لجنہ اماء اللہ کے ساتھ منسلک ہیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 12جنوری 2006ء کے خطبہ جمعہ میں بیرون پاکستان اطفال کو بھی چندہ وقف جدید میں شامل کرنے کا ارشاد فرمایا۔ (الفضل 6مارچ 2007ئ)
1958ء میں چندہ وقف جدید کی کل آمد 70ہزار روپے تھی جو 1965ء میں 1,24324روپے ہو گئی۔ 2007ء کے اختتام پر وقف جدید کا چندہ 24لاکھ 27ہزار پونڈ تھا۔اور چندہ دھندگان کی تعداد 5 لاکھ 10ہزار سے زائد ہو چکی تھی۔
وقف جدید کے ضمن میں ایک تحریک حضرت مصلح موعودؓ نے زرعی زمین وقف کرنے کے متعلق فرمائی تھی۔ آپ نے فرمایا
’’میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے معزز زمیندار کراچی سے پشاور تک اپنے اپنے گائوں کے ارد گرد دس ایکڑ زمین اس سکیم کے لئے وقف کر دیں گے۔ اس میں یہ واقفین کھیتی باڑی کریں گے۔ اور اس سے سکیم کو چلانے میں مدد دیں گے‘‘۔ (الفضل 7 جنوری 1958ئ)
چنانچہ خلافت ثانیہ میں 700؍ ایکڑ زمین اس سکیم کے تحت وقف ہوچکی تھی۔
دیگر خدمات
علاقہ نگر پارکر میں دعوت الی اللہ کا کام جاری ہے۔ یہ علاقہ صوبہ سندھ میں ہے اور بھارت کے بارڈر کے ساتھ نہایت حساس علاقہ ہے اور یہ علاقہ بہت ہی پسماندہ ہے وہاں زندگی کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں اب بھی لوگ گھاس پھونس کی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں اس علاقے کے اکثر لوگوں نے ریل گاڑی میں سفر کرنا تو درکنار ریل گاڑی دیکھی تک نہیں۔ پانی اور بجلی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اگر بارش ہو جائے تو ان لوگوں کی خوراک کا انتظام ہو جاتا ہے اور اگر بارش نہ ہو۔ تو یہ علاقہ قحط کا شکار ہو جاتا ہے ہے اور لوگ اس علاقہ کو چھوڑ کر بالائی سندھ چلے جاتے ہیں جہاں محنت مزدوری کرتے ہیں اس علاقہ میں ہندوئوں کی قدیم اور پسماندہ ذات کے لوگ آباد ہیں۔ جن کا پیشہ جانور پالنا وغیرہ ہے۔ اس قسم کے پسماندہ علاقہ میں وقف جدید کے معلمین جا کر کام کر رہے ہیں۔ ان معلمین کو بعض اوقات پینے کے لئے پانی کئی کئی میل سے لانا پڑتا ہے۔ وہاں معلمین نہایت اخلاص اور جانفشانی سے کام کر رہے ہیں اور خداتعالیٰ کے فضل سے انسانی کوششیں ثمر آور ہو رہی ہیں اور اس قوم میں بڑے اچھے پھل مل رہے ہیں۔
1962ء میں مکرم سعید احمد صاحب کمپوڈر کے ذریعہ مٹھی و نگر پارکر میں دعوت الی اللہ کے کام آغاز ہوا خداتعالیٰ کے فضل سے چند پھل بھی ملے۔ جس کا ذکر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے وقف جدید کے پانچویں سال نو کے پیغام میں فرمایا۔
’’مجھے بتایا گیا ہے کہ وقف جدید کے ماتحت اب اچھوت اقوام تک بھی دین حق کا پیغام پہچانے کا کام شروع کر دیا ہے اور اس کے امید افزا نتائج پیدا ہو رہے ہیں۔‘‘
1987ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے اس علاقہ کے لئے ایک نائب ناظم ارشاد برائے مٹھی کا تقرر فرمایا اور اب اس علاقہ کو تین بڑے سنٹروں میں تقسیم کرکے دعوت الی اللہ کا کام ہو رہا ہے۔ مٹھی، نگر پارکر اور دانوداندل اس کے علاوہ 30معلمین مختلف گوٹھوں میں کام کر رہے ہیں۔
اب تک ان لوگوں میں سے احمدی ہونے والے سات نو احمدی بطور معلم وقف جدید اور ایک مربی سلسلہ کام کر رہے ہیں اور تین طلباہ مدرسۃ الظفر میں زیر تعلیم ہیں ۔ اب تک ہزاروں افراد خداتعالیٰ کی توحید قبول کر چکے ہیں اور دو سو سے زائد دیہات سے احمدی احباب ہیں۔ معلمین اصلاح و ارشاد تعلیم و تربیت کا کام کرنے کے ساتھ ان ناخواندہ اور پسماندہ قوم کے بچوں کا تعلیم کا انتظام بھی کرتے ہیں اب ان کی تعلیم کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ ان بچوں کو باقاعدہ ایک بورڈنگ ہائوس میں رکھ کر ان کی تعلیم و تربیت کی جا رہی ہے۔ اس وقت احمدیہ بورڈنگ ہائوس میں 45طالب علم رہائش پذیر ہیں۔ بورڈنگ ہائوس مٹھی، نگرپارکر اور دانوداندل میں ہیں اس علاقہ میں بچوں کے لئے چار پرائمری سکول جاری کئے گئے ہیں جن میں 105 طالب علم تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ نگر پارکر میں بیت الذکر کے قریب چند خاندانوں کو آباد کیا گیا ہے تاکہ ان کی دینی رنگ میں تعلیم و تربیت کی جا سکے۔ جس کے بڑے حوصلہ افزا نتائج حاصل ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 8 بیوت الذکر قائم ہیں اور 3 سینٹرز میں ایم۔ ٹی۔ اے دکھانے کا انتظام ہے باقی سینٹروں میں کیسٹس کے ذریعے حضورایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ سنایا جاتا ہے۔
معلمین اس علاقہ میں اصلاح و ارشاد کے علاوہ طبی خدمات بھی سرانجام دیتے ہیں۔ جس سے ان لوگوں سے ایک تعلق قائم ہو جاتا ہے اور وہ غور سے معلمین کی باتیں سنتے ہیں اور متاثر ہوتے ہیں۔ اس علاقہ میں طبی ضروریات کے لئے ایک ڈسپنسری قائم ہے جہاں سے مفت اور برائے نام قیمت پر دوائی مہیا کی جاتی ہے۔ دور دراز کے علاقوںمیں طبی خدمت کے لئے ایک آٹو موبائل ڈسپنسری جاری کی ہوئی ہے جس سے اس علاقہ کی بہت خدمت کی جا رہی ہے اور اس علاقہ میں ایک بہت اچھا اثر ہو رہا ہے۔ اب تو مٹھی میں پچاس بستروں کا المہدی ہسپتال جدید سہولتوں سے آراستہ اس علاقہ کے لوگوں کی خدمت میں مصروف ہے۔ اس میں دو ڈاکٹرز اور ایک لیڈی ڈاکٹر کام کر رہے ہیں۔
اس علاقہ میں ہندو مہا جن بہت چھایاہوا ہے۔ وہ ان لوگوں کو ضروریات کے لئے قرض دیتا ہے اور یہ سو د در سود چڑھتا رہتا ہے اور ہر سال مہاجن آ کر ان کی تمام فصل اور مویشی بھی لے جاتا ہے۔ مگر قرض ختم نہیں ہوتا۔ وقف جدید نے اس طرف بھی خصوصی توجہ دی ہے کہ فصل کی کاشت کے موقعہ پر ان لوگوں کو بیج ادھار دیا جاتا ہے جس سے یہ بنئے کے قرض سے بچ جاتے ہیں فصل پک جانے کے بعد یہ رقم یا بیج واپس کر دیتے ہیں۔ جس سے ان لوگوں میں یہ احساس پیدا ہو رہے ہیں کہ اصل ہمدرد تو ہماری یہی جماعت ہے جو ہمارا مختلف طریقوں سے خیال رکھتی ہے۔
1986ء میں علاقے میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے شدید قحط سالی پیدا ہو گئی کیونکہ یہ لوگ بارش کا جمع کیا ہوا پانی پیتے ہیں اس لئے بارش نہ ہونے کی وجہ سے پینے کے پانی کی بھی قلت ہو گئی۔ یہ قحط اتنا شدید تھا بھوک کی وجہ سے مویشی موت کا شکار ہونے لگے اور بعض جگہ بھوک کی وجہ سے انسانی اموات کی اطلاع بھی موصول ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی منظوری سے اس علاقہ میں ہنگامی بنیادوں پر امداد کا کام شروع کیا گیا اور اس علاقہ میں ڈیڑھ لاکھ روپیہ کی گندم تقسیم کی گئی۔ جب قحط سالی شدت اختیار کر گئی اور بارش کا موسم گزر گیا تو لوگ اس علاقہ سے ہجرت کر جانے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ لوگ قافلوں کی صورت میں تھر سے باہر نکلے تو آگے سندھ میں جانے کے لئے انہوںنے نوکوٹ میں قیام کیا تو وہاں وقف جدید کی طرف سے ان کی خوراک کا انتظام کیا گیا تو اس سلسلے میں مقامی تنظیموں نے رکاوٹ ڈالی مگر جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ خود تو کچھ مدد نہیں کرتے اور دوسروں کو مدد کرنے سے روکتے ہیں تو وہ خود بخود جماعت کی طرف سے کئے گئے انتظام سے کھانا کھانے لگے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔
سندھ میں ہندوئوں کے علاقے میں تبلیغ کا کام ہوا۔ یہ بھی بہت مشکل کام تھا۔ یہ ہندو جو تھروںمیں وہاں کے رہنے والے تھے۔ وہاں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری کے لئے سندھ کے آباد علاقہ میں آیا کرتے تھے تو یہاں آ کر مسلمان زمینداروں کی بدسلوکی کی وجہ سے وہ اسلام کے نام سے بھی گھبراتے تھے۔ غربت بھی ان کی عروج پر تھی۔بڑی بڑی زمینیں تھیں، پانی نہیں تھا اس لئے کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ آمد نہیں تھی اور اسی غربت کی وجہ سے مسلمان زمیندار جن کے پاس یہ کام کرتے تھے انہیںتنگ کیا کرتے تھے اور ان سے بیگار بھی لیتے تھے۔ یا اتنی معمولی رقم دیتے تھے کہ وہ بیگار کے برابر ہی تھی۔ اسی طرح عیسائی مشنوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کے ساتھ یہ سلوک ہو رہا ہے تو ان کی غربت کا فائدہ اٹھا کر عیسائیوں نے بھی اِن کو امداد دینی شروع کی اور اس کے ساتھ تبلیغ کرکے، لالچ دے کر عیسائیت کی طرف ان ہندوئوں کو مائل کرنا شروع کیا تو یہ ایک بہت بڑا کام تھا جو اس زمانے میں وقف جدید نے کیا اور اب تک کر رہی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور بڑے سالوں کی کوششوں کے بعد اس علاقے میں احمدیت کا نفوذ ہونا شروع ہوا ۔…
ان سب مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ نے مد د فرمائی اور بڑا فضل فرمایا، تھر کے علاقے مِٹھّی اور نگر پارکر وغیرہ میں،آگے بھی جماعتیں قائم ہونا شروع ہوئیں، ماشاء اللہ اخلاص میں بھی بڑھیں، ان میں سے واقف زندگی بھی بنے او ر اپنے لوگوںمیں تبلیغ کرکے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو متعارف کروایا، اس کا پیغام پہنچاتے رہے۔ جب ربوہ میں جلسے ہوتے تھے تو جلسے پر یہ لوگ ربوہ آیا کرتے تھے۔ مَیںنے دیکھا ہے کہ انتہائی مخلص اور بڑے اخلاص و وفا میں ڈوبے ہوئے لوگ تھے۔ اب تو ماشاء اللہ ان لوگوں کی اگلی نسلیںبھی احمدیت کی گود میں پلی بڑھی ہیں اور اخلاص میں بڑھی ہوئی ہیں، بڑی مخلص ہیں۔ شروع زمانے میں وسائل کی کمی کی وجہ سے وقف جدید کے معلمین جنہوں نے میدان عمل میں کام کیا وہ بڑی تکلیف میں وقت گزارا کرتے تھے ۔ ان علاقوںمیں طبی امداد کی، میڈیکل ایڈ (Medical Aid)کی سہولتیں بھی نہیں تھیں۔ اس لئے اپنے لئے بھی اور وہاں کے رہنے والے لوگوں کے لئے بھی کچھ دوائیاں، ایلو پیتھی اور ہومیو پیتھی وغیرہ ساتھ رکھا کرتے تھے۔ اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں موبائل ڈسپنسری ہے، دیہاتوں میں جاتی ہے، میڈیکل کیمپ بھی لگتے ہیں۔ باقاعدہ کوالیفائڈ (Qualified)ڈاکٹر وہاں جاتے ہیں۔ اسی طرح جماعت نے مِٹھّی میں ایک بہت بڑا ہسپتال بنایا ہے۔ اس میں آنکھوں کا ایک وِنگ (Wing) بھی ہے۔ تو وقف جدید کی تحریک میں پاکستان کے احمدیوں نے اپنی تربیت اور تبلیغ کے لئے اُس زمانے میں بڑھ چڑھ کر قربانیاں پیش کیں اور اللہ کے فضل سے اب تک کر رہے ہیں اور کام میں بھی اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت وسعت پیدا ہو چکی ہے اور کام بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ جس طرح جماعت پر فضل فرما رہا ہے یہ تو بڑھتا ہی رہنا ہے۔ (الفضل 6مارچ 2007ئ)
ہومیو ڈسپنسری:
دفتر وقف جدید میں 1960ء سے ایک ہومیوپیتھی ڈسپنسری قائم ہے جہاں سے قریباً 200 افراد روزانہ دوائی حاصل کرتے ہیں اور معلمین اصلاح وا رشاد تعلیم و تربیت کے علاوہ طبی خدمات بھی سرانجام دیتے ہیں۔
وقف جدید ہندوستان
ہندوستان میں بھی وقف جدید نہایت اہم خدمات سرانجام د ے رہی ہے چنانچہ 1200کے قریب معلمین کام کر رہے ہیں اور ان کے ذریعہ لاکھوں افراد گزشتہ 4سال کی عالمی بیعتوں میں شامل ہو چکے ہیں۔ (الفضل 28مارچ 2006ئ)
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے 2007ء میں وقف جدید بھارت کو 5لاکھ چندہ دھندگان کا ٹارگٹ دیا ہے۔ (الفضل 6مارچ2007ئ)
ہندوستان میں 2005-06ء میں وقف جدید کے ذریعہ 186 اور 2006-07ء میں 154 نئی جماعتیں قائم ہوئیں ۔ (الفضل 4؍ اگست 2006ئ۔خطاب 28 جولائی 2007ئ)
وقف جدید کی کامیابی کا یقین دلاتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔
’’یہ کام خداتعالیٰ کا ہے اور ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ میرے دل میں چونکہ خداتعالیٰ نے یہ تحریک ڈالی ہے اس لئے خواہ مجھے اپنے مکان بیچنے پڑیں۔ میں اس فرض کو تب بھی پورا کروں گا۔ اگر جماعت کاایک فرد بھی میرا ساتھ نہ دے خداتعالیٰ ان لوگوں کو الگ کر دے گا۔ جو میرا ساتھ نہیں دے رہے اور میری مدد کے لئے فرشتے آسمان سے اتارے گا۔‘‘ (الفضل 7جنوری 1958ئ)
سنا رہے ہیں زمانے کو قرب حق کی نوید
درحبیب کے خدام، اہل وقف جدید
ہیں سربکف وہ چراغ، وفا کے پیمانے
کہ جن کے ہاتھوں میں سونپی گئی دلوں کی کلید
(عبدالسلام اختر۔ الفضل 31 مئی 2006ئ)


ذیلی تنظیموں کا قیام
حضرت مصلح موعودؓ ایک روحانی جماعت کے بلندپایہ موعود رہنما تھے اور اس جماعت نے صدیوں دنیا کی اصلاح اور قیادت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ اس لئے نسلاً بعد نسل الٰہی نور کو منتقل کرنے کی ضرورت کو حضور خوب سمجھتے تھے۔ پس آپ نے مرکزی نظام جماعت کو مستحکم بنیادوں پر قائم کرنے کے بعد جماعت میں ذیلی تنظیموں کی تحریکات فرمائیں اور جماعت کے ہر فرد کو ایک مضبوط لڑی میں پرو دیا۔
آپ نے نظام سلسلہ کی تشکیل کے وقت نہ صرف تاریخ عالم کا گہرا مطالعہ فرمایا بلکہ انسانی جسم کے نظام کا بھی مکمل مطالعہ کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے ہنگامی صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لئے بکثرت متبادل راستے تجویز کررکھے ہیں۔ مثلاً اگر ایک شریان بند ہو تو دوسری شریان نیا راستہ مہیا کرکے زندگی کو بچالیتی ہے۔ آپ نے لجنہ اماء اللہ (مع ناصرات الاحمدیہ)، مجلس خدام الاحمدیہ (مع اطفال الاحمدیہ) اور مجلس انصاراللہ کا قیام بڑی محنت اور توجہ سے فرمایا اور پروان چڑھایا اور نظام جماعت کے ساتھ ان کا رابطہ قائم کرتے ہوئے فرمایا:۔
اگر ایک طرف نظارتیں جو نظام کی قائم مقام ہیں عوام کو بیدار کرتی رہیں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصاراللہ اور لجنہ اماء اللہ جو عوام کے قائم مقام ہیں۔ نظام کو بیدار کرتے رہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کسی وقت جماعت کلی طور پر گر جائے اور اس کا قدم ترقی کی طرف اٹھنے سے رک جائے۔ جب بھی ایک غافل ہو گا دوسرا اسے جگانے کے لئے تیار ہوگا۔
’’… یاد رکھو اگر اصلاح جماعت کا سارا دارومدار نظارتوں پر ہی رہا تو جماعت احمدیہ کی زندگی کبھی لمبی نہیں ہوسکتی۔ یہ خدائی قانون ہے جو کبھی بدل نہیں سکتا کہ ایک حصہ سوئے گا اور ایک حصہ جاگے گا۔ ایک حصہ غافل ہوگا اور ایک حصہ ہوشیار ہوگا۔ خداتعالیٰ نے دنیا کو گول بنا کر فیصلہ کر دیا ہے کہ اس کے قانون میں یہ بات داخل ہے کہ دنیا کا ایک حصہ سوئے اور ایک حصہ جاگے … یہی نظام اور عوام کے کام کا تسلسل دنیا میں دکھائی دیتا ہے۔ (لفضل 17 نومبر 1943ئ)
حضور نے خدام، اطفال، انصار اور لجنہ کو نظام جماعت کی چاردیواری سے تشبیہ دی۔ خدام جوش و امنگ کی علامت ہیں۔ انصار حکمت اور تجربہ کے نقیب ہیں اور لجنہ سلیقہ اور استقلال کی نمائندہ ہے اور مسابقت کی دوڑ میں حصہ لے کر ان سب نے جو اثرات مرتب کئے میں ان کا ذکر کرتے ہوئے مجلس احرار کا ترجمان زمزم لکھتا ہے:۔
’’ایک ہم ہیں کہ ہماری کوئی بھی تنظیم نہیں اور ایک وہ ہیں کہ جن کی تنظیم در تنظیم کی تنظیمیں ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ آوارہ منتشر اور پریشان ہیں۔ ایک وہ ہیں کہ حلقہ در حلقہ محدود و محصور اور مضبوط اور منظم ہیں۔ ایک حلقہ احمدیت ہے۔ اس میں چھوٹا بڑا زن و مرد، بچہ بوڑھا۔ ہر احمدی مرکز ’’نبوت‘‘ پر مرکوز و مجتمع ہے۔ مگر تنظیم کی ضرورت اور برکات کا علم و احساس ملاحظہ ہو کہ اس جامع و مانع تنظیم پر بس نہیں۔ اس وسیع حلقہ کے اندر متعدد چھوٹے چھوٹے حلقے بنا کر ہر فرد کو اس طرح جکڑ دیا گیا ہے کہ ہل نہ سکے۔ عورتوں کی مستقل جماعت لجنہ اماء اللہ ہے۔ اس کا مستقل نظام ہے۔ سالانہ جلسہ کے موقعہ پر اس کا جداگانہ سالانہ جلسہ ہوتا ہے۔ خدام الاحمدیہ نوجوانوں کاجدا نظام ہے۔ پندرہ تا چالیس سال کے ہر فرد جماعت کا خدام الاحمدیہ میں شامل ہونا ضروری ہے۔
چالیس سال سے اوپر والوں کا مستقل ایک اور حلقہ ہے۔ انصاراللہ جس میں چوہدری سرمحمد ظفراللہ خانؓ تک شامل ہیں۔ میں ان واقعات اور حالات میں مسلمانوں سے صرف اس قدر دریافت کرتا ہوں کہ کیا ابھی تمہارے جاگنے اور اٹھنے اور منظم ہونے کا وقت نہیں آیا؟ تم نے ان متعدد مورچوں کے مقابلہ میں کوئی ایک بھی مورچہ لگایا؟ حریف نے عورتوں تک کو میدان جہاد میں لا کھڑا کیا … میرے نزدیک ہماری ذلت و رسوائی اور میدان کشاکش میں شکست و پسپائی کا ایک بہت بڑا سبب یہی غلط معیار شرافت ہے‘‘۔ (زمزم لاہور 23 جنوری 1945ء بحوالہ الفضل 18؍اپریل 1945ئ)
ان تینوں تنظیموں کے متعلق حضور کی تحریکات اور تدریجی مراحل درج ذیل ہیں:۔
لجنہ اماء اللہ کا قیام
سیدنا حضرت مسیح موعود ؑاور حضرت خلیفہ اولؓ کے زمانہ مبارک میں جو مجالس قائم ہوئیں وہ سب مردوں کی تھیں۔ مثلاً ’’اشاعت اسلام۔ صدرانجمن احمدیہ۔ تشحیذ الاذہان۔ مجلس احباب۔ مجمع الاخوان۔ مجلس ارشاد‘‘ وغیرہ۔ لیکن مستورات کی کوئی علمی و دینی اور تمدنی انجمن اس وقت تک موجود نہ تھی۔ لہٰذا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنی حرم دوم امۃ الحیؓ صاحبہ کی تحریک پر 25 دسمبر 1922ء کو لجنہ اماء اللہ کی بنیاد رکھی۔ جس کی پہلی سیکرٹری حضرت امۃ الحیؓ صاحبہ تھیں۔
جب اس تنظیم کا قیام عمل میں آیا تو لجنہ کی ممبرات نے حضرت اماں جان نصرت جہاں بیگم کی خدمت میں درخواست کی کہ اس کی صدارت قبول فرمائیں اور غالباً پہلا اجلاس آپ ہی کی صدارت میں ہوا تھا۔ لیکن آپ نے پہلے اجلاس ہی میں حضرت ام ناصرؓ کو اپنی جگہ بٹھا کر صدارت کے لئے نامزد فرما دیا۔
لجنہ اماء اللہ کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 15 دسمبر 1922ء کو اپنے قلم سے قادیان کی مستورات کے نام ایک 17 نکاتی مضمون رقم کیا۔ جس میں عورتوں کو دینی تعلیم و تربیت کے لئے ایک مجلس کے قیام کی ترغیب دی اور فرمایا کہ جو عورتیں اس سے متفق ہوں وہ مجھے اطلاع دیں۔
اس ابتدائی تحریک پر (جو محض رضاکارانہ رنگ کی تھی) قادیان کی تیرہ خواتین نے دستخط کئے۔
حضور کے فرمان پر 25 دسمبر 1922ء کو یہ دستخط کرنے والی خواتین حضرت اماں جان کے گھر میں جمع ہوئیں۔ حضور نے نماز ظہر کے بعد ایک مختصر تقریر فرمائی اور لجنہ کا قیام عمل میں آیا۔ اس تقریر میں حضور نے لجنات کے سپرد جلسہ مستوارت کا انتظام کرکے کئی مشورے دیئے اور نصائح فرمائیں۔
اس اجلاس اول کے بعد لجنہ اماء اللہ کے مفصل قواعد رسالہ تادیب النساء میں (جو قادیان سے حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ کی ادارت میں شائع ہوتا تھا) شائع کر دیئے گئے اور اس طرح باقاعدہ سرگرمیوں کا آغاز ہوا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے لجنہ کے اغراض و مقاصد جلد سے جلد پورا کرنے کے لئے اور احمدی مستورات کی اصلاح و تنظیم کرنے کے لئے سب سے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ لجنات کے ہفتہ وار اجلاس جاری کئے اور فروری اور مارچ 1923ء کے تین اجلاسوں میں نہایت جامعیت کے ساتھ دینی اور دنیاوی علوم کی تفصیلات بیان فرمائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حضور نے خدمت دین کا عملی جوش پیدا کرنے کے لئے تعمیر بیت برلن کی ذمہ داری بھی احمدی مستورات پر ڈالی اور اس کے لئے چندہ کی فراہمی کا کام ’’لجنہ اماء اللہ‘‘ کے سپرد فرمایا۔
دو سال بعد حضرت اقدس خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے خواتین میں دینی تعلیم عام کرنے کے لئے 17 مارچ 1925ء کو مدرسۃ الخواتین جاری فرمایا۔ جس میں حضرت مولوی شیر علیؓ صاحب، حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب، حضرت صوفی غلام محمد صاحب سابق مربی ماریشس اور دوسرے اصحاب کے علاوہ خود حضور تعلیم دیتے تھے۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب اس مدرسہ کے نگران تھے۔ اس مدرسہ نے خواتین کے علمی و تنظیمی خلاء کوپر کرنے میں بڑا کام کیا اور خواتین کے مرکزی اداروں اور درسگاہوں کے لئے معلمات اور کارکنات پیدا ہوگئیں۔
15 دسمبر 1926ء کو لجنہ اماء اللہ کی نگرانی میں ماہوار رسالہ ’’مصباح‘‘ جاری ہوا جس سے احمدی خواتین کی تربیت و تنظیم کو بہت تقویت پہنچی۔ ابتداء میں رسالہ کا انتظام مرد کرتے تھے مگر مئی 1947ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ارشاد پر اس کا پورا اہتمام مرکزی ’’لجنہ اماء اللہ‘‘ کوسونپ دیا گیا جس سے رسالہ کے علمی و دینی معیار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور اب یہ جماعت کی مستورات کے ترجمان کی حیثیت سے سلسلہ کی خدمت بجالارہا ہے۔
16 ستمبر 1927ء کو حضرت امۃ الحیؓ صاحبہ کی یاد میں ’’امۃ الحی لائبریری‘‘ کا افتتاح ہوا اور اس کی نگرانی حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ کو تفویض ہوئی۔ جنہوں نے اپنی پوری زندگی لجنہ کے کام کے لئے وقف رکھی۔ افتتاح پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ حضرت اماں جانؓ اور خاندان حضرت مسیح موعود ؑ کے دوسرے افراد نے کتابیں عنایت فرمائیں۔ یہ لائبریری حضرت خلیفہ ثانی کی اجازت خاص سے گول کمرہ میں قائم ہوئی۔ 1947ء کے بعد اس لائبریری کا احیاء جنوری 1960ء کو ربوہ میں ہوا۔
1930ء میں لجنہ کو مجلس شورٰی میں نمائندگی کا حق ملا۔ جولائی 1931ء میں تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہوا تو لجنہ نے اسے کامیاب بنانے کے لئے چندہ دیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے یکم اپریل 1938ء کو حکم دیا کہ جہاں جہاں لجنہ ابھی قائم نہیں ہوئی وہاں کی عورتیں اپنے ہاں لجنہ اماء اللہ قائم کریں اور وہ بھی اپنے آپ کو تحریک جدید کی والنٹیرز سمجھیں۔
ماہ اپریل 1944ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو الہام ہوا۔ اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کرلو تو اسلام کو ترقی حاصل ہوجائے گی۔ اس خدائی تحریک پر حضور لجنہ اماء اللہ کی تربیت و تنظیم کی طرف اور زیادہ گہری توجہ فرمانے لگے۔
1950ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تحریک وقف زندگی پر مستورات نے لبیک کہا۔ 1951ء میں لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کا دفتر بنا۔ 1955ء میں ان کے چندوں سے ہالینڈ کی بیت الذکر تعمیر ہوئی۔
لجنہ اماء اللہ کی تنظیم اپنی نوعیت اور ہیئت کے اعتبار سے ایک مثالی تنظیم ہے جس نے اپنی کارکردگی کا سکہ غیروں پر بھی بٹھا رکھا ہے۔
مولوی عبدالمجید صاحب قرشی ایڈیٹر اخبار تنظیم امرتسر نے لکھا:۔
’’لجنہ اماء اللہ قادیان احمدیہ خواتین کی انجمن کا نام ہے۔ اس انجمن کے ماتحت ہر جگہ عورتوں کی اصلاحی مجالس قائم کی گئی ہیں اور اس طرح پر وہ تحریک جو مردوں کی طرف سے اٹھتی ہے خواتین کی تائید سے کامیاب بنائی جاتی ہے اس انجمن نے تمام احمدیہ خواتین کو سلسلہ کے مقاصد کے ساتھ عملی طور پر وابستہ کر دیا ہے۔ عورتوں کا ایمان مردوں کی نسبت زیادہ مخلص اور مربوط ہوتا ہے۔ عورتیں مذہبی جوش کو مردوں کی نسبت زیادہ محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ لجنہ اماء اللہ کی جس قدر کارگزاریاں اخبارات میں چھپ رہی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ احمدیوں کی آئندہ نسلیں موجود ہ کی نسبت زیادہ مضبوط اور پُرجوش ہوں گی اور احمدی عورتیں اس چمن کو تازہ دم رکھیں گی جس کامرور زمانہ کے باعث اپنی قدرتی شادابی اور سرسبزی سے محروم ہونا لازمی تھا‘‘۔ (تاریخ احمدیت جلد4 ص310)
مجلس ناصرات الاحمدیہ کا قیام:
فروری 1939ء میں احمدی بچیوں کے لئے ’’مجلس ناصرات الاحمدیہ‘‘ کے نام سے ایک انجمن کا قیام عمل میں آیا جس کی صدر محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ، سیکرٹری صاحبزادی امۃ الرشید صاحبہ (بنت حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ) اور اسسٹنٹ سیکرٹری طاہرہ بیگم صاحبہ مقرر ہوئیں۔
(الفضل 5 جولائی 1939ئ)
مجلس ناصرات الاحمدیہ کا قیام صاحبزادی امۃ الرشید صا حبہ کی تحریک پر ہوا۔ چنانچہ صاحبزادی صاحبہ کا بیان ہے کہ:
’’جب میں دینیات کلاس میں پڑھتی تھی۔ میرے ذہن میں یہ تجویز آئی کہ جس طرح خواتین کی تعلیم و تربیت کے لئے لجنہ اماء اللہ قائم ہے۔ اسی طرح لڑکیوں کے لئے بھی کوئی مجلس ہونی چاہئے۔ چنانچہ مکرم و محترم ملک سیف الرحمن صاحب کی بیگم صاحبہ اور مکرم و محترم حافظ بشیرالدین صاحب کی بیگم صاحبہ اور اسی طرح اپنی کلاس کی بعض اور بہنوں سے اس خواہش کا اظہار کیا اور ہم سب نے مل کر لڑکیوں کی ایک انجمن بنائی جس کا نام حضرت اقدس کی منظوری سے ناصرات الاحمدیہ رکھا گیا۔
شروع میں تو اس کے اجلاس بھی ہمارے سکول میں ہی ہوتے رہے اور سکول کی طالبات ہی اس کی ممبر رہیں۔ لیکن میری شادی کے بعد جب میں سندھ چلی گئی تو اس مجلس کا انتظام لجنہ اماء اللہ نے سنبھال لیا اور اس کے زیر انتظام اس مجلس کے امور سرانجام پاتے رہے۔
یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ احمدی عورتوں کی عمومی تعلیم کا معیار بلند کرنے کے لئے حضور کی دیگر تحریکات کا ذکر کر دیا جائے۔
تعلیم نسواں کی تحریک:
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو آغاز خلافت ہی سے احمدی خواتین کی تعلیمی ترقی و بہبود کا خیال تھا۔ مجلس مشاورت 1928ء کے موقعہ پر حضور نے نمائندگان جماعت کے سامنے تعلیم نسواں کے لئے خاص تحریک کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
’’میرے نزدیک عورتوں کی تعلیم ایسا اہم سوال ہے کہ کم ازکم میں تو اس پر غور کرتے وقت حیران رہ جاتا ہوں ایک طرف اس بات کی اہمیت اتنی بڑھتی چلی جارہی ہے کہ دنیا میں جو تغیرات ہورہے ہیں یا آئندہ ہوں گے جن کی قرآن سے خبر معلوم ہوتی ہے ان کی وجہ سے وہ خیال مٹ رہا ہے جو عورت کے متعلق تھا کہ عورت شغل کے طورپر پیدا کی گئی ہے … دوسری طرف اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عورت کا میدان عمل مرد کے میدان سے بالکل علیحدہ ہے … پس ایک طرف عورتوں کی تعلیم کی اہمیت اور دوسری طرف یہ حالت کہ ان کا میدان عمل جداگانہ ہے یہ ایسے امور ہیں جن پر غور کرتے ہوئے نہایت احتیاط کی ضرورت ہے۔ ہمیں خداتعالیٰ نے دوسروں کا نقال نہیں بنایا بلکہ دنیا کے لئے راہنما بنایا ہے۔ ہمیں خداتعالیٰ نے اس لئے کھڑا کیا ہے کہ ہم دنیا کی راہنمائی کریں نہ یہ کہ دوسروں کی نقل کریں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم غور کریں عورتوں کو کیسی تعلیم کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر قدم پر سوچنا اور احتیاط سے کام لینا چاہئے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کچھ کرنا ہی نہیں چاہئے کرنا چاہئے اور ضرور کرنا چاہئے مگر غور اور فکر سے کام لینا چاہئے۔ اب تک ہماری طرف سے سستی ہوئی ہے ہمیں اب سے بہت پہلے غور کرنا چاہئے تھا اور اس کے لئے پروگرام تیار کرنا چاہئے تھا گو وہ پروگرام مکمل نہ ہوتا اور مکمل تو یکلخت قرآن شریف بھی نہیں ہو گیا تھا پس یکلخت تو قدم اوپر نہیں جاسکتا مگر قدم رکھنا ضرور چاہئے تھا۔ میں اس بات کی زیادہ ضرورت محسوس کرتا ہوں کہ پہلے اس بات پر غور ہونا چاہئے کہ عورتوں کو تعلیم کیسی دینی چاہئے مختلف زبانیں سکھانا تو ضروری بات ہے باقی امور میں ضروری نہیں کہ عورتوں کو اس رستے پر لے جائیں جس پر دوسرے لوگ لے جارہے ہیں۔ اعلیٰ تعلیم وہی نہیں جو یورپ دے رہا ہے مسلمانوں میں بھی اعلیٰ تعلیم تھی مسلمان عورتیں بھی پڑھتی پڑھاتی تھیں‘‘۔
’’عورتوں کی تعلیم کا جس قدر جلد سے جلد مکمل انتظام کیا جائے گا۔ اتنا ہی مفید ہوگا … تبلیغ کے لحاظ سے بھی عورتوں کی تعلیم نہایت ضروری ہے۔ ہندو اور عیسائی عورتیں تعلیم میں بہت بڑھ رہی ہیں۔ ہماری عورتیں تعلیم حاصل کرکے نہ صرف ان کے حملوں سے بچ سکتی ہیں بلکہ ان کو تبلیغ بھی کر سکتی ہیں‘‘۔
(تاریخ احمدیت جلد5 ص13)
عورتوں کے لئے اعلیٰ انگریزی تعلیم کا اجرائ:
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے یکم جولائی 1931ء کو قادیان میں ایف اے کلاس کا افتتاح فرمایا۔ اس موقع پر حضور نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ انگریزی تعلیم جاری رہے یہاں تک کہ گریجوایٹ خواتین کی اتنی کثیر تعداد پیدا ہوجائے کہ ہم سکول میں بھی زنانہ سٹاف رکھ سکیں اور کالج بھی قائم کرسکیں۔
اس تعلق میں حضور نے یہ بھی فرمایا کہ تربیت اولاد کے مسئلہ میں کامیابی کی فقط یہی ایک صورت ہے کہ چھوٹی عمرکے بچوں کے بورڈنگ بنا کر ان کا انتظام عورتوں کے سپرد کر دیا جائے تاکہ وہ ان میں بچپن میں ہی خاص اخلاق پیدا کریں اور پھر وہ بچے بڑے ہو کر دوسروں کے اخلاق کو اپنے اخلاق کے سانچے میں ڈھالیں۔ اگر ہم ایسے ہومز (گھر) قائم کرسکیں تو اس کے ذریعہ سے اعلیٰ اخلاق پیدا کئے جاسکتے ہیں اور ایسی تربیت ہو سکتی ہے جو ہماری جماعت کو دوسروں سے بالکل ممتاز کر دے۔ مگر یہ بات کبھی حاصل نہیں ہوسکتی جب تک کافی تعداد میں تعلیم یافتہ عورتیں نہ ہوں۔
(تاریخ احمدیت جلد5 ص313)
مجلس خدام الاحمدیہ کا قیام
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اللہ تعالیٰ کی مشیت خاص کے ماتحت عالمگیر غلبۂ حق کے لئے جن عظیم الشان تحریکات کی بنیاد رکھی ان میں سے نہایت شاندار نہایت اہم اور مستقبل کے اعتبار سے نہایت دوررس نتائج کی حامل تحریک مجلس خدام الاحمدیہ ہے جس کا قیام 1938ء کے آغاز میں ہوا۔
حضور کو اپنے عہد خلافت کی ابتداء ہی سے احمدی نوجوانوں کی تنظیم و تربیت کی طرف ہمیشہ توجہ رہی کیونکہ قیامت تک اعلائے کلمۃ اللہ اور غلبۂ احمدیت کے لئے ضروری تھا کہ ہر نسل پہلی نسل کی پوری قائم مقام ہو اور جانی اورمالی قربانیوں میں پہلوں کے نقش قدم پر چلنے والی ہو اور ہر زمانے میں جماعت احمدیہ کے نوجوانوں کی تربیت اس طور پر ہوتی رہے کہ وہ احمدیت کا جھنڈا بلند رکھیں۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اس مقصد کی تکمیل کے لئے وقتاً فوقتاً مختلف انجمنیں قائم فرمائیں مگر ان سب تحریکوں کی جملہ خصوصیات مکمل طور پر مجلس خدام الاحمدیہ کی صورت میں جلوہ گر ہوئیں اور حضرت مصلح موعودؓ کی براہ راست قیادت غیر معمولی توجہ اور حیرت انگیز قوت قدسی کی بدولت مجلس خدام الاحمدیہ میں تربیت پانے کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کو ایسے مخلص اور ایثار پیشہ اور دردمند دل رکھنے والے اور انتظامی قابلیتیں اور صلاحیتیں رکھنے والے مدبر دماغ میسر آگئے جنہوں نے آگے چل کر سلسلہ احمدیہ کی عظیم ذمہ داریوں کا بوجھ نہایت خوش اسلوبی اور کامیابی سے اپنے کندھوں پر اٹھایا اور آئندہ بھی ہم خداتعالیٰ سے یہی امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر نسل میں ایسے لوگ پیدا کرتا چلا جائے گا۔ انشاء اللہ العزیز
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس مجلس کی بنیاد رکھتے ہوئے پیشگوئی فرمائی تھی کہ
’’میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری طرف سے (دشمن کے) ان حملوں کا کیاجواب دیا جائے گا۔ ایک ایک چیز کا اجمالی علم میرے ذہن میں موجود ہے اور اسی کا ایک حصہ خدام الاحمدیہ ہیں اور درحقیقت یہ روحانی ٹریننگ اور روحانی تعلیم و تربیت ہے … بیشک وہ لوگ جو ان باتوں سے واقف نہیں وہ میری ان باتوں کو سمجھ سکتے کیونکہ ہر شخص قبل از وقت ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی دین ہے جو وہ اپنے کسی بندے (کو) دیتا ہے … آج نوجوانوں کی ٹریننگ کا زمانہ ہے اور ان کی تربیت کا زمانہ ہے اور ٹریننگ کا زمانہ خاموشی کا زمانہ ہوتا ہے۔ لوگ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ کچھ نہیں ہورہا۔ مگر جب قوم تربیت پا کر عمل کے میدان میں نکل کھڑی ہوتی ہے تو دنیا انجام دیکھنے لگ جاتی ہے۔ درحقیقت ایک ایسی زندہ قوم جو ایک ہاتھ کے اٹھنے پر اٹھے اور ایک ہاتھ کے گرنے پر بیٹھ جائے دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کر دیا کرتی ہے‘‘۔ (الفضل 7؍اپریل 1939ئ)
خدام الاحمدیہ کے قیام کی بنیادی غرض:
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مجلس خدام الاحمدیہ کی تاسیس کے زمانہ میں واضح لفظوں میں اس کی غرض و غایت یہ بیان فرما دی تھی:۔
’’میری غرض اس مجلس کے قیام سے یہ ہے کہ جو تعلیم ہمارے دلوں میں دفن ہے اسے ہوا نہ لگ جائے بلکہ وہ اسی طرح نسلاً بعد نسلٍ دلوں میں دفن ہوتی چلی جائے۔ آج وہ ہمارے دلوں میں دفن ہے تو کل وہ ہماری اولادوں کے دلوں میں دفن ہو اور پرسوں ان کی اولادوں کے دلوں میں۔ یہاں تک کہ یہ تعلیم ہم سے وابستہ ہو جائے۔ ہمارے دلوں کے ساتھ چمٹ جائے اور ایسی صورت اختیار کرے جو دنیا کے لئے مفید اور بابرکت ہو۔ اگر ایک یا دو نسلوں تک یہ تعلیم محدود رہی تو کبھی ایسا پختہ رنگ نہ دے گی جس کی اس سے توقع کی جاتی ہے۔ (الفضل 17 فروری 1939ئ)
مختصر تاریخ:
مجلس خدام الاحمدیہ کے قیام کی مختصر تاریخ یہ ہے کہ 31 جنوری 1938ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خصوصی اجازت اور شیخ محبوب عالم صاحب ایم اے کی دعوت پر قادیان کے مندرجہ ذیل دس نوجوان ان کے مکان (متصل بورڈنگ مدرسہ احمدیہ) پر جمع ہوئے۔
1۔مولوی قمرالدین صاحب۔ 2۔حافظ بشیراحمد صاحب۔ 3۔مولانا ظہور حسین صاحب۔ 4۔مولوی غلام احمد صاحب فرخ۔ 5۔مولوی محمد صدیق صاحب۔ 6۔سید احمد علی شاہ صاحب۔ 7۔حافظ قدرت اللہ صاحب۔ 8 مولوی محمد یوسف صاحب۔ 9۔ مولوی محمد احمد صاحب جلیل۔ 10۔چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر
ان احباب نے صدارت کے لئے مولوی قمرالدین صاحب کا اور سیکرٹری کے لئے شیخ محبوب عالم صاحب خالد کا انتخاب کیا۔ ان نوجوانوں نے خداتعالیٰ کے فضل و نصرت پر بھروسہ رکھتے ہوئے تائید خلافت میں کوشاں رہنے اور اس کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنہ کے خلاف سینہ سپر ہونے کا عزم کیا۔
اس مجلس کی بنیاد چونکہ حضرت مصلح موعودؓ کی اجازت سے رکھی جارہی تھی۔ اس لئے حضور ہی سے اس کا نام رکھنے کی درخواست کی گئی۔ حضور نے 4 فروری 1938ء کو اس تنظیم کو ’’مجلس خدام الاحمدیہ‘‘ کے نام سے موسوم فرمایا اور فروری اور مارچ میں قادیان کے مختلف حلقوں میں اس کی شاخیں قائم کر دی گئیں۔ اس دوران میں مجلس کا کام یہ تھا کہ اس کے ارکان قرآن و حدیث، تاریخ، فقہ اور احمدیت و اسلام کے متعلق کتب دینیہ کا مطالعہ کرتے اور مخالف احمدیت و خلافت فتنوں کے جواب میں تحقیق و تدقیق کرتے۔ ان دنوں شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کا فتنہ برپا تھا۔ چنانچہ مجلس نے یکے بعد دیگرے دو ٹریکٹ شیخ مصری صاحب کے اشتہاروں کے رد میں لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ پہلا ٹریکٹ ’’شیخ مصری صاحب کا صحیح طریق فیصلہ سے فرار‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ دوسرے کا عنوان ’’روحانی خلفاء کبھی معزول نہیں ہوسکتے‘‘ تھا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ارکان مجلس کی ان ابتدائی علمی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’اگر دوست چاہتے ہیں کہ وہ تحریک جدید کو کامیاب بنائیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح ہر جگہ لجنات اماء اللہ قائم ہیں اسی طرح ہر جگہ نوجوانوں کی انجمنیں قائم کریں۔ قادیان میں بعض نوجوانوں کے دل میں اس قسم کا خیال پیدا ہوا تو انہوں نے مجھ سے اجازت حاصل کرتے ہوئے ایک مجلس خدام الاحمدیہ کے نام سے قائم کردی ہے … میں نے خاص طور پر انہیں یہ ہدایت دی ہے کہ جن لوگوں کی شخصیتیں نمایاں ہوچکی ہیں ان کو اپنے اندر شامل نہ کیا جائے تاانہیں خود کام کرنے کا موقع ملے ہاں دوسرے درجہ یا تیسرے درجہ کے لوگوں کو شامل کیا جاسکتا ہے تا انہیں خود کام کرنے کی مشق ہو اور قومی کاموں کو سمجھ سکیں اور انہیں سنبھال سکیں۔ چنانچہ میں نے دیکھا ہے کہ اس وقت تک انہوں نے جوکام کیا ہے اچھا کیا ہے اور محنت سے کیا ہے … شروع میں وہ بہت گھبرائے انہوں نے ادھر ادھر سے کتابیں لیں اور پڑھیں اور لوگوں سے دریافت کیا کہ فلاں بات کا کیا جواب دیں۔ مضمون لکھے اور بار بار کاٹے مگر جب مضمون تیار ہو گئے اور انہوں نے شائع کئے تو وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے تھے‘‘۔
(الفضل 10؍اپریل 1938ئ)
اپریل 1938ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مسلسل خطبات کے ذریعہ قادیان اور باہر کی جماعتوں میں اس مجلس کے قیام کا ارشاد فرمایا۔ قبل ازیں مجلس کاکام صرف علمی حد تک تھا۔ مگر اب اس کاپروگرام مندرجہ ذیل تجویز ہوا۔
1۔اپنے ہاتھ سے روزانہ اجتماعی صورت میں آدھ گھنٹہ کام کرنا۔
2۔درس و تدریس
3۔تلقین پابندی نماز
4۔ بیوگان، معذوروں اور مریضوں کی خبرگیری
5۔تکفین و تدفین اور تقاریب میں امداد وغیرہ
اس بنیادی پروگرام کے ساتھ ساتھ حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کے نوجوانوں کو انسداد آوارہ گردی اور فریضہ دعوت الی اللہ کی ادائیگی کی طرف بھی متوجہ فرمایا۔
ان ابتدائی مراحل سے گزرنے کے بعد بالآخر خدام الاحمدیہ کا مستقل لائحہ عمل حسب ذیل قرار پایا اور اسی کے مطابق مجلس کاکام بھی مختلف شعبوں میں تقسیم کیا گیا۔
1۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں کی تنظیم
2۔سلسلہ عالیہ احمدیہ کے نوجوانوں میں قومی روح اور ایثار پیدا کرنا
3۔دینی تعلیم کی ترویج و اشاعت
4۔نوجوانوں میں ہاتھ سے کام کرنے اور صاف ماحول میں رہنے کی عادت پیدا کرنا
5۔نوجوانوں میں مستقل مزاجی پیدا کرنے کی کوشش کرنا
6۔نوجوانوں کی ذہانت کو تیز کرنا
7۔نوجوانوں کو قومی بوجھ اٹھانے کے قابل بنانے کے لئے ان کی ورزش جسمانی کا اہتمام
8۔نوجوانوں کو دینی اخلاق میں رنگین کرنا (مثلاً سچ، دیانت اور پابندی نماز وغیرہ)
9۔قوم کے بچوں کی اس رنگ میں تربیت اور نگرانی کہ ان کی آئندہ زندگیاں قوم کے لئے مفید ثابت ہوسکیں۔
10۔نوجوانوں کو سلسلہ کے کاموں میں زیادہ سے زیادہ دلچسپی لینے کی ترغیب و تحریص۔
11۔نوجوانوں میں خدمت خلق کا جذبہ
12۔نوجوانان سلسلہ کی بہتری کے لئے حتی الوسع ہر مفید بات کو جامۂ عمل پہنانا۔
مجلس خدام الاحمدیہ 70 سال گزرنے کے بعد دینی خدمت کے جوش و ولولہ سے بھرے ہوئے نوجوانوں کی عالمی تنظیم ہے جس کا ایک بھرپور اور جامع دستور اور لائحہ عمل ہے۔ یہ تنظیم جماعت احمدیہ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے جس کا ماٹو ہے۔
’’قوموں کی اصلاح نوجوانوں کی اصلاح کے بغیر نہیں ہوسکتی‘‘ اور
’’تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں‘‘
اس تنظیم کی تربیت خلفاء سلسلہ کے مقدس ہاتھوں سے ہوئی ہے اور خود حضرت مصلح موعودؓ اور پھر خلیفۃ المسیح الثالثؒ اور خلیفۃ المسیح الرابعؒ خلافت سے قبل اس کے صدر رہے ہیں۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے بھی کلیدی خدمات سرانجام دی ہیں۔
اس مجلس کے تمام اخراجات اس کے ممبران کے چندوں سے سرانجام پاتے ہیں اور اس کی خدمات کے غیر بھی معترف ہیں۔
مجلس اطفال الاحمدیہ:
26 جولائی 1940ء کو حضور نے مجلس اطفال الاحمدیہ کے قیام کا اعلان فرمایا یہ تنظیم مجلس خدام الاحمدیہ کے زیر نگرانی بہترین تربیتی اور تعلیمی خدمات سرانجام دے رہی ہے۔
مجلس انصاراللہ کا قیام
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی تحریک اور راہنمائی میں دسمبر 1922ء سے عورتوں کی تربیت کے لئے لجنہ اماء اللہ اور جنوری 1938ء سے نوجوانوں کی تربیت کے لئے مجلس خدام الاحمدیہ کی تنظیمیں قائم تھیں اور بہت جوش و خروش سے اپنی تربیتی ذمہ داریاں ادا کررہی تھیں اور ان کی وجہ سے جماعت میں خدمت دین کا ایک خاص ماحول پیدا ہوچکا تھا۔ مگر ایک تیسرا طبقہ ابھی ایسا باقی تھا جو اپنی پختہ کاری، لمبے تجربہ اور فراست کے اعتبار سے اگرچہ سلسلہ احمدیہ کی بہترین خدمات بجالارہا تھا مگر کسی مستقل تنظیم سے وابستہ نہ ہونے کے باعث قوم کی اجتماعی تربیت میں پورا حصہ نہیں لے سکتا تھا۔ حالانکہ اپنی عمر اور اپنے تجربہ کے لحاظ سے قومی تربیت کی ذمہ داری براہ راست اسی طبقہ پر پڑتی تھی۔ علاوہ ازیں خدام الاحمدیہ کے نوجوانوں کے اندر خدمت دین کے جوش کا تسلسل قائم رکھنے کے لئے بھی ضروری تھا کہ جب جوانی کے زمانہ کی دینی ٹریننگ کا دور ختم ہو اور وہ عمر کے آخری حصہ میں داخل ہوں تو وہ دوبارہ ایک تنظیم ہی کے تحت اپنی زندگی کے بقیہ ایام گزاریں اور زندگی کے آخری سانس تک دین کی نصرت و تائید کے لئے سرگرم عمل رہیں۔
چنانچہ حضور نے 26 جولائی 1940ء کو چالیس سال سے اوپر کے احمدیوں کی ایک مستقل تنظیم کی بنیاد رکھی، جس کانام ’’مجلس انصاراللہ‘‘ تجویز فرمایا اور آغاز میں قادیان میں رہنے والے اس عمر کے تمام احمدیوں کی شمولیت اس میں لازمی اور ضروری قرار دی۔ انصاراللہ کی تنظیم کا عارضی پریذیڈنٹ مولوی شیر علی صاحب کو نامزد فرمایا۔
اس موقعہ پر حضور نے مجلس انصاراللہ کی نسبت بعض بنیادی ہدایات بھی دیں۔ حضور نے فرمایا:۔
’’چالیس سال سے اوپر عمر والے جس قدر آدمی ہیں وہ انصاراللہ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائیں اور قادیان کے وہ تمام لوگ جو چالیس سال سے اوپر ہیں اس میں شریک ہوں۔ ان کے لئے بھی لازمی ہوگا کہ وہ روزانہ آدھ گھنٹہ خدمت دین کے لئے وقف کریں۔ اگر مناسب سمجھا گیا تو بعض لوگوں سے روزانہ آدھ گھنٹہ لینے کی بجائے مہینہ میں 3 دن یاکم و بیش اکٹھے بھی لئے جاسکتے ہیں۔ مگر بہرحال تمام بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کا بغیر کسی استثناء کے قادیان میں منظم ہوجانا لازمی ہے۔ … تین سیکرٹری میں نے اس لئے مقرر کئے ہیں کہ مختلف محلوں میں کام کرنے کے لئے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے ان کو فوراً قادیان کے مختلف حصوں میں اپنے آدمی بٹھا دینے چاہئیں اور چالیس سال سے اوپر عمر رکھنے والے تمام لوگوں کو اپنے اندر شامل کرنا چاہئے۔ یہ بھی دیکھ لینا چاہئے کہ لوگوں کو کس قسم کے کام میں سہولت ہوسکتی ہے اور جو شخص جس کام کے لئے موزوں ہو اس کے لئے اس سے نصف گھنٹہ روزانہ کام لیا جائے۔ یہ نصف گھنٹہ کم سے کم وقت ہے اور ضرورت پر اس سے بھی زیادہ وقت لیا جاسکتا ہے میرا ان دونوں مجلسوں سے ایسا ہی تعلق ہوگا جیسا مربی کا تعلق ہوتا ہے اور ان کے کام کی آخری نگرانی میرے ذمہ ہوگی یا جو بھی خلیفہ وقت ہو۔ میرا اختیار ہوگا کہ جب بھی مناسب سمجھوں ان دونوں مجلسوں کا اجلاس اپنی صدارت میں بلا لوں اور اپنی موجودگی میں ان کو اپنا اجلاس منعقد کرنے کے لئے کہوں۔
یہ اعلان پہلے صرف قادیان والوں کے لئے ہے اس لئے ان کو میں پھر متنبہ کرتا ہوں کہ کوئی فرد اپنی مرضی سے ان مجالس سے باہر نہیں رہ سکتا۔ سوائے اس کے جو اپنی مرضی سے ہمیں چھوڑ کر الگ ہو جانا چاہتا ہو۔ ہر شخص کو حکماً اس تنظیم میں شامل ہونا پڑے گا اور اس تنظیم کے ذریعہ علاوہ اور کاموں کے اس امر کی بھی نگرانی رکھی جائے گی کہ کوئی شخص ایسا نہ رہے جو مسجد میں نماز باجماعت پڑھنے کا پابند نہ ہو۔ سوائے ان زمینداروں کے جنہیں کھیتوں میں کام کرناپڑتا ہے۔ یا سوائے ان مزدوروں کے جنہیں کام کے لئے باہر جانا پڑتا ہے۔ گو ایسے لوگوں کے لئے بھی میرے نزدیک کوئی نہ کوئی ایسا انتظام ضرور ہونا چاہئے جس کے ماتحت وہ اپنی قریب ترین مسجد میںنماز باجماعت پڑھ سکیں۔ اس کے ساتھ ہی میں بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کی مجالس تو اکثر جگہ قائم ہی ہیں۔ اب انہیں ہر جگہ چالیس سال سے زائد عمر والوں کے لئے مجالس انصاراللہ قائم کرنی چاہئیں۔ ان مجالس کے وہی قواعد ہوں گے جو قادیان میں مجلس انصاراللہ کے قواعد ہوں گے۔ مگر سردست باہر کی جماعتوں میں داخلہ فرض کے طور پر نہیں ہوگا بلکہ ان مجالس میں شامل ہونا ان کی مرضی پر موقوف ہو گا۔ لیکن جو پریذیڈنٹ یا امیر یا سیکرٹری ہیں ان کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ کسی نہ کسی مجلس میں شامل ہوں۔ کوئی امیر نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصاراللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔ کوئی پریذیڈنٹ نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصاراللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو اور کوئی سیکرٹری نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی عمر کے لحاظ سے انصاراللہ یا خدام الاحمدیہ کا ممبر نہ ہو۔ اگر اس کی عمر پندرہ سال سے اوپر اور چالیس سال سے کم ہے تو اس کے لئے خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا اور اگر وہ چالیس سال سے اوپر ہے تو اس کے لئے انصاراللہ کا ممبر ہونا ضروری ہوگا۔ اس طرح ڈیڑھ سال تک دیکھنے کے بعد خدا نے چاہا تو آہستہ آہستہ باہر بھی ان مجالس میں شامل ہونا لازمی کر دیا جائے گا۔
(الفضل یکم اگست 1940ئ)
مجلس انصاراللہ کی تنظیم بھی اب عالمگیر شکل اختیار کر چکی ہے اور تمام دنیا میں احمدیت اور انسانیت کی خاطر قابل رشک خدمات سرانجام دے رہی ہے۔
ذیلی تنظیموں کا ملک وار صدارتی نظام
1989ء تک تمام تنظیمیں ساری دنیا میں مرکز سلسلہ ربوہ کی راہنمائی میں کام کرتی تھیں اور مرکزی طور پر ان کے صدران حضرت خلیفۃ المسیح کی طرف سے مقرر کئے جاتے تھے۔ 3 نومبر 1989ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے ذیلی تنظیموں کے نظام میں تبدیلی کرتے ہوئے ہر ملک میں الگ الگ صدارت کے قیام کا اعلان فرمایا۔
خدمت خلق سے متعلق تحریکات
جماعت احمدیہ کے پروگراموں میں خدمت خلق کا نہایت بلندمقام ہے۔ اس لئے حضرت مصلح موعودؓ بار بار مخلوق کی بے لوث خدمت کی تلقین کرتے رہے مگر اس کا ایک نمایاں موڑ اس وقت آیا جب آپ نے 1938ء میں احمدی نوجوانوں کی تنظیم خدام الاحمدیہ قائم کی اور ان کے دلوں میں یہ بات راسخ کی کہ تم انسانیت کی خدمت کے لئے پیدا کئے گئے ہو اور یہ خدمت روحانی امور سے بھی تعلق رکھتی ہے اور عام جسمانی اور مادی معاملات سے بھی۔
اس تنظیم کے لائحہ عمل میں آپ نے خدمت خلق اور اس کی ذیل میں وقار عمل کا شعبہ قائم کیا جو ایک منظم طور پر ساتھ بے لوث اجتماعی خدمت کا منفرد ادارہ ہے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے خطبہ جمعہ 17 فروری 1939ء میں فرمایا:
’’خدام الاحمدیہ کے اساسی اصول میں خدمت خلق بھی شامل ہے‘‘۔ (الفضل 15 مارچ 1939ئ)
خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1942ء میں فرمایا:۔
’’ہماری جماعت کے خدام الاحمدیہ دوسری تمام اقوام کے نوجوانوں سے زیادہ نمایاں حصہ خدمت خلق میں لیں‘‘۔ (الفضل 17 ستمبر 1942ئ)
چنانچہ حضور کے خطبات کی روشنی میں مجلس خدام الاحمدیہ کا جو ابتدائی پروگرام مرتب ہوا اس میں یہ امور بھی شامل تھے۔
خدمت خلق کے کام کرنا۔ خدمت خلق میں یہ ضروری نہیں کہ صرف مسلمان غریبوں، مسکینوں یا بیواؤں کی خبرگیری کی جائے۔ بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی یا کسی اور مذہب کا پیرو کسی دکھ میں مبتلا ہے تو اس دکھ کو دور کرنے میں حصہ لیا جائے۔ کہیں جلسے ہوں تو اپنے آپ کو خدمت کے لئے پیش کیا جائے اور اس طرح اپنی زندگی کو کارآمد بنایا جائے۔
ہر ممبر کے لئے ضروری ہوگا کہ کم ازکم نصف گھنٹہ روزانہ مجلس کے مقرر کردہ پروگرام کے مطابق خدمت خلق کے لئے وقف کرے۔ سارے ممبر ایک جگہ جمع ہو کرکام کریں۔ اگر مجلس کو ضرورت پیش آئے توہر ممبر کم ازکم دس دن سال میں اکٹھے وقف کرے۔
ہاتھ کے کام میں سڑکوں کی صفائی، بوجھ اٹھانا، سٹیشنوں پر پانی پلانا، محتاجوں کا سامان اٹھانا، تکفین و تدفین میں مددوغیرہ شامل ہیں۔ (تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد1 ص16,15)
اس لحاظ سے خدام الاحمدیہ کے ذریعہ ہونے والی خدمت خلق تاریخ احمدیت کا زریں باب ہے۔ نیز یہی پہلو جماعت کی مرکزی اور دیگر ذیلی تنظیموں کے نصب العین کا مرکزی حصہ ہے۔
ذیل میں خلافت ثانیہ کی خدمت خلق کے حوالے سے چند اہم تحریکات درج ہیں۔
انفلوئنزا کی عالمگیر وبا میں خدمت کی تحریک
1918ء میں جنگ عظیم کا ایک نتیجہ انفلوئنزا کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس وبا نے گویا ساری دنیا میں اس تباہی سے زیادہ تباہی پھیلادی۔ جو میدان جنگ میں پھیلائی تھی۔ ہندوستان پر بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا۔ اگرچہ شروع میں اموات کی شرح کم تھی۔ لیکن تھوڑے ہی دنوں میں بہت بڑھ گئی اور ہر طرف ایک تہلکہ عظیم برپا ہوگیا۔ ان ایام میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے شاندار خدمات انجام دیں اور مذہب و ملت کی تمیز کے بغیر ہر قوم اور ہر طبقہ کے لوگوں کی تیمارداری اور علاج معالجہ میں نمایاں حصہ لیا۔ احمدی ڈاکٹروں اور احمدی طبیبوں نے اپنی آنریری خدمات پیش کرکے نہ صرف قادیان میں مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کیا بلکہ شہر شہر اور گاؤں گاؤں پھر کر طبی امداد بہم پہنچائی اور تمام رضاکاروں نے نرسنگ وغیرہ کی خدمت انجام دی اور غربا کی امداد کے لئے جماعت کی طرف سے روپیہ اور خورو نوش کا سامان بھی تقسیم کیا گیا ان ایام میں احمدی والینٹیئر (جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بھی شامل تھے) صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کرکے دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے اور بعض صورتوں میں جب کام کرنے والے خود بھی بیمار ہوگئے اور نئے کام کرنے والے میسر نہیں آئے بیمار رضاکار ہی دوسرے بیماروں کی خدمت انجام دیتے رہے اور جب تک یہ رضاکار بالکل نڈھال ہو کر صاحب فراش نہ ہوگئے۔ انہوں نے اپنے آرام اور اپنے علاج پر دوسروں کے آرام اور دوسروں کے علاج کو مقدم کیا۔ یہ ایسا کام تھا کہ دوست دشمن سب نے جماعت احمدیہ کی بے لوث خدمت کا اقرار کیا اور تقریر و تحریر دونوں میں تسلیم کیا کہ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے بڑی تندہی و جانفشانی سے کام کرکے بہت اچھا نمونہ قائم کردیا ہے۔
(سلسلہ احمدیہ ص358)
لاوارث عورتوں اور بچوں کی خبرگیری کے لئے تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جولائی 1927ء میں آریوں کے ایک خطرناک منصوبہ کا انکشاف کرتے ہوئے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ شدھی کا زور جب سے شروع ہواہے ہندو صاحبان کی طرف سے مختلف سٹیشنوں پر آدمی مقرر ہیں جو عورتوں اور بچوں کو جو کسی بدقسمتی کی وجہ سے علیحدہ سفر کررہے ہوں بہکا کر لے جاتے ہیں اور انہیں شدھ کرلیتے ہیں اس سلسلہ میں حضور نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ ہر بڑے شہر میں لاوارث عورتوں اور بچوں کے لئے ایک جگہ مقرر ہونی چاہئے جہاں وہ رکھے جائیں نیز دہلی والوں کو اس کے انتظام کی طرف خاص توجہ دلائی اور فرمایا:
’’یاد رکھنا چاہئے کہ قطرہ قطرہ سے دریا بن جاتا ہے۔ ایک ایک آدمی نکلنا شروع ہو تو بھی کچھ عرصہ میں ہزاروں تک تعداد پہنچ جاتی ہے اور ان کی نسلوں کومد نظر رکھا جائے تو لاکھوں کروڑوں کا نقصان نظر آتا ہے پس اس نقصان کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے‘‘۔ (الفضل 19 جولائی 1927ء ص2,1)
چنانچہ انجمن محافظ اوقاف دہلی نے یہ اہم فرض اپنے ذمہ لیا اور اس کے لئے پانچ معزز ارکان کی کمیٹی قائم کردی۔
قادیان میں یوم سرحد
صوبہ سرحد کے سرخ پوش مسلمانوں پر حکومت کی سخت گیرپالیسی اور تشدد نے ایک قیامت سی بپا کردی تھی اس ظلم و ستم کے خلاف احتجاج کے طور پر (آل انڈیا مسلم کانفرنس دہلی کے فیصلہ کے مطابق) 5 فروری 1932ء کو ملک کے دوسرے شہروں کی طرح قادیان میں بھی یوم سرحد کے سلسلہ میں ایک عام جلسہ منعقد کیا گیا اور مصیبت زدگان سے ہمدردی کا اظہار کرنے اور حکومت سے اس کا ازالہ کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر پاس کی گئی۔ (الفضل 11 فروری 1932ئ)
جلسہ سے قبل سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے بھی خطبہ جمعہ میں مظالم سرحد کا ذکر کیا اور ارشاد فرمایا کہ ’’صوبہ سرحد میں معلوم ہوا کہ بعض افسروں نے بہت زیادتیاں کی ہیں … ہمارے خیال کے مطابق سرخ پوش تحریک جائز نہیں مگر پھر بھی وہاں کے مظلوموں کے ساتھ ہمیں ہمدردی ہے … مجھے امید ہے کہ ان حالات کا علم ہونے کے بعد حکومت ان کے ازالہ کی کوشش کرے گی اور ہر وہ مسلمان جو ان کی کسی نہ کسی طرح مدد کرسکتا ہو اس سے دریغ نہ کرے گا۔ میں اپنے سرحدی بھائیوں سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ ایسی حرکات نہ کریں جن سے امن میں خلل واقع ہو اس وقت وہاں ریفارم سکیم نافذ کی جارہی ہے اس لئے خصوصیت کے ساتھ اس وقت وہاں پُرامن فضا کی ضرورت ہے‘‘۔
(الفضل 14 فروری 1932ئ)
مظلوموں کی امداد
مشرقی پنجاب کے اضلاع حصار، رہتک، کرنال اور گوڑگاؤں میں مسلمانوں کی تعداد کم تھی اس لئے ہندواکثریت ان کو تباہ کرنے کے لئے اندر ہی اندر خوفناک تیاریوں میں مصروف تھی۔ 1932ء میں ہندوؤں کی اس خفیہ سازش کا پہلا نشانہ پونڈری کے مسلمان بنے اس کے بعد انہوں نے 11؍اکتوبر 1932ء کی رات کو بڈھلاڈا (ضلع حصار) کے مسلمانوں پر بھی یورش کردی اور چند منٹوں میں سولہ مسلمان مرد عورتیں اور بچے گولیوں کا شکار ہوئے جن میں سے سات شہید اور نو زخمی ہوگئے۔ عین اسی وقت جبکہ بڈھلاڈاکے مسلمانوں کو بہیمانہ طور پر ختم کیا جارہا تھا بندوقوں سے مسلح ہندوؤں نے تلونڈی کے آٹھ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے ان خونچکاں واقعات کی اطلاع اور مسلمانان بڈھلاڈا کی درخواست پر صوفی عبدالقدیر صاحب نیا زبی اے کو تحقیقات کے لئے بھجوایا۔ جنہوں نے ایک مبصر کی حیثیت سے نہایت محنت و عرقریزی کے ساتھ پیش آمدہ حالات کی چھان بین کی اور اس سازش کو پایہ ثبوت تک پہنچا دیا۔ جو ایک عرصہ سے ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف نہایت منظم طور پر کر رکھی تھی۔ صوفی صاحب کی مکمل تحقیقات الفضل 27 نومبر 1932ء (ص10,7) میں شائع کر دی گئی جس سے مسلمانان پنجاب کو پہلی بار صحیح اور مکمل واقعات کا علم ہوا۔ صوفی صاحب نے اپنے قیام کے دوران میں ایک اہم کام یہ بھی کیا کہ وہاں مسلمانوں کی تنظیم کے لئے ایک مسلم ایسوسی ایشن کی بنیاد رکھی۔ جس کے صدر اور سیکرٹری بڈھلاڈا کے بعض اہل علم مسلمانوں کو مقرر کیا۔
صوفی صاحب کے بعد مرکز کی طرف سے بعض اور اصحاب بھی بھجوائے گئے اور بالآخر چوہدری مظفرالدین صاحب بی اے بنگالی روانہ کئے گئے۔ جنہوں نے اس علاقہ میں قریباً ایک سال تک قیام کیا۔ افسروں سے ملاقات اور خط وکتابت کرکے مسلمانوں کی مدد کی اور اصل واقعات منظر عام پر لانے کے لئے متعدد مضامین لکھے۔ چوہدری مظفرالدین صاحب نے مسلمانان حصار کی تنظیم میں بھی دلچسپی لی اور ان کی اقتصادی بہبود کے لئے بھی کوشش کرتے رہے اور جہاں ان کے جانے سے قبل بڈھلاڈا میں مسلمانوں کی خورونوش کی ایک دکان بھی موجود نہ تھی۔ وہاں ان کی تحریک پر پانچ چھ دکانیں کھل گئیں اور وہ مسلمان جو دہشت زدہ ہوگئے تھے اور ہندوؤں کی چیرہ دستیوں سے سہمے ہوئے تھے۔ اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے لگے اور وہ ہندو اور سکھ افسر جو اس فتنہ کے پشت پناہ تھے تبدیل کر دیئے گئے۔ حضور کی ہدایت کے مطابق احمدی نمائندہ نے حکومت پر مسلمانوں کا معاملہ ایسے طریق پر واضح کیا کہ اسے ظالم افسروں کے خلاف مؤثر اقدام کرنے کے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہا۔
(تاریخ احمدیت جلد6 ص68)
مسلمانان الور کی امداد
1932ء میں ریاست الور کے بہت سے مسلمان ریاستی مظالم کی تاب نہ لا کر جے پور اجمیر شریف، بھرت پور اور ضلع گوڑ گاؤں اور دہلی وغیرہ مقامات میں آگئے تھے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کو جب ان کے حالات کا علم ہوا تو مظلوموں کی اعانت کے لئے سید غلام بھیک صاحب نیرنگ ایڈووکیٹ ہائیکورٹ لاہور و جنرل سیکرٹری سنٹرل جماعت تبلیغ الاسلام کو دوسو روپے ارسال فرمائے۔
اسی طرح مرکز کی طرف سے افسران بالا سے خط وکتابت کی گئی۔ افسروں نے نہایت ہمدردی سے غور کیا اور ریاست کے متعلق حکام کو ہدایت کی کہ وہ مسلمانوں کے مطالبات کا پورے طور پر خیال رکھیں اور ان کی شکایات کا تدارک کریں۔ اس کے شکریہ میں نیرنگ صاحب نے انبالہ شہر سے 22؍اکتوبر 1932ء کو حضور کی خدمت میں شکریہ کا خط لکھا۔
(تاریخ احمدیت جلد6 ص75)
بوہرہ جماعت کے قومی مفاد کا تحفظ
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ مسلمانوں کے ہر مذہبی فرقہ کے قومی مفاد کی حفاظت کے لئے ہر وقت کمربستہ رہتے تھے اس ضمن میں بوہرہ کمیونٹی کے امام سے بھی حضور کے مراسم و روابط تھے۔ 1933ء میں بوہروں میں باہمی چپقلش پیدا ہوئی۔ جس کو ختم کرنے اور ان کی مرکزیت برقرار رکھنے کے لئے حضور نے حکیمانہ اقدامات کئے۔ (تاریخ احمدیت جلد6 ص105)
زلزلہ زدگان کی امداد
حضرت مسیح موعود ؑکی پیشگوئیوں کے مطابق 15 جنوری 1934ء کو ہندوستان میں ایک قیامت خیز زلزلہ آیا جس نے بنگال سے لے کر پنجاب تک تباہی مچادی۔ اس موقع پر حضور نے مصیبت زدگان کی مدد کرنے کے لئے خطبہ ارشاد فرمایا اور 2 فروری 1934ء کو فرمایا:۔
’’ہمیں اپنے عمل سے ثابت کر دینا چاہئے کہ ہمیں ہمدردی سب سے زیادہ ہے۔ میں نے چندہ کی اپیل کی ہے، اس پر جو لوگ بشاشت سے لبیک نہ کہہ سکیں وہ اپنے نفسوں پر بوجھ ڈال کر بھی چندہ دیں مگر سلسلہ کے دوسرے کاموں کو نقصان پہنچائے بغیر۔ یہ کوئی نیکی نہیں کہ ایک نیک کام چھوڑ کر دوسرا اختیار کر لیا جائے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کوئی پاجامہ ایک لات پر پہن لے اور پھر توجہ دلائے جانے پر اسے اتار کر دوسری پر پہن لے۔ پس مستقل چندہ کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیر اور پہلی نیکیوں کو قائم رکھتے ہوئے اس طرف توجہ کی جائے۔ میں نے جو مسئلہ بیان کیا ہے اگر یہ سمجھ میں آجائے تو بشاشت کے ساتھ اور اگر نہ آئے تو اپنے نفسوں پر بوجھ ڈال کر اس تحریک میں حصہ لیا جائے یہ قربانی کاموقع ہے۔ اگر بشاشت ہو تو فبھا وگرنہ عبودیت اور فرمانبرداری کے ماتحت اس میں حصہ لیا جائے اور جہاںتک ہو چکے مصیبت زدہ لوگوں کی امداد کی جائے۔ مونگھیر میں سوائے دو کے باقی سب احمدیوں کے مکان گر گئے ہیں۔ ان کی مدد ضروری ہے تاکہ وہ ان کومرمت کرسکیں اور باقی مستحقین کو بھی امداد دی جاسکے۔ اگر جماعت توجہ کرے تو اس کی امداد سب سے زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ دوسرے لوگ اگرچہ کروڑوں کی تعداد میں ہیں مگر ان کے صرف امراء ہی چندہ دیں گے لیکن جماعت اگر فرض شناسی سے کام لے تو چونکہ ہر ایک احمدی حصہ لے گا، ہم من حیث الجماعت حصہ لیں گے اور دوسرے من حیث الافراد اس لئے اس تحریک میں ضرور حصہ لیا جائے تا جو احمدی مبتلائے مصائب ہیں ان کی امداد کی جائے اور دوسرے مستحقین کو بھی خدا کی صفت رحمانیت کے ماتحت امداد دی جاسکے۔ … پس قادیان کے دوست بھی اور باہر کے بھی جن کو اخبار کے ذریعہ یہ خطبہ پہنچ جائے گا تھوڑا بہت جس قدر بھی ہوسکے اس تحریک میں جو ناظر صاحب بیت المال کریں گے، حصہ لیں۔ بعض لوگوں کو پہلے ہی اس کا احساس ہے۔ چنانچہ ینگ مینز ایسوسی ایشن قادیان نے قبل اس کے کہ میری طرف سے کوئی تحریک ہو، اگرچہ میرے دل میںیہ تھی۔ اپنی طرف سے 10 روپے کی رقم بھیج دی ہے۔
(الفضل 8 فروری 1934ئ۔ خطبات محمود جلد15 ص42)
اس کے علاوہ مرکز کی طرف سے مولانا غلام احمد صاحب فاضل بدوملہی اظہار ہمدردی اور تفصیلات مہیا کرنے کے لئے بہار بھجوائے گئے اور مئی 1934ء میں تیرہ سو روپیہ کی رقم حضرت مولانا عبدالماجد صاحب امیر جماعت احمدیہ بھاگلپور کو روانہ کی گئی۔ علاوہ ازیں ایک ہزار روپیہ ریلیف فنڈ میں دیا گیا۔
(تاریخ احمدیت جلد6 ص176)
قادیان کے غربا کے لئے غلہ کی تحریک
1942ء کے شروع میں ہندوستان کے اندر خطرناک قحط رونما ہوگیا اور غلہ کی سخت قلت ہوگئی۔ اس ہولناک قحط کے آثار ماہ فروری 1942ء میں شروع ہو گئے تھے لیکن حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے جنہیں خدائی بشارتوں میں ’’یوسف‘‘ کے نام سے بھی پکارا گیا تھا سالانہ جلسہ 1941ء پر احباب جماعت کو توجہ دلائی کہ انہیں غلہ وغیرہ کا انتظام کرنا چاہئے اور اعلان فرمایا کہ جو دوست غلہ خرید سکتے ہیں وہ فوراً خرید لیں۔ بعض نے خریدا مگر بعض نے توجہ نہ دی کہ ہمارے پاس پیسے ہیں جب چاہیں گے لے لیں گے۔ مگرجب آٹا وغیرہ ملنا بند ہوا اور سیاہ دانوں کی گندم ڈپو میں دی جانے لگی تو ان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس کے بعد جب فصل نکلی تو حضور نے پھر ارشاد فرمایا کہ دوست غلہ جمع کرلیں اور ساتھ ہی زمیندار دوستوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہ غلہ زیادہ پیدا کریں اور اسے حتی الوسع جمع رکھیں۔ اس ضمن میں حضور نے 22 مئی 1942ء کو ملک کی سب احمدی جماعتوں کو نصیحت فرمائی کہ وہ ہرجگہ اپنے غریب احمدی بھائیوں کے لئے غلہ کا انتظام کریں۔ نیز خاص طور پر یہ تحریک فرمائی کہ قادیان کے غربا کے لئے زکوٰۃ کے رنگ میں اپنے غلہ میں سے چالیسواں حصہ بطور چندہ ادا کریں اورجو لوگ غلہ نہ دے سکیں وہ رقم بھجوا دیں کہ ہماری طرف سے اتنا غلہ غربا کو دے دیا جائے۔ مقصود یہ تھا کہ غربا کو کم ازکم اتنی مقدار میں تو گندم مہیاکردی جائے کہ وہ سال کے آخری پانچ مہینوں میں جو گندم کی کمی کے مہینے ہوتے ہیں بآسانی گزارہ کرسکیں اور تنگی اور مصیبت کے وقت انہیں کوئی تکلیف نہ ہو۔ اس غرض کے لئے حضور نے پانچ سو من غلے کا مطالبہ جماعت سے فرمایا اور اس میں سے بھی پچاس من خود دینے کا وعدہ کیا۔ چنانچہ فرمایا:
’’مومنوں کے متعلق قرآن کریم میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ وہ بھوک اور تنگی کے وقت غربا کو اپنے نفس پر ترجیح دیتے ہیں اور درحقیقت ایمان کے لحاظ سے یہی مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔ مگرموجودہ زمانہ میں ہمیں وہ نمونہ دکھانے کا موقعہ نہیں ملتا جو صحابہ نے مدینہ میں دکھایا۔ اس لئے ہمیں کم سے کم اس موقعہ پر غربا کی مدد کرکے اپنے اس فرض کو ادا کرنا چاہئے جو اسلام کی طرف سے ہم پر عائد کیا گیا ہے اور اگر ہم کوشش کریں تو اس مطالبہ کو پورا کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔ پانچ سو من غلے کا اندازہ بھی درحقیقت کم ہے اور یہ بھی سارے سال کا اندازہ نہیں بلکہ آخری پانچ مہینوں کا اندازہ ہے جبکہ قحط کا خطرہ ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آئندہ فضل اچھی کردے اور جوار وغیرہ نکل آنے کی وجہ سے گندم سستی ہو جائے‘‘۔ (الفضل 30 مئی 1942ئ)
حضور کے مدنظر اس اہم تحریک کی دو اغراض تھیں۔ جن کی حضور نے خود ہی وضاحت فرمائی کہ:
’’اس اعلان کے کرنے میں میری دو غرضیں ہیں۔ ایک تو یہ کہ قرآن کریم نے خرچ کرنے کی مختلف اقسام بیان فرمائی ہیں۔ ان اقسام میں سے ایک قسم خرچ کی اپنے دوستوں، اپنے رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کی امداد ہے۔ … مگر یہ اخراجات ان معنوں میں صدقہ نہیں کہلاتے جن معنوں میں غربا کو روپیہ دینا صدقہ کہلاتاہے۔ عربی زبان میں صدقہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس میں صرف اتنی بات داخل ہے کہ اپنے اس خرچ کے ذریعہ سے اس تعلق کا ثبوت دیا جائے جو انسان کو اپنے پیدا کرنے والے سے ہے۔ صدقہ کے معنے خداتعالیٰ سے اپنے سچے تعلق کا اظہار ہے۔ … تو صدقہ کی کئی اقسام ہیں اور لوگ عام طور پر قرآنی صدقہ کی بہت سی قسموں سے غافل ہوتے ہیں۔ پس اس تحریک سے میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ عربی زبان میں صدقہ کا جو مفہوم ہے وہ بھی پورا کرنے کا دوستوں کو موقعہ مل جائے اور یہ مفہوم یہ نہیں کہ ردبلا کے لئے خرچ کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ خداتعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جائے۔ پس میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن دوستوں کوپہلے ایسا خرچ کرنے کا موقعہ نہیں ملا انہیں اس کا موقع مل جائے اور نیکی کا یہ خانہ خالی نہ رہے۔
دوسری غرض میری یہ ہے کہ ہماری جماعت میں یہاں بھی اور باہر بھی بعض سادات قابل امداد ہیں اور سادات کو معروف صدقہ دینا منع ہے۔ پس اگر یہ انہی معنوں میں صدقہ کی نیت سے دیا جائے جو ہمارے ملک میں اس کا مفہوم ہے تو اس سے ہم سادات کی مدد نہیں کرسکتے ہاں ہدیہ اور تحفہ سے ان کی مدد بھی کرسکتے ہیں۔ تحفہ انسان ماں باپ بھائی بہن بیوی بچوں دوستوں رشتہ داروں غرضیکہ سب کو دے سکتا ہے۔ پس میری یہ دو اغراض ہیں جن کی وجہ سے میں نے کہا ہے کہ جو دوست میری اس تحریک میں حصہ لیں وہ صدقہ کی نیت نہ کریں‘‘۔ (الفضل 5جون 1942ئ)
اس اہم تحریک پر قادیان میں سب سے پہلے ملک سیف الرحمن صاحب، مولوی عبدالکریم صاحب (ابن حضرت مولوی محمد اسمٰعیل صاحب) اور میاں مجید احمد صاحب ڈرائیور نے وعدے بھجوائے۔ جس پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔
’’آج (22 مئی) میں نے خطبہ جمعہ میں اس امر کی تحریک کی ہے کہ قادیان کے غربا کے لئے بھی غلہ کا انتظام کیا جائے تاکہ جن دنوں میں غلہ کم ہو انہیں تکلیف نہ ہو۔ پانچ سو من غلہ کے لئے میں نے جماعت سے مطالبہ کیا ہے۔ قادیان سے باہر میری کچھ زمین ہے وہ بٹائی پر دی ہوئی ہے کچھ گرو ہے جو پھر واپس مقاطعہ پر لی ہوئی ہے۔ چونکہ اس دفعہ فصل ماری گئی ہے اس کا مقاطعہ اور گورنمنٹ کامعاملہ اور اوپر کے اخراجات ادا کرکے کوئی پچاس من غلہ بچتا ہے۔ وہ سب میں نے اس تحریک میں دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس وقت تک مندرجہ ذیل وعدے آئے ہیں۔
مولوی سیف الرحمن صاحب 16سیر غلہ۔ مولوی عبدالکریم صاحب خلف مولوی محمد اسمٰعیل صاحب مرحوم ایک من۔ میاں مجید احمد ڈرائیور ایک من۔
خدا کی قدرت ہے کہ سب سے پہلے لبیک کہنے کی توفیق ان کو ملی ہے جو خود غریب ہیں۔ شاید تبھی رسول کریم ﷺ (فداہ نفسی و روحی) نے فرمایا ہے کہ خداتعالیٰ مجھے غربا میں شامل کرے۔ اس تحریک میں چندہ غلہ کی صورت میں لیا جائے گا۔ یعنی گو بھیجنے والا روپیہ ارسال کرے مگر اس کا وعدہ غلہ کی صورت میں ہونا چاہئے۔ اس کے روپیہ سے وعدہ کے مطابق غلہ خرید دیا جائے گا۔ لمبا وعدہ کوئی صاحب نہ کریں۔ جو ایک مہینہ کے اندر غلہ دے سکیں وہی وعدہ کریں۔ (الفضل 24 مئی 1942ئ)
بیرونی جماعتوں میں سب سے پہلے وعدے بھجوانے والی جماعت لائل پور تھی۔
(الفضل 5 جون 1942ئ)
قادیان اور قادیان سے باہر دوسری مخلص احمدی جماعتوں نے اس تحریک پر جس والہانہ انداز میں لبیک کہا۔ اس کا نظارہ ہمیں سلسلہ مامورین کے سوا کہیں نظر نہیں آتا۔ ان سے مطالبہ صرف پانچ سو من غلہ کا کیا گیا تھا مگر انہوں نے پندرہ سو من جمع کردیا۔ جس پر حضرت مصلح موعودؓ نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا:
’’میں نے تحریک کی تھی کہ غربا کے لئے بھی دوست بطور امداد غلہ جمع کریں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے قادیان کے غربا کو پندرہ سو من گندم جو ان کی پانچ ماہ کی خوراک ہے تقسیم کی گئی اور انہیں ہدایت کی گئی کہ وہ اسے آخری پانچ ماہ کے لئے محفوظ رکھیں اور خداتعالیٰ کی عجیب قدرت ہے کہ قحط بھی عین اسی وقت شروع ہوا۔ میں نے کہا تھا کہ جن لوگوں کو یہ گندم مہیا کی گئی ہے وہ اسے دسمبر میں کھانا شروع کریں اور قحط بھی دسمبر میں ہی شروع ہوا ہے۔ یہ بھی نظام کی ایک ایسی خوبی ظاہر ہوئی ہے کہ ساری دنیا میں اس کی مثال نہیں مل سکتی کہ ہر غریب کے گھر میں پانچ ماہ کا غلہ جمع کردیا گیا‘‘۔
(الفضل 28فروری 1945ئ) (انوارالعلوم جلد16 ص476)
قادیان کی دوسری احمدی آبادی کے لئے غلہ کے انتظام کی تحریک:
یہ تو غربا کی بات ہے جہاں تک قادیان کی دوسری احمدی آبادی کا تعلق تھا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے ارشاد پر صدرانجمن احمدیہ کے کارکنوں کو غلہ کے لئے پیشگی رقم دے دی گئی تھی اور جو احمدی ازخود غلہ خرید سکتے تھے انہوں نے ذاتی کوشش سے خرید لیا مگر بعض لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے استطاعت کے باوجود بروقت غلہ کا انتظام نہ کیا اور غفلت کا ثبوت دیا۔ ایسے لوگوں کے لئے بھی حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ہدایت اور بیرونی جماعتوں کے تعاون سے گندم کا انتہائی تسلی بخش انتظام کر دیا گیا جس کی تفصیل خود حضرت مصلح موعودؓ کی زبان مبارک سے بیان کی جاتی ہے۔ حضور فرماتے ہیں:۔
’’باہر کے بعض لوگوں نے اس موقعہ پر قادیان والوں کی مدد کی ہے اور انہوں نے میری ہدایت پر نہایت اخلاص سے عمل کیا ہے۔ چنانچہ میں اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں جس کی کوئی اور نظیر مجھے ساری جماعت میں نہیںملی اور وہ چوہدری عبداللہ خان صاحب داتہ زیدکا والوں کی مثال ہے۔ انہوں نے گزشتہ سال شروع میں ہی اپنی ضرورت سے زائد گندم محفوظ کرلی تاکہ اگر قادیان والوں کو دوران سال میں ضرورت پیش آجائے تو وہ دے سکیں۔ چنانچہ اس کے بعد جب گندم کی قیمتیں بہت زیادہ چڑھ رہی تھیں انہوں نے گورنمنٹ کے مقرر کردہ ریٹ پر اڑھائی سو من غلہ ہمیں مہیا کردیا۔ حالانکہ وہ اگر چاہتے تو اس سے پہلے چھ بلکہ سات روپے پر منڈی میں اسے فروخت کرسکتے تھے۔ مگر انہوں نے غلے کو روکے رکھا اور جلسہ سالانہ پر مجھ سے کہا کہ ہم نے آج تک اپنے غلہ کو اس لئے روک رکھا ہے کہ اگر قادیان والوں کو ضرورت ہو توہم انہیں دے دیں۔ تم خود سوچ لو کہ ایک زمیندار کی یہ کس قدر قربانی ہے کہ وہ اپنے غلہ کو اچھے داموں پر فروخت نہیں کرتا محض اس لئے کہ اگر قادیان والوں کو ضرورت پیش آگئی تو ان کا کیا انتظام ہوگا۔ غرض یہ ایک ایسے اخلاص کی مثال ہے جس کے مقابلہ میں اس معاملہ میں مجھے کوئی دوسری مثال اپنی جماعت میں سے نہیں ملی گو ایسی جماعت میں جو خداتعالیٰ کی جماعت ہو اس قسم کی سینکڑوں مثالیں ہونی چاہئیں۔ بعض جماعتوں نے بے شک اچھا نمونہ دکھایا۔ چنانچہ قادیان میں جب غلہ کی سخت قلت ہوگئی تو سرگودھا کی جماعت نے تمام جماعتوں سے بڑھ کر غلہ مہیا کرکے دیا۔
مگر یہ ایک جماعت کی مثال ہے اور چوہدری عبداللہ خان صاحب کی مثال ایک فرد کی ہے۔ سرگودھا کی جماعت نے اس موقعہ پر ہمیں 822 من غلہ مہیا کرکے دیا۔ اسی طرح شیخوپورہ کے ضلع والوں نے تقریباً 80 من غلہ دیا۔ بعض اور دوستوں نے بھی اپنے طور پر بعض واقف غیر احمدیوں سے غلہ لے کر بھجوایا۔ ضلع منٹگمری کی طرف سے 440 من غلہ پہنچا اور اس طرح ان سب جماعتوں نے اپنے اپنے درجہ کے مطابق اخلاص اور محبت کا ثبوت دیا ہے۔ بہرحال ان دنوں میں اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے قادیان والوں کو جو سہولتیں میسر آسکتی تھیں وہ باہر کی جماعتوں کی قربانی کی وجہ سے میسر آگئیں۔ بیرونی شہروں میں ان دنوں غلہ کی قلت کی وجہ سے لوگوں کو سخت تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ جو لوگ اخبارات پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ لوگوں کو آٹے کے لئے کس قدر تکلیف اٹھانی پڑی۔ انقلاب اخبار میں بھی کئی دفعہ یہ بات چھپی ہے کہ تھوڑے سے آٹے کے لئے لوگوں کو کئی کئی گھنٹے ڈپو کے سامنے کھڑے رہنا پڑتا تھا۔ مگر قادیان میں خداتعالیٰ کے فضل سے ایسا کوئی دن نہیں آیا جب کسی شخص کو آٹے کے لئے اس قدر تکلیف ہوئی ہو۔ سوائے اس کے کہ کسی نے بہت ہی نادانی کرکے اپنے حق کو زائل کردیا ہو کیونکہ یہاں یا تو لوگوں کو غلہ کے لئے قرض روپے دے دیئے گئے تھے یا غربا میں غلہ مفت تقسیم کردیا گیا تھا یا پھر باہر کی جماعتوں نے قادیان والوں کے لئے غلہ مہیا کردیا تھا جو قادیان والوں کو باہر کے ریٹوں سے بہت سستا دیا جاتا رہا۔ جب باہر سوا چھ اور سات روپے گندم کا بھاؤ تھا ہم قادیان میں سوا پانچ روپے پر دیتے رہے اور جب باہر آٹھ اور نو روپیہ ریٹ تھا ہم سات روپیہ پر دیتے رہے اور جب باہر گندم سولہ روپے پر بک رہی تھی ہم نے جو انتظام کیا اس کے مطابق قادیان والوں کو آٹھ روپے پر گندم ملتی رہی۔ گویا باہر کے بھاؤ میں اور اس بھاؤ میں جس پر ہم نے قادیان میںگندم دی دوگنا فرق تھا۔ اس وقت بھی ہمارے پاس کچھ گندم باقی تھی مگر باوجود اس کے کہ اس وقت امرتسر میں ساڑھے نو اور دس روپیہ قیمت ہے میں نے دفتر والوں سے کہا اعلان کردو کہ جن لوگوں نے روپیہ جمع کرادیا ہوا ہے وہ آٹھ روپیہ کے حساب سے گندم لے لیں اور وہ نہ لیں تو دوسروں کو اسی قیمت پر گندم دے دو۔ درحقیقت یہ قیمت بھی اس لئے مقررکرنی پڑی کہ جب گندم بہت گراں ہوگئی تو اس وقت بعض جگہ سے ساڑھے نو اور پونے دس دس روپے پر گندم خریدی گئی مگر اس کے مقابلہ میں بعض احمدیوں نے ہمیں سستی گندم دے دی۔ اس لحاظ سے ہمیں اوسطاً آٹھ روپے قیمت مقررکرنی پڑی۔ ورنہ جو گندم ہم نے آٹھ روپے پر فروخت کی ہے اس کا کچھ حصہ ایسا ہے جو ساڑھے نو اور دس پر خریدا گیا ہے۔ مگر چونکہ اس کے مقابلہ میں بعض احمدیوں سے سستی گندم مل گئی اس لئے تمام اخراجات ملا کر ایک اوسط قیمت مقررکردی گئی اور اس طرح قادیان والوں کو باہر کے مقابلہ میں پھر سستی گندم مل گئی‘‘۔ (الفضل 20؍اپریل 1943ء ص3,2)
قادیان میں کئی سال حضور کی اس تحریک پر گندم جمع ہوتی رہی اور تمام غربا کو سال کے آخری 5 ماہ کی خوراک مہیا کی جاتی رہی۔ حضور خود بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ چنانچہ آخری سال حضور کی طرف سے دو سو من گندم اس مد میں دی گئی۔ جبکہ دوسرے احباب نے 1300 من گندم پیش کی اور پھر یہ گندم انتظام کے ساتھ غربا میں تقسیم کردی گئی۔
غربا کے مکان کی تعمیر کی تحریک
حضور نے خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1942ء میں فرمایا:
’’بارشوں کی کثرت کی وجہ سے اس دفعہ قادیان میں بہت سے غربا کے مکان گر گئے ہیں۔ ان مکانوں کی مرمت اور تعمیر میں خدمت خلق کرنے والوں کو حصہ لینا چاہئے۔ میں اس موقعہ پر ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں جن کو معماری کا فن آتا ہے کہ وہ اپنی خدمات اس غرض کے لئے پیش کریں۔ آجکل عام طور پر عمارتوں کے کام بند ہیں اور وہ اگر چاہیں تو آسانی سے اپنے اوقات اس خدمت کے لئے وقف کر کے ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔ پس جن معماروں کو خداتعالیٰ توفیق دے وہ ایک ایک دو دو تین تین چار چار دن، جس قدر خوشی کے ساتھ دے سکتے ہوں، دیں تاکہ غربا کے مکانوں کی مرمت ہوجائے۔ مزدور مہیا کرنا خدام الاحمدیہ کاکام ہوگا۔ اس صورت میں بعض اور چیزوں کے لئے بہت تھوڑی سی رقم کی ضرورت ہوگی جس کے متعلق ہم کوشش کریں گے کہ چندہ جمع ہوجائے۔ مگر جہاں تک خدمت کا کام ہے، خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ اس کو خود مہیا کرے۔ اس طرح خداتعالیٰ کے فضل سے بہت ہی کم خرچ پر غربا کے مکانات کی مرمت ہو جائے گی۔ (الفضل 17 ستمبر 1942ئ)
بھوکوں کو کھانا کھلانے کی تحریک
30 مئی 1944ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعودؓ نے جماعت احمدیہ کو عموماً اور اہل قادیان کو خصوصاً یہ اہم تحریک فرمائی۔
’’ہر شخص کو اپنے اپنے محلہ میں اپنے ہمسایوں کے متعلق اس امر کی نگرانی رکھنی چاہئے کہ کوئی شخص بھوکا تو نہیں اور اگر کسی ہمسایہ کے متعلق اسے معلوم ہو کہ وہ بھوکا ہے تو اس وقت تک اسے روٹی نہیں کھانی چاہئے جب تک وہ اس بھوکے کو کھانا نہ کھلالے‘‘۔ (الفضل 11 جون 1945ء ص3 کالم2)
احمدی مہاجرین کے لئے کمبلوں لحافوں اور توشکوں کی خاص تحریک
قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب سے آنے والے ایک لاکھ احمدیوں میں سے غالب اکثریت ان لوگوں کی تھی جو صرف تن کے کپڑے ہی بچا کر نکل سکے تھے۔ اس تشویشناک صورتحال نے آبادکاری کے انتظام کے بعد جلد ہی ایک خطرناک اور سنگین مسئلہ کھڑا کردیا اور وہ یہ کہ جوں جوں سردی کے ایام قریب آنے لگے ہزاروں ہزار احمدی مرد بچے اور بوڑھے سردی سے نڈھال ہونے لگے۔
سیدنا المصلح الموعودؓ سے اپنے خدام کی یہ حالت دیکھی نہ جاتی تھی۔ چنانچہ آپ نے مغربی پنجاب کے احمدیوں کے نام پیغام دیا کہ سردی کا موسم سرپر آپہنچا ہے انہیں اپنے مہاجر بھائیوں کے لئے بستروں کمبلوں اور توشکوں کا فوری انتظام کرنا چاہئے۔ حضور کے اس پیغام کا مکمل متن حسب ذیل تھا۔
’’اس وقت ایک لاکھ سے زیادہ احمدی مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب کی طرف منتقل ہورہا ہے۔ جس طرح کتے لاشوں پر جھپٹتے ہیں۔ اسی طرح سکھ جتھوں اور پولیس اورملٹری نے ان علاقوں کا مال و اسباب لوٹ لیا ہے۔ اکثر تن کے کپڑے بچا کر ہی نکل سکے۔ بستر بہت ہی کم لوگ لاسکے ہیں۔ ہزاروں ہزار بچہ اور عورت سردی سے نڈھال ہورہا ہے۔ پانچ ہزار آدمی اس وقت صرف ہمارے پاس جودھا مل بلڈنگ، دوسری بلڈنگوں اور ان کے ملحقہ میدانوں میں پڑا ہے۔ ان میں سے اکثر قادیان میں سے آئے ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ مکانوں اور جائیدادوں والے تھے مگر ان کے مکانوں پر سکھوں نے قبضہ کرلیا ہے اور ان کے گھروں کو سکھوں نے لوٹ لیا ہے۔ قادیان کے رہنے والوں میںچونکہ یہ شوق ہوتا تھا کہ وہ اپنا مکان بنائیں اس لئے عورتوں کے پاس زیور اور مردوں کے پاس روپیہ بہت ہی کم ہوتا تھا۔ اس لئے جب لوگوں کو قادیان چھوڑنا پڑا تو مکان اور اسباب کو سکھوں نے لوٹ لئے اور روپیہ اور زیور ان کے پاس تھا ہی نہیں۔ اکثر بالکل خالی ہاتھ پہنچے ہیں اور اگر جلد ان کے لئے کچھ کپڑے اور رضائیاں وغیرہ مہیا نہ کی گئیں تو ان میں سے اکثر کی موت یقینی ہے۔ اس لئے میں مغربی پنجاب کے تمام شہری، قصباتی اور دیہاتی احمدیوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ آج ان کے لئے ایثار اور قربانی کا جذبہ دکھانے کا وقت آگیا ہے سوائے ان بستروں کے جن میں وہ سوتے ہیں اور سوائے اتنے کپڑوں کے جو ان کے لئے اشد ضروری ہیں باقی سب بستر اور کپڑے ان لوگوں کی امداد کے لئے دے دیں جو باہر سے آرہے ہیں۔ سیالکوٹ کی جماعت کو میں ہدایت کرتاہوں کہ گورداسپور اور کئی جگہوں کے زمیندار وہاں بٹھائے جارہے ہیں ان میںسے بھی اکثروں کے پاس کوئی کپڑا وغیرہ نہیں جوپہلے بھاگ آئے ان کے پاس کچھ کپڑے ہیں مگر جو بعد میں آئے ہیں ان کے پاس کوئی کپڑا نہیں۔ خصوصاً جو قادیان میںپناہ گزین تھے اور وہاں سے آئے ہیں ان سب کامال سکھوں اور ملٹری نے لوٹ لیا تھا۔ ان میں سے ہر شخص کے لئے بستر اور کپڑے مہیا کرنا سیالکوٹ کی جماعت کا فرض ہے۔ ہمارے ملک میں یہ عام دستور ہے کہ زمیندار ایک دو بستر زائد رکھتے ہیں تاکہ آنے والے مہمانوں کو دیئے جاسکیں۔ ایسے تمام بستر ان لوگوں میں تقسیم کر دینے چاہئیں اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں اور عزیزوں سے بھی جتنے بستر مہیا ہو سکیں جمع کرکے ان لوگوں میں بانٹنے چاہئیں۔ اس کے علاوہ سیالکوٹ کی تمام زمیندار جماعتوں کو اپنا یہ فرض سمجھنا چاہئے کہ تمام اردگرد کے تالابوں سے کسیر جمع کرکے اپنے چھکڑوں میں ان جگہوں پر پہنچائیں جہاں پناہ گزین آباد ہوئے ہیں۔ اسی طرح گنوں کی کھوری اور دھان کے چھلکے جمع کرکے ان لوگوں کے گھر میں پہنچا دیں تاکہ بطور بستروں کے کام آسکے۔
تمام جماعتوں اور پریذیڈنٹوں کو اپنی رپورٹوں میں اس بات کا بھی ذکر کرنا چاہئے کہ انہوں نے اس ہفتہ یا اس مہینہ میں پناہ گزینوں کی کیا خدمت کی ہے اور ان کے آرام کے لئے انہوں نے کیا کوششیں کی ہیں۔ سیالکوٹ کے علاوہ دوسرے اضلاع میں جو آدمی بس رہے ہیں۔ ان کی امداد کے لئے بھی وہاں کی جماعتوں کو فوراً توجہ کرنی چاہئے۔ اپنے زائد بستر ان کو دے دینے چاہئیں۔ اسی طرح جولوگ قادیان سے آرہے ہیں اور لاہور میں مقیم ہیں ان کے لئے بھی کچھ کپڑے بھجوانے چاہئیں۔ زیادہ کمبلوں، لحافوں، توشکوں اور تکیوں کی ضرورت ہے۔ چونکہ سردی روز بروز بڑھ رہی ہے اس کام میںدیر نہیں کرنی چاہئے اور خواہ آدمی کے ذریعے سے یہ چیزیں بھجوانی پڑیں جلد ازجلد یہ چیزیں ہمیں بھجوا دینی چاہئیں۔ اس کے علاوہ میںجماعتوں کو اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ان کے اردگرد کی منڈیوں وغیرہ میں اگر دکانیں نکالنے کا موقعہ ہو، ایسی دکانیں جو غریب اور بیکس لوگ بغیر روپیہ کے جاری کرسکیں تو ان کے متعلق بھی فوراً مجھے چٹھیاں لکھیں تا ایسے لوگوں کو جو تعلیم یافتہ ہیں اور تجارت کاکام کرسکتے ہیں، وہاں بھجوا دیا جائے‘‘۔ (الفضل 17؍اکتوبر 1947ء ص3)
حضرت مصلح موعودؓ کے اس پُردرد اور اثر انگیز پیغام نے پاکستان کی احمدی جماعتوں پر بجلی کا اثر کیا اور انہوں نے اپنے پناہ گزین بھائیوں کی موسمی ضروریات کو پورا کردینے کی ایسی سرتوڑ کوشش کی کہ انصار مدینہ کی یاد تازہ ہوگئی اور اس طرح حضرت مصلح موعود کی بروقت توجہ سے ہزاروں قیمتی اور معصوم جانیں موسم سرما کی ہلاکت آفرینیوں سے بچ گئیں۔
حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ نے صدرانجمن احمدیہ پاکستان کی پہلی سالانہ رپورٹ میں حضور جیسے محسن آقا کے اس لطف و کرم اور شفقت و احسان کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں فرمایا:
’’جماعت کا شیرازہ بکھر چکا تھا اور ہزاروں مرد اور عورتیں اور بچے بے سروسامانی کی حالت میں لاہور میں آکر آستان خلافت پر پڑے تھے۔ سینکڑوں تھے جنہیں تن پوشی کے لئے کپڑوں کی ضرورت تھی اور ہزاروں تھے جن کو خورونوش کی فکر تھی اور سینکڑوں تھے جو صدموں کی تاب نہ لاکر بیمار اور مضمحل ہورہے تھے۔ مزیدبرآں موسم سرما بھی قریب آرہا تھا اور ان غریبوں کے پاس سردیوں سے بچنے کا کوئی سامان نہ تھا۔ پھر ان لوگوں کو مختلف مقامات پر آباد کرانے اور ان کی وجہ معاش کے لئے حسب حالات کوئی سامان کرنے کاکام بھی کچھ کم اہمیت نہ رکھتا تھا۔ یہ مشکلات ایسی نہ تھیں جو غیراز جماعت لوگوں پر نہیں آئیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا اور ہمارا ایک مونس و غمخوار تھا۔ جب وہ لوگ پراگندہ بھیڑوں کی طرح مارے مارے پھر رہے تھے ہم لوگوں کو آستانۂ خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے کی وجہ سے ایک گونہ تسکین قلب حاصل تھی۔ حضرت مصلح موعود نے اپنے خدام کی تکالیف کو دیکھا اور ان کے مصائب کو سنا اور ہر ممکن ذریعہ سے نہ صرف سلسلہ کی طرف سے بلکہ ذاتی طور بھی ان کی دلجوئی کے سامان کئے۔ اپنے روح پرور کلام سے ان کی ہمتوں کو بڑھایا اور ان کے حوصلوں کو بلند کیا۔ مہاجر غربا کی تن پوشی کے لئے تحریک کرکے ذی استطاعت اور مخیر اصحاب سے کپڑے مہیا کرائے اور سلسلہ کے اموال کو بے دریغ خرچ کرکے ان کو فقروفاقہ کی حالت سے بچایا۔ بیماروں کے لئے ادویات اور ڈاکٹروں کا انتظام کرایا اور لاہور سے باہر جا کر آباد ہونے والوں کے لئے حسب ضرورت زادراہ مہیا کیا اور ان کے گزاروں کے لئے ہر اخلاقی اور مالی امداد فرمائی۔ موسم سرما میں کام آنے والے پارچات مہیا کرائے۔ غرض ہزاروں، لاکھوں برکات اور افضال نازل ہوں اس محبوب اور مقدس آقا پر جس نے ایسے روح فرسا حالات میں اپنے خدام کی دستگیری فرمائی۔ ہمارے دل حضور کے لئے شکر و امتنان کے جذبات سے معمور ہیں لیکن ہماری زبانیں ان جذبات کے اظہار سے عاجز ہیں‘‘۔
(رپورٹ سالانہ صدر انجمن احمدیہ 1947-48ء ص50)
سیلاب میں خدمات:
1954ء اور 1955ء میں برصغیر میںسیلاب آیا جس کے نتیجہ میں بھارت ، مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں وسیع پیمانہ پر تباہی ہوئی۔ اس موقع پر بھی حضور کی ہدایات کے مطابق بھارت اور پاکستان کی جماعت نے خدمت خلق کے لئے نہایت قیمتی خدمات سرانجام دیں۔ جسے حکومت اور پریس نے بھی بہت سراہا۔
اکتوبر 1954ء میں حضور نے لاہور کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ فرمایا اور جماعت کی طرف سے تعمیری سرگرمیاں ملاحظہ کیں۔ لاہور اور ربوہ کے 200 خدام نے 75 سے زائد گرے ہوئے مکانوں کو دوبارہ تعمیر کرکے 1000 افراد کی رہائش کا انتظام کیا تھا۔
(تاریخ احمدیت جلد17 ص336 جلد18 ص36)
خدام الاحمدیہ سے خطاب کرتے ہوئے 15؍ اپریل 1938ء کو فرمایا:
’’خدمت خلق کے کام میں جہاں تک ہوسکے وسعت اختیار کرنی چاہئے اور مذہب اور قوم کی حد بندی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ہر مصیبت زدہ کی مصیبت کو دورکرنا چاہئے۔ خواہ وہ ہندو ہو یا عیسائی ہو یا سکھ۔ ہمارا خدا رب العالمین ہے اور جس طرح اس نے ہمیں پیدا کیا ہے اسی طرح اس نے ہندوؤں اور سکھوں اور عیسائیوں کو بھی پیدا کیا ہے۔ پس اگر خدا ہمیں توفیق دے تو ہمیں سب کی خدمت کرنی چاہئے‘‘۔ (الفضل 22؍اپریل 1938ئ)


عالم اسلام کی بہبود کے لئے تحریکات
حضرت مسیح موعود ؑکا الہام ہے۔
’’سب مسلمانوں کو جو روئے زمین پر ہیں جمع کرو علی دین واحد‘‘۔ (الحکم 24 نومبر 1905ء ص1)
اس کے مطابق حضرت مصلح موعودؓ نے نہ ْصرف تبلیغی اور تربیتی تحریکات جاری فرمائیں بلکہ عالم اسلام کو باہم متحد ہونے کی بار بار دعوت دیتے رہے اور اس مقصد کے لئے اپنی جماعت کی طرف سے ہر قسم کی خدمات پیش کرتے رہے۔ اسی طرح عالم اسلام کی عمومی بہبود اور ترقی ہمیشہ آپ کے مد نظر رہی۔ آپ نے فرمایا :
جب سعودی، عراقی، شامی اور لبنانی، ترک، مصری اور یمنی سورہے ہوتے ہیں۔ میں ان کے لئے دعا کررہا ہوتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ وہ دعائیں قبول ہوں گی۔ خداتعالیٰ ان کو پھر ضائع شدہ عروج بخشے گا اور پھر محمد رسول اللہﷺ کی قوم ہمارے لئے فخر و مباہات کاموجب بن جائے گی۔
(رپورٹ مجلس مشاورت 1955ص9)
دعاؤں کے ساتھ ساتھ آپ نے متعدد تحریکات بھی فرمائیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔
اشتراک عمل کی دعوت
1927ء میں ہندوؤں نے مسلمانوں کے خلاف زبردست شورش برپا کی اور فنڈز بھی قائم کئے۔ اس وقت حضرت مصلح موعود نے مسلمانوں کو آنے والے عظیم خطرہ سے ہوشیار اور بیدار کرتے ہوئے اشتراک عمل کی دعوت دی اور فرمایا:
’’وہ آنحضرت ﷺ کی محبت کا دعویٰ رکھتے ہیں اگر اور کچھ نہیں تو کم ازکم ان کے ہونٹوں سے تو یہ بات نکلتی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی محبت ان کے اندر ہے اور پھر ان میں سے بعض تو اسلام کا درد بھی رکھتے ہیں۔ پس جب یہ بات ان میں پائی جاتی ہے تو میں ان الفاظ کا ہی واسطہ دے کر انہیں کہتا ہوں کہ وہ جو آنحضرت ﷺ کی محبت کے الفاظ بولتے ہیں۔ ان کا لحاظ کرکے ہی وہ اس نازک وقت میں اسلام کی مدد کے لئے کھڑے ہو جائیں۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس وقت یقینا وہی براہین اور دلائل کارگر ہوسکتے ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتائے ہیں مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ گھر کی لڑائی چھوڑ کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے‘‘۔ (الفضل 6 مئی 1927ئ)
اس سلسلہ میں حضور نے مسلمانان ہند سے تین باتوں کی خواہش کی۔
1۔دشمن کے مقابلہ کے وقت ہم آپس میں متحد ہوجائیں اور ایک دوسرے کے مددگار بن جائیں۔
2۔مسلمان اپنے ماحول کے حالات سے باخبر رہیں اور جس جگہ وہ ہندوؤں کے حملہ کا دفاع نہیں کر سکتے وہ ہمیں اطلاع دیں۔ ہم اپنے آدمی بھیج دیں گے۔
3۔جہاں جہاں آریوں اور عیسائیوں کا زور ہو۔ وہاں مسلمان تبلیغی جلسے کرکے ہمارے واعظوں کو بلوائیں۔ (خطبات محمود جلد11 ص77)
اس اعلان پر اسلام کا درد رکھنے والا طبقہ احمدی واعظوں کو اپنے جلسوں میں بھی بلانے لگا اور احمدی اور غیراحمدی مسلمان دونوں ایک پلیٹ فارم پر اسلام کا دفاع کرنے لگے چنانچہ اس زمانہ کے اخبارات میں ایسی مثالیں بکثرت موجود ہیں کہ دوسرے مسلمانوں کو جہاں بھی اور جس وقت بھی آریوں یا عیسائیوں کے خلاف جلسہ کرنے یا مناظرے کرنے کی ضرورت پیش آئی احمدی مبلغ دعوت ملتے ہی وہاں بلاتامل پہنچے اور انہوں نے مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے۔ چنانچہ خواجہ حسن نظامی صاحب نے اپنی کتاب ’’مسلمان مہارانا‘‘ میں اقرار کیا کہ
’’اگرچہ میں قادیانی عقیدہ کا نہیں ہوں نہ کسی قسم کا میلان میرے دل میں قادیانی جماعت کی طرف ہے۔ لیکن میںاس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ قادیانی جماعت اسلام کے حریفوں کے مقابلہ میں بہت مؤثر اور پُرزور کام کررہی ہے‘‘۔ (الفضل 31 مئی 1927ء ص5)
مسلمانان ہند کے لئے وسیع اور ہمہ گیر تحریک
مئی 1927ء میں لاہور میں ہونے والے فسادات کے پیچھے مسلمانوں کو ختم کرنے کی زبردست روح کام کررہی تھی۔ اس لئے حضور نے صرف مظلومین لاہور کو امداد دینے کے علاوہ مسلمانان ہند کی اقتصادی، معاشی، سیاسی اور مذہبی ترقی کے لئے ایک ملک گیر تحریک چلانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس سلسلہ میں حضور نے سب سے پہلے قادیان کے ناظروں، مبلغوں، ایڈیٹروں، مصنفوں، طالب علموں اور استادوں کو دفتر ڈاک میں بلایا اور ملکی حالات پر مفصل تقریر فرمائی اور انہیں اپنی تحریک سے متعلق نہایت اہم ہدایات دیں۔ (الفضل 10 مئی 1927ء ص1)
جماعت احمدیہ کو اپنی اہم تحریک سے روشناس کرانے کے بعد حضور نے مسلمانوں کو ان خطرناک حالات کے مقابلہ میںمتحد کرنے کے لئے پے درپے مضامین، پوسٹر اور اشتہارات شائع فرمائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں آپ کے قلم سے پہلا مضمون ’’امام جماعت احمدیہ کا فسادات لاہور پر تبصرہ‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ جس میں آپ نے مسلمانوں کو توجہ دلائی کہ فسادات لاہور سے سبق لیں اور اشاعت اسلام کی طرف توجہ دیں۔
دوسری اہم بات جس کی طرف آپ نے اس مضمون میں مسلمانوں کو توجہ دلائی یہ تھی کہ:
’’مسلمانوں کو چاہئے کہ سکھ صاحبان سے تعلقات کو بڑھائیں اور شورش کی وجہ سے اس امر کو نظر انداز نہ کردیں کہ سکھ صاحبان صرف ہندوؤں کا ہتھیار بنائے گئے ہیں۔ ورنہ وہ دل سے مسلمانوں کے دشمن نہیں ہیں بلکہ بوجہ اپنے بزرگوں کی نصائح اور توحید پر ایمان رکھنے کے مسلمانوں کا داہنا بازو ہیں اور مسلمانوں کی ذرا سی توجہ کے ساتھ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے مسلمانوں کے ساتھ مل کر ملک سے فساد اور شورش کو مٹانے کی طرف متوجہ ہو جائیں گے۔ خصوصاً جبکہ ان کا سیاسی فائدہ بھی مسلمانوں سے ملنے میں ہے کیونکہ ہندوؤں سے مل کر وہ اس صوبہ میں قلیل التعداد ہی رہتے لیکن مسلمانوں سے مل کر وہ ایک زبردست پارٹی بناسکتے ہیں۔ جو پنجاب کو اس کی پرانی شان و شوکت پر قائم کرنے میں نہایت مفید ہوسکتی ہے‘‘۔ (الفضل 13 مئی 1927ء ص2)
اسلامی اتحاد کے 31 نکات
اس مضمون کے ساتھ حضور نے ایک مفصل ٹریکٹ بھی شائع فرمایا۔ جس کاعنوان تھا۔ ’’آپ اسلام اور مسلمانوں کے لئے کیا کرسکتے ہیں‘‘؟
اس ٹریکٹ میں حضور نے اسلامی اتحاد کی تحریک کے اکتیس اہم نکات مسلمانوں کے سامنے رکھے جن میں انجمن ترقی اسلام سے تعاون کی اپیل فرمائی۔ یہ نکات حضور ہی کے الفاظ میں درج ذیل ہیں۔
1۔آپ آج سے اقرار کرلیں کہ جہاں تک آپ کے اختیار میں ہوگا۔ آپ جائز طور پر مسلمانوں کی بیکاری کو دور کرنے میں مدد دیں گے۔
2۔آپ کو اگر ایسے مسلمانوں کا علم ہے، جو کسی قسم کے روزگار کے متلاشی ہیں تو ان لوگوں کو تحریک کریں کہ وہ اپنے نام سے صیغہ ترقی اسلام کو اطلاع دیں۔
3۔آپ ارادہ کرلیں کہ آپ مسلمان مستحقین کو اپنا پیشہ سکھا کر انہیں کام کے قابل بننے کی ہر سعی کو استعمال کریں گے۔
4۔آپ کو ایسے نوجوانوں کا حال معلوم ہے۔ جو مناسب پیشہ نہ جاننے کے سبب سے بیکار ہیں تو ایسے نوجوانوں کے نام سے صیغہ ترقی اسلام کو اطلاع دیں۔
5۔آپ آج سے ارادہ کرلیں کہ مسلمان مظلوموں کی مدد کے لئے آپ حتی الوسع تیار رہیں گے۔
6۔ اگر آپ یہ نہیں کرسکتے تو یہ بھی آپ کی اسلامی خدمت ہوگی کہ آپ ایسے مظلوموں کے ناموں اور پتوں سے صیغہ مذکورہ بالا کو اطلاع دیں۔
7۔آپ کو بعض ایسے کام اور پیشے معلوم ہیں جن میںمسلمان ترقی کرسکتے ہیں تو اس کے متعلق صیغہ مذکورہ کو تفصیلی علم دیں۔
8۔اگر آپ کو بعض ایسے محکموں کا حال معلوم ہے جن میں مسلمان کم ہیں اور ان کی طرف توجہ مسلمانوں کے لئے مفید ہے تو ان سے صیغہ مذکور کو اطلاع دیتے رہیں۔
9۔اگر مسلمانوں کی کسی ضرورت کے لئے کسی ڈیپوٹیشن کی ضرورت ہو تو آپ اس میں شامل ہونے کے لئے بشرطیکہ آپ کے حالات اجازت دیں تیار رہیں۔
10۔اگر آپ پروفیسر ہیں یا تعلیم کے کم سے دلچسپی رکھتے ہیں تو ایسے تعلیمی شعبوں سے صیغہ مذکور کو اطلاع دیتے رہا کریں۔ جن میں مسلمان کم ہیں۔
11۔اندھا دھند پرانی لکیر پر چل کر ایک ہی لائن پر اپنے بچوں کو نہ چلائیں۔ بلکہ اپنے بچہ کو اعلیٰ تعلیم دلانے سے پہلے اپنے احباب سے مشورہ کرلیںکہ کس تعلیم سے نہ صرف بچہ ترقی کرسکتا ہے بلکہ مسلمانوں کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
12۔خود بھی سادہ زندگی کو اختیار کریں اور اپنے بچوں کو بھی سادہ زندگی اختیار کرنے کی تحریک کریں۔
13۔ اگر آپ کو خداتعالیٰ نے عزت دی ہے تو غربا سے اور اگر آپ شہری ہیں تو قصباتیوں سے تعلق بڑھائیں۔
14۔تعاون باہمی کی انجمنیں اپنے علاقوں میں قائم کریں۔
15۔آپ آج سے عہد کرلیں کہ کسی ہندو کی پکی ہوئی یا اس کے ہاتھ کی چھوئی ہوئی چیز کا استعمال نہیں کرنا۔ جب تک کہ ہندو اپنی روش کو بدل کر مسلمانوں سے خریدنا اور ان کے ہاتھوں کا کھانا نہ شروع کر دیں۔
16۔فساد سے بچنے اور مستقل ارادہ سے کام کرنے کی طرف آپ اپنے گردوپیش کے لوگوں کو تحریک کرتے رہیں۔
17۔آپ کے محلہ اور آپ کے گاؤں میں ایسے لوگ ہیں جن کو ہندو تہذیب نے ہزاروں سالوں سے غلام بنا رکھا ہے … ان کی ہدایت کی طرف توجہ کریں۔
18۔آپ مرسلہ اشتہار کو مناسب موقعوں پر اپنے شہر یا محلہ میں لگادیں گے تو یہ بھی ایک دینی خدمت ہے۔
19۔اس لٹریچر کو منگوا کر جو اس وقت کی ضرورت کے مطابق شائع کرایا جائے گا اپنے علاقہ میں فروخت کریں۔
20 ۔اگر آپ کے قصبہ اور شہر میں کوئی اسلامی انجمن ایسی نہیں جو تبلیغی کام میں حصہ لے رہی ہو تو آپ ایسی انجمن کو قائم کرکے دینی خدمت کرسکتے ہیں۔
21۔ہندو لوگ ہر علاقہ میں خفیہ خفیہ شدھی کی تحریک جاری کررہے ہیں۔ آپ ایک بہت بڑی خدمت اسلامی کریں گے اگر آپ ان کی حرکات کو تاڑتے رہیں۔
22۔بیواؤں، مظلوم عورتوں اور یتیموں کو آریہ اور مسیحی خصوصاً بہکا رہے ہیں۔ آپ ایک بڑی خدمت اسلام کریں گے اگر ان کے حالات پر نگاہ رکھیں اور ان کی مدد اور ہمدردی کریں۔
23۔اگر آپ کو شوق تبلیغ ہے اور آپ عربی کی تعلیم رکھتے ہیں یا کم سے کم انٹرینس تک تعلیم یافتہ ہیں تو ہم بڑی خوشی سے آپ کی مذہبی تعلیم کا انتظام کرنے کے لئے تیار ہیں۔
24۔اگر آپ کے ہاں پہلے سے انجمن قائم ہے تو آپ تبلیغی لیکچروں یا مباحثوں کا انتظام کرکے خدمت اسلام کر سکتے ہیں۔
25۔آپ مسلمانوں کی دینی تعلیم کے لئے ایسے لیکچروں کا انتظام کرکے بھی جن میں اسلامی تعلیم کی خوبیاں بیان کی جائیں اسلام کی خدمت کرسکتے ہیں‘‘۔
26۔آپ دین کی خدمت کے لئے اپنے اموال میں سے ایک حصہ الگ کرکے دین اسلام کی مدد کرسکتے ہیں‘‘۔
27۔آپ مسلمانوں میںیہ خیال پیدا کرکے کہ آپس میں گو ہمارے کس قدر اختلاف ہوں۔ لیکن دشمنان اسلام کے مقابلہ میں ہمیں ایک ہو جانا چاہئے … بہت بڑی خدمت اسلام کرسکتے ہیں۔
28۔آپ مسلمان زمینداروں میںیہ خیال پیدا کرکے کہ وہ اپنے علاقہ کی ادنیٰ اقوام کو مسلمان بنانے میں مبلغین اسلام کی مدد کریں۔ خدمت اسلام میں حصہ لے سکتے ہیں۔
29۔مسلمانوں کو ہر موقعہ پر اس خطرہ سے آگاہ کرتے رہیں جو اس وقت اسلام کو پیش آرہا ہے۔
30۔آپ کی خدمت اور بھی بڑھ جائے گی اگر آپ ایسے لوگوں کے ناموں اور پتوں سے صیغہ مذکورہ بالا کو اطلاع دیتے رہا کریں جو کسی نہ کسی رنگ میں خدمت اسلام میں حصہ لینے کے لئے تیار ہوں۔
31۔اگر آپ ان امور میں سے کسی امر کی تعیین نہ کرسکتے ہوں تو آپ کم سے کم اس قدر ضرور کریں کہ اپنی زندگی کو اسلام کی تعلیم کے مطابق بسر کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح آپ اسلام کو اعتراض سے بچانے میں ہماری مدد کریں گے۔ (انوارالعلوم جلد9 ص532 تا537)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی اس بروقت اور پُرزور تحریک کی کامیابی کے لئے جماعت احمدیہ کے مرکزی ناظروں، مبلغوں، کارکنوں اور دوسرے احمدیوں نے اپنے اوقات وقف کر دیئے اور ایسی غیرمعمولی جدوجہد سے کام لیا کہ خصوصاً مسلمانان پنجاب میں حیرت انگیز انقلاب برپا ہو گیا اور مسلمان نہ صرف اتحاد ملت اور تبلیغ اسلام سے متعلق اپنے فرائض کی طرف متوجہ ہوگئے بلکہ ایک نہایت ہی قلیل عرصہ میںمسلمانوں کی ہزاروں نئی دکانیں کھل گئیں۔ (انوارالعلوم جلد10 ص102)
ہندوؤں نے مسلمان دکانداروں کو ناکام کرنے کے لئے کئی صورتیں اختیار کیں۔ مثلاً جن چیزوں کی تجارت مسلمانوں نے شروع کی ان کی قیمتیں قیمت خرید سے بھی گرادیں۔ مگر مسلمانوں کو تجارت کے میدان سے بے دخل کرنے کی یہ تدبیریں کارگر نہ ہوسکیں اور ان کا قدم پیچھے ہٹنے کی بجائے آگے ہی بڑھتا گیا۔ (تاریخ احمدیت جلد4 ص583)
شیعہ سنی فساد کے موقع پر راہنمائی
1927ء کے ابتداء میں تیراہ کے علاقہ میں شیعہ سنی فساد رونما ہوا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس موقعہ پر شیعہ اور سنی حضرات سے مندرجہ ذیل دردمندانہ اپیل شائع کی۔
سرحدی آزاد علاقہ کے شیعہ سنی فساد کی اطلاعیں ان لوگوں کے لئے جن کے دل میں اسلام کا درد ہے۔ سخت صدمہ کا موجب ہوئی ہیں۔ … میں تمام سنیوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان معاملات پر پلیٹ فارم یا اخبارات میں جوش سے بحث نہ کریں بلکہ باہمی اختلافات کا پرائیویٹ طور پر تصفیہ کرنے کی کوشش کریں۔ نیز یہ بھی اپیل کرتا ہوں کہ سنی صرف اس واسطے اس جھگڑے میں سنیوں کو حق پر نہ سمجھ لیں کہ وہ سنی ہیں اور اسی طرح میں شیعوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ یہ خیال نہ کرلیں کہ شیعہ قبائل مظلوم ہیں صرف اس وجہ سے کہ وہ شیعہ ہیں لیکن یہ بات صاف ہے کہ ہمیں بہت سی عزیز جانوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جو کسی وقت مفاد اسلامی کے لئے زیادہ منفعت بخش ثابت ہوسکتی تھیں۔ ہمارا فوری فرض یہ ہونا چاہئے کہ اس برائی کو اور نہ پھیلنے دیں اور ان لوگوں کی مدد کریں جن کو اس فساد میں نقصان برداشت کرنا پڑا ہے میرے ناقص خیال میں چونکہ ہم سرکاری علاقہ میں رہنے کی وجہ سے آزاد علاقے پر بہت تھوڑا اثر رکھتے ہیں اور چونکہ وہ اقوام اپنی آزادی کے لئے بہت غیرت رکھتی ہیں۔ اس لئے ہم صرف سرحدی رؤسا کے ذریعہ ہی ان لڑنے والے قبائل پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ لہٰذا ہم کو فوراً پشاور اور کوہاٹ میں تمام اسلامی فرقوں کے ذی اثر اصحاب کی ایک کمیٹی بنانا چاہئے جس میں وہ ملا اور سردار خصوصیت سے شامل کئے جائیں۔ جن کو ان اقوام میں سے کسی نہ کسی کم و بیش رسوخ حاصل ہو تا کہ ہم آزاد سرحدی علاقہ کے شیعوں اور سنیوں میں صلح و آشتی پیدا کرنے کے ذرائع معلوم کرسکیں۔
میں یہ بھی تجویز کرتا ہوں کہ اس کمیٹی کو چاہئے کہ ان لوگوں میں حقیقی صلح کرائے اور صرف دفع الوقتی سے کام لے کر کوئی ایسا صلح نامہ نہ مرتب کرے۔ جو انجام کار ایک سخت نقصان دہ دھوکا ثابت ہو۔ نیز ایک فنڈ بھی فوراً کھولنا چاہئے۔ تاکہ جن لوگوں کو اس افسوسناک لڑائی میں مالی یا جانی نقصان پہنچا ہے ان کی مدد کی جاسکے۔ میں ایک لائق ڈاکٹر کی خدمات پیش کرتا ہوں۔ جو بشرط ضرورت ان زخمیوں کا علاج کرے گا جن کے متعلق میں نے سنا ہے کہ کثیر تعداد میں سرکاری علاقے میں آگئے ہیں۔ نیز میں ان لوگوں کے لئے جن کو اس لڑائی میں تکلیف پہنچی ہے ہر ایک قسم کی مالی و اخلاقی مدد دینے کا جو میری طاقت میں ہے وعدہ کرتا ہوں۔
(اخبار تنظیم امرتسر 14؍اگست 1927ء ص2۔ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد4 ص626)
مل کر مقابلہ کرو
ہندوستان کے سیاسی تغیرات اپنے ساتھ مذہبی خطرات بھی لارہے تھے۔ وہ مسلمان جو پہلے ہی اقتصادی طور پر ہندوؤں کے دست نگر اور ذہنی طور پر ان کے زیر اثر تھے اور تعلیمی اور دنیوی ترقیات سے محروم چلے آرہے تھے اور ان کا تبلیغی مستقبل بھی تاریک نظر آرہا تھا۔ چنانچہ گاندھی جی کا اخبار سٹیٹسمین میں ایک انٹرویو شائع ہوا کہ سوارج (ملکی حکومت) مل جانے کے بعد اگر غیر ملکی مشنری ہندوستانیوں کے عام فائدہ کے لئے روپیہ خرچ کرنا چاہیں گے تو اس کی تو انہیں اجازت ہوگی لیکن اگر وہ تبلیغ کریں گے تو میں انہیں ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کروں گا۔ جس کے معنے اس کے سوا اور کوئی نہیں ہوسکتے کہ سوارج میں مذہبی تبلیغ بند ہوجائے گی۔
اس کے علاوہ ہندوؤں کی طرف سے مسلمانوں پر ظلم و ستم کے واقعات برابر ہورہے تھے۔ پہلے بنارس میں فساد ہوا۔ پھر آگرہ اور میرزا پور میں اور پھر کانپور میں مسلمانوں کو نہایت بے دردی سے موت کے گھاٹ اتاردیا گیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اس نازک موقع پر مارچ 1931ء میں مسلمانوں کو پھر اتحاد کی پُرزور تلقین فرمائی اور نصیحت کی کہ اگر مسلمان ہندوستان میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ تو انہیں یہ سمجھوتہ کرنا چاہئے کہ اگر دیگر قوموں کی طرف سے کسی اسلامی فرقہ پر ظلم ہو تو خواہ اندرونی طور پر اس سے کتنا ہی شدید اختلاف کیوں نہ ہو اس موقع پر سب کو متفق ہو جانا چاہئے۔ (خطبات محمود جلد13 ص116)
تحریک اتحاد کے تعلق میں جماعت احمدیہ کی کوششیں کہاں تک بارآور ہوئیں اس کا اندازہ ایک ہندواخبار کے حسب ذیل الفاظ سے لگ سکتا ہے۔ اخبار ’’آریہ ویر‘‘ لاہور (9؍اگست 1931ء ص6) نے لکھا۔
’’رشی دیانند اور منشی اندرمن کے زبردست اعتراضات کی تاب نہ لا کر مرزا غلام احمد قادیانی نے احمدیہ تحریک کو جاری کیا۔ احمدیہ تحریک کا زیادہ تر حلقہ کار مسلمانوں کے درمیان رہا۔ اس جماعت کے کام نے مسلمانوں کے اندر حیرت انگیز تبدیلی پیدا کردی ہے۔ … اس تحریک نے مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کردیا۔ … آج مسلمان ایک طاقت ہیں، مسلمان قرآن کے گرد جمع ہو گئے‘‘۔
( الفاروق 28,21؍اپریل 1932ء ص10۔ بحوالہ تاریخ احمدیت جلد5 ص271)
مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے دعا کی تحریک
دوسری جنگ عظیم کے دوران وسط 1942ء میں محوری طاقتوں کا دباؤ مشرق وسطیٰ میں زیادہ بڑھ گیا اور جرمن فوجیں جنرل رومیل کی سرکردگی میں 21 جون کو طبروق کی قلعہ بندیوں پر حملہ کرکے برطانوی افواج کو شکست فاش دینے میں کامیاب ہوگئیں جس کے بعد ان کی پیش قدمی پہلے سے زیادہ تیز ہوگئی اور یکم جولائی تک مصر کی حدود کے اندر گھس کر العالمین کے مقام تک پہنچ گئیں جو سکندریہ سے تھوڑی دور مغرب کی جانب برطانوی مدافعت کی آخری چوکی تھی جس سے مصر براہ راست جنگ کی لپیٹ میں آگیا اور مشرق وسطیٰ کے دوسرے اسلامی ممالک خصوصاً حجاز کی ارض مقدس پر محوری طاقتوں کے حملہ کا شدید خطرہ پیدا ہوگیا۔
ان پُرخطرحالات میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 26 جون 1942ء کے خطبہ جمعہ میں عالم اسلام کی نازک صورتحال کا دردناک نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا کہ:۔
’’اب جنگ ایسے خطرناک مرحلہ پر پہنچ گئی ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات اس کی زد میں آگئے ہیں۔ مصری لوگوں کے مذہب سے ہمیں کتنا ہی اختلاف کیوں نہ ہو۔ وہ اسلام کی جو توجیہہ و تفسیر کرتے ہیں ہم اس کے کتنے ہی خلاف کیوں نہ ہوں اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ ظاہرا طور پر وہ ہمارے خدا ہمارے رسولؐ اور ہماری کتاب کو ماننے والے ہیں۔ ان کی اکثریت اسلام کے خدا کے لئے غیرت رکھتی ہے۔ ان کی اکثریت اسلام کی کتاب کے لئے غیرت رکھتی ہے اور ان کی اکثریت محمدﷺ کے لئے غیرت رکھتی ہے۔ اسلامی لٹریچر شائع کرنے اور اسے محفوظ رکھنے میں یہ قوم صف اول میں رہی ہے۔ آج ہم اپنے مدارس میں بخاری اور مسلم وغیرہ احادیث کی جو کتابیں پڑھاتے ہیں وہ مصر کی چھپی ہوئی ہی ہیں۔ اسلام کی نادر کتابیں مصر میں ہی چھپتی ہیں اور مصری قوم اسلام کے لئے مفید کام کرتی چلی آئی ہے۔ اس قوم نے اپنی زبان کو بھلا کرعربی زبان کو اپنا لیا۔ اپنی نسل کو فراموش کرکے یہ عربوں کا حصہ بن گئی اور آج دونوں قوموں میں کوئی فرق نہیں۔ مصر میں عربی زبان، عربی تمدن اور عربی طریق رائج ہیں اور محمد عربی ﷺ کا مذہب رائج ہے۔ پس مصر کی تکلیف اور تباہی ہر مسلمان کے لئے دکھ کا موجب ہونی چاہئے خواہ وہ کسی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو اور خواہ مذہبی طور پر اسے مصریوں سے کتنے ہی اختلافات کیوں نہ ہوں۔ پھر مصر کے ساتھ ہی وہ مقدس سرزمین شروع ہو جاتی ہے جس کا ذرہ ذرہ ہمیں اپنی جانوں سے زیادہ عزیز ہے نہر سویز کے ادھر آتے ہی آجکل کے سفر کے سامانوں کو مد نظر رکھتے ہوئے چند روز کی مسافت کے فاصلہ پر ہی وہ مقدس مقام ہے جہاں ہمارے آقا کامبارک وجود لیٹا ہے جس کی گلیوں میں محمد مصطفی ﷺ کے پائے مبارک پڑا کرتے تھے۔ جس کے مقبروں میں آپ کے والاو شیدا خداتعالیٰ کے فضل کے نیچے میٹھی نیند سورہے ہیں اس دن کی انتظار میں کہ جب صور پھونکا جائے گا وہ لبیک کہتے ہوئے اپنے رب کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔ دواڑھائی سو میل کے فاصلہ پر ہی وہ وادی ہے جس میں وہ گھر ہے جسے ہم خدا کا گھر کہتے ہیں اور جس کی طرف دن میں کم سے کم پانچ بار منہ کرکے ہم نماز پڑھتے ہیں اور جس کی زیارت اور حج کے لئے جاتے ہیں جو دین کے ستونوں میں سے ایک بڑا ستون ہے۔ یہ مقدس مقام صرف چند سو میل کے فاصلہ پر ہے اور آجکل موٹروں اور ٹینکوں کی رفتار کے لحاظ سے چار پانچ دن کی مسافت سے زیادہ فاصلہ پر نہیں اور ان کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں وہاں جو حکومت ہے اس کے پاس نہ ٹینک ہیں، نہ ہوائی جہاز اور نہ ہی حفاظت کا کوئی اور سامان کھلے دروازوں اسلام کا خزانہ پڑا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ دیواریں بھی نہیں ہیں اور جوں جوں دشمن ان مقامات کے قریب پہنچتا ہے ایک مسلمان کا دل لرز جاتا ہے‘‘۔ (الفضل 3 جولائی 1942ء ص3,2)
حضور نے خطبہ کے دوران مقامات مقدسہ کی حفاظت کے خدائی وعدوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یقین دلایا کہ ’’اللہ تعالیٰ خود ہی ان کی حفاظت فرمائے گا‘‘۔ لیکن ساتھ ہی مسلمانوں کو ان کی عملی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی اور فرمایا:۔
’’…اس میں شبہ نہیں کہ مکہ اور مدینہ کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں مگر اللہ تعالیٰ حفاظت کے لئے آسمان سے فرشتے نہیں اتارا کرتا بلکہ بعض بندوں کو ہی فرشتے بنا دیتا ہے اور ان کے دلوں میں اخلاص پیدا کردیتا ہے کہ اس کے وعدوں کو پورا کرنے کے ہتھیار بن جائیں۔ وہ گو انسان نظر آتے ہیں مگر ان کی روحوں کو فرشتہ کر دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ جو لوگ خداتعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاتے ہیں ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔ اس کا مطلب یہی ہے کہ خداتعالیٰ نے جو کام فرشتوں سے لینا تھا اسے کرنے کے لئے وہ آگے بڑھتے ہیں اس لئے وہ فرشتے بن جاتے ہیں اور جب وہ فرشتے ہو گئے تو مر کیسے سکتے ہیں۔ فرشتے نہیں مرا کرتے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ شہداء کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ مردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں اور اپنے خدا کے حضور رزق دیئے جاتے ہیں۔ پس گو ان مقامات کی حفاظت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے کیا ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ مسلمان ان کی حفاظت کے فرض سے آزاد ہوگئے ہیں۔ بلکہ ضروری ہے کہ ہر سچا مسلمان ان کی حفاظت کے لئے اپنی پوری کوشش کرے جو اس کے بس میں ہے‘‘۔ (الفضل 3 جولائی 1942ء ص4)
خطبہ کے آخر میں حضور نے خاص تحریک فرمائی کہ احمدی ممالک اسلامیہ کی حفاظت کے لئے نہایت تضرع اور عاجزی سے دعا ئیں کریں۔ چنانچہ حضور نے فرمایا:۔
’’یہ مقامات روز بروز جنگ کے قریب آرہے ہیں اور خداتعالیٰ کی مشیت اور اپنے گناہوں کی شامت کی وجہ سے ہم بالکل بے بس ہیں اور کوئی ذریعہ ان کی حفاظت کا اختیار نہیں کرسکتے، ادنیٰ ترین بات جو انسان کے اختیار میں ہوتی ہے یہ ہے کہ اس کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر جان دے دے مگر ہم تو یہ بھی نہیں کرسکتے اور اس خطرناک وقت میں صرف ایک ہی ذریعہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ جنگ کو ان مقامات مقدسہ سے زیادہ سے زیادہ دور لے جائے اور اپنے فضل سے ان کی حفاظت فرمائے۔ وہ خدا جس نے ابرہہ کی تباہی کے لئے آسمان سے وباء بھیج دی تھی اب بھی طاقت رکھتا ہے کہ ہر ایسے دشمن کو جس کے ہاتھوں سے اس کے مقدس مقامات اور شعائر کو کوئی گزند پہنچ سکے کچل دے … پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خداتعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ خود ہی ان مقامات کی حفاظت کے سامان پیدا کردے اور اس طرح دعائیں کریں جس طرح بچہ بھوک سے تڑپتا ہوا چلاتا ہے جس طرح ماں سے جدا ہونے والا بچہ یا بچہ سے محروم ہو جانے والی ماں آہ و زاری کرتی ہے۔ اسی طرح اپنے رب کے حضور رو رو کر دعائیں کریں کہ اے اللہ! تو خود ان مقدس مقامات کی حفاظت فرما اور ان لوگوں کی اولادوں کو جو آنحضرت ﷺ کے لئے جانیں فدا کرگئے اور ان کے ملک کو ان خطرناک نتائج جنگ سے جو دوسرے مقامات پر پیش آرہے ہیں بچالے اور اسلام کے نام لیواؤں کو خواہ وہ کیسی ہی گندی حالت میں ہیں اور خواہ ہم سے ان کے کتنے اختلافات ہیں ان کی حفاظت فرما اور اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ جو کام آج ہم اپنے ہاتھوں سے نہیں کرسکتے وہ خداتعالیٰ کاہاتھ کردے اور ہمارے دل کا دکھ ہمارے ہاتھوں کی قربانیوں کا قائم مقام ہوجائے‘‘۔ (الفضل 3 جولائی 1942ء ص5,4)
بعض متعصب ہندو ہمیشہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوستان کی نسبت مکہ اورمدینہ کی محبت بہت زیادہ ہے۔ اس موقعہ پر حضور نے اس اعتراض کا یہ نہایت لطیف جواب دیا کہ:
’’بیشک دین کی محبت ہمارے دلوں میں زیادہ ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وطن کی محبت نہیں ہے۔ اگر ہمارا ملک خطرہ میں ہو تو ہم اس کے لئے قربانی کرنے میں کسی ہندو سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ لیکن اگر دونوں خطرہ میں ہوں یعنی ملک اور مقامات مقدسہ تو مؤخرالذکر کی حفاظت چونکہ دین ہے اور زندہ خدا کے شعار کی حفاظت کا سوال ہے اس لئے ہم اسے مقدم کریں گے۔ بیشک ہم عرب کے پتھروں کو ہندوستان کے پتھروں پر فضیلت نہ دیں لیکن ان پتھروں کو ضرور فضیلت دیں گے جن کو خداتعالیٰ نے ہمارے لئے فضیلت کا مقام بنایا ہے … ایک مادہ پرست ہندو کیا جانتا ہے کہ وطن اور خداتعالیٰ کے پیدا کردہ شعائر میں کیا فرق ہے۔ وہ عرفان اور نیکی نہ ہونے کی وجہ سے اس فرق کو سمجھ نہیں سکتا … حب الوطن من الایمان ہمارے ایمان کاجزو ہے مگر وہ گلیاں جن میں ہمارے پیار آقا محمد مصطفی ﷺ چلتے رہے ہیں وہ پتھر جنہیں خداتعالیٰ نے ہمارے لئے عبادت کا مقام بنایا ہمیں وطن سے زیادہ عزیز ہیں۔ اس پرکوئی ہندو یا عیسائی حاسد جلتا ہے تو جل مرے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
(الفضل 3 جولائی 1942ء ص5)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی اس تحریک پر قادیان اور بیرونی احمدی جماعتوں میں مقامات مقدسہ کے لئے مسلسل نہایت پردرد دعاؤں کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنے محبوب خلیفہ اور اپنی پیاری جماعت کی تضرعات کو بپایۂ قبولیت جگہ دی اور جلد ہی جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ چنانچہ 23؍اکتوبر 1942ء کو برطانوی فوجوں نے العالمین پر جوابی یلغار شروع کی۔ ادھر شمالی افریقہ کے مغربی حصے (یعنی مراکش اور الجزائر) میں امریکہ نے اپنی فوجیں اتار دیں جو مغرب سے مشرق کو بڑھنے لگیں۔ 13 نومبر 1942ء کو برطانوی فوجوں نے طبروق پر اور 20 نومبر تک بن غازی پر دوبارہ قبضہ کرلیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس مرحلہ پر غیرت اسلامی کاجو اظہار فرمایا اسے مخالفین احمدیت نے بھی بہت سراہا۔ چنانچہ احراری اخبار ’’زمزم‘‘ نے اپنی 19 جولائی 1942ء کی اشاعت میں لکھا۔
’’موجودہ حالات میں خلیفہ صاحب نے مصر اور حجاز مقدس کے لئے اسلامی غیرت کاجو ثبوت دیا ہے وہ یقینا قابل قدر ہے اور انہوں نے اس غیرت کا اظہار کرکے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کی ہے۔
نیز لکھا:۔
’’زمزم‘‘ معترف ہے کہ مقدس مقامات کی طرف سے خلیفہ صاحب کا اندیشہ بالکل حق بجانب ہے‘‘۔ (الفضل 22 جولائی 1942ء ص1 کالم4)
فتنہ صیہونیت کے خلاف زبردست اسلامی تحریک
دنیا کی تمام بڑی بڑی اسلام دشمن طاقتیں ایک لمبے عرصہ سے فلسطین میں یہودیوں کو وسیع پیمانے پر آباد کرتی آرہی تھیں۔ اس خوفناک سازش کا نتیجہ بالآخر 16 مئی 1948ء کو ظاہر ہو گیا جبکہ برطانیہ کی عملداری اور انتداب کے خاتمہ پر امریکہ، برطانیہ اور روس کی پشت پناہی میں ایک نام نہاد صیہونی حکومت قائم ہو گئی اور دنیائے اسلام کے سینہ میں گویا ایک زہر آلود خنجر پیوست کر دیا گیا۔
اس نہایت نازک وقت میں جبکہ ملت اسلامیہ زندگی اور موت کی کشمکش سے دوچار تھی۔ حضرت مصلح موعودؓ نے عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے ایک بار پھر پوری قوت سے جھنجوڑا۔ انہیں مغربی طاقتوں اور صیہونی حکومت کے درپردہ تباہ کن عزائم سے قبل از وقت آگاہ فرمایا اور اس فتنہ عظمیٰ کے منظم مقابلہ کے لئے نہایت مفید تجاویز پر مشتمل ایک قابل عمل دفاعی منصوبہ منصوبہ پیش کیا۔
چنانچہ حضور نے خاص اس مقصد کے لئے ’’الکفر ملۃواحدۃ‘‘ کے نام سے ایک حقیقت افروز مضمون سپرد قلم فرمایا جس میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے فوراً ایک پلیٹ فارم پرجمع ہونے اور اس کے خلاف سردھڑ کی بازی لگادینے کی زبردست تحریک فرمائی۔
آپ نے تحریر فرمایا:۔
وہ دن جس کی خبر قرآن کریم اور احادیث میں سینکڑوں سال پہلے سے دی گئی تھی۔ وہ دن جس کی خبر تورات اور انجیل میں بھی دی گئی تھی۔ وہ دن جو مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ اور اندیش ناک بتایا جاتا تھا معلوم ہوتا ہے کہ آن پہنچا ہے۔ فسلطین میں یہودیوں کو پھر بسایا جارہا ہے۔ امریکہ اور روس جو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر آمادہ ہورہے ہیں۔ اس مسئلہ میں ایک بستر کے دو ساتھی نظر آتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں بھی یہ دونوں متحد تھے۔ دونوں ہی انڈین یونین کی تائید میں تھے اور اب دونوں ہی فلسطین کے مسئلہ میں یہودیوں کی تائید میں ہیں۔ … عرب اس حقیقت کو سمجھتا ہے۔ عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہیں اس لئے وہ اپنے جھگڑے اور اختلاف کو بھول کر متحدہ طور پریہودیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے مگر کیا عربوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے۔ ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔ سوال فلسطین کا نہیں سوال مدینہ کا ہے۔ سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔ سوال زید اور بکر کا نہیں سوال محمد رسول اللہ ﷺ کی عزت کا ہے۔ دشمن باوجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہوگیا ہے۔ کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہوگا۔ … پس میں مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک وقت کو سمجھیں اور یاد رکھیں کہ آج رسول کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ الکفر ملۃ واحدۃ لفظ بلفظ پورا ہورہا ہے۔ یہودی اور عیسائی اور دہریہ مل کر اسلام کی شوکت کومٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔ پہلے فرداً فرداً یورپین اقوام مسلمانوں پر حملہ کرتی تھیں مگر اب مجموعی صورت میں ساری طاقتیں مل کر حملہ آور ہوئی ہیں۔ آؤ ہم بھی سب مل کر ان کا مقابلہ کریں کیونکہ اس معاملہ میں ہم میںکوئی اختلاف نہیں۔ دوسرے اختلافوں کو ان امور میں سامنے لانا جن میں کہ اختلاف نہیں۔ نہایت ہی بیوقوفی اور جہالت کی بات ہے۔ قرآن کریم تو یہود سے فرماتا ہے۔
قل یااھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمۃ سوآئٍ بیننا و بینکم الانعبد الا اللّٰہ ولانشرک بہ شیئا و لایتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللّٰہ (آل عمران :65)
اتنے اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی قرآن کریم یہود کو دعوت اتحاد دیتا ہے۔ کیا اس موقع پر جبکہ اسلام کی جڑوں پر تبر رکھ دیا گیا ہے۔ جب مسلمانوں کے مقامات مقدسہ حقیقی طور پر خطرے میں ہیں۔ وقت نہیں آیا کہ آج پاکستانی، افغانی، ایرانی، ملائی، انڈونیشین، افریقن، بربر اور ترکی یہ سب کے سب اکٹھے ہو جائیں اور عربوں کے ساتھ مل کر اس حملہ کا مقابلہ کریں جو مسلمانوں کی قوت کو توڑنے اور اسلام کو ذلیل کرنے کے لئے دشمن نے کیا ہے؟
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ایک دفعہ پھر فسلطین میں آباد ہوں گے لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے آباد ہوں گے۔ فلسطین پر ہمیشہ کی حکومت تو عباداللہ الصالحون کے لئے مقرر کی گئی ہے۔ پس اگر ہم تقویٰ سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کی پہلی پیشگوئی اس رنگ میں پوری ہوسکتی ہے کہ یہود نے آزاد حکومت کا وہاں اعلان کر دیا ہے لیکن اگر ہم نے تقویٰ سے کام نہ لیا تو پھر وہ پیشگوئی لمبے وقت تک پوری ہوتی چلی جائے گی اور اسلام کے لئے ایک نہایت خطرناک دھکا ثابت ہوگی۔ پس ہمیں چاہئے اپنے عمل سے، اپنی قربانیوں سے، اپنے اتحاد سے، اپنی دعاؤں سے، اپنی گریہ و زاری سے اس پیشگوئی کا عرصہ تنگ سے تنگ کر دیں اور فلسطین پر دوبارہ محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت کے زمانہ کو قریب سے قریب تر کردیں اورمیں سمجھتا ہوں اگر ہم ایسا کردیں تو اسلام کے خلاف جو رو چل رہی ہے وہ الٹ پڑے گی۔ عیسائیت کمزوری و انحطاط کی طرف مائل ہو جائے گی اور مسلمان پھر ایک دفعہ بلندی اور رفعت کی طرف قدم اٹھانے لگ جائیں گے۔ شاید یہ قربانی مسلمانوں کے دل کو بھی صاف کر دے اور ان کے دل بھی دین کی طرف مائل ہو جائیں۔ پھر دنیا کی محبت ان کے دلوں سے سرد ہوجائے۔ پھر خدا اور اس کے رسولؐ اور ان کے دین کی عزت اور احترام پر وہ آمادہ ہوجائیں اور ان کی بے دینی دین سے اور ان کی بے ایمانی ایمان سے اور ان کی سستی چستی سے اور ان کی بدعملی سعیٔ پیہم سے بدل جائے۔ (الفضل 21 مئی 1948 ء ص4,3)
حضرت مصلح موعودؓ کے اس انقلاب انگیز مضمون نے شام، لبنان، اردن اور دوسرے عرب ممالک میں زبردست تہلکہ مچا دیا۔ اس مضمون کی نہایت وسیع پیمانے پر اشاعت کی گئی اور شام و لبنان کی تین سو مشہور اور ممتاز شخصیتوں کوجن میں بیشتر وزرائ، پارلیمنٹ کے ممبر، کالجوں کے پروفیسر، مختلف وکلائ، بیرسٹر اور سیاسی اور مذہبی لیڈر تھے) خاص طور پر بذریعہ ڈاک بھجوایا گیا اور مجموعی طور پر ہرجگہ اس مضمون کا نہایت ہی اچھا اثر ہوا۔ (الفضل 17 ستمبر 1948ء ص2 کالم1)
یہی نہیں شام ریڈیو نے خاص اہتمام سے اس کا خلاصہ نشر کرکے اسے دنیائے عرب کے کونہ کونہ تک پہنچا دیا۔ اخبار ’’الیوم‘‘۔ الف باء الکفاح۔ الفیحائ۔ الاخبار۔ القبس۔ النصر۔ الیقظہ۔ صوت الاحرار۔ النھضہ۔ اور الاردن وغیرہ چوٹی کے عربی اخبارات میں شائع ہوا۔
تیونس اور مراکش کی تحریک آزادی کی حمایت اور دعا
تیونس اور مراکش کے جانباز مسلمان ایک عرصہ سے فرانس کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ مؤتمر عالم اسلامی نے فیصلہ کیا کہ 21 نومبر 1952ء کو دنیا بھر کے مسلمان یوم تیونس و مراکش منائیں۔
اس فیصلہ کے مطابق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ہدایت پر جماعت احمدیہ نے بھی ان مظلوم اسلامی ممالک کے مطالبہ آزادی کی حمایت میں جلسے کئے اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو کامیابی بخشے۔
چوہدری محمد ظفراللہ خانؓ صاحب وزیرخارجہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں ان ممالک کے حق میں پُرزور آواز بلند کی جس کی تفصیل آپ کی خود نوشت سوانح ’’تحدیث نعمت‘‘ (طبع اول 1971ء صفحہ 569، 573) میں ملتی ہے۔ 1951ء میںجنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران مراکش اور تیونس کے مسئلے کو ایجنڈا میں شامل کرنے کا سوال پیش ہوا تو آپ ہی کی تقریر اس موقع پر سب سے نمایاں تھی۔ تقریر میں آپ نے امریکہ اور دیگر تمام ایسے ممالک کے طرز عمل کی مذمت کی جو ان مسائل کو شامل ایجنڈا کرنے کے خلاف تھے۔ آپ نے جب دوران اجلاس فرمایا کہ اگر ان مسائل پر غور کرنے سے انکار کیا گیا تو مراکش میں قتل و خون ہوگا اور اس کی تمام تر ذمہ داری امریکی نمائندہ پر ہوگی تو امریکی مندوب کا رنگ زرد پڑ گیا۔ (ملت لاہور 22 جنوری 1954ء ص7)
اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کی دعاؤں، چوہدری صاحب کی کوششوں اور اہل تیونس و مراکش کی قربانیوں کو شرف قبولیت بخشا اور یہ دونوں ملک 1956ء میں آزاد ہوگئے۔
اتحاد کی تحریک
1955ء میں حضور نے یورپ کا سفر فرمایا اور رجحانات کاجائزہ لے کر دعوت الی اللہ کی نئی سکیمیں شروع کیں۔
یورپ کے بدلے ہوئے رجحانات کو دیکھ کر مسلمانوں کو متحد کرنے کا جذبہ اور زیادہ ابھر آیا اور حضور نے پاکستان میں پہنچتے ہی یہ آواز بلند فرمائی کہ یورپ کو مسلمان بنانے کے لئے سب مسلمانوں کو اکٹھا ہو جانا چاہئے۔ اتحاد بین المسلمین کی یہ تحریک حضور نے 21 ستمبر 1955ء کی ایک تقریب میں فرمائی جس کا اہتمام جماعت احمدیہ کراچی نے کیا تھا۔ چنانچہ اخبار المصلح کراچی نے لکھا۔
امام جماعت احمدیہ حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ نے آج بیچ لگژری ہوٹل میںتقریر کرتے ہوئے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کرکے اشاعت و تبلیغ اسلام کے اہم کام کے لئے متحد و منظم ہو جائیں اور ان اعتراضات کا علمی جواب دیں جو یورپ اور دوسرے ممالک کی غیر مسلم دنیا، اسلام اور محمد مصطفی ﷺ کے مقدس وجود پر کررہی ہے۔ امام جماعت احمدیہ اس دعوت عصرانہ میں یہ تقریر فرمارہے تھے جو آپ کے یورپ سے تشریف لانے پر آپ کے اعزاز میں آج کراچی کی جماعت احمدیہ کی طرف سے بیچ لگژری ہوٹل کے وسیع و شاداب لان میں دی گئی تھی۔ امام جماعت احمدیہ نے قرآن مجید کی وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں یہود اور عیسائیوں کو نظریہ توحید کی اشاعت و تبلیغ کے لئے تعاون کی دعوت دی گئی ہے۔ امام جماعت احمدیہ نے نہایت دلچسپ طرز استدلال کے بعد فرمایا اگر اسلام اور محمد مصطفی ﷺ کے بدترین دشمن یہودی اور عیسائیوں کو یہ دعوت دی جاسکتی ہے کہ وہ رسالت نبوی کے لئے نہیں بلکہ محض وحدانیت خداوندی کے لئے مجتمع ہوجائیں اور باہمی تعاون سے کام لیں تو کیا وجہ ہے کہ آج مسلمان اپنے اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کرکے رسول اکرم ﷺ کی صداقت اور اسلام کی اشاعت کے لئے باہمی تعاون اور اشتراک سے کام نہ لے سکیں؟ سفر یورپ کے تاثرات بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا میرا مشاہدہ ہے کہ اب یورپ اسلام کی طرف بڑی تیزی سے مائل ہورہا ہے اور وہاں کے لوگ اسلام اور محمد مصطفی ﷺ کی عظمت کا اعتراف کررہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم لوگ اپنی جانی و مالی قربانی سے وہاں اسلام کے پیغام کو پہنچائیں اور جو لوگ کبھی محمد ﷺ کی شان میںگستاخی کے کلمات نکالتے رہے ہیں آج انہی کے مونہوں سے آپ کے لئے درود و سلام کا نذرانہ پیش کریں۔
امام جماعت احمدیہ نے اس امر پر نہایت افسوس کا اظہار کیا کہ آج مسلمانوں کے مختلف فرقے نہایت معمولی معمولی مسائل پر باہم دست و گریباں ہیں حالانکہ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم محمد مصطفی ﷺ کی ذات اور اسلام پر ہونے والے حملوں کا دفاع کس طرح کریں؟ آپ نے کہا کہ مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں اور مختلف فرقے یورپ اور دوسرے ممالک میں تبلیغ اسلام کے لئے مشن کھولیں تو یقینا چند ہی سالوں کے اندر اندر یورپ کی کثیر آبادی محمد ﷺ کے حلقہ غلامی میں آسکتی ہے۔ آپ نے کہا کہ اگر آج مسلمانوں نے بھی اپنی سستیوں اور غفلتوں کو ترک نہ کیا اور اسلام کی اصل ضرورت کو سمجھ کر میدان میں نہ آئے تو وہ قیامت کے روز شافع محشر کو اپنا منہ نہ دکھا سکیں گے۔ تقریر کے اختتام پر امام جماعت احمدیہ نے اکثر حاضرین کو شرف مصافحہ بخشا اور ان سے گفتگو فرمائی۔ اس تقریب میں کئی سفارتی نمائندے، اعلیٰ سرکاری حکام، ممتاز شہری، اخباری نمائندے اور دیگر معزز افراد شریک تھے۔
(تاریخ احمدیت جلد18 ص29)
سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی یہ اہم تقریر اتحاد بین المسلمین کی عظیم الشان تحریک تھی جسے پاکستان کے اردو اور انگریزی اخبارات نے نمایاں طورپر شائع کیا۔


مسلمانان کشمیر کے متعلق تحریکات
اہل کشمیر مدتوں سے غلامی اور ظلم و ستم کا شکار تھے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنہیں اسیروں کی رستگاری کا موجب قرار دیا گیا تھا آپ نے اس خطہ جنت نظیر کو انسانی حقوق دلانے کے لئے بے پناہ جدوجہد کی اور متعدد تحریکات فرمائیں اور آپ کی راہنمائی میں جماعت احمدیہ نے بے نظیر خدمات سرانجام دیں۔ ان طویل خدمات کو اختصار کے ساتھ ملاحظہ کرنے سے معلوم ہوگا کہ اس کی تفصیل ضخیم کتب کا تقاضا کرتی ہے۔ زیر نظر مضمون میں صرف تاریخ احمدیت جلد 5 کو سامنے رکھ کر سال وار چند عنوان بیان کئے گئے ہیں۔
1909ئ:
حضور نے خلافت سے قبل یکم جولائی 1909ء تا 22 ؍اگست 1909ء پہلا سفر کشمیر اختیار فرمایا۔ آپ نے کشمیری طلباء کو قادیان میں تعلیم دلانے کی طرف خاص توجہ فرمائی اور خلیفہ بننے کے بعد ان کے لئے وظائف مقرر فرما دیئے۔ حضور کے ارشادات کی روشنی میں ایک احمدی بزرگ حضرت حاجی عمر ڈار صاحب رفیق حضرت مسیح موعود نے کشمیر میں تعلیم بالغاں کی بنیاد رکھی اسی طرح ان کے بیٹے خواجہ عبدالرحمان صاحب نے اس کام کو آگے بڑھایا۔ علاقہ جموں میں میاں فیض احمد صاحب نے تعلیمی جدوجہد میں نمایاں حصہ لیا۔
1914ئ:
کشمیر کے ایک احمدی عالم مولوی عبدالرحمان صاحب نے راجور کے مسلمانوں کو منظم کرنے کی کوشش کی جس پر انہیں شدید مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔
1921ئ:
حضور کا دوسرا سفر کشمیر 25 جون تا 29 ستمبر۔ حضور نے اہل کشمیر کو باہمی اتحاد قائم کرنے اور بدرسوم سے علیحدگی کی طرف خاص توجہ دلائی۔
1929ئ:
حضور نے کشمیر کے ایک غیر احمدی پیر سے قادیان میں ملاقات کے درمیان پیشکش کی کہ آپ کشمیر سے ذہین طلباء بھجوائیں ہم ان کی تعلیم کا ذمہ لیتے ہیں۔
حضرت خواجہ عبدالرحمان ڈار صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایات کی روشنی میں مسلمان زمینداروں کی تنظیم و اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔ جس پر ریاستی حکام نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔
خلیفہ عبدالرحیم صاحب نے ملازمتوں کے ضمن میں مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم سے معین اعدادوشمار کے ساتھ ریاستی وزراء کو آگاہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں ہندوستان کے مدبر اور کشمیر کے وزیرخارجہ سر ایلین بینر جی نے مسلمانوں کے حق میں زبردست بیان دیا جس نے ریاست میں ہیجان برپا کر دیا۔ ان کے بیان کی تائید میں قادیان میںجماعت احمدیہ نے جلسہ کرکے قرارداد پاس کی۔
28,27؍اپریل کو لدھیانہ میں ہونے والے آل انڈیا مسلم کشمیری کانفرنس کے سالانہ اجلاس کی روداد الفضل نے شائع کرکے اہل کشمیر کے مطالبات عوام و خواص تک پہنچائے۔
حضور کا تیسرا دورہ کشمیر
حضور کا تیسرا سفر کشمیر 5 جون تا 30 ستمبر 1929ئ۔ حضور نے اہل کشمیر کو اخلاقی، ذہنی اور روحانی تغیر پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔
حضور کے ارشادات سے متاثر ہو کر احمدی نوجوان خوا جہ غلام نبی گلکار انور نے اصلاحی تقاریر کا سلسلہ شروع کیا۔
1930ئ:
مئی 1930ء میں ریڈنگ روم پارٹی کا قیام ہوا جس کے صدر شیخ محمد عبداللہ اور جنرل سیکرٹری خواجہ غلام نبی صاحب گلکار چنے گئے۔ چونکہ ریاست میں سیاسی انجمن بنانے کی اجازت نہیں تھی اس لئے ایک اور خفیہ پارٹی بنائی گئی جس میں خوا جہ غلام نبی صاحب بھی شامل تھے۔
1931ئ:
ریاست کشمیر میں مذہبی مداخلت اور توہین قرآن کے ناگوار واقعات پیش آئے جس پر حضرت مصلح موعودؓ نے آزادی کشمیر سے متعلق 3 مضامین لکھے جو الفضل کے علاوہ اخبار انقلاب میں بھی شائع ہوئے۔ ان میں حضور نے کشمیر کے نمائندوں پر مشتمل کشمیرکانفرنس کے قیام کی تجویز پیش کی۔
13 جولائی کو مسلمانان سرینگر کے ایک اجتماع پر حکومت نے گولی چلا دی۔ کئی سو مسلمان گرفتار کرلئے گئے اور مسلم لیڈروں کو گرفتار کرلیا۔ جس پر حضرت مصلح موعود نے وائسرائے ہند کے نام تار دیا۔ جماعت نے ریاست میں ایک طبی وفد کو داخلہ دینے کی درخواست کی مگر حکومت نے انکار کر دیا۔ حضور نے ایک وکیل کو سرینگر بھجوایا اور 500 روپے کی رقم بھی ارسال فرمادی۔
پھر حضور نے فوراً ایک گشتی چٹھی پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے مسلمانوں کو بھی لکھی اور تار بھی دیئے کہ 25 جولائی 1931ء کو ہم شملہ میں جمع ہو کر کشمیر کے معاملہ پر پورے طور پر غور کریں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے تین اقدامات فرمائے۔ (1) لندن میں احمدیہ مشن کو کشمیر کے حالات پر احتجاج کرنے کے لئے لکھا۔ (2) روزنامہ الفضل کو اہل کشمیر پر ظلم و ستم کے خلاف زیادہ پُرزور آواز بلند کرنے کا ارشاد فرمایا۔ (3) جماعت احمدیہ کے تمام افراد کو تحریک آزادی کے لئے مستعد و تیار کرنے کے لئے 18جولائی 1931ء کو قادیان میں وسیع پیمانے پر زبردست احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال ایم۔اے۔ خوا جہ غلام نبی صاحب ایڈیٹر الفضل اور مولوی نظام الدین صاحب مبلغ کشمیر نے مظالم کشمیر پر تقریریں کیں اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف زبردست صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے متعدد قرار دادیں پاس کی گئیں۔
کشمیر کمیٹی کی صدارت
25 جولائی 1931ء کو شملہ میں مسلم زعماء کی کانفرنس ہوئی جس میں 64 سرکردہ افراد شریک ہوئے۔ آل انڈیا کشمیر کمیٹی قائم کی گئی۔ علامہ اقبال نے حضرت مصلح موعود کا نام صدارت کے لئے پیش کیا جس کی سب نے متفقہ طورپر تائید کی۔ سیکرٹری مولوی عبدالرحیم صاحب درد تجویز کئے گئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اس شرط پر صدارت قبول کی کہ آپ کی ساری کوششیں آئینی ہوں گی اور روح تعاون پر مبنی ہوں گی۔
حضور نے اس خدمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
’’میرے ذمہ تو پہلے ہی بہت کام ہیں اتنی عظیم الشان جماعت کا میں امام ہوں اور اس قدر کام کرنا پڑتا ہے کہ بارہ ایک بجے سے پہلے شاید ہی کبھی سونا نصیب ہوتا ہو۔ میں نے تو یہ بوجھ صرف اس لئے اٹھایا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کی آئندہ نسلیں دعائیں دیں گی اور کہیں گی کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا بھلا کرے جن کی کوشش سے آج ہم آرام کی زندگی بسر کررہے ہیں … ان کی دعائیں عرش الٰہی کو ہلا دیں گی۔ وہ کہیں گے الٰہی! جن لوگوں نے ہمیں آزاد کرایا ہے تو بھی ان کو آزاد کر دے‘‘۔
(الفضل 24 ستمبر 1931ء ، انوارالعلوم جلد12 ص134)
یکم اگست: حضور نے وائسرائے ہند لارڈ ولنگٹن سے ملاقات کی اور کشمیر کے متعلق اپنا مؤقف بیان کیا۔
اگست: حضور نے پبلسٹی کمیٹی تجویز فرمائی جس کا کام مسلمانان کشمیر کے حقوق و مطالبات کی حمایت و اشاعت تھا۔ اس کمیٹی نے کئی کتب اور ہینڈ بل شائع کئے۔ کمیٹی نے مسلم پریس سے رابطہ کرکے اخبارات میں مضامین لکھے اور لکھوائے۔
حضور نے خود بھی کئی مضامین لکھے جو جماعت کے اخبار سن رائز میں ترجمہ کرکے بطور اداریہ شائع کئے جاتے رہے۔
تحریک کشمیر کی تائید کرنے کے جرم میں حکومت نے اخبار انقلاب پر مقدمہ چلانا اور بند کرنا چاہا تو حضور نے ایڈیٹر انقلاب عبدالمجید سالک صاحب کو پیغام بھجوایا کہ ہم ضمانت کی پوری رقم 5 ہزار داخل کرنے کو تیار ہیں اخبار بند نہیں ہونا چاہئے۔
3؍اگست: حضور نے مہارا جہ جموں و کشمیر کے نام تار دیا جس میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے وفد سے ملاقات کی اجازت مانگی گئی۔ لیکن مہاراجہ نے اجازت نہ دی۔
کشمیر ریلیف فنڈ
حضور نے اہل کشمیر کی خدمت کے لئے کشمیر ریلیف فنڈ قائم کرکے ایک پائی فی روپیہ ہر احمدی کے لئے لازمی قرار دے دیا۔ چنانچہ کمیٹی کے اخراجات کا اکثر حصہ جماعت احمدیہ نے برداشت کیا۔
شیخ محمد عبداللہ صاحب حضرت مصلح موعود سے ملاقات کے لئے تشریف لائے اور حضور کی راہنمائی میں کام کرنے کا وعدہ کیا۔
حضور نے مسلمانان کشمیر کی تنظیمی جدوجہد میں جوش پیدا کرنے کے لئے مطبوعہ خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔
یوم کشمیر
14؍اگست 1931ء : آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق پورے ہندوستان میں یوم کشمیر منایا گیا۔ قادیان میں بھی جلوس نکالا گیا اور جلسہ منعقد کیا گیا۔
جموں کے ایک جلسہ میں گولی چلا دی گئی اور مساجد پر حکومت نے قبضہ کرلیا جس پر حضور نے مہارا جہ کو فوری تار دیا۔ نیز فوٹو گرافر بھیج کر تصاویر لی گئیں۔
حضور کی ہدایت پر کشمیر کے متعلق عالمی پروپیگنڈہ کا آغاز ہوا۔ چنانچہ برطانیہ، امریکہ، سماٹرا، جاوا، عرب، مصر و شام میں خاص مہم شروع کی گئی۔
13 ستمبر: سیالکوٹ میں کشمیر کمیٹی کے اجلاس کے بعد جلسہ عام سے حضور نے خطاب فرمایا۔ اس جلسہ پر سنگباری بھی کی گئی لیکن حضور نے اس کی کوئی پرواہ نہیں کی۔
مظلومین ریاست کی طبی اور قانونی امداد کے لئے حضور نے متعدد وفد بھیجے۔ پہلا وفد 14؍اگست سے قبل کشمیر پہنچ گیا۔ جو ایک وکیل اور کئی ڈاکٹروں پرمشتمل تھا۔
21ستمبر: شیخ محمد عبداللہ صاحب کو حکومت نے گرفتار کرلیا اور احتجاج کرنے والے مسلمانوں پر پولیس نے گولی چلا دی۔ یہ تمام واقعات الفضل 29 ستمبر میں شائع کر دیئے گئے۔ … 26 ستمبر کو ریاست نے مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اس موقع پر حضور نے مسلسل قربانیوں کی پُرجوش تحریک فرمائی۔
5؍اکتوبر: حضور کی کوششوں سے مہارا جہ نے شیخ محمد عبداللہ صاحب کو رہا کر دیا۔ مارشل لاء ختم کردیا اور مسلمانوں کے مطالبات پر ہمدردانہ غور کا وعدہ کیا۔
کشمیری لیڈروں نے حضور کے مشورہ سے مطالبات کا مسودہ تیار کیا جو 19؍اکتوبر کو مہارا جہ کو پیش کیا گیا۔
نومبر: حضور نے مہارا جہ سے اپیل کی کہ فسادات کی تحقیقات کے لئے آزاد کمیشن مقرر کیا جائے۔
11نومبر: مہارا جہ نے مڈلٹن کمیشن اور گلانسی کمیشن مقرر کئے۔ جس کے سامنے کیس پیش کرنے کے لئے حضور کے ارشاد پر متعدد احمدیوں نے نہایت قیمتی قانونی خدمات فراہم کیں۔
اس سلسلہ میں ملک فضل حسین صاحب نے ’’مسلمانان کشمیر اور ڈوگرہ راج‘‘ تصنیف کی جس نے ان کمیشنوں کی بہت مدد کی۔ حضور گلانسی کمیشن کے مسودہ پر نظر ثانی کرکے مفید مشورے عطا فرماتے رہے۔
شاندار فتح
12نومبر1931ئ: مہارا جہ نے رعایا کو ابتدائی انسانی حقوق دینے کا اعلان جاری کیا جو آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی پہلی شاندار فتح تھی۔
مہارا جہ نے پتھر مسجد واگزار کر دی جس میں 50 ہزار مسلمانوں کا جلسہ ہوا اور حضور کا شکریہ ادا کیا گیا۔
زعمائے کشمیر نے وزیرآباد میں حضور سے ملاقات کی اور مشورے لئے۔
1932ئ:
فروری: قادیان میں گریجوایٹ، مولوی فاضل اور کم تعلیم کے لوگوں کو آنریری خدمات کے لئے تحریک کی گئی۔ سینکڑوں احمدیوں نے اپنے آپ کو حاضر کر دیا۔
فسادات کشمیر کی ذمہ داری وزیراعظم ہری کشن کول پر تھی اس لئے حضور نے ان کی برطرفی کی کوشش کی۔ چنانچہ فروری 1932ء میں ان کی جگہ مسٹر کالون وزیراعظم مقرر کر دیئے گئے۔ 23؍اپریل کو کشمیر کمیٹی کے وفد نے ان سے ملاقات کی۔
10؍اپریل: گلانسی کمیشن نے مسلمانوں کے اکثر حقوق و مطالبات کے حق میں سفارش کردی اور ریاست میں مذہبی آزادی کا اعلان کر دیا گیا۔
حضور نے اس پر مفصل تبصرہ شائع کیا اور ان پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لئے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو کشمیر کے دورہ پر بھجوایا۔
حکومت کشمیر نے 1210 افراد پرمقدمات بنائے تھے۔ حضور کی تحریک پر 18 کے قریب احمدی وکلاء نے بے لوث خدمات پیش کیں۔ جس کے نتیجہ میں 1070 کے قریب بری ہو گئے اور 140 کو بہت معمولی سزائیں ہوئیں۔
27 مئی 1932ء حضور نے اہل کشمیر کے نام ایک مطبوعہ خط میں کشمیری مسلمانوں کی انجمن بنانے کی تحریک فرمائی۔ چنانچہ حضور کے نمائندوں کی کوششوں سے مسلم کانفرنس کا پہلا اجلاس 15 تا 19؍ اکتوبر 1932ء کو ہوا اور حضور کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔ اس میں شیخ محمد عبداللہ صاحب صدر اور چوہدری غلام عباس صاحب جنرل سیکرٹری چنے گئے۔
17 مئی 1933ئ:
بعض خفیہ سازشوں کی بناء پر حضور نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ مگر حضور نے اہل کشمیر کی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا۔
4؍اگست 1934ئ: اخبار اصلاح کا اجراء
حضور کی خاص ہدایت پر مسلمانان کشمیر کے حقوق کی ترجمانی کے لئے سرینگر سے سہ روزہ اخبار اصلاح جاری کیا گیا جو 1947ء تک جاری رہا۔ اس نے مسائل حاضرہ میں بروقت راہنمائی کرکے اہم خدمات سرانجام دیں۔
1936ئ: مجلس کشامرہ
قادیان میں مجلس کشامرہ کی بنیاد ڈالی گئی جس کا مقصد کشمیر کے طلباء اور دیگر احباب کے لئے کام کرنا تھا۔
جون 1938ئ:
کشمیر میں فسادات شروع ہو گئے جس پر حضور نے ایک پمفلٹ بعنوان ’’کشمیر ایجی ٹیشن 1938ء کے متعلق چند خیالات‘‘ شائع فرمایا اور مفید مشورے دیئے۔
1944ئ:
حضور کی ہدایات پر مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت کے لئے آل جموں و کشمیر مسلم ویلفیئر ایسوسی ایشن کے نام سے ادارہ قائم ہوا۔ جس کے صدر خوا جہ غلام محمد صاحب اور سیکرٹری خوا جہ غلام نبی گلکار انور تھے۔
جون: حکومت کشمیر کی طرف سے شاہی تحقیقاتی کمیشن قائم کیا گیا جس میں مسلمانان کشمیر کی نمائندگی میں خوا جہ غلام نبی صاحب گلکار، چوہدری عبدالواحد صاحب اور خوا جہ عبدالرحمان ڈار صاحب شامل تھے۔
مارچ 1946ئ:
شیخ محمد عبداللہ صاحب نے کشمیر چھوڑ دو تحریک شروع کی جس پر حضور نے مسلمانوں اور حکومت دونوں کی راہنمائی فرمائی۔
1947ئ: آزاد کشمیر کی عارضی حکومت
4؍اکتوبر: آزاد کشمیر کی عارضی حکومت کی بنیاد حضرت مصلح موعودؓ کے ہاتھوں سے رکھی گئی اور خوا جہ غلام نبی گلکار صدر عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر کی طرف سے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کی معزولی کا اعلان کیا گیا۔ سردار محمد ابراہیم خان وزیراعظم تھے۔ 24؍اکتوبر کو خواجہ غلام نبی صاحب کے چلے جانے کے بعد زمام حکومت سردار ابراہیم صاحب نے سنبھال لی۔
19؍اکتوبر: حضور نے انکشاف فرمایا کہ مہاراجہ کشمیر ہندوستان سے الحاق کا مخفی سمجھوتہ کر چکا ہے۔ نیز فرمایا کہ حیدرآباد اور کشمیر کے الحاق کو یکساں اصولوں پر طے ہونا چاہئے۔ پاکستان کا فائدہ اس میں ہے کہ کشمیر اس کے ساتھ الحاق کرے۔
کشمیر فنڈ اور لیکچرز
12 نومبر : حضور نے مجاہدین کشمیر کی اعانت کے لئے کشمیر فنڈ کی تحریک کی نیز حضور نے پاکستان کے مختلف شہروں میں لیکچر دیئے اور مسئلہ کشمیر کی اہمیت اجاگر کی۔
1948ئ:
حضور کی زیر ہدایت انجمن مہاجرین جموں و کشمیر مسلم کانفرنس قائم ہوئی جس کے جملہ اخراجات کے کفیل خود حضور تھے۔
جنوری: کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش ہوا جس میں پاکستان کے وزیرخارجہ حضرت چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب نے پاکستان کی کامیاب وکالت کی۔ آپ کی کوشش سے 13؍اگست 1949ء کو آزادانہ استصواب رائے کی قرارداد پاس کی گئی۔
حضور نے انہی دنوں فرمایا کہ سیکیورٹی کونسل اس معاملہ کا فیصلہ انصاف کے مطابق نہیں کرے گی بلکہ بین الاقوامی سیاست کے پیش نظر اس کا فیصلہ ہوگا۔
فرقان بٹالین کا قیام
جون: حکومت پاکستان کے بعض فوجی افسران کی درخواست پر حضور نے 50 احمدی جوان جموں کے محاذ پر بھجوائے۔ پھر جون 1948ء میں باقاعدہ رضاکار بٹالین فرقان بٹالین کے نام سے معرض وجود میں آئی۔ جس میں حضور کے بیٹے بھی شامل تھے۔ اس کمیٹی نے دو سال تک شاندار مجاہدانہ کارنامے سرانجام دیئے۔ 9 مجاہدین نے جام شہادت نوش کیا۔ 17 جون 1950ء کو اس کی سبکدوشی عمل میں آئی۔ حضرت مصلح موعود خود بھی محاذ پر تشریف لے گئے اور معائنہ فرمایا۔
1965ء میں خدمات:
حضرت مصلح موعودؓ کے دور خلافت کے آخری ایام میں 1965ء میں کشمیر کے محاذ پر احمدی جرنیلوں خاص طور پر جنرل اختر حسین ملک نے تاریخی خدمات سرانجام دیں جن کا ایک زمانہ معترف ہے۔
ایک جاری وعدہ
حضرت مصلح موعودؓ نے نہایت اولوالعزمی کے ساتھ سالانہ جلسہ 1931ء پر واضح اعلان فرمایا کہ:
’’میں نے اپنے نفس سے اقرار کیا ہے اور طریق بھی یہی ہے کہ مومن جب کوئی کام شروع کرے تو اسے ادھورا نہ چھوڑے۔ میں نے کشمیر کے مسلمانوں سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک کامیابی حاصل نہ ہو جائے خواہ سو سال لگیں۔ ہماری جماعت ان کی مدد کرتی رہے گی اور آج میں اعلان کرتا ہوں کہ کل پرسوں ترسوں سال دو سال سو دو سو سال جب تک کام ختم نہ ہو جائے ہماری جماعت کام کرتی رہے گی … پس ہماری جماعت کو مسلمانان کشمیر کی امداد جاری رکھنی چاہئے۔ جب تک کہ ان کو اپنے حقوق حاصل نہ ہو جائیں۔ خواہ اس کے لئے کتنا عرصہ لگے اور خواہ مالی اور خواہ کسی وقت جانی قربانیاں بھی کرنی پڑیں۔ (الفضل 10 جنوری 1932ئ۔ انوارالعلوم جلد 12 ص405)
پس اہل کشمیر کو حقوق ملنے تک جماعت کی طرف سے خدمت کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

صنعت و حرفت اور تجارت کے متعلق تحریکات
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ ایک طرف تو جماعت کو اعلیٰ دینی و دنیوی تعلیم حاصل کرنے کی طرف توجہ دلا رہے تھے تو دوسری طرف تمام لوگوں کو حسب عمر و حالات پیشے سیکھنے کی ترغیب دلا رہے تھے۔ جس کا مقصد یہ تھا کہ کوئی احمدی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے بلکہ طیب مال حاصل کرکے دین کی خدمت بھی کرسکے۔ اسی ضمن میں آپ نے بیکاری کے خلاف زبردست تحریک چلائی اور فرمایا کہ بیکاری قوم کی تباہی اور بربادی کا موجب ہوتی ہے۔
ہندوستان میں تجارت قریباً تمام کی تمام ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی جو مسلمان اس طرف توجہ کرتے تھے۔ وہ اس لئے کامیاب نہیں ہوسکتے تھے کہ درمیان کے سارے راستے ہندوؤں کے قبضہ میں تھے۔ جب ملک میں آزادی کا احساس پیدا ہونا شروع ہوا تو مسلمانوں کو بھی صنعت کا خیال آیا۔ لیکن بڑھئی، جلاہے، معمار، لوہار جو پہلے زیادہ تر مسلمان ہوتے تھے وہ گرے ہوئے برتاؤ کی وجہ سے اپنے اپنے پیشہ کو حقیر سمجھ کر چھوڑ چکے اور اس کی جگہ دوسرا کام اختیار کرچکے تھے۔ اس لئے اس تحریک سے بھی زیادہ تر فائدہ ہندوؤں ہی نے حاصل کیا اور وہ تجارت کے قریباً تمام شعبوں پر قابض ہو گئے۔ حتیٰ کہ ذبیحہ گاؤ کے سوال پر آئے دن جابجا فسادات برپا کرنے کے باوجود چمڑے کی تجارت کے بھی مالک بن بیٹھے۔
صنعتی تحریک
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے مشاورت 1931ء کے موقع پر دوسرے مسلمانوں کو عموماً اور اپنی جماعت کو خصوصاً اس نازک صورتحال کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ جماعتی ترقی کے لئے صنعت و حرفت اور تجارت ضروری چیزیں ہیں اور اگر مسلمانوں نے جلد ہی ادھر توجہ نہ کی تو ان پر ترقی کے راستے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے۔
حضور نے اس سلسلہ میں ایک صنعتی تحریک جاری کرنے کا قصد فرمایا اور اس کی سکیم بنانے کے لئے چند تجربہ کار اصحاب پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی۔
صنعتی تحریک کی سکیم کے مطابق قادیان میں پہلا کارخانہ ’’ہوزری فیکٹری‘‘ کے نام سے کھولا گیا جو 1923ء سے 1947ء تک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔
1934ء میں تحریک جدید کے مطالبات میں آپ نے 15 واں مطالبہ یہ کیا۔
وہ نوجوان جو گھروں میں بیکار بیٹھے روٹیاں توڑتے رہتے ہیں اور ماں باپ کو مقروض بنا رہے ہیں ان کو چاہئے کہ اپنے وطن چھوڑیں اور نکل جائیں۔
سترھویں مطالبہ میں فرمایا:۔
جو لوگ بیکار ہیں وہ بیکار نہ رہیں۔ اگر وہ اپنے وطنوں سے باہر نہیں جاتے تو چھوٹے سے چھوٹا جو کام بھی انہیں مل سکے وہ کرلیں۔ اخباریں اور کتابیں ہی بیچنے لگ جائیں۔ ریزرو فنڈ کے لئے روپیہ جمع کرنے کا کام شروع کر دیں۔ غرض کوئی شخص بیکار نہ رہے خواہ اسے مہینہ میں دو روپے کی ہی آمدنی ہو۔
(الفضل 9 دسمبر 1934ئ)
دارالصناعت
احمدی نوجوانوں میں صنعت و حرفت کا شوق پیدا کرنے کے لئے (محلہ دارالبرکات قادیان میں) دارالصناعت قائم کیا گیا جس کا افتتاح حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 2 مارچ 1935ء کو فرمایا۔ اس موقعہ پر حضور نے رندہ لے کر خود اپنے دست مبارک سے لکڑی صاف کی اور آری سے اس کے دو ٹکڑے کرکے عملاً بتا دیا کہ اپنے ہاتھوں سے کوئی کام کرنا ذلت نہیں بلکہ عزت کا موجب ہے۔
دارالصناعت میں طلباء کی تعلیم و تربیت اور رہائش کا انتظام تحریک جدید کے ذمہ تھا۔ ابتدائی مسائل اور عقائد کی زبانی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ اس کے تین شعبے (نجاری، آہنگری اور چرمی) تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے بابو اکبر علی صاحب کو (جو محکمہ ریلوے انسپکٹر آف ورکس کی اسامی سے ریٹائر ہو کر آئے تھے) آنریری طور پر صنعتی کاموں کا نگران مقرر فرمایا۔ یہ صنعتی ادارہ 1947ء تک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔ (تاریخ احمدیت جلد8 ص67)
پیشے سیکھیں
21؍اپریل 1939ء کے خطبہ جمعہ میں حضور نے ایک جامع سکیم کا اعلان کیا جس کے 2 حصے ہیں۔
یکم نومبر 1939ء کو قادیان کا کوئی مرد اور 10 سال عمر کا بچہ ان پڑھ نہ رہے۔
کوئی شخص بے ہنر نہ رہے اور ہر احمدی کوئی نہ کوئی پیشہ سیکھے۔
آپ نے فرمایا:۔
کتابی تعلیم کی نسبت عملی تعلیم کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اسی لئے میں نے تحریک جدید میں یہ بات بھی رکھی تھی کہ کوئی شخص بے ہنر نہ رہے ہر احمدی کو کوئی نہ کوئی پیشہ آنا چاہئے اور اس لئے میں صرف لفظی تعلیم پر بس نہیں کروں گا بلکہ کوشش کروں گا کہ ہر فرد کوئی نہ کوئی پیشہ جانتا ہو۔ کوئی نجاری، کوئی لوہار کا کام، کوئی موچی کا کام، کوئی کپڑا بننا اور کوئی معماری وغیرہ جانتا ہو۔ غرضیکہ ہر شخص کوئی نہ کوئی پیشہ اور فن جانتا ہو۔ اسی طرح بعض اور باتیں جو عملی زندگی میں کام آنے والی ہیں وہ بھی سیکھنی چاہئیں میں انہیں کھیلیں نہیں بلکہ کام ہی سمجھتا ہوں مثلاً گھوڑے کی سواری، تیرنا، کشتی چلانا اور تیر اندازی وغیرہ ہیں۔ ہر احمدی کوشش کرے کہ ان میں سے کوئی نہ کوئی کام سیکھے اور ہوسکے تو سب سیکھے … میری تجویز یہ ہے کہ پہلے تو تین ماہ (چھ ماہ) کے عرصہ میں سب کو کتابی تعلیم دے دی جائے اس کے بعد حرفہ کی طرف توجہ کی جائے اور جن کو خداتعالیٰ توفیق دے وہ مجھے لکھیں کہ وہ کیا کیاپیشے جانتے ہیں اور کتنے لوگوں کو کتنے عرصہ میں سکھا سکتے ہیں اور کیا کیا انتظامات ضروری ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ کوئی نہ کوئی پیشہ سیکھ جائیں۔ کوئی نجاری، کوئی معماری اور کوئی لوہار کاکام اور کوئی موچی کا کام یہ کام اتنے اتنے سیکھ لئے جائیں کہ گھر میں بطور شغل اختیار کئے جاسکیں اور اگر کوئی مہارت پیدا کرے تو وہ اختیار بھی کرسکے۔ (الفضل 29؍اپریل 1939ئ)
تجارت کرو:
حضور نے 21 نومبر 1952ء کو خدام الاحمدیہ کو تلقین کی۔
’’میں اپنے نوجوانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ تعلیم محض اس لئے حاصل نہ کریں کہ اس کے نتیجہ میں انہیں نوکریاں مل جائیں گی۔ نوکریاں قوم کو کھلانے کا موجب نہیں ہوتیں بلکہ نوکر ملک کی دولت کو کھاتے ہیں۔ اگر تم تجارتیں کرتے ہو، صنعتوں میں حصہ لیتے ہو، ایجادوں میں لگ جاتے ہو تو تم ملک کو کھلاتے ہو اور یہ صاف بات ہے کہ کھلانے والا کھانے والے سے بہترین ہوتا ہے۔ نوکریاں بیشک ضروری ہیں لیکن یہ نہیں کہ ہم سب نوکریوں کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم زیادہ سے زیادہ پیشے اختیار کریں تاکہ ملک کو ترقی حاصل ہو اور کم سے کم ملازمتیں کریں۔ صرف اتنی جن کی ملک کو اشد ضرورت ہو‘‘۔ (الفضل 14 دسمبر 1952ئ)
مشینوں پر کام کرو:
حضور نے فرمایا:۔
ہمارے خدام کو مشینری کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے آجکل مشینوں میں برکت دی ہے۔ جو شخص مشینوں پر کام کرنا جانتا ہو، وہ کسی جگہ بھی چلا جائے اپنے لئے عمدہ گزارہ پیدا کرسکتا ہے۔ آجکل تمام قسم کے فوائد مشینوں سے وابستہ ہیں اور جتنا مشینوں سے آجکل کوئی قوم دور ہوگی اتنی ہی وہ ترقیات میں پیچھے رہ جائے گی اسی طرح اگر خدام لوہار، ترکھان، بھٹی اور دھونکنی کا کام سیکھیں تو ان کی ورزش کی ورزش بھی ہوتی رہے گی اور پیشہ کا پیشہ بھی ہے۔ چونکہ خدام کے لئے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالنا ضروری ہے۔ اگر خدام ایسے کام کریں تو وہ ایک طرف ہاتھ سے کام کرنے والے ہوں گے اور دوسری طرف اپنا گزارہ پیدا کرنے والے ہوں گے۔ (مشعل راہ جلد1 ص445)
صنعتی مرکز
متحدہ ہندوستان کے دور میں آپ نے قادیان میں تحریک جدید کے زیر انتظام لوہے، لکڑی اور چمڑے کے کارخانے جاری کرائے۔ اس کے علاوہ مختلف احمدی صناعوں کی کوشش سے شیشہ سازی اور دوسری اشیاء کے متعدد کارخانے شروع ہوئے۔ مثلاً سٹار ہوزری جس کے ذریعہ ایک ہزار کے قریب افراد کو روزگار میسر آیا اور متعدد گھروں میں مشینیں نصب ہوئیں۔ اس کارخانہ نے مکرم بابو اکبر علی صاحب جیسے لائق اور قابل انسان کے ہاتھ میں بہت ترقی کی۔ قادیان کا مشہور کارخانہ میک ورکس تھا جس کی وجہ سے قادیان کی صنعتی شہرت دور دور کے شہروں تک پھیل گئی تھی۔ اس کے علاوہ اکبر علی اینڈ سنز جنرل سروس احمد برادرز، پیر ورکس، مکینیکل انڈسٹریز، آئرن سٹیل میٹل وغیرہ کارخانے لوہے کا کام کرتے تھے۔ جگہ جگہ بھٹیاں جل رہی تھیں۔ لوہا پگھل رہا تھا اور مختلف اشیاء ڈھل رہی تھیں۔ کہیں آٹا پیسنے کی مشینیں نصب تھیں۔ کہیں روئی دھننے کی کلیں اور کہیں لکڑی چیرنے کی مشینیں چل رہی تھیں۔ موسم گرما میں متعدد سوڈا واٹر فیکٹریاں کام کرتی تھیں۔ عطریات کے لئے پرفیومری کا کارخانہ تھا۔ ایک کارخانہ شیشے کا بھی تھا۔ غرض قادیان کی مقدس بستی روحانی اور تعلیمی اعتبار ہی سے نہیں صنعتی طور پر بھی ملک کا ایک مشہور مرکز بن چکی تھی۔ یہ صنعتی سرگرمیاں حضرت مصلح موعودؓ کی خصوصی توجہ، شوق اور سرپرستی کی رہین منت تھیں۔ اس سلسلہ میں حضور کے دلی جذبات کیا تھے؟ اس کا کسی قدر اندازہ حضور کی مندرجہ ذیل تقریر سے بخوبی عیاں ہے۔ حضور نے مجلس مشاورت 1936ء کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
’’میں نہیں جانتا کہ دوسرے دوستوں کا کیا حال ہے۔ لیکن میں تو جب ریل گاڑی میں بیٹھتا ہوں۔ میرے دل میں حسرت ہوتی ہے کہ کاش یہ ریل گاڑی احمدیوں کی بنائی ہوئی ہو اور اس کی کمپنی کے وہ مالک ہوں اور جب میں جہاز میں بیٹھتا ہوں تو کہتا ہوں کہ کاش یہ جہاز احمدیوں کے بنائے ہوئے ہوں اور وہ ان کمپنیوں کے مالک ہوں۔ میں پچھلے دنوں کراچی گیا تو اپنے دوستوں سے کہا۔ کاش کوئی دوست جہاز نہیں تو کشتی بنا کر ہی سمندر میں چلانے لگے اور میری یہ حسرت پوری کردے اور میں اس میں بیٹھ کر کہہ سکوں کہ آزاد سمندر میں یہ احمدیوں کی کشتی پھر رہی ہے۔ دوستوں سے میں نے یہ بھی کہا۔ کاش کوئی دس گز کا ہی جزیرہ ہو جس میں احمدی ہی احمدی ہوں اور ہم کہہ سکیں کہ یہ احمدیوں کا ملک ہے کہ بڑے کاموں کی ابتداء چھوٹی ہی چیزوں سے ہوتی ہے۔
یہ ہیں میرے ارادے اور یہ ہیں میری تمنائیں۔ ان کو پورا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم کام شروع کریں۔ مگر یہ کام ترقی نہیں کرسکتا۔ جب تک کہ ان جذبات کی لہریں ہر ایک احمدی کے دل میں پیدا نہ ہوں اور اس کے لئے جس قربانی کی ضرورت ہے وہ نہ کی جائے۔ دنیا چونکہ صنعت و حرفت میں بہت ترقی کرچکی ہے اس لئے احمدی جو اشیاء اب بنائیں گے وہ شروع میں مہنگی پڑیں گی۔ مگر باوجود اس کے جماعت کا فرض ہے کہ انہیں خریدے‘‘۔
(رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ 12,11,10؍اپریل 1936ء ص130,129)
ربوہ میں کارخانوں کی تحریک
1947ء میں ملک کے بٹوارا کے بعد یہ کارخانے قادیان میں رہ گئے۔ لیکن اس کے باوجود قادیان اور مشرقی پنجاب کے احمدی صناعوں نے ہمت نہیں ہاری اور بدلے ہوئے حالات میں پاکستان میں پہنچ کر ملک و قوم اور جماعت کی خدمت کے لئے پھر سے اپنی صنعتی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ جہاں تک جماعت کے نئے مرکز ربوہ کا تعلق ہے اس نئی بستی میں بھی ایک محدود پیمانے پر صنعت و حرفت کے کاموں کی داغ بیل ڈالی گئی۔ مگر ان پر صدرانجمن احمدیہ پاکستان کا کنٹرول تھا۔ لیکن 1955ء میں سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے سفر یورپ سے واپسی کے بعدمخلص احمدی صناعوں کو تحریک فرمائی کہ وہ یہاں اپنے کارخانے جاری کرنے کے لئے صدرانجمن احمدیہ سے رابطہ قائم کریں انہیں مناسب سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ یہ تحریک حسب ذیل الفاظ میں تھی:۔
ربوہ میں صنعتوں وغیرہ کے متعلق پہلے یہ طریق تھا کہ صدر انجمن احمدیہ کوشش کرتی تھی کہ ان کو اپنے ہاتھ میں رکھے۔ لیکن اب اگر مخلص احمدی صناع یہاں کوئی صنعت شروع کرنا چاہیں تو ان کو اس کی اجازت دی جائے گی بشرطیکہ وہ اپنی صنعت میں نیک آدمی بطور لیبر لگائیں جو فسادی اور شرارتی نہ ہوں۔
اس سلسلہ میں صدرانجمن احمدیہ مناسب سہولتیں بھی بہم پہنچائے گی۔ مثلاً کارخانہ کی عمارت وغیرہ کے لئے زمین ربوہ کی قیمتوں کے لحاظ سے نسبتاً سستے داموں دے گی۔ خواہش مند احباب جلد درخواستیں بھجوائیں بلکہ مخلص احباب کا فرض ہے کہ وہ اس طرف فوری توجہ کریں تاکہ ربوہ کی آبادی کی صورت پیدا ہو۔ خصوصاً کپڑا بننے والے لوگ اور مستری جو لیتھوں (Lathe) وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔ جلد توجہ کریں یہ ثواب کا ثواب ہے اور فائدہ کا فائدہ۔ قادیان میں جن لوگوں نے کارخانے جاری کئے تھے۔ خداتعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بہت کچھ فائدہ اٹھایا تھا۔
حضور کی یہ تحریک پہلی بار الفضل مورخہ 21؍اکتوبر 1955ء ص5 پر شائع ہوئی۔ الفاظ مبارک حضور پُرنور ہی کے تھے مگر اعلان قائم مقام ناظر امور عامہ کی طرف سے تھا۔
تاجروں کی تنظیم:
جلسہ سالانہ 1944ء پر حضور نے جماعتی تاجروں کی تنظیم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔
یہ بھی ضروری ہے کہ جماعت کی تجارتی تنظیم بھی ہو جائے۔ … اب میں نے مرکز میں اس کے لئے ایک ادارہ بھی قائم کردیا ہے اور سیکرٹری مقرر کردیا ہے کیونکہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ساتھ تجارتی تنظیم کا کام بہت ضروری ہے۔ اب بعض چیزیں قریباً تیار ہیں مگر انہیں کامیابی کے ساتھ چلانے کے لئے دوستوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔ مثلاً یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اس قسم کی چیزوں میں دلچسپی لینے والے تاجر کون ہیں جن کے پاس ان کو فروخت کیا جاسکتا ہے یا جن کے ساتھ مل کر کام کو چلایا جاسکتا ہے۔ اگر دوست اس کام میں دلچسپی لیں تو خود ان کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور سب سے بڑی چیز جو میرے مدنظر ہے یہ ہے کہ تاجروں کو منظم کرکے تبلیغ کے کام کو وسیع کیا جائے۔ بعض سکیمیں ایسی ہیں کہ جن سے تاجروں کو بھی کافی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور تبلیغ کے کام میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ یہ سب باتیں میں اسی صورت میں بیان کرسکتا ہوں کہ تجارتی تنظیم مکمل ہو جائے اور احمدی تاجروں کی انجمن قائم ہو جائے۔ جماعتی تعاون تجارت میں بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے کئی ایسے لوگ ہیں جو تجارتی کاموں میں پڑنا چاہتے ہیںمگر ان کو واقفیت نہیں ہوتی کہ کیا کام شروع کریں، کس طرح کریں اور کہاں سے کریں۔ بعض کے پاس سرمایہ نہیں ہوتا، بعض کے پاس سرمایہ تو تھوڑا بہت ہوتا ہے مگر انہیں کام کرنے کا ذریعہ معلوم نہیں ہوتا۔ اگر جماعت کی تجارتی تنظیم ہو جائے تو ایک دوسرے کو بہت مدد مل سکتی ہے۔ پھر کئی ایسے ممالک ہیں کہ اگر احمدی تاجر وہاں جائیں تو بہت جلد ترقی کی امید کرسکتے ہیں۔ … پس میں جماعت کے تاجروں کو اپنے اس خطبہ کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ تبلیغ کے سلسلہ کے لئے ان کا جلد ازجلد منظم ہونا بہت ضروری ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ اس وقت مزدوروں اور کارخانہ داروں کے درمیان لڑائیاں جاری ہیں لیکن ہم ایسے رنگ میں اس سکیم کو چلانا چاہتے ہیں کہ ایسے جھگڑے پیدا ہی نہ ہوں اور دونوں ترقی کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرسکیں اور ہم اس کے لئے بہت سی باتیں بتاسکتے ہیں مگر پبلک میں ان کا بیان کرنا مناسب نہیں۔ تاجر احباب جلد سے جلد اپنی انجمن بنالیں جس کے سامنے میں یہ باتیں بیان کردوں گا۔ احمدی تاجروں کو چاہئے کہ وہ جلد سے جلد اپنے نام تحریک جدید کے دفتر میں بھجوا دیں اور جس قسم کا تعاون کرسکیں کریں۔ ان کاموں کے چلانے کے لئے واقفین کی بھی ضرورت ہے اور نوجوانوں کو چاہئے کہ ان کاموں کے لئے اپنے آپ کو وقف کریں۔
(انوارالعلوم جلد17 ص481)
تجارتی سکیم
حضور نے 28 دسمبر 1947ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر میں ایک تجارتی سکیم کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا:
اس وقت پاکستان بھی اور ہمارے آدمی بھی اس بات کے محتاج نہیں کہ وہ تجارتی اور صنعتی ترقی میں حصہ لیں اور چونکہ ہماری جماعت تجارت کی طرف پوری توجہ نہیں کررہی اس لئے جس طرح جماعت کے افراد پر چندہ عام فرض ہے اسی طرح ان کے ذمہ ایک تجارتی چندہ بھی لگایا جائے گا۔ یہ تجارت مشترکہ کے لئے ایک جبری امانت کی سکیم ہوگی اور اس سے سارے ملک میں تجارتی دکانیں جاری کی جائیں گی اور پھر ترقی کرتے ہوئے بعض کارخانے بھی کھولے جائیں گے۔ اس غرض کے لئے جو رقم جمع ہوگی وہ ساری کی ساری جماعت کی ہوگی اور نفع بھی جماعت کا ہی ہو گا۔ صرف ان کو تجارت کی اہمیت اور اس کی ضرورت سمجھانے کے لئے یہ جبری طریق جاری کیا جائے گا۔ ماں باپ کا فرض ہوتا ہے اگر ان کے بچے محبت اور پیار سے کوئی بات نہ سمجھیں تو جبر سے ان کو سمجھانے کی کوشش کی جائے۔ آپ لوگ میرے اور سلسلہ کے بچے ہیں اگر آپ لوگوں میں بیداری پیدا نہ ہوئی تو محض آپ کے فائدہ کے لئے ہر شخص کی حیثیت کے مطابق کچھ جبری چندہ عائد کیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں آجکل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر ہر کمانے والے فرد سے کم ازکم ایک روپیہ چندہ لیا جائے اور جو لوگ زیادہ دے سکتے ہوں وہ زیادہ دیں تو مالی لحاظ سے یہ کوئی خاص بوجھ نہیں ہوگا بلکہ اگر پچاس ساٹھ ہزار یا ایک لاکھ تک اس میں حصہ لینے والے نکل آئے تو ممکن ہے یہ چندہ ایک روپیہ سے بھی کم کردیا جائے۔ مثلاً آٹھ آنے کردیا جائے یا چار آنے کردیا جائے۔ اس روپیہ سے جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ دکانیں کھولی جائیں گی اور کچھ کارخانے جاری کئے جائیں گے اور آہستہ آہستہ ان کو ترقی دینے کی کوشش کی جائے گی۔ ہماری جماعت زیادہ تر ملازموں اور زمینداروں کی جماعت ہے۔ تجارت کی طرف اس کی بہت کم توجہ ہے اور یہ توجہ نہیں ہوسکتی جب تک ایک رنگ کا جبر ان پر نہ کیا جائے۔
پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ ہر شخص یا ہر جماعت پر کچھ نہ کچھ رقم اس کی حیثیت کے مطابق بطور چندہ عائد کردی جائے گی اور اس سے تجارتی دکانیں اور کارخانے قائم کئے جائیں گے مالک وہی ہوں گے ہم صرف مربی کے طورپر کام کریں گے۔
تجارتی لحاظ سے میں جماعت کو پھر اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ آڑھت کاکام کرنے کی کوشش کریں مجھ سے کئی ڈپٹی کمشنروں نے ذکر کیا ہے کہ ہم تلاش کرتے ہیں مگر مسلمان آڑھتی نہیں ملتا۔ آڑھت کا کام چھوٹے قصبات میں ایک ہزار روپیہ سے اور درمیانی قصبات میں پانچ ہزار روپیہ سے اور اچھی منڈیوں مثلاً اوکاڑہ وغیرہ میں بیس پچیس ہزار روپیہ سے چلایا جاسکتا ہے۔ پس دوستوں کو آڑھت کی طرف خاص طورپر توجہ کرنی چاہئے اور ایک ایک دو دو ایکڑ زمین لینے کا خیال اپنے دلوں سے نکال دینا چاہئے۔ تاجر مصیبت کے اوقات میں بھی فائدہ میں رہتا ہے جہاں مصیبت آئی وہاں سے کام چھوڑ کر دوسری جگہ چلاجاتا ہے اور پھر جن قوموں نے دنیا کو ہلانا ہو ان کے لئے تو بہت ہی ضروری ہوتا ہے کہ وہ اپنی حرکت کو آزاد رکھیں۔ انہیں اپنے وجود کو اس طرح باندھنا نہیں چاہئے کہ وہ ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف حرکت نہ کرسکیں۔ یہ چیز ایسی ہے جس کے متعلق دوستوں کا فرض ہے کہ وہ اور لوگوں کو بھی جو ان کے واقف ہوں سمجھائیں کہ زمین پر بیٹھے رہنے سے کیا فائدہ اگر کامیاب زندگی بسر کرنا چاہتے ہو تو تجارت میں حصہ لو۔ (انوارالعلوم جلد19 ص397)
صنعت و حرفت اور عورتیں:
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:۔
’’صنعت و حرفت کی طرف غریب عورتوں کو متوجہ کرنا اور انہیں کام پر لگانا۔ یہ کام گو آہستہ آہستہ ہو رہا ہے لیکن اگر استقلال اور ہمت سے اس کام کو جاری رکھا گیا تو میں امید کرتا ہوں کہ وہ بیواؤں اور یتامیٰ کا مسئلہ حل کرنے میں کسی دن کامیاب ہو جائیں گی۔ لجنہ کے اس کام میں تاجروں کی امداد کی بھی ضرورت ہے۔ انہیں چاہئے کہ جو چیزیں بنوائے وہ انہیں بیچ دیا کریں۔ اس میں ان کا بھی فائدہ ہوگا کیونکہ آخر وہ نفع ہی پر بیچیں گے اور غربا کا بھی فائدہ ہے کہ ان کے گزارہ کی صورت ہوتی رہے گی۔ میں چاہتا ہوں کہ اس کام کو اتنا وسیع کیا جائے کہ نہ صرف قادیان میں بلکہ بیرونی جماعتوں میں بھی کوئی بیوہ اور غریب عورت ایسی نہ رہے جو کام نہ ملنے کی وجہ سے بھوکی رہتی ہو۔ ہمارے ملک میں یہ ایک بہت بڑا عیب ہے کہ بھوکا رہنا پسند کریں گے مگر کام کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔
(مشعل راہ جلداول ص87)
جامع ہدایات
تجارت سے متعلق حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کو مختلف اوقات میں تفصیل سے جو ہدایات دیں ان کا ایک مختصر خلاصہ درج ذیل ہے۔
1۔احباب چھوٹے پیمانہ پر اور چھوٹے سرمایہ سے کام شروع کریں۔
2۔بیکار احمدیوں کو کام پر لگائیں اور افراد جماعت کو روزگار مہیا کرنے میں مدد کریں۔
3۔تاجر اور صناع دوسرے احمدیوں کو تجارت اور صناعت کی تربیت دیں۔
(انوارالعلوم جلد2 ص583)
4۔اس خیال میں تبدیلی پیدا کرنی چاہئے کہ کوئی پیشہ ذلیل ہے اور مختلف پیشوں اور تجارت کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 1931ئ)
5۔احمدی تاجر باہمی تعاون کریں۔ (رپورٹ مجلس مشاورت 1931ئ)
6۔سوچنے اور غور و فکر میں لگے رہیں اور عقل و فراست سے کام لیں۔ (مشعل راہ جلد اول)



تحریک وقار عمل
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے ایک طرف تو بے کاری کے خلاف زبردست تحریک چلائی تو دوسری طرف جماعت کو جھوٹی عزت کے جذبات سے پاک کرنے اور صفائی کا شعور پیدا کرنے کے لئے ہاتھ سے کام کرنے کی ترغیب دلائی اور اس اہم کام کو تحریک جدید کے مطالبات میں شامل فرمایا۔
’’جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کی عادت ڈالیں۔ میں نے دیکھا ہے اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں حالا نکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے…… یہ تحریک میں قادیان سے شروع کرنا چاہتا ہوں اور باہر گائوں کی احمدیہ جماعتوں کو (بھی ) ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنی (بیوت الذکر) کی صفائی ا ور لپائی وغیرہ خود کیا کریں اور اس طرح ثابت کریں کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا وہ عار نہیں سمجھتے۔ شغل کے طور پر لوہار، نجار اور معمار کے کام بھی مفید ہیں۔ رسول کریم ﷺ اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتے تھے…… یہ تربیت ثواب اور رعب کے لحاظ سے بھی بہت مفید چیز ہے۔ جو لوگ یہ دیکھیں گے کہ ان کے بڑے بڑے بھی مٹی ڈھونا اور مشقت کے کام کرنا عار نہیں سمجھتے۔ ان پر خاص اثر ہو گا۔‘‘ (الفضل 9دسمبر 1934ئ)
حضور نے اس سلسلہ میں اپنا ذاتی نمونہ پیش کرکے دلوں کو گرمایا۔ فرماتے ہیں۔
’’جب پہلے دن میں نے کسّی پکڑی اور مٹی کی ٹوکری اٹھائی تو کئی مخلصین ایسے تھے جو کانپ رہے تھے اور دوڑے دوڑے آئے اور کہتے حضور تکلیف نہ کریں ہم کام کرتے ہیں اور میرے ہاتھ سے کسیّ اور ٹوکری لینے کی کوشش کرتے۔ لیکن جب چند دن میں نے ان کے ساتھ مل کر کام کیا تو پھر وہ عادی ہو گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ یہ ایک مشترکہ کام ہے جو ہم بھی کر رہے ہیںاور یہ بھی کر رہے ہیں۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد 8صفحہ 50)
چنانچہ قادیان اور جماعت کی دوسری آبادیوں میں صفائی کا تازہ ولولہ پیدا ہو گیا۔
حضرت مصلح موعودؓ نے 1938ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی۔ ابتداء ً تنظیم کی ذمہ داریاں علمی میدان تک محدود تھیں لیکن اپریل 1938ء میں ہی حضرت مصلح موعودؓ نے اس پروگرام کو وسعت دی اور اس کے منشور میںپانچ نکات مزید شامل کئے جن میں پہلا نکتہ ’’اپنے ہاتھ سے روزانہ اجتماعی صورت میںآدھ گھنٹہ کام کرنا‘‘ تھا۔ یہ وقار عمل کی ابتدائی شکل تھی۔‘‘
خطبہ جمعہ فرمودہ یکم اپریل 1938ء میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:۔
’’اگر ان (نوجوانوں) کے ذہن میں یہ بات ڈال دی جائے اور ان کے قلوب پر اس کا نقش کر دیا جائے کہ جو شخص کام کرتا ہے وہ عزت کا مستحق ہے اور جو کام نہیں کرتا بلکہ نکما رہتا ہے وہ اپنی قوم اور اپنے خاندان کے لئے عار کا موجب ہے اور اس چمار کے بیٹے سے بدتر ہے جو کام کرتا ہے۔ تو یقینا اگلی نسل درست ہو سکتی ہے اور پھر وہ نسل اپنے سے اگلی نسل کو، یہاں تک کہ یہ باتیں قومی کیریکٹر میں داخل ہو جائیں‘‘۔ ( تاریخ مجلس خدام الاحمدیہ جلد اول ص 23)
وقار عمل کی تحریک سے حضور کا اولین مقصد نکمے پن اور بیکاری کی عادت کو نوجوانوں سے دور کرکے ان کا قومی کیریکٹر بلند کرنا تھا۔
خدام الاحمدیہ نے اس اجتماعی کام کی شکل کو وقار عمل کے نام سے موسوم کیا۔ اگرچہ وقار عمل کا سلسلہ خدام الاحمدیہ کی بنیاد سے پہلے بھی جاری تھا لیکن حضرت مصلح موعودؓ کے ارشادات کی تعمیل میں وقار عمل کو عروج تک پہنچانے کا سہرا خدام الاحمدیہ کے سر ہے۔
مجلس خدام الاحمدیہ کے سال 1939-40ء سے ہر دو ماہ بعد اجتماعی وقارعمل کا سلسلہشروع کر دیا گیا۔ اور اس سال چھ مرتبہ اجتماعی وقار عمل کئے گئے اور ایک ہزار روپے سے زائد رقم کی بچت کی گئی۔ ابتداء میں قادیان سے شروع ہونے والا کام ملک کے دیگر حصوں میںبھی مقبول ہوتا گیا۔
وقار عمل کا مقصد
وقار عمل کا حقیقی مقصد بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔
’’میں نے جماعت کو عموماً اور خدام کو خصوصاً اس امر کی ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ڈالیں اور کسی کام کو بھی عار نہ سمجھیں۔ (مشعل راہ جلد اول ص 429)
معین اور واضح سکیم بنائیں:
وقار عمل کے طریقہ کار کے حوالے سے حضور نے سب سے بنیادی اور اہم بات یہ بیان فرمائی کہ واضح پروگرام اور سکیم کے تحت وقار عمل کریں۔ یونہی سوچے سمجھے بغیر نہ کریں۔ حضور خطبہ جمعہ فرمودہ 30فروری 1939ء میں وقار عمل کا طریقہ کار سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبران کو چاہئے کہ وہ ایک پروگرام بنا کر اس کے ماتحت کام کیا کریں۔ یونہی بغیر سوچے سمجھے کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ اب بھی ہاتھ سے کام کرتے ہیں مگر وہ کام کسی پروگرام کے مطابق نہیں ہوتا۔ حالانکہ جس طرح بجٹ تیار کئے جاتے ہیں اسی طرح انہیں اپنے کام کے پروگرام واضح کرنے چاہئیں۔ مثلاً ہاتھ سے کام کرنے کی عادت ہے۔ اس بارہ میں یونہی بغیر پروگرام کے ادھر ادھر کام کرتے پھرنے کی بجائے اگر وہ کسی ایک سڑک کو لے لیں اور اپنے پروگرام میں یہ بات شامل کر لیں کہ انہوں نے سڑک پر بھرتی ڈال کر اسے ہموار کرنا اور اس کے گڑھوں کو پر کرنا ہے یا اسی طرح کا کوئی اور کام اپنے ذمہ لے لیں اور اسے وقت معین کے اندر مکمل کریں تو یہ بہت عمدہ نتیجہ پیدا کرے گا۔ بہ نسبت اس کے کہ بغیر ایک معین پروگرام کے وہ کام کرتے جائیں۔ مگر یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ بھرتی کے کیا معنی ہیں۔ گزشتہ سال جلسہ سالانہ پر چوہدری ظفراللہ خاں صاحب آئے تو انہوں نے مجلس خدام الاحمدیہ کے اراکین سے کہا کہ اب کی دفعہ جب کام کرو تو مجھے بھی بلا لینا چنانچہ انہوںنے انہیں بلایا اور وہ بھی ہاتھ سے کام کرتے رہے۔ مگر چوہدری صاحب نے مجھے بتایا کہ ان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں مجھے معلوم ہوا کہ ان کے کام میں ایک نقص بھی ہے اور وہ یہ کہ سڑک پر جب وہ مٹی ڈال رہے تھے سڑک کے پاس ہی ایک گڑھا کھود کر وہاں سے مٹی لے آتے تھے۔ میںنے انہیں کہا کہ اس کا تو یہ مطلب ہے کہ آج آپ سڑک کے گڑھے پر کریں اور کل آپ ان گڑھوں کو پر کرنے لگ جائیں جو اس سڑک پر مٹی ڈالنے کے لئے آپ نے کھود لئے ہیں۔ تو یہ ایک نقص ہے جو خدام الاحمدیہ کے کام میں ہے اور اسے دور کرنا چاہئے۔ مگر اس کے علاوہ ضروری بات یہ ہے کہ وہ ایک سڑک یا ایک گلی لے لیں اور اس کی صفائی اور مرمت اس حد تک کریں کہ اس سڑک یا گلی میں کوئی نقص نہ رہے۔ مثلاً وہ ایک سڑک کس طرح درست کرنا چاہتے ہیں تو ان کا فرض ہے کہ وہ انجینئروں سے مشورہ لیں اور ان سے پوچھیں کہ یہ سڑک کس طرح درست ہو سکتی ہے۔ پھر جو طریق وہ بتائیں اور جو نقشہ انجینئر تجویز کریں۔ اس کے مطابق وہ اس سڑک کی درستی کریں اور چھ مہینے یا سال جتنا وقت بھی اس پر صرف ہو اتنا وقت اس پر صرف کیا جائے۔ اور اس سڑک کو انجینئر کے بتائے ہوئے نقشہ کے مطابق درست کیاجائے۔ مگر اب یہ ہوتا ہے کہ چند مٹی کی ٹوکریاں ایک گڑھے میں ڈال دی جاتی ہیں اور چند دوسرے گڑھے میں اور کسی کو پتہ بھی نہیں لگتاکہ کوئی کام ہوا ہے۔ پس پہلی ہدایت تو یہ ہے کہ کوئی ایک کام شروع کیا جائے اور اسے ایسا مکمل کیاجائے کہ کوئی انجینئر بھی اس میں نقص نہ نکال سکے۔ دوسری یہ بات ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ دوسرے آدمیوں سے کوئی کام نہیں لیا جا تا۔ حالانکہ خدام الاحمدیہ کے کام کرنے کے یہ معنی نہیں کہ دوسروں کے لئے اس میں حصہ لینا ممنوع ہے۔
(مشعل راہ جلد اول ص 90، 91)
کام کی تقسیم اور مقابلہ جات:
حضرت مصلح موعودؓ اپنی تقریر فرمودہ سالانہ اجتماع خدا م الاحمدیہ 21؍ اکتوبر 1945ء میں فرماتے ہیں:۔
یہ ضروری ہے کہ روزانہ کام کرنے کی عادت پیدا کی جائے اور کام کی نوعیت کو بدل دیاجائے۔ مثلاً ہر محلہ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر اس محلہ والوں کے ذمہ لگا دئیے جائیں اور ان کا روزانہ کام یہ ہو کہ ان کی صفائی، درستی اور پانی کے نکاس وغیرہ کا خیال رکھیں اور ہر محلہ کے خدام اپنے محلہ کے صفائی کے ذمہ دار قرار دئیے جائیں اور بجائے مہینہ یا دو مہینہ کے بعد جمع ہو کر کسی سڑک پر مٹی ڈالنے کے ،میرے نزدیک یہ طریق بہت مفید ثابت ہو گا کہ گلیاں اور سڑکیں محلہ وار تقسیم کر دی جائیں کہ فلاں گلی اور سڑک کا فلاں محلہ ذمہ دار ہے اور اس کی صفائی اور درستی نہ ہونے کی صورت میں اس سے پوچھا جائے گا۔ اسی طرح محلہ کے گھروں کے متعلق بھی چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر خدام میں تقسیم کر دئیے جائیں اور وہ ان گھروں کے سامنے کی صفائی کے ذمہ دار ہوں گے۔ ہرمہینہ میں ایک دن معائنہ اور مقابلہ کے لئے مقرر کیا جائے اور تمام محلوں کا دورہ کر کے دیکھا جائے کہ کس محلہ کی صفائی سب سے اچھی ہے۔ جس محلہ کی صفائی سب سے اچھی ہو اس کے خدام کو کوئی چیز انعام کے طور پر دی جائے تاکہ تمام محلوں میں ایک دوسرے سے مسابقت کی روح پیدا ہو۔ (مشعل راہ جلد اول ص 431-430)
سارا دن کام کریں:
حضرت مصلح موعودؓ خطبہ جمعہ 3فروری 1939ء میں وقارعمل کے لئے ایک اہم ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
میرے نزدیک مجلس خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ مہینہ میں ایک دن ایسا مقرر کر دیں۔ جس میں ساری جماعت کو شمولیت کی دعوت دیں۔ بلکہ میرے نزدیک شاید یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ بجائے ایک گھنٹہ کام کرنے کے سارا دن کام کے لئے رکھا جائے۔ ایک گھنٹہ کا تجربہ کوئی ایسا مفید ثابت نہیں ہوا۔ پس آئندہ کے لئے بجائے ایک گھنٹہ کے سارا دن رکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ مہینہ دو مہینہ میں ایک دن تمام لوگ اس کام میں شریک ہوں۔ بلکہ میرے نزدیک لوگوں کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ زیادہ مناسب ہو گا کہ دو مہینہ میں ہی ایک دن ایسا رکھا جائے جس میںتمام لوگ صبح سے شام تک اپنے ہاتھ سے کام کریں۔اس طرح سال میں چھ دن بن جاتے ہیں۔ ( مشعل راہ جلد اول ص 92)
سارا دن کام کرنے کی افادیت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
شاید سارا دن کام کرنا نتائج کے لحاظ سے زیادہ مفید ثابت ہو۔ اس طرح سال میں چھ دن بن جاتے ہیں اور اگر ایک دن میں ایک ہزار آدمی بھی صبح سے لے کر شام تک کام کریں تو چھ ہزار مزدور کا کام بن جاتا ہے اور چھ ہزار مزدور کا کام کوئی معمولی کام نہیں ہوتا بلکہ بہت اہم اور شاندار ہوتا ہے۔ بلکہ میرے نزدیک قادیان میں ہاتھ سے کام کرنے والے کم از کم چار ہزار افراد ہیں۔
(مشعل راہ جلد اول ص 92)
اطفال اور انصار کو شمولیت کی دعوت:
اطفال اور انصار کو بھی اپنے ساتھ لے کر وقار عمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔
میں قادیان کے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ سال میں چھ دن ایسے مقرر کریں جن میں یہاں کی تمام جماعت کو کام کرنے کی دعوت دی جائے بلکہ مناسب یہی ہو گا کہ وہ ابتداء میں چھ دن ہی رکھیں اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں دو مہینہ میں ایک دن کام کر لینا کوئی بڑی بات نہیں۔ مثلاً آخری جمعرات ہو تو اس دن عام اعلان کر دیا جائے کہ آٹھ دس سال کے بچوں سے لے کر ان بوڑھوں تک جو چل پھر سکتے اور کام کاج کر سکتے ہیں فلاں جگہ جمع ہوجائیں۔ ان سے فلاں کام لیا جائے گا۔
پھرپہلے سے پروگرام بنایا ہوا ہو کہ فلاں سڑک پر کام کرنا ہے۔ فلاں جگہ سے مٹی لینی ہے۔ اتنی بھرتی ڈالنی ہے۔ اس اس ہدایت کو مدنظر رکھنا ہے۔
اور جماعت کے انجینئر اس تمام کام کے نگران ہوں اور ان کا منظور کر دہ نقشہ لوگوں کے سامنے ہو اور اس کے مطابق سب کو کام کرنے کی ہدایت دی جائے۔ میں سمجھتا ہوں اگر پہلے سے ایک سکیم مرتب کر لی جائے تو آسانی سے بہت بڑا کام ہو سکتا ہے۔ غرض سکیم اور نقشے پہلے تیار کر لیں اور اس دن جس طرح فوج پریڈ کرتی ہے اسی طرح ہر شخص حکم ملنے پر اپنے اپنے حلقہ کے ماتحت پریڈ پر آ جائے۔
(مشعل راہ جلد اول ص 93)
اس اقتباس سے حضور کا منشاء اور آپ کی خواہش ظاہر ہوتی ہے کہ صرف خدام ہی وقار عمل نہ کریں بلکہ تمام افراد جماعت جو کوئی کام کر سکتے ہیں۔ وہ وقار عمل میں شامل ہوا کریں خواہ بچے ہو ںیا بوڑھے۔
سست خدام کو شامل کرنے کی تحریک:
حضرت مصلح موعودؓ وقار عمل پر نہ آنے والوں کے لئے ہدایت دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
’’چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر کام شروع کر دیا جائے اور جوں جوں خدام کی حاضری بڑھتی جائے کام کو وسیع کرتے چلے جائیں۔ بے شک شروع میں سو فیصد حاضری نہ ہو۔ اس بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کام کو جاری رکھا جائے۔ جتنے خدام خوشی سے آئیں ان سے کام کراتے رہیں اور جو نہ آئیں ان پر جبر نہ کیا جائے۔ ہاں ان کو بار بار تحریک کی جائے کہ وہ بھی کام میں شامل ہوں‘‘۔
(مشعل راہ جلد اول ص 432)
انفرادی وقار عمل نفس مارنے کا عمدہ طریق
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نفس مارنے کے ایک عمدہ نفسیاتی طریق یعنی مخصوص انفرادی وقار عمل کو وضاحت سے بیان فرماتے ہیں:۔
’’میں خدام کو اس طرح توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ آئندہ سالوںمیں ہاتھ سے کام کرنے کی روح کو دوبارہ زندہ کیا جائے اور خدام سے ایسے کام کرائے جائیں جن میں وہ ہتک محسوس کرتے ہوں اور وہ کام انفرادی طور پر کرائے جائیں۔ جس وقت قادیان کے تمام خدام جمع ہوں اور وہ سب ایک ہی کام کر رہے ہوں تو انہیں اس وقت کسی کام میں ہتک محسوس نہیں ہوتی کیونکہ ان کے دوسرے ساتھی بھی ان کے ساتھ اسی کام میں شریک ہوتے ہیں لیکن اگر ایک خادم اکیلا کوئی کام کر رہا ہو اور اس کے ساتھی اسے دیکھیں تو وہ ضرور ہتک محسوس کرے گا۔ میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ اجتماعی طور پر کوئی کام نہ ہو۔ بے شک اجتماعی طور پر بھی ہو لیکن انفرادی کام کے مواقع بھی کثرت سے پیدا کئے جائیں۔ مثلاً کسی غریب کا آٹا اٹھا کر اس کے گھر پہنچا دیا جائے یا کسی غریب کا چارہ اٹھا کر اس کے گھر پہنچا دیا جائے یا کسی غریب کی روٹیاں پکوا دی جائیں۔ جب خادم روٹیاں پکوانے جائے گا تو دل میں ڈر ہو گا کہ مجھے کوئی دیکھ نہ لے اور اگر کوئی دوست اسے راستے میں مل جائے تو اسے کہے گا کہ میری اپنی نہیں فلاں غریب کی ہیں۔اس کا یہ اظہار کرنا اس بات کی دلیل ہو گا کہ وہ اس کام کو ہتک آمیز خیال کرتا ہے۔ یہ پہلا قدم ہو گا۔ اسی طرح بعض اور کام اسی نوعیت کے سوچے جا سکتے ہیں۔ ایسے کام کرانے سے ہماری غرض یہ ہے کہ کسی خادم میں تکبر کا شائبہ باقی نہ رہے اور اس کا نفس مر جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہر ایک کام کرنے کو تیار ہو جائے۔‘‘ (مشعل راہ جلد اول ص 439)
وقار عمل نہ کرنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ
خدام کے سالانہ اجتماع 1945ء میں حضرت مصلح موعودؓ وقار عمل کرنے والے خدام کو ایک اہم نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔
محلوں میں صفائی رکھنا کوئی مشکل بات نہیں۔ اگر خدام تھوڑی بہت توجہ صفائی کی طرف رکھیں اور محلوں میں رہنے والے دوسرے لوگ بھی خدام سے تعاون کریں تو یہ بات بہت آسان ہو جاتی ہے۔ اس بات کو دل سے نکال دینا چاہئے کہ جب تک محلہ کے تمام خدام کسی کام میں شریک نہیں ہوتے اس وقت تک کسی کام کو شروع ہی نہ کیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کام کا موقعہ آئے گا مخلص اور دیانت دار خدام ہی آگے آئیں گے اور وہی شوق سے اسے سرانجام دیں گے اور جو اخلاص اور دیانت داری سے کام کرنا نہیں چاہتا اس کے لئے سو بہانے ہیں۔ کہتے ہیں ’’من ّ*** حجتاں ڈھیر‘‘۔ یعنی اگر کام کرنے کو جی نہ چاہتا ہو تو انسان کو سینکڑوں حجتیں اور بہانے سو جھ جاتے ہیں اور یہ حجتوں والے تو سال میں ایک دفعہ بھی وقار عمل کرنے کے لئے تیار نہیںہوں گے۔
ایسے لوگوں کے نہ آنے کی وجہ سے کام کو پیچھے نہیں ڈالنا چاہئے۔ جن لوگوں کے اندر اخلاص ہے۔ ان کو کیوں ایسے لوگوں کی خاطر کام سے روک رکھا جائے۔ اب تو تم دو ماہ کے بعد ایک دن وقار عمل کرتے ہو۔ اگر تم دس سال کے بعد بھی ایک دن مقرر کرو تو بھی نہ آنے والے غائب ہی ہوں گے اور تمہاری حاضری پھر بھی سو فیصدی نہیں ہو گی دس سال کے بعد بھی جو دن تم وقار عمل کا مقرر کرو گے وہی دن ایسا ہو گا جس دن ان کو کام ہو گا اور شیطان ان کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا کر دے گا کہ آج تو مجھے فلاں کام بہت ضروری ہے۔ اگر آج وہ کام نہ کیا تو مجھے بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ نو سال گیارہ مہینے اور انتیس دن تک انہیں وہ کام یاد نہ آیا لیکن چونکہ تم نے تیسویں دن وقار عمل مقرر کر دیا اس لئے اسے بھی کام یاد آ گیا۔ دس سال تو کیا اگر سو سال کے بعد بھی ان کو وقار عمل میں شامل ہونے کے لئے کہا جائے تو اس وقت بھی ان کے پاس کوئی نہ کوئی بہانہ موجود ہو گا۔ ایسے لوگوں کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔ایسے لوگوں کا نہ آنا زیادہ بہتر ہوتا ہے بہ نسبت ان کے آنے کے۔ پس آپ لوگوں کو چاہئے کہ اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ کتنے آتے ہیں اور کتنے نہیں آتے۔ جو آتے ہیں انہیں اپنے ساتھ لے کر کام شروع کر دیں۔ (مشعل راہ جلد اول ص 431)
وقار عمل میں صفائی کے حوالے سے چند اہم ہدایات دیتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:
گلیاں کھلی رکھیں:
’’جہاں تک گلیوں کی چوڑائی کا سوال ہے، میںنے کھلی گلیاں رکھنے کا حکم دیا ہوا ہے کیونکہ رسول کریم ﷺ کی احادیث سے ثابت ہے کہ آپؐ نے فرمایا۔ گلیاں چوڑی ہونی چاہئیں۔ میںنے سردست اندازہ لگا کر پندرہ بیس فٹ کی وہ گلیاں رکھی ہیں جو مکانوں سے بڑی سڑکوں پر ملتی ہیں اور ان پر تانگہ گزارنامد نظر نہیں اور جن پر تانگے وغیرہ گزارنے مقصود ہیں، وہ تیس فٹ کی رکھی ہیں اور بڑے راستے پچاس فٹ کے رکھے ہیں‘‘۔ (مشعل راہ جلد اول ص 429)
گلیوںمیں گند نہ پھینکیں:
یہ دیکھیں کہ لوگ گلیوں میں گند نہ پھینکیں اور اگر کوئی پھینکے تو سب مل کر اسے اٹھائیں۔ تھوڑی سی محنت سے صفائی کی حالت اچھی ہو سکتی ہے ۔ گائوں میں رہنے والے احمدیوں کو بھی صفائی کی طرف خاص توجہ چاہئے۔ میںنے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ وہ صفائی کا خیال نہیں رکھتے۔
(مشعل راہ جلد اول ص 140)
گلی میں پھینکا گیا گند خدام اٹھائیں:
میں نے خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ اس کام کو خاص طور پر شروع کریں اور اب بھی جب تک سکیم نہ بنے، ہر محلہ کے ممبر ذمہ دار سمجھے جائیں اس محلہ کی صفائی کے۔ پہلے لوگوں کو منع کرو اور سمجھائو کہ گلی میں گند نہ پھینکیں اور اگر وہ پھر بھی باز نہ آئیں تو پھر خود جاکر اٹھائیں۔ جب وہ خود اٹھائیں گے تو پھینکنے والوں کو بھی شرم آئے گی اور جب عورتیںدیکھیں گی کہ جو گند گلی میںپھینکتی ہیں وہ ان کے باپ بھائی یا بیٹے کو اٹھانی پڑتی ہے تو وہ سمجھیں گی یہ برا کام ہے اور وہ اس سے باز رہیں گی۔
(مشعل راہ جلد اول ص 140)
ہاتھ سے کام کرنے کی عادت:
ہاتھ سے کام کرنے کوجب میں کہتا ہوں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ عام کام جن کو دنیا میں عام طور پر برا سمجھا جاتا ہے ان کو بھی کرنے کی عادت ڈالی جائے۔ مثلاً مٹی ڈھونا یا ٹوکری اٹھانا ہے، کہی چلانا ہے۔ اوسط طبقہ اور امیر طبقہ کے لوگ یہ کام اگر کبھی کبھی کریں تو یہ ہاتھ سے کام کرنا ہو گا ورنہ یوں تو سب ہی ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔ یہ کام ہمارے جیسے لوگوں کے لئے ہیں کیونکہ ہمیں ان کی عادت نہیں اگر ہم نے اس کی طرف توجہ نہ کی تو ہو سکتا ہے کہ ہماری عادتیں ایسی خراب ہو جائیں یا اگر ہماری نہ ہوں ہماری اولادوں کی عادتیں ایسی خراب ہو جائیں کہ وہ ان کو برا سمجھنے لگیں اور پھر کوشش کریں کہ دنیا میں ایسے لوگ باقی رہیں جو ایسے کام کیا کریں اور اسی کا نام غلامی ہے۔
پس جائز کام کرنے کی عادت ہرشخص کو ہونی چاہئے تاکہ کسی کام کے متعلق یہ خیال نہ ہو کہ یہ برا ہے۔
(مشعل راہ جلد اول ص 134)
وقار عمل کے دو اہم فوائد:
وقار عمل کی حقیقی روح کو اگر اپنی زندگی میں جاری کر لیاجائے تو اس کے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔اس میں سے دو نہایت اہم فوائد جن کا تعلق قومی زندگی سے ہے، بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔
اس تحریک سے دو ضروری فوائد حاصل ہوں گے۔ ایک تو نکما پن دور ہو گا اور دوسرے غلامی کو قائم رکھنے والی روح کبھی پیدا نہ ہو گی۔ یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ فلاں کام برا ہے اور فلاں اچھا ہے۔ برا کام کوئی نہ کرے اور اچھا چھوٹے بڑے سب کریں۔ برا کام مثلاً چوری ہے یہ کوئی نہ کرے اور جو اچھے ہیں ان میں سے کسی کو عار نہ سمجھا جائے۔ (مشعل راہ جلد اول ص 134)
گندگی اور ملیریا سے بچائو:
وقار عمل کے ذریعہ گندگی اور ملیریا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:۔
پانی کی گندگی کی وجہ سے ہر سال ملیریاآتا ہے اور دس دس پندرہ پندرہ دن ایک شخص بیمار رہتا ہے۔ ملیریا کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ گڑھوں میں پانی جمع رہتا ہے اور اس کی سڑانڈ کی وجہ سے مچھرپیدا ہو جاتے ہیں جو انسانوں کو کاٹتے اور ملیریا میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس بخارکی وجہ سے لوگ پندرہ پندرہ دن تک بیمار رہتے ہیں اور اگر دس دن بھی ایک شخص کے بیمار رہنے کی اوسط فرض کر لی جائے اور ایک گھر کے پانچ افراد ہوں تو سال میں ان کے پچاس دن محض ملیریا کی وجہ سے ضائع چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ چھ دن بھی کوشش کرتے تو ملیریا کو جڑھ سے نابود کر دیتے مگر لوگ دوائیوں پر پیسے الگ خرچ کرتے ہیں۔ تکلیف الگ اٹھاتے ہیں، طاقتیں الگ ضائع کرتے ہیں، عمریں الگ کم ہوتی ہیں۔ موتیں الگ ہوتی ہیں اور پھر سال میں پچاس دن بھی ان کے ضائع چلے جاتے ہیں۔ مگر تھوڑا سا وقت خرچ کرکے قبل از وقت ان باتوں کا علاج نہیں کرتے۔ (مشعل راہ جلد اول ص 94)
دو اجر:
وقار عمل احمدی نوجوانوں کا طرہ امتیاز ہے جس کا اعتراف کرنے پر غیربھی مجبور ہیں۔ایک وقار عمل سے متاثر ہو کر خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں:
آج دہلی کی قادیانی جماعت کے چالیس افراد خدمت خلق کے لئے آئے تھے۔ مجھ سے پوچھا کہیں کا راستہ صاف کرنا ہو تو بتا دیجئے۔ میں نے اپنے مسافر خانہ کا راستہ خود جا کر بتایا۔ ان لوگوں نے مزدوروں کی طرح پھائوڑے لے کر راستہ صاف کیا اور ان میں وکیل بھی تھے اور بڑ ے بڑے عہدے داروں کے سرکاری نوکر بھی تھے اور مرزا صاحب کے قرابتدار بھی تھے ان کے اس مظاہرے کا درگاہ کے زائرین اور حاضرین پر بہت اثر ہوا۔ ایک صاحب نے کہا کہ پراپیگنڈا کے لئے یہ کام کررہے ہیں۔ میں نے کہا حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا ہے جو شخص ظاہر داری کے لئے خدمت کرتا ہے اس کو اجر ملتا ہے اور جو محض خدا کی رضا کے لئے خدمت خلق کرتا ہے اس کو دو اجر ملتے ہیں۔
(بحوالہ الفضل 31دسمبر1990ئ)
عالمی شناخت
اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ نے نہ صرف اپنے بڑے بڑے منصوبے مثلاً مساجد اور مشن ہاؤسز وغیرہ وقارعمل کے ذریعہ مکمل کئے بلکہ ماحول اور معاشرہ کی صفائی کے لئے بھی کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہیں۔ ان میں سڑکوں کی تعمیر، عمارتوں کی تعمیر، شجرکاری اور دیگر کئی منصوبے شامل ہیں اور یہ سلسلہ صرف برصغیر یا افریقہ میں محدود نہیں یورپ اور امریکہ میں بھی پھیلا ہوا ہے۔
چنانچہ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی ہر نئے سال کا آغاز یکم جنوری کو وقار عمل سے کرتی ہے۔یہ اب مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی کے مستقل پروگرام میں شامل ہے کہ جرمنی بھر میں مقامی مجالس اپنے اپنے علاقے میں شہر کی انتظامیہ سے اجازت حاصل کر کے اور کچھ مقامات پر انتظامیہ سے مل کر شہر میں صفائی کا کام کرتی ہیں۔
31دسمبر کی رات کو نئے سال کی خوشی میں جب لوگ پٹاخے چلاتے ہیں تو عموما ً سارے شہرے میں اور خصوصاً شہر کی مشہور جگہوں پر گندگی کے انبار لگ جاتے ہیں جس میں پٹاخوں کے بچے ہوئے حصے اور جلے ہوئے باردو کی خاک اور کاغذ وغیرہ شامل ہوتے ہیں ۔ اس سارے گند کوبعض جگہوں سے مشینوں کے ذریعہ بھی صاف نہیں کیا جا سکتا۔ مجلس خدام الاحمدیہ جرمنی چند سالوں سے مختلف شہروں میں انتظامیہ سے رابطہ کر کے پیشکش کرتی ہے کہ ہم بھی اپنے شہر کی صفائی میں مدد کرنا چاہتے ہیں۔ اس طرح انتظامیہ شہر کا کچھ حصہ خدام الاحمدیہ کے ذمہ لگا دیتی ہے۔یہ امر جرمن قوم کے لئے حیران کن ہے کہ کسی غیر قوم کے نوجوان اکٹھے ہو کر علی الصبح شہر کی صفائی کر رہے ہیں۔ ان کی اپنی قوم کے باشندے جنہوں نے بڑی بے دردی سے یہ گند ڈالا تھا اب نیند کے مزے لے رہے ہیں تو دیار غیر سے آئے چند دیوانے راکھ کے ان ڈھیروں کو اکٹھا کر کے ان گلیوں کو دوبارہ صاف ستھرا بنا کر ان شہریوں کو یہ پیغام دیتے نظر آ رہے ہیں کہ ابھی دنیا میں خدا کے ایسے بندے موجود ہیں جو محض خدا کی خوشنودی کی خاطر اس کی مخلوق کی بھلائی کے لئے اپنا آرام قربان کرنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔ اور پھر اس مادی دور میںیہ سارا کام بغیر کسی معاوضہ کے کرتے ہیں۔ (الفضل 12 مارچ 2004ئ)
مالی تحریکات
حضرت مصلح موعودؓ نے تعلیمی، تربیتی اور دعوت الی اللہ کے مقاصد کی خاطر جماعت میں سینکڑوں مالی تحریکات فرمائیں۔ ان میں سے بعض تو فی ذاتہٖ وسیع اداروں کی شکل میں کام کررہی ہیں۔ مثلاً تحریک جدید، وقف جدید، تعمیر مساجد کا نظام، تراجم قرآن کی اشاعت وغیرہ۔
ان مرکزی اور مستقل تحریکات کے علاوہ بھی حضور نے وقتاً فوقتاً متعدد مالی تحریکات فرمائیں اس مضمون میں صرف ان کاجائزہ لیا گیا ہے۔
بیت المال کے لئے قرضہ کی تحریک
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 5 جنوری 1922ء کو جماعت کے سامنے قرضہ کی تحریک پیش کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’ہر زمیندار جس کے پاس ایک مربع زمین کا ہے۔ فی مربع ایک سو روپیہ بطور قرض فوراً ضروریات سلسلہ کے چلانے کے لئے ادا کردے اور یہ رقم ایک سال سے دو سال تک کے عرصہ میں واپس ادا کی جائے گی۔ انشاء اللہ۔ اس طرح جن علاقوں میں مربعوں کے رنگ میں زمینوں کی تقسیم نہیں ہوتی لوگ فی تیس گھماؤں زمین چاہی پر ایک سو اور فی پچاس ایکڑ زمین بارانی پر ایک سو روپیہ بطور قرض بیت المال میں داخل کردیں۔ جو لوگ ملازم یا تاجر ہیں۔ ان کو چاہئے کہ جس کی آمد ایک سو روپیہ سے لے کر دو سو روپیہ ماہوار تک ہے وہ ایک سو روپیہ اور جس کی اس سے زیادہ ہے وہ دو سو روپیہ ماہوار سے اوپر فی ایک سو روپیہ کی آمد پر ایک سو روپیہ کے حساب سے رقم بیت المال میں بطور قرض ادا کردے۔ یہ رقوم بھی اسی طرح ایک سال سے دو سال تک ادا ہوں گی۔ ان لوگوں کے سوا جو اور لوگ اس کام میں حصہ لینا چاہیں۔ وہ بھی حصہ لے سکتے ہیں‘‘۔ (الفضل 9 جنوری 1922ئ)
الفضل 4 جنوری 1923ء سے واضح ہوتا ہے کہ خزانہ صدر انجمن احمدیہ کئی ہزار کا مقروض تھا۔ 30 ہزار روپے کے صرف بل واجب الادا تھے۔ حضور کی اس تحریک کے نتیجہ میں اتنی رقم جمع ہوگئی کہ خزانہ کا کافی بوجھ اتر گیا اور کام خوش اسلوبی سے چلنے لگ پڑا۔
چندہ تحریک خاص
1924ء میں انگلستان کی مشہور ویمبلے نمائش کے ساتھ ساتھ ایک مذاہب کانفرنس بھی منعقد ہوئی جس میں شمولیت کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی خدمت میں بھی دعوت نامہ روا نہ کیا گیا۔ حضور نے جماعت سے مشورہ لیا تو اس کا نوے فیصد حصہ اس حق میں تھا کہ حضور اس کانفرنس میں ضرور شمولیت اختیار کریں۔ چنانچہ حضور 12 جولائی 1924ء کو مع قافلہ لندن روانہ ہوئے اس سفر کے اخراجات کا وہ حصہ جو حضور کی ذات مبارک سے تعلق رکھتا تھا وہ تو حضور نے خود برداشت کیا۔ لیکن عملہ کے اخراجات سفر و قیام خرچہ ڈاک لٹریچر کی اشاعت کے اخراجات وغیرہ کی ادائیگی احباب کے ذمہ تھی۔ اس کے لئے رقم قرض لے کر مہیا کر دی گئی۔ (الفضل 16 جولائی 1925ئ)
اس قرض کی واپسی کے لئے حضور نے 10 فروری 1925ء کو ایک لاکھ روپیہ کی خاص چندہ کی تحریک فرمائی۔ اس تحریک کا پس منظر حضور کے الفاظ میں یہ تھا۔
’’میری صحت متواتر بیماریوں سے جو تبلیغ ولایت کے متعلق تصانیف اور دوران سفر کے متواتر کام کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں بالکل ٹوٹ چکی ہے اور غموں اور صدموں نے میرے جسم کو زکریا علیہ السلام کی طرح کھوکھلا کر دیا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر کبھی بھی میرا جسم راحت اور آرام کا مستحق اور میرا دل اطمینان کامحتاج تھاتو وہ یہ وقت ہے لیکن صحت کی کمزوری، جانی اور مالی ابتلاؤں کے باوجود بجائے آرام ملنے کے میری جان اور بھی زیادہ بوجھوں کے نیچے دبی جارہی ہے۔ کیونکہ سفر مغرب کی وجہ سے اور اشاعت کتب کی غرض سے جو روپیہ قرض لیا گیا تھا اس کی ادائیگی کا وقت سر پر ہے بلکہ شروع ہو چکا ہے اور بیت المال کا یہ حال ہے کہ قرضہ کی ادائیگی تو الگ رہی کارکنوں کی تنخواہیں ہی تین تین ماہ کی واجب الادا ہیں۔ پس یہ غم مجھ پر مزید برآں پڑ گیا ہے کہ قرضہ ادا نہ ہونے کی صورت میں ہم پر نادہندگی اور وعدہ خلافی کا الزام نہ آئے اور اسی طرح وہ لوگ جو باہر کی اچھی ملازمتوں کو ترک کرکے قادیان میں خدمت دین کے لئے بیٹھے ہیں ان کو فاقہ کشی کی حالت میں دیکھنا اور ان کو ان کی ان تھک خدمات کے بعد قوت لایموت کے لئے بھی روپیہ نہ دے سکنا کوئی معمولی صدمہ نہیں ہے۔ تیسرا صدمہ مجھے یہ ہے کہ اس قدر تکالیف برداشت کرکے جو سفر اختیار کیا گیا تھا اس کے اثرات کو دیرپا اور وسیع کرنے کے لئے ضروری تھا کہ فوراً تجربہ کے ماتحت شام اور انگلستان میں تبلیغ کا راستہ کھولا جاتا۔ مگر مالی تنگی کی وجہ سے اس کام کو شروع نہیں کیا جاسکتا اور سب محنت کے برباد ہونے کا خطرہ ہے۔ ان صدمات کے بعدجو میری صحت اور جسم کو پہنچے ہیں اور جو اپنی ذات میں ہی ایک انسان کو ہلاک کر دینے کے لئے کافی ہیں اس قدر صدمات کا بوجھ میرے لئے ناقابل برداشت ہوا جارہا ہے۔ پس میں نے اب فیصلہ کیا ہے کہ اس وعدہ کے مطابق جو احباب نے سفر ولایت کے متعلق مشورہ لیتے وقت کیا تھا ایک خاص چندہ کی اپیل کروں۔
سفر ولایت پر پچاس ہزار روپیہ خرچ آیا ہے اور اس خاص لٹریچر کی اشاعت پر جو اس سفر کی غرض کے لئے چھپوایا گیا۔ بیس ہزار روپیہ۔ موجودہ مالی تنگی کو رفع کرنے اور سفر سے جو تحریک اسلامی اور مغربی بلاد میں پیدا کی گئی تھی اس کے چلانے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے تیس ہزار روپیہ کی ضرورت ہے۔ یہ کل ایک لاکھ روپیہ ہوتا ہے اور میں اس کے لئے اب جماعت سے اپیل کرتا ہوں اور اس کے پورا کرنے کے لئے یہ تجویز کرتا ہوں کہ ہر شخص جو احمدی کہلاتا ہے۔ اس غرض کے لئے اپنی ایک مہینہ کی آمد تین ماہ میں یعنی 15 فروری سے 15 مئی تک علاوہ ماہوار چندہ کے جو وہ دیتا ہے اس خاص تحریک میں ادا کرے۔ زمیندار لوگ دونوں فصلوں کے موقعہ پر علاوہ مقررہ چندہ کے دو سیر فی من پیداوار پر ادا کریں اور اس جماعت کی عزت اور سلسلہ کے کام کو برباد ہونے سے بچایا جائے۔
جماعت احمدیہ نے اپنے پیارے امام کے ارشاد پر تین ماہ کے اندر اندر ایک لاکھ سے زیادہ روپیہ اپنے آقا کے قدموں میں ڈال دیا۔
چنانچہ حضور نے اس پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے 12 جولائی 1925ء کو اعلان فرمایا۔ ’’الحمد للہ کہ میں آج اس امر کا اعلان کرنے کے قابل ہواہوں کہ معیاد مقررہ کے اندر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت احمدیہ کو ایک لاکھ کی تحریک کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی … مجھے نہایت خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان مخالفوں کے منہ بند کر دیئے ہیں جو اعتراض کررہے تھے کہ احمدی چندے دیتے دیتے تھک گئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ ان لوگوں کے جواب میں اس نے جماعت کو اس امر کا عملی ثبوت بہم پہنچانے کا موقع دے دیا ہے کہ وہ چندے دیتے دیتے تھکی نہیں بلکہ وہ اس طرح تازہ دم ہے جس طرح کہ پہلے دن تھی۔ بلکہ مومنانہ شان کے مطابق اس کاجوش پہلے سے بھی بڑھا ہوا ہے اور وہ دین اسلام کے لئے ہر اک قربانی کے لئے تیار ہے اور ہر ایک بوجھ اٹھانے کے لئے آمادہ!‘‘۔
(تاریخ احمدیت جلد4 ص515)
ریزرو فنڈ کی تحریک
حضرت خلیفہ ثانیؓ نے 1927ء میں 25 لاکھ کا ریزرو فنڈ قائم کرنے کی تحریک فرمائی اور اس کی ضرورت یہ بیان کی کہ ہماری جماعت کا بجٹ چونکہ محدود ہوتا ہے اور ہم اپنے سلسلہ کی ضروریات سے اس قدر روپیہ نہیں بچاسکتے جس سے عام اسلامی معاملات کی درستی کے لئے کافی رقم نکال سکیں۔ جیسے کہ شدھی کا مقابلہ یا تمدنی اور اقتصادی تحریکات ہیں یا ادنیٰ اقوام کی تبلیغ ہے۔ اس وجہ سے ہم نے 25 لاکھ ریزرو فنڈ کی تحریک کی ہے تاکہ اصل رقم محفوظ رہے اور اس کی آمد اہم کاموں پر خرچ کی جائے۔
حضور نے مجلس مشاورت 1927ء میں فرمایا:۔
’’جو کام مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہم شروع کرنے والے ہیں۔ اس کے لئے احباب کو 25 لاکھ کا ریزرو فنڈ جمع کرنے کی پوری پوری کوشش کرنی چاہئے۔ میں اس کے متعلق بعض دوستوں کو خاص طور پر بھی توجہ دلاؤں گا۔ اگر ہم مالی پہلو کی طرف سے مطمئن ہو جائیں۔ تو پھر کسی دشمن کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہوسکتی۔ کامیابی ہمارے ہی لئے ہے۔ ہمارے مدنظر یہ بات رہنی چاہئے کہ کچھ رہے یا نہ رہے مگر خدا کا نام ضرور رہے۔ اس کے لئے 25 لاکھ جمع کرنا پہلا قدم ہے‘‘۔
(رپورٹ مجلس شوریٰ 1927ء ص197)
پھر مجلس مشاورت 1930ء میں فرمایا:۔
’’میرے نزدیک ریزرو فنڈ ذریعہ حفاظت ہے اسے مٹا کر کس طرح سمجھ لیا جاسکتا ہے کہ حالت اچھی ہو جائے گی۔ ریزرو فنڈ تو مالی تنگی کے دور کرنے کا ذریعہ ہے۔ جب پس انداز کرنے کے لئے اسے رکھا جائے گا تو اس کے لئے روپیہ بچانے کا بھی خیال رہے گا میں نے پہلے اس کے متعلق ہدایت دی ہے کہ انجمن پس انداز کرے مگر نہیں کیا گیا۔ اس لئے اب ہدایت دیتا ہوں کہ ریزرو فنڈ کا ماہوار بل پاس کرکے یہ رقم پس انداز کی جائے اور یہ نہ کہا جائے کہ آخر سال میں اس کے لئے کوئی رقم نہیں رہی۔ پس میں ہدایت دیتا ہوں کہ ماہوار بل جو تین سو سوا تین سو ہوگا۔ نکال کر جمع کرتے جائیں‘‘۔
(رپورٹ مجلس شوریٰ 1930ء ص116)
1931ء میں اس مد میں 30 ہزار روپے سے زائد رقم جمع ہوئی جس میں سے سندھ میں خرید کردہ زمینوں کی پہلی قسط ادا کی گئی اور کچھ روپیہ کشمیر فنڈ کے سلسلہ میں بطور ادھار دیا گیا۔ حضور اس رفتار ترقی سے خوش نہیں تھے۔ چنانچہ آپ نے فرمایا۔
’’اس قسم کی تحریکیں پیدا ہورہی ہیں جو جلد سے جلد موجودہ نظام دنیا میں تغیر پیدا کررہی ہیں۔ ایسا تغیر جو اسلام کے لئے سخت مضر ہے اس کامقابلہ کرنے کے لئے آج سے دس سال قبل میں نے ریزرو فنڈ قائم کرنے کے لئے کہا تھا۔ مگر افسوس جماعت نے اس کی اہمیت کو نہ سمجھا اور صرف30 ہزار کی رقم جمع کی۔ اس میں سے کچھ رقم صدر انجمن احمدیہ نے ایک جائیداد کی خرید پر لگا دی اور کچھ رقم کشمیر کے کام کے لئے قرض لے لی گئی اور بہت تھوڑی سی رقم باقی رہ گئی۔ یہ رقم اس قدر قلیل تھی کہ اس پر کسی ریزرو فنڈ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی تھی۔ ہنگامی کاموں کے لئے تو بہت بڑی رقم ہونی چاہئے جس کی معقول آمدنی ہو۔ پھر اس آمدنی میں سے ہنگامی اخراجات کرنے کے بعد جو کچھ بچے اس کو اس فنڈ کی مضبوطی کے لئے لگا دیا جائے تاکہ جب ضرورت ہو اس سے کام لیا جاسکے‘‘۔ (الفضل 9 دسمبر 1934ئ)
حضور نے مزید فرمایا:۔
’’اگر ایک ہزار آدمی بھی اس بات کا تہیہ کرلے کہ ریزرو فنڈ جمع کرنا ہے اور ہر ایک کی رقم دو سو بھی رکھ لی جائے تو بہت بڑی رقم ہر سال جمع ہوسکتی ہے اور پھر اس کی آمد سے ہنگامی کام بآسانی کئے جاسکتے ہیں اور جب کوئی ہنگامی کام نہ ہو۔ تو آمد بھی اصل رقم میں ملائی جاسکتی ہے۔ جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ جب تک ہنگامی کا موں کے لئے بہت بڑی رقم خلیفہ کے ماتحت نہ ہو کبھی ایسے کام جو سلسلہ کی وسعت اور عظمت کو قائم کریں نہیں ہوسکتے‘‘۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضور کی یہ تحریک بھی شاندار طور پر کامیاب ہوئی۔ چنانچہ تحریک جدید کے چندہ کا ذکر کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔
’’اس روپیہ سے جہاں ہم نے دس سال کے عرصہ میں ضروری اخراجات کئے ہیں وہاں اللہ کے فضل سے ایک ریزرو فنڈ بھی قائم کیا ہے اور اس ریزرو فنڈ کی مقدار 280 مربع زمین ہے۔ اس کے علاوہ ابھی ایک سو مربع زمین ایسی ہے جس میں کچھ حصہ کے خریدنے کا ابھی وقت نہیں آیا۔ کچھ حصہ گو خریدا تو گیا ہے مگر اس پر ابھی قرض ہے۔ اسے اگر شامل کرلیا جائے تو کل رقبہ 380 مربع ہو جاتا ہے۔ آجکل سندھ میں زمین کی جو قیمتیں ہیں ان کے لحاظ سے یہ جائیداد 26,25 لاکھ روپیہ کی ہے جو ہمارے قبضہ میں آچکی ہے۔ یا خریدی گئی ہے یا جس کے بیعانے دیئے جاچکے ہیں‘‘۔
(الفضل 28 نومبر 1944ئ)
چندہ خاص کی دوسری تحریک
1927ء میں حضور نے چندہ خاص کی تحریک فرمائی تھی۔ جس پر مخلصین جماعت کو خداتعالیٰ نے ایسی توفیق بخشی کہ نہ صرف پچھلا بہت سا قرضہ اتر گیا بلکہ اگلے سال کا بجٹ پورا کرنے کے لئے بھی خاصی رقم جمع ہوگئی لیکن سلسلہ احمدیہ کا خزانہ چونکہ ابھی خطرہ سے پوری طرح باہر نہیں تھا اور جماعت کے لئے ضروری تھا کہ جب تک یہ نازک صورتحال ختم نہ ہو جائے معمولی چندوں کے علاوہ چندہ خاص بھی دیا کریں تا معمولی چندوں کی کمی اس سے پوری ہو جائے اور سلسلہ کے کاموں میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔
چنانچہ حضور نے اس ضرورت کے پیش نظر صدر انجمن احمدیہ کے نئے مالی سال کے شروع ہونے پر احباب جماعت کے نام چندہ خاص کی دوسری تحریک فرمائی۔ یہ اپیل 17 جولائی 1928ء کے اخبار الفضل میں شائع ہوئی اور اس کا عنوان تھا ’’اے عباداللہ میری طرف آؤ‘‘۔ چنانچہ حضور نے اعلان فرمایا کہ:
’’اس سال بھی حسب معمول تمام دوست اپنی آمد میں سے ایک معین رقم چندہ خاص میں ادا کریں اور چاہئے کہ وہ رقم ستمبر کے آخر تک پوری کی پوری وصول ہوجائے اور یہ بھی کوشش رہے کہ اس کا اثر چندہ عام پر ہر گز نہ پڑے۔ بلکہ چندہ عام پچھلے سال سے بھی زیادہ ہو۔ کیونکہ مومن کا قدم ہر سال آگے ہی آگے پڑتا ہے اور وہ ایک جگہ پر ٹھہرنا پسند نہیں کرتا‘‘۔
اپنے اعلان کے آخر میں حضور نے جماعت کے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:۔
’’اے میرے پیارے دوستو! میں کس طرح آپ لوگوں کو یقین دلاؤں کہ خداتعالیٰ دنیا میں عظیم الشان تغیر پیدا کرنے والا ہے۔ پس پہلے سے تیار ہو جاؤ تا موقع ہاتھ سے کھو نہ بیٹھو۔ یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کے کام اچانک ہوا کرتے ہیں اور جس طرح اس کے عذاب یکدم آتے ہیں اس کے فضل بھی یکدم آتے ہیں۔ پس بیدار ہو جاؤ اور آنکھیں کھول کر اس کے افعال کی طرف نگاہ رکھو کہ اس کا غیب غیرمعمولی امور کوپوشیدہ کئے ہوئے ہے جو ظاہر ہو کر رہیں گے اور دنیا ان کو چھپانے میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ آپ لوگ اس کے فضل کے وارث ہوکر رہیں گے خواہ دنیا اسے پسند کرے یا نہ کرے‘‘۔
پھر فرمایا:
’’میں اس امر کی طرف بھی آپ کی توجہ پھرانی چاہتا ہوں کہ اس سال بعض اضلاع میں گیہوں کی فصل خراب ہو گئی ہے اور اس کا اثر چندوں پر پڑنا بعید نہیں۔ پس چاہئے کہ احباب اس امر کا بھی خیال رکھیں اور اس کو پورا کرنے کی بھی کوشش کریں اور ان اضلاع کے دوستوں کو بھی جہاں نقصان ہوا ہے میں کہتا ہوں کہ لاتخش عن ذی العرش افلاسا۔ خداتعالیٰ سے کمی کا خوف نہ کرو اور اس کے دین کی راہ میں قربانی سے نہ گھبراؤ کہ خداتعالیٰ اس کا بدلہ آپ کو آئندہ موسم میں دے دیگا اور آپ کی ترقی کے بیسیوں سامان پیدا کردے گا‘‘۔
خلیفہ وقت کے اس ارشاد پر مخلصین نے لبیک کہا اور کئی جماعتوں نے اپنے وعدے پورے کر دیئے۔ (تاریخ احمدیت جلد5 ص54)
چندہ خاص کی تیسری تحریک
حضور نے خزانہ پر قرضوں کی وجہ سے جو بار پڑ گیا تھا۔ اس کوہلکا کرنے کے لئے 1931ء میں جماعت سے چندہ خاص کی ادائیگی کی اپیل فرمائی۔ حضور فرماتے ہیں:۔
’’دین کے کام پر قحط کا اثر نہیں پڑتا اور نہیں پڑنا چاہئے۔ چونکہ دنیا کی حالت کو دیکھتے ہوئے خطرات بہت زیادہ ہیں اور ہماری جماعت پر 80,70 ہزار کا قرضہ ہے اس لئے ضروری ہے کہ اس سال ہم یہ تمام قرض اتار دیں۔ ممکن ہے اگلے سال مالی حالت اور بھی زیادہ کمزور ہو جائے اور ہمارے لئے قرض اتارنا قریباً ناممکن ہو جائے۔ اس لئے میں نے جماعت کے احباب سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک ایک ماہ کی آمدنی ان اخراجات کو پورا کرنے کے لئے ادا کریں۔ یہ چندہ خاص ایسا ہے کہ اس میں چندہ ماہواری اور چندہ جلسہ سالانہ بھی شامل ہے۔ اس لئے یہ پہلی تحریکوں کے مقابلہ میں معمولی تحریک ہے۔ پہلے جب میں نے ایک ایک ماہ کی آمدنی دینے کی تحریک کی اس وقت چندہ ماہواری اور چندہ جلسہ سالانہ چندہ خاص میں شامل نہیں ہوتا تھا۔ مگر اب کی مرتبہ چندہ ماہواری بھی اس میں شامل ہے اور چندہ جلسہ سالانہ بھی گویا اصل چندہ خاص صرف ساٹھ فیصدی کے قریب رہ جاتا ہے‘‘۔
(الفضل 17 ستمبر1931ئ)
حضور کی اس تحریک پر جماعت نے لبیک کہا اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ چنانچہ مطلوبہ رقم جس سے قرضے بھی ادا ہو سکتے تھے اور عام چندہ کی مقدار بھی پوری ہو جاتی تھی۔ وقت کے اندر پوری کردی گئی۔ حضور فرماتے ہیں:۔
’’اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ چندہ خاص کی تحریک میں سے سوا لاکھ روپیہ مقررہ میعاد کے اندر جمع ہوگیا ہے اور عام بجٹ کا قرضہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ادا ہوگیا ہے اس کامیابی پر جس قدر بھی اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں تھوڑا ہے‘‘۔ (الفضل 15 دسمبر 1931ئ)
تحریک قرضہ
سلسلہ کی ضروریات کے پیش نظر فروری 1934ء میںمرکزی ادارہ نظارت امور عامہ کی طرف سے ساٹھ ہزار روپیہ قرض کی ایک تحریک کی گئی کہ مخلصین جماعت کم ازکم ایک ایک سو روپیہ اس کار خیر میں دیں۔ (الفضل 11 فروری 1934ء ص3)
یہ تحریک غیر معمولی طور پرکامیاب ہوئی اور ساٹھ ہزار کی بجائے پچھتر ہزار روپیہ اس میں جمع ہو گیا۔
(الفضل 29 مئی 1934ئ)
جو میعاد کے اندر واپس بھی کر دیا گیا اس تحریک کی کامیابی کا سہرا ناظر امور عامہ خانصاحب فرزند علی صاحب کے سر تھا۔ جس پر نہ صرف حضرت مصلح موعودؓ نے بہت خوشنودی کا اظہار فرمایا بلکہ ایثار پیشہ احمدیوں کے اس جذبہ اخلاص کو مسلم پریس نے بھی بہت سراہا۔ چنانچہ لکھنؤ کے روزنامہ حقیقت 25 مئی 1934ء نے لکھا:۔
’’یہ واقعہ ہے کہ اس وقت ہندوستان کی تمام اسلامی جماعتوں میں سب سے زیادہ منظم اور سرگرم عمل احمدی جماعت ہے جس نے دنیا کے گوشہ گوشہ میں اپنی تبلیغی مشن قائم کر دیئے ہیں حالانکہ اس جماعت کی تعداد چند لاکھ سے زیادہ نہیں ہے اور اس پر غربا و متوسط الحال لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے باوجود اس کے حال میں اس کے دفتر قادیان سے سلسلہ کی ضروریات کے لئے ساٹھ ہزار روپیہ قرض جمع کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ چنانچہ دو ماہ کے اندر ہی یہ رقم فراہم ہوگئی لیکن اگر کسی غیراحمدی جماعت کی طرف سے اتنی ہی رقم کے لئے اپیل کی جاتی تو وہ چھ ماہ میں کیا سال بھر میں بھی جمع نہ ہوسکتی تھی۔ خواہ وہ ضرورت کتنی ہی شدید ہوتی۔ چنانچہ مثالاً امارت شرعیہ بہار کے زلزلہ فنڈ ہی کو دیکھ لیجئے کہ چار ماہ میں صدہا اپیلوں اور التجاؤں کے باوجود اب تک چالیس ہزار بھی فراہم نہیں ہوسکا۔ کاش احمدی جماعت کے اس ایثار سے عام مسلمان سبق لیں اور قومی ضروریات کے لئے ایک بیت المال قائم کرکے اپنی بیداری اور زندگی کا ثبوت دیں۔
اسی طرح لکھنؤ کے مشہور شیعہ ترجمان ’’سرفراز‘‘ (یکم جون 1934ئ) نے لکھا:۔
’’مذہبی حیثیت سے ہمیں قادیانیوں سے کتنا ہی اختلاف کیوںنہ ہو۔ لیکن ہم ان کے اس جوش قومی و مذہبی کی قدر کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ جو ان کی طرف سے اپنے جماعتی مفاد کو تقویت دینے کے لئے آئے دن ظہور پذیر ہوتا رہتا ہے۔ ابھی حال ہی میں سلسلہ احمدیہ کی ضروریات کے لئے ساٹھ ہزار روپیہ قرض کی تحریک کی گئی تھی۔ ناظر امور عامہ قادیان کا بیان جو الفضل قادیان مورخہ 29 مئی 1934ء میں شائع کیا گیا ہے بتاتا ہے کہ اگر اس فنڈ کے بند کردینے کا اعلان نہ کردیا جاتا تو اس سلسلہ میں ایک لاکھ روپیہ جمع ہو جانا کوئی بڑی بات نہ تھی۔ اب بھی اس تحریک کے ان وعدوں کو ملا کر جن کی چند روز میں وصولی یقینی ہے۔ یہ رقم پچھتر ہزار تک پہنچ چکی ہے‘‘۔
یہ واضح رہے کہ چندے یا قرض کی یہ تحریک ایسی تحریک نہیں ہے جو کئی برس کے بعد اٹھائی گئی ہو اور اس کے لئے کوئی خاص جدوجہد عمل میں آئی ہو بلکہ اس جماعت کی طرف سے آئے دن اپنے جماعتی مفاد کے لئے چندے ہوتے رہتے ہیں اور اس وقت تک چار ہزار کے قریب ایسی وصیتیں ہوچکی ہیں جن میں وصیت کنندگان نے اپنی جائیداد کا بڑا حصہ اپنے جماعتی، قومی اور مذہبی کاموں کے لئے وقف کیا ہے۔
ظاہر ہے کہ قادیانیوں کی مجموعی تعداد ہندوستان کے شیعوں سے بہت کم ہے لیکن جذبہ عمل میں یہ مٹھی بھر قادیانی دو کروڑ شیعوں سے کہیں زیادہ نظر آتے ہیں۔ سینکڑوں مکانات پچاسوں اراضیات جماعت قادیانی کے پاس موجود ہیں۔ برخلاف اس کے ہم شیعوں کی یہ حالت ہے کہ ہماری واحد نمائندہ جماعت آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے پاس دفاتر کے لئے بھی کوئی اس کا ذاتی مکان نہیں ہے اور اس مد کرایہ میں اسے گزشتہ چھ سات سال کے اندر پانچ چھ ہزار روپیہ دینے پڑے۔ اتنی رقم میں دفتر کانفرنس اور ادارت متعلقہ کے لئے ایک خاص عمارت بن سکتی یا خریدی جاسکتی تھی لیکن سرمایہ کے سوال نے اب تک اس تحریک کو بارآور نہ ہونے دیا۔
کیا شیعہ جماعت میں ایسے سرمایہ دار موجود نہیں کہ وہ پانچ سات ہزار چندہ نہیں تو قرض حسنہ ہی دے کر دفتر آل انڈیا شیعہ کانفرنس کوکرایہ مکان کے مستقل بار سے محفوظ کردیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو ہمیں اپنے قومی ادارات کی حالت زار پر ایک آہ سرد بھر کر خاموش ہوجانا چاہئے اور یہ طے کرلینا چاہئے کہ ہمارے دست شل میں یہ صلاحیت نہیں کہ ہم کسی بار کو اٹھا سکیں۔ کاش کہ قادیانی جماعت کا جذبہ عمل ہماری سوئی ہوئی قوم کے لئے سبق آموز اور ہمت آفرین ہو اور ہم بھی وقت کی اہم ضروریات کی طرف متوجہ ہوسکیں‘‘۔ (تاریخ احمدیت جلد7 ص162)
امانت فنڈ میں رقم جمع کرانے کی تحریک
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے امانت فنڈ کی اپیل 1934ء میں کی۔ جبکہ تحریک جدید کے مطالبات کے ضمن میں حضور نے جماعت سے یہ مطالبہ کیا کہ
’’جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمد کا 1/5 سے 1/3 حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لئے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے اس کی صورت یہ ہو کہ جس قدرمختلف چندوں میں دیتے ہیں یا دوسرے ثواب کے کاموں میں خرچ کرتے ہیں … وہ سب رقم اس میں سے کاٹ لیں اور باقی رقم اس تحریک کی امانت میں صدر انجمن احمدیہ کے پاس جمع کرادیں۔ … اس مطالبہ کے ماتحت جو آنا چاہے اسے چاہئے کہ جلد سے جلد مجھے اطلاع دے اور یہ بھی اطلاع دے کہ کس قدر حصہ کا عہد ہے اور چندے وغیرہ نکال کر کس قدر رقم اوسطاً اس کی امانت میں جمع کرانے والی پہنچے گی۔ جسے وہ باقاعدہ جمع کراتا رہے گا مقررہ تین سال کے بعد جتنی رقم جمع ہوگی وہ یا تو نقد یا رقم کے برابر جائیداد کی صورت میں اسے واپس دے دی جائے گی … اوسطاً آمد ایک آدمی کی اگر پانچ روپیہ بھی رکھ لی جائے تو ہر ماہ دس ہزار کی امانت داخل ہو سکتی ہے۔ جو تین سال میں چار لاکھ کے قریب ہوسکتی ہے‘‘۔
(الفضل 29 نومبر 1934ئ)
اور جب ضرورت بڑھ گئی تو حضور نے فرمایا:۔
’’جماعت کے افراد میں سے جس کسی نے اپنا روپیہ کسی دوسری جگہ بطور امانت رکھا ہوا ہے وہ فوری طور پر اپنا روپیہ جماعت کے خزانہ میں بطور امانت داخل کر دے تاکہ فوری ضرورت کے وقت ہم اس سے کام چلاسکیں … اگر ہندوستان کے تمام احمدی اس تحریک کی طرف توجہ کریں تو پچاس لاکھ روپیہ آسانی سے جمع ہو سکتا ہے … مجلس شوریٰ کے موقعہ پر ہی چار لاکھ کے قریب وعدے ہو گئے تھے۔ حالانکہ شوریٰ پر آنے والے دوست تمام جماعت کا دسواں حصہ بھی نہیں۔ بلکہ ہزاروں بھی نہیں اگر ہم ان کو دسواں حصہ بھی سمجھیں تو بھی چالیس لاکھ روپیہ بنتا ہے جو جماعت سے اکٹھا ہو سکتا ہے‘‘۔
(الفضل 16 ؍اپریل 1945ئ)
اس کے بعد بھی حضور نے جماعت کے احباب کو کئی بار اس طرف توجہ دلائی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب اکثر احباب جو بینکوں میں روپیہ جمع کرانے پر مجبور نہیں اپنا روپیہ جماعت کے خزانہ میں رکھنا پسند کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جہاں ان کے روپیہ کی حفاظت ہوتی اور دینی کاموں میں استعمال ہونے کی وجہ سے اس میں برکت ہوتی ہے وہاں جماعت اپنے تمام ہنگامی کام اس سے چلا لیتی ہے۔ اس طرح کہ جماعت کی ہنگامی ضرورت بھی پوری ہوجاتی ہے اور احباب کو بھی حسب ضرورت اپنی امانت سے روپیہ مل جاتا ہے۔
حضور خود فرماتے ہیں:۔
’’ہمارے دشمنوں کو جو ناکامی ہوئی ہے اس میں امانت فنڈ کا بہت بڑا حصہ ہے اور اب جو نیا فتنہ اٹھا تھا۔ اس نے بھی اگر زور نہیں پکڑا تو درحقیقت اس میں بھی بہت سا حصہ تحریک جدید کے امانت فنڈ کا ہے‘‘۔ (الفضل 4 دسمبر 1937ئ)
وقف جائیداد اور وقف آمد کی اہم تحریک:
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے 10 مارچ 1944ء کو جماعت سے وقف جائیداد اور اس کے نہ ہونے کی صورت میں وقف آمد کامطالبہ فرمایا اور ساتھ ہی وضاحت بھی فرمائی کہ
’’یہ وقف … اس صورت میں ہوگا کہ ان کی جائیداد ان ہی کے پاس رہے گی اور آمد بھی مالک کی ہوگی اور وہی اس کا انتظام بھی کرے گا ہاں جب سلسلہ کے لئے ضرورت ہوگی ایسی ضرورت جو عام چندہ سے پوری نہ ہوسکے تو جتنی رقم کی ضرورت ہوگی اسے ان جائیدادوں پر بحصہ رسدی تقسیم کر دیا جائے گا‘‘۔
اس مطالبہ کے اعلان سے قبل نہ صرف حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی جائیداد وقف فرمادی بلکہ حضور کا منشاء مبارک معلوم ہوتے ہی چودھری ظفراللہ خاں صاحب اور نواب مسعود احمد خاں صاحب نے اپنی جائیدادیں اپنے آقا کے حضور پیش کردیں جس کا ذکر خود حضور نے بایں الفاظ فرمایا:۔
’’میں سب سے پہلے اس غرض کے لئے اپنی جائیداد وقف کرتا ہوں۔ دوسرے چودھری ظفراللہ خاں صاحب ہیں انہوں نے بھی اپنی جائیداد میری اس تحریک پر دین کی خدمت کے لئے وقف کردی ہے بلکہ انہوں نے مجھے کہا آپ جانتے ہیں آپ کی پہلے بھی یہی خواہش تھی اور ایک دفعہ آپ نے اپنی اس خواہش کا مجھ سے اظہار بھی کیا تھا کہ میری جائیداد اس غرض کے لئے لے لی جائی۔ اب دوبارہ میں اس مقصد کے لئے اپنی جائیداد پیش کرتا ہوں۔ تیسرے نمبر پر میرے بھانجے مسعود احمد خاں صاحب ہیں انہوں نے کل سنا کہ میری یہ خواہش ہے تو فوراً مجھے لکھا کہ میری جس قدر جائیداد ہے اسے میں بھی اسلام کی اشاعت کے لئے وقف کرتا ہوں‘‘۔
حضور نے اس وقف کے لئے ایک کمیٹی تشکیل فرمائی جس کے ذمہ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اس وقت فلاں ضرورت کے لئے وقف جائیدادوں سے کتنی رقم لی جائے۔
نومبر 1944ء تک قریباً ایک کروڑ روپیہ مالیت کی جائیدادیں وقف ہوئیں۔
تحریک وقف جائیداد:
حضرت سیدنا المصلح الموعودؓ نے 10 مارچ 1944ء کو یہ تحریک فرمائی کہ
’’ہم میں سے کچھ لوگ جن کو خداتعالیٰ توفیق دے اپنی جائیدادوں کو اس صورت میں دین کے لئے وقف کردیں کہ جب سلسلہ کی طرف سے ان سے مطالبہ کیاجائے گا۔ انہیں وہ جائیداد اسلام کی اشاعت کے لئے پیش کرنے میںقطعاً کوئی عذر نہیں ہوگا‘‘۔
اس تحریک کے اعلان سے قبل پہلے خود حضور نے پھر چودھری محمد ظفراللہ خاںؓ صاحب نے اپنی جائیدادیں اسلام و احمدیت کے لئے پیش کردی تھیں۔ ازاں بعد جب حضور نے اپنی زبان مبارک سے پہلی بار خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی تو قادیان کے دوسرے دوستوں نے بھی چند گھنٹوں کے اندر اندر قریباً چالیس لاکھ روپے کی جائیدادیں وقف کردیں۔ (الفضل 14 مارچ 1944ئ)
جس پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے فرمایا:۔
’’میں نے جائیداد وقف کرنے کی تحریک کی تھی۔ قادیان کے دوستوں نے اس کے جواب میں شاندار نمونہ دکھایا ہے اور اس تحریک کا استقبال کیا ہے۔ بہت سے دوستوں نے اپنی جائیدادیں وقف کردی ہیں‘‘۔ (الفضل 31 مارچ 1944ئ)
قادیان کے بعد بیرونی مخلص جماعتوں نے بھی اس قربانی میں سبقت لے جانے کی مخلصانہ جدوجہد کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وقف ہونے والی جائیدادوں کی مالیت چند دنوں کے اندر اندر کروڑ تک جاپہنچی۔ ان دنوں جوش کا یہ عالم تھا کہ جو احمدی ذاتی جائیدادیں نہ رکھتے تھے وہ اپنی ماہوار یا سال بھر کی آمدنیاں وقف کرکے دیوانہ وار اس مالی جہاد میں شامل ہو گئے۔ چنانچہ 24؍اپریل 1945ء تک کی شائع شدہ فہرستوں کے مطابق وقف کنندگان کی تعداد 2271 بنتی تھی۔ (الفضل 24؍اپریل 1945ئ)
تحریک اصلاح و ارشاد (مقامی)
جلسہ سالانہ 1958ء کے موقع پر محترم چوہدری محمد ظفراللہ خاںؓ صاحب جج عالمی عدالت نے حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد پر جماعت کے سامنے ایک سکیم پیش کی کہ جماعت کے ایک سو صاحب ثروت احباب تین سال تک 25 روپے ماہوار کے حساب سے چندہ دیں اور اس رقم سے اصلاح و ارشاد مقامی کو مضبوط کیا جائے۔ عام بجٹ اتنا نہیں ہوتا کہ اس سے اس کام کو کماحقہ تیز کیا جاسکے۔ اس کے لئے زائد رقم کی ضرورت ہے جو اس سکیم کے نتیجہ میں مہیا کی جائے گی۔
اس سکیم کے نتیجہ میں بجٹ سے زائد وصولی ہونے والی آمد کی مدد سے دوروں اور مربیوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور اس کے نہایت شاندار نتائج نکلے۔ چنانچہ مقامی اصلاح و ارشاد کے ماتحت علاقہ میں پچاس سے زائد جماعتیں قائم ہوئیں۔ جن کی تعداد افراد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ کمزور جماعتوں کی تربیت کی گئی اور انہیں بیدار کیا گیا۔
نو احمدیوں سے چندہ لینے کی تحریک
حضرت مصلح موعودؓ نے 14؍اکتوبر 1955ء کے خطبہ جمعہ میں تحریک فرمائی کہ
ہمارے مبلغین کو نو احمدیوں سے چندہ لینے کی کوشش کرنی چاہئے۔ میں نے جرمنوں کو دیکھا ہے کہ وہ چندے دیتے ہیں ایک شخص میری آمد کے متعلق خبرپاکر دو سو میل سے چل کر مجھے ملنے آیا۔ چوہدری عبداللطیف صاحب مبلغ جرمنی نے مجھے بتایا کہ وہ جب سے احمدی ہوا ہے اڑھائی پونڈ ماہوار باقاعدہ چندہ دیتا ہے۔ پس اگر ہمارے مبلغین نومسلموں کو چندہ دینے کی عادت ڈالیں گے تو انہیں عادت پڑ جائے گی چاہے ابتدا میں وہ ایک ایک آنہ ہی چندہ کیوں نہ دیں۔ اگر وہ ایک ایک آنہ بھی چندہ دینا شروع کردیں گے تو آہستہ آہستہ انہیں اس کی عادت پڑ جائے گی اور پھر زیادہ مقدار میں چندہ دینا انہیں دوبھ